محمد نصراللہ خازن


قرآن کی زبان میں مشاہدِ قیامت سے مراد زندگی بعد موت، محاسبۂ اعمال، جنت اور دوزخ ہے۔ قرآن نے اس دنیا کے بعد جس عالمِ آخرت کا لوگوں سے وعدہ کیا ہے اس کے محض ذکر پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اسے ایک محسوس زندہ و متحرک اور اُبھرتی ہوئی نمایاں شکل میں پیش کرکے اس کی مکمل و مجسم تصویر لوگوں کے سامنے رکھ دی ہے۔ مسلمانوں نے اس عالمِ آخرت میں اپنی زندگیاں پورے احساسات و جذبات کے ساتھ گزار دی ہیں۔ ان کی آنکھوں نے اس کے مناظر کو دیکھا ہے اور ان کے دل و دماغ نے ان سے گہرا تاثر قبول کیا ہے۔ ان کے مشاہدے سے ان کی قلبی کیفیات لحظہ بہ لحظہ بدلتی رہی ہیں۔ کبھی ان کے دلوں پر گھبراہٹ اور کبھی ان کے جسموں پر  کپکپی طاری ہوئی ہے۔ ایک گھڑی ان کے دلوں میں خوف و ہراس اور سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے، تو دوسرے لمحے وہ لذت آشناے سکون و اطمینان ہوئے ہیں۔ کبھی دوزخ کی آگ کی لپٹوں سے  ان کے جسم جھلس جھلس گئے ہیں اور کبھی نسیمِ بہشت کی تھپ تھپاہٹ سے انھیں راحت و آسودگی حاصل ہوئی ہے۔ اس طرح گویا انھوں نے اس مقررہ دن کی آمد سے قبل ہی اپنے شب و روز اس حیاتِ جاوداں کی روح فرسا سختی اور لذت افزا راحت سے پوری طرح آشنا رہ کر گزارے ہیں۔

یہ عالمِ آخرت بڑا وسیع و عریض ہے۔ اس کی وسعت و کشادگی ایسی ہی ہے جیسی عقیدۂ اسلامی میں وضاحت و صراحت، یعنی موت، موت کے بعد دوبارہ زندگی، پھر جنت و دوزخ۔ وہ لوگ جو ایمان لائیں گے اور عملی زندگی میں نیکی کی روش اختیار کریں گے، ان کے لیے جنت ہوگی جس میں انھیں لازوال ابدی نعمت نصیب ہوگی۔ دوسری طرف وہ لوگ جو کفر و انکار کی راہ چلیں گے اور  دربارِ الٰہی میں اپنی حاضری کو جھٹلائیں گے، ان کے لیے دوزخ کی آگ ہوگی جو اَبدی عذاب کی ایک شکل ہے۔ نہ وہاں کوئی سفارش کام آئے گی، نہ فدیہ دے کر عذاب سے چھٹکارا ہوگا،نہ باریک تول والی میزانِ عدل میں بال برابر بھی کوئی فرق ہوگا۔ اعمال کا تول پورا پورا ہوگا۔ ہرایک کو اپنے کیے کی پوری جزا ملے گی۔ جو شخص اس دنیا میں ذرّہ بھر نیکی کرے گا وہاں اس کا بدلہ پالے گا، اور جو شخص اس دنیا میں ذرّہ بھر برائی کرے گا وہاں اس کی سزا پالے گا۔ وہ دن ایک ایسا دن ہوگا کہ نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی جگہ بدلہ پائے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی جگہ جزا۔

قرآن کی بیان کردہ یہ کھلی اور واشگاف حقیقت مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی چھاپ ایک ایسے عالَم پر لگی ہوئی ہے جو انسانی زندگی کے جملہ پہلوئوں پر حاوی، ٹھوس اور جان دار مناظر پر مشتمل ہے۔ یہ مختلف اوضاع اور مختلف پہلوئوں کے حامل معاشروں میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ قرآن کا اندازِ بیان اتنا جامع اور سحرانگیز ہے کہ جب تعذیب خانوں کا ذکر ہوتا ہے تو اس عجیب و غریب انداز میں کہ کانوں سے سن کر کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے اور قوتِ متخیلہ اس کی تائید کرتی ہے، اور جب راحت بخش قیام گاہوں اور ٹھنڈے اور گھنے سایوں کا ذکر ہوتا ہے تو قوتِ احساس و ادراک پر حالتِ محویت و استغراق طاری ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ قرآن میں اس ادبی فراوانی اور فنی کمال کے لیے صفحات پر صفحات وقف ہوتے چلے جاتے ہیں جن کی حیثیت بالکل منفرد قسم کی ہے۔ دنیا کے ادبی سرمایے میں نہ ان کی کوئی نظیر ہے نہ مثال....

