مضامین کی فہرست


اکتوبر ۲۰۱۰

سُنن عادیہ اور سُنن ترغیبی

سوال: سنن عادیہ اور ترغیبی سنت سے کیا مراد ہے؟ نبی کریمؐ عرب رسم و رواج کے مطابق عمل کیا کرتے تھے۔ آپؐ اُونٹ یا گھوڑے پر سفر کرتے تھے لیکن آج ہم گاڑی، ریل یا ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہیں۔ آپؐ  نے تیروتلوار سے جنگ کی، جب کہ موجودہ زمانہ بندوق اور میزائل وغیرہ کا ہے۔ آپؐ  کا ایک مخصوص لباس اور رہن سہن تھا لیکن ہمارا طرزِعمل اس سے مختلف ہے۔ کیا سُنن عادیہ کا تقاضا نبی کریمؐ کے اسوہ کی پیروی نہیں؟

جواب: سنن عادیہ جن کو سنن زوائد بھی کہا جاتا ہے وہ سنتیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے عرف و رواج پر مبنی تھیں۔ ان کو قائم کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ یہ دین کا حصہ نہیں ہیں۔  سنن ترغیبی یا سنن ہدیٰ ان سنتوں کو کہا جاتا ہے جو دین کا حصہ ہیں اور ہمیں ان کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پگڑی باندھنا، تہ بند باندھنا اور تیر وتلوار کا استعمال کرنا سنتِ رسولؐ اور سنت اصحابِ رسولؐ ہے، لیکن یہ چیزیں ان سنتوں میں شامل نہیں ہیں جو سنن ہدیٰ ہیں اور جن کو قائم کرنے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے اور جن کو ترک کرنا بُرائی اور کراہیت کا سبب ہو بلکہ یہ سنن عادیہ ہیں۔ یہ آپؐ  کے دور کے رواج اور عرف پر مبنی تھے۔ تیروتلوار کا استعمال آپؐ  کے دور کے ذرائع تھے اور آج کے دور کے ذرائع راکٹ، میزائل اور جہاز وغیرہ جدید ذرائع ہیں۔ آج ہم تیروتلوار کو استعمال کرکے ثواب نہیں حاصل کرسکتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نشست و برخاست، آپؐ  کی چال ڈھال، آپؐ  کا لباس محبت کی بنیاد پر اختیار کرنا اور آپؐ  کے لباس، اور عاداتِ شریفہ، کھانے پینے کی چیزوں میں آپؐ  کی پسند و ناپسند کو اپنانا،  ان کا احترام کرنا قابلِ قدر ہے لیکن یہ سنن ہدیٰ میں شامل نہیں ہے بلکہ سنن عادیہ یا سنن زوائد ہیں۔ لباس اور کھانے پینے کے بارے میں عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: ’’جو چاہو کھائو اور جو چاہو پہنو بشرطیکہ اسراف اور تکبر سے بچتے رہو‘‘ (بخاری، کتاب اللباس)۔ مراد یہ ہے کہ لباس اور کھانے پینے کے بارے میں شریعت نے حلال و حرام کی جو ہدایات دی ہیں، ان کی پابندی کرنا تو ضروری ہے اور یہ شرعی حکم ہے کہ لباس حلال ہو، حرام نہ ہو، ٹخنوں سے نیچے نہ ہو، بدن کو ڈھانپنے والا ہو اور موجب تکبر نہ ہو۔ آج مختلف ملکوں کے علما اور نیک لوگوں کے لباس اپنے اپنے ملکوں کے رواج کے مطابق ہیں۔ ان سب کے لباس اور کھانے پینے کی حلال چیزوں کی تیاری اور ذائقوں میں فرق ہے۔ یہ سب اسلامی لباس اور اسلامی کھانے ہیں۔ عرب گوشت تیار کرتے ہیں، اس میں مرچ مسالہ نہیں ہوتا، پاکستانی کھانے، مرچ مسالے والے اور چٹ پٹے ہوتے ہیں۔ بعض ممالک میں صرف ڈبل روٹی ہوتی ہے۔ پاکستانی اور عرب ممالک کی روٹی کی طرح روٹی نہیں ہوتی۔ یہ سب سنن زوائد اور سنن عادیہ ہیں۔

