مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۲۵

لگتا ہے کہ جمو ں و کشمیر میں تاریخ کا پہیہ گھوم پھر کر وہیں پہنچ جاتا ہے۔ اقتدار کی کرسی پر کوئی بھی بیٹھے، اختیارات ہمیشہ کہیں اور سمٹ جاتے ہیں۔ کبھی بندوق برداروں کا خوف تھا، مگر آج لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ، خفیہ ایجنسیاں اور ہندو قوم پرستوں کے نیٹ ورک نے وہی کردار سنبھال لیا ہے۔ عام لوگوں کے لیے جینے، بولنے اور سوچنے کی جگہ تنگ تر ہوتی جا رہی ہے۔ 

ایسے میں جب گذشتہ سال اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوا تو عوام میں ایک نئی امید جاگی۔ لوگوں کو لگا کہ شاید اب ایک عوامی حکومت قائم ہوگی، جو کم سے کم سانس لینے کی گنجائش فراہم کرے۔ 

ان انتخابات میں، بالکل ۱۹۹۶ء کی طرح، ’نیشنل کانفرنس‘ کو سبقت حاصل ہوئی۔ ۹۰ رکنی اسمبلی میں اس نے ۴۲ نشستیں جیتیں۔ اس کی اتحادی کانگریس کو چھ سیٹوں پر کامیابی ملی۔ وادیٔ کشمیر کی ۴۷ میں سے ۳۵ نشستیں ’نیشنل کانفرنس‘ نے جیتیں،جب کہ جموں کی ۴۳ میں سے سات نشستیں حاصل کیں۔ بی جے پی جموں خطے میں ۲۹ نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بنی۔ ان نتائج نے ایک طرف دہلی کو سکون دیا کہ کوئی مزاحمتی جماعت اقتدار میں نہیں آئی، مگر دوسری طرف کشمیری عوام کے لیے یہ ایک ایسے موقع کے طور پر دیکھے گئے، جہاں وہ اپنی انفرادیت، آبادیاتی شناخت اور کھوئی ہوئی خودمختاری کے احساس کو دوبارہ بحال کر سکتے تھے۔ 

مگر ایک سال گزرنے کے بعد وہ تمام اُمیدیں دھندلی پڑ چکی ہیں۔ عمر عبداللہ کی قیادت میں بننے والی حکومت کے پاس اقتدار تو ہے، مگر اختیار نہیں۔ ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو جب انھوں نے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا، تو یہ تصور تھا کہ ایک عشرے سے زیادہ مرکزی حکمرانی کے بعد اب قدرے جمہوری دور کا آغاز ہوگا۔ بہت سے لوگ اسے نئی صبح کہہ رہے تھے۔ لیکن آج، ایک سال گزرنے کے بعد، وہی لوگ اعتراف کر رہے ہیں کہ شاید کشمیر کی تاریخ میں یہ سب سے بے اختیار حکومت ہے۔ 

سینئر صحافی مسعود حسین لکھتے ہیں: عمر عبداللہ کی مخالفت حلف لینے سے پہلے ہی شروع ہوگئی تھی۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ جب انھوں نے ہچکچاتے ہوئے انتخابی دوڑ میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو ان پر طنز کیا گیا:’’نہ نہ کرتے، ہاں کر دی‘‘۔ اب جب ایک سال گزر گیا ہے تو وہ جموں و کشمیر کے سب سے کمزور وزرائے اعلیٰ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں: ’’وہ ایک ’آئینی مجسمہ‘ ہیں، جن کے اردگرد طاقت کے سارے بٹن کسی اور کے ہاتھ میں ہیں‘‘۔ 

اصل مسئلہ ڈھانچے کا ہے۔ یونین ٹیریٹری کے نظام میں لیفٹیننٹ گورنر (LG) اعلیٰ ترین انتظامی اتھارٹی ہے۔ وہ افسران کی سالانہ خفیہ رپورٹیں لکھتا ہے۔ تمام بڑے فیصلوں کے لیے اس کی منظوری ضروری ہے۔ بیوروکریسی عملاً اس کے سامنے جواب دہ ہے، نہ کہ منتخب وزیراعلیٰ کے سامنے۔ افسران جانتے ہیں کہ ان کے تبادلے، ترقی اور مراعات کا دارومدار راج بھون پر ہے، اس لیے وہ سیاسی قیادت کے احکامات کو ترجیح نہیں دیتے۔ کئی بار وزیراعلیٰ دفتر سے جاری احکامات بھی محض فائلوں میں دب جاتے ہیں۔ 

ایک سینئر بیوروکریٹ نے نجی گفتگو میں کہا:’’یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں وزیراعلیٰ کے دستخط کا وزن کم اور ’ایل جی‘ کی خاموشی کا اثر زیادہ ہے‘‘۔ عمر عبداللہ کے اقتدار کا پہلا سال اسی توازن کی تلاش میں گزرا ہے، مگر نتیجہ صفر رہا۔ کئی بار اجلاس بلانے کے بعد افسران شریک نہیں ہوئے۔ وزیراعلیٰ دفتر کو خود خط لکھنے پڑے کہ متعلقہ سکریٹری کیوں غیر حاضر ہیں؟ 

مارچ ۲۰۲۵ء تک کابینہ نے جو فیصلے کیے، ان میں سے متعدد آج تک راج بھون کی منظوری کے منتظر ہیں۔ حکومت کی مشاورتی کونسل کو ایک طرح سے ’عارضی کابینہ‘ بنا کر رکھا گیا ہے، جس کے فیصلے نافذ نہیں ہو سکتے جب تک لیفٹیننٹ گورنر مہر نہ لگائے۔ یہ وہی تاثر ہے جسے عمر عبداللہ خود بھی کئی بار اشاروں کنایوں میں ظاہر کر چکے ہیں۔ انھوں نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا: ’’ہم فیصلہ تو کرتے ہیں ،مگر عمل درآمد کا اختیار نہیں‘‘۔ 

یہی نہیں، عمر عبداللہ اپنے قریبی مشیر ناصر اسلم وانی کو باضابطہ تعینات نہیں کرسکے۔ ایڈووکیٹ جنرل، جسے وزیراعلیٰ نے برقرار رہنے کے لیے قائل کیا تھا، راج بھون کی زبانی ہدایت پر واپس نہیں آیا۔ حتیٰ کہ عمر عبداللہ کو پیرس کے ایک سرکاری دورے کو منسوخ کرنا پڑا کیونکہ کلیئرنس نہیں ملی۔ حالانکہ یہ دورہ ’ٹورازم فیسٹیول‘ (سیاحتی فروغ میلے) کے لیے تھا، تاکہ بیرونی سیاحوں کو کشمیر کی طرف دعوت دی جائے۔ دہلی کے ایک عہدیدار نے بعد میں تبصرہ کیا: ’’جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ کی حیثیت اب کسی ریاستی وزیر سے زیادہ نہیں رہی‘‘۔ 

اقتدار کے دھارے کہاں ہیں؟ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ امن و امان، پولیس، اینٹی کرپشن بیورو، آئی اے ایس افسران کی تقرریاں، حتیٰ کہ معمول کی انتظامی تبدیلیاں بھی راج بھون کے کنٹرول میں ہیں۔ وزارت داخلہ نے پولیس فورس کا پورا مالی بوجھ اپنے بجٹ میں منتقل کر دیا ہے۔ بیوروکریٹس کے لیے راج بھون حکم ہے اور وزیراعلیٰ محض مشورہ۔ 

’جموں و کشمیر اسٹیٹ پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن‘، جو ایک منافع بخش ادارہ ہے، اب بھی بیوروکریٹس کے زیر کنٹرول ہے۔ آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز اکیڈمی، جو کبھی کشمیری شناخت کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب وزارت سے باہر ہے۔ شیرکشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسے اہم ادارے میں بھی ڈائریکٹر وزیراعلیٰ کو نہیں بلکہ براہ راست لیفٹیننٹ گورنر کو رپورٹ کرتا ہے۔ اردو، جو سرکاری زبان تھی، اب ہندی اور انگریزی کے دباؤ میں آچکی ہے۔ عمرعبداللہ نے وعدہ کیا تھا کہ سو دن میں کلچر پالیسی لاگو کریں گے، مگر وہ فائل ابھی تک راج بھون کے پاس پڑی ہے۔ 

یہ وہی منظرنامہ ہے جسے کئی لوگ ’جمہوری فریب‘ کہتے ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو موجود ہے، مگر فیصلہ سازی کے قابل نہیں۔ ’پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ نے بھی بیان دیا کہ نیشنل کانفرنس ایک رسمی حکومت بننے کے خطرے میں ہے جو علامت تو ہے مگر جوہر نہیں۔ مرکز کے ساتھ نرمی اور تعلقات کی سیاست نے بھی کوئی فائدہ نہیں دیا۔ عمر عبداللہ نے ہمیشہ ٹکراؤ سے بچنے کی پالیسی اپنائی۔ انھوں نے نہ سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرح احتجاج کیا، نہ کجریوال کی طرح عدالتی لڑائیاں لڑیں، مگر دہلی نے اس شائستگی کو کمزوری سمجھا۔پھر ریاستی درجہ کی بحالی پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 

کئی مواقع پر عمر عبداللہ کو سرکاری تقریبات میں نظرانداز کیا گیا۔ ۱۳ جولائی کو انھیں شہداء کے قبرستان جانے کی اجازت نہیں دی گئی، وہ اگلے دن اکیلے گئے۔ مرکزی وزراء کے ساتھ دوروں میں وہ پیچھے کھڑے دکھائی دیے۔ ایک ویڈیو میں ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کے لیڈر اور اپوزیشن لیڈر سنیل شرما افسران کو بریفنگ دیتے دکھائی دیے، جو عام طور پر وزیراعلیٰ کا کام ہوتا ہے۔ نائب وزیراعلیٰ کو بھی سیکیورٹی اور سفر کے مسائل کا سامنا رہا۔ یہ سب مظاہر اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ عمرعبداللہ حکومت محض برائے نام ہے۔ 

پہاڑی بولنے والے طبقے کو شیڈولڈ قبائل میں شامل کرنے سے ریزرویشن کا توازن بگڑ گیا ہے۔ اب تقریباً ۷۰ فی صد سرکاری نوکریاں مخصوص کیٹیگریز کے لیے مختص ہیں۔ اوپن میرٹ سکڑ گیا ہے اور نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ جون ۲۰۲۵ء میں پیش کی گئی وزارتی سب کمیٹی کی رپورٹ پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ حکومت کے اہداف میں جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن کی ایک ہزار ایک سوبیس تقرریاں،ایس ایس بی کی ۵ہزار ۸ سو ۵۳ اور ۷۵ ہمدردی کی بنیاد پر ملازمتیں شامل تھیں، مگر ان میں معمولی پیش رفت ہے۔ 

سیب کی فصل کے دوران جب قومی شاہراہ تین ہفتے بند رہی، ہزاروں ٹرک پھنس گئے۔ سیب سڑ گئے اور معیشت کو ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ عمرعبداللہ نے کہا کہ اگر اختیار ان کے پاس ہوتا تو وہ ایک دن میں سڑک کھول دیتے، مگر یہ ان کے اختیار میں نہیں تھا۔ 

تاہم، اتنے دبائو کے باوجود کچھ مثبت اقدامات بھی ہوئے: حکومت نے نجی اسکولوں سے مشاورت کے بعد ۲۰۱۹ء سے پہلے کا تعلیمی کیلنڈر بحال کیا۔ سرکاری بسوں میں خواتین کے لیے نشستیں مخصوص کی گئیں۔ غریب لڑکیوں کی شادی کی امداد بڑھا کر ۷۰ ہزار روپے کر دی گئی۔ خاندان کے اندر زمین کی منتقلی پر اسٹامپ ڈیوٹی ختم کر دی گئی، اس سے رجسٹریشن کی آمدنی بڑھی۔ 

اسی طرح مقامی چھوٹے کاروباروں کے لیے ۳۰ فی صد سرکاری خریداری مختص کرنے کی پالیسی زیر غور ہے، جس میں خواتین اور پسماندہ طبقے کے اداروں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ لیکن یہ سب اقدامات اسی احساس کے سائے میں ہیں کہ وزیراعلیٰ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ 

ریاستی درجہ کی بحالی پر عمر عبداللہ کا موقف واضح ہے، مگر عملی پیش رفت نہیں۔ وہ بارہا کہتے رہے کہ یہ ان کا مرکزی انتخابی وعدہ تھا، مگر نئی دہلی نے اب تک کوئی مثبت اشارہ نہیں دیا۔ سابق مالیاتی افسران کے مطابق، حکومت نے ری آرگنائزیشن ایکٹ کی شق ۸۳(۱) استعمال کرنے کا موقع گنوا دیا، جس کے تحت مرکز سے ٹیکسوں میں حصہ مانگا جا سکتا تھا۔ یہ سیاسی طور پر ایک مضبوط اشارہ ہوتا مگر حکومت نے خاموشی اختیار کی۔ 

جنرل سیلز ٹیکس کے نظام نے ریاستی مالیاتی آزادی مزید محدود کر دی ہے۔ اب زیادہ تر ترقیاتی اسکیمیں مرکزی فنڈز سے چلتی ہیں۔ بجٹ دراصل دہلی کی توسیع بن گیا ہے۔ عمرعبدﷲ حکومت کا مالی دائرہ اختیار اتنا محدود ہے کہ وہ اپنے منصوبے آزادانہ طور پر طے نہیں کر سکتی۔ 

پھر اس دوران دو مرتبہ وادیٔ کشمیر میں بڑے پیمانے پر کتابوں پر پابندی عائد کی گئی، جماعت اسلامی سے کچھ بھی نسبت رکھنے والے اسکولوں کا گلا گھونٹا گیا، کئی جگہ ماورائے عدالت لوگوں کو جان سے مارا گیا، بڑے پیمانے پرگرفتاریاں کی گئیں، تشدد کے واقعات تو معمول بنے رہے، بعض جگہ جائیدادیں ضبط بھی کی گئیں اور کئی جگہ بلڈوزروں سے تعمیرات زمین بوس کی گئیں۔ 

یہ سب حالات مل کر اس احساس کو جنم دیتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں جمہوریت محض ایک چہرہ ہے، جس کے پیچھے مکمل انتظامی کنٹرول مرکز کے ہاتھ میں ہے۔ اس نئے نظام میں وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ مشورہ دے سکتی ہے، مگر فیصلہ نہیں۔ راج بھون حکم دیتا ہے، مگر جواب دہی سے آزاد ہے۔ 

عمر عبداللہ کا سیاسی طرزِعمل ہمیشہ شائستگی اور دلیل پر مبنی رہا ہے۔ مگر یہ سلجھا ہوا طرزِ سیاست ایک ایسے سخت بیوروکریٹک نظام کے سامنے ناکام دکھائی دیتا ہے، جہاں نرم لہجہ کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مخالفین کہتے ہیں کہ انھیں زیادہ جارحانہ رویہ اپنانا چاہیے تھا، ورنہ دہلی حکومت انھیں محض نمائشی چہرے کے طور پر استعمال کرتی رہے گی۔ 

پچھلے ایک سال میں عوامی سطح پر مایوسی بڑھ گئی ہے۔ جو لوگ ووٹ ڈالنے نکلے تھے، وہ اب کہہ رہے ہیں کہ شاید مرکز نے انتخابات کروا کر دنیا کو صرف یہ دکھانا چاہا کہ کشمیر میں جمہوریت بحال ہو گئی ہے، حالانکہ عملی طور پر کچھ نہیں بدلا۔ نیشنل کانفرنس کے کارکن برملا اعتراف کرتے ہیں کہ:’’ہمارے لیڈر کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت نہیں۔ ہم نے لوگوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے مستقبل کے فیصلے خود لیں گے، مگر اب فیصلے وہی لوگ کر رہے ہیں جنھیں ووٹ نہیں ملا‘‘۔ 

جموں و کشمیر کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ نیشنل کانفرنس، جو دہلی اور سرینگر کے درمیان پل سمجھی جاتی تھی، اب دونوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ دہلی کے لیے وہ قابلِ قبول ہے مگر مفید نہیں، اور وادی کے عوام کے لیے وہ اپنی ہے مگر بے بس۔ 

عمر عبداللہ حکومت کا پہلا سال ایک ایسی مثال بن چکا ہے، جو ۲۰۱۹ء کے بعد کے انتظامی نظام کی تمام خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے۔ حکومت کے پاس آئینی جواز تو ہے، مگر اثر و رسوخ نہیں۔ راج بھون کمانڈ رکھتا ہے مگر جواب دہی نہیں۔ ان دونوں کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جس نے عوامی اعتماد کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ 

