ڈاکٹر انعام الحق کوثر


انڈین فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بی ایم کول نے ۱۹۶۷ء میں اپنی کتاب The Untold Story (اَن کہی کہانی) میں لکھا ہے کہ حضرتِ انسان کی پانچ ہزار سالہ تحریری تاریخ میں ۱۵ہزار جنگیں ہوئی ہیں۔ گویا اوسطاً تین جنگیں فی سال ہوتی رہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس پانچ ہزار سالہ دور میں صرف تین سو ایسے خوش قسمت سال تھے، جب باقاعدہ اور گرم جنگ نہیں ہوئی۔ گویا اس دور کا صرف چھ فی صد حصہ جنگ سے محفوظ رہا، لیکن وہ بھی زیادہ تر اس لیے کہ یہ کسی جنگ کے بعد کا وقفہ تھا یا پھر کسی جنگ کی تیاری کا زمانہ تھا۔ 

جنگ کا مطلب ہے: انسانوں کی موت، مرگِ انسانیت! پہلی عالم گیر جنگ میں دوکروڑ انسان مارے گئے اور دوسری جنگ ِ عالم گیر میں آٹھ کروڑ انسان موت کے گھاٹ اُتار دیئے گئے۔ ۱۹۴۵ء سے تاحال کوئی بڑی اور عالم گیر جنگ تو نہیں ہوئی، لیکن دو سو چھوٹی چھوٹی جنگیں ہوئیں، جن میں ایک کروڑ۵۰لاکھ سے زیادہ انسان کام آئے۔ ۶؍اگست ۱۹۴۵ء کو ہیروشیما پر گرائے جانے والے ایک ہی ایٹم بم نے (جسے ’مسکراتا بُدھا‘ کا ستم ظریفانہ نام دیا گیا تھا) ایک لاکھ ۴۱ ہزار انسانوں کی جانیں لے ڈوبا اور آج اس زمین پر قریباً ۵۰ہزار ایٹم بم موجود ہیں اور نیوکلیئر آلات کا عالمی ذخیرہ دوسری جنگ ِ عظیم کے مجموعی بارود سے دو ہزارچھ سو گنا زیادہ بارودی طاقت رکھتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ تباہ کاری کے آلات ایٹم بم سے بھی آگے بڑھ کر ہائیڈروجن بم، نیوٹرون بم، کروز میزائل اور سٹاروار تک جا پہنچے ہیں۔

کیا یہ آلات بقائے انسانی کے لیے ہیں؟ کیا یہ پُرخطر اور دہشت انگیز حالات جنگ کے خاتمے یا نقصِ امن کے سد ِ باب یا عالمی امن کے قیام کے لیے ممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! کہا جاسکتا ہے کہ دُنیا میں جنگی اعتبار سے طاقت ور ملکوں کے درمیان اسلحے پر کنٹرول کے جو معاہدے ہوئے، ان کی بنا پر جو عملی اقدامات کیے گئے ہیں وہ خوش آیند ہیں اور اس سے کم از کم فوری فنائے انسانیت کا خطرہ ٹل گیا ہے۔ لیکن یہ صرف خوش فہمی ہے۔ رابرٹ جے اوپن ہمیر کے الفاظ میں: ’ایک ہی بوتل میں یہ بچھو ایک دوسرے کو مارنے پر قادر ہیں، لیکن اپنی موت کا خطرہ مُول لے کر‘‘۔ بقول سابق امریکی صدر رونالڈریگن: ’’یہ ایسے دو آدمی ہیں جو ایک دوسرے کی کنپٹی پر پستول رکھے ہوئے ہیں‘‘۔

مغرب کی سامراجی قوتوں نے لُوٹ مار ، استحصال اور جنگی سازوسامان کے انبار لگاکر گھرپھونک تماشا دیکھنے کا رویّہ اپنا رکھا ہے، خودسوزی اور خودکشی کا یہ رویّہ حضرتِ انسان کے لیے نہ مستحسن ہے اور نہ اُس کے شایانِ شان! انسان کی تو پہچان ہی یہ ہے کہ خطرہ جتنا بڑا ہوگا اُس کی جدوجہد، تدابیر آزمائی اتنی ہی عظیم ہوگی۔ اِس اُمید کو ہم اسلام کہتے ہیں اور اس اُمید کی کرن سورئہ انفال (۸:۲۴) میں ہے جو اس مضمون کی محرک بنی ہے۔

