مضامین کی فہرست


نومبر ۲۰۱۹

فروری ۲۰۱۹ء کو صوبہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے ’گھریلو تشدد‘ سے عورتوں کے تحفظ کے لیے ایک قانون پیش کیا ہے۔ ہم اس پر کلام کرنے سے پہلے چند بنیادی باتوں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتے ہیں:
 مغربی تہذیب و تمدن اور معاشرت تین بنیادوں پر استوار ہوئی: lعورتوں اور مردوں کی مساوات lعورتوں کی معاشی خود مختاری  lمرد اور عورت دونوں کا آزادانہ اختلاط۔

ان تین بنیادوں پر معاشرت کی تعمیر سے بڑے ہولناک نتائج برآمد ہوئے۔

۱- مساوات کے معنی یہ سمجھ لیے گئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی مرتبہ اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں، بلکہ تمدنی زندگی میں عورت بھی وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں۔  مساوات کے اس غلط تخیل نے عورت کو اُس کے فطری وظائف سے غافل اور منحرف کر دیا ہے۔ اَزدواجی زندگی کی ذمہ داریاں، بچوں کی تربیت، خاندان کی خدمت، گھر کی تنظیم، ساری چیزیں نہ صرف عورت کے لائحہ عمل سے خارج ہو کر رہ گئیں، بلکہ ذہنی طور پر وہ اپنے اصلی فطری مشاغل سے متنفر ہو رہی ہے۔ خاندان کا نظام، جو تمدن کا سنگِ بنیاد ہے، بُری طرح منتشر ہو رہا ہے۔ گھرکی زندگی عملاً ختم ہو رہی ہے۔ 
۲- عورت کی معاشی خودمختاری نے اُس کو مرد کی رفاقت سے بے نیاز کر دیا ہے۔   اب نیا قاعدہ یہ ہوگیا ہے کہ عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام کسی اور کے سپرد کردیں۔ اس تبدیلی کے بعد دونوں کی زندگی میں بجز ایک شہوانی تعلق کے اور کوئی ربط ایسا باقی نہ رہا، جو اُن کو ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور کرتا ہو۔ اس لیے ایک ادنیٰ سا اختلاف بسا اوقات ایک دوسرے سے جدا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ 
۳- مردوں اور عورتوں کے آزادانہ اختلاط اور ایک دوسرے کے لیے پُرکشش بننے کی دوڑ نے عورتوں میں حسن کی نمایش، عریانی اور فواحش کو غیر معمولی ترقی دی ہے۔ صنفِ مخالف کے لیے مقناطیس بننے کی یہ خواہش بڑھ کر برہنگی کی حد تک پہنچ چکی ہے۔

