اسرائیل کی صورت میں انسانیت کے لیے کینسر، فلسطین کی سرزمین پر ظاہر ہے۔ میزائل اُڑتے ہیں، جہنم کا منظر عالمی سرخیاں بنتی ہیں، ہزاروں لوگ مر جاتے ہیں، میرے خدا، ان میں سے بہت سے بچّے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ نے اعلان کیا: ’’ہم انسانی جانوروں سے لڑ رہے ہیں اور ہم غزہ کا مکمل محاصرہ کر رہے ہیں۔ نہ بجلی، نہ کھانا، نہ پانی، نہ ایندھن___ سب کچھ بند ہو جائے گا‘‘۔ یہ ہے صیہونی اصول کہ انسانوں کو جانور قرار دے کر مار ڈالو، چاہے وہ معصوم بچّے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ جنگ شیطانی چکر ہے۔ حماس نے اسرائیل پر میزائل داغے، جس کے جواب میں اسرائیل کی طرف سے (بہت زیادہ جدید ترین) میزائل اور بھی زیادہ گھناؤنے ردعمل کا جواز بناکر برسائے گئے ہیں، اور غزہ کی ’اوپن ایئر جیل‘ میں پھنسے لوگوں کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا۔ —
میں یہ الفاظ اس لیے لکھ رہا ہوں کہ اس تنازعے کی غلطیوں کو ’برابر‘ کرنے کی کوشش نہ کریں اور نہ اس کی تاریخ کو چھیڑیں: پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں فلسطین میں اسرائیل کی نوآبادیاتی، ریاست کے قیام میں یہاں کے سیکڑوں دیہات کو وحشیانہ انداز سے تباہ کردیا گیا۔ جیسا کہ کرس ہیجز لکھتے ہیں:’’اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف تشدد کی یہ خون آلود زبان بولی ہے۔ جب سے صیہونی ملیشیا نے تاریخی فلسطین کے ۷۸فی صد سے زیادہ حصے پر قبضہ کر لیا، تقریباً ۵۳۰ فلسطینی دیہات اور شہروں کو تباہ کر دیا، اور ۷۰ سے زیادہ مرتبہ قتل عام میں ہزاروں فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کی ریاست بنانے کے لیے ۱۹۴۷ء اور ۱۹۴۹ء کے درمیان تقریباً ۷لاکھ ۵۰ ہزار فلسطینیوں کا نسلی طور پر صفایا کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں وزیردفاع پوچھتا ہے: ’’اسرائیل سے تم کیا توقع رکھتے ہو؟‘‘
یہ تازہ ترین جنگ، نسلی تطہیر اور اپنی نسل کشی کے خلاف ردعمل کی کارروائی کے نمبرشمار میں ایک اضافہ ہے۔ حماس، یعنی غزہ کی موجودہ انتظامیہ کو امریکی میڈیا کی زبان میں ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ سمجھا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ تقریباً ہر قومی حکومت کی فوج ایک دہشت گرد تنظیم ہی ہے، یا کم از کم ممکنہ طور پر ایسا ہی رویہ اختیار کرتی ہے۔ امریکا تو یقیناً اسی معیار پر پورا اُترتا ہے۔ اب جنگ کے لیے ایک اور لفظ کا اضافہ ہوگیا ہے: ’دہشت گردی‘۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو جنگ کی آگاہی کے شعور میں پھنسی ہوئی ہے۔ خطرے سے بچنے کا واحد راستہ پھر یہ ہے: ’انھوں نے ہمارے بچوں کو مارا ہے، لہٰذا ہم ان کو مارنے والے ہیں‘۔ یوں جو سب سے زیادہ بچوں کو مارتا ہے وہ واقعی جیت جاتا ہے، یا ایسا نظر آتا ہے۔
کیا جغرافیائی سیاست کی سطح پر سوچنے کا ایک مختلف طریقہ ممکن ہے؟ کیا جنگ کے بغیر دنیا ممکن ہے؟ اورلی نوئے، جو اسرائیلی اور عبرانی زبان کے نیوز میگزین لوکل کال کی ایڈیٹر ہیں، لکھتی ہیں: ’’جب حماس نے اسرائیل پر میزائل داغے تو یہ کتنا خوفناک تجربہ تھا‘‘۔ دی گارڈین میں وہ لکھتی ہیں: ’’عوام میں بدلہ لینے کی خواہش قابل فہم اور خوفناک بھی ہے، لیکن کسی اخلاقی سرخ لکیر کا مٹ جانا ہمیشہ ایک خوفناک چیز رہا ہے‘‘۔یہ بات اہم ہے کہ حماس کی طرف سے کیے جانے والے اقدام کی اہمیت کو کم نہ کیا جائے اور نہ معاف کیا جائے۔ لیکن یہ خود ہمیں اپنے آپ کو یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ وہ سب کچھ جو اب ہم اپنے اُوپر مسلط ہوتا دیکھ کر تڑپ رہے ہیں، بالکل یہی تو ہم برسوں سے فلسطینیوں پر ڈھا رہے ہیں… میں اپنے آپ کو یاد دلاتی رہتی ہوں کہ اس سیاق و سباق کو نظرانداز کرنا خود میری اپنی انسانیت کی تذلیل رہی ہے۔ کیونکہ کسی بھی سیاق و سباق سے عاری تشدد صرف ایک ممکنہ ردعمل کی طرف لے جاتا ہے: انتقام، اور بدلہ‘‘۔ اورلی نوئے لکھتی ہیں: ’’سیکورٹی کا مخالف، درحقیقت امن کا مخالف ہے، اور انصاف کا بھی مخالف ہے اور یہ مزید تشدد کے سوا کچھ بھی نہیں… ہم نے نہ صرف غزہ کو فاقہ کشی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے بلکہ اسے مکمل تباہی کے دہانے پر بھی پہنچا دیا ہے، اور یہ سارا کام ہمیشہ سیکورٹی کے نام پر ہی کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ کرکے ہمیں کتنی سیکورٹی ملی؟ انتقام کا یہ دوسرا دور ہمیں کہاں لے جائے گا؟‘‘
’’اس ہفتے کے روز اسرائیلیوں کے خلاف جو خوفناک اقدام کا ارتکاب کیا گیا، جسے دماغ سمجھ نہیں سکتا اور غم کے اس تاریک لمحے میں ایک چیز سے چمٹی ہوئی ہوں جسے میں نے تھامنا چھوڑ دیا اور وہ ہے: میری انسانیت۔ مکمل یقین کہ یہ جہنم پہلے سے طے شدہ نہیں ہے۔ نہ ہمارے لیے، نہ ان کے لیے‘‘۔
