صوفیہ خان فلاحی


اسلام، اللہ کا عطا کردہ وہ کامل دین ہے جو انسان کی پوری زندگی کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک مکمل نظام حیات ہے۔ اسلام نے نہ صرف ارکانِ اسلام میں داخل ایمانیات، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج بلکہ زندگی کے تمام باقی معاملات، معیشت، معاشرت، تہذیب و تمدن، سیاست، ریاست، سائنس، ٹکنالوجی سمیت زندگی کے ہر شعبے کے لیے اصول و احکام بیان فرمائے ہیں۔ ان احکام کا بنیادی سر چشمہ قرآن مجید اور سنت نبویؐ ہیں۔ لہٰذا قرآن و سنت سے مسائل اخذ کرنے کے لیے کچھ ایسے اصول و ضوابط کی ضرورت ہے جن کے ذریعے ہر دور میں نئے مسائل کا شرعی حل معلوم کیا جا سکے۔ اسی ضرورت کی تکمیل علم اصولِ فقہ سے ہوتی ہے جو اسلامی قانون کا بنیادی علم ہے۔ یہ وہ علم ہے جو مجتہد کو یہ صلاحیت بخشتا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی نصوص کو صحیح انداز میں سمجھ کر ان کے معانی و مقاصد کو متعین کرتے ہوئے ان سے احکام شرعیہ اخذ کرسکے۔ اگر فقہ اسلامی احکام کا عملی نظام ہے تو اصول فقہ اس کی فکری و علمی بنیاد ہے۔ گویا اصول فقہ کی بنیاد کے بغیر فقہ کی ذیشان عمارت قائم نہ ہوسکتی تھی اور نہ قائم رہ سکتی ہے۔

اصول اصل کی جمع ہے جس کے معنیٰ قاعدہ اور اساس کے ہیں یعنی جس پر کسی چیز کی بنیاد ہو۔ بالکل ویسے ہی جیسے چھت اور دیواروں کے لیے ’بنیاد‘ اصل اور اساس ہے۔ لہٰذا اصول فقہ سے مراد ان قواعد و ضوابط کا علم ہے جن پر فقہ کی بنیاد ہے اور جن کے ذریعے قرآن و سنت اور دیگر مصادر شریعت سے تفصیلی دلائل کی بنیاد پر شرعی احکام اخذ کیے جاتے ہیں۔

اصول فقہ کی تدوین بتدریج ہوئی اور مختلف اَدوار سے گزرتے ہوئے یہ ایک مستقل علم بن گیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب وحی نازل ہورہی تھی، لوگ پیش آمدہ مسائل کے لیے نبی کریمؐ سے رجوع کرتے تھے۔ ان سوالات پر کبھی حضوؐر کو براہِ راست وحی کے ذریعے ہدایات مل جاتی تھیں تو کبھی آپؐ خود (اجتہاد کے ذریعے) حل بتا دیتے تھے۔ وحی الٰہی کے ذریعے ان اجتہادات کی توثیق ہو جاتی تھی یا درکار تبدیلیوں کی طرف رہنمائی فرما دی جاتی تھی۔ اصولِ فقہ کے بنیادی اصول عہد رسالت مآبؐ میں بھی موجود تھے۔ جب فتوحات کو وسعت ملی تو متعدد صحابہ کرامؓ کو قاضی بنا کر مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔ جب ان کے سامنے کوئی مسئلہ آتا تو وہ پہلے کتاب اللہ میں دیکھتے۔ اگر اس مسئلے کا کتاب اللہ میں براہِ راست حل نہ پاتے تو سنت رسول ؐ میں تلاش کرتے، اس میں بھی اگر مسئلے کا براہِ راست حل نہ پاتے تو پھر وہ قرآن و سنت کی نصوص سے اجتہاد کرکے اس کا فیصلہ کرتے۔ اس عمل کی تربیت اور اجازت انھیں نبی کریمؐ سے ملی تھی۔ 

مشہور حدیث ہے کہ جب نبی کریمؐ نے معاذ بن جبلؓ کو یمن کا قاضی بنا یا تو بوقت رخصت ان سے پوچھا: جب تمھارے سامنے کوئی معاملہ آئے گا تو کیسے فیصلہ کرو گے؟ انھوں نے جواب دیا کہ کتاب اللہ سے۔ پھر سوال کیا کہ اگر اس میں نہ پاؤ؟ عرض کیا کہ سنت رسول ؐسے۔ فرمایا کہ اگر اس میں بھی نہ پاؤ؟ عرض کیا کہ اجتہاد سے فیصلہ کروں گا اور اس عمل میں کوتاہی نہیں کروں گا۔ یہ جواب سن کر نبی کریم ؐ نے ان کے سینے پر دست مبارک رکھ کر دعا دی کہ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اللہ کے رسولؐ کو اس چیز کی توفیق دی جس سے اس کا رسول خوش ہوا۔ (ترمذی، ابوداؤد)

