سنتوش بھارتیہ


محترم وزیر اعظم صاحب، میں ابھی چار دن کے بعد جموں و کشمیر سے لوٹا ہوں اور چاروںدن میں کشمیر کی وادی میں رہا اور مجھے یہ ضروری لگا کہ آپ کو وہاں کے حالات سے واقف کراؤں۔ حالانکہ آپ کے یہاںسے خط کا جواب آنے کا رواج ختم ہوگیا ہے،ایسا آپ کے ساتھیوںکا کہنا ہے، لیکن پھر بھی اس امیدپر یہ خط بھیج رہا ہوں کہ آپ مجھے جواب دیںیا نہ دیں، لیکن خط کو پڑھیںگے ضرور اور پڑھنے کے بعد آپ کو اس میںذرا بھی حقیقت نظر آئے، تو آپ  اس میں اٹھائے ہوئے نکات پر دھیان دیں گے۔ مجھے یہ پورا یقین ہے کہ آپ کے پاس جموںو کشمیر لے کر خاص طور سے وادیِ کشمیر کو لے کر جو خبریںپہنچتی ہیں، وہ سرکاری افسروں کے ذریعے ارسال کردہ خبریںہوتی ہیں اور ان خبروں میںسچائی کم ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس کوئی ایسا نظامِ کار (میکانزم) ہو، جو وادی کے لوگوں سے بات چیت کرکے آپ کو سچائی سے آگاہ کرائے تو مجھے یقین ہے کہ آپ ان حقائق کو نظر انداز نہیںکر پائیں گے۔

  •  میں وادیِ کشمیر میںجاکر مضطرب ہوگیا ہوں۔ وہاں کی زمین ہمارے پاس ہے، کیونکہ ہماری فوج وہاں پر ہے، لیکن کشمیر کے لوگ ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ اور میںپوری ذمہ داری سے یہ حقیقت آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں کہ ۸۰سال کی عمر کے شخص سے لے کر چھے سال تک کے بچے کے دل میں ہندستانی نظام کے لیے بہت زیادہ غصہ ہے۔ اتناغصہ ہے کہ وہ ہندستانی نظام سے جڑے کسی بھی شخص سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ اتنا زیادہ غصہ ہے کہ وہ ہاتھوں میں پتھر لے کر اتنے بڑے ریاستی طرزِ کار (mechanism) کا مقابلہ کررہے ہیں۔ اب وہ کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، جس میںسب سے بڑا خطرہ تو قتلِ عام ہی کا خطرہ ہوسکتا ہے اور    یہ حقیقت میںآپ کو اس مقصد کو سامنے رکھ کر لکھ رہا ہوں کہ کشمیر میں [امکانی طور پر] ہونے والے صدی کے سب سے بڑے اور تباہ کن قتلِ عام (massacre)سے بچانے میںآپ کا کردا رسب سے اہم ہوسکتا ہے۔

ہماری سیکورٹی فورسز اور ہماری فوج میںیہ خطرناک جذبہ پنپ رہا ہے کہ: ’’کشمیر میں جو بھی بھارتی نظام کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اگر اسے ختم کردیا جائے ، اس کی جان لے لی جائے ، اسے دنیا سے وداع کردیا جائے، تو یہ علیحدگی پسند تحریک ختم ہوسکتی ہے‘‘۔ ہمارا نظام جسے علیحدگی پسند تحریک کہتا ہے، دراصل وہ علیحدگی پسندتحریک نہیںہے، وہ کشمیر کے عوام کی تحریک ہے۔ اگر ۸۰سال کے ضعیف سے لے کر چھے سال کے بچے تک آزادی، آزادی ، آزادی کہے، تو ماننا چاہیے کہ گذشتہ ۷۰برسوںمیںہم سے بہت بڑی غلطیاں ہوئی ہیں اور وہ غلطیاں انجانے میں نہیں بلکہ جان بوجھ کر ہوئی ہیں۔ آج تاریخ اور وقت نے ان غلطیوں کو سدھارنے کا کام آپ کو سونپا ہے۔ امید ہے کہ آپ کشمیر کے حالات کو فوری طور پر اور نئے سرے سے سمجھ کر اپنی حکومت کے اقدامات کا تعین کریںگے۔