عمر عبداللہ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ’’کئی ایسے شعبے ہیں جہاں منتخب نمائندوں کو فیصلہ کرنا چاہیے، لیکن ہم ابھی تک اس اختیار کے منتظر ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ دراصل پورے سال کی داستان ہے۔ 

کشمیر کے عوام، جنھوں نے گھٹن بھرے پانچ برسوں کے بعد ووٹ ڈالا، آج ایک بار پھر وہی سوال لیے کھڑے ہیں کہ جمہوریت آخر کہاں ہے؟ اگر منتخب وزیراعلیٰ بھی محض دستخط کرنے والا ربڑ سٹمپ رہ گیا ہے تو اس نظام کو جمہوری کہنے کا مطلب کیا ہے؟ 

عمر عبداللہ کی حکومت ایک امید کے طور پر شروع ہوئی تھی مگر اب وہ ایک علامت بن گئی ہے، ایسی علامت جو بتاتی ہے کہ جموں و کشمیر میں اقتدار عوام کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ مرکز کی بیوروکریسی کے شکنجے میں ہے۔ جمہوریت کا جسد موجود ہے مگر روح سے خالی ہے۔ اور یہی اس حکومت کا سب سے بڑا المیہ ہے۔یہ وہ کشمیر ہے جہاں عوام کو وعدے تو بار بار ملتے ہیں، مگر اختیار کبھی نہیں۔ جہاں ووٹ ڈالنے کے بعد بھی فیصلہ وہی کرتا ہے جو سرینگر میں نہیں، دہلی میں بیٹھا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر وہیں لوٹ آئی ہےجہاں اقتدار تھا مگر اختیار نہیں۔

یہ دو سال پہلے کی بات ہے، ۵ سے ۸ مئی ۲۰۲۳ء کے دوران پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں افغانستان کے امارت اسلامی کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کا دوسرا باقاعدہ دورہ ہوا تھا۔اس دوران سہ فریقی مذاکرات بھی منعقد ہوئے،جن میں چین ،پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ افغان وزیر خارجہ کا یہ پانچ روزہ دورہ اس لحاظ سے اہم تھاکہ اقوام متحدہ نے اس کی رسمی طور پر منظوری دی تھی۔اس لحاظ سے یہ ایک اہم سفارتی پیش رفت تھی۔ 

امیر خان متقی نے اپنے دورے میں دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کیں، جن میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے ان کی ملاقات بہت اہم رہی۔ ’تحریک طالبان پاکستان‘ (TTP) کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی تخریبی کارروائیوں کو افغانستان میں قائم مراکز سے جوڑا جاتا ہے۔ ان افسوس ناک واقعات اور حملوں کے نتیجے میں افواج پاکستان،پولیس کے جوانوں اور عوام کا مسلسل جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے۔ اس دورے میں پاکستانی حکام نے امارت اسلامی افغانستان سے اس کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔اس بارے میں افغان وزیر خارجہ نے چیف آف آرمی اسٹاف سے جو مذاکرات کیے، اس کی تفصیلات تو معلوم نہیں ہو سکیں البتہ ان کا یہ بیان سامنے آیا، جس میں انھوں نے کہا تھا، ’’امارت اسلامی نے حکومت پاکستان کے مطالبے پر ٹی ٹی پی کی قیادت کو مذاکرات کے لیے آمادہ کیا اور آئندہ بھی اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے‘‘۔ 

موجودہ سال یہ دورہ پھر متوقع تھا اور امیر خان متقی کو ماسکو میں کانفرنس سے پہلے یا بعد میں پاکستان اور انڈیا دونوں ملکوں کا دورہ کرنا تھا لیکن چونکہ ان کا نام اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ اس فہرست میں شامل ہے جن پر فضائی سفر کی پابندی ہے، اس لیے ان ممالک کو اس پر اس پابندی کے خاتمے کے لیےدرخواست دینی تھی۔ پاکستان کی درخواست منظور نہ ہو سکی اس لیے وہ یہاں نہ آئے اورروس کی مددسےانڈیا جانے کی اجازت مل گئی اور وہ نئی دہلی چلے گئے۔ اس دوران ۷؍اکتوبر کو پاکستان کے قبائلی علاقے اور کزئی میں تخریب کاری کا خونیں واقعہ ہوا، جس میں گیارہ فوجی افسروں اوراہل کاروں کی شہادت ہوئی۔ پاکستان نے ۱۰؍ اکتوبر کو جوابی کارروائی کرتے ہوئے کابل اور پکتیامیں ٹی ٹی پی کے ممکنہ عسکری مراکز پر فضائی حملے کیے، جن میں ٹی ٹی پی کے اہم افراد کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا۔ اس وقت افغان وزیر خارجہ دہلی میں موجود تھے اور وہیں سے انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور جوابی کارروائی کا اعلان کیا۔ چنانچہ ۱۳؍ اکتوبر کو افغان فورسز نے پاک افغان سرحد کے ساتھ مختلف مقامات پر پاکستانی چیک پوسٹوں پر حملے کیے،جن کے جواب میں پاکستانی مسلح افواج نے افغان ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس طرح دونوں طرف سے شہادتوں، ہلاکتوں اور عسکری پوسٹوں پر قبضوں کے دعوے کیے گئے اور ثبوت کے طور پر ویڈیو فوٹیج بھی دکھائی گئیں۔ 

۱۲؍ اکتوبر کو پاکستانی عسکری تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل جنرل احمد شریف نے بھی پشاور میں ایک اہم پریس کانفرنس کی، جس میں انھوں نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا سرکاری موقف پیش کیا۔ یادرہے پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ہیں، جو نائب وزیراعظم بھی ہیں لیکن افغانستان کے حوالے سے زیادہ بیانات وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف ہی کے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ جنرل احمد شریف نے ٹی ٹی پی کی تمام تخریبی کارروائیوں کا ذمہ دار امارت اسلامیہ افغانستان کو قرار دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سخت کارروائیوں کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے خود پاکستان ہی کی سابقہ سیاسی اور عسکری قیادت سمیت انڈیا کو بھی اس افسوس ناک صورتِ حال کا ذمے دار قرار دیا ۔اس پریس بریفنگ میں انھوں نے پاکستان میں گذشتہ ۱۰ برسوں میں ہونے والے تخریب کاری کے واقعات، جانی نقصانات اور پاک فوج کی جوابی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے تخریب کاروں کے اعداد و شمار بھی پیش کیے، جن میں کافی تعداد میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔ 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگی صورتِ حال اور انسانی جانوں کے ضیا ع کو محسوس کرتے ہوئے کئی دوست ممالک جن میں ایران، قطر ،سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات، ترکی اور چین شامل ہیں، انھوں نے دونوں اطراف کی قیادت سےحملے روکنے کی اپیل کی۔ جس کے نتیجے میں ۱۶؍اکتوبر کو سیز فائر کا اعلان ہو گیا اور دوحہ، قطر میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا آغاز بھی ہوا ۔ اس سیز فائر کے ۴۸ گھنٹے مکمل ہونے کے بعد اس میں توسیع کر دی گئی اور اعلان ہوا کہ مذاکراتی عمل مکمل ہونے تک یہ پابندی جاری رہے گی۔ البتہ اس دوران پاکستانی وزیر دفاع کے جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری رہا اور سوشل میڈیا پر بھی پاکستان کی مقتدر حلقوں میں شامل شخصیات افغان حکومت کے خلاف سخت تبصرے کرتے رہے، جن میں مولانا طاہر اشرفی صاحب بھی شامل ہیں۔ یہ موصوف گذشتہ اَدوار حکومت میں بھی سرکاری وسائل کا بھرپور استعمال کرتے رہے ہیں، جب کہ افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کاایک انٹرویو سوشل میڈیا پرچلا، جس میں انھوں نے پاکستان کے فضائی حملوں پر افسوس کااظہار کیا ۔افغان سوشل میڈیا پر پاکستانی فضائی حملے سے ہلاک ہونے والوں کی نماز جنازہ دکھائی گئی جس میں مقامی نوجوان کرکٹرزشامل تھے۔ 

برادر مسلم پڑوسی ملک افغانستان کے حوالے سے پاکستان کا سرکاری موقف یہ ہے کہ ’’پاکستان نے گذشتہ اَدوار میں افغان قوم و ملت پر جو احسانات کیے تھے، وہ اس کا بدلہ چکانے کے بجائے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف مسلح جارحیت کا مظاہرہ کر رہا ہے، اور پراکسی وار میں ملوث ہے، جس کا علاج یہ ہے کہ طاقت کا بھرپور استعمال کر کے اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے‘‘۔  

چونکہ اس سال ماہ مئی میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستانی افواج نے اپنے دیرینہ دشمن انڈیا کے خلاف چار روزہ مختصر جنگ میں ایک تاریخی فتح حاصل کی تھی، جس کی باز گشت پوری دنیا میں سنائی دی اور اس کے بعد دنیا کی واحد سوپر پاور امریکا نے پاکستانی وزیراعظم شہبازشریف اور پاکستانی آرمی چیف کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے اپنے ہمراہ رکھا ہے۔ اس لیے پاکستانی قیادت کے خیال میں دیگر پڑوسی ممالک بشمول افغانستان کو اس کا لحاظ کرنا چاہیے اور پاکستانی مطالبات کو درست تصور کرتے ہوئے اس کو پورا کرنا چاہیے۔ اس طرح ڈپلومیسی کی جگہ طاقت کے استعمال کی یہ پالیسی، افغانستان کے تناظر میں کتنی کامیاب ہوتی ہے اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا، لیکن اس حکمت عملی پر ملک کے اندر سے سوالات اٹھنا شروع ہو چکے ہیں ۔ 

مولانا فضل الرحمٰن صاحب صدر جمعیت علمائے اسلام پاکستان نے جنرل احمد شریف کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور فوجی حکمت عملی پر مبنی راستے کا انتخاب یکسرمسترد کر دیا ۔ اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن صاحب نے بھی جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ تجویز کیا ۔ سابق وزیراعظم جناب عمران خان نے اڈیالہ جیل سے اپنے بیان میں پیش کش کی ہے کہ اگر ان کو پیرول پر رہا کیا جائے تو وہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ 

گذشتہ دنوں جماعت اسلامی کا ایک اعلیٰ سطحی وفدجناب پروفیسر محمد ابراہیم خان کی قیادت میں افغانستان گیا تھا جہاں انھوں نےامارت اسلامی افغانستان کے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیراُمور مہاجرین اور وزیر تجارت سے ملاقاتیں کی تھیں، جس میں اس موضوع پر بھی تفصیل سے گفتگو ہوئی اور پاکستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی تخریبی سرگرمیوں اور جانی و مالی نقصانات کے تدارک کے لیےامارت اسلامی کے ممکنہ کردار پر تجاویز پیش کیں۔  

ان ملاقاتوں میں افغان وزیروں کا موقف یہ تھا کہ ’’ہم کسی بھی پاکستان مخالف تحریک کا حصہ نہیں بن سکتے۔ پاکستان ہمارے لیے دوسرے گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ البتہ ٹی ٹی پی کے وابستگان کو لگام دینے کے لیے ہم ایک طویل المعیاد منصوبے پر عمل کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے کئی اقدامات کا ذکر کیا، جس کا علم پاکستانی حکام کو بھی ہے۔ انھوں نے امید ظاہرکی کہ ’’آئندہ ایک،دوبرسوں میں یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ہماری پوری کوشش ہے کہ کوئی بھی افغان شہری جہاد میں شرکت کی نیت سے پاکستان نہ جائے کہ امیر المومنین مُلّاہیبت اللہ اخوندزادہ کی یہ ہدایت ہے۔ گذشتہ عرصے میں کئی سوافغان شہریوں کو اس جرم میں قید بھی کیا گیا ہے‘‘۔ 

افغان قائدین کی بات یقینا اپنی جگہ درست ہوگی، لیکن پاکستان میں ٹی ٹی پی کی بڑھتی ہوئی دہشت گردانہ سرگرمیوں اور پاکستانی شہریوں، پاک افواج اور پولیس کے اہل کاروں کی مسلسل شہادتوں نے پورے ملک میں شدید غم و غصے کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ چونکہ اس وقت ملک کی قیادت اور پالیسی سازی میں فوج کا کردار بہت زیادہ مرکزیت کا حامل ہے، اس لیے انھوں نے معاملات نمٹانے میں طاقت کا مظاہرہ ضروری سمجھا۔ اب، جب کہ صورتِ حال میں بہتری آگئی ہے اور دوست ممالک کی مدد سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے فائر بندی اور پھر  صلح نامے پر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دستخط بھی ہوگئے ہیں، جہاں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف اور افغان وزیر دفاع مُلّا یعقوب جوافغان طالبان تحریک کے بانی مُلّا محمد عمر [۱۹۶۰ء- ۲۰۱۳ء] کے صاحبزادے ہیں ،نے اپنے ممالک کی نمائندگی کی۔معاہدے کی تقریب میں ترک وزیر اور قطرانٹیلی جنس چیف عبد اللہ بن محمد الخلیفہ کی موجودگی میں ہاتھ بھی ملا لیے ہیں۔ امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات معمول پر آ جائیں گے اور جنگی صورتِ حال ختم ہوجائےگی۔ اس وقت بھی طورخم ،چمن اور دیگر دو ملکی راہداریوں پر ہزاروں مال بردار گاڑیاں اور لوگ راستے کھلنے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔ اسی طرح باہمی تجارت میں تاجروں کو سخت نقصان کا سامنا ہے۔اس معاہدے کی تفصیلات اورعمل درآمد کا میکنزم ۲۵؍اکتوبرکوترکی میں طے کرنے پر اتفاق ہوا۔ 

 پاک افغان قضیہ میں انڈیا کا کردار 

حسب معمول اس دوران پاکستان کے مقتدر حلقوں اور سوشل میڈیا میں اس پورے معاملے میں انڈیا کے کردار کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ افغانستان اور انڈیا کے پاکستان مخالف اتحاد اور مشترکہ ایجنڈےکی با ت ہوئی۔ یہ حقیقت ہم پر واضح رہنی چاہیے کہ مختلف گذشتہ ا َدوار میں انڈیا نے افغانستان کی حکومتوں میں گہرا اثر و نفوذ پیدا کیا تھا ۔روسی مداخلت کے دوران انڈیا ان چند آزاد ممالک میں شامل تھا، جس نے ببرک کارمل کی روسی کٹھ پتلی حکومت (دسمبر ۱۹۷۹ء-اپریل ۱۹۸۶ء) اور ڈاکٹر محمد نجیب اللہ کی حکومت (مئی ۱۹۸۶ء-اپریل ۱۹۹۲ء)، حامدکرزئی کی حکومت (جون ۲۰۰۲ء-ستمبر ۲۰۱۴ء) کو تسلیم کیا تھا۔ اس کے بعد اشرف غنی کے دور (ستمبر۲۰۱۴ء- اگست ۲۰۲۱ء) میں امریکی سرپرستی میں انڈیا نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی، جس کی مالیت دو بلین ڈالر سے تجاوز کرگئی تھی۔ اسی دوران انڈین سفارت خانہ اور قونصل خانے پاکستان مخالف سرگرمیوں کی آماجگاہ بن گئے تھے اور ٹی ٹی پی کے علاوہ بلوچ علیحدگی پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کی جاتی رہی۔ اس دور میں انڈیا، تحریک طالبان افغانستان کو اپنا بڑا دشمن تصور کرتا تھا۔دوسری طرف طالبان، انڈین منصوبوں کو نشانہ بناتے تھے اور جہاد کشمیر کی حمایت کرتے تھے۔ اس لیے جب ۱۵؍ اگست ۲۰۲۱ء کو کابل میں امارت اسلامی کی حکومت بحال ہوئی تو انڈیا نے اس کو اپنی شکست سمجھتے ہوئے نہ صرف اپنا سفارت خانہ اور قونصل خانے بند کردیئے، بلکہ ایئر انڈیا کی پروازیں بھی بند کرد یں اور انڈین سرمایہ کار بھی اپنا کاروبار سمیٹ کر واپس چلے گئے۔ 

 یہی وہ وقت تھا جب پاکستان نے طالبان کی آمد کو اپنی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیااور ان سے بہت سی توقعات وابستہ کر لیں ۔گذشتہ تین برسوں میں جب پاک افغان تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا، تواس کو بھانپتے ہوئے انڈین سفارت کاروں نے دوبارہ موجودہ افغان حکومت سے اپنے تعلقات استوار کیے، جس پر پاکستان میں رائے عامہ نے تشویش کا اظہار کرنا شروع کردیا۔ افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے موجودہ دورہ انڈیا کے وقت اور پاکستان مخالف پریس کانفرنس نے افغانستان اور انڈیا کے تعلقات میں ایک ایسا عروج پیدا کیا، جس کی توقع خود انڈین حکمت کاروں کو بھی نہیں تھی۔ 