صالح تمدن کے اصول

اس منظرنامے میں اسلام ہی وہ واحد دین ہے جو اس صنفی انتشار اور مغربی تمدن کے ان اخلاقی فساد پر مبنی تصورات و نظریات کا سدِباب کرکے اس مسئلے کا ایسا عملی حل پیش کرتا ہے کہ جو ایک صالح اور متمدن معاشرے کی بنیادی ضرورت ہے۔
اسلام اپنے معاشرتی نظام میں خاندانی نظام کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، اور اُسے خوش گوار گھریلو زندگی کے لیے لازم سمجھتا ہے۔ ایک صالح تمدن کےلیے جو چیز ضروری ہے وہ یہ ہے کہ نظام معاشرت میں عورت اور مرد کے تعلق کی صحیح نوعیت متعین کی جائے۔ اُن کے حقوق ٹھیک ٹھیک عدل کے ساتھ مقرر کیے جائیں۔ اُن کے درمیان ذمہ داریاں پوری مناسبت کے ساتھ تقسیم کی جائیں اور خاندان میں ان کے مراتب اور وظائف، اعتدال اور توازن میں فرق نہ آنے پائے۔
عورت جو کہ ایک مدتِ دراز تک بچے کی پرورش، نگہداشت اور تربیت پر اپنی تمام توجہ مرکوز کرتی ہے ،اس میں رات کی نیند اور دن کا سکون اور آسایش حرام ہوتی ہے، اور وہ اپنی راحت، اپنے لطف، اپنی خوشی، اپنی خواہشات، غرض ہر چیز کو آنے والی نسل پر قربان کر دیتی ہے، توکیا عدل یہی ہے کہ عورت سے ان فطری ذمہ داریوں کی بجاآوری کا بھی مطالبہ کیا جائے جن میں مرد اس کا شریک نہیں ہے۔ یہ عدل نہیں ظلم ہے۔مساوات نہیں صریح نامساوات ہے۔ 
عورت کو مردانہ کاموں کے لیے تیار کرنا وضع فطرت کے خلاف ہے اور یہ چیز نہ انسانیت کے لیے مفید ہے، نہ خود عورت کے لیے۔ سورۂ نساء میں فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ ط (۴:۱۱۹) کے الفاظ میں خدائی ساخت میں جس ردوبدل کو شیطانی فعل قرار دیا گیا ہے، یہ اسی طرف اشارہ ہے۔ قدرتِ حق نے عورت کے سپرد بنیادی وظیفۂ حیات یہی کیا ہے کہ وہ بچے کی پیدایش اور پرورش کے لیے اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروے کار لائے۔ اس لیے نفسیات کے دائرے میں بھی اُس کے اندر وہی صلاحیتیں ودیعت کی گئی ہیں جو اس کے فطری وظیفے کے لیے موزوں ہیں، یعنی محبت، ہمدردی، شفقت، رقتِ قلب اور زکاوتِ حِس۔ 
اسلام چاہتا ہے کہ عورت کو اس کے صحیح مقام پر رکھ کر اُسے معاشرے میں عزت کا مرتبہ دے۔ اُس کے جائز تمدنی اور معاشی حقوق کو تسلیم کرے۔ اُس پر صرف گھر کی ذمہ داریوں کا   بوجھ ڈالے اور بیرونِ خانہ کی ذمہ داریاں اور خاندان کی قوامیت (سربراہی) مرد کے سپرد کرے۔ اس لیے اسلام جہاں انسانی حقوق میں مردوزن کی مساوات کا قائل ہے اور اعمال صالحہ اور نیکی و بدی میں دونوں کی کمائی کو یکساں اہمیت دیتا ہے، وہاں جسمانی ساخت اور بناوٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے ذمہ داریوں کے تعین اور خاندان جیسے اہم ادارے کے تحفظ اور بقاے نسل کی خاطر مرد کو خاندان کے سربراہ کی حیثیت دیتا ہے۔
دوسرے یہ کہ اسلام نے عورت کو معاشی بوجھ سے مکمل طور پر آزاد کیا ہے، تاکہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کی طرف خصوصی توجہ دے سکے اور نان و نفقہ کا انتظام اور ذمہ داری مرد کے حوالے کر دی ہے۔ اور اس بنا پر اُس کا عورت کے برعکس دائرہ کار اور رول متعین کیا ہے۔  
تیسری بنیاد مردوزن کے آزادانہ اختلاط کے بجاے دونوں کے لیے علیحدہ علیحدہ دائرہ کار متعین کیا ہے۔ اور جہاں ان دونوں کا معاشرتی امور یا دیگر اُمور میں ایک دوسرے سے واسطہ پڑتا ہے، ان پر ایسی قدغنیں لگائیں، جن کی موجودگی میں معاشرہ آوارگی اور صنفی انتشار کا شکار نہیں ہوتا۔ 
ان قدغنوں کے علاوہ معاشرے کو جنسی تشدد اور صنفی آوارگی جیسے امراض سے بچانے کے لیے نکاح کی ترغیب دی ہے۔ نکاح عورت کو محصنہ بنا دیتا ہے، یعنی وہ اپنے اردگرد تحفظ کا حصار بنالیتی ہے۔ اور مرد کے ساتھ نکاح کے رشتے کے بعد وہ اس حفاظتی حصار میں آ جاتی ہے۔ { FR 644 }
اسلام اسی خاندانی ادارے کو ہر صورت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اور اسی لیے میاں بیوی کے جھگڑوں اور باہمی اختلافات میں اصلاح اور صلح صفائی کو بڑی اہمیت دیتا ہے۔ اس کے لیے ایسی حکمت عملی اپناتا ہے کہ جس سے بتدریج دونوں کو احساس ذمہ داری اور احساس زیاں یاد رہتا ہے، جس میں برداشت و صبر، وعظ و نصیحت، خواب گاہوں میں وقتی جدائی اور پھر بھی اگرنافرمانی اور سرکشی کی روش برقرار ہو تو علامتی (symbolic) سرزنش شامل ہیں۔ 
اسلام کی رُو سے میاں بیوی کا رشتہ محبت، رحمت اور مودت کا ہے۔ یہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہیں۔ ان کے درمیان باقاعدہ عہد و پیمان ہے۔ ایک دوسرے کا لباس ہیں، یعنی لازم و ملزوم ہیں اور ایک دوسرے کے عیب ڈھانکتے ہیں۔اور اُن کا رویہ یہ نہیں ہوتا کہ کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو تو اُس پر لعنت ملامت کریں اور اگر بس چلے تو اُسے سرِبازار رُسوا کر دیں۔ آج کل کی طرح نہیں کہ باقاعدہ "Me Too" کے ویب پیج پر خواتین مزےلے لے کر اپنے ساتھ جنسی ہراسانی کے قصے، شہرت کی خاطر بڑھا چڑھا کر بیان کرتی ہیں۔ 