اس خوفناک لمحے کو سمجھا، پڑھا جا سکتا ہے، کہ کیا ہم ۷؍ارب انسانی دماغ سوچ سمجھ نہیں سکتے۔ انتقام اور جنگ میں عقل کام نہیں کرتی۔ تنازعے کو صرف ان تمام فریقوں کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے، جو اس کا حصہ ہیں۔ یہی سوچ اور شعور امن کی تخلیق ہے۔ ہاں، افسوس کہ یہ محض کسی کی پشت پر لات مارنے سے زیادہ پیچیدہ کام ہے۔ یہ سب ایسا ہی ہے جیسے تنازعات کو زندہ رکھنے میں عالمی تجارتی مفاد کی حکمرانی! نہ صرف سیاسی حواریوں اور اسلحے کے ڈیلروں کے درمیان بلکہ اس گندے کھیل کے لیے بھی یہ کھیل ٹھیک ہے۔تمام زندگی ایک صحافی کے طور پر کام کرتے ہوئے مَیں یقینی طور پر اپنے پیشے کو بھی اسی انسانیت کُش فہرست میں شامل کر سکتا ہوں، جسے اپنے اخباروں میں خون آلود سرخیاں چھاپنے سے دلچسپی ہے، اور یہ خیال بھی ساتھ ساتھ کہ ’’فریقین رابطے اور مکالمے میں مصروف ہیں‘‘۔
یاخدا! دشمن کے ساتھ بھی رابطے؟ حکومتیں اس مقصد کے لیے اپنے وسائل کیوں ضائع کریں گی؟ انسانیت کے متعلق ہماری سمجھ بھی ایسی نہیں ہے۔ بہت مثبت بن کر سوچا جائے تو جنگ کا خاتمہ یا انسان کا اس سے بلند تر ہوجانا بھی ایک ناقابلِ فہم حد تک طویل اور ناممکن ترین سا عمل ہے۔ اس عمل کے بارے میں ہم اتنا بھی نہیں جانتے، جتنا ’ایٹم‘ کے بارے میں جانتے ہیں۔
لیکن کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ ہوسکتا ہے کہ جتنا ہم سمجھتے ہیں، اس سے زیادہ ہی جانتے ہوں جیساکہ ماہر نفسیات مصنف مارین ووڈمین کا کہنا ہے: ’’دوسروں پر حکم چلانا اور ان کے ساتھ ایک بامعنی ربط پیدا کرنا، دو مختلف چیزیں ہیں۔یہ پہلی قسم جسے ’پدرشاہی‘ قسم بھی کہاجاسکتا ہے، دوسروں کی کچھ پروا نہیں کرتی۔ اس کے برعکس مَیں تو لوگوں کو بااختیار بنانے کے حق میں ہوں‘‘۔
ہمیں کوشش جاری رکھنی ہے، ہمیں بطورِ انسان ایک دوسرے کی قدر کرنی ہے، ایک دوسرے کے ساتھ ربط رکھنا اور زندہ رہنا سیکھنا ہے، چاہے یہ کام ہمیں کتنا ہی ناممکن کیوں نہ لگے۔ بطور انسان ہمارا پہلا فریضہ بھی یہی ہے۔ اگر ہم اس جنگ کو ختم نہیں کرتے، تو یہ ہمیں ختم کردے گی! [ترجمہ: ادارہ]
یہ جنوری ۲۰۲۲ء کی بات ہے، برطانیہ کے ایک آزاد تحقیقی ادارے ’اسٹوک وائٹ انویسٹی گیشن‘ نے انکشاف کیا تھا کہ ان کے ایک گاہک ’کریم‘ کو کشمیر میں دورانِ حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
مقبوضہ وادی میں انڈین فوجی اداروں کی جانب سے کشمیریوں کی بلاجواز گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد کوئی نئی بات نہیں۔ تاہم، کریم نے اپنے تفتیش کنندگان کی جو داستان سنائی وہ کافی عجب تھی۔ کریم کے بقول: ’’مجھ سے تفتیش کرنے والے اہلکار ہندستانی نہیں تھے۔ ان کا رنگ سفید تھا اور وہ امریکی لہجے میں بات کرتے تھے۔ ان کو کشمیر سے متعلق سرگرمیوں یا مقامی مسئلوں سے بھی کوئی سروکار نہ تھا، بلکہ وہ عالمی سیاست اور مسئلہ فلسطین کے متعلق میرے خیالات جاننا چاہتے تھے‘‘۔
کریم نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’میرے خیال میں وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا میں فلسطین اور افغانستان کی جدوجہد ِآزادی سے کوئی وابستگی رکھتا ہوں یا نہیں؟ ایک افسر نے مجھ سے حماس کے متعلق بھی پوچھا۔ اس سوال پر مجھے حیرانی کا جھٹکا لگا کیونکہ حماس کا کشمیر سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ میں نے انھیں بتایا کہ مجھے فقط کشمیر پر ہندستانی قبضے سے مسئلہ ہے، لیکن وہ مجھ سے یہ قبول کروانا چاہتے تھے کہ میں کسی عالمی ایجنڈے کا حصہ ہوں‘‘۔۱
کریم کے مطابق یہ افراد اپنی شناخت کے بارے میں بڑے پُراعتماد تھے۔ انھوں نے کھلم کھلا اسے بتایا کہ وہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی ’موساد‘ سے وابستہ ہیں اور کشمیر میں ’تحقیقی‘ فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ سرینگر کے ہوائی اڈے پر قائم عقوبت خانے میں یہ پُرتشدد تفتیش تین دن تک جاری رہی اور اس کے بعد کریم کو ڈھائی مہینے کے لیے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
کریم کے ساتھ جو ہوا وہ ہندستان اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹرے ٹیجک تعاون کا نتیجہ ہے۔ بڑھتی ہوئی نظریاتی و مفاداتی قربتوں کے باعث دونوں ریاستیں معاشی و سیاسی میدان میں مل کر کام کر رہی ہیں۔ اسی قرابت داری کے باعث اب ہندستانی مقبوضہ علاقوں میں ریاستی جبر صرف ہندستانی ریاست کا خاصہ نہیں رہ گیا ہے بلکہ ایک بڑے عالمی منصوبے سے جڑ چکا ہے۔ یہی منصوبہ ہندستان کو اسرائیل اور اس کی نوآبادیاتی پالیسیوں سے جوڑ دیتا ہے۔
اگرچہ ہند اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ طور پر کھلے عام تعلقات ۱۹۹۲ء میں قائم ہوئے، لیکن ان دو ریاستوں کا روحانی تعلق ۱۹۴۷ء اور ۱۹۴۸ء میں ان کے قیام سے پہلے کا چلا آرہا ہے۔ دونوں ریاستیں اپنے قیام سے قبل برطانوی استعمار کا حصہ تھیں، جو فلسطین اور جنوبی ایشیا کے زیادہ تر حصے پر قابض تھا۔ اس تعلق کا ایک ثبوت دونوں ممالک کا حیران کن حد تک مماثل قانونی نظام ہے۔ مثلاً دونوں ممالک نے مہاجرین کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے برطانیہ کے جنگی قوانین کا سہارا لیا۔ ’اسرائیلی ابسنٹی پراپرٹی لا‘ (Israeli Absentee Property Law) اور ہندستانی متروکہ املاک کا قانون بہت حد تک مشابہ ہیں۔