روزِ قیامت اور اس کی ھولناکی

ان مشاہد کا ایک اہم مقصد قیامت کے دن کی ہولناکیوں کی منظرکشی ہے۔ وہ ہولناکیاں کہ جن کی وجہ سے کائنات کا ذرہ ذرہ لرزہ براندام ہوگا۔ نوعِ انسانیت پر عالمِ سراسیمگی طاری ہوگا اور مارے خوف کے وہ کانپ رہی ہوگی۔ قریب قریب کوئی ایک منظر بھی ایسا نہیں جس میں سب زندہ نفوس شامل نہ ہوں۔ خوف و دہشت کی وجہ سے کائنات اور فطرت کی کوئی علیحدہ حیثیت نہیں ہوگی سواے اس کے کہ اس میں کسی نہ کسی نوع کی زندگی کے آثار موجود ہوں۔ کسی منظر میں نمودار ہونے والے وجود کبھی تو جملہ افراد فطرت ہوتے ہیں اور کبھی یہ پوری نوعِ انسانی کے گوش بر آواز و نگاہ بر انجام، نفوس یا انواع و اقسام کی حیوانی مخلوقات___ اور کبھی میدانِ حشر میں یہ بھی ہوتے ہیں اور وہ بھی۔ پھر کسی وقت یہ افراد ہستی خاموش فطرت کی شکل میں، کبھی بے زبان حیوان کی صورت میں اور کبھی انسان کی حیثیت میں برابر نمودار ہوتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:

اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ o وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْ o وَاِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ o وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ o وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ o وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ o وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ o وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ o بِاَیِّ ذَنْبٍم    قُتِلَتْ o وَاِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ o وَاِذَا السَّمَآئُ کُشِطَتْ o وَاِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ o وَاِذَا الْجَنَّۃُ اُزْلِفَتْ o عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ o (التکویر ۸۱:۱-۱۴) جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے اور جب دس مہینے کی حاملہ اُونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیے جائیں گے اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا اور جب جہنم دہکائی جائے گی اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی اس وقت ہرشخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔

غرضیکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ارض و سما، انس و حیوان، خورد و کلاں، جنت و دوزخ سب پر خوف و دہشت کا عالم طاری ہوگا اور سب کے سب گھبراہٹ اور انتظار میں ہوں گے کہ دیکھیے انجام کیا ہونے والا ہے؟

کبھی صرف مظاہر فطرت کے مناظر ہی نگاہوں کے سامنے نمودار ہوتے ہیں اور ماحول کی ہولناکی پوری فضا میں ہیجان و ارتعاش پیدا کردیتی ہے:

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَۃُ o لَیْسَ لِوَقْعَتِھَاکَاذِبَۃٌ o خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ o اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا o وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا o فَکَانَتْ ہَبَآئً مُّنْبَثًّاo (الواقعہ۵۶: ۱-۶) جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔ وہ تہ و بالا کردینے والی آفت ہوگی۔ زمین اس وقت یک بارگی ہلا ڈالی جائے گی اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردیے جائیں گے کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے۔

  •  انسان کی بے بسی اور وارفتگی: قیامت کے روز خوف و دہشت کے مارے انسان ایسا حواس باختہ ہوگا کہ اسے کسی کی سُدھ نہ رہے گی، حتیٰ کہ اسے اپنے ماں باپ اور اپنے  اہل و عیال تک بھول جائیں گے۔ قرآن نے اس کیفیت کی ایسی عکاسی کی ہے کہ دیکھ کر قلب و روح پر خوف طاری ہوجاتا ہے، جیسے:

یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْئُ مِنْ اَخِیْہِ o وَاُمِّہٖ وَاَبِیْہِ o وَصَاحِبَتِہٖ وَبَنِیْہِ o لِکُلِّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ یَوْمَئِذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْہِ o (عبس ۸۰:۳۴-۳۷) اس روز آدمی اپنے بھائی اور اپنی ماں اور اپنے باپ اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا۔ ان میں سے ہرشخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ o یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَ تَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَ مَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ o (الحج ۲۲:۱-۲) لوگو! اپنے رب کے غضب سے بچو، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔ جس روز تم اسے دیکھو گے حال یہ ہوگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہوجائے گی، ہرحاملہ کا حمل گر جائے گا اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔

  •  مر مٹنے کی حسرت: جب زندگی کا پورا کارنامہ کھلی کتاب کی طرح ہرشخص کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور اتمامِ حجت کے طور پر انبیا کی شہادت ہوجائے گی تو خدا کے نافرمان، سرکش و باغی یہ حسرت کریں گے کہ کاش! زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دھنس جائیں:

فَکَیْفَ اِذَاجِئْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍم بِشَھِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلَآئِ شَھِیْدًا o یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰی بِھِمُ الْاَرْضُ ط وَ لَا یَکْتُمُوْنَ اللّٰہَ حَدِیْثًا o (النساء ۴:۴۱-۴۲) پھر سوچو کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ لائیںگے اور ان لوگوں پر تمھیں (یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔ اس وقت وہ سب لوگ جنھوں نے رسولؐ کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔

  •  مظاھرِ قدرت پر ھولناکی کا عالَم: کبھی قیامت کے زبردست ہولناک منظر میں انسانی افراد کے ساتھ ساتھ مظاہرِ قدرت بھی برابر کے شریک نظر آتے ہیں:

اَلْقَارِعَۃُ o مَا الْقَارِعَۃُ o وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْقَارِعَۃُ o یَوْمَ یَکُوْنُ النَّاسُ کَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ o وَتَکُوْنُ الْجِبَالُ کَالْعِھْنِ الْمَنْفُوْش o (القارعہ ۱۰۱:۱-۵) عظیم حادثہ! کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟ تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟ وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے۔

یَوْمَ تَرْجُفُ الْاَرْضُ وَالْجِبَالُ وَکَانَتِ الْجِبَالُ کَثِیْبًا مَّہِیْلًا o اِنَّآ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْکُمْ رَسُوْلًا شَاہِدًا عَلَیْکُمْ کَمَآ اَرْسَلْنَـآ اِلٰی فِرْعَوْنَ رَسُوْلًا o فَعَصٰی فِرْعَوْنُ الرَّسُوْلَ فَاَخَذْنٰہُ اَخْذًا وَّبِیْلًا o فَکَیْفَ تَتَّقُوْنَ اِنْ کَفَرْتُمْ یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَانِ o السَّمَآئُ مُنْفَطِرٌم بِہٖ کَانَ وَعْدُہ‘ مَفْعُوْلًا o (المزمل ۷۳:۱۴-۱۸) یہ اس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اُٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں۔ تم لوگوں کے پاس ہم نے اسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بناکر بھیجا ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔ (پھر دیکھ لو کہ جب) فرعون نے اس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔ اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اس دن کیسے بچ جائو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہوکر ہی رہنا ہے۔