 یہ حدیث اجتہاد اور قیاس کی مشروعیت میں اصل کی حیثیت رکھتی ہے۔اسی طرح سے عہدرسالت میں بہت سے ایسے واقعات پیش آئے کہ جن میں صحابہؓ کسی مسئلے میں اتفاق رائے رکھتے تھے اور رسولؐ اس کی تائید فرماتے تھے جس سے بعد میں حجت ِ اجماع کا اصول بنا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلفائے راشدین ؓکے دور میں جب صحابہ کرامؓ کو نئے نئے مسائل سے واسطہ پڑا تو انھوں نے قرآن و سنت اور قیاس و اجتہاد سے اسی طرح رہنمائی حاصل کی جیسے وہ عہد رسالت میں کرتے تھے۔ البتہ آپؐ کے بعد صحابہؓ نے کتاب و سنت کے بعد قیاس یا اجتہاد کے بجائے اجماع کو تیسرا درجہ دیا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے بارے میں ممتازتابعی میمون بن مہران کہتے ہیں کہ جب آپ کے پاس کوئی مقدمہ لایا جاتا تو سب سے پہلے آپ قرآن کریم میں حکم دیکھتے۔ اگر اس صورتِ حال سے متعلق کوئی حکم قرآن کریم سے مل جاتا تو فیصلہ کر دیتے۔ اگر قرآن سے کوئی واضح حکم نہ ملتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور فیصلوں کی طرف رجوع کرتے، اگر اس میں بھی کوئی بات نہ ملتی تو صحابہؓ کے اہل علم کو جمع کرکے ان کی رائے لیتے اور ان کے اتفاق رائے کی بنیاد پر فیصلہ کردیتے۔ اگر صحابہؓ کے اہل علم میں کسی معاملے میں اتفاق رائے نہ ہوپاتا تو پھر اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرتے۔ خلیفۂ اوّل حضرت ابوبکرؓکے عہد خلافت کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس دور میں قانون سازی، اجماع اور قیاس کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا۔آپ کے عہد خلافت میں سب سے بڑا اور اہم مسئلہ مانعین زکوٰۃ کا تھا جن کے خلاف آپ نے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمرؓ نے یہ اعتراض کیا کہ آپ ان لوگوں سے کیسے قتال کریں گے،جب کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے لا الہ الا اللہ کہنے تک قتال کرو، جس نے لا الٰہ الا اللہ کہہ دیا اس نے اپنی جان و مال کی حفاظت کرلی اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کی فرضیت کا حکم قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کرکے بیان فرمایا: فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٰتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوْا سَبِيْلَـهُـمْ (التوبۃ۹:۵)’’اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑدو‘‘۔اس آیت سے یہ اصول اخذ کیا گیا کہ نماز کے ساتھ ساتھ زکوٰۃ لازم و ملزوم ہے۔ ان میں سے ایک فرض بھی ساقط ہوا تو قتال کا حکم باقی رہے گا۔ چنانچہ حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ کو نماز پر قیاس کرتے ہوئے فرمایا: بخدا میں اس شخص سے ضرور جہاد کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ کے درمیان تفریق کی۔ ان کے اس اجتہاد سے یہ واضح ہوا کہ قرآن و حدیث سے مسئلہ اخذ کرنے کا اسلوب کیا ہوگا اور یہ کہ مشترکہ علت کی بنیاد پر ایک مسئلہ کو دوسرے پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ 

حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں بھی یہی طریقہ کار فرما رہا۔ آپ نے اہم مسائل پر غور و فکر کے لیے مجتہد صحابہ کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی جس میں اجتماعی غور و فکر کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاتا تھا۔ خلیفۂ راشد ثانی حضرت عمرؓکے دور میں جب مدینہ میں قحط پڑا، کھانے کی اشیاء کی کمی ہو گئی تو اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اجتہاد کے ذریعے چوری کی سزا موقوف کردی حالانکہ قرآن نے چوری کی سزا قطع ید مقرر کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے یہ اجتہاد اس حدیث کی بنیاد پر کیا کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سفر میں (چور کے) ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے ‘‘ (سنن نسائی)۔ حضرت عمرؓکے اس اجتہاد سے درء الحدود بالشبہات  (شبہات کی وجہ سے حدود کو ساقط کرنا) کا اصولی قاعدہ سامنے آیا۔ یعنی فیصلوں میں یہاں تک کہ حد نافذ کرنے کے فیصلے میں بھی، حالات و ظروف کا خیال رکھا جائے گا۔ قحط کے دوران اس بات کا قوی امکان تھا کہ کسی شخص نے بھوک سے مجبور ہوکر مضطر حالت میں چوری کی ہو، لہٰذا حد کی سزا وقتی طور پر معطل کردی گئی۔ 

