ایرک مارگولس


’ہمارے ملک میں جھوٹ نہ صرف ایک اخلاقی درجہ حاصل کر چکا، بلکہ ریاست کا ایک ستون بن چکا ہے‘۔(الیگزنڈر سولزے نٹسن)
رواں ہفتے کے دوران مؤقر روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے ایک انتہائی دھماکا خیز خبر کا انکشاف کیا، جس کے مطابق [امریکی دفاعی مقتدرہ] ’پینٹاگان‘ کی طرف سے جاری کردہ دوہزار صفحات پر مشتمل ایک خفیہ اطلاع میں افغانستان میں امریکا کی طویل ترین جنگ کی ناکام حکمت عملی کے متعلق تفصیلات مہیا کی گئی ہیں۔

واشنگٹن پوسٹنے اپنی خبر کا اختتام ان الفاظ کے ساتھ کیا: ’’امریکی افغانستان کی جنگ کے متعلق مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہیں‘‘۔یہی بات مَیں نے۲۰۰۳ء میں American Conservative نامی جریدے میں کہی تھی، جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا اور کہا تھا:’’ہم جو کچھ کر رہے تھے،ہمیں اس کا ذرہ بھر اندازہ نہیں تھا‘‘۔ اس امر کااعتراف تین ستارہ جرنیل جنرل ڈوگلس لیوٹ کی طرف سے کیا گیا ہے، جس نے امریکی صدرجارج بش اور صدرباراک اوباما کے اَدوارِ حکومت میں افغانستان میں امریکی افوج کی کمان کی۔ امریکا نے ایک دور افتادہ جنوبی ایشیائی ملک میں تکبر اور جہالت پر مشتمل انتہائی ظالمانہ قوت کے ساتھ حکمت عملی اپنائی۔ افغانستان پر حملہ،امریکا کے خلاف نائن الیون کے حملوں کا انتقام تھا۔جیسا کہ اس مضمون نگار نے افغانستان میں تازہ ترین صورت حال کا مشاہدہ کیا۔اس کے مطابق افغانستان میں اسامہ بن لادن کے دہشت گردانہ تربیتی کیمپوںکی موجودگی محض جھوٹ کا ایک پلندا تھا کیونکہ نائن الیون کی منصوبہ بندی سرے سے افغانستان میں نہیںکی گئی تھی۔

طالبان’دہشت گرد‘نہیں تھے۔وہ ہلکے اسلحے سے مسلح ایسے قبائلی جنگجو تھے، جو ڈاکوؤں اور امریکی نواز افغان خفیہ ادارے کے خلاف لڑ رہے تھے، جس کا انتظام کمیونسٹ پارٹی کے ہاتھ میں تھا۔طالبان کے سرپرست مجاہدین،کی پذیرائی سابق امریکی صدر رونالڈریگن نے ’حریت پسند‘ کہتے ہوئے کی تھی۔ ۲۰۰۳ء میں امریکیوں نے اپنی حکمت عملی یکسر تبدیل کرکے افغانستان کے کمیونسٹوںکی حمایت شروع کر دی، جنھوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی پائپ لائن کو وسطی ایشیا کے تیل سے بھرپور بحیرئہ کیسپین کے علاقے سے پاکستان کے ساحل تک پہنچانے کی اجازت دیں گے۔لیکن جب طالبان نے اس گھٹیا امریکی پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تو قوم پرست،منشیات مخالف تحریک،جس نے افغانستان کی بے حرمتی کے خلاف جنگ کی تھی، کو’دہشت گرد‘قراردے دیا گیا۔

امریکی سرپرستی میں افغانستان میںقائم حکومت،بنیادی طور پر سی آئی اے کے حلیفوں یعنی: جنگجو سرداروں، منشیات کے بڑے بڑے سوداگروں اورکمیونسٹوں کا ایک حصہ تھی۔ کرایے کے فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے اور جنگجو سرداروں اور جرائم پیشہ افراد کو مالی رشوتیں ادا کرنے کی خاطر امریکا نے اربوں ڈالر لٹا دیے۔اس طرح افغانستان میں جرائم پیشہ،امریکا کے اتحادی بن گئے۔

جب افغانستان میںطالبان برسراقتدار تھے،اس وقت اندازاًافغانستان میں مارفین اور ہیروئن کی ۹۰ فی صد تجارت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔جب امریکا نے کابل پر قبضہ کیا اور یہاں اپنی کٹھ پتلی حکومت قائم کی،تو اسی افغانستان سے منشیات کی پیداوار میں ماضی کی نسبت کہیںزیادہ اضافہ ہوگیا۔ امریکی افواج اور ان کے اتحادی منشیات کی تجارت میں سرتاپاؤں ڈوب گئے۔ آج،امریکا نوازافغانستان کی حکومت،دنیاکی سب سے بڑی منشیات کی سوداگر ہے۔