روزِ قیامت اور میدانِ حشر

ان مشاہد کا ایک مقصد جنت و دوزخ سے پہلے میدانِ حشر کی منظرکشی بھی ہے۔ یہاں ہم دیکھیں گے کہ اس وقت انسانوں پر گزرنے والے جاں گسل حالات و کیفیات پیش کرنے کے لیے قرآن میں بہت سے پیرایہ ہاے بیان اختیار کیے گئے ہیں، اور محشر کا پورا سماں کئی پہلوئوں سے نگاہوں کے سامنے لاکر کھڑا کر دیا گیا ہے۔ کبھی نامۂ اعمال کی پیشی اور حساب کتاب کا منظر اتنا طویل نظر آتا ہے کہ آپ اسے دائمی سمجھنے لگتے ہیں، اور کبھی وہ آنکھ جھپکنے میں اس سُرعت سے گزر جاتا ہے کہ آنکھوں کو سیری تک حاصل نہیں ہوتی۔ کہاں یہ طرزِ انشاء اختیار کیا جائے اور کہاں وہ، اس بات کا تقاضا اور فیصلہ فنی اصولوں کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے جو نفسیاتی اور شعوری بنیادوں پر قائم ہیں۔ نیز اس امر کا تعین کہ کسی منظر کی طوالت یا اختصار کی حدود کیا ہیں یا یہ کہ کہاں جاکر طوالت کو اختصار میں یا اختصار کو طوالت میں بدلنا ہے، میدانِ حشر کی طبعی فضا اور فطرتی ماحول پر موقوف ہے۔ اس طرح یہ اندازِ بیان بھی ایک دینی مقصد کی تکمیل میں بہت مفید و معاون ثابت ہوتا ہے۔

  •  روزِ قیامت ___ مجرمین کی باھمی تکرار: جب کسی منظر کو طوالت کے ساتھ پیش کرنا مقصود ہوتا ہے تو قرآن اسے یوں پیش کرتا ہے:

وَ بَرَزُوْا لِلّٰہِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّاکُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَھَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ قَالُوْا لَوْ ھَدٰنَا اللّٰہُ لَھَدَیْنٰکُمْ سَوَآئٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ o وَ قَالَ الشَّیْطٰنُ لَمَّا قُضِیَ الْاَمْرُ اِنَّ اللّٰہَ وَعَدَکُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَ وَعَدْتُّکُمْ فَاَخْلَفْتُکُمْ وَ مَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ فَلَا تَلُوْمُوْنِیْ وَ لُوْمُوْٓا اَنْفُسَکُمْ مَآ اَنَا بِمُصْرِخِکُمْ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُصْرِخِیَّ اِنِّیْ کَفَرْتُ بِمَآ اَشْرَکْتُمُوْنِ مِنْ قَبْلُ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌo (ابراہیم ۱۴:۲۱-۲۲) اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے وہ ان لوگوں سے جو بڑے بنے تھے کہیں گے: ’’دنیا میں ہم تمھارے تابع تھے۔ اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟‘‘ وہ جواب دیں گے: ’’اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمھیں بھی دکھا دیتے، اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں، ’’اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا: ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور مَیں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا، میرا تم پر کوئی زور نہ تھا۔ نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمھیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبیک کہا۔ اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمھاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا میں اس سے بری الذمہ ہوں ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے‘‘۔

  •  سیاہ بختی پر حسرت و ندامت: ایک دوسرے مقام پر قیامت کے روز آدمی کی سیاہ بختی پر یوں روشنی ڈالی گئی ہے:

وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا o یٰوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلاَنًا خَلِیْلًا o لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذْ جَآئَنِی وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا o (الفرقان ۲۵:۲۷-۲۹) اور   اس روز ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا: ’’کاش! میں نے رسول کا ساتھ دیا ہوتا۔ ہاے میری کم بختی! کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کے بہکائے میں آکر مَیں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی‘‘۔ شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نکلا۔

  •  نافرمانیوں کا اِعتراف: پھر انسان کی نافرمانیوں پر اس کا اعتراف ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَہِیْنَۃٌ o اِلَّآ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ o فِیْ جَنّٰتٍ  یَتَسَآئَ لُوْنَ o عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ o مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ o قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ o وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ o وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ o وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ o حَتّٰیٓ اَتٰـنَا الْیَقِیْنُ o (المدثر ۷۴: ۳۸-۴۷) ہرمتنفس اپنے کسب کے بدلے رہن ہے، دائیں بازو والوں کے سوا، جو جنتوں میں ہوں گے۔ وہاں وہ مجرموں سے پوچھیںگے: ’’تمھیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟‘‘ وہ کہیں گے: ’’ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے، اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کر ہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے، اور روزِ جزا کو جھوٹ قرار دیتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں اس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا‘‘۔