یہ سوال پیدا ہوا کہ امیر خان متقی نے دہلی میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف اعلان جنگ کیوں کیا؟ یہ تو نہیں معلوم لیکن بہر کیف یہ ایک غیر دانش مندانہ اقدام تھا ۔ پاکستان اور انڈیا کے درمیان شدید تلخی کے اس دور میں افغان حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔یہ کام کابل میں موجود کوئی بھی اہم شخصیت کر سکتی تھی۔ افغان وزیر دفاع کوئی ایسا بیان دے سکتے تھے، جو انھوں نے دیا بھی، مگر دہلی میں بیٹھ کرپاکستان مخالف بیانات دینا سخت تلخی اور پاکستان میں عوامی سطح پر ردعمل کا سبب بنا۔ 

 پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔تعلقات میں بحالی دونوں کی ضرورت ہے۔دونوںممالک کے مفادات مشترکہ ہیں ۔ انڈیا، پاکستان کی جگہ نہیں لے سکتا، جس کی سرحد افغانستان کے ساتھ نہیں ملتی ۔یہ بات انڈین تجزیہ کاروں نے بھی کہی اور وہ خود بھی طالبان پر اعتماد کرنے کے لیے تیار نہیں۔ وہ پاک افغان تعلقات میں بگاڑاور تناؤ پر خوشی کے شادیانے تو بجا رہے ہیں، لیکن اس حقیقت سے واقف ہیں کہ بہر صورت انڈیا، پاکستان کے مقابلے میں افغانستان کی مدد کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ 

پاکستان کے سماجی رابطوں پر اس وقت افغان مخالف موقف میں ایک اہم نکتے کے طور پر جوحضرات ’افغان، انڈین گٹھ جوڑ‘ کو پیش کررہےہیں، ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ کسی بھی درجے میں پاک افغان تعلقات کو سدھارنا چاہتے ہیں تو اس طرزِعمل اور طرزِبیان کوترک کر دیں۔ افغانستان میں پاکستان کے حق میں موجود حلقہ اس کو پسند نہیں کرتا۔ وہ پاک افغان تعلقات کے شاخسانے میں انڈین کردار کا تذکرہ قبول نہیں کرتا ۔خود میں نے بیسیوں بار افغانستان کا سفر کیا ہے اور افغان عوام کی ایک بڑی تعداد پاکستان سے تعلق کو دینی، تاریخی، لسانی اور جغرافیائی بنیادوں پر ضروری اور لازمی تصور کرتی ہے اور اس پس منظر میں انڈیا کہیں فٹ نہیں ہوتا ۔ 

۱۹۸۳ء سے افغانستان میں پیش آنے والے حالات، واقعات اور تغیرات سے واقفیت رکھتا ہوں۔اس بارے میں میری یہ معروضات ہیں: 

افغانستان قبائلی معاشرت پر مشتمل ایک مسلم ملک ہے، جوگذشتہ۵۰ برس میں نظریاتی و تہذیبی کش مکش کا مرکز رہا ہے۔اس دوران وہاں بہت ساری حکومتیں بنتی اور گرتی رہی ہیں۔لیکن کم ازکم تین بار افغانستان میں اسلامی نظام کی حامی قوتیں برسراقتدارآئی ہیں۔ ۱۹۹۲ء میں مجاہدین کی حکومت اور ۱۹۹۶ء میں طالبان حکومت اور۲۰۲۱ء میں دوبارہ امارت اسلامی کی صورت میں افغان طالبان کی حکومتوں کا قیام آج کی دنیا میں انوکھا تجربہ رہا ہے۔ پہلی بار جہاد افغانستان کے طویل دور کے بعد قائم مجاہدین کی حکومت کو تنظیموں اور حزبوں کی آپس کی لڑائی کروا کر ختم کیا گیا۔ دوسری بار طالبان حکومت کو ختم کرنے کے لیے ۲۰۰۱ء کے آخر میں القاعدہ اوراسامہ بن لادن کو بہانہ بنا کر امریکا اور ناٹو افواج افغانستان پرچڑھ دوڑیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب تیسری بار قائم اس حکومت کو ختم کرنے کے لیے، کیا پاکستان کی جنگی مشینری کو استعمال کیا جائے گا؟ 

 یہ سوال پاکستان افغانستان دونوں ممالک کے پالیسی سازوں کے لیے بھی اور اُمت مسلمہ کا درد رکھنے والے دانش وروں اور تجزیہ نگاروں کے لیے بھی غوروفکر کا چیلنج پیش کرتاہے۔ دُوربیٹھے ممالک چاہے وہ امریکا ہو یا انڈیا، پاکستان اور افغانستان میں جنگ وجدل سے انھیں کوئی فائدہ ہو یا نہ ہو، مگر دونفع ضرور ملیں گے: پہلا یہ کہ دونوں ملک، تعمیروترقی کے کام ٹھپ کرکے باہم لڑیںگے اور اسلحے کی کھپت کا بازار گرم ہوگا۔ دوسرا یہ کہ خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر، نقصان تو خربوزے کا ہوگا، یعنی افغان مسلمان مارا جائے یا پاکستانی مسلمان مارا جائے، اُن کی بلا سے___ نقصان تو مسلمان کا ہوگا! 

۱۹۴۱ء میں تقریباً تیرہ ماہ میری زندگی کے یادگار دور کے طور پر دارالاسلام ، پٹھان کوٹ میں گزرے۔ چودھری نیاز علی خان بڑے زمین دار اور محکمہ انہار کے ایک نیک دل ریٹائرڈ آفیسر تھے۔ ہوشیار پور میں اُن کی جدّی اراضی تھی اور گورداسپور میں اُن کی ذاتی زرعی اراضی تھی۔ قومی خدمت کا جذبہ اُن کے دل میں موجزن تھا۔ اُنھوں نے علامہ محمداقبال کے مشورے سے ایک علمی اور تعلیمی ادارے کا ایک عظیم منصوبہ بنایا اور اپنی ذاتی ملکیت سے ایک وسیع رقبہ اور کچھ مزید زرعی اراضی خرید کر۶۴؍ایکڑ اراضی اس مقصد کے لیے وقف کردی۔ یہ ادارہ آگے چل کر ’دارالاسلام‘ کے نام سے معروف ہوا۔’دارالاسلام‘ صحیح معنوں میں ایک مکمل کالونی تھی، جس میں طلبہ کے لیے ایک درجن کے قریب کمروں پر مشتمل وسیع ہوسٹل مع لوازمات، اساتذہ کے لیے دو دو کمروں پر مشتمل چھ مکانات، پرنسپل اور انتظامی عملے کے لیے دو کوٹھیاں، کارخانے کے لیے وسیع ہال بنایا گیا تھا۔ ایک چھوٹی سی خوب صورت مسجد بھی تھی جس سے ملحق مدرسہ و دفتر کی عمارت تھی۔ اس میں دو کمروں کے علاوہ لائبریری اور دارالمطالعہ تھا۔ 

’دارالاسلام‘ کی یہ آبادی پٹھان کوٹ سے چھ کلومیٹر پہلے راوی سے نکلنے والی نہر کے ایک طرف پُرفضا مقام پر واقع تھی۔ اُس کے شمال میں ریلوے لائن تھی۔’ دارالاسلام‘، سرنااسٹیشن کے بیرونی سگنل کے سامنے دو ڈھائی فرلانگ [۴۴۰ میٹر فاصلے]پر واقع تھا۔  

یہ تاریخی حقیقت سب کے علم میں ہے کہ جماعت اسلامی کے بانی و امیر سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ’دارالاسلام ‘چودھری نیاز علی خان کی دعوت پر ہی حیدرآباد دکن سے ترکِ سکونت کرکے پنجاب آئے تھے۔ ابتداء میں وہ اپنے ساتھیوں سمیت ’دارالاسلام‘ میں قیام پذیر ہوئے، مگر تھوڑے عرصے کے بعد چودھری صاحب اور ان کے درمیان کچھ [اُمور پر]اختلاف پیدا ہوگیا تو سیّدصاحب نے ’دارالاسلام‘ سے لاہور نقل مکانی کرلی۔ چند ماہ ایسے ہی گزر گئے۔ پھر چودھری صاحب نے مرزا عبدالحمید صاحب کو دعوت دی کہ وہ یہاں کے انتظامات سنبھال لیں۔ مرزا صاحب وہاں تشریف لے گئے، مگر شہری دُنیا سے دُور ایک ایسے الگ تھلگ مقام میں وقت گزارنااور شب وروز کی شہری مصروفیات ترک کر کے خلوت کی زندگی بسر کرنا کہاں آسان ہوتاہے۔ اُنھوں نے چودھری صاحب کو آمادہ کیاکہ مجھے [نذراحمد] بطورِ قائم مقام ناظم یہاں بلا لیں، چنانچہ میں نے ’دارالاسلام‘ کے لیے رخت ِ سفر باندھ لیا۔ یہاں میری مصروفیات اور ذمہ داریوں کا مختصر نقشہ یہ رہا: 

میرے شب و روز 

اُس وقت ’دارالاسلام‘ میں چند بیرونی طلبہ مقیم تھے۔ میں اُن کا معلّم ، ہوسٹل انچارج، مسجد کا خطیب، دفتر میں چودھری نیاز علی خان صاحب کا نائب، اکائونٹنٹ، ماہنامہ دارالاسلام کا نائب مدیر، پروف ریڈر، مزید برآں طلبہ کو ہنر سے آراستہ کرنے کے لیے قائم شدہ جفت سازی کے کارخانے اور کپڑے کی کھڈیوں کا نگران تھا۔ اس مختصر بیان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ شب و روز کیسے گزرتے ہوں گے۔ 

چودھری نیاز علی خان کی رہائش نہر کے اُس پار ایک قلعہ نما وسیع و عریض مکان میں تھی، اُسے ’قلعہ جمال پور‘کہتے تھے۔ ابتدائی ایام میں میرے کھانے پینے کا انتظام وہیں تھا۔ عصر کے بعد باہر لان میں چودھری صاحب، اُن کے صاحبزادے اور آنے جانے والے مہمان بیٹھ جاتے تھے اور ایک مجلس سی جم جاتی تھی، جس میں علمی، اصلاحی، سیاسی، غرض ہرموضوع پر گفتگو ہوتی تھی۔ مغرب کے بعد سب ایک میز پر کھانا کھاتے تھے۔ رات کو مَیں ’دارالاسلام‘ آجاتا تھا۔ میں نے ’دارالاسلام‘ میں انتہائی مصروف اور بھرپور زندگی گزاری۔ صبح اُٹھ کر نمازِ فجر اوردرسِ قرآن اور اُس کے بعد ایک طویل واک (walk)۔ اس میں طلبہ کے ساتھ ڈیڑھ دوکلومیٹر تیز دوڑ بھی ہوتی تھی۔ 

’دارالاسلام‘ میں ملک بھر سے مہمانوں کی آمدورفت رہتی تھی۔ اُن میں سے چند ایک کا ذکر: 

  • پروفیسر یوسف سلیم چشتی: اُن سے یہیں پہلی ملاقات ہوئی۔ چشتی صاحب کا قیام چودھری صاحب کی رہائش گاہ میں تھا، لیکن وہ دن کا بیشتر حصہ ’دارالاسلام‘ میں گزارتے اور گھنٹوں لائبریری میں مطالعے میں مصروف رہتے، باقی وقت علمی گفتگو میں صرف ہوتا تھا۔ ’دارالاسلام‘ کی مختصر لائبریری میں بعض بڑی نایاب اور نہایت قیمتی کتب موجود تھیں۔ مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد اور مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال  و البلاغ  کی جلدیں یہیں دیکھیں جو چند ایک پرچوں کے علاوہ مکمل تھیں۔چشتی صاحب کا مطالعہ ہمہ جہت تھا۔ وہ کتاب وسنت، تاریخ، فلسفہ، ادب اور تقابلِ ادیان کے متبحرعالم تھے۔ 
  • عبدالمجید قرشی: عبدالمجید قرشی صاحب ’سیرت کمیٹی‘ پٹی (ضلع لاہور) کے سیکرٹری سے بھی یہیں پہلی بار تعارف ہوا۔ وہ نہایت سادہ مزاج ، سادہ پوش اور سادہ خوراک تھے۔ سردی ہو یا گرمی، کھلی آستینوں کا سفید کُرتا اور سفید تہبند اُن کا لباس تھا۔ زیادہ سردی محسوس ہوتی تو اُوپر ہاف کوٹ پہن لیتے تھے۔ عام طور پر ناشتے کے لیے ایک روٹی جیب میں رکھ لیتے تھے۔ فجر کے بعد کافی دیر ٹہلتے، ایک لقمہ توڑ کر منہ میں رکھ لیتے اور دیر تک چباتے۔ اگر مطالعے یا تحریر میں مصروف ہوتے تو بھی یہی صورت ہوتی۔ ایک روٹی آدھ پون گھنٹے میں ختم کرتے تھے۔ 

موصوف اپنی ذات میں ایک انجمن تھے۔ وہ ’سیرت کمیٹی‘ کے بانی اور مستقل سیکرٹری تھے۔ اُنھوں نے سیرت النبیؐ پر بے شمارمضامین لکھے۔ متعدد چھوٹی بڑی کتابیں تحریر کیں اور شائع کیں۔ وہ سیرت النبیؐ کے جلوس اور جلسوں کے بانی حضرات میں سے تھے۔ اُس دور میں جلوس ایک ہجوم اور ہڑبونگ کی صورت میں نہ ہوتے تھے، بلکہ علما جلوس کی قیادت کرتے، ہرچوراہے پر رُک کر مختصر تقریر ہوتی۔ درود وسلام شرکا کی زبانوں پر ہوتا، غرضیکہ یہ جلوس تبلیغ دین اور سیرت النبیؐ کے تذکار کا دریا ہوتا تھا۔ سیرت کی کتب اور رسائل کے علاوہ قرشی صاحب نے ہفت روزہ ایمان جاری کیا۔ وہ رسالے کے مدیر ، پروف ریڈر اور ناشر تھے۔ وہی چندے کے منی آرڈر وصول کرتے اور ان کا ریکارڈ رکھتے تھے، خود ہی خریداروں کے نام پتے لکھ کر رسالہ ڈاک کے حوالے کرتے تھے۔ 

قرشی صاحب نے درس قرآن شائع کرنے کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ انھوں نے کئی منصوبے شروع کیے، جن میں نہایت اہم منصوبہ اسلامی یونی ورسٹی کے قیام کا تھا۔ 

’دارالاسلام‘ سے مَیں لاہور واپس آیا تو عبدالمجید قرشی صاحب نے بڑے اصرار سے مجھے دعوت دی کہ میں ’سیرت کمیٹی‘ میں اُن کا شریکِ کار ہوجائوں۔ میں نے پس و پیش کی تو انھوں نے اپنی چیک بُک میرے سامنے رکھ دی کہ جس قدر چاہوں، سال بھر کی پیشگی تنخواہ وصول کرلوں۔ لیکن میں ادارہ اصلاح و تبلیغ کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوا۔ وہ یکّہ و تنہا کام کر رہے تھے۔ ایک نوجوان حمیدانور اُن کے ساتھ تھا۔ 

پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ پٹی کا قصبہ ہندستان میں رہ گیا۔ قرشی صاحب نے لاہور ہجرت کرلی، اور میکلوڈ روڈ پر روزنامہ زمین دار  کے دفتر کے قریب ایک متروکہ بلڈنگ میں قیام پذیر ہوگئے۔ یہ پُرآشوب دور تھا جہاں ایک روز کسی نے اُنھیں شہید کر دیا۔ گمان ہے کہ ملازم کا کام ہوگا۔ اُس نے پیسے کے لالچ میں ملک و ملّت کو ایک انتہائی مخلص ہستی سے محروم کر دیا۔ 

  • چودھری افضل حق: قائد احرار چودھری افضل حق صاحب سے بھی میری ملاقات چودھری نیاز علی خان صاحب کے مکان قلعہ جمال پور میں ہوئی۔ وہ اُن کے قریبی عزیز تھے، جو ڈلہوزی جاتے ہوئے چند دن کے لیے اُن کے ہاں ٹھیرے تھے۔ گلا بیٹھا ہوا تھا، لیکن گفتگو پُرجوش انداز میں فرماتے تھے۔ اُن کے اہل خانہ ساتھ تھے۔ اُن کے بیٹے کی عمر اُس وقت دس بارہ سال ہوگی۔ آزادی کی لگن اور انگریز کے خلاف نفرت ان کے دل و دماغ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ 
  • محمد صدیق مستری:محمد صدیق مستری صاحب، محترم چودھری صاحب کے مہمان تھے، لیکن اُن کا مستقل مسکن قیامِ پاکستان تک ’دارالاسلام‘ کے دو کمروں والے مکان میں رہا۔مستری صاحب اپنے وطن کپور تھلہ میں آٹے کی چکّیوں کے ڈیزل انجنوں کو نصب کرنے اور مرمت کرنے کا کام کرتے تھے۔ آپ جماعت اسلامی کے اوّلین ارکان میں سے تھے۔ 