یہ بات یاد رکھیں کہ کوئی شخص محبت رسولؐ کی بنا پر اسی طرز کا لباس پہنتا ہو جس طرز کا رسولؐ اللہ پہنتے تھے، مثلاً سر پر عمامہ باندھتا ہو، تہ بند باندھتا ہو، پائوں میں اسی قسم کے نعلین پہنتا ہو، مٹی کے برتنوں میں فرش پر بیٹھ کر کھاتا ہو، اسے آپؐ  کی محبت کا اجر مل جائے گا لیکن یہ کوئی حکمِ شرعی نہیں ہے۔ اسی لیے پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک کے علما کو آپ دیکھتے ہیں کہ ان کے لباس آپؐ  کے لباس اور ان کے جوتے آپؐ  کے جوتوں اور ان کے کھانے رسولؐ اللہ کے کھانوں کی طرح نہیں ہیں۔ اس لیے کہ آپؐ  نے یہ لباس اور کھانے اور تیروتلوار کا استعمال اپنے دور کے عرف و عادت کے مطابق کیا تھا، ثواب اور حکمِ الٰہی کی بنیاد پر نہیں کیا تھا۔(مولانا عبدالمالک)


سود پر قرض کے لیے تصدیق کرنا

س: ایک شخص کو سود پر قرض حاصل کرنا ہے۔ قرض لینے کے لیے اسے زمین کی فرد تقسیم یا سونا طلائی زیور بنک میں جمع کروانا ہوتے ہیں۔ کیا فرد تقسیم فراہم کرنے اور اس کی تصدیق کرنے والا اس گناہ میں شریک ہیں؟ کیا طلائی زیور کا وزن کرنے اور سونے کے کھرا ہونے کی تصدیق کرنے والا سنار مذکورہ گناہ میں شریک ہوں گے یا نہیں؟

ج: سود کا عمل زمین کی فرد نکالنے اور اس کی تصدیق کے بعد اور سونے کے زیور کے کھرا ہونے کی تصدیق کے بعد شروع ہوتا ہے۔ فرد کی تصدیق اور سونے کے کھرا ہونے کی تصدیق کے بعد مالکِ زمین اور مالکِ زیور کو اختیار ہے کہ اسے بنک میں جمع کرا کر قرض حاصل کرے یا دونوں چیزوں کی تصدیق کروانے کے بعد انھیں اپنے پاس رکھے اور قرض حاصل کرنے کے لیے بنک میں جمع نہ کرائے۔ جب ایسی صورت حال ہو تو تصدیق سودی قرض لینے میں تعاون شمار نہیں ہوتی۔ اس لیے تصدیق کرنے والے گنہگار نہیں ہوں گے۔ البتہ تصدیق کرنے والے کو سودی قرض لینے کی نیت سے تصدیق کرانے والے کو تنبیہہ کرنی چاہیے کہ ہماری تصدیق کو سودی قرض کے حصول کے لیے استعمال نہ کریں۔ اس کے باوجود،وہ باز نہ آئے تو وہ خود مجرم ہوگا۔ تصدیق کرنے والے کو اس کا گناہ نہ ہوگا۔ اس لیے قرض لینا اور سود دینا دونوں کام تصدیق کے بعد قرض خواہ کا انفرادی اور خود اختیاری عمل ہے(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، جواہر الفقہ،  مفتی محمد شفیعؒ مفتی اعظم پاکستان)۔ (ع - م)


سورج یا چاند گرہن کے موقع پر عبادت

س: سورج گرہن اور چاند گرہن کے موقع پر ایک مسلمان کو کیا کرنا چاہیے؟ اس موقع کی مخصوص کوئی دعا اور نماز ہو تو اس کی بھی وضاحت کردیں؟

ج: سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی عظمت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ دونوں ایک خاص ضابطے کے پابند ہیں۔ سورج اور چاند دونوں پر زمین کا سایہ پڑنے کے خاص مواقع ہوتے ہیں جو باقاعدہ ایک قانون اور ضابطے کی پابندی کے نتیجے میں وجود میں آتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں سورج یا چاند گرہن لگتا ہے۔ جب سورج پر زمین کا سایہ پڑتا ہے تو اس حالت کو کسوف، یعنی سورج گرہن کہا جاتا ہے، اور جب چاند پر زمین کا سایہ پڑتا ہے تو اس کو خسوف، یعنی چاند گرہن سے تعبیر کیا جاتاہے۔ رسولؐ اللہ کا فرمان ہے: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کی موت یا زندگی نہیں گہناتے ہیں۔ اگر تم انھیں گہناتا دیکھو، تو نماز پڑھو اور دعا مانگو یہاں تک کہ یہ کیفیت دُور، یعنی ختم ہوجائے (مسلم)۔ رسولؐ اللہ کے اس فرمان میں اُس وقت کے عامۃ الناس میں پھیلی ہوئی اس غلط سوچ کی تردید کی گئی ہے کہ سورج اور چاند شاید کسی کی موت یا زندگی پر گہناتے ہیں، یا کسی کے غم میں یہ سیاہ ہوجاتے ہیں، یا ان کی روشنی کسی مصیبت اور پریشانی کی وجہ سے ماند پڑتی ہے۔

