زیرنظر مطالعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مغربی فکر و عالمی اداراتی یلغار، مسلم اورعرب دنیا کی کن خطوط پر نقشہ گری کرنا چاہتی ہے۔ان معلومات کا مقصد معاشرتی تخریب پر نظر رکھنا اور تعمیروتہذیب کو فروغ دینے کے لیے فرضِ منصبی ادا کرنا ہے۔ یہ مقالہ ڈیوک یونی ورسٹی کے تحقیقی مجلّے Public Culture میں شائع ہوا ہے۔ ادارہ
ہم جنسیت زدوں کی کوکھ سے کوئی جنم لے یا نہ لے ،لیکن پچھلے دو عشروں میں ان کی تحریک سے جن اہم مباحث اور سماجی معرکوں نے جنم لیا ہے، وہ ہے ’ہم جنسیت زدگان کے حقوق‘ کے لیے بلند آہنگ۔ اس تحریک اور پروجیکٹ نے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ’امریکی حقوق انسانی کے نعروں‘ کو خاص طور پر استعمال کیا ہے۔پھر سفید فام مغربی خواتین کی تحریک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ایسا مشنری کردار اپنایا اور ایسی صورتِ حال پیدا کر دی، جس سے دنیا بھر میں متضاد خیالات پر بحث مباحثے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
سفید فام مغربی خواتین کی تحریک نے جوں ہی غیر مغربی دنیا کی خواتین کی تحریکوں پر اپنا ’نو آبادیاتی نسائیت‘ (Colonial Feminism) پر مبنی نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کا آغاز کیا ، تو اپنے اہداف و مطالبات کو عالم گیر بنانے کے لیے یہی حربے استعمال کیے تھے۔اس سلسلے میں سفید فام مردوں کی تنظیمیں مثلاً ’ہم جنس زدہ مردوزن کی عالمی تنظیم‘ ،’الگا‘(International Lesbian and Gay Association ILGA)، ہم جنس پسند مردوزن کے شہری حقوق کا کمیشن ’اگلہرچ‘ (International Gay and Lesbian Human Rights Commission) بھی ان تحریکوں سے پیچھے نہیں ہے، اور ’ہم جنسی حقوق‘ کی وکالت کے لیے ہر جگہ موجود ہیں۔
تنظیم’الگا‘ ، ۱۹۷۸ء میں، امریکی صدر جمی کارٹر کےدورِحکومت میں قائم کی گئی تھی، تاکہ اشتراکی ریاستوں اور تیسری دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزوں کا ڈھنڈورا پیٹا جا سکے۔ اس تنظیم کا مقصد بین الاقوامی سطح پر ’ہم جنس زدہ مردوں، عورتوں، اور خواجہ سراؤں‘ کی شناخت اور آزادی کے لیے، کانفرنسوں کے ذریعے پرچار اور تحفظ کرنا ہے۔
جہاں تک ’اگلہرچ‘ کا تعلق ہے، اس کا قیام ۱۹۹۱ء میں عمل میں آیا، اور اس کا مشن ’جنسی رجحان، صنفی شناخت، اور ’ایڈز‘ کی بنیاد پر پائے جانے والے تعصب اور بدسلوکی کے رجحانات کو کنٹرول کرنا اور اس حوالے سے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
پس، یہ ادارے، تنظیمیں اور ان کے اہداف، منصوبے اور لائحہ عمل اور موقف سب مل کر ایک ایسے خیالی اور موہوم انسانی گروہ کو حقیقت کا رنگ دے کر پیش کرتے ہیں، جسے ان کی زبان میں ’عالمی ہم جنس تحریک‘ (Gay International ) کہا جا تاہے۔
امریکی سرزمین پر انسانی حقوق کے بڑے ادارے( ہیومن رائٹس واچ، ایمنسٹی انٹرنیشنل)، اور بہت سی سفید فام مغربی حقوق نسواں کی تنظیموں، اور عالمی ہم جنس پسندوں نے اپنے اس موقف اور ایجنڈے کی وکالت کے لیے مسلم دنیا میں ایک خاص مقام اور جگہ کا حصول طے کر رکھا ہے، جو اپنی اصل میں ’مستشرقین‘ کا تسلسل ہے۔ اس کے لیے امریکا اور یورپ میں مقیم، مسلم دنیا کے پڑھے لکھے اذہان کو چُنا جا رہا ہے، تاکہ وہ مغرب میں مقیم مسلمانوں کو خاص طور پر اور غیر مغرب میں مقیم مسلمانوں کو عام طور پر ’انسانی حقوق کے جدیدفلسفے‘ کی تعلیم و تفہیم کراسکیں۔
اس سارے عمل میں ’عالمی ہم جنس تحریک‘ قدرے دیر سے شامل ہوئی۔ اس لیے دوسری تنظیموں کے قدم کے ساتھ قدم ملانے کے لیے اس تنظیم کے مشنری کاموں کے حامیوں نے مسلم دنیا کو متاثر کرنے کے لیے دوطرح کا لٹریچر تیار کیا ہے۔ ایک تو امریکن یا یورپین سفید فام ہم جنس پسند مرد دانش وروں (Gay Scholars) کا لکھا ہوا ہے، جو زیادہ تر نصابی، تاریخی، ادبی اور سماجی نظریات پر مشتمل فکری لوازمہ ہے۔ یہ گروہ عرب اور مسلم دنیا کے ماضی اور حال میں ’ہم جنس پسندی‘ کے واقعات اور مثالیں تلاش کرکے لاتا ہے۔ مسلم دنیا کے موجود ہم جنس پسندوں کی زندگی کے احوال صحافتی رپورٹوں اور تحقیق کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے، اور پھر ہم جنس پسندی کو مزید آگے بڑھانے کی تاکید بھی کسی نہ کسی انداز سے کی جاتی ہے۔ اس لٹریچر کا ایک اور مقصد مغرب کے ہم جنسیت پسند سفید فام سیاحوں کو اس امر سے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ مسلم اور عرب دنیا میں سیر کے دوران کہاں کہاں انھیں یہ ذرائع اور مواقع دستیاب ہیں۔
مسلم دنیا کے حوالے سے اس تنظیم کا ایک اور مشن یہ بھی ہے کہ عرب ا ور مسلم دنیا میں ’مرد و زن ہم جنسیت پسندوں‘ کی الگ شناخت اور حیثیت کو تسلیم کروایا جائے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ الگ شناخت تسلیم نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حقوق محفوظ نہیں ہیں اور وہ جبر کا شکار ہیں، نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو مرد یا عورت ظاہر کرنا پڑتا ہے___ حالانکہ یہ اپنے آپ کو ان دونوں مسلّمہ اصناف سے الگ رکھتے ہوئے ایک تیسری صنف کے طور پر رہنا چاہتے ہیں۔ ILGA کی شریک سیکرٹری لزاپاور کا کہنا ہے کہ ’’بیش تر مسلم ممالک کی ثقافتیں ہم جنس زدگان کے منظم گروہوں کو سماجی اور قانونی طور پر تسلیم نہیں کرتیں، اس لیے یہاں ہم جنسیت پسندوں کے منظم ہونے سے یہ لوگ بہت گھبراتے ہیں ،حالانکہ ان ممالک کی ثقافتوں میں مردانہ ہم جنس پسندی کی جڑیں بہت گہری ہیں‘‘۔
’نیشنل گے اینڈ لیزبین ٹاسک فورس‘ (NGLTF)کے انفارمیشن ڈائریکٹر اور تنظیم ’الگا‘ (ILGA ) کے ایک افسر رابرٹ بَرے کے مطابق: ’’ثقافتی اختلافات، لوگوں میں ہم جنس زدگی کے مختلف تعارفوں اور اقسام کی وجہ بنتے ہیں، لیکن اصل سوال تو جنسی آزادی کا ہے اور جنسی آزادی وہ منہ زور جذبہ ہے، جو فتی بندشوں سے بالاتر ہے‘‘۔ مراکش اور جنوبی اسپین میں، ہم جنس پروری کے حوالے سے موصوف نے لکھا ہے کہ ’’کم سے کم ایک لڑکے نے ہم جنس پسندی کی کھلے عام خواہش کا اظہار کیا تھا اور کسی متعین جنس (مرد، عورت) کے زمرے میں نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ مجھ جیسے اور لوگ بھی یہی چاہتے ہیں‘‘۔ اس طرح ایک فرد کی گفتگو پر انحصار کرتے ہوئے رابرٹ بَرے نے ایک قطرے میں دجلہ دیکھتے ہوئے اعلان کیاکہ ’’یہ آرزو آفاقی اور عالمی ہے‘‘۔