مستری صاحب کا مطالعہ نہایت گہرا اور وسیع تھا۔ دین اور دین کے تقاضوں پر اُن کی نظر گہری تھی۔ اُن کی زندگی اسلامی تعلیمات کا مظہر تھی۔ وہ انگریز کی حکومت کو طاغوتی نظام سمجھتے اور کسی طور بھی اُس سے تعاون کو جائز نہ سمجھتے تھے۔ اُن کی اہلیہ مالیخولیا کی مریضہ اور اس وہم میں گرفتار تھیں کہ ساری دُنیا اُن کے شوہر کی دشمن ہے۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ وہ اُنھیں نماز کے علاوہ گھر سے باہر ہی نکلنے نہ دیتیں، اور وہ بھی گھڑی دیکھ کر چند منٹ کے لیے۔ اگر مقررہ منٹوں سے کچھ دیر زیادہ ہوجاتی تو لاٹھی ٹیکتی ہوئی مسجد پہنچ جاتیں اور للکارتیں: ’’دشمنوں میں بیٹھے کیا کررہے ہو؟‘‘ 

 خوش قسمتی سے موصوفہ کو مجھ پر کچھ اعتماد تھا۔ میں مستری صاحب کے پاس جابیٹھتا یا وہ میرے پاس تشریف لے آتے۔ اُنھوں نے مجھے الصلوٰۃ معراج المؤمن  (نماز مومن کی معراج ہے) کی لذت سے آشنا کیا۔ نمازِ عشاء کے بعد جب سب لوگ مسجد سے رخصت ہوجاتے تو ہم دونوں دو نفل باجماعت ادا کرتے۔ اس میں وقت ضرور لگتا، لیکن یہ حدیث مبارکہ وارد ہوتی محسوس ہوتی۔ یہ بات قلبی واردات سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کا ذریعہ دو اُمور ہوتے ہیں: ایک یہ کہ نماز کے جملہ الفاظ اور اوراد زبان سے یوںادا کیے جائیں کہ اپنے کانوں تک آواز پہنچے اور شروع سے آخر تک نماز کے الفاظ کے مطالب پیش نظر رہیں۔ مزیدبرآں نماز کی ہرحرکت کا مقصود پیش نظر ہو، یعنی ہم نے کانوں کی لو تک ہاتھ سب سے قطع تعلق کرنے کے لیے بلند کیے ہیں۔ ہم کیوں اور کس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں؟ رکوع میں ہمارا سر کس کے آگے خم ہے، سجدے میں ہم اپنی پیشانی اور ناک کس کے سامنے رگڑ رہے ہیں؟ اور زبان سے ربّی الاعلٰی  کا اقرار کر رہے ہیں۔ 

محمد صدیق مستری گو عرفِ عام میں عالم نہ تھے، لیکن سچ یہ ہے کہ قرآن کریم کے مطالعے کا ذوق اور معنی کی حقیقت تک پہنچنے کا انداز انھوں نے خوب خوب دل نشین کرایا۔ انھوں نے لفظ ’طاغوت‘ پر مجھے ایک مضمون لکھنے کی تحریک دی۔ اس کام میں کئی دن لگے، مگر ’طاغوت‘ کے متعین معنی اور اس کی حقیقت واضح ہوگئی۔ لفظ ’طاغوت‘ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ میں نے مستری صاحب کی تحریک پر یہ تمام آیات ایک کاغذ پر تحریر کرلیں۔ اس کے ساتھ ہی لفظ ’طاغوت‘ کے تمام مشتقات مثلاً طغٰی، طُغیان وغیرہ کی آیات تحریر کیں۔ ان سب آیات کا ترجمہ کیا تو ’طاغوت‘ کا ایک ہی مفہوم اور ایک ہی ترجمہ متعین ہوگیا، یعنی وہ بااختیار، صاحب ِ قوت ، جو اپنے اقتدار کے نشے میں حد سے بڑھ جائے اور سرکش ہوجائے، حکمِ خداوندی کے آگے سر نہ جھکائے۔ اگر ایک لفظ میں مفہوم کو ادا کرنا ہوتو’حد سے بڑھ جانے والا‘ ہوگا۔ یہ مضمون اس وقت کے متعدد علمی جرائد کو بھیجا، بعض نے اسے نمایاں طور پر شائع کیا ۔ 

  • علّامہ محمد اسد (سابق لیوپولڈوئیس):جن دنوں میرا قیام ’دارالاسلام‘ میں رہا، یہ دوسری عالمگیر جنگ کا زمانہ تھا۔ حکومت ِ برطانیہ نے ہر اُس شخص کو قیدوبند میں ڈالا، یا نظربند کیا ہوا تھا جس پر اُسے ذرا بھی شک تھا۔ علّامہ محمداسد (سابق لیوپولڈوئیس) ایک یہودی خاندان سے کٹ کر مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ گو، اب سارا عالمِ اسلام ان کا وطن تھا، خاص طور پر سعودی عرب کی شہریت اُنھیں حاصل تھی، محض اس ’تہمت‘ پر کہ وہ آسٹریا میں پیدا ہوئے، اُنھیں نظربند کردیا گیا‘۔ 

چودھری نیاز علی خان صاحب سے اُن کے گہرے مراسم تھے۔ علامہ صاحب کی اہلیہ اُن کی بیٹی بنی ہوئی تھیں۔ آخرکار جب وہ رہا ہوئے تو چودھری صاحب اور اُن کے رفقا کے ساتھ بندہ بھی امرتسر ریلوے اسٹیشن پر اُن کا استقبال کرنے والوں میں شامل تھا۔ وہ اپنی بیگم اور بیٹے کے ساتھ چودھری صاحب کے ساتھ قلعہ جمال پور میں مقیم رہے۔ اب چودھری صاحب کی کوٹھی کے باہر بعدعصر جمنے والی مجلس میں علامہ اسد روحِ رواں ہوتے تھے۔انگریزی زبان میں اُن کی عالمانہ گفتگو نہایت توجہ سے سنی جاتی تھی۔ اُن کے حسین چہرے پر مختصر سی چھدری داڑھی نہایت بھلی لگتی تھی۔ ایک دن ایک صاحب نے [اُن کی]داڑھی پر بے ہنگم سوال کردیا۔ علامہ صاحب جوش میں آگئے۔  فرمایا: ’’مسٹر! اگر میری داڑھی کے دو بال بھی ہوتے تو میں جان سے زیادہ اُن کی حفاظت کرتا‘‘۔ 

علامہ اسد نے یہیں بخاری شریف کا انگریزی میں ترجمہ تشریح کے ساتھ شروع کیا۔ ’دارالاسلام‘ میں اس کے لیے ایک مختصر سا پریس بھی لگایا۔ قیامِ پاکستان تک چار پارے طبع ہوسکے تھے۔ محترم علامہ اسد نے ایک ایک لفظ کی تحقیق کا حق ادا کیا۔ مولانا عطاء الرحمٰن ایک جیّد عالم ’دارالاسلام‘ میں مستقل مقیم تھے۔ اگر کسی لفظ پر علامہ اسد کو اشتباہ ہوتا تو بلاتکلف اُن سے رجوع کرتے تھے۔ دوسری طرف علامہ اسد نے طباعت اور اشاعت کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ’دارالاسلام‘ کے قیام کے دوران میں محترم علامہ اسد سے میں نے بہت سی باتیں سیکھیں۔ 

  • چودھری نیاز علی خان:چودھری صاحب نہایت مخلص، ایثار پیشہ اور باکردار بزرگ تھے۔ بڑھاپے میں نوجوانوں سے زیادہ نوجوان تھے۔ صبح سے شام تک سرگرمِ عمل رہتے تھے۔ کبھی اُن کے چہرے پر تکان کے آثار نظر نہ آئے۔ اُن کے معمولات کچھ اس نوعیت کے تھے: 

نمازِ تہجد کے بعد قرآن کریم کا مطالعہ کرتے اور ضروری مضامین اور خطوط کے جواب لکھتے۔ نمازِ فجر کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ قرآن کریم کے ترجمے پر کام کرتے تھے۔ وہ ترجمے کا کام اس طرح کرتے تھے کہ اُن کے سامنے بڑے سائزکا ایک رجسٹر ہوتا تھا۔ اس کی پہلی سطر میں قرآن کریم کی آیت چسپاں کرتے، پھر نیچے متعدد مترجمین کے کیے ہوئے تراجم نقل کرتے، اس احتیاط کے ساتھ کہ ہرسطر کا ترجمہ اُسی سطر میں آجائے۔ اُن کی یہ خدمت قرآن کریم پر کام کرنے والوں کے لیے ایک نعمت غیرمترقبہ تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے مترجمین قرآن نے کلام اللہ کی تفہیم میں کتنی محنت کی ہے، اور مفہومِ قرآنی کے قریب تر جانے کی کس قدر کوشش کی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد تاج کمپنی کی طرف سے دس مختلف تراجم پرمشتمل پانچ پاروں کی پہلی جلد شائع ہوئی تھی۔ 

قرآن کریم کے ترجمے سے فارغ ہو کر چودھری صاحب ناشتہ کرتے۔ اُن کا معمول تھا کہ تمام مہمان ناشتے اور کھانے میں ایک میز پر اکٹھے ہوں۔ ناشتے میں توس، انڈا، پراٹھا، مکھن دہی، اور مربّہ ہمیشہ ہوتا تھا۔ دودھ اور چائے اس کے علاوہ ناشتے کا جز ہوتی۔ ناشتے کے بعد چودھری صاحب بالعموم ’دارالاسلام‘ آجاتے۔ اُن کا حلقۂ احباب خاصا وسیع تھا اور خط کتابت اُن کا محبوب مشغلہ تھا۔ اس کے علاوہ حسابات مرتب کرتے، ماہنامہ دارالاسلام کے لیے مضامین کا انتخاب کرتے۔ وہ رسالے میں قرآن کریم کا ترجمہ اور تفسیر اپنے خاص انداز میں بالاقساط لکھ رہے تھے۔ ماہنامہ دارالاسلام میں طبع شدہ پہلا پارہ اور تیسواں پارہ جدا کتابی صورت میں بھی چھپ گیا ہے (ان کا دوسرا ایڈیشن جوہر آباد سے شائع ہوا ہے)۔ چودھری صاحب ادارے کی جزئیات پر نظر رکھتے تھے۔ دوپہر کو کھانے کے وقت اپنے دولت خانے پر واپس جاتے، کھانے اور نمازِ ظہر کے بعد قیلولہ اُن کا معمول تھا۔ عام طور پر دوپہر کے بعد بھی ’دارالاسلام‘ کا چکّر لگاتے تھے۔ 

چودھری صاحب کی مزروعہ اراضی وسیع و عریض تھی۔ جس میں امرود، لوکاٹ، آم اور مختلف پھلوں کے کئی باغ تھے۔ اُن کی نرسری نہایت اعلیٰ درجے کی تھی۔ ملک کے دُور دراز مقامات سے پودوں کے لیے فرمائشیں آتی تھیں۔چودھری صاحب کے بڑے بیٹے چودھری محمد اسلم خان ایگریکلچر میں بی ایس سی کے بعد اسی کام کے لیے وقف ہوکر رہ گئے تھے۔ اُن کے دوسرے بیٹے چودھری محمداعظم خان نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اقوام متحدہ میں بطورِ ماہر معاشیات ملازم ہوئے۔  

چودھری نیاز علی خان صاحب نے مضمون نگاری میں ایک اُپج پیدا کی تھی۔ وہ طویل مضامین کا اختصار اس طور کرتے کہ مضمون کے غیرضروری فقرے اورمترادف الفاظ قلم زد کر دیتے۔ اس طرح نہ مضمون کا تسلسل ٹوٹتا، نہ قاری کو کوئی تشنگی محسوس ہوتی۔ اگر مضمون نگار خود اپنے مضمون کی تلخیص کو پڑھتا تو اسے کسی تبدیلی کا گمان نہ ہوتا تھا۔ 

’دارالاسلام‘ میں میری زندگی کے تیرہ ماہ انتہائی مصروفیت کے تھے۔ رات کو صرف چند گھنٹوں کے لیے کمر سیدھی کرنے کا موقع ملتا تھا اور یہ سب کچھ میں نے اپنے اُوپر اَزخود مسلط کیا ہوا تھا۔ چودھری صاحب نے کبھی کوئی ایسی پابندی مجھ پر عائد نہ کی تھی۔ پٹھان کوٹ سے ہی پُرفضا پہاڑی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، ڈلہوزی کے مشہور پہاڑ کچھ زیادہ دُور نہیں، لیکن اس کے باوجود ایک دو دن کے لیے بھی وہاں جانے کا موقع نہ ملا۔ ’دارالاسلام‘ سے لاہور واپسی کے بعد میں حسب ِ سابق ادارہ اصلاح و تبلیغ کی سرگرمیوں میں مصروف ہوگیا۔ 

لاہور واپسی 

مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ’دارالاسلام‘ سے لاہور آگئے تھے اور یہاں اُنھوں نے ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو جماعت اسلامی کے نام سے ایک دینی و سیاسی تنظیم قائم کردی تھی۔ چودھری صاحب کا اُن سے اختلاف رائے کام کے طریقے سے تھا، کوئی ذاتی مخالفت نہ تھی۔ محسوس ہوتا ہے کہ سیّدابوالاعلیٰ مودودی بھی ’دارالاسلام‘ کے ماحول کو بھولے نہیں تھے۔ چودھری نیاز علی خان صاحب بھی انھیں واپسی کے لیے تحریک دیتے رہتے تھے۔ جماعت اسلامی کے قیام کے بعد سیّدمودودی کو بھی بڑے شہر کی بھیڑ بھاڑ سے کچھ فاصلے پر رہ کر اپنے ساتھیوں کی تربیت کی ضرورت تھی۔ چودھری صاحب اور اُن کے درمیان سلسلہ جنبانی ہوا اور ۱۹۴۲ء کے وسط میں وہ دوبارہ ’دارالاسلام‘ چلے گئے۔ معاملات نبٹانے کے لیے مجھے ایک ماہ مزید ٹھہرنا پڑا۔ یوں مجھے ایک مہینہ مولانا مودودی صاحب کی رفاقت کا موقع ملا۔ 

وقت گزرتا رہا، حالات دوسری عالمی جنگ کے خاتمے پر اس نہج پر آگئے کہ نوآبادیاتی طاقت نے آسودگی اسی میں محسوس کی کہ برصغیر کو آزادی مل جائے۔ قیامِ پاکستان کے بعد چودھری صاحب پہلے لاہور اور پھر جوہرآباد میں قیام پذیر ہوگئے۔ 

چودھری صاحب سے میرے تعلقات 

’دارالاسلام‘ سے آنے کے بعد بھی چودھری صاحب سے میرے تعلقات حسب سابق رہے۔ وہ مجھے خط لکھتے تو ’اخویم حافظ نذراحمد‘ سے مخاطب کرتے۔ ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے بعد انھوں نے لاہور ہجرت کی تو ہرہفتے دو ایک مرتبہ اُن سے ضرور ملاقات ہوتی تھی۔ 

لاہور میں چودھری صاحب کا قیام اپنے داماد رانا جہاں داد خان کی کوٹھی پر تھا۔ وہ ان دنوں ایس ایس پی لاہور تھے۔ میں ایک دن حاضر ہوا تو فرمانے لگے: ’’مجھے رات بھر نیند نہیں آتی، ڈاکٹر محمد مسعود صاحب کے کلینک لے چلو‘‘۔ میں نے وہیں سے ڈاکٹر صاحب کو ٹیلی فون کیا۔ انھوں نے کہا: ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ چودھری صاحب جیسے بزرگ چل کر میرے ہاں تشریف لائیں، میں خود اُن کی خدمت میں حاضر ہوتا ہوں‘‘۔ چودھری صاحب کا جواب تھا کہ کنواں پیاسے کے پاس نہیں جایا کرتا۔ آخر طے پایا کہ چودھری صاحب ہی ڈاکٹر صاحب کے مطب پر جائیں گے۔ 