وزیر اعظم صاحب، کشمیر میں پولیس والوں سے لے کر ، وہاں کے تاجر، وہاں کے طلبہ، وہاں کی سول سوسائٹی کے لوگ، ہاں کے قلم کار، وہاں کے صحافی، وہاںکی سیاسی پارٹیوں کے لوگ اور وہاں کے سرکاری افسر، وہ چاہے کشمیر کے رہنے والے ہوں یا کشمیر کے باہر کے لوگ، جو بھی  کشمیر میںکام کررہے ہیں، وہ سب کہتے ہیں کہ: ’’بھارتی نظام سے بہت بڑی بھول ہوئی ہے اور اسی لیے کشمیر کا ہر آدمی ہندستانی نظام کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے۔ ان میں سے اگرچہ ہرفرد کے ہاتھ میںپتھر نہیںہے، مگر اس کے دل میں پتھر ضرور ہے‘‘۔ آج یہ تحریک ایک عوامی تحریک بن گئی ہے، ٹھیک ویسی ہی جیسی ہندستان کی ۱۹۴۲ء میں تحریک [آزادی] تھی، یا پھر ’جے پی‘ تحریک تھی کہ جس میں لیڈر کا کردار کم تھا اور لوگوں کا کردار زیادہ تھا۔  

اس بات کو بھی ذہن میں رکھیے کہ > کشمیر میں اس بار قربانی والی عید نہیں منائی گئی، کسی نے   نئے کپڑے نہیں پہنے، کسی نے قربانی نہیں کی اور کسی کے گھر میں خوشیاں نہیںمنائی گئیں۔ کیا یہ ہندستان کے ان تمام لوگوں کے منہ پر زوردار طمانچہ نہیں ہے، جو جمہوریت کی قسمیں کھاتے ہیں؟  آخر ایسا کیا ہوگیا کہ کشمیر کے لوگوںنے تہوار تک منانا بند کر دیے، عیدالفطر اور بقرعید منانی بند کردیں۔ عملاً یہ ساری تحریک وہاں کی سیاسی قیادت کے خلاف ایک بغاوت کی شکل اختیار کرگئی ہے۔   جس کشمیر میں ۲۰۱۴ء میں انتخابات ہوئے، لوگوں نے ووٹ ڈالے، آج اسی کشمیر میںکوئی بھی شخص ہندستانی نظام کے لیے ہمدردی کا ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں ہے۔ میںآپ کو حالات اس لیے بتارہا ہوں کہ آپ پورے ہندستان کے وزیر اعظم ہیں اور آپ اس کا کوئی راستہ نکال سکتے ہیں۔

کشمیر کے گھروں میں شام کے وقت لوگ ایک بلب روشن کرکے گزربسر کرتے ہیں۔ زیادہ تر گھروں میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے یہاں اتنا دکھ ہے، اتنے قتل ہورہے ہیں، ۱۰ہزار سے زیادہ پیلیٹ گن سے زخمی لوگ ہیں، ۵۰۰ سے زیادہ لوگوں کی آنکھیں بے نور ہوگئی ہیں۔ ایسے سوگوار ماحول میں ہم گھر میں چار بلب روشن کرکے خوشی کا کیسے اظہار کرسکتے ہیں، اس لیے ہم ایک بلب جلاکر رہیںگے۔ وزیر اعظم صاحب، میںنے دیکھا ہے کہ لوگ گھروں میںایک بلب  جلا کر رہ رہے ہیں۔ میںنے یہ بھی کشمیر میںدیکھا ہے کہ کس طرح صبح آٹھ بجے سڑکوں پر پتھر لگادیے جاتے ہیں او ر وہی لڑکے جنھوں نے صبح کے وقت پتھر لگائے ہیںشام کو چھے بجے اپنے آپ سڑکوں سے پتھر ہٹادیتے ہیں۔ دن میں وہ پتھر چلاتے ہیں،شام کو وہ اپنے گھروں میں اس خدشے اور احساس سے مغلوب ہوکر سوتے ہیں کہ معلوم نہیں سیکورٹی فورسز کے کارندے کب انھیں اٹھاکر لے جائیں، پھر وہ کبھی اپنے گھر کو واپس لوٹیں یا نہ لوٹیں؟ ایسی حالت تو انگریزوں کے دورِحکومت میں بھی نہیں ہوئی تھی ۔ تب بھی یہ ذہنیت نہیں تھی اور عام لوگوں میںاتناڈر نہیںتھا۔  لیکن آج کشمیر کا رہنے والا ہر آدمی، وہ ہندو ہو، مسلمان ہو، سرکاری ملازم ہو یا نہ ہو، بیکار ہو،    تاجر ہو، سبزی والا ہو، ٹھیلے والا ہو، ٹیکسی والا ہو، غرض یہ کہ ہر آدمی ڈرا ہوا ہے۔ کیا ہم انھیں اور ڈرانے کی یاانھیںاور زیادہ پریشان کرنے کی حکمت عملی پر تو نہیںچل رہے ہیں؟