مجوزہ بل: کچھ تجاویز و ترامیم

پیش نظر مجوزہ بل کا اردو مسودہ ہے، جو خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی میں پیش کیا گیا ہے۔ اس بل کے بارے میں مجموعی طور پر یہ تاثر ابھرتا ہے کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے میں لاکھڑا کیا گیا ہے۔ ایک ایسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جیسے مرودں سے برائی کے سوا کسی بھی اچھے کام کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اور یہ سب کچھ بیرونی امداد پر چلنے والی NGOs  کی رہنمائی میں کیا جاتا ہے۔
اس بل میں عورت کی بطور ماں، بیوی، بہن اور بیٹی او ر مرد کے بطور باپ، بھائی اور بیٹے کی کسی حیثیت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لگتا ہے کہ عورت کو خاندان کے بجاے این جی اوز کی سرپرستی میں دے دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنا خاندان کسی عورت کا زیادہ محافظ بن سکتا ہے، یا سول سوسائٹی کے مرد ، خواتین عورت کا تحفظ کریں گے؟ اگرچہ ہم اس بل کے مندرجات سے مطمئن نہیں ہیں لیکن چونکہ یہ بل اب پیش کیا جا چکا ہے، تو ہماری خواہش ہے کہ چند اہم ترامیم پیش کرکے اس کو بہتر بنایا جائے۔ ذیل میں مجوزہ ترامیم پیش کی جاتی ہیں:

  • ابتدائیہ: اس میں نہ تو آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی آرٹیکل کا خصوصی حوالہ دیا گیا ہے اور نہ قرآن و سنت پر مبنی کسی آیت یا حدیث کا۔ حالانکہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری مملکت ہے اور چاہیے تھا کہ مجوزہ بل میں یہ رہنمائی درج ہوتی۔ ہماری تجویز ہے کہ بل کا آغاز اس طرح کیا جائے:
  •  آرٹیکل ۲ (الف): چونکہ اللہ تعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلا شرکت غیرے حاکم مطلق (sovereign) ہے، اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقررکردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس امانت ہے۔
  • آرٹیکل ۳۱ (الف): پاکستان کے مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنی زندگی اسلام کے بنیادی اصولوں اور اساسی تصورات کے مطابق مرتب کرنے کے قابل بنانے کے لیے اور اُنھیں ایسی سہولتیں مہیا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، جن کی مدد سے وہ قرآن پاک اور سنت کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
  •  آرٹیکل ۱۴ (الف):شرفِ انسانی اور قانون کے تابع گھر کی خلوت قابلِ حرمت ہوگی۔
  •  آرٹیکل ۳۵: مملکت شادی،خاندان، ماں اور بچے کا تحفظ کرے گی۔
  •  آرٹیکل ۳۷ (ھ):بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے جو اُن کی عمر اور جنس کے لیے نا مناسب ہوں۔