ضرورت یہ ہے کہ موجودہ انسان اپنا اندازِ فکر بدلے۔ انسان اپنی ذات، قبیلے اور قوم سے اُوپر اُٹھ کر انسانیت میں مدغم ہو، جس طرح اسلام نے انسان کو قوم سے اُوپر اُٹھ کر اُمت ِ واحدہ: ’’یہ لوگ ہیں تمھارے دین کے، سب ایک دین پر (اُمت ِ واحدہ) اور مَیں ہوں ربّ تمھارا، سو میری بندگی کرو‘‘ (الانبیاء ۲۱: ۹۲)، ’’اور یہ لوگ ہیں تمھارے دین کے، سب ایک دین پر اور مَیں ہوں تمھارا ربّ، سو مجھ سے ڈرتے رہو‘‘ (المومنون ۲۳:۵۲) میں ضم ہونے کا درس دیا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ افراد کی صلاحیتیں خاندان کی فلاح و بہبود پر صرف ہونے لگیں۔ خاندانی صلاحیتیں قبیلے کی اصلاح و ترقی اور قبیلے کی صلاحیتیں قوم کی پیش رفت پر استعمال ہونے لگیں۔ ایسے ہی قوی امکانات اُمت ِ واحدہ کی بہبودی پر مرکوز ہوں۔ 

اُمت ِ واحدہ کا تصور بے حد روح افروز ہے اور اُس کے نقش و نگار کی نقشہ کشی ایک بہت ہی دلچسپ اور پُراُمید منصوبہ ہے۔ لیکن نہ تو اُمت ِ واحدہ کا ظہوروقیام اتنا آسان ہے اور نہ اُس کا ظہور و شہود ہی ہمہ سطحی قیامِ امن کی ضمانت ہے۔ اُسے واقعی ایک عمل پذیر اور مؤثر ادارہ بنانے کے لیے جنگ کے اصلی (نہ کہ روایتی) محرکات اور قیامِ امن کے اصلی (نہ کہ روایتی) لوازمات کا فہم ایک بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • جنگ و امن کا مسئلہ:اس نقطۂ نظر سے تاریخ عالم پر نہایت گہرائی سے غوروفکر کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ جنگ و امن کا مسئلہ انسانی فطرت کا مسئلہ ہے جو متصادم عناصر سے عبارت ہے۔ انھیں خیروشر کہیے یا ایثار و استحصال یا مثبت و منفی۔ تمام انسانی جنگیں، در اصل نتیجہ ہیں شر، استحصال اور منفی جذبات اور اُن سے جنم لینے والے عزائم اور جارحانہ کارروائیوں کا۔ اس لیے جب تک یہ تخریبی جذبات مسخر نہ کیے جائیں، اُس وقت تک جنگ اور فساد کا خاتمہ بھی ناممکن ہے اور امن کا قیام بھی محض خواب!

دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان ہلاکت خیز اور جہاں سوز جذبات کومسخر کرلیا جائے، انھیں منضبط کیا جائے اور مثبت جذبات کی پشت پناہی پر مامور کیا جائے تو یہ خیروبرکت، ایثار و اقدار، امن و سلامتی، اخوت و مساوات، عدل و احسان اور حُریت و انسانیت کے قوی ترین محرک ثابت ہوتے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ناگزیر جذبات کو تابع کیسے بنایا جاسکتا ہے؟ کیا انسان محض اپنے علم و عقل کی بدولت ایسا کرسکتا ہے؟ اگر ایسا ممکن ہوتا تو شاید یورپ اس وقت اس کرئہ ارض کا منضبط ترین حصہ ہوتا، کیونکہ یورپ اس وقت علم و خرد اور طاقت و وسائل کے لحاظ سے ایک بلنددرجے پر فائز سمجھا جاتا ہے۔ مگر کثرت علم و وفورِ عقل نے اسے ان منفی جذبات پر قابو پانے کی توفیق نہیں دی بلکہ اُس نے ان جذبات کو پہلے سے کئی گنا زیادہ مہیب اور گمبھیر بنا دیا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عقل و فہم اور علم و فن نے موجودہ انسان کو زیادہ سے زیادہ فوائد بہم پہنچائے ہیں۔ اُس کی تہذیب کو ایک اعتبار سے اعلیٰ درجے تک پہنچایا ہے اور ارض و سما میں مزید پیش قدمی کے راستے کھولے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ساتھ ہوائے نفس بھی بڑھی ہے، اور انسان کے سامنے آج بھی سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ کیا انسان اپنی حرص و ہوا پر قابو پاسکتا ہے؟ کیا بحروبّر، فضا و خلا اور ارض و سما پر کمندیں ڈالنے والا انسان اپنے آپ کو لگام دے سکتا ہے؟ مختصراً کیا انسان اپنے آپ کو اپنے آپ سے بچاسکتا ہے؟