اس حدیث سے یہ بات لوگوں پر واضح کردی گئی ہے کہ دراصل سورج اور چاند دونوں  اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہیں۔ دونوں عظیم نعمتیں ہیں جن پر مخلوقات کی زندگی کا دارومدار ہے۔ گرہن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، اوراتنی بڑی دو نشانیاں بھی اللہ کے قبضۂ قدرت سے باہر نہیں ہیں۔ وہی عطا کرنے والا ہے،و ہی سلب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بڑی سے بڑی چیز اجرامِ فلکی، ستارے اور سیارے بھی اُس کی گرفت سے آزاد نہیں ہیں، انسان تو بہت معمولی مخلوق ہے۔ اس کو اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی، بے بسی اور بندگی کا اظہار کرنا چاہیے اور ان کیفیات کا اظہار نماز، سجدے اور رکوع کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے۔

سورج گرہن کے موقع پر رسولؐ اللہ سے دو رکعت نماز پڑھنا ثابت ہے۔ یہ نماز عام طور پر ادا کی جانے والی دورکعت نماز کے طرز پر ہوتی ہے۔ چار رکعت پڑھنا بھی جائز ہے۔ قراء ت کرنا سنت ہے۔ رکوع اور سجدے بھی طویل ہونے چاہییں اور اپنے گناہوں پر ندامت، توبہ تائب ہونے کے جذبے کے ساتھ خوب رو رو کر گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کی جانی چاہییں۔ سورج گرہن کی نماز کے لیے اذان و اقامت نہیں، صرف الصلٰوۃ جامعۃ ، یعنی نماز تیار ہے، کا اعلان کیا جاتا ہے اور جماعت کھڑی کی جاتی ہے۔ مسلمانوں کے سیاسی اور انتظامی ذمہ داروں کی امامت میں نماز کا ہونا زیادہ پسندیدہ اور مستحسن ہے۔ یہ نماز مسجد میں بھی پڑھی جاسکتی ہے، اور باجماعت انتظام نہ ہونے کی صورت میں تنہائی میں انفرادی طور پر بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ سورج گرہن کی نماز کے لیے ممنوعہ اوقات کا لحاظ رکھا جائے۔ ان اوقات میں نماز کے بجاے صرف دعا پر اکتفا کیا جائے۔

سورج گرہن اور چاند گرہن دونوں موقعوں پر گرہن کی نماز ادا کی جاتی ہے، البتہ چاند گرہن کے موقع پر گھروں میں انفرادی نماز کو ترجیح دی جائے گی۔ ان دونوں نمازوں کی کوئی قضا نہیں ہے۔ اگر بروقت یہ نماز نہ پڑھی گئی تو بعد میں اس کی ادایگی نہیں ہے، البتہ نوافل پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس طرح سورج گرہن اور چاند گرہن دونوں مواقع پر اللہ تعالیٰ کے حضور دو چار رکعت نماز ادا کرنا چاہیے۔گرہن کو کسی کی موت و پیدایش یا حادثے اور المیے کے ساتھ منسلک نہیں سمجھنا چاہیے۔ (مصباح الرحمٰن یوسفی)

حیات النسائ: (مناکحات)، میاں مسعود احمد بھٹہ ۔ ناشر: آہن ادارہ اشاعت و تحقیق، لاہور۔ ملنے کا پتا: ۳-انجمن اسلامیہ بلڈنگ، ۳۹-لوئرمال، لاہور۔ صفحات: ۷۸۱۔ قیمت (مجلد): ۸۰۰ روپے۔

دورِ جدید کے مسائل میں جہاں معیشت بنیادی اہمیت اختیار کرگئی ہے وہاں معاشرتی مسائل بالخصوص اسلامی نظامِ حیات سے مناسب واقفیت نہ ہونے کے سبب ازدواجی زندگی افراط و تفریط کا شکار ہوگئی ہے۔ وہ گھرانے بھی جو بظاہر دین دار شمار کیے جاتے ہیں، بہت سی ایسی رسومات و رواج کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں جو اسلام کی روح کے منافی ہیں۔ ایک جانب ایمان و تقویٰ پر   درس ہوتا ہے تو دوسری جانب ’برادری کی عزت‘ کے نام پر ان جاہلی رسوم پر عمل بھی ہوتا ہے جنھیں دور کرنے کے لیے اسلام آیا تھا۔

اسلام سے عمومی ناواقفیت کی بنا پر آج بھی عالمِ اسلام بشمول پاکستان میں خاندانی زندگی اور معاملات میں بے شمار غیراسلامی روایات پر عمل کیا جا رہا ہے۔ اس لیے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ سرکاری اور غیرسرکاری نظامِ تعلیم میں خاندان کی اہمیت، مرکزیت اور اس کے قیام و بقا کے حوالے سے مفصل ابواب شامل کیے جائیں، تاکہ آنے والی نسلیں وہ غلطیاں اور حماقتیں نہ کریں جو ان کے بزرگ عرصے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔

میاں مسعود احمد بھٹہ صاحب کی تالیف حیات النساء (مناکحات) اس حیثیت سے ایک بروقت تالیف ہے جس میں آدابِ زوجیت، نکاح، حق مہر، طلاق و عدت اور شوہر اور بیوی کے باہمی حقوق پر بہت مفید مواد جمع کر دیا گیا ہے۔ زیرتبصرہ کتاب حیات النساء کے زیرعنوان مجوزہ تین جلدوں پر مبنی تالیف کی جلد دوم ہے جسے جلد اوّل اور سوم سے قبل طبع کر دیا گیا ہے۔

کتاب سلیس زبان میں لکھی گئی ہے اور مناکحات کے باب میں پیش آنے والے اکثر مسائل و معاملات پر قیمتی مواد یک جا کر دیا گیا ہے۔ گو قرآن و حدیث کے حوالے مکمل دیے گئے ہیں لیکن دیگر ذرائع سے اخذ کردہ معلومات کے حوالوں میں علمی تحقیق کے رویے کو بنیاد نہیں بنایا گیا ہے۔ اگر ہر حوالہ مکمل ہوتا تو پڑھنے والوں کو مزید لوازمے تک پہنچنے میں آسانی ہوتی اور کتاب کی تحقیقی قدرو قیمت میں اضافہ ہوجاتا۔ بعض مقامات پر غیرضروری معلومات بھی دے دی گئی ہیں جنھیں باآسانی حذف کیا جاسکتا تھا۔

بعض مقامات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کتاب کے آغاز میں زوجیت اور مقاصدِ حیات کے زیرعنوان شوہر اور بیوی کے درمیان ’مساویانہ‘ رویے پر زور دیا گیا ہے (ص ۴) جو بادی النظر میں بالکل درست ہے، لیکن اس کا یہ مدعا لینا غلط ہوگا کہ اسلام مغربی تہذیب کی طرح عورت اور مرد کی مساوات کا قائل ہے۔ بلاشبہہ، انسانی بنیاد پر سورئہ نساء نے بات کو واضح کر دیا کہ چونکہ دونوں کو ایک نفس سے پیدا کیا گیا ہے اس لیے ان میں خون، رنگ، نسل وغیرہ کی تفریق نہیں کی جاسکتی اور دونوں اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی مخلوق ہیں جن سے وہ یکساں محبت کرتا ہے لیکن یہ کہنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت بھی دیتا ہے اور ’فرائض‘ میں واضح طور پر فرق کرتا ہے۔ دراصل اس موضوع اور اس جیسے دیگر موضوعات پر مغربی اور مشرقی اقوام کے اعتراضات سے بلند ہوکر صرف اور صرف قرآن و سنت کی بنیاد پر ان مسائل کا حل اور تعبیر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس میں کسی قسم کے سمجھوتے کی ضرورت نہیں۔

آغاز ہی میں ایک راے کا اظہار کیا گیا ہے: ’’ہمیں جدید زوجیت کی ابتدا میں آدم و حوا کی صورت میں انسانی جوڑے کی خوب صورت پہچان ملتی ہے جس میں (عورت) حوا نے جنت سے نکالے جانے کے بعد زمین میں ایک طویل عرصے تک اپنے ساتھی ’زوج‘، یعنی آدم ؑ کا انتظار کیا۔ اس طرح عورت میں مرد کے ساتھ وفاداری کے جذبے کی شناخت ہوئی اور عورت (حوا) کے اس انتظار نے اپنے جوڑے سے تعلق اور محبت کا عملی ثبوت فراہم کیا، اور آج بھی حوا کی بیٹیاں اپنے جوڑے، یعنی مرد کے لیے صبر اور شکر اور محبت کے حقیقی جذبات لیے انتظار کرتی رہتی ہیں۔ آدم ؑ و حواؑ کا جوڑا زوجیت کی اوّلین بہترین مثال ہے‘‘۔ (ص ۵)

مؤلف نے بغیر کسی قرآنی آیت اور حدیث یا آثار کے حوالے کے یہ کہنا چاہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ فرمایا: قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْھَا جَمِیْعًا (البقرہ۲:۳۸) ،یعنی تم سب یہاں سے اُتر جائو تو یہ کام قسطوں میں ہوا۔ پہلے سیدہ حواؑ کو بھجا گیا چنانچہ وہ عرصے تک حضرت آدمؑ کی منتظر رہیں اور پھر حضرت آدمؑ کو نیچے اُتارا گیا۔ حالانکہ بات واضح ہے کوئی وجہ نہیں کہ پہلے سیدہ حواؑ کو دنیا میں بھیجا جاتا اور اس کے کچھ عرصے بعد حضرت آدمؑ کو، جب کہ دونوں کو بیک وقت عفو و درگزر کے بعد جس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا تھا اس کی تکمیل، یعنی زمین پر اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کی خلافت اور     امر بالمعروف ونہی عن المنکر کے فریضے کی ادایگی کے لیے ایک مقررہ مدت کے لیے اُتارا گیا۔