بل میں دیے گئے ابتدایئے کی دفعہ ۳ کے دوسرے پیراگراف کےبجاے یہ الفاظ لکھے جائیں:’’ہر گاہ یہ ضروری ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد، یعنی جسمانی اور معاشی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے  اقدامات کیے جائیں‘‘۔
پورےبل میں’بچے‘ کی تشریح (definition  ) نہیں کی گئی۔ اسلام کی رُو سے جرم کے سزاوار اور نکاح وشادی کے لیے لڑکا/لڑکی کی بلوغت کی شرط رکھی گئی ہے۔لہٰذا، ضروری ہے کہ یہاں چونکہ معاملہ جسمانی تشدد کا ہے تو اس پر عمل کیا جائے۔ 
کئی امریکی ریاستوں میں ’سزا واریت جرم‘ (Criminal Liability) کے لیے عمر آٹھ سے ۱۵سال تک پائی جاتی ہے،مثلاً ایڈاہو میں ۱۴ سال، جارجیا میں ۱۲ سال، نیویڈا میں ۸ سال ہے۔
آج کل انٹرنیٹ اور لٹریچر نے بچوں کو بہت تھوڑی عمر میں ’بالغ‘ بنا دیا ہے۔ لہٰذا، کسی صورت بھی اس عمر کی حد کو نہ بڑھایا جائے، ورنہ بداخلاقی معاشرے میں اور زیادہ نفوذ کر جائے گی۔   فقہ حنفی کے مطابق یہ عمر زیادہ سے زیادہ ۱۵ سال ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر کسی میں ڈاکٹری معائنے کے مطابق اس عمر سے کم میں بھی آثار نمودار ہو جائیں، تو وہ اس ایکٹ کے تحت بلوغت کی عمر تصور کی جائے گی۔

یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ’ابتدایئے‘ میں اتنی زیادہ تفصیل نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن یہ اعتراض اس لحاظ سے قابل توجہ نہیں کیونکہ ’ابتدائیہ‘ دراصل اس سارے ایکٹ کے بارے میں حکومت کا مؤقف، اُس کا وژن، اٹھائے جانے والے اقدامات کا خلاصہ اور اپنے اہداف کے حصول کے طریقۂ کار (strategy) کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر یہ مبہم رہنے دیا جائے تو حکومت کی سنجیدگی اور خلوص پر سوال پیدا ہوتا ہے۔
بل کا نام: سیکشن:۱، شق ۱: اس بل کا نام Domestic Violence against Women (Prevention & Protection)  رکھا گیا ہے۔ یہ نام بذاتِ خود تعصب (prejudice) پر مبنی ہے کیونکہ violence یا تشدد کے بارے میں پہلے سے ہی فرض کیا گیا ہے کہ ’’یہ ہمیشہ مرد کی جانب سے خاتون کے ساتھ کیا جاتا ہے‘‘۔ حالانکہ یہ دونوں جانب سے ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس کا نام ’صنفی سطح پر تشدد‘ (Gender Based Violence) ہونا چاہیے۔
عالمی تنظیم صحت نے اپنی رپورٹ Violence Against Women   ۱۹۹۶ء میں گھریلو تشدد رپورٹ کوgender based violence (صنفی سطح کا تشدد) ہی قرار دیا ہے۔
بل کے نام میں خواتین کے ساتھ لفظ ’بچوں‘ (children)کا اندراج ہونا چاہیے، کیونکہ ابتدایئے میں بچوں کے تحفظ کا بھی ذکر ہے۔  