الغرض ان تینوں مناظر میں موقع و محل کی مناسبت سے واقعاتِ قیامت کا علیحدہ علیحدہ نقشہ کھینچا گیا ہے۔ پہلے منظر میں قیامت کے روز مجرمین کے باہمی جھگڑے اور مکالمے کی تصویر ہے۔ دوسرے میں اپنی سیاہ بختی اور گمراہی پر حسرت و ندامت، اور تیسرے میں اپنی نافرمانیوں کا طویل اعتراف و اقرار۔ یہاں اندازِ بیان میں طوالت ہے کیونکہ ان میں سے ہرمنظر اور ہر موقف تاثیر و تاثر میں گہرائی اور گیرائی پیدا کرنے کے لیے مہلت اور طوالت کا تقاضا کرتا ہے۔

  •  اعمال کی جزا اور مجرموں کی پھچان:کبھی قرآن کسی منظر کو اختصار کے ساتھ پیش کرتا ہے کہ آنکھ جھپکنے میں نگاہوں کے سامنے نظر آئے اورگزر جائے:

وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَھُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ o (الزمر ۳۹:۷۰) اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اس نے عمل کیا تھا اس کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔

فَاِذَا نُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَئِذٍ وَّلاَ یَتَسَائَ لُوْنَ (المومنون ۲۳:۱۰۱) پھر جونہی کہ صور پھونک دیا گیا ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیںگے۔

یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیمٰھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِی وَالْاَقْدَامِ o (الرحمٰن ۵۵:۴۱) مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انھیں پیشانی کے بال اور پائوں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔

مختلف مقامات میں موقع و محل کے لحاظ سے اختصار کے اسباب بھی مختلف ہیں۔ کبھی اختصار کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ مقام سکوت و سکون، رعب و جلال یا عجز و نیاز کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس میں کسی قسم کے ردّ و قبول اور بحث و استدلال کی کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔ کہیں بات میں یک بارگی اور اچانک انقطاع و انفصال مقصود ہوتا ہے۔ بس ایک بات کا ذکر ہوتا ہے کہ اچانک اس کے بعد ساری بحث ختم ہوجاتی ہے۔ اور کبھی مراد چونکہ پوری طرح واضح ہوتی ہے اس لیے مزید کسی بحث و تکرار اور کلام کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ان مختلف مقاصد میں سے چند ایک ہیں جو کسی منظر کے اختصار اور دفعتاً نظر آکر بسرعت گزر جانے کا باعث بنتے ہیں۔

قیامت اور عذاب و ثواب

ان مناظر کا ایک مقصد زندگی بعد موت اور حساب و کتاب کے بعد جنت و دوزخ کی عکاسی ہے۔ یہ مناظر کبھی تو جنت و دوزخ دونوں کو مادی شکل میں پیش کرتے ہیں کہ جنھیں قوتِ حاسّہ لمس سے محسوس کرتی ہے، اور کبھی معنوی صورت میں پیش کرتے ہیں جس کا ادراک انسان کا نفسِ ناطقہ ہی کرسکتا ہے، اور کبھی یہ دونوں صورتیں یک جا ہوجاتی ہیں۔

  •  دوزخ میں جسموں کا داغا جانا: چنانچہ ٹھوس مادی شکل میں عذاب کا بیان   اس صورت میں ہوتا ہے:

وَ الَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَ الْفِضَّۃَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ o یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُھُمْ وَ جُنُوْبُھُمْ وَ ظُھُوْرُھُمْ ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ o (التوبہ ۹: ۳۴-۳۵) دردناک سزا کی خوش خبری دو ان کو جو سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور انھیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اُسی سے اُن لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوئوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ ’’یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا۔ لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزا چکھو‘‘۔

یہاں راہِ خدا میں خرچ نہ کرنے والوں کا حشر چشمِ تصور کے سامنے آگیا ہے۔ وہ مال و دولت جسے وہ دنیا میں سونے چاندی کی شکل میں جمع کرتے رہے تھے آج اسے دوزخ کی آگ میں سرخ کر کے ان کے اعضا و جوارح کو داغا جار ہا ہے اور استہزا یہ کہا جا رہا ہے: ’’لو یہ ہے تمھارا وہ خزانہ جسے تم دنیوی زندگی میں جمع کرتے رہے تھے، آج ذرا اس کا مزا چکھو‘‘۔