  •  کشمیر میں گذشتہ ۶۰برسوں میں نظام کی چوک، لاپرواہی یا مجرمانہ چشم پوشی کے نتیجے میں لوگوں کو یاد آگیا ہے کہ جب کشمیر کو ہندستان میں شامل کرنے کا سمجھوتہ ہوا تھا، جسے وہ مہاراجہ ہری سنگھ اور حکومت ہند کے درمیان ’ایکارڈ‘ کہتے ہیں۔ جس کے گواہ مہاراجہ ہری سنگھ کے بیٹے کرن سنگھ ابھی زندہ ہیں۔ اس میں صاف لکھا تھا کہ دستورِ ہند کی دفعہ ۳۷۰ تب تک رہے گی جب تک کہ کشمیر کے لوگ اپنے مستقبل کے بارے میں آخری فیصلہ استصواب راے (Plebiscite) کے ذریعے نہیں کردیتے۔ تب کشمیر کے لوگ اس ریفرنڈم کو چار پانچ سال میں بھول گئے تھے۔ شیخ عبداللہ کامیابی کے ساتھ حکومت کررہے تھے، لیکن وزیر اعظم صاحب، ہندستان کے پہلے وزیر اعظم [پنڈت نہرو] نے جب شیخ عبداللہ کو جیل میں ڈالا، تب سے کشمیر میں ہندستان کے حوالے سے عدم اعتمادی پیدا ہوئی۔ پھر۱۹۷۴ء میں شیخ عبداللہ اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کے درمیان معاہدہ ہوا، اور اس کے نتیجے میں شیخ صاحب کو کشمیر کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ شیخ عبداللہ، پنڈت نہرو کے آخری دور میں پاکستان بھی گئے اور انھوں نے اندرا گاندھی سے معاہدے کے بعد اپنی حکومت چلائی، لیکن انھوں نے مرکزی سرکار سے جن جن چیزوں کا مطالبہ کیا، مرکزی حکومت نے وہ نہیںکیا اور کشمیر کے لوگوں کے دل میں دوسرے زخم لگے۔

۱۹۸۲ء میں پہلی بار شیخ عبداللہ کے بیٹے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کانگریس کے خلاف انتخاب لڑے اور وہاں انھیں [۸ستمبر ۱۹۸۲ء] اکثریت حاصل ہوئی۔ شاید دہلی میں بیٹھی کانگریس پارٹی، کشمیر کو اپنی کالونی سمجھ بیٹھی تھی اور اس نے [۲جولائی ۱۹۸۴ء] ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی حکومت گرادی۔ اس طرح فاروق عبداللہ کی جیت ہار میں بدل گئی اور یہاںسے کشمیریوں کے دل میں ہندستانی نظام کے لیے نفرت کا ایک نیا جذبہ پیدا ہوا۔ آپ کے وزیر اعظم بننے سے پہلے تک دہلی میں بیٹھی تمام حکومتوں نے کشمیر میں لوگوں کو یہ یقین ہی نہیں دلایا کہ وہ بھی ہندستانی نظام کے ویسے ہی عضو ہیں جیسے ہمارے ملک کی دوسری ریاستیں۔

کشمیر میں ایک پوری نسل جو ۱۹۵۲ء کے بعد پیدا ہوئی، اس نے آج تک جمہوریت کا نام ہی نہیں سنا ،اس نے آج تک جمہوریت کا ذائقہ نہیںچکھا۔ اس نے اپنے ہاں فوج دیکھی، پیراملٹری فورسز دیکھیں، گولیاں دیکھیں، بارود کی بُو سونگھی اور لاشیں دیکھیں۔ اس نسل کو یہ نہیں اندازہ ہے کہ ہم دہلی میں، اترپردیش میں، بنگال میں، مہاراشٹر میں، گجرات میں کس طرح جیتے ہیں اور کس طرح ہم جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے جمہوریت کے نام پر نظام کا ذائقہ چکھتے ہیں۔ کیا کشمیر کے لوگوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ بھی جمہوریت کا ذائقہ چکھیں، جمہوریت کی اچھائیوں کے سمندر میں تیریں یا ان کے حصے میں بندوقیں، ٹینک، پیلیٹ گنس اور پھر ممکنہ قتل عام ہی آئے گا۔