بیسویں صدی کے آغاز میں ہندستان کے کئی قوم پرست رہنما مثلاً ڈی وی سوارکر (D.V Savarkar) اور ایس ایم گولوالکر(S.M Golwalkar) صیہونیت سے متاثر ہوئے۔ فلسطین کے نوآبادیاتی منصوبے میں انھیں اپنے اکھنڈ بھارت کی جھلک نظر آتی تھی، جو سارے جنوبی ایشیا پر مشتمل ہو گا اور یہاں ہندوؤں کی حکمرانی ہو گی۔ صیہونیت سے یہ محبت اب بھی کئی طاقت ور قوم پرست ہندو اداروں میں پائی جاتی ہے، جن میں وزیراعظم مودی کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی بھی شامل ہے۔ انھی بااثر اداروں کی وجہ سے صیہونیت کے ساتھ یہ تعلق نہ صرف ہندستان کی داخلی و خارجی سیاست پر اثرانداز ہوتا ہے بلکہ بی جے پی کے زیر انتظام علاقوں میں عوامی رائے کو بھی متاثر کرتا ہے۔
ان کٹر قوم پرست حلقوں سے باہر اور سیکولر سمجھے جانے والے ہندستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بھی صیہونی تحریک اور اسرائیلی عزائم کے بڑے مداح تھے۔۲ تاہم، ان کا خیال تھا کہ اسرائیل سے براہ راست تعلق استوار کر لینے کی صورت میں ان کی کشمیرپالیسی متاثر ہو گی اور نوآبادیاتی غلامی سے نکلنے والی ریاستوں کی سربراہی کا خواب بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود ہندستان نے ۱۷ستمبر ۱۹۵۰ء کو اسرائیل کو باقاعدہ طور پر تسلیم کر لیا اور ۱۹۵۳ء میں بمبئی میں اسرائیلی سفارت خانہ بھی کھل گیا۔
۱۹۹۲ء میں باقاعدہ تعلقات استوار ہونے سے پہلے ہندستان اور اسرائیل کا رابطہ ’موساد‘ اور’ را‘ کے ذریعے ہوتا تھا۔ ’را‘(RAW) ہندستانی خفیہ ایجنسی ہے، جس کی بنیاد ۱۹۶۸ء میں اندراگاندھی نے رکھی تھی۔ یہ خفیہ دفاعی تعلقات جو ٹکنالوجی کے تبادلے سے لے کر خفیہ سفارتی دوروں تک پھیلے ہوئے تھے، پاکستان کی چین سے بڑھتی ہوئی قربت کے رد عمل میں قائم کیے گئے تھے۔۳ ’موساد’ ،’را‘ تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے علاوہ ہندستان نے سوویت یونین (USSR)کے ساتھ بھی مضبوط دفاعی تعلقات قائم کیے۔ دسمبر ۱۹۹۱ء میں سوویت یونین کے زوال کے وقت ہندستان سوویت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا۔
۹۰ کے عشرے سے ’ہندستان اسرائیل تعلقات‘ میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے اس رشتے کی بنیاد دفاعی مصلحتوں پر تھی، لیکن اب اپنے مقبوضہ علاقوں پر شکنجا مضبوط کرنے کے لیے ہندستان کو اس اتحادی کی ضرورت پڑی۔ سوویت یونین کے زمین بوس ہونے سے ہندستان کے لیے اسلحے کی سب سے بڑی دکان بند ہو چکی تھی۔ اب اندر اور باہر سے جب معیشت کو آزاد کرنے کا دباؤ بڑھا تو ہندستان نے امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھانا شروع کیے۔ اسی زمانے میں کشمیر کے اندر ایک مسلح جدوجہد بھی شروع ہو چکی تھی جس کا آغاز ۱۹۸۹ میں ہوا تھا اور وہاں ۱۹۸۷ء میں ہونے والے متنازع انتخابات بڑی دیر سے دبے لاوے کے پھوٹنے کی بنیاد بنے تھے۔ ان انتخابات میں نئی دہلی حکومت نے دھاندلی کے ذریعے ہندستان پسند جماعت نیشنل کانفرنس کو جتوایا تھا۔
’تامل ٹائیگرز‘ کے ہاتھوں وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل [۲۱مئی ۱۹۹۱ء]کے بعد جون ۱۹۹۱ء میں نرسمہا راؤ نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ اسی مہینے کشمیری مجاہدین نے سری نگر سے آٹھ سیاحوں کو اغوا کرلیا، جن میں سے سات اسرائیلی تھے اور انھیں مبینہ طور پر مجاہدین کے درمیان پھوٹ ڈلوانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ اس صورتِ حال میں جہاں ایک طرف بھارتی و اسرائیلی سفارت کار ان کی رہائی اور وادی سے بقیہ اسرائیلیوں کے انخلا کی کوششوں میں مصروف تھے، ہندستانی میڈیا میں اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کا راگ الاپا جا رہا تھا۔ بھارتی سیاست میں اسرائیل پسند جماعت بی جے پی کا رسوخ بھی بڑھ رہا تھا اور فلسطین کی جانب سے بھی ان دو ریاستوں کے بڑھتے تعلقات کی زیادہ مخالفت نہیں کی جا رہی تھی، چنانچہ بھارتی حکومت نے اسرائیل سے باقاعدہ تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ۴
چنانچہ اسی زمانے میں جب ہندستان کشمیریوں کا محاصرہ سخت کرنے کی کوشش کر رہا تھا،اسرائیل پہلی انتفاضہ بغاوت کو کچلنے میں مصروف تھا۔ اسرائیلی حکومت کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اسرائیلی ریاست اپنا آزاد معاشی نظام ترتیب دینے کے لیے مصروفِ عمل تھی۔ اس منصوبے کا ایک حصہ اسرائیلی معیشت دان شیر ہیور (Shir Hever)کے الفاظ میں ’اسرائیلی دفاع کی نجکاری‘ بھی تھا۔ ۵ چنانچہ ان بڑھتے دفاعی و معاشی تقاضوں کے باعث ہندستان اور اسرائیل کےیہ تعلقات دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ پوزیشن میں آ گئے اور دونوں ممالک ہرطرح کے حقیقی یا ’خیالی خطرے‘ سے قبل از وقت نپٹنے کے لیے متحد ہو گئے۔
۹۰ کے عشرے سے اسرائیلی حکومت اور دفاعی کمپنیوں کی جانب سے اس پہلو پر بہت زور دیا جانے لگا جسے ’اسرائیلی تجربہ‘ کہا جاتا ہے۔ اسرائیلی معلم نیوو گورڈن کے مطابق ’اسرائیلی تجربہ‘ کا یہ نعرہ بیرون ملک اسرائیلی اسلحہ اور دیگر دفاعی خدمات فروخت کرنے کے لیے گھڑا گیا تھا۔ ۶ نائن الیون کے بعد اسرائیل کے دفاعی شعبے کی مانگ میں مزید اضافہ ہو گیا تھا کیونکہ ہندستان جیسی ریاستیں امریکی سربراہی میں شروع ہونے والی ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں چیمپئن بن کے سیاسی فوائد حاصل کرنا چاہتی تھیں۔