خلیفۂ راشد ثالث عثمان غنیؓاور خلیفۂ راشد چہارم حضرت علی مرتضیٰؓ کے دور میں بھی یہی طریقۂ کار رائج رہا۔ اس کے علاوہ انفرادی طور پر بھی صحابہ کرامؓ فقہی و قانونی معاملات میں فتاویٰ جاری کرتے تھے۔ عربی، صحابہ کرامؓ کی مادری زبان تھی۔ وہ فصاحت و بلاغت کے اصولوں، زبان کے اسلوب و ضوابط، پیچیدگیوں اور گہرائیوں کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ شریعت کے اسرار و رُموز، آیات کے اسباب نزول اور احادیث کے موقع و محل سے بھی بخوبی واقف تھے۔ اللہ نے انھیں ذہانت و فطانت سے بھی نوازا تھا۔ علاوہ ازیں نبی کریمؐ کی صحبت نے ان کے اندر ایک غیرمعمولی فقہی ذوق بھی پیدا کردیا تھا۔ لہٰذا وہ قرآن و سنت سے فطری طور پر احکام مستنبط کرتے تھے۔ اس میں انھیں کوئی دِقّت پیش نہ آتی تھی۔فقہی قاعدے ان کے ذہنوں میں اسی طرح موجود تھے جس طرح انسان کے ذہن میں مادری زبان کے قواعد فطری طور پر محفوظ ہوتے ہیں۔ انھی قواعد کی روشنی میں وہ فقہی مسائل کا استنباط کرتے تھے، البتہ ان کی باضابطہ تدوین بعد میں ہوئی۔ 

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ جس حاملہ عورت کا شوہر فوت ہو چکا ہو اس کی عدت وضع حمل ہے، اور وہ اپنے اس قول کی تائید اس آیت سے کرتے تھے: وَاُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ يَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۝۰ۭ (الطلاق ۶۵:۳)’’حمل والیوں کی عدت ان کے بچے کا پیدا ہوجانا ہے‘‘۔ وہ کہتے تھے کہ سورۂ طلاق کی یہ آیت سورۃ البقرہ کی اس آیت کے بعد نازل ہوئی جس میں اس عورت کی عدت کے بارے میں جس کا شوہر فوت ہو جائے یہ حکم ہے کہ: وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا۝۰ۚ  (البقرہ ۲:۲۳۴)’’اور تم میں سے جو لوگ وفات پاجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن تک روکے رکھیں‘‘۔ ان کا یہ استدلال اصول فقہ کے اس قاعدے کے مطابق تھا کہ بعد میں نازل ہونے والا حکم پہلے والے حکم کی تخصیص کر دیتا ہے، حالانکہ انھوں نے اپنے موقف کو اس اصولی زبان میں بیان نہیں کیا۔  

اسی طرح جب امیرالمومنین حضرت عمرؓ نے شراب نوشی کی حد کے معاملے میں صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا تو حضرت علیؓ نے حد قذف نافذ کرنے کا فتویٰ دیا اور فرمایا:جب وہ شراب پیے گا تو لازماً یاوہ گوئی کرے گا، ہذیان بکے گا، اور جب یاوہ گوئی کرے گا تو افترا پردازی بھی کرے گا۔ لہٰذا، اس کو وہ سزا دی جائے جو قاذف کو دی جاتی ہے۔ تمام صحابہ کرامؓ نے اس استدلال کو پسند کیا اور حضرت عمرؓنے تمام اکابرین کی رائے سے اس سزا کو نافذ کر دیا۔ اس استدلال سے اصولِ فقہ کے دو قواعد کی بنیاد قائم ہوئی: اوّل حکم بالمآل ،یعنی کسی بھی فقہی مسئلے کا فیصلہ کرتے وقت صرف اس کے ظاہری احوال کو نہ دیکھا جائے بلکہ اس کے نتائج کو بھی سامنے رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ دوم سد الذرائع ، یعنی برائی کو روکنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جائیں کہ اس کے دروازے بند ہو جائیں اور ایسا ماحول باقی نہ رہے جس میں برائی کو پنپنے کا موقع ملے۔

ان واقعات سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ گرچہ صحابہ کرامؓ اصولوں کی صراحت نہ کرتے تھے لیکن ان کا اجتہاد اصول و قواعد کی روشنی ہی میں ہوتا تھا۔ 