  •  دوزخیوں کے سروں پر کہولتا ھوا پانی:ایک دوسرے مقام پر مجسم عذاب کی یوں عکاسی کی گئی ہے:

ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِیْ رَبِّھِمْ فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَھُمْ ثِیَابٌ مِّنْ نَّارٍ یُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُئُ وْسِھِمُ الْحَمِیْمُ o یُصْھَرُ بِہٖ مَا فِیْ بُطُوْنِھِمْ    وَالْجُلُوْدُ o وَ لَھُمْ مَّقَامِـعُ مِنْ حَدِیْدٍ o کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَا مِنْ غَمٍّ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ o (الحج ۲۲:۱۹-۲۲) یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا ہے۔ ان میں سے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے آگ کے لباس کاٹے جاچکے ہیں۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا۔ جس سے ان کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیںگے اور ان کی خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرز ہوں گے۔ جب کبھی وہ گھبرا کر جہنم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھو اب جلنے کی سزا کا مزا۔

منکرین حق کو دوزخ میں برہنہ جسم یوں ڈال دیاگیا ہے کہ اب آتشِ دوزخ ہی ان کے جسم کے گرد لپٹ کر اُن کا لباس بن گئی ہے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی اُنڈیلا جا رہا ہے جو   ان کے دماغ اور قلب و جگر اور امعاء و جلود کو گھلائے جا رہا ہے۔ جب بھی وہ اس ناقابلِ برداشت و روح فرسا تکلیف سے نکل بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں، لوہے کے گُرز مارمار کر انھیں دوبارہ وہیں دھکیل دیا جاتا ہے۔ اور ان کی خبر لینے والے دوزخ کے کارندے انھیں جھڑک کر یوں مخاطب ہوتے ہیں: ’’اونہوں! اپنے جسم و روح کے جلنے کا مزا یہیں چکھو۔ نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہیں‘‘۔ اُف! کتنا دردناک منظر ہے!

  •  اھلِ جنت کے لیے عیش و بھار: اسی طرح ٹھوس مادی نعمتیں مجسم صورت میں اس طرح بیان کی گئی ہیں:

وَاَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ لا مَآ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ o فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ o وَطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ o وَّظِلٍّ مَمْدُوْدٍ o وَّمَآئٍ مَّسْکُوبٍ o وَّفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ o لاَّ مَقْطُوعَۃٍ وَّلاَ مَمْنُوْعَۃٍ o وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَۃٍ o اِنَّآ اَنْشَاْنٰہُنَّ اِنْشَائً o فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا o عُرُبًا اَتْرَابًا o لّاِصْحٰبِ الْیَمِیْنِ o (الواقعہ ۵۶: ۲۷-۳۸) اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا! وہ بے خار بیریوں اور تہہ بر تہہ چڑھے ہوئے کیلوں، اور دُور تک پھیلی ہوئی چھائوں اور ہردم رواں پانی، اور کبھی ختم نہ ہونے والے اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں، اور اُونچی نشست گاہوں میں ہوں گے۔ ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انھیں باکرہ بنا دیں گے، اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سِن۔

وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ o جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَّھُمُ الْاَبْوَابُ o مُتَّکِئِینَ فِیْھَا یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ o وَعِنْدَھُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ o ہٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ o (صٓ۳۸: ۴۹-۵۳) (اب سنو کہ) متقی لوگوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانا ہے ہمیشہ رہنے والی جنتیں، جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے۔ ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کررہے ہوں گے، اور ان کے پاس شرمیلی ہم سن بیویاں ہوںگی۔ یہ وہ چیزیں ہیں جنھیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔

سبحان اللہ! کتنا دل کش اور پُربہار منظر ہے۔ اس حیاتِ ناپایدار میں انسان اس سے بہتر عیش و آرام اور اس سے زیادہ پُرلطف و پُربہار زندگی کا تصور تک نہیں کرسکتا۔ آنکھیں بند کرکے ذرا چشمِ تصور کو وا کیجیے۔ کیا عجب بہار ہے۔ وسیع باغات ہیں جن میں کبھی ختم نہ ہونے والے پھلوں سے لدے ہوئے درخت ہیں جن کے بیچوں بیچ ہردم رواں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ ان چشموں کے کنارے درختوں کے گھنے ٹھنڈے سایے میں نہایت حسین وجمیل ہم عمر نوجوان اور باحیا بیویوں کی معیت میں اُونچی نشست گاہوں پر گائو تکیے لگائے اہلِ جنت فروکش ہیں، جی بھر کر قسم ہا قسم کے پھلوں اور شراب طہور سے لطف اندوز ہورہے ہیں اور بار بار طلب کرر ہے ہیں۔ ’’بھئی اور لو! ضیافت کی یہی تو وہ چیزیں ہیں جو آج کے دن تمھیں مہیا کرنے کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا‘‘ جواب میں کہا جاتا ہے ___ یہ ہے جنت کی وہ ابدی نعمت، جس سے انسان کے کام و دہن لذت اندوز ہوں گے اور جسے یہاں محسوس و مجسم شکل میں لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔

غور سے دیکھیں تو جنت و دوزخ دونوں نہایت لطیف و عمیق ہیں۔ یہاں تک کہ دونوں نہایت لطیف روحانی سایے سے معلوم ہوتے ہیں۔ جن میں نفوسِ انسانی بالکل منفرد شکلیں اختیار کرجاتے ہیں یا یوں کہیے کہ ان کے چہروں پر کوئی عجیب و غریب قسم کی پرچھائیں پڑی ہے۔ قرآن نے اس کیفیت کی عکاسی ان الفاظ میں کی ہے:

  •  اھلِ جنت کی باھم دوستی: جنت کی تصویر ان الفاظ میں:

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَھُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا o (مریم ۱۹:۹۶) یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کررہے ہیں، عنقریب رحمن  ان کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّھَدَآئِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا o (النساء ۴:۶۹) اور جو اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیا ؑاور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔

  •  اھلِ دوزخ کی حسرت: اہلِ دوزخ عذابِ دوزخ دیکھ کر مایوسی اور حسرت کا اظہار کریں گے:

اِنَّآ اَنْذَرْنٰکُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْئُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰہُ وَیَقُوْلُ الْکٰفِرُ یٰـلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرٰبًا o (النباء ۷۸: ۴۰) بے شک ہم نے تو تم کو ایک ایسے عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب ہی آنے والا ہے۔ جس دن ہر ایک آدمی اپنے ان اعمال کو نامۂ اعمال میں لکھا ہوا دیکھ لے گا جو اس نے دنیا میں اپنے ہاتھ سے کیے تھے اور کافر حسرت سے کہے گا: ’’اے کاش! میں مرنے کے بعد ہوگیا ہوتا مٹی!‘‘

وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَo (الانعام ۶:۳۰) کاش! وہ منظر   تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا:’’کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟‘‘ یہ کہیں گے: ’’ہاں! اے ہمارے رب!  یہ حقیقت ہی ہے! ’’وہ فرمائے گا: ’’اچھا! تو اب اپنے انکارِ حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو‘‘۔

الغرض ان سب مشاہد میں جنت و دوزخ کا نقشہ انسان کے قلب و ضمیر میں ایک طرح کی بے آمیز مسرت و اطمینان اور محبت، یا بے میل ندامت و رسوائی اور نفرت کا احساس پیدا کردیتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مظاہرِ جنت یا مظاہرِ دوزخ میں باہم امتزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس طرح ان کا تاثر دوہرا ہوجاتا ہے۔ چنانچہ جنت یا دوزخ کے ٹھوس مادی وجود سے جسمانی راحت و تکلیف کے ساتھ ساتھ روحانی آسودگی اور تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے۔ جنت و دوزخ کے مظاہر میں یہ رنگ غالب ہے۔(انتخاب: مناظرِقیامت قرآن کی زبان میں، ادارہ تعمیرانسانیت، لاہور، ص ۵۷-۷۷)