اُن صحافیوں کی طرح کہ جن کا اصراریہ تھا: ’’افغانستان کے متعلق سچ بولناچاہیے‘‘، کو فارغ کر دیا گیا یا پھر انھیں نظرانداز کردیا گیا۔مجھے سی این این نے اس لیے ملازمت سے نکال دیا کیوںکہ میں نے ان جھوٹے دعوؤں کی تردید کی کہ’’ عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجودہیں‘‘۔اوریہ کہ’’ امریکا ’جنگِ افغانستان‘جیت رہاہے‘‘۔مجھے یہ دعویٰ کرنے کے باعث بعض ریڈیو اور ٹی وی چینلوں پر آنے سے منع کر دیا گیا کہ داعش(ISIS) فی الحقیقت مغرب ہی کی اختراع ہے جس کی معاونت ترکی،امریکا،فرانس،برطانیہ اور اسرائیل کرتے ہیں۔مجھے ایسا سچ بولنے کی پاداش میں ’انقلابی‘قرار دیا گیا۔

یہ مثالیں اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ ان الزامات کی تصدیق ہو سکے، جو واشنگٹن پوسٹکی طرف سے امریکی حکومت اور فوج پر عائد کیے گئے ہیں کہ: ’’افغانستان کا تمام تر تنازع محض جھوٹ اور نیم دروغ گوئیوں کا پلندا ہے، جسے امریکی حکومت نے اس لیے گھڑا، تاکہ ایک کمزور،پسماندہ قوم کے خلاف ظالمانہ جنگ کی توجیہہ پیش کی جا سکے جس نے اسٹرےٹیجک پائپ لائن کے ہمارے مطالبا ت سے انکار کی جرأت اور گستاخی کی‘‘۔

خود اسی واشنگٹن پوسٹنے ان دروغ گوئیوں کو آگے بڑھانے اور فروغ دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا، جنھوں نے عراق پر امریکی حملے کا دروازہ کھول دیا تھا۔ آج، واشنگٹن پوسٹ  اپنے انھی گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کی خاطر ان تمام دروغ گوئیوں کا انکشاف کر رہا ہے، جن کی بنیاد پر امریکا افغانستان پر حملہ آور ہوا اور اس جنگ میں ہزاروں امریکی ہلاک یا زخمی ہوئے۔ پھر امریکیوں نے وسیع پیمانے پر اذیت رسانی کا سلسلہ شروع کیا، ملک میں خوراک کی قلت واقع ہو گئی،وسیع پیمانے پر شہری قتل ہوئے اور جنگ کی دیگر ہولناکیوں نے جنم لیا۔
’پینٹاگان‘ کی اطلاع کے مطابق: ’’امریکا نے کم از کم ایک کھرب ڈالر افغانستان کی جنگ پر ضائع کیے ہیں، جب کہ کثیر تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں،بے شمار زخمی ہوئے۔دیہات کے دیہات تباہ کر دیے گئے،جانوروں کو ان کے باڑوں میں مشین گنوںسے بھون دیا گیا اور آبادی پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے۔امریکی بمباری ہی معمول بن گئی۔ہم افغانستان کے دیہات پر امریکی بی ون اور بی باون جنگی طیاروں کی شرمناک کارپٹ بمباری کے مناظر اکثر دیکھتے ہیں اور پھر’اے سی ۱۳۰ ‘ ہیلی کاپٹروں کی بلاامتیاز گولیوں کی بارش کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں، جو افغانستان کے قبائیلیوں اور شادی بیاہ کی تقریبات پر بوچھاڑ کی صورت میں داغی جاتی ہیں۔ کمیونسٹ روسی تو محض بے رحم تھے لیکن ہم نے بے رحمی کی تمام حدود پھلانگ لی ہیں۔
بیش تر امریکی میڈیا نے افغانستان کے عوام کے خلاف امریکی جنگ کو بہت آگے بڑھایا ہے اور تمام امریکی ظلم وستم اور سنگین دروغ گوئیوں پر ہمیشہ پردہ ڈالا ہے۔یہ جنگ بہت ہی بڑی قاتل مشین بن چکی ہے، جو سیاست دانوں اور فوجی ٹھیکے داروں کو مالامال کر رہی ہے۔ ماضی کے امریکی صدور، جنھوں نے دنیا کی ایک غریب ترین، انتہائی پس ماندہ قوم کے خلاف اس ذلت آمیز جنگ کی پذیرائی کی،اس قابل ہیں کہ ان کا تذکرہ بے عزتی اور حقارت سے کیا جائے۔

دریں اثنا،ہمیں ایک لمحہ توقف کر کے ان افغان قبائلی جنگجوؤں کے متعلق سوچنا چاہیے جنھوں نے دنیا کی عظیم ترین فوجی طاقت کو گذشتہ ۱۸ برس سے محض ’اے کے ۴۷ ‘ بندوقوں اور اپنے غیرمتزلزل اور ناقابل تسخیر حوصلے سے روکے رکھا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم ان سے پُرخلوص معافی کے خواست گار ہوں اور ان کے ملک کی اَزسرنو تعمیر کریں ۔ایک سابق امریکی فوجی کی حیثیت سے مَیں بہادرترین افغان عوام کو سلام پیش کرتا ہوں۔(ترجمہ: ریاض محمود انجم)