  • سیکشن ۲ شق i (ل): اس میں سہولت کار (service provider) کو بالکل ہی خذف کر دیا جائے۔ کیونکہ متاثرہ فرد کے لیے اُس کا خاندان ہی سب سے اہم ادارہ ہے، جو اُس کی دیکھ بھال کرے گا، اور متاثرہ (victim ) خاندان کے اندر اپنے آپ کو محفوظ تصور کرے گا۔ لیکن اگر یہ ترمیم قبول نہیں کی جاتی تو پھر سہولت کاری صرف شفاف سرکاری انتظام میں ہونی چاہیے۔  کسی رضاکار فرم یااین جی او کو یہ ذمہ داری نہ دی جائے کیونکہ ایک تو اُن پر کوئی خاص کنٹرول نہیں ہوتا۔ دوسرے وہ یہ کام عطیہ دینے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ اُن کے اعتبار (credentials  )کو عوام اور عوامی نمایندگان نہیں جانتے۔
  • سیکشن ۲  شق ۱ (م): ’’متاثرہ سے وہ خاتون جس پر گھریلو تشدد کیا گیا ہو مراد ہے ‘‘۔ ہماری ترمیم کے مطابق یہ متاثرہ شخصیت کوئی بھی ہو سکتی ہے۔بچوں کو خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا اس متاثرہ کی تعریف میں شامل کر لیں۔ 
  • سیکشن ۲  شق ۱ (ن): تشدد کی تعریف یوں کی جائے: ’’تشدد جسمانی نقصان رسانی یا معاشی ہو سکتا ہے‘‘۔ اور باقی وضاحت حذف کر دی جائے، کیونکہ وہ مبہم اصطلاحات ہیں اور اُن کی کثیر وجوہ ہو سکتی ہیں۔
  • سیکشن ۴  شق  ۱: ضلعی تحفظ کمیٹی کو تقریباً مکمل طور پر بیوروکریٹس کے حوالے کر دیا گیا ہے حالانکہ اس کمیٹی کا چیرپرسن ڈپٹی کمشنر کے بجاے منتخب ضلع ناظم ہونا چاہیے تھا، لیکن اس حکومت نے اپنے ہی بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کرکے یہ اہم عہدہ ختم کر دیا ہے تاکہ ضلع میں بیوروکریسی مضبوط ہو ۔ہماری ترمیم درج ذیل ہے:

’ضلع تحفظ کمیٹی‘ کے تمام ممبران میں انتخاب سے سادہ اکثریت سے جیتنے والے ممبر کو چیئرپرسن بنایا جائے۔ڈپٹی کمشنر کی حیثیت عام ممبر کی ہو اور وہ گورنمنٹ کے نمایندے کی حیثیت سے چیئر پرسن کی پوری معاونت کرنے کا پابند ہو۔
موجودہ ممبران میں مزید اضافہ کرکے مندرجہ ذیل کو ممبر بنایا جائے:شہر کا ناظم/مئیر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر، مستند اور باکردار عالم ترجیحی طور پر ڈسٹرکٹ خطیب۔
سول سوسائٹی سے ممبران لینے کی کوئی ضرورت نہیں اور اس شق (ف) کو حذف کیا جائے۔ اس کے بجاے متاثرہ فریقین کے خاندانوں سے ، جن کے مقدمات کے بارے میں ’ضلع تحفظ کمیٹی‘  میں جس دن بحث ہو، ایک ایک نمایندہ اور اُسی متعلقہ علاقے کا مقامی ناظم بطور غیر سرکاری ممبر صرف اسی اجلاس کے لیے مقرر کیا جائے۔
’ضلع کمیٹی براے تحفظ خواتین‘ کی چیئرپرسن سیکرٹری کے بجاے صرف عام ممبر ہوگی۔ اور ضلعی تحفظ کمیٹی کے سیکرٹری کا انتخاب کمیٹی کے پہلے اجلاس میں موجود ارکان کی سادہ اکثریت سے ہوگا۔
اسی کی ذیلی دفعہ ۴ میں کسی ممبر کو ہٹانے کا اختیار حکومت کے بجاے عدالت کو دیا جائے۔

  • سیکشن ۵ شق ۴: ضلعی تحفظ کمیٹی کے اجلاس کا کورم ۶ کے بجاے ۹ ہو، تاکہ تمام ارکان میٹنگ کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی حاضری یقینی بنائیں۔ ہر اجلاس میں منتخب چیئرپرسن ، شہر کا ناظم /میئر اور عالم کی موجودگی لازمی ہوگی، ورنہ کورم پورا تصور نہیں کیا جائے گا۔
  • سیکشن ۵ میں شق ۶ کا اضافہ درج ذیل عبارت سے کیا جائے: ’’کسی ممبر کی تین بار مسلسل اجلاس سے غیر حاضری پر اُس سے وضاحت طلب کی جائے گی‘‘۔
  • سیکشن ۸ اور سیکشن ۹:ضلعی تحفظ کمیٹی کے سیکرٹری اور سہولیات فراہم کرنے والے ادارے کے بعض فرائض اور ذمہ داریاں مشترک اور ایک دوسرے کے ساتھ گڈمڈ ہیں، یعنی ایک ہی کام دوادارے کر رہے ہیں، مثلاً: دونوں کا متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ، محفوظ رہایش گاہ کا بندوبست، مالی امداد کے لیے کوشش وغیرہ کرنا ۔