کتاب بحیثیت مجموعی مفید ہے۔ اگر اختصار کا پہلو اختیار کیا جاتا تو یہ قیمتی مواد کم صفحات میں بھی آسکتا تھا اور زیادہ آسانی سے مطالعہ کیا جاتا۔ (ڈاکٹر انیس احمد)


رُک جایئے(منہیات کا انسائی کلوپیڈیا) الشیخ ابوذر محمد عثمان۔ ناشر: مکتبہ اسلامیہ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۳۷۲۴۴۹۷۳-۰۴۲۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: درج نہیں۔

دین کی اصل تعلیم احکامات ہیں جن کی دو صورتیں ہیں: امر اور نہی، یعنی ایسے کام جن کے انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے اور ایسے کام جن کے کرنے سے روکا گیا ہے۔ ان احکامات کی بجاآوری کے پیش نظر علماے دین نے ان کی درجہ بندی بھی کی ہے، مثلاً: حرام، مکروہ، مکروہِ تحریمی، مکروہِ تنزیہی اور حلال، جائز، مباح وغیرہ۔ اس موضوع پر اُردو میں شائع ہونے والی مفصل کتاب علامہ یوسف القرضاوی کی الحلال والحرام فی الاسلام کا ترجمہ ہے (حلال و حرام، مطبوعہ اسلامک پبلی کیشنز)۔ اب کئی کاوشیں سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک رُک جایئے بھی ہے جس کا ذیلی عنوان ہے: ’’اللہ اور اس کے رسولؐ نے منع کیا ہے‘‘، اور اسے ’منہیات کا انسائی کلوپیڈیا‘ قرار دیا گیا ہے۔ مصنف نے قرآنِ مجید اور احادیث نبویؐ میں وارد اوامر و نواہی کو فقہی ترتیب اور عنوانات کے تحت اختصار کے ساتھ مرتب کیا ہے۔ طہارت، نماز، جنازہ، زکوٰۃ، روزہ، حج، تجارت، نکاح و طلاق، جہاد، کھانے پینے، قسموں، نذروں، طب، لباس اور آداب کے مسائل سے متعلق ممنوعات کو بیان  کیا گیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ کتاب اُن بڑے بڑے امور کی نشان دہی کرتی ہے جن سے ایک مسلمان کو اجتناب کرنا چاہیے۔

کتاب وسنت کی منہیات سے آگاہی یقینا ہر مسلمان کو ہونا چاہیے۔ اس اعتبار سے یہ مختصر ضخامت کی کتاب بہت سے مسائل کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ مصنف نے جہاں ضروری سمجھا ہے آیت یا حدیث کی وضاحت بھی کردی ہے۔ اطاعتِ رسولؐ پر بہت مؤثر مقدمہ شامل کتاب ہے۔ بیرونی اور اندرونی بہت سی خوبیوں کی حامل یہ کتاب کچھ عربی طرزِ تصنیف کا رنگ لیے ہوئے ہے۔  بعض مسائل کی ممانعت درج کرنے کے ساتھ ہی اُن کا جواز بھی درج کردیا گیا ہے۔ یوں عمل کا فیصلہ قاری کے لیے مشکل ہوجاتا ہے۔ کئی جگہوں پر حدیث کے مدعا کی تفہیم میں ابہام موجود ہے۔ کچھ مسائل کی تکرار بھی ہے، تاہم دیدہ زیب سرورق، عمدہ کاغذ، بہترین طباعت اور مضبوط جلد     و ڈسٹ کور سے مزین یہ کتاب ناشر کے حسنِ ذوق کی آئینہ دار ہے۔ (ارشاد الرحمٰن)


یہودی مذہب، مہد سے لحد تک، رضی الدین سیّد۔ ناشر: بیت السلام، شان پلازہ، نزد مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۲۰۳۸۱۶۳- صفحات: ۲۷۲۔ قیمت: درج نہیں۔

ہم اُردو قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایٹمی قوت اور نام اسرائیل و صہیونیت کی ہٹ لسٹ پر، سب سے اُوپر ہے اور یہ کہ آشوبِ عراق و افغانستان (اور اب پاکستان) کے پس پردہ یہود کی مسلم دشمنی ہی کام کر رہی ہے۔ چنانچہ بقول مصنف: ’’معاملاتِ عالم کو تباہی و بربادی کی جانب دھکیلنے میں اصل ہاتھ صہیونیوں کا ہے‘‘۔