کشمیری اسکالر محمد جنید لکھتے ہیں: ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسا خام اور یک رُخا نعرہ ہندستان جیسی ریاستوں کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا، جنھوں نے اسے استعمال کر کے عشروں سے جاری کشمیریوں کی جائز جدو جہد آزادی کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کی۔ ۷ جنید کے مطابق اندرون اور بیرونِ ہند مبصرین نے بڑی آسانی سے کشمیر کی حق خود ارادیت کی تحریک سے وابستہ جدوجہد کو بھی عالمی جہادی ایجنڈے کا حصہ قرار دے کر ایک طرف کر دیا۔ اسی ’دہشت گردی‘ کے نعرے کا فائدہ اٹھا کر ہندستان نے بھی کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کو فلسطین اور چیچنیا میں ہونے والی جدوجہد کو ’دہشت گردی‘ سے جوڑ کر اپنے لیے گنجایش پیدا کر لی۔ اس وقت کے ہندستانی مرکزی وزیر جسونت سنگھ کا کہنا تھا کہ ’’۱۹۹۹ء میں کشمیریوں کی جانب سے ہندستانی طیارے کا اغوا دراصل نائن الیون کی تیاری کی ایک مشق تھی‘‘۔ ۸
اس بیانیے کو مزید تقویت تب ملی جب نائن الیون کے کچھ ہی مہینوں بعد پاکستان سے منسوب لشکر طیبہ اور جیش محمد کو دہلی کی پارلیمنٹ پر حملے سے جوڑ دیا گیا۔ اس حملے کے بعد ہندستانی حکومت نے ایک اسرائیلی سیکیورٹی کمپنی ’نائس سسٹمز‘ (Nice Systems) کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جس نے بھارت اسرائیل تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ کیا۔
پھر ہندستان کے تاج ہوٹل، ممبئی پر حملوں (نومبر ۲۰۰۸ء ) کے بعد ان رحجانات میں مزید اضافہ ہوا۔ کہا گیا کہ لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے ۱۰ افراد نے ممبئی شہر میں ۱۲ مختلف جگہوں پر حملہ کیا تھا۔ان حملوں کا نشانہ بننے والوں میں ۹ اسرائیلی شہری بھی شامل تھے۔ اس حملے کے بعد آزاد عیسیٰ کے بقول، جو بھارت اسرائیل تعلقات پر ایک کتاب کے مصنف ہیں،اسرائیل ہمیشہ کے لیے ایک بھارتی سانحے کا حصہ بن گیا۔ ۹ ان کے مطابق اسرائیل کی دفاعی صنعت کے لیے اس واقعے نے ایک بڑا کاروباری امکان پیدا کردیا۔
ہندستانی میڈیا کی جانب سے مسئلے کے عسکری حل پر زور دیے جانے کے بعد ریاست مہاراشٹرا نے جولائی ۲۰۰۹ء میں ’اسرائیلی تجربے‘ سے سیکھنے کے لیے ایک وفد اسرائیل بھیجا۔ اس کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ بھارت میں اسرائیل کے تربیت یافتہ کمانڈوز کے دستے تیار کر کے انھیں ممبئی میں تعینات کیا گیا۔پولیس کمشنر دھنوش کودی سیوانندن کا کہنا تھا: ’’بھارت کو دہشت گردی کے معاملے میں عسکری انداز سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں اسے اسرائیل کی بے رحم جبلت سے سبق سیکھنا چاہیے اور بیرونی دُنیا کی کسی تنقید کی کوئی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ۲۰۰۸ء اور ۲۰۰۹ء میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر ہونے والی وحشیانہ بمباری کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’’اسرائیلی اپنے دفاع کے معاملے میں خاموش نہیں رہتے۔ وہ اپنے جہازوں میں جاتے ہیں، دشمن کا صفایا کرتے ہیں اور پھر آ کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس کے برعکس ہم ذرا بھی جارحیت کا مظاہرہ کریں تو باہر سے دباؤ آنے لگتا ہے‘‘۔ ۱۰ اس طرح ان کے بقول: ’’ہندستان برسوں سے دہشت گرد حملوں کے سامنے چپکا بیٹھا ہوا ہے‘‘۔ ۱۱
ان حملوں کے بعد پورے ہندستان میں ’سینٹرل مانیٹرنگ سسٹم‘ (CMS)لاگو کیا گیا۔ یہ نظام برقی مواصلات کے تقریباً تمام ذرائع کی جاسوسی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بھارت کو اسے نصب کرنے میں اسرائیلی کمپنیوں مثلاً ’ویرنٹ سسٹمز‘ (Verint Systems) کی مدد حاصل تھی۔ اس CMS نظام کا نفاذ ہندستان کی دفاعی پالیسی میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، کیونکہ اس سے قبل صرف مجرموں کی نگرانی کی جاتی تھی، اب ہر قسم کی نجی مواصلات کو بھی ریکارڈ کیا جانے لگا، تا کہ خطروں کی پیش بینی کی جا سکے۔ نگرانی کا یہ نیا نظام کسی عدالتی وارنٹ کا بھی محتاج نہیں اور فون یا انٹرنیٹ استعمال کرنے والے ہر شہری کی جاسوسی کر سکتا ہے۔ اس کے تحت شہری اپنی گفتگو یا رابطے کے بارے میں کہیں اپیل بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے نفاذ میں اسرائیلی مدد ایک طرف، اس سارے قضیے سے ہمیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بھارت اسرائیلی دفاعی حکمت عملیوں سے کس قدر متاثر ہے۔
اپنے داخلی دفاع کو لے کر بھارت کی ’سخت‘ حکمت عملی اور بھارتی ریاست و عوام کی ’اسرائیلی طرزِ عمل‘ سے والہانہ محبت بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کی حکومت سے بھی پہلے کا قصہ ہے۔ ہندستان کی جانب سے اسرائیلی ٹکنالوجی نکسل باڑیوں کے خلاف اڑیسہ، چتیش گڑھ اور آندھرا پردیش وغیرہ میں اور اسرائیلی ڈرون کا استعمال ،نئی دہلی میں ’یونائیٹڈ پروگریسو الائنس‘ (UPA) کی لبرل حکومت کے دوران ہی شروع ہو گیا تھا۔۲۰۰۴ءسے ۲۰۱۴ء تک کانگریس پارٹی اس اتحاد کی نمایندہ جماعت اور من موہن سنگھ وزیر اعظم تھے۔