  •  وزیر اعظم صاحب ،یہ باتیں میں آپ سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آپ کو لوگوں نے یہ بتادیا ہے کہ: ’’کشمیر کا ہر شخص پاکستانی ہے‘‘۔ ہمیںکشمیر میں ایک بھی آدمی پاکستان کی تعریف کرتا ہوا نہیںملا۔ لیکن وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ آپ نے ہمیں روٹی ضرور دی، لیکن تھپڑ مارتے ہوئے دی، آپ نے ہمیں حقارت سے دیکھا، آپ نے ہمیں بے عزت کیا۔ آپ نے ہمارے لیے جمہوریت کی روشنی نہ آنے دینے کی سازش کی اور اسی لیے پہلی باریہ تحریک، آزادی کے بعد کشمیر کے گاؤں گائوں تک پھیل گئی۔ وزیر اعظم صاحب، ہردرخت پر، ہر موبائل ٹاور کے اُوپر ہر جگہ پاکستانی جھنڈا لہرارہا ہے اور جب ہم نے پوچھا کیا تو انھوں نے کہا کہ: ’’ہم پاکستان نہیں جانا چاہتے، لیکن چوںکہ آپ پاکستان سے چڑتے ہیں، اس لیے ہم پاکستانی جھنڈا لگاتے ہیں‘‘ اور یہ کہتے وقت بہت سے لوگوں کے دل میں کوئی پشیمانی نہیں تھی۔

کشمیر کے لوگ، ہندستان کے نظام اور اقتدار کو چڑانے کے لیے جب ہندستان کی کرکٹ میںہار ہوتی ہے، تو جشن مناتے ہیں۔ وہ صرف پاکستان کی ٹیم کی جیت پر جشن نہیں مناتے اور  خوش نہیں ہوتے بلکہ اگر ہم نیوزی لینڈ سے ہار جائیں، بلکہ اگر ہم بنگلہ دیش سے ہار جائیں، اگر  ہم سری لنکا سے ہار جائیں، تب بھی وہ یہی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ انھیں یہ لگتا ہے کہ     ہم ہندستانی نظام کی کسی بھی خوشی کو مسترد کرکے اپنی مخالفت کا اظہار کررہے ہیں۔

وزیر اعظم صاحب، کیا یہ نفسیات ہندستان کی حکومت کو سمجھنے کی ضرورت نہیںہے۔ کشمیرکے لوگ اگر ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے، تو کشمیر کی زمین لے کر کے ہم کیا کریں گے۔ کشمیر کی زمین میں کچھ بھی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر وہاں پر نہ ٹورزم ہوگا، نہ وہاں محبت ہوگی، صرف ایک سرکار ہوگی اور ہماری فوج ہوگی۔ وزیراعظم صاحب کشمیر کے لوگ خود فیصلہ کرنے کا حق چاہتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ایک بار آپ ہم سے یہ ضرور پوچھیے کہ ہم ہندستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیںیا ہم پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں یا ہم ایک آزاد ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اس میںصرف ہندستان کے ساتھ والا کشمیر شامل نہیںہے۔ اس میں وہ پاکستان کے کنٹرول میں رہنے والے کشمیر ، گلگت، بلتستان کے لیے بھی ریفرنڈم چاہتے ہیں اور اس کے لیے وہ چاہتے ہیں کہ ہندستان پاکستان کے ساتھ بات چیت کرے کہ اگر ہندستان یہاں یہ حق دینے کو تیار ہے، تو وہ بھی یہ اختیار دیں۔

  •  وزیر اعظم صاحب، یہ حالت کیوں آئی؟ یہ حالت اس لیے آئی کہ اب تک پارلیمنٹ نے چار وفود کشمیر بھیجے، ان چاروں کل جماعتی وفود نے جو پارلیمنٹ کی نمایندگی کرتے تھے، کیا رپورٹ سرکار کو دی وہ کسی کو نہیںمعلوم، لیکن جو بھی رپورٹ دی ہو، اس پر عمل نہیںہوا۔ سرکار نے اپنی طرف سے جناب رام جیٹھ ملانی اور جناب کے سی پنت کو وہاں پر ایلچی کے طور پر بھیجا اور ان لوگوں نے وہاں پر بہت سے لوگوں سے بات چیت کی، لیکن ان لوگوں نے آکر حکومت سے کیا کہا یہ کسی کو نہیںپتہ۔ آپ سے پہلے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ہم سخن (Interlocutors) ٹیم بنائی تھی، جس میں دلیپ پڈگاؤنکر، رادھا کمار،ایم ایم انصاری تھے۔ ان لوگوں نے کیا رپورٹ دی کسی کو نہیںپتا، اس پر بحث نہیں ہوئی، اس پر چرچا نہیںہوا۔

جموںو کشمیر کی اسمبلی نے اتفاق راے سے ایک قر ارداد منظور کی کہ انھیںکیا حق چاہیے،   مگر اس قرارداد کو کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا۔ کشمیر کے لوگوںکو یہ احساس ہے کہ:   ’’ہماری حکومت ہم نہیںچلاتے بلکہ دہلی میں بیٹھے کچھ افسر چلاتے ہیں، انٹیلی جنس بیورو چلاتی ہے،  فوج کے لوگ چلاتے ہیں، ہم نہیں چلاتے۔ ہم تو یہاں پر غلاموں کی طرح سے جی رہے ہیں، جنھیں روٹی دینے کی کوشش تو ہوتی ہے، لیکن جن کے لیے جینے کا کوئی راستہ کھلا نہیںہے‘‘۔