ڈاکٹر محمد مسعود صاحب نے بڑے احترام سے استقبال کیا۔ علیک سلیک کے بعد بیماری کی بات چھڑی کہ ’رات کو نیند نہیں آتی‘۔ ڈاکٹر صاحب نے استفسار کیا۔ ’کیا ایسی بات تو نہیں کہ آپ کچھ سوچیں اور آپ کے دل کی بات زبان سے نکلے بغیر پوری ہوجائے؟‘ چودھری صاحب نے جواب دیا: ’’یہ بات تو ہے، مثلاً مجھے علامہ اسد کی Islam at the Crossroads کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چند منٹ کے بعد اُس کا ناشر خود لے کر آگیا۔ آج ہی آپ سے ملاقات کے لیے حافظ صاحب کی ضرورت تھی تو بن بلائے یہ خود آگئے‘‘۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ’’آپ کو نیند تو آجائے گی‘‘، لیکن یہ ’کرامت‘ ختم ہوجائے گی۔ چودھری صاحب نے بڑے اعتماد سے فرمایا: ’’میں ایسی کرامتوں کا قائل نہیں‘‘۔ 

اپنے وطن مالوف سے ہجرت کرنا اور ’دارالاسلام‘ جیسے مرکز کو چھوڑنا کوئی معمولی بات نہ تھی، مگر چودھری صاحب کا جذبۂ دعوتِ دین اُسی طرح جوان تھا۔ ایک دن مجھ سے فرمایا: ’’لاہور کے مسلمانوں کو کیا ہوگیاہے؟ اُن کی حمیت و غیرت کہاں گئی؟ عورتوں نے برقع اُتار دیا ہے، بے حجابانہ سڑکوں پر پھر رہی ہیں۔ اگر مجھے کوئی ایسا نوجوان مل جائے جو سٹول اُٹھا کر میرے ساتھ چلے تو میں مال روڈ کے ہرچوک پر کھڑے ہوکر ان کی غیرت کو للکاروں‘‘۔ بالآخر وہ لاہور چھوڑ کر جوہرآباد منتقل ہوگئے۔ 

جوہـر آباد 

یہاں انھیں ہندستان میں اپنی چھوڑی ہوئی جائیداد کے عوض زرعی اراضی اور وسیع قطعات شہری آبادی میں الاٹ ہوئے تھے۔ اپنی رہائش کے لیے انھوں نے بلاک-اے جوہرآباد میں کوٹھی تعمیر کی تھی۔ چودھری نیاز علی خان صاحب نے چند پلاٹ چھوڑ کر اُسی ہلاک کے آخر میں ’دارالاسلام‘ (پٹھان کوٹ) کے عین نمونے پر تعمیرات کیں۔ ظاہر ہے پٹھان کوٹ کے مقابل یہ چھوٹا سا قطعۂ اراضی ہے، لیکن انھوں نے یہاں چھوٹے پیمانے پر ’دارالاسلام‘ تعمیر کردیا۔ اس میں دارالاقامہ بھی ہے، مسجد بھی ہے، دینی تعلیم کے لیے کمرے بھی، مزید برآں ہائی اسکول کی عمارت ہے، لائبریری اور ریڈنگ روم کا وسیع ہال بھی ہے۔ 

بندہ ہرسال جوہرآباد جاتا رہا ہے۔ عام طور پر۱۴؍اگست کو پروفیسر افتخاراحمد چشتی، جوہرآباد کے لیے رفیقِ سفر ہوتے تھے۔مرحوم چودھری نیاز علی خان صاحب کو ہم دونوں سے اس قدر محبت اور قلبی تعلق تھا کہ جوہرآباد دارالاسلام مسجد کی تعمیر کا آغاز ہمارے سالانہ دورے تک مؤخر رکھا۔ ہمیںاس کا قطعاً علم نہ تھا۔ نمازِ فجر کے بعد ہمیں وہاں لے گئے، بنیاد کھدی ہوئی تھی، ایک چٹائی پر بیٹھ کر مجلّہ صدقِ جدید (لکھنؤ)کا ایک مضمون خود پڑھ کر سنایا جو دارالاقامہ اور مسجد کے موضوع پر تھا۔ مجھ حقیر سے فرمایا: ’’چلو مسجد کی بنیاد کے لیے اینٹ رکھ دو‘‘۔میں لرزگیا، اینٹ پکڑ تو لی، لیکن رکھنے کی ہمت نہ ہوئی، تاہم آخر اپنے اس بزرگِ محترم کے اصرار پر پہلی اینٹ رکھی۔ دوسری اینٹ پروفیسر افتخاراحمد چشتی صاحب سے رکھائی گئی، تیسری اینٹ خود رکھی ۔ اللہ اللہ! وہ کس قدر خُردنواز تھے۔ 

 

۲۴ ستمبر۲۰۲۵ء کو ’النہضہ اسلامی پارٹی‘ تاجکستان کی صف اوّل کے رہنما معروف عالم دین علّامہ زبیداللہ روزیق (۱۹۴۶ء-۲۰۲۵ء) تاجکستان کے شہر فاہدات کی جیل میں انتقال کرگئے۔ شیخ روزیق کی عمر۸۳برس کے قریب تھی۔ ’حزب النہضہ‘ ۱۹۷۳ء میں قائم ہوئی۔ اس کی بنیاد حسن البنا شہید، سید قطب شہید، محمد الغزالی، اور سید مودودی کے افکار پر رکھی گئی، مگر یہ جماعت اپنے اندرونی نظام کےلحاظ سے مکمل خود مختار تھی۔ ان شخصیات کی فکر پر قائم تحریکوں سے کوئی رہنمائی اور ہدایات نہیں لیتی تھی۔ بنیادی طور پر تو اس کا سرچشمۂ رہنمائی قرآن و سنت ہی تھا۔ پارٹی کی بنیاد سیّد عبداللہ نوری [۱۹۳۷ء- ۹؍اگست ۲۰۰۶ء] نے ۱۹۹۰ء میں ’استراخان‘ میں رکھی۔ تب اگرچہ اشتراکی روس میں صدر گوربا چوف کی زیرقیادت ’گلاسناسٹ‘ (کشادگی) کا دور تھا، مگر پارٹی کی تشکیل غیرقانونی تھی۔ یہ تاسیس زیرزمین تھی، جب کہ عزم کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ ماسکو کی سامراجی حکومت سے بے زاری اور آزادی کی سمت سفر تھا۔ اس طرح عملاً ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۷ء کے عرصے میں النہضہ، تاجکستان کی آزادی کی جنگ میں سرگرم رہی۔ 

۱۹۹۲ء میں جب سابق کمیونسٹ صدر نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تو پارٹی نے پارلیمنٹ کے سامنے ایک ہفتے تک دھرنا دیے رکھا۔ آخرکار رحمان علی نائیف نے مظاہرین کے مطالبات مان لیے اور اتحادی حکومت قائم ہو گئی۔ مگر اسی سال نائف نے استعفا دے کر ماسکو میں پناہ لینے کی کوشش کی۔ حزب النہضہ نے اکبراسکندروف کی سربراہی میں اتحادی حکومت کا ساتھ دیا۔ لیکن جب ماسکو نے دبائو ڈالا تو اسکندروف بھی اتحادی حکومت کی سربراہی سے مستعفی ہوگیا اور ایک سابق کمیونسٹ صدر بن بیٹھا اور سابق کمیونسٹ فوجی دارالحکومت میں داخل ہو گئے۔ اس طرح ’النہضہ‘ کو سابقہ کمیونسٹ پارٹی کی باقیات پر مشتمل ایک حددرجہ سخت گیر اور استبدادی حکومتی سختیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پارٹی کے بانی سیّد عبداللہ نوری کو فوجی حکومت نے اغوا کیا اور پارٹی کی قیادت کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ یہ بات معروف ہے کہ ۲۰۰۶ء میں سیّد عبداللہ نوری کو زہر دے کر مارا گیا تھا۔ 

جناب زبید اللہ روزیق کا شمار النہضہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں ہوتا تھا۔ اس پارٹی نے  دینی آزادیوں کے دفاع اور جمہوری اصلاح کے لیے بڑی جان دار آواز بلند کی۔ زبید اللہ ۱۹۶۷ء میں کمیونسٹ ریاستی جبر کے باوجود زیرزمین اسلامی تحریک سے وابستہ ہوئے۔ تب تاجکستان پر ماسکو کی حکومت تھی۔ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد ۱۹۹۲ء میں جب یہ تحریک باقاعدہ رجسٹر ہوئی تو زبیداللہ اس کے بانیوں میں شامل تھے۔ وہ پارٹی کے علمی شعبے کے صدر مقرر ہوئے، جس کے ذمے اہل علم کی تیاری تھا۔ لیکن ۲۰۱۳ء میں پارٹی پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں، مگر جناب زبیداللہ اس کے بعد بھی علمی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ اتنی طویل اور مسلسل تحریکی و دینی اور علمی خدمات کی بنا پر وہ ملک میں اسلامی بیداری کی علامت بن گئے تھے۔ 

۲۰۱۵ء میں حکومت نے پارٹی کی بساط مکمل طور پر لپیٹتےہوئے بڑے وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں قائدین اور کارکنان کو گرفتار کیا، شیخ زبیداللہ روزیق ان میں سرفہرست تھے۔ ان پر ’دہشت گردی‘ اور حکومت کا تختہ الٹنے کی فرد جرم عائد کرتے ہوئے ۲۵سال قید کی سزا سنائی گئی۔ اس الزام کو انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے بھی مسترد کیا اور اسے محض اسلامی تحریک مزاحمت کوکچلنے کا اقدام قرار دیا۔ گرفتاری کے ساتھ ہی اُن کو ’فاہدات جیل‘ کی شدید حراست میں رکھا گیا، جو بدترین جیلوںمیں سے ایک ہے۔ 

علّامہ زبید اللہ اپنی گرفتاری سے وفات تک مختلف جسمانی عوارض کے ساتھ قید کی سختیاں صعوبتیں بھی برداشت کرتے رہے۔ جولائی ۲۰۲۰ء میں انھیں جیل کے نہایت تنگ و تاریک سیل میں بند کیا گیا، جہاں شدید تعفن تھا اور کیڑوں مکوڑوں کی بہتات تھی۔ ایسا کھانا دیا جاتا، جو جانوروں کے لیے بھی مناسب نہیں تھا۔ نومبر۲۰۲۱ء میں انھیں دوبارہ دو ماہ کال کوٹھڑی میں مولانا رحمت اللہ رجب کے ہمراہ رکھا گیا۔ 

جولائی ۲۰۲۲ء میںانھیں قیدتنہائی میں رکھا گیا، کہ ان کا جرم دوسرے قیدیوں کو تعلیم دینا قرار پایا۔ اس دوران، ان کے زخم مسلسل رستے رہے۔ انھیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں تھی۔ ظلم وستم اور تشدد کے ان تمام حربوں اور ہتھکنڈوں کا مقصد ان کے عزم وہمت اور صبروثبات کو متزلزل کرنا تھا، مگر وہ اللہ کی مدد سے ثابت قدم رہے۔ 

علّامہ زبیداللہ روزیق کی وفات سے چند روز قبل انھیں جیل کے چھوٹے سے ہسپتال میں منتقل کیا گیا، مگر پھر جلد ہی واپس لا کر جیل میں ڈال دیا گیا۔ اور یہ قدم ڈاکٹروں کی ہدایات کے برعکس اٹھایا گیا تھا۔ یاد رہے، ۲۰۲۴ء میں ایک اور رہنما محمد علی فائزمحمد بھی ۶۵ سال کی عمر میں اسی جیل کے ہسپتال میں جان سے گزر گئے تھے۔ 

’ہیومن رائٹس واچ‘ ۲۰۲۵ء کی رپورٹ کے مطابق ایسی میڈیکل غفلت کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ قیدی سسک سسک کر موت کے منہ میں چلا جائے۔ ایسا ظالمانہ رویہ، اسلامی تحریک کے کارکنوں کے علاوہ دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ بھی روا رکھا جاتا ہے۔ اس وحشیانہ طرزِعمل کے خلاف ہیومن رائٹس واچ نے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔یورپی یونین اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی سخت بیان جاری کیے ہیں جو قیدیوں کو اس طرح مارنے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ پارٹی کے ایسے لاتعداد  قیدیوں کو رہا کیا جائے، جو بغیر کسی عدالتی کارروائی کے برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے عذاب سہ رہے ہیں۔ 

علّامہ زبید اللہ روزیق نے جیل سے اپنے رفقاء کے لیے یہ وصیت بھیجی : 

میری طرف سے احباب کو سلام پہنچا دیجیے اور انھیں بتا دیجیے کہ ہم اپنے عہد پر قائم ہیں۔ الحمدللہ، نہ بدلے ہیں، نہ ڈگمگائے ہیں۔ لہٰذا ،آپ بھی ثابت قدم رہیں۔ ایمان، عزیمت اور استقامت سے اپنا سفر جاری رکھیں۔ ظالم کی حکومت کی زندگی ایک پل پر ہی مشتمل ہوتی ہے! ظلم کو آخرکار ختم ہونا ہے خواہ کتنا طویل ہو جائے!

تاشقند، سمرقند اور بخارا سے اگر کچھ لوگ واقف نہ ہوں تو بخارا کے محدثِ بے مثل امام بخاری رحمہ اللہ کو تو یقینا جانتے ہوں گے۔ یہ تینوں شہر ازبکستان میں واقع ہیں۔ معروف فاتح جنگجو امیر تیمور بھی اسی ملک کے شہر سمرقند میں پیدا ہوا تھا۔ اس ملک نے علم و تحقیق، تدریس و تفسیر اور حدیث و فقہ پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ مغلیہ سلطنت کا بانی ظہیر الدین بابر اسی ملک کے شہر فرغانہ کا باشندہ تھا۔ 

ترکستانی ممالک پر اشتراکی روسی سلطنت (سوویت یونین:USSR) کا قبضہ ہوا تو لٹے پٹے مہاجروں میں سے ایک مہاجر قاری یوسف نےکہوٹہ میں پناہ لے کر وہاں چنبہ محلہ میں پھولوں بھری مسجد تعمیر کی۔ ان قاری صاحب سے ناظرہ قرآن پڑھنے کی مجھے سعادت حاصل ہوئی۔ اُردو ڈائجسٹ کے ۱۹۶۹ء کے شماروں میں معروف ازبک عالم دین اعظم ہاشمی کی داستانِ ہجرت چھپتی رہی۔ ان کے دوبیٹوں میں سے ایک ریڈیو پاکستان کی ازبک عالمی سروس چلاتے تھے۔ دوسرے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن لینگویجز میں ازبک زبان کے استاد تھے، ان سے بھی قریبی رابطہ رہا۔ 

سوویت یونین کی تحلیل پر ۲۹ دسمبر ۱۹۹۱ء کو یہ ملک آزاد ہوا، تو پاکستان نے اس سے سفارتی تعلقات قائم کر لیے۔ ان ایام میں ڈاکٹر محمود احمد غازی رحمہ اللہ دعوۃ اکیڈمی، انٹرنیشنل اسلامک یونی ورسٹی کے ڈائریکٹر جنرل تھے۔ اسی سال وہ نو آزاد ترکستانی ممالک سے چالیس کے لگ بھگ علما کو چندہفتوں کی تربیت کے لیے لائے۔ ڈاکٹر غازی خاموشی سے کام کرتے اور یہی تلقین کرتے کہ کام کی اشاعت ضروری ہو تو کرو، ورنہ خود نمائی کے لیے وہ کام کبھی نہ کرو جس سے مقصد کو نقصان پہنچے۔ انھوں نے ہمارے سامنے سعودی حکومت سے ازبک زبان میں قرآن مجید کے نسخے منگوا کر ازبک مذہبی بورڈ کے حوالے کیے۔  

ماضی کے نو آزاد ازبکستان اور پاکستان کے تعلقات 

آج کا ازبکستان سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ماضی کا ازبکستان بھی سامنے رہے، ورنہ ماضی اور حال میں ربط نہیں ملے گا اور مستقبل پر نظر ڈالنا آسان نہیں ہوگا۔ سوویت یونین تحلیل ہوا تو ترکستانی اور متعدد مشرقی یورپی ممالک آزاد ہو گئے۔ یہ ملک آزاد تو ہو گئے تھے لیکن ان کی ہیئت حاکمہ ماضی ہی کے ریاستی کارندوں اور سوویت فکر پر کھڑی تھی۔ لہٰذا، ان ریاستوں سے ہمارے سرکاری تعلقات کا قیام بڑی احتیاط کا متقاضی تھا۔ پاکستان نے ازبکستان سے بھی فوراً سفارتی تعلقات قائم کیے، جس سے فضائی روابط بھی جڑ گئے۔ تب کے ہمارے اخوانی صدر بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی ڈاکٹر حسین حامد حسان اور ڈاکٹر غازی رحمہم اللہ نے بھی بڑھ چڑھ کر ان ترکستانی ممالک سے قریبی تعلقات قائم کر لیے تھے۔ ازبک اہل علم، حکام اور بالخصوص صدر قازقستان نور سلطان نذر بائیوف سے ان دونوں کے قریبی تعلقات تھے۔ 