قنوطیت زدہ (Pessimistic)اس کا جواب نفی میں دے گا اور وہ ایک ایسا حل تجویز کرے گا، جس سے انسان اپنی زندگی کے جوہر سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے گا، مگر رجائیت پسند (Optimistic) اس کا جواب مثبت دے گا کیونکہ زندگی اُمید سے ہی پھوٹتی ہے، اور اُمید سے ہی پیہم رواںدواں اور ہردم جواں رہتی ہے۔

  • امن کی بنیاد: لہٰذا انسان کا ترقی یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہتر و برتر انسان بننے کا ہر امکان موجود ہے اور مایوسی کا نہ کوئی جواز ہے، نہ گنجایش بشرطیکہ وہ اپنے اُوپر، اَزخود کسی اعلیٰ تر پابندی کا قائل ہوجائے، اپنے اُوپر ایک اَزلی و ابدی گرفت کو مان لے، اپنی زندگی کو ایک امتحان، ایک آزمایش اور ایک چیلنج سمجھ لے، اپنے آپ کو موردِ احتساب تسلیم کرلے اور اپنے آپ کو کسی ارفع تر اور مافوق البشر ہستی کے سامنے جواب دہ تسلیم کرے۔ 

دوسرے لفظوں میں وہ توحید کا دامن تھام لے اور کسی ایسے بشرِکامل کے حلقۂ ارادت میں چلا جائے جو خالص ترین توحید کا حامل، عامل اور قیّم ہو! ایسا بشرِکامل  اور ایسا ہادیٔ اکمل آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ و اُسوئہ حسنہ میں موجود ہے، جسے ہر صحیح الفکر اور مستقیم الذہن غیرمسلم حکیم و دانش ور نے بھی تسلیم کیا ہے۔ وہ ایک طرف بشریت کا عمدہ ترین نمونہ ہیں تو دوسری طرف خاتم الانبیاؐ اور امام الانبیاؐ بھی ہیں۔ وہ ایک جانب انسان کی جسمانی و مادی امکانیتوں کا ظہور ہیں، تو دوسری جانب اُس کی اخلاقی و روحانی رفعتوں اور عظمتوں کا پیکر بھی۔ اُن پر نازل شدہ قرآن تمام کتب الہامی و صحائف آسمانی پر محیط ہے اور وہ اُن تمام پر مہیمن ہے جیسے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات کا۔

اُن کا منصب ’داعی الی اللہ‘ (الاحزاب ۳۳:۴۶؛  الاحقاف۴۶: ۳۱-۳۲) کا ہے، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو واحد القہار ہے، احسن الخالقین اور احسن الرازقین ہے، جو خیرالحاکمین، خیرالغافرین، خیرالفاصلین، خیرالفاتحین، خیرالماکرین، خیرالناصرین اور خیرالرازقین ہے، جو خالق الحب والنویٰ اور خالق الاصباح ہے،اور جو ربّ العالمین اور احکم الحاکمین ہے، اور سرورِکائنات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اسی لطیف و خبیر ربّ العزت کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدائے قدوس کا ارشاد ہے: ’’اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور رسولؐ کا جس وقت بلائے تم کو اس کام کی طرف جس میں تمھاری زندگی ہے‘‘۔ (الانفال ۸:۲۴)