وزیر اعظم صاحب، کشمیر کے لیے جو پیسہ الاٹ ہوتا ہے وہ وہاں نہیں پہنچتا ، پنچایتوں کے پاس پیسہ نہیں پہنچتا، کشمیر کے لیے جتنے پیکیج اعلان کیے گئے، وہ ان کو نہیںملے اور شاید آپ نے ۲۰۱۴ءکی دیوالی کشمیر کے لوگوں کے بیچ گزاری تھی، آ پ نے کہا تھا کہ وہاں اتنا سیلاب آیا ہے، اتنا نقصان ہوا ہے، اتنے ہزار کروڑ روپے کا پیکیج کشمیر کو دیا جائے گا۔ وزیراعظم صاحب، وہ پیکیج نہیںملا ہے، اس کا کچھ حصہ مرحوم مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد جب محبوبہ مفتی نے تھوڑا سا دباؤ ڈالا، تو کچھ پیسہ ریلیز ہوا۔ کشمیر کے لوگوں کو یہ سب مذاق لگتا ہے، انھیں اپنی توہین لگتی ہے۔

> وزیر ا عظم صاحب !کیا یہ ممکن نہیں کہ جتنے بھی اب تک پارلیمانی وفود کشمیر میں گئے،   ’ہم سخن رپورٹ‘ ، کے سی پنت اور رام جیٹھ ملانی کی تجویز اور ابھی جن لوگوں نے کشمیر کے بارے میں آپ کو راے دی ہے، آپ سے مطلب آپ کے دفتر کو اب تک رائے دی ہو۔ کیا ان آرا کو لے کر ہمارے سابق آٹھ یا دس چیف جسٹسوں کا ایک گروپ بناکر ان کے سامنے وہ رپورٹ نہیں سونپی جاسکتی کہ اس میں فوری طور پر کیا کیا نافذ کرنا ہے۔

چوںکہ یہ ساری چیزیں نہیںہوئیں، اس لیے کشمیر کے لوگ اب آزادی چاہتے ہیں اور آزادی کا یہ جذبہ اتنا بڑھ گیا ہے وزیر اعظم صاحب، میں پھر دہراتا ہوں، مجھے پولیس سے لے کر، ۸۰سال کے ضعیف تک، پھر قلم کار، صحافی، تاجر، ٹیکسی چلانے والے، ہاؤس بوٹ کے لوگ اور  چھے سال کا بچہ، یہ سب آزادی کی بات کرتے دکھائی دیے۔ ایک بھی شخص، پھرسے دہراتا ہوں، مجھے نہیں ملا کہ جس نے یہ کہا ہو کہ میں نے پاکستان جانا ہے۔ اس لیے غور کرنا چاہیے کہ جن ہاتھوں میںپتھر ہیں، ان ہاتھوںکو یہ پتھر پکڑنے کی طاقت اگر کسی نے دی ہے، تو یہ ہمارے نظام نے دی ہے۔

  •  وزیر اعظم صاحب، میرے دل میں ایک بڑا سوال ہے کہ کیا پاکستان اتنابڑا ہے کہ وہ پتھر چلانے والے بچوںکو روزانہ پانچ سو روپے دے سکتا ہے؟ اور کیا ہمارا نظام اتنا خراب ہے کہ اب تک ایسے ایک بھی شخص کو نہیںپکڑ پایا، جو وہاں پانچ پانچ سو روپے بانٹ رہا ہے؟ کرفیو ہے ، لوگ سڑکوں پر نہیںنکل رہے ہیں، کون محلے میں جارہا ہے پانچ سو روپے بانٹنے کے لیے؟ پاکستان کیا اتنا طاقت ور ہے کہ پورے کے پورے ۶۰لاکھ لوگوں کو ہندستان جیسے ۱۲۵کروڑ لوگوں کے ملک کے خلاف کھڑا کرسکتا ہے؟ مجھے یہ مفروضہ مذاق لگتا ہے اور کشمیر کے لوگوں کو بھی یہ مذاق لگتا ہے۔ کشمیر کے لوگوںکو ہمارے نظام اور الیکٹرانک میڈیا سے بھی بہت شکایت ہے۔ وہ کئی چینلوں کا نام لیتے ہیں جن کو دیکھ کر لگتاہے کہ یہ ملک میںفرقہ پرستی کا جذبہ بڑھانے کاکام کررہے ہیں۔ اس میں کچھ اہم چینل انگریزی کے ہیں اور کچھ ہندی کے بھی ہیں۔ میںمانتا ہوںکہ ہمارے ساتھی راجیہ سبھا میںجانےیا صحافت کی تاریخ میں لکھوانے کے لیے اتنے اندھے ہوگئے ہیں کہ وہ ملک کے اتحاد اور سالمیت سے بھی کھیل رہے ہیں۔ لیکن وزیر اعظم صاحب، تاریخ بے رحم ہوتی ہے، وہ ایسے صحافیوں کو محب وطن نہیں غدار مانے گی، کیونکہ ایسے لوگ جو پاکستان کا نام لیتے ہیں یا ہر چیز میں پاکستان کا ہاتھ دیکھتے ہیں، وہ لوگ دراصل پاکستان کے دلال ہیں،وہ ذہنی طور پر ہندستان اور کشمیر کے لوگوں میںیہ احساس پیدا کررہے ہیں کہ پاکستان ایک بڑا مضبوط، بڑا قادر اور بہت باریک بین ملک ہے۔