ہم جنس پسندوں کو الگ شناخت دلانے کے، ’عالمی ہم جنس پسندوں‘ کے دعوؤں کے برعکس میری راے یہ ہے کہ دراصل ہم جنس پسند مردوزن کے پروپیگنڈا لٹریچر کی پیداوار ہیں کیونکہ جہاں جہاں اس موقف یا ان تنظیموں کا وجود نہیں ہے، وہاں ایسے لوگوں کا نہ ہونے کے برابر وجود بھی عام مردم شماری میں ضم رہتا ہے۔ ہم یہ بتائیں گے کہ کس طرح یہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت یہ باور کرانا پیش نظر ہے کہ ہم جنس پسند مردوزن، جو دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں، انھیں بطور ’ہم جنس پسند‘ الگ صنف کے تمام حقوق ملنے چاہییں، اور دوسری اصناف کے برابر عزت نفس ملنی چاہیے۔تاہم، اس حوالے سے ’ہم جنسوں کی عالمی تنظیم‘ کی طرف سے کی جانے والی جدوجہد کا اثر مسلم ممالک میں ویسا اثرانگیز نہیں ہے، جیساکہ ’آزادی کی جدوجہد‘ کے دوران تھا۔
ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم نے ۱۹۹۴ء میں اسٹون وال بغاوت کی بیسویں برسی کے موقع پر ، اپنی ایک تنظیم ’الگا‘ کے توسط سے ایک نئی جارحانہ عالم گیر مہم کا آغاز کیا ۔۱۹۹۳ء میں ’الگا‘ کو اقوام متحدہ میں ’سرکاری این جی او کا درجہ ملنے کے بعد (جو بعد میں واپس لے لیا گیا) اس کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں شدت آگئی، جن میں ’ایران میں ہم جنس پسندوں کو لگنے والی پھانسیوں‘ کو روکنے کی مہم بھی شامل تھی۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے سامنے ’ہم جنس پسندوں‘ کے حقوق کے لیے مارچ کا انعقاد، ۱۹۹۹ءکے سال کو ’ہم جنس پسندوں کا سال‘ کے طور پر منانے کا مطالبہ اور ’انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ‘ کا ہم جنس پسندوںپر اطلاق کا مطالبہ بھی اس مہم میں شامل تھا۔
عرب دنیا اور ایران میں ’ہم جنسیت‘ پر تحقیقی مقالے کا مصنف ریکس ووکنر، اس وقت حیرت کے مارے سر پکڑ کر بیٹھ گیا، جب اسے معلوم ہوا کہ ایرانی اور عرب نسل کے بدن فروش مرد، اپنی صنف اور مخالف صنف سے جنسی تعلقات رکھنے میں تو کوئی عار محسوس نہیں کرتے، لیکن انھوں نے مغربی ہم جنس پسندوں کی طرح پر الگ شناخت سے بالکل انکار کر دیا۔ ریکس ووکنر شدید حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات میں تلملا کر کہتا ہے کہ ’’یہ منافقت ہے یا کوئی الگ دنیا کا معاملہ ہے کہ چار پیسے کمانے کے لیے تو ہم جنسی پر راضی ہوجانے والے یہ مرد بھی اندر سے پکے مرد کے بچے ہیں، جو روزگار کی خاطر ہم جنسیت پر تیار ہیں، لیکن اپنی شناخت بدلنے کو قطعاً تیار نہیں۔ کیا انسان فطری طور پر ہی ہر دو جنسوں کی طرف مائل ہوتا ہے یا یہ چکّر چلانا صرف ایرانی اور عرب مردوں کو آتا ہے اور مغرب کے لوگ اس حقیقت سے واقف نہیں؟‘‘
عرب اور مسلم دنیا کے ایسے مردوں کی جنسی کج روی میں پائے جانے والے اس بنیادی فرق سے ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم کوسخت تشویش لاحق ہے۔ کیونکہ مغرب میں پائے جانے والے کثیر الجہتی اور کثیر الاشکال ہم جنس پسند ایک جھنڈے تلے جمع ہونے کو تیار ہیں، لیکن عرب اور مسلم دنیا میں پائے جانے والے ایسے مرد و زن اس فعلِ بد کے لیے تیار ہونے کے باوجود ان کے جھنڈے تلے ایک عالمی ریوڑ کی شناخت اپنانے کو تیار نہیں ہیں۔ اس لیے ہم جنس پسندوں کے عالمی مشن کا مطالبہ ہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں پائی جانےوالے اس مزاحمتی کردار کو کسی نہ کسی طرح تعلیم و تربیت سے مغربیایا جائے اور روشن خیالی کی طرف مائل کرتے ہوئے استشراقِ نو کی خواہش کے مطابق ڈھالا جائے۔
مسلم دنیا اور عرب دنیا میں ہم جنسیت کے فروغ کے پیچھے وہ مالی مفادات بھی کارفرما ہیں، جو مغربی ہم جنسیت پسندوں کو یہ امور سرانجام دینے کے لیے ملتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک محقق جیفری ویکس کا کہنا ہے کہ ان وظائف کا حق دار بننے کے لیے ’’اب بہت سے مغربی ہم جنسیت پسندوں نے، ایک عرصے سے مسلم دنیا کا سفر و سیاحت اس توقع کے ساتھ شروع کر رکھا ہے کہ وہ یہاں بھی ’جنس کدوں‘ کو تلاش کر سکیں‘‘۔
جیفری ویکس نے مسلم دنیا میں آنے والی حالیہ تبدیلیوں کا گہرا مطالعہ کرتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ ثقافت سیکولر مغربی ماڈل کو اپنائے گی یا تیزی سے مذہبی عسکریت پسندی کے زیراثر آجائے گی؟‘‘۔ ایک محقق ایوریٹ روسن اور ایڈورڈ لاسی عربوں کے نویں صدی سے گیارھویں صدی کے درمیان لکھے لٹریچر کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ ’’اسلام مجموعی طور پر دیگر الہامی مذاہب کی نسبت زیادہ روادار، زیادہ آزادیاں دینے والا ،زیادہ اجازتیں اور زیادہ معاف کرنے والا مذہب ہے‘‘۔
لبنانی نژاد امریکی ابو خلیل عربی کتابوں سے ہم جنس پسندوں کے بارے میں اشعار اور قصّے کہانیاں کو پیش کرتا ہے، جن کا اسلامی تہذیب سے دُور دُور کا بھی واسطہ نہیں۔
مغرب میں عام طور پر یہ رجحان پایا جاتا ہے کہ وہ دانستہ طور پر اسلامی تہذیب سے غلط سیاق و سباق کی مثالیں نکال کر من مانی تشریحات پیش کرتے ہیں۔ مثلاً قرون وسطیٰ میں جب مغرب میں غلاموں اور خواجہ سراؤں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا اور اس وقت بعض غلام اور خواجہ سرا، مسلم ممالک میں رُتبوں پر فائز تھے۔ اس مثال کو ہم جنس پسندی کی دلیل کے طور پر پیش کرنا کہاں کی علمی دیانت ہے اور انصاف ہے۔