قرآن حکیم ہر دور کے انسان کے لیے اس کی پوری زندگی کا لائحہ عمل ہے اور مذکورہ بالا آیۂ کریمہ اسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ قرآن حکیم کا طغرائے امتیاز یہ ہے کہ یہ انسانی زندگی کی جُزئیات پر بھی اُتنی ہی توجہ دیتا ہے، جتنا اُصولیات و اساسیات پر اور پھر اُس کی بلاغت تو اپنی نظیر آپ ہے۔ یہ ایک بہت وسیع مضمون کو اپنے مخصوص اور بے تکلف انداز میں اتنے اختصار سے بیان کردیتا ہے کہ اس کے ایک چھوٹے سے جملے پر سیکڑوں صفحات لکھے جاسکتے ہیں اور تاریخ عالم کا ایک خاص سلسلۂ واقعات اسی کی مناسبت سے اُس کی پشت پر کھڑا ہوتا ہے۔

  • زندگی بخش اُمور:آیۂ کریمہ میں تو صرف زندگی بخش کام کی طرف اشارہ ہے، لیکن قرآن کریم میں جابجا زندگی بخش کاموں کی تشریح ملتی ہے جن میں سے یہاں چند مثالیں درج ہیں:

 

  • زمین میں فساد نہ پھیلائو  (البقرہ ۲:۱۱)
  • لوگوں کے ساتھ اچھی بات کرو (البقرہ ۲: ۸۳
  • نیکیوں کی طرف سبقت کرو  (البقرہ ۲: ۱۴۸)
  • اللہ کے راستے میں خرچ کرو(البقرہ ۲: ۱۹۵)
  • اور ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی مت بھولو(البقرہ ۲: ۲۳۷)
  • جو کچھ جاتا رہا اس کا افسوس نہ کرو (آل عمران۳:۱۵۳)
  • نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو(المائدہ۵:۲)
  • عدل کرو، یہ تقویٰ کے قریب ہے(المائدہ۵:۸)
  • کرئہ ارض پر پھرو(الانعام۶:۱۱)
  • اور تم لوگ بُرا نہ کہو جن کو وہ پکارتے ہیں اللہ کے سوا کہ وہ بُرا کہہ بیٹھیں اللہ کو بے ادبی سے، بن سمجھ(الانعام۶: ۱۱)
  • کھائو پیو لیکن اِسراف نہ کرو(اعراف۷:۴۱)
  • جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں تم اُن سے سیدھے رہو(التوبہ۹:۷)
  • اور مت جھکو ظالموں کی طرف، ورنہ تمھیں لگے گی آگ(ھود۱۱:۱۱۳)
  • اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے(الرعد۱۳:۲۸)
  • اگر تم شکر کرو گے تو ہم تمھیں اور دیں گے(ابراہیم۱۴: ۷)
  • اگر تم نیکی کرتے ہو تو اپنے ہی لیے(بنی اسرائیل۱۷:۷)
  • سو پوچھو یاد رکھنے والوں سے اگر تم نہیں جانتے(الانبیاء۲۱:۷)
  • بُری بات کے جواب میں وہ کہہ جو بہتر ہے(المومنون۲۳:۹۶)
  • نہ چلو شیطان کے قدموں پر(النور۲۴: ۲۱)
  • پورا بھردو ماپ اور نہ ہو نقصان دینے والے کا(الشعراء۲۶:۱۸۱)
  • اور تولو سیدھی ترازو(ایضاً: ۱۸۲)
  • اور نہ بھولو اپنا حصہ دُنیا سے(القصص۲۸:۷۷)
  • اور آخر بھلا ہے تقویٰ والوں کا(ایضاً: ۸۳)
  • اپنے گال نہ پھلا لوگوں کی طرف اور مت چل زمین پر اِتراتا(لقمان۳۱: ۱۸)
  • اور چل بیچ کی چال اور نیچی رکھ اپنی آواز(ایضاً: ۱۹)
  • کہو سیدھی بات(الاحزاب۳۳:۷۰)
  • اور بُرائی کا دائو اُلٹے گا اُسی دائو والوں پر(فاطر۳۵:۴۳)
  • اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو(الزمر۳۹:۵۳)
  • کہیں آدمی کو ملتا ہے جو چاہے؟(النجم۵۳:۲۴)
  • اور آدمی کو وہی ملتا ہے جو اُس نے کمایا(النجم۵۳: ۳۹)
  • اے ایمان والو! کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟(الصف۶۱:۲)
  • بے شک بھلا ہو اُس کا جو سنورا(الاعلیٰ۸۷:۱۴)
  • البتہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے(انشراح۹۴: ۶)
  • اور سجدہ کر اور قریب ہوجا!(العلق۹۶: ۱۹)