وزیر اعظم صاحب ان لوگوں کو کب سمجھ میں آئے گا، یا نہیں سمجھ میں آئے گا، مجھے اس پر تشویش نہیںہے۔ میری تشویش ہندستان کے وزیر اعظم نریندرا مودی کو لے کر ہے۔ نریندرا مودی کو تاریخ اگر اس شکل میںدیکھے کہ انھوںنے کشمیر میں ایک بڑا قتل عام کرواکر کشمیر کو ہندستان کے ساتھ جوڑے رکھا، تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے بہت افسوس ناک تاریخ ہوگی۔ تاریخ نریندرا مودی کو اس شکل میں پہچانے کہ نریندرا مودی نے کشمیر کے لوگوں کا دل جیتا۔ انھیں ان سارے وعدوں کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی، جنھیں ۶۰سال سے کشمیریوں کے ساتھ دہرایا جاتا رہا ہے۔ کشمیر کے لوگ سونا نہیںمانگتے ، چاندی نہیںمانگتے، ہیرے نہیںمانگتے، کشمیر کے لوگ عزت مانگتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب، میں نے جتنے طبقوںکی بات کی یہ سب متعلقین (اسٹیک ہولڈر) ہیں۔

  •  وزیر اعظم صاحب، یہ سارے لوگ اسٹیک ہولڈر ہیں او ران میںحریت کے لوگ شامل ہیں۔ آج کشمیر میں حریت کے لوگوں کی اتنی بھرپور اخلاقی گرفت ہے کہ وہ جو احتجاجی کیلنڈر جمعہ کو جاری کرتے ہیں،وہ ہر ایک کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اخباروں میںچھپ کر ہر ایک کو اس سے آگاہی ہوجاتی ہے اور لوگ سات دن اس کیلنڈر کے اوپر کام کرتے ہیں۔ اگر وہ کہتے ہیںکہ پانچ یا چھے بجے شام تک بازار بند رہیں گے، تو پانچ، چھے بجے تک بازار بند رہتے ہیں اور پانچ چھے بجے تک ہی بازار کھلے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم صاحب، وہاں تو بنک بھی اسی ہدایت پر کھلنے لگے ہیں، جو آپ کے نظام کے تحت آتے ہیں۔ وہاں پر ہمارے سیکورٹی فورسز کے لوگ  چھے بجے کے بعد نہیں گھومتے، چھے بجے سے پہلے گھومتے ہیں۔ اور اسی لیے وہاں ہمارا کور کمانڈر حکومت سے کہتا ہے کہ: ’’ہمیں اس سیاسی جھگڑے میں مت پھنسائیے‘‘۔ وزیر اعظم صاحب، یہ چھوٹی چیز نہیں ہے، ہماری فوج کا کمانڈر وہاں کی حکومت سے کہتا ہے کہ: ’’ہمیں اس سیاسی جھگڑے میں مت پھنسائیے، ہم سویلین کے لیے نہیں ، ہم دشمن کے لیے ہیں‘‘۔ > اسی لیے جہاں اور جب فوج کاسامنا ہوتا ہے تو وہ پتھر کا جواب گولی سے دیتی ہے۔ نتیجے کے طور پر لوگوں کی لاشیں گرتی ہیں۔