صحابہؓ کے بعد تابعین کا دور بھی اسی طرح گزر گیا۔ دوسری صدی ہجری کے آخر میں تبع تابعین کے بعد کے زمانے میں جب فتوحات کا دائرہ وسیع ہونے لگا، نئے نئے مسائل پیش آنے لگے، عرب و عجم کے اختلاط سے فطری طور پر عربی زبان کا شُستہ ذوق اپنی اصل پر باقی نہیں رہا، بحث و مباحثہ اور شکوک و شبہات بڑھنے لگے تو فقہاء و مجتہدین نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ اجتہاد کے قواعد مدون کردیے جائیں تاکہ اختلاف کی صورت میں مجتہدین ان کی طرف رجوع کر سکیں۔ لہٰذا فقہا نے قرآن و سنت سے احکام اخذ کرنے کے لیے عربی زبان کے اندازِ بیان، شریعت کے مقاصد و مصالح اور صحابۂ کرامؓ کے طریقۂ استدلال کو سامنے رکھتے ہوئے اصولِ فقہ کے قواعد مرتب کیے۔ بعد میں یہی اصول ایسے معیارات بن گئے جن پر ہر فقیہ اپنے اجتہادی موقف کی بنیاد رکھتا اور اپنے دلائل و ماخذ کی وضاحت کرتا۔

شروع میں یہ قواعد مختلف جگہوں پر بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی باقاعدہ تدوین کا آغاز امام شافعیؒ کی تصنیف الرسالۃ سے ہوا۔ امام رازیؒ کے بقول انھوں نے اس میں دلائل شریعت کے فہم کا قانونِ کلی وضع کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان دلائل کے کیا مراتب ہیں اور ان کو ایک دوسرے پر کیا ترجیح حاصل ہے۔ لہٰذا الرسالۃ  کو علم اصول فقہ کی تاسیس اور اس کے نشو و ارتقا میں امتیازی مقام حاصل ہے۔ اس کے بعد اس فن میں مختلف علماء و فقہاء نے کتابیں تصنیف کیں۔ ان کتابوں میں بعض مختصر ہیں، بعض متوسط اور بعض مفصل و تحقیقی۔ مختلف فقہی مذاہب کے علما نے اپنے اپنے اصولی مناہج کے مطابق یہ تصانیف مرتب کیں۔ جن میں سے چند مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

  ۱-الفصول في الأصول (امام ابو بکر جصاص)،

۲- الإحكام في أصول الأحكام  (سیف الدین آمدی) ،

۳- الموافقات  (امام ابو اسحاق شاطبی) ،

۴- المستصفى (امام ابو حامد غزالی) ،

۵- ارشاد الفحول (امام شوکانی)

اگر فقہ اسلامی احکام کا عملی نظام ہے تو اصولِ فقہ اس نظام کی فکری اور علمی بنیاد ہے۔ یہی علم مجتہدین کو اعتدال، حکمت اور بصیرت کے ساتھ اجتہاد کی راہ دکھاتا ہے۔ اس علم کے ذریعے طالب علم یہ سمجھتا ہے کہ امر، نہی، عام، خاص، مطلق، مقید اور ناسخ و منسوخ جیسے اصول کس طرح شرعی احکام کے فہم میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب طالب علم ان اصولوں سے واقف ہوتا ہے تو وہ فقہا کے اختلافات کی حکمت کو بھی سمجھنے لگتا ہے اور تنگ نظری یا تعصب سے بچتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ علم دین کے مقاصد، یعنی عدل، رحمت، آسانی اور مصلحت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ موجودہ دنیا چونکہ تیزی سے بدل رہی ہے، لہٰذا مسلسل نئے نئے مسائل بھی پیدا ہورہے ہیں، جن کا براہِ راست ذکر قرآن و حدیث میں موجود نہیں ہے اور موجودہ فقہی کتابوں میں بھی ان کا حل ملنا مشکل ہے۔ اس لیے آج اصولِ فقہ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ لہٰذا اسلامی علوم کے ہر طالب علم اور ہرسنجیدہ داعی الی اللہ کے لیے اس علم کا سیکھنا نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ شریعت کے مقاصد اور اسلامی قانون کی حکمت کو صحیح طور پر سمجھ سکے۔ اور اس کی روشنی میں قرآن و سنت اور دیگر مصادر شریعت سے نہ صرف نئے نئے مسائل کا حل تلاش کرسکے بلکہ قرآن و سنت کی دعوت حکمت کے ساتھ انسانیت تک پہنچانے کا فریضہ احسن انداز میں پورا کرسکے۔

 _______________