نو آزاد ازبکستان پر بھی مطلقًا اشتراکی فکر کی چھاپ تھی۔ مختصر سی لیکن توانا مسلم فکر کا دائرہ نہایت محدود تھا۔ لوگوں کا رہن سہن غالب حد تک مغربی تہذیب کے اشتراکی پنجے میں تھا۔ ادھر حکام نے تمام مقبوضہ مسلم ممالک میں آبادی کی ترتیب چند عشروں میں کلیتاً بدل ڈالی تھی۔ بخارا میں کچھ یہودی صدیوں سے آباد تھے، لیکن سوویت حکام نے سفید فاموں، لامذہب روسیوں، مسیحیوں کے ساتھ یہاں گورے ’اشکنازی یہودی‘ بھی آباد کر دیے۔ چنانچہ نو آزاد سوویت ازبکستان آج کے مستحکم مسلم ازبکستان سے مختلف تھا۔ 

سوویت پنجرے میں پیدا شدہ حبس سے ۷۰ سال بعد لوگوں کو ذرا سی آزادی ملی تو وہ بالکل آزاد ہوگئے۔نئے حاکم چونکہ اشتراکی فکر ہی کے لوگ تھے۔ اس لیے شراب خانوں، رقص گاہوں اور ساز و آواز کی دنیا ویسی ہی آباد رہی۔ چنانچہ اس ’آزادی‘ کے بعد بہت سی روسی نژاد ازبک آوارہ خواتین دیگر ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی آنے جانے لگیں۔ ساتھ ہی آوارہ افراد کی آمد و رفت بھی ازبکستان میں شروع ہو گئی۔ لیکن الحمدللہ متوازی خطوط پر بہت کچھ اس کے برعکس بھی ہو رہا تھا۔  

ازبک زبان کا رسم الخط اور پاکستان  

ازبک زبان بولنے والی آبادی کا اصل حصہ ازبکستان میں، قابل ذکر حصہ افغانستان میں، اور معمولی سا حصہ دیگر پڑوسی ممالک میں آباد ہے۔ سوویت قبضے سے قبل یہ زبان عربی رسم الخط میں لکھی جاتی تھی۔ افغان ازبک اپنی یہ زبان صدیوں سے (اور اب بھی) عربی رسم الخط میں لکھتے چلے آ رہے ہیں۔ سنکیانگ میں آباد چینی ازبک یہ زبان عربی اور ’سیریلک‘ (Cyrillic) دونوں میں لکھتے ہیں۔ رسم الخط کا یہ مسئلہ ازبکستان کی آزادی کے بعد اٹھا، کیونکہ اشتراکی قابضین نے ازبک زبان کا عربی رسم الخط ترکیہ کے مصطفیٰ کمال پاشا کی طرح بدل کر ’سیریلک‘ کر دیا تھا۔ آزادی ملنے پر اس مسئلے نے طاقت کے ساتھ سر اٹھایا۔  

 علمی سطح پر ازبک حکام اور دانشوروں سے ڈاکٹر حسان اور ڈاکٹر محمود احمد غازی کے روابط مضبوط بنیادوں پر قائم ہو گئے اور حکومت پاکستان کی سرپرستی ان پر مستزاد تھی۔ ان متعدد عوامل نے مل کر اپنا وزن ان ازبک حکام کے پلڑے میں ڈالا جو ’سیریلک‘ رسم الخط ترک کر کے اصل عربی، نسخ رسم الخط بحال کرنا چاہتے تھے۔ حکومت پاکستان اور ڈاکٹر غازی نے ازبک حکام سے اس مقصد کے لیے مطلوبہ وسائل اور علمی معاونت فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ دعوۃ اکیڈمی نے فوراً بذریعہ ہوائی جہاز ایک پرنٹنگ پریس ازبک حکومت کو تحفتاً دے دیا۔ مزید یہ کہ اکیڈمی نے اسلامی تعلیمات پر مبنی تقریباً تین درجن اسلامی کتب کا ترجمہ فوراً روسی زبان میں کرایا اور ان کے تمام ایڈیشن ازبکستان بھیج دیے۔ لیکن پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔ 

ڈاکٹر غازی مرحوم سے دفتر کے علاوہ سفر میں، حضر میں، اذان سحر میں بھی میل جول رہا۔ ڈاکٹر صاحب مرحوم بہت کچھ آزردگی سے اور دل گرفتہ ہو کر بھی سنایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ کچھ یوں فرمایا: ’’سب امور بخوبی چل رہے تھے۔ معاملات ہماری گرفت میں تھے۔ ہماری کوشش تھی کہ ازبک اپنی خواہش کے مطابق یہ فیصلہ کریں کہ اپنی زبان کا ’سیریلک‘ رسم الخط بدل کر سابقہ عربی نسخ بحال کر دیں۔ یہ کام ہونے کو تھا۔لیکن یہی وہ ایام تھے کہ جب ہمارے وزیراعظم اور صدر مقتدرہ کے اشارے پر لڑ رہے تھے۔ ایک ڈکٹیشن نہ لینے پر مصر تھا تو دوسرا اسے نکالنے پر کمر بستہ تھا۔ دونوں کو مستعفی ہونا پڑا، جس سے خارجہ امور اتنے بے ربط ہوئے کہ مارکیٹ کا بڑا حصہ انڈیا لے اڑا۔ رسم الخط جیسا علمی مسئلہ نئی وزیراعظم اور صدر غلام اسحاق خان کے جانشین صدر کے سر سے بہت اوپر کی چیز تھی۔ میدان خالی ملا تو مصطفیٰ کمال پاشا کا ترکیہ اپنا ترک سیریلک رسم الخط اٹھائے آ دھمکا‘‘۔ 

آج حال یہ ہے کہ پرانے ازبک یہ زبان سیریلک (روسی) رسم الخط میں لکھتے ہیں۔ نئی نسل لاطینی اور سیریلک (ترکی و روسی) دونوں پر انحصار کرتی ہے۔ سرکاری طور پر لاطینی رسم الخط اختیار کرنے کا فیصلہ نہیں ہوا، لیکن ہو جائے گا۔ یہ البتہ طے ہے کہ عربی رسم الخط کی (فی الحال) یہاں جگہ نہیں ہے۔  

 تاشقند پر ایک طائرانہ نظر 

۲۳ تا ۲۷ ستمبر ۲۰۲۵ء کو ’تاشقند انٹرنیشنل آربیٹریشن سینٹر‘ (TIAC) نے تاشقند میں ’بذریعہ ثالث مقدمات کے حل پر‘ پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کی۔ متعدد ممالک کے وفود نے شرکت کی۔ پاکستان سے معروف لا فرم ’صمدانی، قریشی اینڈ اقلال‘ کے چیف بیرسٹر فرخ کریم قریشی اور مجھے شرکت کا موقع ملا۔ قانون کے طلبہ اور نو آموز وکیلوں پر مبنی ہماری آٹھ رکنی ٹیم بھی ہمارے ساتھ تھی۔ کسی ملک میں محض سات روزہ قیام سے حتمی رائے نہیں دی جا سکتی۔ پس اس تحریر کو ازبکستانی سیاست سے خالی ہمارے مشاہدات کا بیان سمجھ لیجیے۔ اس میں ماضی و حال کے ازبکستان کا موازنہ بھی ہے۔ جس کی گرافی ترتیب (graphic order) سے مستقبل کی منظر کشی کر لی جائے تو یہ کام غیر مفید نہیں ہوگا۔  

مدیر تکبیر محمد صلاح الدین مرحوم کے الفاظ کی یاد آتی ہے: ’’اشتراکیت کے جبر و استبداد اور مذہب دشمنی اپنی جگہ جن سے قطع نظر یہ ماننا پڑتا ہے کہ سوویت قابضین نے مسلم ترکستانی ممالک میں بھی وہی بنیادی مدنی ڈھانچا تعمیر کیا جو ماسکو اور لینن گراڈ میں تھا۔ شرح خواندگی تمام ترکستان میں ۱۰۰ فی صد ہے‘‘۔  

ہم نے تقریباً پورا تاشقند گھوم پھر کر دیکھا، پورے شہر کی عمارتوں، سڑکوں، ٹریفک، طرزِ زندگی اور لباس سے ہمیں معمولی سی معاشرتی اونچ نیچ کے آثار دکھائی نہیں دیئے۔ صفائی کا معیار مثالی ہے۔ 

پیزا والوں کے سوا کوئی ایک موٹر سائیکل سوار نظر نہیں آیا۔ نہایت منظم و مرتب ٹریفک اور بدنظمی سے پاک اس شہر میں بسوں، میٹرو اور ٹرین کا وہ منضبط نظام دیکھا کہ کم ہی آبادی کو کار جیسی انفرادی سواری کی ضرورت پیش آتی ہے اور مکھی، مچھر کا نشان نہیں دیکھا۔اسی طرح تتلی، کبوتر، فاختہ، چڑیا، کوّا یا پرندہ نام کی کوئی شے بھی نہیں دیکھی۔ لائسنس یافتہ دکانوں پر شراب کھلے عام بکتی ہے۔ 

دوسری طرف نمازِ جمعہ میں نمازی اتنے ملے کہ کہیں اور کبھی نہیں دیکھے۔ ازبک مسلمان خطیب کی تقریر شوق سے سنتے دیکھے۔ حنفی انداز پر ہماری ان کی نماز جمعہ میں یہ فرق دیکھا کہ پہلی اذان ایک بجے جس کے بعد سنتیں پڑھنے کا وقت دیا جاتا ہے۔ فوراً بعد دوسری اذان اور ساتھ ہی خطبہ جمعہ ہوتا ہے۔ تعجب اس پر ہوا کہ لوگ بارہ بجے سے آنا شروع کرتے ہیں اور ایک بجے تک خطیب کی تقریر شوق سے سنتے ہیں۔ مسجدیں نہایت باوقار، صاف اور سلیقہ مندی کا نمونہ ہیں۔ خطیب کا رتبہ پروقار اور باتمکنت ہے۔ نمازیوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ شہر تاشقند میں ایسی ۲۵تا ۳۵مساجد ہیں۔ نمازی اتنے کہ سڑک، فٹ پاتھ، گیراج وغیرہ جہاں جگہ ملے اپنی جائے نماز بچھا لیتے ہیں۔ سلام پھیر کر ہماری ہی طرح ہفتہ بھر کے مرحومین اور بیماروں کے لیے دعا کی جاتی ہے مگر عجلت میں کسی کو نکلتے نہیں دیکھا۔ دعا کے بعد البتہ لوگ نکلنے لگتے ہیں۔ 

تاشقند کی روز مرہ شہری زندگی 

 ہوٹل کا کمرہ لینے کے لیے عورت مرد کا مشترکہ کمرہ لینے پر نکاح کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ میں نے تاشقند جا کر چار منزلہ اور سوئمنگ پول والے وسیع ہوٹل میں کمرہ لیا اور ازبک معاشرت کا مشاہدہ کیا۔ روزانہ صبح ناشتے پر گھنٹہ بھر کے مشاہدے کے دوران اوسط دو تین کنبے بچوں سمیت ضرور نظر آتے رہے جن کے لیے الگ فیملی ہال تھا۔ مجموعی طور پر ہمیں تاشقند میں ۴۰/۴۵ فی صد وہ خواتین نظر آئیں جو نقاب، کالے برقعے، یا حجاب کی کسی مقامی شکل یا اسکارف استعمال کر رہی تھیں۔ باقی وہ خواتین دیکھیں جو مغربی لباس کی کسی شکل میں تھیں۔ کوئی ایک خاتون نہیں دیکھی جس نے شانے، کمر یا ٹانگیں بے پردہ رکھی ہوں۔ جوڑے تو بکثرت دیکھے لیکن ہم دونوں نے ایک جوڑا نہیں دیکھا جو بانہوں میں بانہیں ڈالے ہو، یا باہم ہاتھ پکڑے ہو۔ گلے لگنا، چہلیں کرنا، جھوم اور لہرا کر چلنا تو بہت دُور کی بات ہے۔ مرد و زن دونوں کو پتلون اور ٹی شرٹ پہنے دیکھا۔ لیکن کسی کے لباس یا چال میں معمولی سی رکاکت، سوقیانہ انداز، چھچھورا پن یا وہ اتھلا رنگ نہیں دیکھا، جو مغربی دنیا میں اور ہمارے یہاں عام ہے۔ مختصراً یہ کہ ہم نے مغربی دنیا کے برعکس مقامی اور مغربی دونوں ملبوسات میں وقار، تمکنت اور شائستگی ہی پائی۔ 

 ازبکستان اور ترکستانی ممالک میں  قدر مشترک 

مجھے ماضی میں بھی بیرون ملک ترکستانی و روسی مسلمانوں سے ملنے کا موقع ملتا رہا۔ یکساں سوویت طرز تعلیم کے باعث میں نے ان سب کو ایک جیسا پایا۔ حکومتی تعلقات سے قطع نظر پاکستان کے حق میں داغستان کے ایک مسلمان کو اٹھارہ سال قبل اور ازبک مسلمانوں کو حالیہ سفر میں ایک ہی زبان بولتے پایا۔ مثلاً ایک ازبک دوست کو میں نے ہیجانی انداز میں تین مختلف اوقات میں یہ کہتے سنا: ’’تاشقند کی فلاں فلاں کثیر منزلہ عمارتوں میں چینی کمپنیاں آچکی ہیں اور مزید آرہی ہیں، معلوم نہیں پاکستان کیوں بیدار نہیں ہوتا؟‘‘ مقامی مسلمانوں سے اسلامی تعلیمات اور شعائر کی ترقی یا تنزل پر بھی گفتگو ہوئی۔ اکثر سے یہ تاثر ملا کہ کئی کام بخوبی ہو رہے ہیں۔ امریکی اصطلاح کا ’سیاسی اسلام‘ ہمیں نہیں ملا۔ فی الحال وہاں ثقافتی سطح پر اسلام کے آثار نمایاں ہیں۔ ہر ازبک کو  اور ریاست کو بحیثیت کُل اپنے ثقافتی اور مذہبی ورثے پر بے پناہ فخر ہے۔  

چنانچہ اسلامی شعائر سے محبت اور دینی فکر کا دائرہ بتدریج پھیل رہا ہے اور ایک دوسرے کو چھیڑے اور تنقید کیے بغیر آگے بڑھ رہا ہے۔ مقامی لوگوں سے تبادلۂ خیال اور مطالعے کے بعد میرا تاثر یہ ہے کہ آزادی کے بعد کا ازبکستان اور دیگر ترکستانی ممالک اب روسی آباد کاروں (یہودیوں، مسیحوں اور لا مذہبوں) سے بتدریج خالی ہو رہے ہیں اور یہ عمل پاکستان سے مماثل ہے۔ تقسیم کے وقت پاکستان میں پارسی، اینگلو انڈین اور یہودی کثیر یا معتد بہ تعداد میں تھے۔ لیکن آج عام لوگوں کو اینگلو انڈین کا مفہوم تک پتا نہیں اور ملک میں ایک یہودی باقی نہیں رہا۔ پارسیوں کی بڑی تعداد بھی بلادِ غیر میں جا بسی ہے۔ 

 ازبکستان اسی فطری عمل سے گزر رہا ہے۔ لا مذہب سفید فام، روسی اور یہودی آباد کار ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ یہودی آباد کار ۳۵ برسوں میں ۹۵ ہزار سے گھٹ کر ۱۰ ہزار رہ گئے ہیں۔ ازبکوں کا قیمتی اثاثہ بلا تفریق مسلک و مذہب عدم تعرض ہے۔ یعنی کوئی نہ چھیڑے تو تعرض نہ کرو، کام سے کام رکھو۔ ہر ازبک دوسرے کو چھیڑے بغیر کام سے کام رکھتا ہے۔ اس مفید رویے کی طاقت سے دین فطرت بتدریج پیش قدمی کرتا نظر آرہا ہے۔ یکساں نظام تعلیم اور متعدد دیگر عوامل کے باعث میں بقیہ نو آزاد سوویت مقبوضات کو ازبکستان پر قیاس کر کے سب کے لیے یہی نتیجہ نکالتا ہوں۔ 

پاک ازبک و ترکستانی ممالک کے تعلقات 

ملک اور قبائل، اپنے ماضی میں کبھی لا تعلق نہیں رہے، اور آج تو ہر ملک کا داخلی فیصلہ کسی کو بغیر بتائے ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ ازبک رسم الخط بدلنے کے فیصلے نے تمام ترکستانی ممالک تک کو متاثر کیا۔ جہاں تک باہمی میل جول کا تعلق ہے تو بنیادی اسلامی عقائد ہر ملک میں متفق علیہ ہیں۔ لیکن جزئیات ہر ملک اور ہر بستی کی اپنی ہوا کرتی ہیں۔ ازبکستان میں فی الوقت جو اسلام پیش قدمی کر رہا ہے، اسے ہمارے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن مطلب یہ نہیں کہ پاکستان ان ممالک سے ہر معاملے میں لا تعلق ہوجائے۔ 