حقیقت یہ ہے کہ یہ اور اسی طرح کے موتیوں جیسے خوب صورت چھوٹے چھوٹے جملے خودبخود انسان کے دل میں اُترتے چلے جاتے ہیں اور پھر جب یہ جملے سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پُرتاثیر زبان سے ادا ہوں اور اُن کے اسوئہ حسنہ سے مترشح ہوں، تو اربوں انسانوں کا اُوڑھنا بچھونا بن سکتے ہیں۔ اُن کا روزمرہ کا معمول بن سکتے ہیں اور یہ دل سوختہ اخوت و مساوات کا گہوارا بن سکتا ہے۔ انسان اپنی جہالت و حماقت اور اپنی حرص و ہوس کی وجہ سے دُنیا کو دارالعذاب بناتا رہتا ہے۔ لیکن حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نہایت تحمل و بُردباری اور شفقت و محبت سے قرآن حکیم اور احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں اسے ہروقت دارالاسلام یعنی دارالامن بنانے میں لگے رہتے ہیں۔

  • اسلام کی اساس امن:’امن‘ سہ حرفی مادہ ہے ایمان کا۔ گویا ایمان اور اسلام کی اساس امن ہے اور ایمان کا جزولاینفک امن ہی ہے۔ اس پیغامِ امن و سلامتی کو اسلام کے ایک ہمہ گیر شعار ’السلام علیکم‘ کے ذریعے پھیلانے کا حکم دیا گیاہے۔ السلام علیکم کا مطلب یہ ہے کہ ’تم پر اللہ کی سلامتی ہو‘۔ یہ ایک مختصر سا دُعائیہ جملہ ہے، مگر اس میں ایک مستقل سلامتی کی ضمانت موجود ہے۔ ایک مسلمان جب اپنے بھائی کے لیے اُس سے ملاقات کے وقت اس کی سلامتی کی دُعا کرتا ہے، تو گویا وہ اس کو اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ میری طرف سے تیری جان و مال کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ میں تو تیرے لیے سلامتی کا طالب ہوں۔ جواباً ’وعلیکم السلام‘ دوسری طرف سے اسی ضمانت کا اظہار ہے اور یوں ایک فرد ایک ہی دن میں بیسیوں افراد سے ملتے ہوئے اور کروڑوں افراد ایک ہی دن میں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے ایک دوسرے کو باہمی سلامتی کا یقین دلاتے ہیں۔ اسی لیے حدیث شریف میں آیا: افش السّلام ، ’’یعنی سلام پھیلائو‘‘۔سلام کرنے سے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔

حدیث پاک میں یہ صرف کہنے کی ہی بات نہیں، بلکہ یہ تو اظہار ہے فرمانِ الٰہی پر، اوّلاً آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نفسِ نفیس عمل کرنے کا اور ثانیاًاسے اپنے صحابہ و صحابیات کرام اور دیگر ملاقاتیوں میں پھیلانے اور نافذ کرنے کا۔ فرمانِ الٰہی ہے:

  •   وَالصُّلْحُ خَيْرٌ، یعنی ’’صلح خیر ہے‘‘ (النساء۴:۱۲۸)
  • ’’تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، لہٰذا ان میں صلح کروا دو‘‘ (الحجرات  ۴۹:۱۰) 
  • ’’اگر وہ (یعنی کفّار) لڑائی کرتے کرتے اس سے گریز کریں (تم سے نہ لڑیں) اور تمھیں صلح کی پیش کش کریں تو پھر اللہ تمھیں اُن سے لڑنے کی اجازت نہیں دیتا‘‘ (النساء ۴:۹۰) 
  • ’’اگر دشمن صلح و صفائی کا ہاتھ پھیلائے تو تم بھی اپنا ہاتھ آگے کردو اور اللہ پر توکّل کرو۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ تم سے دھوکا کرنا چاہیں تو جان لو کہ اللہ تمھارے لیے کافی ہے‘‘۔ (الانفال۸:۶۱)

 

  • اسوۂ حسنہؐ سے دو زریں مثالیں:یہ اور اسی نوعیت کے دیگر فرامینِ الٰہی پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح اور کس حد تک عمل کیا؟

آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور تاریخ اسلام میں اس کی دو مثالیں ایسی ہیں، جو پوری تاریخِ عالم میں اپنی مثال آپ ہیں۔ ان دونوں مواقع پر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرامؓ کے ہمراہ غالب قوت کے مالک تھے اور تمام آثار و قرائن اور اسباب و وسائل ان کے حق میں تھے، لیکن انھوں نے غالب ہونے کے باوجود ’صلح نامہ حدیبیہ‘ کو ایک مغلوب کی طرح قبول کرنے میں بھی ذرا سا تامل نہیں کیا، اور آپ کے اس مبارک عمل کو اللہ تعالیٰ نے ’فتح مبین‘ بنادیا۔ اور فتح مکہ تو گویا اُن کا شاہکار ہے اور پوری انسانی تاریخ اس مثال کے سامنے دست بستہ اور سربسجدہ ہے۔ 

  • فتح مکّہ:ایک طرف بیس سالہ ظلم و تشدد، وحشت و سفاکیت، ریشہ دوانی اور دوسری طرف رحمت للعالمینؐ کا یہ اعلان، جس پر حرف بحرف عمل ہوا کہ ’’آج تم پرکوئی ملامت نہیں۔ جائو تم سب آزاد ہو‘‘۔ انتقام کا شائبہ تک نہیں۔ محبت و مودّت، رافت و رحمت اور امن و سلامتی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ ایک ایسی فتح جس میں نہ کوئی فاتح تھا نہ مفتوح،نہ کوئی غالب تھا نہ مغلوب، نہ کوئی قابض تھا نہ مقبوض، نہ کوئی غاصب تھا نہ مغضوب۔ ایک ایسی فتح جسے فتح الفتوح کہا جاسکتا ہے، ایک ایسی فتح جو فتح الخیر تھی، فتح الایمان تھی،فتح الاسلام تھی، اور یہ اس لیے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرمانِ الٰہی پر ایسے عمل کرتے تھے جیسے فنا فی العمل ہوگئے ہوں، انتہائی حد تک انتہا الانتہا کی حد تک۔

یہیں پر بس نہیں، یہ تو خارجی دُنیا کے ساتھ تعلقات کا پہلو تھا، داخلی دُنیا میں کیا لیل و نہار تھے، کیا کیفیت و کمیت تھی؟ اہل مکہ کی ستم رانیوں اور سازشوں کی وجہ سے آں حضوؐر فرمانِ الٰہی کے مطابق مکہ سے ہجرت فرما کر یثرب (جسے اُن کی آمد پر ’مدینۃ النبیؐ ‘ کا نام دیا گیا) تشریف لاچکے تھے۔ جہاں ایک مکمل معاشرہ و مملکت اسلامی کو ظہورپذیر و جلوہ نما ہونا تھا۔ وہ چودہ روزِ قبا میں ٹھیرے تو انھوں نے مسجد قبا تعمیر فرمائی اور مدینہ میں تشریف آوری ہوئی تو یہاں بھی اوّلین عملی اقدام مسجد نبویؐ کی صورت میں رُونما ہوا۔ مسجد جو عبادت گاہ بھی تھی اور درس گاہ بھی، دارالمشاورت بھی اور جامع الناس بھی، اسمبلی بھی اور کمیونٹی ہال بھی۔ بعد کی مسجدیں تعداد میں تو بڑھتی گئیں اور کرئہ ارض کے ہرحصے میں پھیلتی گئیں لیکن افسوس کہ چند مساجد کے سوا وہ اپنے اس ہمہ گیر منصب سے ہٹ کر جوئے کم آب بن کر رہ گئیں۔ مسجد کی تعمیر کے بعد پہلا معاشرتی اقدام مواخات تھا جو جتنا اہم، بنیادی اور امکان پرور تھا، اُتنا ہی اُسے تاریخ، حکومتوں اور بعد کے اسلامی معاشروں نے نظرانداز کیا۔