عرب اور مسلم دنیا میں ’جدیدیت‘ یورپی سامراجیت کے ان معاشروں پر سیاسی غلبے سے شروع ہوئی۔ نوآبادیات میں بسنے والے بھولے اور سیدھے سادے مسلمانوں نے مانع حمل اور اسقاطِ حمل کی مصنوعات اور تشہیر کو بہت عمومی انداز میں تصور کیا ۔انیسویں صدی کے وسط میں فقہ اسلامی کے کچھ مکاتب فکر نے، اسقاط حمل (اور بعدازاں خاندانی منصوبہ بندی) کے حوالے سے تقریباً وہی موقف اپنایا جو مغرب میں جڑپکڑ رہا تھا۔
اگرچہ عرب دنیا میں نوآبادیاتی تسلط نے، پھر ماضی قریب میں عرب ممالک اور مغربی حکومتوں کے درمیان من مانی شرائط پر قائم تعلقات نے، عرب دنیا کی روزمرہ زندگی کے بیش تر تہذیبی اور ثقافتی پہلوؤں کو متاثر کیا ہے۔ مغرب میں پائی جانے والی جنسی آزاد روی سے متاثر ہوکر سفیدفام عورتوں کے اسیر بننے والوں میں ابھی تک عربوں کے صرف امیر طبقات شامل ہیں۔ ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم نے ان دولت مند طبقات کے اندر اپنے بہت سے ہم پیالہ اور ہم نوالہ دلال تلاش کر لیے ہیں، جن میں سے ایک چھوٹی سی اقلیت ان امیر زادوں کی ہے جو ہم جنس تعلقات میں بھی مشغول ہیں۔تاہم وہ نہ تو ہم جنس پسندانہ شناخت کے متمنی ہیں اور نہ اس مسئلے پر ہم جنس پسندوں کے لیے کسی قسم کے مطالبات کے خواہاں ہیں۔ یہی بات ’ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم‘ کے لیے تشویش کا باعث ہے کہ وہ اپنے لٹریچر میں جس دجلہ کو مسلسل دکھا رہے ہیں، اس کا نشان قاہرہ اور بیروت جیسے میٹرو پولیٹن شہروں کے اندر موجود ہم جنسیت پسندوں کے چھوٹے موٹے گروہوں کے اندر بھی کہیں نمایاں ہوتا نظر نہیں آتا۔
واشنگٹن ،ڈی سی میں کچھ عربوں نے ایک تنظیم ضرور بنا دی ہے، جس کا نام ہے: ’گے اینڈلزبین عریبک سوسائٹی‘ (GLAS: ’گلاس‘) ۔ تاکہ عرب دنیا میں ہم جنسیت کو مقبول بنانے کی خواہش اور شناخت کو کسی نہ کسی شکل میں ضرور دکھایا جا سکے۔ اس کے بانی اور ڈائریکٹر رمزی زکریا کے مطابق: ’’عرب دنیا میں کسی ہم جنس کے ساتھ تعلقات کا مطلب: ’ہم جنسیت کا فروغ‘ نہیں لیا جاتا بلکہ اس کا مطلب محض اپنے ہم جنس سے عارضی جنسی تعلقات لیا جاتا ہے۔ یہ سرگرمی ہم جنس پسندی اس وقت کہلا تی ہے جب یہ تعلقات اس سے آگے بڑھ کر محبت وغیرہ میں تبدیل ہو جائیں، اور وہ ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہوں‘‘۔’گلاس‘ کو اُمید ہے کہ عرب دنیا میں آنے والی تبدیلی وہی رُخ اختیار کرے گی، جو اس ضمن میں یورپ اور امریکا میں روزافزوں ہے۔ اس لیے عرب ہم جنس زدگان کی تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ’’اگرچہ عرب مرد ہم جنس پسندی کی واضح شناخت کے متمنی نہیں ہیں، لیکن کسی نہ کسی شکل میں اس خواہش کا اظہار تو ہو رہا ہے۔ اس لیے ’گلاس‘ ان کی نمایندگی کا دعویٰ رکھتی ہے‘‘۔
ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم کو ،عالمی سطح پر دو اور حوالوں سے تعاون حاصل ہے: پہلا یہ کہ ’دنیا بھر میں ایڈز کے پھیلاؤ کا مسئلہ‘ اور دوسرا عرب اور مسلم دنیا میں ریڈیکل اسلامک عناصر کے پھیلاؤ کا مسئلہ۔ ایڈز کے مرض کو عام طور پر چونکہ ہم جنسیت سے جوڑا جاتا ہے اس لیے مذکورہ عالمی تنظیم اس مسئلے کو اپنے حق میں استعمال کرتی، اور مغربی سیاسی و سماجی اداروں کی حمایت حاصل کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ پچھلے بیس برسوں میں مغرب میں عرب اور مسلم دنیا میں ریڈیکل تنظیموں کے حوالے سے ، اس قدر خوف پھیلایا گیا ہے کہ عام لوگ اس کی روک تھام کے کسی بھی قدم کی حمایت کو تیار ہوجاتے ہیں اور یوں ہم جنس زدگان کی عالمی تنظیم مغرب میں یہ تاثر دیتی آرہی ہے کہ وہ کم از کم عرب امیر زادوں کو ’اس راستے‘ پر ڈال کر عرب دنیا میں اسلامی انقلاب کا راستہ روک رہی ہے۔
امریکا میں مقیم ایک پاکستانی فیصل عالم ’ہم جنس زدہ ٹاسک فورس‘ کا ایک اہم کارندہ ہے۔ اس نے ۱۹۹۷ء میں ’الفاتحہ فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی، جو مسلمان ’ہم جنس پسندوں‘ کی ’نمایندگی‘ کی دعوے دار ہے۔ موصوف کے بقول: ’’ہم جنسیت پسندی کے معاملات پر پیش رفت میں’اسلام’، ’عیسائیت‘ سے دو سو سال پیچھے ہے‘‘۔ یہ کوئی حیرت ناک بیان نہیں ہے کیونکہ ہم جنسیت پسندی کے فروغ پر مسلمانوں کی نمایندگی کا دعویٰ کرنا اس وقت مغرب میں ایک بڑا منافع بخش کاروبار ہے۔ ایسی بیان بازی کے بعد راتوں رات جس قسم کی مراعات اور سہولتیں میسر آجاتی ہیں، وہ عام حالات میں حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
مراکش کے ایک ماہرسماجیات خالد دورن نے اور ہی سمت تبصرہ لڑھکا دیا ہے کہ ’’اس طرح کے لوگوں (ہم جنس پسندوں) کو اسلام کی طرف راغب کرنے کے لیے یہ بات پھیلائی جاتی ہے کہ مسلمان بڑے روادار ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے مراکش ہم جنس پسندوں کے کھیل کا میدان بن چکا ہے، لیکن روایتی مذہبی حلقے ان غیر ملکی سیاحوں کے ہاتھوں بڑھتی ہوئی مردانہ جسم فروشی پر سخت تشویش میں مبتلا ہیں‘‘۔ پھر چونکہ گورے ایک عرصے تک افریقی ممالک پر قابض رہے اور افریقی عوام ان کے لیے سخت نفرت کے جذبات رکھتے ہیں، اس لیے جب کسی افریقی مرد کو کوئی گورا پیشکش کرتا ہے تو وہ فوراً تیار ہوجاتا ہے تاکہ ماضی کی زیادتوں کا بدلہ لے اور ساتھ ہی معقول معاوضہ بھی حاصل کرے‘‘۔ ابو خلیل کا خیال ہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں پائی جانے والی ہم جنس پسندی کی نوعیت مغرب سے بالکل الگ نوعیت کی ہے‘‘۔