لیکن خود یہودی کون ہیں؟ ان کے عقائد، ان کا مذہب اور روز مرہ معاشرتی طور طریقے کیا ہیں؟ اس بارے میں ہماری معلومات درجۂ سوم کے طلبہ کے برابر بھی نہیں ہیں۔ جناب رضی الدین سیّد نے مقدس صحیفوں (زبور و تورات) کے ساتھ یہودیوں کی بعض قدیم اور مستند کتابوں کو کھنگال کر ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو آج تک اُردو میں، اتنی عمدگی اور خوبی کے ساتھ کسی نے پیش نہیں کیں۔

یہود و یہودیت کے اس تعارف میں، مصنف نے ان کے عقیدۂ توحید، تصورِ خدا، قربانی، نمازوں، یومِ سبت، مختلف تہواروں، روزوں، شادی بیاہ، طلاق، تبدیلی مذہب، میت کے کفن دفن وغیرہ، یعنی یہودی شریعت اور یہودی فقہ کی جزئیات اور تفصیل مہیا کردی گئی ہے۔

موسوی شریعت میں ان کی تحریفوں اور محمدی شریعت سے مماثلتوں کا ذکر بھی کیا ہے۔ بتایا ہے کہ مسلمانوں اور یہودیوں میں مماثلت کے پہلو موجود ہیں۔ مثلاً: یہودی بھی مسلمانوں کی طرح خدا اور بندے کے درمیان کسی واسطے کے قائل نہیں ہیں۔ یہودی مذہب بھی ایک مکمل نظامِ زندگی ہے۔ نماز، روزہ لازمی ہے (تفصیل میں اختلاف ہے۔ مردوں کے لیے دن میں تین نمازیں اور عورتوں کے لیے صرف دو نمازیں فرض ہیں۔ نماز باجماعت کو ترجیح حاصل ہے۔ لازمی روزے سال بھر میں صرف چھے ہیں)۔بچوں کا ختنہ ضروری ہے۔ وہ ذبیحے کے قائل ہیں۔ سود کو حرام سمجھتے ہیں۔ ہدایت ہے کہ میت کی تدفین میں جلدی کی جائے۔ کفن سفید ہو۔ مرنے والے کی طرف سے صدقہ و خیرات کریں۔ یہودی بچوں کو صبح بیداری اور سوتے وقت کی جو دعائیں سکھاتے ہیں، وہ مسلم دعائوں سے بڑی حد تک مماثل ہیں وغیرہ۔ ان وجوہ سے یہودی کی ’بہت سی خوبیاں‘ انھیں ’اسلام سے قریب تر‘ کردیتی ہیں (ص ۱۳)۔ اور ’اس لحاظ سے یہودیوں کو فی الاصل مسلمانوں ہی کا دوست اور خیرخواہ ہونا چاہیے لیکن تین ہزار سالہ ہٹ دھرمی اور اپنی نسل کے اعلیٰ و ارفع ہونے کے تصور نے انھیں مسلمانوں کا دشمن بنا دیا ہے‘‘ (ص ۱۳)۔ تمام غیر یہودیوں کو ’جاہل اور وحشی‘ سمجھتے ہیں۔ پس خدائی چہیتے اوراعلیٰ ترین نسل ہونے کے خبط ہی نے انھیں ’دوسری قوم سے برتر‘ بنا کر گمراہی کے راستے پر ڈالا۔ اس گمراہی کے کئی پہلو ہیں، مثلاً: یہودی اپنی تقریبات بلکہ عبادات تک میں، شراب کا استعمال ضروری سمجھتے ہیں۔ سودی کاروبار پھیلانے میں انھی کا ہاتھ ہے۔ اِسی طرح ’تقیّہ‘ کو بھی جائز سمجھتے ہیں۔ اور اسی تقیّے کے تحت غیریہودیوں کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے شرعی احکام سے تجاوز اور نتیجتاً اُن پر ظلم و زیادتی بھی اُن کے نزدیک بالکل جائز ہے (ص ۱۱۱)۔ جس کی ایک واضح مثال، فلسطینیوں سے ان کا نفرت انگیز رویّہ ہے۔

مصنف نے کتاب کے آخری حصے میں یہودیوں کی تاریخ اور اسرائیل کے قیام کے بارے میں ضروری کوائف شامل کیے ہیں۔ مزیدبرآں عبرانی زبان، یہودی کیلنڈر، یومِ سبت، ہولوکاسٹ، اسرائیل کا قومی ترانہ، قومی پرچم، دیوار گریہ کی وضاحت کی گئی ہے (یومِ سبت کو حسب ِ ہدایت ’منانا‘ اچھا خاصا گورکھ دھندا معلوم ہوتا ہے)۔