  • ہجرتِ مدینہ کے بعد درپیش مسائل:مکہ میں تو قریش کا ہی طُوطی بولتا تھا، جو کاروباری اور تجارت پیشہ لوگ تھے اور کافی خوش حال۔مکہ کی عظمت اور لاکھوں زائرین کعبہ کی سالانہ آمدورفت متولیوں کی آمدنی کا ایک بہت بڑا ذریعہ تھی۔ ان کے تجارتی قافلے بھی ہرسمت میں جاتے تھے جن سے انھیں بہت کمائی ہوتی تھی۔ اس کے برعکس مدینہ میں عددی اکثریت تو عربوں کو ہی حاصل تھی، لیکن سرمایہ داری کی وجہ سے بالادست یہودی تھے۔عرب کے دو قبائل حمیری یا یمنی قبائل اوس اور خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ زراعت کار اور باغبان تھے اور تجارت سے بالکل بے بہرہ۔ کچھ اپنی جاہلانہ قبائلیت کی وجہ سے اور کچھ طاقت ور یہودیوں کی شہ پر یہ ہمیشہ آپس میں دست و گریباں رہتے تھے۔یہودی انھیں بہ دل و جان سے قرض دیتے اور پھر سُود در سُود کے چکّر سے اُن کی زمینوں اور باغوں کے بھی مالک بن بیٹھتے۔ کاروبارِ امن ہو یا جنگ ِعرب، اُن کے شرمندئہ احسان تھے۔ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اُن کا یہ نظریہ تھا کہ واقعی وہی نبی ہیں جن کی پیشن گوئی تورات و انجیل میں کی گئی تھی، لہٰذا وہ ایمان لائے بغیر ان کی آمد کو مدنی عربوں پر اپنے استعمار کے لیے کارآمد گردانتے تھے۔

ان دو موجود عناصر کے علاوہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی آمد کی وجہ سے مدینہ میں ایک تیسراعنصر بھی دَر آیا تھا اور وہ تھا مہاجر عنصر! سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا اوّلین اور اہم ترین معاشرتی و سیاسی مسئلہ انھی تین عناصر سے معاملہ بندی کا تھا۔ اگر یہودی (اور عیسائی) اپنی الہامی کتب کی پیشن گوئیوں کی بنا پر آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آتے تو اسلام اور دُنیا کی تاریخ بالکل مختلف ہوتی لیکن اُن کے مفاد پرست مذہبی پیشوائوں نے قریش مکہ کی طرح نہ ایسا کیا نہ ایسا ہونے دیا بلکہ اُلٹا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ گرامی اور اسلام کو اپنی مطلب براری کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، لہٰذا اُن سے معاملہ بندی (جو ’میثاق مدینہ‘ کی صورت میں رُونما ہوئی۔ بجائے خود اسلامی رواداری کی ایک روشن ترین مثال اور اقلیتوں کے تحفظ کے سلسلے میں تاریخ عالم میں پہلا منشور) سے پہلے آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے دوعناصر پر توجہ دی۔

مواخات کا منفرد اقدام:اوس اور خزرج میں سے کافی حد تک لوگ مسلمان ہوچکے تھے اور بہت تیزی سے آغوشِ اسلام میں آرہے تھے۔ اُن میں نوواردوں کا جوش و جذبہ تھا، لیکن قدیم عادات و روایات بھی بہت راسخ تھیں، اس لیے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاقِ فاضلہ اور موعظۂ حسنہ سے اُنھیں اوس اور خزرج کے محدود درجے سے اُٹھا کر ایک بلند ترین درجے پر فائز کردیا، یعنی اُنھیں انصار بنادیا، مددگار، ممدومعاون اور دست گیر و دست ِ راست۔ مہاجر تھوڑے سے تھے یعنی صرف ۴۵،۴۶ مگر یہ وہ لوگ تھے، جو مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے اور کفروضلالت کی بادِ صرصر میں چٹان کی طرح کھڑے رہے تھے۔ اُن سے ماضی کا خول بالکل اُتر چکا تھا اور وہ سرتاپاکُندن بن چکے تھے، لیکن وہ ایک عجیب صورتِ حال کے مظہر تھے۔ اُن کے کاروبار، مال و منال اور اہل و عیال مکہ میں تھے اور ان میں سے بیش تر صرف تن کے کپڑوںمیں چھپ چھپا کر مدینہ پہنچ گئے تھے۔ پھر بھی وہ بے حد خوش تھے، مطمئن تھے۔ مدینۃ النبیؐ تو ان کی منزلِ مقصود تھی۔

آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس بن مالکؓ کے دولت کدہ پر تشریف فرما ہیں۔ انصار بھی ہیں اور مہاجر بھی۔ آپؐ انصار میں سے ایک کو بلاتے ہیں اور مہاجرین میں سے ایک کو اور فرماتے ہیں: ’’یہ تمھارا بھائی ہے‘‘ اور یوں پینتالیس چھیالیس مہاجرین کو پینتالیس چھیالیس انصار کے ساتھ رشتۂ مواخات میں پرو دیتے ہیں۔ اس طرح کہ عمر، مزاج اور سماجی مرتبے کا بھی لحاظ رکھتے ہیں تاکہ یہ سب تسبیحِ وحدت کے دانے بن جائیں اور یوں حضرت ابوبکرؓ حضرت خارجہ بن زیدؓ کے، حضرت عمرفاروقؓ حضرت عتبانؓ بن مالک کے، حضرت عثمان غنیؓ حضرت اوسؓ بن ثابت کے، حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف حضرت سعدؓ بن ربیع کے، حضرت ابوعبیدہ ابن الجراحؓ حضرت سعد بن معاذؓ کے، حضرت بلالؓ حضرت ابوردیحہؓ کے، حضرت ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہؓ حضرت عباد بن بشرؓ کے، حضرت مصعب بن عمیرؓ حضرت ابوایوب انصاریؓ کے، حضرت سلمان فارسیؓ حضرت ابودرداءؓ کے بھائی قرار پاتے ہیں۔ رسمی یا موروثی بھائی نہیں بلکہ دینی بھائی، اسلامی بھائی۔ 

آں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے نامزد کردہ بھائیوں نے اپنے گھر کی سوئیوں سے لے کر اپنے سرسبز و شاداب باغات کے پیڑوں تک کے نصف کو دل و جان سے اپنے مہاجر بھائیوں کے لیے وقف کردیا۔ اپنی جائیدادوں کا وارث بنادیا، حتیٰ کہ سعدؓ بن ربیعہ نے اپنے خداداد بھائی حضرت عبدالرحمٰنؓ بن عوف کے حضور میں اپنی دوبیویاں بھی پیش کردیں کہ وہ جسے پسند فرمائیں، اسے طلاق دے دی جائے تاکہ وہ ان کی منکوحہ بن سکے۔ یہ قابیل و ہابیل والا دُنیاوی بھائی چارہ نہ تھا، یہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قائم کردہ نظامِ مواخات تھا اور اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ   (الحجرات ۴۹:۱۰)کی جیتی جاگتی زندئہ جاوید عملی تصویر۔

  • امن عالم کا نصاب:اس مواخات پر، اس اقتصادی تعاون و توازن پر، اس قلبی و نظریاتی یگانگت پر سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی معاشرے کو استوار کیا اور اُسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ایک غیرفانی اصول اور لاثانی نمونہ بنادیا کہ جب بھی کوئی معاشرہ رفعت و عظمت کی طرف سفر کرے گا تو اُس کی خشت ِ اوّل، اس کی بنیاد اسی مواخات پر ہوگی، اور جو معاشرہ اس سے برگشتہ ہوجائے گا اور مواخات سے محروم ہوجائے گا تو پھر وہ ٹوٹ پھوٹ جائے گا۔

اُمت واحدہ کا تصور تاریخ انسان کی منطق کے عین مطابق ہے، لیکن یہ ایک زندہ حقیقت اُسی وقت بنے گا جب یہ امن و اخوت پر استوار ہوگا۔ وہ امن جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح نامہ حدیبیہ اور فتح مکہ کی صورت میں قائم کیا، جو نصابِ انسانیت کا بابِ اوّل ہونا چاہیے اور جس پر عبور اور عمل درآمد جابر سے جابر حکمرانوں اور مملکتوں کے لیے بھی لازمی ہونا چاہیے خواہ وہ مسلمان ہوں یا غیرمسلم، مغربی ہوں یا مشرقی:

سوئے من آ کہ ترا یارِ وفادار منم          ہر چہ داری بمن آر کہ خریدار منم

گر تو شادی و دِلت عزم تماشا دارد        برمن آی کہ باغ و گُل و گلزار منم

دگر از ریخ معاصی دل تو گشتہ ملول    سوئے من آ کہ طبیبِ دلِ بیمار منم

بیدلی کم کن و از بیکسیٔ خویش منال     کہ ترا در ہمہ جا دلبر و دلدار منم

 _______________