۲۰۱۴ء میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آنے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے مزید راہ ہموار ہوئی، اور ۲۰۱۷ء میں وزیر اعظم نریندر مودی کے دورۂ اسرائیل کے بعد مشترکہ بیان میں ’’بھارت اور اسرائیل کے تعلقات کو ’اسٹرے ٹیجک تعلقات‘ قرار دیا گیا‘‘۔ ۱۲ اس دورے میں وزیر اعظم نریندارا مودی اور نیتن یاہو نے زراعت، آب پاشی اور ٹکنالوجی کے میدان میںتعلقات کو مزید نکھارنے کے لیے کئی معاہدوں پر دستخط کیے۔
چنانچہ ان خطرناک حد تک اچھے تعلقات کے باعث اسرائیل، بھارت کے ’میک ان انڈیا‘ (Make in Inida) منصوبے میں سب سے بڑا حصہ دار بن چکا ہے۔ اس منصوبے کا اعلان نریندرامودی نے ستمبر ۲۰۱۴ء میں کیا تھا اور اس کے تحت غیرملکی کمپنیوں کو ہندستان میں پیداوار شروع کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس پر کسی کو کیا حیرت ہو سکتی ہے کہ زرعی ٹکنالوجی تو رہی ایک طرف، سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جس مال کی پیداوار ہندستان میں شروع ہوئی وہ اسرائیلی میزائل اور اسلحہ ہی تھا۔ ہندستان کے چند بڑے سرمایہ داروں مثلاً اڈانی گروپ کے مالک اور مودی کے دیرینہ خیر خواہ گوتم اڈانی کو اسرائیل کے ساتھ ان سودوں سے بڑا منافع ہوا۔اس منصوبے کا حصہ بننے والے دیگر ممالک میں روس اور امریکا اہم ہیں۔ روس اپنے براہموس میزائل ہندستان میں تیار کر رہا ہے، جب کہ امریکا ایک بڑی اسلحہ ساز کمپنی ’لاک ہیڈ مارٹن‘ (Lockheed Martin) کے ذریعے اس منصوبے میں شامل ہے۔ عسکری مصنوعات سے ہٹ کر اسرائیلی کمپنیوں نے دیگر اہم شعبوں مثلاً قابل تجدید توانائی کے منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے بھی بھارت کو اپنی معیشت میں بڑا حصہ دیا ہے۔ جنوری ۲۰۲۳ء میں اڈانی گروپ نے حیفہ کی بندرگاہ ایک اعشاریہ دو بلین ڈالر کے عوض خرید لی تھی۔ اس کمپنی کے چیف ایگزیکٹو نے نیتن یاہو کے ساتھ اس منصوبے پر دستخط کرتے ہوئے ’دو ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات‘ کی تعریف کی اور انھیں مزید بڑھانے کا عندیہ بھی دیا۔
اس دوران ہندستان، اسرائیل کی عسکری ٹکنالوجی کا سب سے بڑا خریدار بھی بن چکا ہے۔ مودی کے دورۂ اسرائیل ۲۰۱۷ء کے دوران اسرائیلی تاریخ کے سب سے بڑے ۲ بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ معاہدہ ۲۰۲۱ء میں دوبارہ خبروں کی زینت بنا، جب بھارتی اخبار The Wire نے انکشاف کیا کہ ۲۰۱۹ء کے انتخابات میں بی جے پی کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیلی کمپنی این ایس او کے سافٹ ویئر پیگاسس (Pegasus) کی مدد سے انڈین حزب اختلاف کے معروف سیاست دانوں بشمول راہول گاندھی کے فون ہیک کیے گئے تھے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ (جنوری ۲۰۲۲ء ) کے مطابق یہ سافٹ ویئر ’پیگاسس ‘۲۰۱۷ء کے سودے کا ایک اہم حصہ تھا۔ دوسری جانب مودی حکومت اس کی خریداری سے انکار کرتی ہے۔ تاہم، ’آرگنائزڈ کرائم اینڈ کرپشن رپورٹنگ پراجیکٹ‘ (OCCRP)کی حاصل کردہ اہم دستاویزات کے مطابق ’’بھارت نے اسرائیلی کمپنی NSOسے وہ آلات خریدے ہیں، جو اسی سافٹ ویئر کی تنصیب کے لیے دیگر ممالک میں استعمال ہوئے تھے‘‘۔ ۱۳
The Wire کی رپورٹ کہتی ہے کہ مودی کے حریفوں کے علاوہ مزید سیکڑوں لوگوں کی نگرانی بھی اس سافٹ ویئر کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ان دعوؤں کی تصدیق ’لیگل فورم فار کشمیر‘ (LFK) کی حالیہ رپورٹ سے بھی ہوتی ہے، جس میں ایسی شخصیات کی ایک فہرست شائع کی گئی ہے، جو اس سافٹ ویئر کی مدد سے جاسوسی کا شکار ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے شہ پا کر بی جے پی نے بھی بھارت میں اختلاف رائے کو دبانے کے لیے کئی محاذ کھول دیے ہیں۔ مثلاً خاتون صحافی سواتی چترویدی نے بی جے پی (بلکہ سچی بات یہ ہے کہ RSS)کی پروردہ ایک ’ڈیجیٹل فوج‘ کی نشاندہی کی ہے۔ یہ فوج سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مشتمل ہے، جو اختلاف رائے رکھنے والوں کے خلاف آن لائن مہم چلا کر انھیں ہراساں کرتے ہیں۔ ۱۴ ایسا ہی ایک منصوبہ اسرائیل میں بھی شروع کیا گیا تھا۔ اسرائیلی خفیہ اداروں کی ایک مہم ’فلڈ دی انٹرنیٹ‘(Flood the Internet) کے تحت، انٹرنیٹ پر فلسطینی تحریک بی ڈی ایس (BDS) کے خلاف مواد بڑی مقدار میں شائع کیا جاتا تھا۔ اسی سے متاثر ہو کر اور اسرائیلیوں سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے بھارتی ’ڈیجیٹل فوج‘ بھی اکثر ایسے آن لائن ٹرینڈ چلاتی ہے، جن میں اسرائیل کو سراہا جاتا ہے اور فلسطینیوں کی مذمت کی جاتی ہے۔
۲۰۲۰ء سے جاری رہنے والا میڈیا بلیک آؤٹ تو بظاہر ختم ہو چکا لیکن کشمیر کی وادی اب بھی کڑی نگرانی کی زد میں ہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں بھارتی آئین کے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ -اے کو تبدیل اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد وہاں ایک طویل اور ظالمانہ کرفیو نافذ کردیا گیا تھا۔ اس ترمیم کے ذریعے وادیٔ کشمیر کو دو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کر کے یک طرفہ طور پر ہندستانی وفاق میں ضم کر دیا گیا تھا۔ کشمیری حقوق کے لیے کام کرنے والے کئی رہنماؤں نے، جن میں اکثریت جلاوطن رہنماؤں کی ہے، بھارت پر الزام لگایا ہے کہ ’’ہندستان، کشمیر پر ’اسرائیل ماڈل‘ لاگو کرنے کی کوشش کر رہا ہے کیونکہ نئی آئینی ترامیم کے ذریعے تمام ہندستانیوں کو کشمیر میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کا حق دے دیا گیا ہے‘‘۔ ۱۵ بھارتی اہلکار بھی اپنے بیانات کے ذریعے ان الزامات کو تقویت دے رہے ہیں۔ مثلاً نیویارک میں تعینات بھارتی کاؤنسل جنرل سندیپ چکرورتی ایک بیان میں کھل کر یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ ’’کشمیر میں بھی ’اسرائیل ماڈل‘ کی نقل کی جائے‘‘۔ ۱۶
آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ -اے کے خاتمے پر اسرائیلی ردعمل وہی تھا جو ایک قابض ریاست کا ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی سفیر رون مالکا نے بھارتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’’ہمارے نزدیک یہ معاملہ بھارت کی سرحدوں کے اندر کا ہے۔ چونکہ یہ ہندستان تک ہی محدود ہے، اس لیے ہم اسے ہندستان کا داخلی معاملہ سمجھتے ہیں‘‘۔ ۱۷ بالکل اسی طرح جیسے اسرائیل اپنے ظالمانہ طرزِ عمل پر پردہ ڈالنے کے لیے جمہوری لبادہ اوڑھ لیتا ہے، اور ساتھ ہی سفیر صاحب نے بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیا اور بھارت کے ساتھ دوستی کا اعادہ کیا۔
اسرائیل کی جانب سے دور و نزدیک کے علاقوں میں فلسطین پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں تو معمول ہیں، لیکن بھارت بھی کشمیر میں اسرائیل مخالف اور فلسطین پسند حلقوں کو دبانے کی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے۔ اگرچہ پی ایل او (PLO) کی قیادت خصوصاً یاسر عرفات ماضی میں بھارت کو اپنا ہمدرد قرار دیتے آئے ہیں، لیکن کشمیری شروع سے ہی فلسطین پر اسرائیلی قبضے کو کشمیر پر بھارتی قبضے کے مماثل سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیریوں اور فلسطینیوں کے درمیان باہمی یکجہتی کا ایک گہرا رشتہ پایا جاتا ہے۔ فلسطینی بھی کشمیری جدوجہد آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔
ہندستان اور اس کے دفاعی ادارے کشمیر یوں کے فلسطین پسند جذبات کو بھارت مخالف جذبات سمجھتے ہوئے انھیں بزور طاقت دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً ۲۰۱۴ء میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں بھارتی پولیس نے ایک نوجوان سہیل احمد کو شہید کردیا تھا۔ مئی ۲۰۲۱ء میں فلسطینیوں نے اسرائیلی نوآبادیات کے خلاف احتجاج شروع کیا، تو بھارتی سرکار نے کشمیر میں ۲۱ کارکنوں کو اس لیے گرفتارکر لیا کہ وہ اس احتجاج کی حمایت کر رہے تھے۔ کشمیریوں کو مزید خبردار کرنے کے لیے کشمیری پولیس نے سوشل میڈیا پر بیان بھی جاری کیا کہ ’’فلسطین کی کشیدہ صورتِ حال کو کشمیر میں حالات خراب کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے‘‘۔ ۱۸
اپنے مشترکہ مصائب کو دیکھتے ہوئے کشمیری اور فلسطینی حریت پسندوں نے اپنی جدوجہد میں مماثلت تلاش کرنا شروع کر دی ہے۔ وہ اب پہچاننے لگے ہیں کہ ان کے خلاف استعمال ہونے والی ٹکنالوجی قابض ریاستوں کے تزویراتی تعلقات سے منسلک ہے۔ مثال کے طور پر ۲۰۲۱ء میں ’فلسطین ایکشن‘ (Palestine Action) نامی تنظیم نے ’ایلبیٹ سسٹمز‘ (Elbit Systems) نامی ایک اسرائیلی اسلحہ ساز کمپنی کے خلاف برطانیہ میں مہم چلائی تھی کیونکہ اس کمپنی کے کارخانے برطانیہ میں ہیں۔ اپنی ویب سائٹ پر فلسطین ایکشن کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کے خلاف احتجاج کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کی بنائی ہوئی ٹکنالوجی کشمیریوں کے خلاف استعمال ہوتی ہے۔
کشمیری اور فلسطینی عوام کا اتحاد ہمیں ایک اور موقعے پر بھی نظر آیا جب ۲۰۲۳ء میں بھارت نے ’جی۲۰ ‘کے صدر کے طور پر ’جی ۲۰ ‘اور ’وائے ۲۰ ‘کے اجلاس کشمیر میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ دنیا بھر سے تعلق رکھنے والی آٹھ سول سوسائٹی تنظیموں نے مشترکہ طور پر ان اجلاسوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا، جن میںنیو یارک سے تعلق رکھنے والی فلسطینی تنظیم Within our Lifetime بھی شامل تھی۔
اسرائیلی موساد کے ہاتھوں کریم کی تفتیش کی طرح کشمیریوں اور فلسطینیوں کی اندرون و بیرون ملک مشترکہ جدوجہد بھی بھارت۔اسرائیل رشتے کو واضح کرتی ہے۔ ان دو ریاستوں کے نظریات اور مفادات مشترک ہیں اور یہی چیز ان کو قریب لے آئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اسلحے، سرمائے اور بیانیے کا اشتراک ہر گزرتے دن کے ساتھ دونوں ملکوں میں آمریت پسندی اور ظلم کو مزید تقویت پہنچا رہا ہے۔
حواشی
۱- رپورٹ: India’s War Crimes in Kashmir: Violence, Dissent & the War on Terror ، اسٹوک وائٹ انوسٹی گیشن، ۲۰۲۲ء، ص۲۸
۲- پی آر کمارا سوامی،India's Recognition of Israel, September 1950، مشمولہ Middle Eastern Studies، شمارہ ۳۱، ۱۹۹۵ء
۳- آزاد عیسیٰ، Hostile Homelands:The New Alliance Between India and Israel پلوٹو پریس، لندن، ۲۰۲۳ء
۴- ایضاً، ص ۳۴
۵- شیرہیور، The Privatisation of Israeli Security ،پلوٹو پریس، لندن، ۲۰۱۸ء
۶- نیوو گورڈن،The Pditical Economy of Israel's Homeland Security/Surveillance Industry ، ۲۰۰۹ء، ص۳