۱۹۹۴ء میں قاہرہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ’آبادی اور ترقی‘ سے متعلق ہونے والی کانفرنس‘اور۱۹۹۵ء میں بیجنگ میں ہونے والی ’خواتین کی عالمی کانفرنس‘ میں ہم جنسیت پسندوں کی عالمی تنظیم کے ایجنڈے کو زبردستی فروغ دیا گیا اور بہت سے عرب کالم نگاروں نے بھی اس پر بڑھ چڑھ کر لکھا۔ تاہم، ۲۰۰۰ء کے عشرے میں، مصری حکام نے قاہرہ کے ان اڈوں کو توڑنا شروع کردیا ہے، جہاں مصری ہم جنس پسند اور ان کے یورپی اور امریکی سیاحوں ہم جولی جمع ہوتے تھے۔۱۱ مئی ۲۰۰۱ء کو پولیس نے دریاے نیل میں گھومنے والی ایک کشتی پر چھاپہ مار کر ۵۵؍افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا، لیکن جب پتا چلا کہ ان میں چند نوجوان بااثر گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے تو انھیں چھوڑ کر معاملہ دبا دیا گیا۔ مگر جب عوامی دباؤ بہت بڑھا تو ان لوگوں پر بدکاری اور اسلام دشمنی کی دفعات لگوائیں۔ جن لوگوں پر بدکاری کے واضح ثبوت مہیا ہو گئے ، ان کو صرف ایک سال قید کی سزا سنائی گئی،کیونکہ مصری حکومت عالمی مقتدر حلقوں کے ہاتھوں مزید مشکلات بڑھانا نہیں چاہتی تھی۔ اس کریک ڈاؤن میں مغربی قاہرہ سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ اور متوسط طبقے کے مصری مرد بے نقاب ہوئے جو یورپی اور امریکی سیاحوں کے ساتھ ہم جنسی تعلقات رکھتے تھے یا ان کے سہولت کار تھے ۔پولیس ان لوگوں کے انٹرنیٹ پر تمام رابطوں اور نیٹ ورک کا تعاقب کرنے میں کامیاب رہی ۔
مصری پولیس اگر ان میں سے کسی کو گرفتار کرتی بھی ہے تو ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم، ’اگلہرچ‘ ہیومن رائٹس واچ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور مقامی ایجنٹوں کے ذریعے میڈیا میں حکومت کے خلاف مذمتی بیانات کی بوچھاڑ اور مظاہرے کرواتی ہے۔اور مصری حکومت کو دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ اگر ان لوگوں کو رہا نہ کیا گیا تو امریکی امداد بند کروا دی جائے گی۔ اس طرح حکومت دہری مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے، یعنی ان لوگوں یا ان کے حمایتیوں کو گرفتار کرتی ہے تو امریکا اور مغرب سے دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر ان کے ساتھ نرمی برتتی ہے تو ملک کے اسلام پسند عناصر دباؤ ڈالتے ہیں۔
اس حوالے سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ بیش تر عرب اور مسلم ممالک میں ہم جنسی تعلقات کے خلاف مدون قوانین کا فقدان ہے،جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم جنس پسندوں کی عالمی تنظیم جب عرب اور مسلم دنیامیں موجود اپنے ہم نوالہ ایجنٹوں کو ہم جنس پسندی کے لیے اُکساتی ہے تو یہاں کی پولیس ان کے خلاف کوئی باقاعدہ کاروائی کرنے کے بجائے انھیں صرف ڈراتی، دھمکاتی یا ان سے بھاری رشوت اینٹھتی ہے ۔
اس پس منظر میں مسلم دنیا اور عرب ممالک، زیربحث جنسی کج روی کے فروغ اور قانونی تحفظ کے دباؤ میں ہیں۔ اگرچہ دوسری تہذیبوں کے مقابلے میں یہاں پر مزاحمت زیادہ پائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود، ’الگا‘، ’اگلہرچ‘ اور ’گلاس‘ کا ایجنڈا آگے بڑھ رہا ہے۔
کیا جماعت اسلامی ہسپتال بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی؟
دوستوں کی محفل میں ایک تحریکی ساتھی نے یہ سوال کیا تو اس امر کا جائزہ لینا شروع کیا کہ کیا فلاحی اداروں کی کوئی افادیت تحریک اسلامی کے لیے ہے؟
فلاحی اداروں کی حیثیت اسلامی معاشرت میں وقف کی ہوتی ہے، یعنی کسی ادارےکے لیے اللہ کے نام پر جو اثاثہ دے دیا جائے اس کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ یہ صدقۂ جاریہ کی بہترین صورت ہے، جس کا اجر طویل عرصے تک ملتا رہتا ہے۔اثاثہ جات کے حساب سے وقف کی دوقسمیں بیان کی جاتی ہیں۔ پہلی صورت میں دیے گئے عطیے سے مسجد، مدرسہ، اسکول، ہسپتال یا کوئی اور فلاحی ادارہ قائم کیا جاتا ہے، جب کہ دوسری صورت یہ ہے کہ زمین، باغ، عمارت یا تجارت اس غرض سے وقف کی جائے کہ اس کی آمدنی سے فلاحی ادارے کے جاری اخراجات پورے کیے جائیں۔ فقہا نے دونوں مقاصد کے لیے وقف کرنے کی اجازت دی ہے۔ حضرت عثمانؓ نے مدینہ میں ہجرت کے ابتدائی دنوں میں مسلمانوں کے لیے کنواں بئرروما عطیہ کیا تھا، جو مزرعہ بئرعثمان کے اندر آج بھی موجود ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جنّت کی بشارت دی تھی۔
l وقف کی اسلامی تاریخ: اسلامی تاریخ کے پہلے وقف کے بارے میں دو آرا پائی جاتی ہیں: بعض سیرت نگاروں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی تعمیر کے لیے اوّلین زمین وقف کی تھی، جب کہ بعض دوسرے مؤرخین نے حضرت عمرؓ کی خیبرکی زمینوں کو اسلام کا پہلا وقف قرار دیا ہے۔۱ تاریخ کے مطالعے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیسرے سنہ ہجری میں ایک نومسلم بنی نادر مخیرک نے رسولؐ اللہ کو سات باغات مدینہ میں عطا کیے تھے، جو آپؐ نے فلاحِ عامہ کے لیے وقف کر دیے تھے۔۲
حضرت عمرؓ نے ساتویں سنہ ہجری میں خیبر کی زمینوں کو وقف کرتے وقت باقاعدہ شرائط عائد کی تھیں: ’’یہ زمین فروخت نہیں کی جائے گی اور کسی نام پر حوالے نہیں کی جائے گی، نہ کسی کی میراث بن سکے گی بلکہ اس کی آمدنی سے غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کی جائے گی۔ اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے گا۔ مسافروں اور مہمانوں کی خدمت کی جائے گی۔ اگر اس کی دیکھ بھال کرنے والے اس میں سے اپنی ضروریات پر خرچ کرلیں گے تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن وہ اپنے لیے اس میں سے کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرسکتے‘‘ (بخاری، مسلم)۔
اسلامی تاریخ میں خلفاے راشدین، بنواُمیہ، بنوعباس، ممالیک اور عثمانی سلطنت کے دور میں ہزارہا وقف قائم ہوئے اور ان کی آمدنی سے تعلیمی ادارے، لائبریریاں، ہسپتال اور دیگر فلاحی ادارے بنائے گئے۔ اساتذہ، ملازمین اور منتظمین کی تنخواہیں ادا کی گئیں۔ مستحق طلبہ کو وظائف دیے گئے۔ عباسی دور میں ہسپتال تعمیر کیے گئے اور مریضوں کے علاج کے اخراجات ادا ہوئے۔ مسافروں اور غربا کے لیے عارضی رہایش گاہیں تعمیر کی گئیں۔ اسلامی دنیا کی ایک ہزار سال پرانی یونی ورسٹی الازہر بھی مصر میں فاطمی دور میں ایک وقف کے طور پر قائم کی گئی۔ دنیا میں سب سے زیادہ وقف زمین انڈونیشیا میں ہے، جس کا کُل رقبہ ۳۸کروڑ ۹۳ لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔۳
اسلامی حکومتوں نے وقف کی گئی زمینوں، عمارات اور اداروں کو چلانے کے لیے وقتاً فوقتاً قوانین جاری کیے۔ اس کا مقصد ان کی کارکردگی کو بہتر بنانا، اور ان کی خدمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا تھا۔ عثمانی دور میں ان اداروں کی خاص سرپرستی کی گئی۔ سعودی عرب میں خانہ کعبہ اور مسجدنبویؐ کے اطراف میں بے شمار وقف موجود ہیں۔ گویا دین اسلام ضرورت مندوں کی خوراک، رہایش، معاشی امداد، تعلیم، صحت، امن و امان اور مفادِ عامہ کی غرض سے وقف قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
l خدمت اور دعوت کا تعلق: جان لینا چاہیے کہ خدمت اور دعوت ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ دعوت کے تین ذرائع: قولی دعوت، تحریری دعوت اور عملی دعوت ہیں اور عملی دعوت کا بہترین ذریعہ خدمت خلق ہے۔ عامۃ الناس کی خدمت کے ذریعے ہی آپ ان کے دلوں پر دستک دے سکتے ہیں۔ سنت ِ رسولؐ یہی ہے اور اُمت نے بھی اسی راستے کو دعوت کے لیے کارآمد پایا ہے۔
عامۃ الناس کی خدمت کرنے کے تین درجے ہیں۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ ضرورت مندوں کی ذاتی طور پر براہِ راست مدد کی جائے اور مشکل اوقات میں ان کے لیے آسانیاں مہیا کی جائیں۔ دوسرا درجہ فلاحی اداروں کے قیام کا ہے جن کے ذریعے بڑے پیمانے پر غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کی جاتی ہے۔ کسی بڑی آفت کی صورت میں منظم طریقے سے ان کی ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اور اعلیٰ درجے کی سہولیات ان کو مہیا کی جاتی ہیں جو کہ انفرادی مدد کے ذریعے ممکن نہیں۔ خدمت ِ خلق کا سب سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اسلامی فلاحی مملکت قائم کرکے ہرفرد کو اس کی دہلیز پر بنیادی ضروریات فراہم کی جائیں تاکہ اس کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ رہے۔
جماعت اسلامی کے پیش نظر ان تینوں ذرائع سے عوام کی خدمت کرنا ہے اور اس کی جدوجہد کا اصل مقصد فلاحی حکومت کا قیام ہے۔ اس وقت تک انفرادی مدد اور اداروں کے ذریعے خدمت ِ خلق کا کام جاری ہے۔ یہ دعوت کو پھیلانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
l تحریک کے لیے اہمیت:سوال یہ ہے کہ تحریک اسلامی کے لیے عہدحاضر میں فلاحی اداروں کی کس قدر ضرورت اور اہمیت ہے؟ جماعت اسلامی نے اپنے قیام سے ہی فلاحی کاموں کا آغاز کردیاتھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد مہاجرین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے داعی تحریک سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کے رفقا نے سرگرم کردار ادا کیا۔ قربانی کی کھالوں کو جمع کرکے اس سے عوام کی خدمت کا تصور جماعت اسلامی نے ہی پیش کیا (جس پر اب ملک کی ہرفلاحی تنظیم عمل پیرا ہے)۔
مولانا مودودیؒ نے خدمت خلق کے کاموں کی سرپرستی فرمائی۔ آپ کی ہدایت پر خدمت ِ خلق کی انجام دہی کے لیے مختلف اوقات میں مختلف ناموں سے تنظیموں کا قیام عمل میں لایا گیا اور منظم انداز میں فلاحی کاموں کا آغاز کیا گیا۔ الحمدللہ، موجودہ دور میں الخدمت فاؤنڈیشن ایک الگ، رجسٹرڈ اور خودمختار تنظیم کے طور پر پورے ملک میں مستحکم ہوکر مسلسل آگے بڑھ رہی ہے، اور بسااوقات عالمی سطح پر بھی فلاحی منصوبوں میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے۔
معاصر اسلامی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو اخوان المسلمون نے ۱۹۴۰ء میں منافع بخش تجارت اور اس کی آمدنی سے فلاحی کاموں میں مدد کرنے کے لیے سات کمپنیاں قائم کیں، جن میں اسلامی فنانس کمپنی، پرنٹنگ ہاؤس، معدنیات کی کمپنی، کپڑا بنانے کی فیکٹری، انجینیرنگ کمپنی ، عام تجارت کا ادارہ اور میڈیا کمپنی شامل تھیں۔ ان اداروں نے اخوان کے فلاحی اور تنظیمی کام کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اخوان کے ساتھیوں نے مصر میں بڑے تجارتی منصوبے کامیابی سے چلائے۔۴ زمانے کے نشیب و فراز کے باوجود ان کاموں کا نتیجہ بالآخر مصر کے عام انتخابات میں اخوان کی کامیابی کی صورت میں نکلا۔ ترکی، تیونس، مراکش اور دیگر ملکوں میں اسلامی تحریکیں خدمت ِ عام کے بے شمار رفاہی ادارے کامیابی سے چلارہی ہیں۔
l حکومت چلانے کی تربیت: فلاحی اداروں کی اہمیت پاکستان میں اس لیے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ڈیڑھ سو سالہ عہدِ غلامی میں غیر مسلم حکمرانوں کی جانب سے یہ بات بڑے زوروشور سے پھیلائی گئی کہ اسلامی عناصر حکمرانی کے کام کے لیے موزوں نہیں۔ اس پروپیگنڈے کے اثرات آج بھی ہمارے عوام میں بڑی حد تک پائے جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے پاس اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی بڑی ٹیم موجود ہے۔ یہ لوگ مختلف اداروں کو کامیابی سے چلا کر جماعت کی صفِ اوّل کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عوام کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا کر متاثر کر رہے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر جماعت اسلامی کے حامی فلاحی اداروں کے سربراہان عوام الناس کو اپنی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہیں تو لوگوں کے ذہن اَزخود جماعت کی خدمات کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔
l صحت عامہ کے اداروں کی ضرورت:اب آیئے اس سوال کی طرف کہ فلاحی کاموں کے لیے ہسپتالوں اور میڈیکل اداروں کی کیا ضرورت اور اہمیت ہے؟ اس کا اندازہ ’کورونا‘کی وبا کے دوران جماعت اسلامی کے ہسپتالوں، اداروں اور اس کے ہم خیال ڈاکٹروں کی کارکردگی سے کیا جاسکتا ہے۔ کورونا کی وبا کے آغاز سے ہی نظمِ جماعت نے اپنے تمام ہسپتالوں کو جدید آلات سے مزین کرکے حکومت کو پیش کر دیا۔ اس دوران جماعت سے وابستہ تنظیموں نے کروڑوں روپے کا طبی سامان ضرورت مندوں میں تقسیم کیا۔ ایسے بھی کئی مقامات تھے جہاں پر حکومت حفاظتی سامان نہیں پہنچاسکی وہاں پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما )نے یہ سامان مہیا کیا۔ یوں الخدمت، پیما اور جماعت اسلامی کے حلقۂ خواتین نے دوماہ میں دو ارب روپے فلاحی کاموں پر خرچ کیے۔ کورونا کا ٹیسٹ کرنے کے لیے ۵کروڑ روپے کی لاگت سے جدید مشینری لگائی گئی، جس کے ذریعے پرائیویٹ ہسپتالوں میں آٹھ، نوہزار روپے میں کیا جانے والا ٹیسٹ الخدمت لیب میں ۳ہزار روپے میں کیا گیا۔ تھر میں الخدمت ہسپتال کا دورہ، اعلیٰ حکام نے مہم کے ابتدائی دنوں میں کیا اور اس کو حکومت نے کورونا سنٹر کا درجہ دے دیا۔ صفائی اور جراثیم سے بچاؤ کا سامان (سینی ٹائزر) ہزاروں لیٹر تقسیم کیا گیا۔ الغرض اس کثیرالجہتی مہم سے تحریک کو جہاں پاکستانی عوام کی خدمت کا موقع ملا وہاں عوام کو یہ پیغام بھی ملا کہ جماعت کے افراد اعلیٰ درجے کے ادارے کامیابی سے چلا سکتے ہیں۔