فوج کے اس جذبے کو تو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فوج اپنے ملک کے شہریوں کے خلاف  نظم و نسق بنائے رکھنے کی چیز نہیں ہے۔ سیکورٹی فورسز پیلیٹ گن چلاتے ہیں، لیکن ان کا نشانہ  کمر سے نیچے نہیں ہوتا ہے، کمر سے اوپر ہوتا ہے، اس لیے دس ہزار لوگ زخمی پڑے ہیں۔ وزیراعظم صاحب، میں کشمیر کے دورے میں ہسپتالوں میں گیا ہوں۔ مجھ سے کہا گیا کہ پانچ ہزار سے زیادہ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ مجھے وہ لوگ پتھروں سے زخمی تو دکھائی دیے،مگر ان کی تعداد کافی  کم تھی۔ مگر یہ ’ہزاروں کی تعداد میں زخمی‘ ہونے کے پرچار پرکوئی یقین نہیں کرتا، اور اگر ایسا ہے تو ہم صحافیوں کو ان فوجی جوانوں سے ملوائیے جو ہزاروں کی تعداد میں کہیں زیر علاج ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہم نے اپنی آنکھوں سے زمین پر ایک دوسرے سے بستر شیئر کرتے لوگ دیکھے جو زخمی تھے۔ ہم نے وہاں ان معصوم بچوں کو دیکھا ہے، جن کی آنکھیں چلی گئی ہیں، جو اَب کبھی واپس نہیں آئیں گی۔ لہٰذا، میں یہ خط اس یقین اور جذبے کے ساتھ لکھ رہا ہوں اور جانتا ہوں کہ آپ کے پاس اگر یہ خط پہنچے گا تو آپ اسے ضرور پڑھیں گے اور ہو سکتا ہے کچھ اچھا بھی کریں۔ لیکن مجھے اس میں شک ہے کہ یہ خط آپ کے پاس پہنچے گا،اس لیے میں اسے اپنے اخبار چھوٹی دنیا  اخبار میں چھاپ رہا ہوں، تاکہ کوئی تو آپ کو بتائے کہ سچائی یہ ہے۔

  •  وزیراعظم صاحب، ایک کمال کی بات آپ کو بتاتا ہوں ۔ مجھے سری نگر میں ہر شخص اٹل بہاری واجپائی صاحب کی تعریف کرتا ہوا ملا۔لوگوں کو صرف ایک وزیراعظم کا نام یاد ہے اور وہ ہیں اٹل بہاری واجپائی،جنھوں نے کہا تھا کہ میں پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔ انھیں کشمیر کے لوگ کشمیر کے مسائل کو حل کرنے والے مسیحا کی طرح یاد کرتے ہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ اٹل بہاری واجپائی کشمیر کے لوگوں کا دکھ درد سمجھتے تھے اور ان کے آنسو پونچھنا چاہتے تھے۔ وزیراعظم صاحب، وہ آپ سے بھی ویسی ہی اُمید تو کرتے ہیں، لیکن انھیں یقین نہیں ہے۔ انھیں اس لیے یقین نہیں ہے ، کیوں کہ آپ پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں۔ آپ  لاؤس، چین، امریکہ، سعودی عرب ہر جگہ جا رہے ہیں۔ لیکن اپنے ہی ملک میں ساٹھ لاکھ لوگ ناراض ہیں۔ یہ ۶۰لاکھ لوگ اس لیے ناراض نہیں ہیں کہ آپ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہیں، وہ اس لیے ناراض ہوئے ہیں کہ آپ کےدل میں اپنے ملک کے ناراض لوگوں کے لیے جتنا پیار ہونا چا ہیے وہ پیار انھیں نظر نہیں آرہاہے۔ اس لیے ہماری گزارش ہے کہ آپ خود کشمیر جائیں، وہاں کے لوگوں سے ملاقات کریں، حالات کا جائزہ لیںاور قدم اٹھائیں۔ یقین کیجیے کشمیر کے لوگ ہاتھوں ہاتھ لیں گے۔ لیکن بات آپ کو وہاں کشمیر کے تمام فریقین سے کرنی ہوگی، حریت سے بھی۔
  •  وزیراعظم صاحب، اشوک وان کھیڑے، جو مشہور کالم نگار ہیںاور ٹیلی ویژن پر سیاسی تجزیہ کر تے ہیں، اور پروفیسر ابھے دوبے ، یہ بھی سیاسی تجزیہ نگار ہیں جو ٹیلی ویژن پر آتے رہتے ہیںاور محقق ہیں، یہ بھی میرے ساتھ تھے۔ ہم تینوں کئی بار کشمیر کے حالات دیکھ کر روئے۔ ہمیں محسوس ہوا کہ پورے ملک  میں یہ تاثر پھیلایا گیاہے، منصوبہ بند طریقہ سے ایک گروپ نے اس تاثر کو ہوا دی ہے کہ: کشمیر کا ہر شخص پاکستانی ہے، کشمیر کا ہر شخص ملک کا غدار ہے اور سبھی لوگ پاکستان جانا چاہتے ہیں۔ نہیں وزیراعظم صاحب، یہ حقیقت نہیں ہے۔ کشمیر کے لوگ اپنے لیے روزی چاہتے ہیں، روٹی چاہتے ہیں لیکن عزت کے ساتھ چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہو، جو بہار، بنگال، آسام کے ساتھ ہوتا ہے۔