۷- محمد جنید، From a Distance Shore to War at Home: 9/11 and Kashmir،مشمولہ: South Asian Review، شمارہ ۴۲/۴، ۲۰۲۱ء، ص۴۱۷
۸- ایضاً، ص۴۱۹
۹- آزاد عیسیٰ، ایضاً، ص ۴۷
۱۰- مضمون: ، India Lacks Killer Instinct،مشمولہ:The Times of India، ۲۳جولائی ۲۰۰۹ء
۱۱- ایضاً
۱۲- اندرانی پاگچی، India, Israel Elevate Their Ties to Strategic Partnership، مشمولہ: The Times of India ، ۱۶جولائی ۲۰۱۷ء
۱۳- شاراڈویس اور جورے فان برگن، India Spy Agency Bought Hardware،مشمولہ: Organized Crime and Corruption Project، ۲۰؍اکتوبر ۲۰۲۲ء
۱۴- ایس چتورویدی، I am a Troll: Inside the Secret World of The BJP's Digital Army،جگرناٹ بکس، نئی دہلی، ۲۰۱۶ء
۱۵- رپورتاژ، India Replicating Israeli Model in Kashmir ،مشمولہ: The Express Tribune، یکم اکتوبر ۲۰۲۲ء
۱۶- رپورٹ، Anger Over India's Diplomat Calling for Israel Model in Kashmir، الجزیرہ، ۲۸نومبر ۲۰۱۹ء
۱۷- محمد صالح ظافر، Israel Announces Support to India on IHK ، اخبار The News، ۷ستمبر۲۰۱۹ء
۱۸- Religions Preacher Arrested after Parying for Palestine،اخبار، Outlook India، ۱۵مئی ۲۰۲۱ء
پروفیسر ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی صاحب کی کتاب کتابیات اقبال اقبالیاتی دنیا میں غیرمعمولی علمی اضافہ ہے۔ ڈاکٹر ہاشمی نے اپنی زندگی اقبالیات کی تفہیم کے ابلاغ اور فروغ کے لیے وقف کیے رکھی ہے۔ انھوںنے اقبالیات کے متنوع موضوعات پر کئی کتابیں لکھیں، لیکن کتابیات اقبال کو ان کی زندگی بھر کی علمی تحقیق اور جستجو کا ثمر قرار دیا جا سکتا ہے۔ علم کے حصول کے باب میں دو پہلو بہت اہم ہیں: ایک علم کیا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ علم کہاں ہے؟ ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کی کتاب کتابیات اقبال دوسرے سوال کا شافی جواب ہے، جو دنیا کی اکتالیس زبانوں میں چھ ہزار سے زائد کتب، رسائل اور تحقیقی مقالات پر مشتمل ۱۷۳۲ صفحات پر محیط ہے۔
کتابیات اقبال بلاشبہہ اقبالیاتی ادب کا ایسا ذخیرہ ہے، جو اہل علم اور اقبالیات کے محققین کے لیے اقبالیات کی متنوع جہتوں پر موجود تحقیقی مواد تک رسائی کا مستند ذریعہ ہے۔ کتابیات نگاری کی روایت کا آغاز مسلم دنیا سے ہی ہوا۔ اگر اس تناظر میں ہم کتابیات اقبال کو دیکھیں تو اس کا شجرۂ نسب حاجی خلیفہ کی کشف الظنون اور ابن ندیم کی الفہرست سے ملتا ہے۔ اقبالیات کا کوئی محقق مستقبل میں کتابیات اقبال سے مستغنی نہیں ہو سکے گا۔
کتابیات اقبالکے لیے مواد کہاں کہاں سے لیا گیا؟ خود ڈاکٹر ہاشمی صاحب کے بقول انھوں نے فٹ پاتھ سے لے کر اعلیٰ علمی مراکز تک، جہاں بھی ان کو رسائی میسر ہوئی، کتابیات اقبال کے مواد کے حصول کے لیے تگ و دو کی (ص۱۷)۔ اس دوران انھوں نے کتابیات نگاری کے اس بنیادی اور آفاقی اصول کو ہمیشہ پیش نظر رکھا کہ کتابیات نگار کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ کون سی کتاب موافقانہ ہے یا مخالفانہ، اپنی نوعیت میں اہم ہے یا غیر اہم۔ انھوںنے کتابیات کے زمرے میں آنے والے ہر مواد کو اپنی کتاب کا حصہ بنایا (ص۲۵)۔
کتابیات اقبالپر اتنا پھیلاہوا کام بلاشبہہ یہ ایک ادارے کے کرنے کا تھا، لیکن ڈاکٹرہاشمی نے فردِواحد ہوتے ہوئے ادارے کی سطح کا یہ کام تنِ تنہا انجام دیا، اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اتنا بڑا منصوبہ بغیر اغلاط کے مکمل کرنا خود ایک بہت بڑا علمی کارنامہ ہے، جسے ڈاکٹر ہاشمی علامہ اقبال ہی کا فیضان قرار دیتے ہیں (ص ۴۰)۔
کتابیات اقبالمیں علامہ اقبال کی سوانح، فکر و فن، فلسفہ، شخصیت اور شاعری کی مختلف جہات سے متعلقہ مواد کو گیارہ زمروں کے تحت شامل کیا گیا ہے:
۱- تصانیفِ اقبال۲-تراجم اقبال۳-کتب ِحوالہ۴-سوانحی کتابیں۵-فکر و فن پر تحقیق و تنقید۶-جامعاتی تحقیق۷-تشریحاتِ اقبال۸-منظوم کتابیں۹-متفرق کتابیں ۱۰-رسائل و جرائد کے اقبال نمبر۱۱-منسوباتِ اقبال/متعلقاتِ اقبال
کتابیات اقبالجیسے بڑے منصوبے میں متعلقہ مواد کے کلی احاطے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اقبالیاتی ادب ایک روز افزوں شعبہ ہے، جس میں ہر روز کسی نہ کسی تحریر اور تصنیف کا اضافہ ہورہا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے نہ صرف یہ کہ اس میں وہ تمام مواد شامل کیا ہے، جس تک ان کی رسائی ہو سکی بلکہ اس کے ساتھ اس پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا کہ اس کتاب میں کیا شامل نہیں ہے اور کتاب کے دیباچے میں انھوں نے اس نکتے کی وضاحت کر دی:
محققین کے لیے کتابیات اقبال نہ صرف اقبالیاتی مواد تک رسائی کا مستند ذریعہ ہے، بلکہ ان کی تربیت کا سامان بھی رکھتی ہے۔ تاحال اُردو کی دنیا میں کتابیات نگاری میں یکسانیت کا حامل کوئی معیاری اسلوب متعارف نہیں کروایا جا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ کتابیات اقبال میں شامل کتب، رسائل اور تحقیقی مقالات کے جائزے سے یہ پہلو سامنے آتا ہے کہ اردو میں شائع ہونے والی تحقیقی کتب میں حوالے کے طریق، ناشر، مصنف، مضمون نگار، سالِ اشاعت اور کسی بھی کتاب کو اقبالیات کے زمرے میں شامل کرنے یا نہ شامل کرنے کے حوالے سے کئی سہو اور تسامحات نظر آتے ہیں۔ ان تسامحات کا ازالہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب اُردو تحقیق میں کتابیات نگاری کا یکسانیت کا حامل ایسا اسلوب اختیار کر لیا جائے، جو نہ صرف اردو میں تحقیق و تصنیف کرنے والے تمام شعبہ جات کے محققین کی ضروریات اور علمی تقاضوں کو پورا کرتا ہو بلکہ وہ کتابیات نگاری کے بین الاقوامی طے شدہ معیارات سے بھی ہم آہنگ ہو۔ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب نے اقبالیات پر شائع ہونے والی کتب میں کتابیات نگار ی اور حوالہ جات سے متعلق اس طرح کے تسامحات کی نہ صرف نشاندہی کی ہے بلکہ ان کا حل اور بہتر متبادل بھی پیش کیے ہیں ۔
کتابیات اقبالکے جملہ تحقیقی اور فنی محاسن اور امتیازات کے باعث اقبالیات کا کوئی محقق اب اس سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ یہ کتاب نہ صرف اقبالیات پر موجود دنیا کی اکتالیس زبانوں میں لکھی گئی، کتب اور تحریروں تک رسائی کا ذریعہ ہے بلکہ اردو دان طبقے کے لیے دنیا کی ان زبانوں میں ہونے والے اقبالیاتی تحقیقی کام کا تعارف بھی ممکن ہو گیا ہے۔ جیسا کہ خود ڈاکٹر صاحب نے لکھا ہے کہ زیر نظر کتابیات کی تیاری میں راقم کا خاصا وقت صرف ہوا ہے۔ اس کا محرک علامہ اقبال سے وابستگی و دل بستگی ہے، اور ایک طرح کی علمی لگن کا جذبہ بھی.... میں اسے علامہ کا فیضان سمجھتا ہوں کہ اقبال پر ایک ایسی جامع کتابیات تیار ہوگئی کہ اردو کے کسی اور ادیب یا شاعر کے بارے میں ایسی جامع اور تفصیلی و توضیحی کتابیات اردو توکیا، غالباًانگریزی میں بھی نہیں ملتی۔ اُمید ہے کہ تحقیقِ اقبالیات کے مختلف منصوبوں اور کاموں میں یہ کتابیات معاون و رہنما ثابت ہوگی۔(ص۴۰)
کتابیات اقبال سے اقبالیات کے میدان میں تکرار کا دروازہ بھی بند ہو جائے گا کیونکہ اکثر ایک ہی موضوع پر کئی مصنّفین، تحقیقی ادارے اور جامعات تحقیق کروا رہے ہوتے ہیں۔ کتابیات اقبال اس مکرر مشقت کو ختم کر دے گی اور پہلے سے مختلف موضوعات پر ہونے والی تحقیق کی روشنی میں محققین کے لیے ممکن ہو گا کہ وہ اقبالیات پر تحقیق کے نئے گوشوں سے تعارف حاصل کریں۔ ۱۹۷۷ء سے اب تک ڈاکٹر صاحب کی اس کتاب پر مسلسل محنت بتاتی ہے کہ کتابیات اقبالان کی نصف صدی سے زیادہ اقبالیات کے ساتھ وابستگی، شغف اور تحقیق و جستجو کا نتیجہ ہے۔ ۱۹۸۸ء میں اقبال اکادمی کی طرف سے ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کو سونپا جانے والا یہ تحقیقی منصوبہ اقبال اکادمی ہی سے شائع کیا جانا تھا لیکن کچھ اسباب کے باعث کتاب اقبال اکادمی پاکستان سے شائع نہ ہو سکی، اور ’ـنور دیدہ اش روشن کند چشم زلیخا را‘ کے مصداق کتابیات اقبالکی ’اشاعت اقبال بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیق و مکالمہ‘ (IRD)، اسلام آباد سے عمل میں آئی۔
اسلام خالص توحیدی مذہب ہے، جو اللہ کے سوا سرے سے کسی کو معبود ہی نہیں مانتا اور نہ اس بات کا قائل ہے کہ اللہ نے کسی کے اندر حلول کیا ہے، یا وہ کسی مادّی مخلوق کی شکل میں اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ خانۂ کعبہ کو اگر غیرمسلموں نے نہیں دیکھا ہے تو اس کی تصویریں تو بہرحال انھوں نے دیکھی ہی ہیں۔ کیا وہ راست بازی کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بُت ہے جس کی ہم پرستش کر رہے ہیں؟ کیا کوئی شخص بہ درستیٔ ہوش و حواس یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ چوکور عمارت اللہ ربّ العالمین کی شکل پر بنائی گئی ہے؟ رہا حجر اَسود کا بوسہ، تو اُسے بُت پرستی کے قبیل کی کوئی چیز سمجھنا تو اور بھی زیادہ نادانی کی بات ہے۔ حجراسود ایک چھوٹا سا پتھر ہے، جو خانۂ کعبہ کی چاردیواری کے ایک کونے میں لگا ہوا ہے۔ مسلمان اُس کی طرف رُخ کرکے سجدہ نہیں کرتے، بلکہ خانۂ کعبہ کا طواف اس مقام سے شروع کرکے اسی مقام پر ختم کرتے ہیں، اور ہر طواف پر اسے بوسہ دے کر، یا اس کی طرف اشارہ کرکے شروع کرتے ہیں۔ اس کا آخر بُت پرستی سے کیا تعلق ہے؟
اب رہی یہ بات کہ دُنیا بھر کے مسلمان خانۂ کعبہ ہی کی طرف رُخ کرکے کیوں نماز پڑھتے ہیں؟ تو اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ یہ مرکزیت اور تنظیم کی خاطر ہے۔ اگر تمام دُنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک مرکز اور ایک رُخ متعین نہ کردیا گیا ہوتا تو ہر نماز کے وقت عجیب افراتفری برپا ہوتی۔ انفرادی نمازیں ادا کرتے وقت ایک مسلمان کا منہ مغرب کی طرف ہوتا تو دوسرے کا مشرق کی طرف، تیسرے کا شمال کی طرف اور چوتھے کا جنوب کی طرف۔ اور جب مسلمان نمازِ باجماعت کے لیے کھڑے ہوتے تو ہرمسجد میں ہرنماز سے پہلے اس بات پر ایک کانفرنس ہوتی کہ آج کس طرف رُخ کرکے نماز پڑھی جائے۔ یہی نہیں بلکہ ہرمسجد کی تعمیر کے وقت ہرمحلّے میں یہ جھگڑا برپا ہوتا کہ مسجد کا رُخ کس طرف ہو؟ اللہ تعالیٰ نے ان سارے امکانات کو ایک قبلہ مقرر کرکے ہمیشہ کے لیے ختم کردیا۔ اور قبلہ اُسی جگہ کو بنایا جسے فطرتاً مرکزیت حاصل ہونی چاہیے تھی، اور خدائے واحد کی پرستش کے لیے دُنیا میں سب سے پہلا معبد وہیں بنایا گیا تھا۔(’رسائل و مسائل‘، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۱، عدد۲، نومبر ۱۹۶۳ء، ص ۶۱-۶۲)