مصنف کہتے ہیں کہ ’’بہت سے مسلمانوں کی طرح، یہودیوں میں بھی مذہب پر عمل پیرا (practicing) یہودی کم ہیں اور اُن میں بھی دورِ جدید کی وبا کی طرح سیکولرزم اور لبرل ازم در آیا ہے جس کی بنیاد پر، وہ بڑی حد تک مذہب سے بیزار نظر آتے ہیں، تاہم یہ بات طے ہے کہ یہودی چاہے لبرل ہوں، قدامت پرست ہوں یا دہریہ، وہ بہرحال یہودی رہتے ہیں‘‘۔ (ص ۲۶۴)۔ ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر اور مفتی ابولبابہ شاہ منصور نے تقریظات میں جناب رضی الدین سیّد کی زیرنظر کاوش کو بجا طور پر مستحسن قرار دیا ہے۔ معیارِ اشاعت بھی اطمینان بخش ہے البتہ آیاتِ قرآنی پر اعراب کا اہتمام ضرور کرنا چاہیے، نیز: ’زکریا‘ درست ہے نہ کہ ’ذکریا‘ (ص ۲۰)۔ (رفیع الدین ہاشمی)


عزیمت کے راہی، دوم، حافظ محمد ادریس۔ ناشر: ادارہ معارف اسلامی، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۳۲۰۔ قیمت (مجلد): ۲۳۵ روپے

برعظیم پاک و ہند میں تحریکِ اسلامی کا موجودہ قافلہ سیدابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ کا صدقۂ جاریہ ہے، جس نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال اور عمل کی لذت سے سرشار کیا ہے۔ اس تحریک کے بے شمار وابستگان کی زندگیاں کئی حوالوں سے شان دار مثالوں کا عنوان ہیں۔ اس دنیا میں آنے والے ہر فرد نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے، اسی قانونِ قدرت کے تحت اس قافلے کے رفتگان بھی اپنی یادوں کا سرمایہ چھوڑ کر آخرت کو سدھارتے ہیں۔

حافظ محمد ادریس کے رواں قلم نے ان افراد کی زندگیوں کی یادوں کو قلم بند کرنے کے لیے مقدور بھر کاوش کی ہے۔ ان کی یہ یادداشتیں اور تاثرات ہفت روزہ ایشیا لاہور میں اشاعت پذیر ہوتے رہے ہیں۔ اب نظرثانی اور اضافوں کے بعد انھیں کتابی شکل دی گئی ہے۔ مصنف ان مرحومین کے ساتھ اپنے کسی نہ کسی ذاتی تعارف یا شخصی ربط کے حوالے سے تذکرے کا باب کھولتے ہیں، پھر شخصیت کی دینی خدمات، پُرکشش کردار اور وسیع اثرات کو موضوعِ تحریر بناتے ہیں۔ اس طرح یہ مختصر اور درمیانی ضخامت پر پھیلے ہوئے تذکرے درحقیقت دین سے وابستگی کی بنیاد پر متشکل ہوتے ہیں۔ جن کو روشن مثالوں اور زندہ جذبوں کے آئینے میں دیکھا جاسکتا ہے۔ ان تذکار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مذکورہ مرحومین کے اہلِ خاندان، برادریاں اور علاقے کے لوگ بھی ان سے نسلی یا علاقائی وابستگی کے باعث ایک ذاتی کشش، زندہ کسک اور عمل کی دعوت کو محسوس کرسکتے ہیں۔

کتاب میں حسب ذیل حضرات کا تذکرہ ہے: مولانا جان محمد عباسی، محمد مامون الہضیبی،   ملک غلام علی، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا فتح محمد، مولا محمد سلطان، میاں فیض الدین، طالب الہاشمی، آسی ضیائی، زیلم خان شہید، حافظ محمد سرور، ملک ظفراللہ خان، چودھری سلطان احمد، مختار حسن، خالد بزمی، ڈاکٹر محمد سعید، ڈاکٹر جمیل الرحمن، مولانا شمس الدین، ضیاء الرحمن، عبیدالرحمن مدنی، شیخ عبدالرشید، سوہنے خاں، جب کہ خواتین میں ساجدہ زبیری، عطیہ راحت، زیب النسائ۔ بنیادی طور پر یہ تذکرہ  مولانا مودودی علیہ الرحمہ کی برپا کردہ تحریکِ اسلامی سے وابستہ شخصیات کا ہے، تاہم اس میں بعض ایسی شخصیات کا ذکر بھی آگیا ہے، جن کا شخصی تعلق اگرچہ مولانا مودودی سے، یا جماعت اسلامی سے نہ تھا،  مگر بالواسطہ ان کا تعلق قافلۂ احیاے اسلامی ہی سے ہے۔(سلیم منصور خالد)