وزیراعظم صاحب، کیا کشمیر کے لوگوں کو ممبئی، پٹنہ، احمدآباد اور دہلی کے لوگوں کی طرح جینے یا رہنے کا حق نہیں مل سکتا۔ ’’ہم آرٹیکل ۳۷۰ختم کریں گے‘‘۔ اس کا پرچار پورے ملک میں کر رہے ہیں۔ ہم کشمیریوںکو غیر انسانی رُوپ میں یعنی ظالم اور دہشت گرد کی صورت میں پیش کرنے کا پرچار کررہے ہیں۔ لیکن ہم ملک کے لوگوں کو یہ نہیں بتاتے کہ یہ حکومت ہند ہی کا ایک فیصلہ تھا کشمیر ہمارا کبھی حصہ نہیں رہا اور کشمیر کو جب ہم نے ۱۹۴۷ء میں اپنے ساتھ ملایا ، توہم نے دوفریقوں کے درمیان معاہدہ کیا تھا۔ کشمیر ہمارا آئینی حصہ نہیں ہے، لیکن ہمارے آئینی نظام میں، یہ حق خودارادی (Plebiscite) سے پہلے تک کے لیے آرٹیکل ۳۷۰دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم صاحب، کیا یہ نہیں کہا جا سکتا ہم کبھی آرٹیکل ۳۷۰کے ساتھ چھیڑ چھاڑنہیں کریں گے اور ۳۷۰کیا ہے؟ ۳۷۰ یہ ہے کہ کشمیر پر امورخارجہ، فوج اور کرنسی کے علاوہ ہم کشمیر کی حکومت میں کسی طرح کی مداخلت نہیں کریں گے۔

لیکن گذشتہ۶۵برس اس کی مثال ہیں کہ ہم، یعنی دہلی حکومت نے وہاں مسلسل ناجائز مداخلت کی۔ فوج سے کہیے کہ وہ سرحدوں کی حفاظت کرے۔ جو سرحد پار کرنے کی کوشش کرے اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرے جیسا ایک دہشت گرد یا دشمن کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو دشمن مت خیال کیجیے۔ کشمیر کے لوگو ں کو اس بات کا رنج اور دُکھ ہے کہ ہندستان میں اتنا بڑا جاٹ احتجاج ہوا، گولی نہیں چلی، کوئی نہیں مرا۔ گوجر احتجاج ہوا، کوئی آدمی نہیں مرا، کہیں پولیس نے گولی نہیں چلائی۔ ابھی کرناٹک میں کاویری اور بنگلور میں اتنا بڑا احتجاج ہوا ، لیکن ایک گولی نہیں چلی۔مگر ایسا کیوں ہے کہ کشمیر میں گولیاں چلتی ہیںاور وہ کیوں کمر سے اوپر چلتی ہیں؟اور کیوں چھے سال کے بچوں کے اُوپر گولی چلتی ہیں؟ وزیراعظم صاحب، چھے سال کا بچہ کیوں ہمارے خلاف ہوگیا؟ وہاں کی پولیس ہمارے خلاف ہے؟

  •  لوگوں کا دل جیتنے کی ضرورت ہے اور آپ ایسا کر سکتے ہیں۔ آپ ناقابلِ تصور اکثریت سے وزیراعظم بنے ہیں۔ کیا آپ خدا کے ذریعے دی گئی، تاریخ کے ذریعے دی گئی، اور وقت کے ذریعے دی گئی اپنی اس ذمہ داری کو نبھائیں کہ کشمیر کے لوگوں کا دل بھی جیتیں اور انھیں اپنے  ساتھ روا رکھے امتیازی اور غیر انسانی سلوک سے نجات دلائیں۔ ان کے دل  میں یہ احساس بھریں کہ وہ بھی دنیاکے، ہندستان کے ویسے ہی باعزت شہری ہیںجیسے آپ اور ہم ہیں۔

مجھے پوری امید ہے کہ آپ بغیر وقت ضائع کیے کشمیر کے لوگوں کا دل جیتنے کے لیے فوراً اقدام کریں گے اور بغیر وقت ضائع کیے اپنی پارٹی کے لوگوں کو، اپنی حکومت کے لوگوں کو سمجھائیں گے کہ کشمیر کے بارے میں کیسا برتائو کرنا ہے۔ میں ایک بار پھر آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ  آپ ہمیں جواب دیں یا نہ دیں، لیکن کشمیر کے لوگوں کے دُکھ درد اور آنسو کیسے پونچھ سکتے ہیں، اس کے لیے قدم ضرور اٹھائیے۔