دونوں ملکوں کے حکومتی تعلقات کو مختلف طریقوں پر وسعت دینا لازم ہے۔ سینئر ریاستی حکام، چیمبرز آف کامرس کے افراد، یونی ورسٹی اساتذہ، سپریم کورٹ کے وکلا اور سینئر صحافیوں کے لیے دونوں ملک اگر بدون ویزا آمد و رفت کو فروغ دیں تو یہ دونوں کے حق میں مفید ہے۔ باہمی تجارت میں اضافہ تعلقات کی کلید ہے۔ لیکن ان سب امور سے قبل ہمارے پڑوسی افغان حکام کے لیے جدید ریاستی انداز کار کی تفہیم بڑی ضروری ہے۔ دونوں ملک مل کر اوّلاً افغان مسئلے کا کوئی پائیدار حل تلاش کریں۔ غور کیجیے کہ پاکستان، ایران، تاجکستان، قازقستان ازبکستان اور ترکمانستان جیسے آسودہ حال ممالک کے سمندر میں افغانستان افلاس کا ایک جزیرہ نظر آتا ہے۔ یہی وہ ملک ہے جس کا جغرافیہ جنوبی ایشیا تا مشرقی یورپ تک کے تمام ممالک کو متاثر کرتا ہے۔ سوویت مداخلت سے قبل پاکستان کے لوگ براستہ افغانستان یورپ اور برطانیہ تک جاتے آتے تھے۔ آج، جب کہ نوآزاد ترکستانی ممالک کے راستے کھل چکے ہیں تو وہاں بھی رسائی ممکن ہے۔ لیکن افغانستان کے داخلی حالات اور اس کی خارجہ پالیسی اس آمد و رفت کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ 

خالی الذہن عام سیاحوں کو ازبکستان مغربی رنگ میں نظر آتا ہے، وجہ ظاہر ہے۔ بلاشبہ وہاں شراب، رقص گاہوں اور ساز و آواز کو مکمل مغربی انداز کی آزادی حاصل ہے، لیکن رفتہ رفتہ سوویت ماضی کا تسلسل دم توڑ رہا ہے۔ مسجد کے علاوہ کسی دکان، پارک یا کھلے عام کسی کو نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ یہ ازبک زندگی کا پہلا دائرہ ہے۔ بقول ازبک دوستوں کے یہ دائرہ خود بخود اور روز بروز سکڑتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف کسی مسجد میں جائیں تو اسی مغربی لباس میں ملبوس جوانوں کو دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ اسی شہر میں رات کو جام لنڈھائے جاتے ہیں۔ الحمدللہ یہ دائرہ پھیل رہا ہے۔ 

ان شاء اللہ ، مستقبل قریب میں یا قدرے بعید کہہ لیجیے، تمام ترکستانی ممالک، ترکیہ، روس، پاکستان اور ایران مل کر ایک مضبوط اسلامی بلاک بنائیں گے۔ اس فہرست میں روس کو دیکھ کر تعجب نہ کیجیے۔ سرکاری طور پر روس میں ۱۵ فی صد مسلمان بتائے جاتے ہیں۔ لیکن آزاد ذرائع یہ تناسب ۲۰،۲۲ فی صد تک بتاتے ہیں۔ جو بھی ہو، اس پر سبھی محققین متفق ہیں کہ ۲۰۵۰ء تک روسی مسلمان آبادی کا ایک تہائی ہو جائیں گے۔ بعض مغربی جرائد نے بطور پھپتی ماسکو کو مستقبل کا ’ماسکو آباد‘ قرار دے رکھا ہے۔  

روس کی غالب مسلم آبادی ترکستانی اور داغستانی خطوں میں ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی اسلامی قدریں لیے تعلیم، روزگار، تجارت اور ملازمتوں میں بتدریج آگے آرہے ہیں۔ چنانچہ آج اگر روس اور پاکستان کی قربت میں اضافہ اور انڈیا سے روس کے تعلقات میں فاصلہ پیدا ہوتا جارہا ہے تو تعجب نہ کیجیے۔ اس کی ایک وجہ روس میں مسلم فکر کا بڑھتا ہوا عمل دخل بھی ہے۔ لیکن آج کا موضوع ازبکستان تھا جس پر چند معروضات پیش کی گئی ہیں۔ 

ہندستان اور مسلمانوں کا تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ خود اسلام۔ اسلام کے ظہور سے پہلے ہی عربوں کے ہند سے تجارتی تعلقات قائم تھے، جس کے بعد تاریخِ اسلام کے دوسرے دور میں مسلم فاتحین نے اس سرزمین کا رُخ کیا۔ تیسرے دور میں دہلی سلطنت کا قیام عمل میں آیا اور اس کے بعد مغلیہ سلطنت نے ہندستان میں قدم جمائے۔ اس طویل عرصے میں مسلمانوں نے ہند کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ انھی اَدوار میں التمش، شیر شاہ سوری اور علاء الدین خلجی جیسے مدبر اور باصلاحیت حکمران پیدا ہوئے، جنھوں نے نہ صرف انتظامی اصلاحات کیں بلکہ ہند کی تعمیرو ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اگر علاء الدین خلجی نہ ہوتا تو منگول، ہندستان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے جو انھوں نے بغداد اور مسلم دنیا کے دیگر شہروں کے ساتھ کیا تھا۔ علاء الدین خلجی کے عہد میں عام آدمی کی زندگی جتنی آسان تھی، شاید تاریخِ ہند میں کبھی نہ رہی ہو۔ اس کے سخت مگر مؤثر اقدامات کی بدولت اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بے حد کم تھیں اور افراطِ زر مکمل طور پر قابو میں تھا۔ 

بعد کے دور میں مغلوں نے ہند کو ایک مضبوط مرکزی حکومت، منظم نظم و نسق، شاندار فنِ تعمیر، خوش حال معیشت اور ایک متنوع مگر مربوط تہذیب عطا کی۔ ان کے دور میں زمین کی پیمائش، مالیاتی اصلاحات، اور ٹیکس کے منصفانہ نظام نے زراعت اور تجارت کو فروغ دیا۔ عظیم الشان فنِ تعمیر نے فن اور ثقافت کو نئی بلندی پر پہنچایا۔ فارسی زبان، ادب، مصوری، موسیقی، اور لباس میں جو امتزاج پیدا ہوا، اس نے ایک ہم آہنگ تہذیب کی بنیاد رکھی۔ مغل عہد میں ہند عالمی تجارت کا مرکز تھا اور دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا تھا۔ان کےدور میں ہند کا جی ڈی پی ۲۴ فی صد تک تھا۔ 

اورنگ زیب عالم گیر کی آنکھیں بند ہوتے ہی اس عروج کا زوال شروع ہوگیا۔ اورنگ زیب کا انتقال ۱۷۰۷ء میں ہوا، اور وہ آخری دیوار گر گئی جس نے مغلوں کے زوال کو روک رکھا تھا۔اس کے جانے کے ساتھ ہی برصغیر میں طوائف الملوکی کا دور شروع ہو گیا۔ ایک طرف دُور دراز کے صوبے مرکز سے آزاد ہونے لگے، اور دوسری طرف خود صوبے داروں کے درمیان تخت نشینی کے لیے خون ریز لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں مرہٹے، راجپوت اور جاٹ اُٹھ کھڑے ہوئے، جنھوں نے ملک میں افراتفری اور بدامنی پھیلا دی۔ اس داخلی خلفشار نے دہلی کی مرکزی حکومت کا باقی ماندہ رعب و دبدبہ بھی ختم کر دیا۔لیکن جس واقعے نے بھارت میں مسلمانوں کی عظیم تاریخ پر گویا حرفِ آخر ثبت کیا، وہ ۱۸۵۷ء کا سانحہ تھا، — جسے انگریزی تاریخ نویسی کے زیراثر تحریروں میں ’غدر‘ کہا گیا اور بھارت میں ’پہلی جنگ ِ آزادی‘۔ ۱۸۵۷ء صرف ایک ہندسہ نہیں ، بلکہ ایک تہذیب، ایک تمدن، اور ایک قوم کے لٹ جانے کی داستان کا عنوان ہے۔ 

انگریزوں نے اس انقلاب کو تو بمشکل کچلا، لیکن اس کے بعد ظلم و ستم کا جو طوفان برپا ہوا، وہ انسانی تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں شامل ہے۔ گلی گلی خون بہایا گیا، کوچہ کوچہ لاشوں سے بھر گیا۔ لاکھوں بے گناہ انسان گولیوں کا نشانہ بنے، ہزاروں پھانسی کے رسّوں پر لٹکائے گئے۔ شہزادوں کے سر قلم کر کے ان کے بوڑھے والدین کے قدموں میں پھینکے گئے، اور عزّت و حمیت کو ننگی تلوار سے ذبح کیا گیا۔انگریزوں کی درندگی اور خباثت نے روحِ ہند کو مجروح کردیا۔جب ۱۸۵۷ء کی بغاوت شروع ہوئی تو ہندو اور مسلمان دونوں نے اس میں بڑی تعداد میں حصہ لیا۔ یہ کسی ایک قوم کی بغاوت نہ تھی، لیکن مسلمانوں میں انگریزوں کے خلاف چند تاریخی اور نظریاتی وجوہ پر مبنیشدید مخالفت پائی جاتی تھی۔ ان میں سے بہت سے افراد حضرت شاہ ولیؒ اللہ کے فلسفے سے متاثر تھے اور انگریزی حکومت کے تحت ہندستان کو ’دارالحرب‘ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک بیرونی حکمرانوں کے خلاف جہاد نہ صرف ایک قومی ضرورت تھی بلکہ مذہبی فریضہ بھی تھا۔ 

اسی بنا پر انگریز حکومت، مسلمانوں کو ہندوؤں کی نسبت زیادہ خطرناک تصور کرتی تھی اور جوشیلے مسلمانوں سے انھیں زیادہ خوف محسوس ہوتا تھا۔ چنانچہ مسلمانوں پر نہایت سخت ظلم و ستم ڈھائے گئے۔ جھجر، بلاب گڑھ، فرخ نگر اور فرخ آباد کے نوابوں کو پھانسی دے دی گئی یا جلا وطن کر دیا گیا۔ مسلمانوں کے گھروں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ مسلمانوں کی جائیدادیں بڑے پیمانے پر ضبط کی گئیں۔ دہلی پر دوبارہ قبضے کے کچھ ہی عرصے بعد ہندوؤں کو واپس آنے کی اجازت دے دی گئی، لیکن مسلمانوں کو اس کی اجازت نہ دی گئی۔ دہلی ڈویژن میں ہر مسلمان پر اس کی جائیداد کے چوتھائی حصے کے برابر جرمانہ عائد کیا گیا، جب کہ ہندوؤں پر محض دس فی صد کا جرمانہ لگایا گیا۔ برطانوی حکام کے غصے کا اصل نشانہ مسلمان ہی تھے۔ کیپٹن رابرٹ نے لکھا:’’ان بدمعاش مسلمانوں کو دکھا دو کہ خدا کے فضل سے انگریز ہمیشہ ہندستان کے مالک رہیں گے‘‘۔ 

مسلمانوں کی مصیبتیں بے پناہ تھیں۔ معصوم اور مجرم دونوں ہی یکساں طور پر انتقامی کارروائیوں کا شکار بنے۔ حتیٰ کہ سرسید احمد خان جیسے وفادار کے خاندان کو بھی مصیبتوں اور اموات کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی۔ اُس دور کے خوف و ہراس کی عکاسی غالب کے خطوط میں بخوبی موجود ہے۔ 

غالب ۱۸۵۷ء کے المیے کے چشم دید گواہ تھے۔ دہلی کی بربادی، انگریزوں کا ظلم اور مسلمانوں کا قتل عام، سب کچھ انھوں نے خود دیکھا۔ اس کیفیت کو انھوں نے ایک قطعے میں بیان کیا ہے: 

بس کہ فعال مایرید ہے آج 
ہر سلح شور انگلستاں کا 

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے 
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا 

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے 
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا 

شہر دہلی کا ذرّہ ذرّہ خاک 
تشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا 

کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تک 
آدمی واں نہ جا سکے یاں کا 

یہ اشعار اس عہد کی دل دہلا دینے والی تصویر پیش کرتے ہیں۔ وہ شاعر جو کبھی انگریزوں کی مدح کرتا تھا، اب انھی کے مظالم پر اشکبار ہے۔ غالب کا یہ قطعہ محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک تہذیب کی موت کا مرثیہ ہے اور قابض قوت کی بے رحمی اور بہیمانہ انتقام کی عکاسی ہے۔ ان اشعار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۸۵۷ء کی ناکامی نے غالب کو اندر سے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ ان کے نزدیک اس ناکامی نے صرف ایک بغاوت کو نہیں دبایا بلکہ ایک پوری تہذیب، ثقافت، اور طرزِ زندگی کو مٹادیا۔ بستیوں کی ویرانی، شہروں کی بربادی، اور انسانوں کی بے وطنی —یہ سب کچھ غالب نے سہا، دیکھا، اور شاعری میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ 

مولانا غلام رسول مہر اپنی کتاب ’۱۸۵۷ء‘ میں پھانسی کے عمل کو بتاتے ہوئے لکھتے ہیں : 

 کوتوالی اور ترپولیے کے درمیان چاندنی چوک میں جو حوض تھا اس کے تین طرف پھانسیاں کھڑی کی گئی تھیں ۔ ان میں ایک دفعہ دس بارہ آدمیوں کو پھانسی لگ سکتی تھی۔ جس روز پھانسی پانے والوں کی تعداد زیادہ ہوتی ، ایک گروہ کو پھانسیوں پر چڑھا دیا جاتا، باقی لوگ کھڑے ہوئے دیکھتے رہتے کہ ان کے خاتمے کے بعد ہماری باری آئے گی اور یہ مقام انگریزوں کی خاص سیرگاہ بن گیا تھا۔ پاس کے ایک موقع شناس دکان دار نے اپنی دکان کے سامنے کرسیاں رکھ دیں کہ انگریز بیٹھیں گے تو خوش بھی ہو جائیں گے اور کچھ [بخشیش]دے بھی جائیں گے۔ چنانچہ انگریز افسر آتے، کرسیوں پر بیٹھتے، سگریٹ سلگاتے، پھانسی پر چڑھنے والوں کی جان کنی کا تماشا دیکھتے اور چند پیسے دکا ن دار کو دے جاتے۔ مظلوم بے دم ہو جاتے تو ان کی نعشیں ایک بیل گاڑی میں ایک دوسرے کے اوپر ڈال دی جاتیں تاکہ نئے مظلوموں کے گلے میں پھندا ڈالا جائے ۔ 

۱۸۵۷ء ہندستان کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا، جب پرانی اور نئی دنیائیں آپس میں مل رہی تھیں، یا پھر جدید اور قدیم کا ٹکراؤ ہورہا تھا ۔اس دور کو دیکھ کر ہم ماضی کی جھلک بھی پا سکتے ہیں اور مستقبل کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔ پرانا سماجی نظام تلپٹ ہوگیا اور نئے حالات نے صرف سوچ بدلنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ زندگی کے اصول اور انداز بھی بدل دیے۔ حقیقت میں، ۱۸۵۷ء میں صرف ایک حکومت کا خاتمہ نہیں ہوا، بلکہ وہ سارا تہذیبی ورثہ بھی تباہ ہو گیا جو صدیوں سے لوگوں کے دلوں اور فنی آثار میں زندہ تھا۔دہلی، جو صدیوں تک علم و فن اور تہذیب کا مرکز رہی، وہ برباد ہوئی۔ الطاف حسین حالی دہلی کا ماتم کرتے ہوئے پکار اُٹھتے ہیں: 

تذکرہ دہلیٔ مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ 
نہ سنا جائے گا ہم سے یہ فسانہ ہرگز 

چپے چپے پہ ہیں یاں گوہر یکتا تہہ خاک 
دفن ہوگا نہ کہیں اتنا خزانہ ہرگز 

مٹ گئے تیرے مٹانے کے نشاں بھی اب تو 
اے فلک اس سے زیادہ نہ مٹانا ہرگز 

یہ بات واضح طور پر ثابت ہے کہ انگریز ۱۸۵۷ء سے پہلے ہی مسلمانوں سے دشمنی رکھتے تھے۔  رابرٹ کلائیو نے ۳۰ دسمبر ۱۷۵۸ء کو لارنس سیلیون کے نام اپنے خط میں مسلمانوں کے بارے میں لکھا تھا:’’یہ کوتاہ عقل اور بدطینت مسلمان، جذبۂ احسان مندی سے یکسر خالی ہیں۔ ان کے ہاں ایک ایسا سیاسی طریقہ رائج ہے جو روئے زمین پر کہیں اور نہیں پایا جاتا — کہ جو چاہو کر گزرو، مگر طاقت کے زور سے نہیں بلکہ مکر و فریب کے ذریعے‘‘۔  