تعارف کتب

  • حج و عمرہ کی قبولیت ___ مگر کیسے؟ ڈاکٹر رحمت الٰہی۔ الفوزاکیڈمی، سٹریٹ ۱۵، E-4/11، اسلام آباد۔ فون: ۲۵۱۸۸۲۹- ۲۲۲۲۴۱۸-۰۵۱۔ صفحات: ۱۲۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔ [مصنف نے اپنے ۲۰۰۸ء کے سفرِحجاز کے تجربات و مشاہدات کی مدد سے زائرین حج و عمرہ کے لیے ایک مفید کتاب تیار کی ہے جس میں بقول مصنف: ’’کوشش کی گئی ہے کہ دعائوں اور اس کی روح کے ساتھ حج پر لکھی گئی تمام کتب کا نچوڑ آجائے‘‘۔ کتاب میں ضروری مسائل، زائرین کے لیے ہدایات اور دعائیں بھی شامل ہیں۔ تیسرا باب (حج کا حاصل) اہم اور  توجہ طلب ہے۔ مصنف کا موقف یہ ہے کہ زائرین، مناسکِ حج و عمرہ ’’ان کی اصل روح کے ساتھ ادا کریں تاکہ وہ گوہرمقصود ہاتھ آئے، جس کے لیے بہت بڑے پیمانے پر لگایا جانے والا سرمایہ، گھر اور بچوں سے دور اُٹھائی جانے والی پُرمشقت قربانیاں، رائیگاں نہ جائیں‘‘ (ص ۱۱)۔ یہی ’’قبولیت کیسے؟‘‘ کا جواب ہے۔]

اقامت ِدین کا تصور

’دین حق‘ اور ’اقامت ِ دین‘ کے تصور میں بھی ہمارے اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان اختلاف ہے۔ ہم دین کو محض پوجا پاٹ اور چند مخصوص مذہبی عقائد و رسوم کا مجموعہ نہیں سمجھتے بلکہ ہمارے نزدیک یہ لفظ طریق زندگی اور نظامِ حیات کا ہم معنی ہے، اور اس کا دائرہ انسانی زندگی کے سارے پہلوئوں اور تمام شعبوں پر حاوی ہے۔ ہم اس بات کے قائل نہیں ہیں کہ زندگی کو الگ الگ حصوں میں بانٹ کر الگ الگ نظریات اور الگ الگ اسکیموں کے ماتحت چلایا جاسکتا ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اس طرح کی تقسیم اگر کی بھی جائے تو وہ قائم نہیں رہ سکتی، کیونکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلو، انسانی جسم کے اعضا کی طرح ایک دوسرے سے ممیز ہونے کے باوجود آپس میں اس طرح پیوستہ ہیں کہ وہ سب مل کر ایک کُل بن جاتے ہیں اور ان کے اندر ایک ہی روح جاری و ساری ہوتی ہے۔ یہ روح اگر خدا اور آخرت سے بے نیازی اور تعلیمِ انبیا ؑ سے بے تعلقی کی روح ہو تو پوری زندگی کا نظام ایک دینِ باطل بن کر رہتا ہے اور اس کے ساتھ خدا پرستانہ مذہب کا ضمیمہ اگر لگا کر رکھا بھی جائے تو مجموعی نظام کی فطرت بتدریج اس کو مضمحل کرتے کرتے آخرکار بالکل محو کردیتی ہے۔ اور اگر یہ روح خدا و آخرت پر ایمان اور تعلیمِ انبیا ؑ کے اتباع کی روح ہو تو اس سے زندگی کا پورا نظام ایک دینِ حق بن جاتا ہے جس کے حدود عمل میں ناخدا شناسی کا فتنہ اگر کہیں رہ بھی جائے تو زیادہ دیر تک پنپ نہیں سکتا۔

اس لیے ہم جب ’اقامت ِ دین‘ کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے ہمارا مطلب محض مسجدوں میں  دین قائم کرنا، یا چند مذہبی عقائد اور اخلاقی احکام کی تبلیغ کر دینا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ گھر اور مسجد، کالج اور منڈی، تھانے اور چھائونی، ہائی کورٹ اور پارلیمنٹ، ایوانِ وزارت اور سفارت خانے، سب پر اُسی ایک خدا کا دین قائم کیا جائے جس کو ہم نے اپنا رب اور معبود تسلیم کیا ہے، اور سب کا انتظام اُسی ایک رسولؐ کی تعلیم کے مطابق چلایا جائے جسے ہم اپنا ہادیِ برحق مان چکے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہیں تو ہماری ہر چیز کو مسلمان ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی کے کسی پہلو کو بھی ہم شیطان کے حوالے نہیں کرسکتے۔ ہمارے ہاں سب کچھ خدا کا ہے شیطان یا قیصر کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ (’اشارات‘  سید ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۳۴، عدد۶، ذی الحجہ ۱۳۶۹ھ، اکتوبر ۱۹۵۰ئ، ص۴-۵)