l مستقبل کا لائحہ عمل: اسلامی تحریکوں کے لیے خدمت خلق کے اداروں کی حیثیت مسلّمہ ہے۔جدید ٹکنالوجی سے مزین اعلیٰ معیار کے اداروں کی خدمات کو ہرایک اچھی نظرسے دیکھتا ہے اور تعریف پر مجبور ہوجاتا ہے۔ بہترین انتظامی صلاحیتوں کے حامل افراد ان اداروں کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ہم خیال پروفیشنل حضرات کی خدمات سے فائدہ اُٹھا کر بین الاقوامی سطح کے مختلف النوع منصوبے ملک میں شروع کیے جائیں تاکہ آنے والے برسوں میں تحریک کا تشخص اور زیادہ بہتر بنایا جاسکے۔ اس کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین کی بڑی تعداد اس دعوت کے قریب آسکتی ہے جن کو مناسب حکمت عملی کے ذریعے اپنی تنظیم کے اندر سمویا جاسکتا ہے۔نیز یہ مراکز اسلامی فکر اور لٹریچر کے فروغ کا ذریعہ بھی بنیں گے۔
حواشی
۱- عبداللہ بن عبدالرحمٰن ، توحید الاحکام من بلوغ المرام، جلد ۴ (۱۹۹۷ء)، مکتبہ النہضۃ الحدیثہ
۲- جرنل آف اسلامک اکنامک سائنسز، جلد۱، شمارہ ۱ (۲۰۱۵ء)، ص ۸
۳- رپورٹ وزارت مذہبی اوقاف، انڈونیشیا، ۲۰۱۶ء
۴- عبدالحلیم علی، Methodology of Education Adopted by Muslim Brotherhood، قاہرہ، ص ۵۹
اگرچہ ماحول کے متعلق اسلام کا نظریہ قابلِ عمل اور اخلاقی اصولوں کے مطابق ہے، لیکن پھر بھی جہاں تک جنگلات کی بربادی، زمین کے کٹاؤ، پانی کی آلودگی، جنگلی حیات کی تباہی اور مضرصحت گندگی کا تعلق ہے، مسلم ممالک دنیا کے دوسرے صنعتی ممالک سے بہتر نہیں ہیں۔ نامناسب ٹکنالوجی کی درآمد اور استعمال سے وہ نہ صرف صحت بخش ماحول کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ ماحول کو ایسا زہرآلود بنادیتے ہیں کہ انسانی بقا کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔ بہت سے مسلم ممالک ماحولیاتی خطرات کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم ماحول کے متعلق اسلام کے احکامات سے ناواقف ہیں۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ کائنات، فطرت اور قدرتی ماحول کے متعلق قرآنی آیات کی تعداد ان آیات سے زیادہ ہے جن کا تعلق احکامِ ربانی اور مذہبی عقائد سے ہے۔ درحقیقت قرآنی آیات میں سے ۷۵۰ آیات (یعنی قرآن کا آٹھواں حصہ) ایمان والوں کو ترغیب و تلقین کرتی ہیں کہ وہ اللہ کی قدرت پر غور کریں، تمام جان داروں کا ان کے گردونواح کے ماحول سے تعلق کا مطالعہ کریں، اور اللہ کی تخلیق کے درمیان توازن اور تناسب کو برقرار رکھنے کے لیے عقل و دماغ سے کام لیں۔
اللہ تعالیٰ نے ارضی وسائل، یعنی زمین، پانی، ہوا، معدنیات اور جنگلات انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں تاکہ ہم اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے ان سے مستفید ہوں۔ ہم انھیں اپنے مقاصد اور مفاد کے لیےان تعلیمات کے غلط معانی لیتے ہوئے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کی مثال ان مسلم ممالک میں ملتی ہے جہاں ماحول کی اہمیت سے آشنا رہنماؤں کا فقدان ہے۔
بہت سے مسلمانوں کو تو ماحول کے تحفظ کے متعلق قرآن کی تاکید پرحیرت ہوگی کہ ماحول کے متعلق اسلام کا نظریہ کس قدر تقدس اور پاکیزگی کا حامل ہے۔ کائنات کی ہرتخلیق کا کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے سے تعلق ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی چیز متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثردوسرے پر بھی پڑتا ہے۔ انسان قدرت کی بہترین تخلیق ہے۔ اس کا قدرت سے رشتہ کسی بھی حال میں منقطع نہیں ہوسکتا۔
انسان چونکہ غوروفکر کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے اس کوروئے زمین پر اللہ کا نائب بنایا گیا ہے۔ قدرت کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے توازن رکھا ہے اور ایک مہتمم کی حیثیت سے انسان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کے کسی بھی عمل سے قدرت کے توازن میں کوئی خلل نہ پڑے۔ روے زمین پر ناظم کی حیثیت حاصل ہونے کے معنی یہ نہیں کہ انسان کو ہر ذی روح پر فوقیت حاصل ہے۔ دراصل حاکمیت تو صرف اور صرف اللہ کی ہے۔ ایک ناظم کی حیثیت سے انسان پر اللہ کی تخلیق کے تحفظ کے سلسلے میں اخلاقی ذمہ داریاں عائد ہیں۔ لہٰذا انسان کے طرزِ زندگی اورقانونِ قدرت میں تضاد اور مخاصمت نہیں بلکہ ہم آہنگی اور مطابقت ہونی چاہیے۔ اسلام میں قدرت کی تخلیق پر غوروفکر اور اس کی پنہاں کارکردگی کے سمجھنے کو علم کا بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ انسان کو اپنے اردگرد قدرت کی تخلیق اور مظہرکائنات میں اللہ کی قدرتِ کاملہ کا پر تو نظر آسکتا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو، جس کو قرآن کی اصطلاح میں قانونِ قدرت کہا جاسکتا ہے، بہتر سمجھ سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے:
اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِىْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللہُ مِنَ السَّمَاۗءِ مِنْ مَّاۗءٍ فَاَحْيَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِيْہَا مِنْ كُلِّ دَاۗبَّۃٍ۰۠ وَّتَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۱۶۴ (البقرہ ۲:۱۶۴)جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں، اُن کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اُوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور (اپنے اِسی انتظام کی بدولت) زمین میں ہرقسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں، اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں، بے شمار نشانیاں ہیں۔
زمین پر زندگی کی بقا کے سلسلے میں پانی کی بنیادی اہمیت اور کردار کے متعلق قرآن میں کئی آیات نازل ہوئی ہیں۔ زمین کی زرخیزی، میٹھے پانی اور کھارے پانی کے خواص، دریاؤں، چشموں اور زیرزمین آبی ذخائر کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن، زندگی کے قیام اوربقا کے سلسلے میں قدرت کی ہرشے پرپانی کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ قرآن پاک کی ایک آیت میں اللہ تعالیٰ پانی کے معجزے کا ذکر کرتا ہے۔ جو لوگ روزِ حشر کو نہیں مانتے اور انھیں یقین نہیں ہوتا کہ مرنے کے بعد بھی انسان زندہ ہوگا، ان کو اللہ تعالیٰ مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ کس طرح بطن مادر میں ناقص اور نامکمل بچہ بالیدگی کی منزل طے کرتا ہے اور پھر عالمِ وجود میں آتا ہے۔ خالق کائنات منکرینِ حشر سے کہتا ہے : اگر تم کو اب بھی موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر شبہہ ہے تو دیکھو اور غور کرو:
وَاٰيَۃٌ لَّہُمُ الْاَرْضُ الْمَيْتَۃُ ۰ۚۖ اَحْيَيْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ يَاْكُلُوْنَ۳۳ وَجَعَلْنَا فِيْہَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّــرْنَا فِيْہَا مِنَ الْعُيُوْنِ۳۴ۙ (یٰسٓ ۳۶: ۳۳-۳۴) اِن لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے۔ ہم نے اُس کو زندگی بخشی اور اس سے غلّہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں۔ ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر سے چشمے پھوڑ نکالے۔
ماحولیات کی سائنس کا اہم مقصد روئے زمین کو مختلف قسم کی حیاتیات کے لیے موزوں اور قابلِ رہایش بنانا ہے۔ مختلف اقسام کی جماداتی، حیوانی اور نباتاتی حیاتیات کے بغیر ہماری زندگی جیسی کہ ابھی ہے، ممکن نہ ہوتی۔ ہرجان دار کو زمین پر زندہ رہنے اور پھلنے پھولنے کا حق حاصل ہے کیونکہ ان کی موجودگی سے اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں ایک تناسب اور حُسن ہے۔ اس کا ذکر اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں یوں فرماتا ہے:
وَالْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىہَا۳۰ۭ اَخْرَجَ مِنْہَا مَاۗءَہَا وَمَرْعٰىہَا۳۱۠ وَالْجِبَالَ اَرْسٰىہَا۳۲ۙ مَتَاعًا لَّكُمْ وَلِاَنْعَامِكُمْ۳۳ۭ (النزعٰت ۷۹: ۳۰-۳۳) اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا، اُس کے اندر سے اُس کا پانی اور چارہ نکالا اور پہاڑ اس میں گاڑدیے سامانِ زیست کےطورپر تمھارے لیے اور تمھارے مویشیوں کے لیے۔
انسان اللہ کی مخلوق ہے اور وہ اس کی دوسری مخلوقات کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک دوسرے سے وابستہ اس عالمی نظام میں جس کا انسان ایک حصہ ہے، اس کی زندگی کا انحصار دوسرے جان داروں پرہے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ انسان اس غلط فہمی کا شکار بنا رہے کہ وہی اللہ کی تخلیق کا بہترین نمونہ ہے، لہٰذا قرآن انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس سے بھی بڑی تخلیق آسمان اور زمین کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ءَ اَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاۗءُ۰ۭ بَنٰىہَا۲۷۪ (النزعٰت ۷۹: ۲۷ ) کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی جسے اللہ نے بنایا؟
انسان کو اس کی حقیقت بتاتے ہوئے کہ وہ کائنات کا محض ایک چھوٹا جز ہے ، دراصل قرآن اس کی کم مائیگی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
انسانی طرزِ زندگی میں تغیرات سے انسان کے کردار میں بھی تبدیلیاں ہوتی ہیں اور اب انسان منتظم اور محافظ کی بجاے ایک تخریب کار اور غارت گر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اس خطرناک تبدیلی سے انسانی ذہنیت، تصور اور تخیل میں بھی ایک بڑا فرق پڑا ہے۔ انسان کے مادی اورروحانی، دُنیاوی اور دینی تقاضے بدل گئے ہیں۔
اگر مادی اور روحانی تبدیلیوں کے نتیجے میںانسان اپنے ہاتھوں لائی ہوئی تباہ کاریوں سے بالکل بے حس ہوجائے اور پھر بھی اس کی روح رحمت ِ باری کی تمنا کرے تو عجیب سا محسوس ہوتا ہے۔ ایسا بے حس انسان اس دنیا کو تباہ و برباد کرنے اور اللہ کی مخلوق کو نیست و نابود کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرے گا۔ اسلام کا نقطۂ نظر اس مسئلے میں بالکل واضح ہے۔ وہ روح اور جسم میں فرق تسلیم نہیں کرتا۔ اسلام میں روح اور جسم ایک ہی حقیقت، یعنی انسانی زندگی کے دو رُخ ہیں۔ کوئی بھی مسلمان جس کی زندگی اس عالمِ فانی میں حرص و ہوس اور جنگ و جدل میں گزری ہو وہ عالمِ جاوداں میں اپنی نجات کی اُمید نہیں کرسکتا، اور اگر وہ اللہ کی مخلوق سے نفرت کرتا ہے تو وہ خالقِ کائنات سے بھی محبت نہیں کرسکتا۔
کچھ ایسی قوتیں ہیں جو جسم اورروح میں خلیج پیدا کرنے میں مصروف اور معاون ہیں۔ ٹکنالوجی ان میں سے ایک ہے۔ ٹکنالوجی، مشین کو انسانی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دیتی ہے اور رفتہ رفتہ اس کو قدرت اور یہاں تک کہ اسے خود اپنی ذات سے بھی بیگانہ کردیتی ہے۔ ٹکنالوجی ایک ایسی دو دھاری تلوار ہے کہ اگر یہ اخلاقی قیودو ضوابط کے تحت نہ ہو تو انسان کی روحانی حس و شعور کو سلب کردے۔ اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے:
وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْہِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ (الحدید ۵۷: ۲۵) اور لوہا اُتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔
یعنی یہ ایک دہشت ناک قوت کا حامل ہے اور ساتھ ساتھ تمھارے مفاد کا سرچشمہ بھی۔
اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں لوہے ، یورینیم یا سلیکا جیسےقدرتی عناصر کو عطا کی ہیں جب انسان ان کو تخلیقی کی جگہ تخریبی کاموں کے لیے استعمال کرتا ہے، تو زندگی کی تباہی سے متعلق انسانی احساسات مُردہ ہوجاتے ہیں۔ اس سلسلے میں قرآن انسان کو متنبہ کرتا ہے کہ اگر لوہے کا غلط استعمال کیا جائے تو کس قدر بُرےاثرات روپذیر ہوں گے۔ جدید ٹکنالوجی کے دور میں جس میں مشینوں پر کُلی انحصار کیا جاتا ہے، انسان کی اہمیت گھٹ کر صفر کے برابر ہوجاتی ہے۔ اسلام میں اس علم کا کوئی اخلاقی جواز نہیں جس کی بناپر انسان کو اللہ کی مخلوق پر اقتدار اعلیٰ کے حاصل ہونے کا گمان ہو۔ اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے علم کے ذریعے اللہ کی تخلیقی عظمت کا انکشاف کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔
سرورِ عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی ہدایات کے مطابق اپنے قول و فعل سےمسلمانوں کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: ’’اگر کوئی مسلمان درخت لگاتا ہے یا کھیت بُوتا ہے ، جس سے انسان، چرند پرند روزی حاصل کرتے ہیں تو یہ اس کے لیے صدقہ ہے‘‘۔
آپؐ نے ایک جگہ اور ارشاد فرمایا کہ جو کوئی مُردہ، یعنی بنجر زمین کو قابلِ کاشت بناتا ہے اس کے لیے اس میں انعام ہے۔
قرآنِ پاک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، اسلامی آئین و قوانین کی بنیاد ہیں۔ صدیوں سے علماے اسلام نے جانوروں کے حقوق، پانی، جنگلات ، جنگلی حیات، زمین، چراگاہوں اور ارضی وسائل کے استعمال اور ان کے انتظام کے لیے قوانین وضع کیے ہیں۔ اسلامی قوانین نے کچھ ایسے حدود متعین کیے ہیں جہاں قدرتی وسائل کے تحفظ کے پیش نظر ترقیاتی کام ممنوع قرار دیے گئے ہیں۔ نہروں، کنوؤں اور دریاؤں کے کنارے کے علاقے حوائج ضروریہ کے لیے ممنوع قرار دیے گئے ہیں تاکہ پانی کو آلودگی سے بچایا جاسکے۔ جنگلات کو وسعت دینے کے لیے درختوں کی کٹائی پر پابندی لگادی گئی ہے۔ چراگاہوں میں جانوروں کو چرانے کے لیے قوانین بنائے گئے ہیں تاکہ چراگاہیں تباہ و برباد نہ ہوں۔ چراگاہوں، جنگلات اور جنگلی حیاتیات پر کسی کی اجارہ داری روکنے کے لیے انھیں نجی ملکیت میں نہیں دیا جاسکتا۔ یہ سب عوام کی ملکیت ہیں اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کاا نتظام حکومت کے سپرد ہے۔
۱۹۶۰ء میں ریسل کارسن کی کتاب Silent Spring کے شائع ہونے کے بعد ماحول کے متعلق لوگوں نے اوزون (Ozone ) میں سوراخ، گرین ہاؤس اور تیزابی بارش کے مضر اثرات کے بارے میں بہت ہی تشویش کا اظہار کرنا شروع کیا ہے۔ اس کے بعد زمین کو لاحق نقصانات سے بچانے کے لیے ماحول سے متعلق قواعد و ضوابط بنائے جارہے ہیں، مگر افسوس کا مقام ہے کہ اس سلسلے میں مسلمانوں کا کردار نہایت سُست اور نہ ہونے کے برابر ہے۔
اگر مسلمانوں کو ماحول کے تحفظ کے لیے بیدار کرنا ہے، تو دورِحاضر کےعلماے اسلام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کو ان قرآنی احکامات سے آگاہ کریں جن کا تعلق ماحول کی اہمیت اور تحفظ سے ہے۔ اب دنیا کے مسائل ہزاروں سال پرانی دنیا کے مقابلے میں، جب کہ صنعتی انقلاب کا نام و نشان تک نہ تھا اور نہ زمین کے وسائل پر اس قدر بار تھا، بہت زیادہ پیچیدہ ہوگئے ہیں۔ ماحول سے متعلق کچھ اسلامی قوانین جو اسلامی تہذیب کے زمانۂ عروج میں مرتب کیے گئے تھے، موجودہ دور کے تقاضوں کے لیے ناکافی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین صرف وقتی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں مگر قانونِ قدرت ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ قرآن کہتا ہے:
ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۴۱ (الروم ۳۰:۴۱) خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزہ چکھائے اُن کو اِن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔
مفہوم یہ ہے کہ جب قدرتی وسائل کا غیراخلاقی اور ناجائز استعمال شروع ہوجاتا ہے تو قدرتی ماحول کی تباہ کاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔
مسلم علما اور سائنس دانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ قرآنی تعلیمات کی روشنی میں ایسے قوانین وضع کریں جو موجودہ دور کے ماحولیاتی تقاضوں کو پورا کریں اورجدید ٹکنالوجی کے استعمال کے سیلاب، خشک سالی اور غربت کے تدارک ، تہذیب و تمدن کے تحفظ اور گرین ہاؤس، تیزابی بارش اور نیوکلیائی تباہ کاریوں کو روکنے میں مؤثر اور کارگر ہوسکیں۔
قرآن کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے انسان اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے دوسری مخلوقات کی جائز ضروریات کو پامال نہیں کرسکتا۔ اپنی حاجات کے حصول کے لیے انسان کا انحصار اس دنیا پر ہے جس کا خالق وہ نہیں، اللہ ہے۔ لہٰذا اس کو تباہ کرنے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔ دُنیاوی زندگی کی پیچیدہ راہ میں قدرت کی ایک معمولی شے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ صرف اپنے ذاتی مفاد کے لیے قدرت کی چیزوں پر انسان کی ملکیت کا اسلام میں کوئی تصور اور جواز نہیں۔
قرآنی تعلیم کے حوالے سے ماحول سے متعلق سائنس کا تعلق اقتصادیات سےہے اور بادی النظر میں یہ مذہب سے منسلک ہے۔ اس نظریے کی تشریح دورِ جدید کے حالات کے مطابق ضروری ہے ، تاکہ مسلمانوں کے نظریہ اور عمل میں ہم آہنگی پیداکی جاسکے اور ماحول کی سائنس کو اسلامی اعتقاد کے سانچے میں ڈھالا جاسکے۔ اس وقت دورِ جدید کو ایسے علما اور اسکالرز کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کو جدید تعلیم و حکمت کی تحصیل کی ترغیب دیں اور اپنے زورِقلم اور فصاحت سے دورِحاضر کے ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے پر آمادہ کریں۔