ہنری مارٹن لکھتا ہے ’’ : فطرتِ انسانی جب اپنی اسفل ترین شکل میں نمودار ہونا چاہتی ہے تو ایک مسلمان کا رُوپ دھار لیتی ہے‘‘۔ 

مسلم بیزاری کا یہ رجحان ۱۸۴۲ء میں اُس وقت نقطۂ عروج پر پہنچ گیا، جب لارڈ ایلن برو گورنر جنرل بنا۔ ایلن برو جہاں ہندوؤں کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا، وہیں مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا تھا۔ سومنات کے مندر کے دروازوں کی تعمیر کرتے ہوئے وہ ہندو راجاؤں کو مخاطب کرکے کہہ رہا تھا ’’ آج آخرکار آٹھ سو سالہ پرانی بے عزتی کا بدلہ لے لیا گیا ‘‘ پوری تقریر سنیے تو حدسے زیادہ جذباتی ڈرامے سے بھری ہوئی۔موجودہ دور کا ’ہندوتوا‘راگ لگتی ہے۔ 

یہ دشمنی ۱۸۵۷ء سے بھی پہلے سے چلی آرہی تھی لیکن اس کے بعد انگریزوں نے یہ طے کیا کہ مسلمانوں کو معاشی اور سماجی سطح پر تباہ ہی کردیا جائے ۔ اس لیے جب انگریزی افواج نے مسلمانوں کے خون سے اپنے انتقام کی آگ کو ٹھنڈا کرلیا اورہند براہِ راست برطانوی تاج کے زیرِنگیں آگیا تو ’ایسٹ انڈیا کمپنی‘ کا پردہ ہٹا اور برطانوی حکومت نے حکمرانی کی لگامیں اپنے ہاتھ میں لے لیں، تب ملکہ وکٹوریہ نے عام معافی کا اعلان کیا ۔اس معافی کے بعد وہ گھناؤنا کھیل شروع ہوا، جس میں طے ہوا کہ مسلمانوں کو اس حد تک ختم کر دیا جائے کہ دوبارہ کبھی نہ اُٹھ پائیں۔ان مسلمانوں کو، جو کبھی اس ملک کے حاکم اور تہذیب کے معمار تھے، بے دست و پا کر دینا، ان کے وقار اور اثر کو مٹادینا، اور ہر اس نشانی کو ختم کر دینا جو ان کے ماضی کو لوٹانے کا حوصلہ دے سکتی تھی۔ انگریزوں نے اس مقصد کو پانے کے لیے ہر حربہ آزمایا۔ مسلمانوں کو معاشی اور تعلیمی طور پر پس ماندہ کرنے کی باضابطہ کوشش کی گئی۔  

لندن کے ایک اخبار میں رسل لکھتا ہے:’’ہمیں مسلمانوں کے ساتھ جو دشمنی ہے وہ اس کش مکش کے مقابلے میں زیادہ شدید ہے جو ہم شیو اور وشنو کے پرستاروں [ہندوئوں] کے ساتھ رکھتے ہیں۔ مسلمان ہماری حکومت کے لیے زیادہ خطرناک ہیں … اگر ه بیک جنبش محمد کی حدیثوں اور معبدوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانے میں کامیاب ہو جائیں، تو یہ بات عیسائی مذہب اور برطانوی حکومت دونوں کے لیے نیک فال ثابت ہوگی ‘‘ ۔  

برطانوی عہدے داروں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اس قدر شدت اختیار کر چکی تھی کہ کئی عہدےدار اس خیال کی پر زور حمایت کرنے لگے تھے کہ دہلی کی جامع مسجد کو منہدم کر دیا جائے تاکہ اُن پر یہ بات واضح ہو جائے کہ ہندستان میں ان کا وقار کس حد تک مجروح ہوچکا ہے۔ ایک گورنر جنرل نے ، تو یہ تجویز بھی پیش کر دی تھی کہ ’’آگرے کے تاج محل کو منہدم کر دیا جائے اور سنگ مرمر کی سلوں کو فروخت کر دیا جائے ‘‘۔ 

ہندپر اپنا تسلط قائم رکھنے اور اس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انگریزوں نے یہ اصول اپنا لیا تھا کہ مسلمانوں کو ہمیشہ پیروں تلے دبا کر رکھا جائے۔ ۱۸۵۷ء کی بغاوت نے ان کے اس بدگمانی پر مبنی نظریے کو گویا درست ثابت کردیا۔ اب ہر شورش، ہر بدامنی، اور ہر بگاڑ کی ذمہ داری بلاتردّد مسلمانوں کے سر ڈال دی جاتی۔انگریز عہدے دار مسلمانوں کو کسی بھی انتظامی منصب پر دیکھ کر بیزاری محسوس کرتے، حقارت آمیز لہجے میں گفتگو کرتے اور تمسخر کا نشانہ بناتے۔ یہ رویہ محض نفسیاتی دشمنی کا نہیں بلکہ سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ تھا۔ اس کے برعکس ہندوؤں کے ساتھ ان کا سلوک بالکل مختلف تھا۔ —وہ انھیں خوشی سے انتظامی مناصب پر فائز کرتے، اور وہ اپنے انگریز افسران کے لیے مکمل فرماںبرداری کا مظاہرہ کرتے۔ اس تعاون اور اطاعت کے صلے میں ہندو طبقہ بتدریج انتظامی ڈھانچے میں جڑیں مضبوط کرتا گیا، جب کہ مسلمان، جو کبھی سلطنت کے ستون تھے، اب ایوانِ اقتدار کے دروازے پر اجنبیوں کی طرح کھڑے تھے۔ 

۱۸۵۷ءکی جنگِ آزادی کے بعد ہندستانی مسلمانوں کی صورتِ حال نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی، سماجی اور تعلیمی میدان میں بھی شدید ابتری کا شکار ہوئی۔ 

۱-   معاشی بدحالی :۱۸۵۷ءکی شکست نے مسلمانوں کی تلوار تو پہلے ہی توڑ دی تھی، اب انگریز نے ان کے ہاتھ سے روٹی بھی چھین لی۔ وہ تہذیب جو کبھی زمین پر زرخیزی اور بازاروں کی رونق سے پہچانی جاتی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے فاقہ کشی اور مفلسی کی تصویر بن گئی۔ 

۲-  زمین اور جاگیروں کی ضبطی:سب سے پہلے ان کے قدموں تلے سے زمین کھینچ لی گئی۔ جو خاندان صدیوں سے کھیتوں کے وارث اور جاگیروں کے مالک تھے، وہ ایک حکم نامے سے بے زمین ہو گئے۔ یہ زمینیں یا تو انگریزوں کے وفاداروں میں تقسیم ہوئیں یا نیلامی میں غیر مسلم سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلی گئیں۔ یوں مسلم تہذیب کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ 

۳-  تجارت اور ہنر پر ضرب:مسلمان صنعت کار اور ہنرمند، جو قالین بافی سے لے کر اسلحہ سازی تک اپنی مہارت کا سکہ جمانے والے تھے، برطانوی تجارتی پالیسی کے نشانے پر آگئے۔ مقامی صنعتوں پر بھاری ٹیکس لگے، خام مال سستے داموں برطانیہ بھیجا جانے لگا اور وہاں کا تیار شدہ مال واپس لا کر مہنگے داموں بیچا گیا۔ بازاروں میں مقامی دستکاری کی جگہ یورپی سامان چھاگیا۔ جن ہاتھوں میں کبھی فن کی خوشبو تھی، وہاں اب فاقہ اور بیکاری کی دھول جم گئی۔ 

۴-  سودی کاروبار کا شکنجہ:ہندو بنیے اور انگریز افسران ایک دوسرے کے حلیف بن گئے۔ قرض کے نام پر مسلمانوں پر ایسا جال ڈالا گیا جس سے نکلنا ممکن نہ تھا۔ بھاری سود، کاغذی کارروائی اور قانونی فریب کاریوں نے زمین داروں اور تاجروں کو اپنی زمین اور دکانیں گروی رکھنے پر مجبور کر دیا۔ کل کے خوشحال تاجر آج قرض خواہوں کے در پر کھڑے ذلیل و خوار نظر آتے تھے۔ 

۵-  ملازمتوں کے دروازے بند: انگریز کے نزدیک مسلمان نہ وفادار تھے، نہ قابلِ اعتماد۔ اس لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے ان پر بند کر دیے گئے۔ ادنیٰ درجے کی نوکری بھی انھیں دینا گوارا نہ کیا گیا۔ یوں متوسط طبقہ بے روزگار ہو کر غربت کی دلدل میں اتر گیا اور نچلا طبقہ محنت مزدوری یا دستِ سوال دراز کرنے پر مجبور ہوگیا۔ 

یہ محض ایک طبقے کی غربت نہیں تھی، بلکہ ایک پوری قوم کے وقار، خودداری اور عزتِ نفس کو روندنے کا منظم منصوبہ تھا۔پیری اینڈرسن لکھتا ہے:’’ غدر کے بعد ، (برٹش )راج میں میدان تیزی سے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلنا شروع ہوگیا۔ اب وہ اس علاقے کے مالک نہیں رہ گئے تھے جہاں کبھی ان کی حکومت چلتی تھی۔ سپاہیوں کی حیثیت سے ان پہ اعتبار نہیں کیا گیا۔ تجارت کا انھیں کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ان کا اپنا انتظامی ڈھانچا فارسی زبان میں تھا، جب کہ انگریزی تعلیم سے وہ دُور تھے۔ ایک صدی کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ وہ ہندوؤں سے گورنمنٹ جاب، انڈسٹری اور دوسرے پیشوں میں کتنے پیچھے رہ گئے‘‘۔ 

 The Cambridge Economic History of India Volume 2 میں اس پوری تبدیلی کے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ ذیل میں صرف کا اس خلاصہ دیا جارہا ہے: 

برطانوی دور میں ہندستان کی معیشت میں نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ بنیے، مارواڑی اور دیگر ہندو تاجر برادریاں مالیاتی واسطے اور قرض دہندہ و تاجر کی حیثیت سے نمایاں طور پر اُبھریں۔ لیکن مقابلے میں مسلم تاجروں اور زمین داروں کی حیثیت زوال پذیر ہوگئی۔ 

مشرقی صوبوں جیسے بنگال، بہار اور اڑیسہ میں یورپی کمپنیوں کی خرید و فروخت میں بنیے، مارواڑی، اور دیگر دلال اہم کردار ادا کرتے تھے۔ وہ کسانوں یا پیداواریوں کو پیشگی ادائیگی کرتے اور کمپنیوں سے منافع کماتے۔ یہی طبقہ دیہی قرض دہندگان کے طور پر بھی معروف تھا، جو سود پر قرض دے کر زمین اور پیداوار پر بالواسطہ اثرانداز ہوتا۔ 

برطانوی مالیاتی و زرعی پالیسیوں نے سودخوروں کو طاقت ور بنایا، جن میں بنیے بھی شامل تھے۔ جیسے ہوشنگ آباد، بندیل کھنڈ اور جھانسی میں ان کا کردار استحصالی رہا، جہاں بعض اوقات وہ غلہ روک کر قحط جیسی صورتِ حال پیدا کر دیتے۔ ان کے سودی نظام کی بدولت کئی کسان زمین سے محروم ہو گئے، اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے رہے۔ ہندو سرمایہ داروں نے برطانوی نظام کے ساتھ خود کو کامیابی سے ہم آہنگ کیا اور تجارت، قرض، اور زمین کے ذریعے سرمایہ اور اثر و رسوخ اکٹھا کیا۔ یوں وہ برطانوی معیشت کے بنیادی ستونوں میں شامل ہوگئے۔ 

اس کے برعکس، مسلمانوں کی معاشی حیثیت میں زوال آیا۔ برطانوی قبضے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی اجارہ داری نے مسلمانوں کو بین الاقوامی تجارت سے بے دخل کر دیا۔ اٹھارھویں صدی کے وسط تک مسلمان تاجر خلیج، افریقہ اور ایشیائی منڈیوں میں سرگرم تھے، لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے تجارتی غلبے اور امتیازی سلوک نے ان کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ کورومنڈل، بنگال اور جنوبی ہند کے اندرونِ ملک تجارت پر بھی مسلمانوں کا غلبہ تھا، جو آہستہ آہستہ ختم ہونے لگا۔ ساتھ ہی، مسلم زمیندار اور اشرافیہ بھی متاثر ہوئے۔ مستقل بندوبست جیسی برطانوی زمین داری پالیسیوں نے پرانے مسلم جاگیردار طبقے کو کمزور کیا، اور ان میں سے کئی اپنی زمینیں کھو بیٹھے یا زمینداری سے باہر ہو گئے۔ 

مجموعی طور پر، برطانوی دور میں ہندو تاجر برادریوں، خاص طور پر بنیوں اور مارواڑیوں نے تجارت، مالیات اور زمین داری کے ذریعے نمایاں ترقی کی اور طاقت ور طبقہ بن کر اُبھرے، جب کہ مسلم تاجر، زمیندار اور اشرافیہ اپنی سابقہ برتری کھو بیٹھے اور معاشی طور پر کمزور ہو گئے۔ یہ تبدیلی ہندستان کی سماجی-معاشی ساخت میں ایک گہرا فرق پیدا کرنے والی تھی۔ 

خلافت ِ راشدہؓ کا زوال جن حالات میں اور جن اسباب سے ہوا، ان کے نتائج میں سے ایک اہم نتیجہ یہ بھی تھا کہ اُمت مسلمہ کے اندر مذہبی اختلافات رُونما ہوگئے۔ پھر ان اختلافات کو جس چیز نے جمنے اور مستقل فرقوں کی بنیاد بننے کا موقع دے دیا، وہ بھی اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ نظامِ خلافت اپنی اصلی شکل پر قائم نہ رہا تھا، کیونکہ ملوکیت کے نظام میں کوئی ایسا بااختیار اور معتمدعلیہ ادارہ موجود نہ تھا، جو اختلافات کے پیدا ہوجانے کی صورت میں اُن کو بروقت، صحیح طریقے سے حل کر دیتا۔ 

ابتدا اس فتنے کی بھی بظاہر کچھ بہت زیادہ خطرناک نہ تھی۔ صرف ایک شورش تھی جو بعض سیاسی اورانتظامی شکایات کی بنا پر سیّدنا عثمانؓ کے خلاف ان کے آخری دور میں اُٹھ کھڑی ہوئی تھی۔ اُس کی پشت پر نہ کوئی نظریہ اور فلسفہ تھا، نہ کوئی مذہبی عقیدہ۔ مگر جب اس کے نتیجے میں آنجناب کی شہادت واقع ہوگئی، اور حضرت علیؓ کے عہد ِخلافت میں نزاعات کے طوفان نے ایک زبردست خانہ جنگی کی صورت اختیار کرلی، اورجنگ ِ جمل، جنگ ِ صفّین، قضیہ تحکیم اور جنگ ِ نہروان کے واقعات پے درپے پیش آتے چلے گئے، تو ذہنوں میں یہ سوالات اُبھرنے اور جگہ جگہ موضوعِ بحث بننے لگے۔ ان سوالات کے نتیجے میں چندقطعی اور واضح نظریات پیدا ہوئے جو اپنی اصل کے لحاظ سے خالص سیاسی تھے، مگر بعد میں ہر نظریے کے حامی گروہ کو بتدریج اپنا موقف مضبوط کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ دینیاتی بنیادیں فراہم کرنی پڑیں اور اس طرح یہ سیاسی فرقے رفتہ رفتہ مذہبی فرقوں میں تبدیل ہوتے چلے گئے....[ان] اختلافات نے مسلمانوں کی وحدتِ ملّی کو سخت خطرے میں مبتلا کردیا۔ اختلافی بحثیں گھر گھر چل پڑیں۔ہربحث میں سے نئے نئے سیاسی، دینیاتی اور فلسفیانہ مسائل نکلتے رہے۔ ہرنئے مسئلے کے اُٹھنے پر فرقے اور فرقوں کے اندر مزید چھوٹے چھوٹے فرقے بننے لگے۔ اور ان فرقوں کے اندر باہمی تعصبات ہی نہیں ہوئے بلکہ جھگڑوں اور فسادات تک نوبت پہنچ گئی۔ (’مسلمانوں میں مذہبی اختلافات کی ابتداء‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، نومبر ۱۹۶۵ء، جلد۶۴، عدد۳، ص۳۸-۳۹)