سیکشن ۸  کے تحت ایک اضافی شق کا اضافہ کیا جائے۔
’’ضلعی تحفظ کمیٹی متاثرہ فرد کو پناہ گاہ فراہم کرنے سے پہلے اپنے خاندان کے حوالے کرنے کی تجویز خاندان کے سرپرست/نمایندہ کی رضامندی سے دینے کی پابند ہوگی۔ اور متاثرہ کی رضامندی کی صورت میں خاندان کے حوالے کر دیا جائےگا‘‘۔

  • سیکشن ۱۰ شق (ر): حکومت اس سیکشن کے تحت مزید درج ذیل اقدامات کو یقینی بنائے:

۱- عام لوگوں کو مذہبی اور اخلاقی اقدار سے آگہی اور تعلیم دی جائے۔
۲- پرائمری سے یونی ورسٹی تک اخلاقیات اور عقائد کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔
۳- حکومت بچوں/بچیوں کی بلوغت کے بعد شادی و نکاح کے راستے کی رکاوٹیں دور کرے اور جہاں مالی اعانت کی ضرورت ہو، اس سے دریغ نہ کیا جائے۔
۴- عیاشانہ اور پُرتکلف طرزِ زندگی کی حوصلہ شکنی کرے۔ جہیز اور ایسی دوسری رسموں سے معاشرے کو چھٹکارا دلانے کے لیے ضروری قانون سازی کرے۔
۵- سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو فحاشی کے انسداد کے لیے ضابطہ سازی کرے اور ہیجان انگیز ، فحش جنسی مواد کو بلاک کرے۔ 
۶- فلموں اور ڈراموں میں فحش کرد ار ادا کرنے والے آرٹسٹوں کی حوصلہ شکنی کرے۔     آرٹ اور فن کے نام پر ان کو قومی ایوارڈز دینے کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
۷- حکومت دستور کے آرٹیکل ۳۵ کے تحت پابند ہے کہ وہ خاندان کے ادارے کا تحفظ یقینی بنائے، لہٰذا دوسرے اقدامات کے علاوہ زوجین کے باہمی اختلافات کو فریقین کے خاندانوں کے سرپرستوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے۔
۸- نوجوانی کی عمر میں انسانی جذبات کا اگر مثبت رُخ اور direction متعین نہ کی گئی تو  یہ ہیجان انگیزی معاشرے کے لیے بہت نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ لہٰذا، اسکولوں، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں مخلوط تعلیم کے بجاے جداگانہ تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔  
افسوس کہ مغربی تہذیب کے زیر اثر طبقات نام نہاد ترقی کے حصول کے لیے شادیوں میں تاخیر کی راہ پر چلتے ہیں، لیکن اسلام نے بلوغت کے ساتھ ہی نکا ح کی ترغیب دی ہے۔اب یہ امر سب پر بالکل واضح ہے کہ بڑی عمر کی شادی کے نتائج، اولاد کا نہ ہونا یا اولاد کی ذہنی معذوری کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
۹- اُن تمام وجوہ کے سدباب کے لیے اقدامات کرنا: جو تشدد پر مبنی رویوں کا باعث بنتے ہیں، مثلاً بانجھ پن، ڈیپریشن اور نفسیاتی الجھنیں، بڑی عمر کی شادیاں، صنفی اور نسلی تفاخر اور ذات پات اور برادری کی بنا پر تحقیر آمیز رویے وغیرہ۔

  • سیکشن ۱۱ کے تحت عدالت معاملے کی چھان بین اور معاملے کی حساسیت کے پیش نظر  یہ تفتیش لازماً پولیس کے ایسے افسر سے کرائے جو رینک میں ڈی ایس پی سے کم نہ ہو۔
  • سیکشن۱۲:اس کی عبارت درج ذیل سے تبدیل کی جائے:

عدالت مقدمے کی نوعیت کے پیش نظر اس ایکٹ کے ابتدایئے کی رہنمائی کے تحت اہداف کے حصول کی خاطر آخری حکم یا فیصلہ کرنے سے پہلے فریقین (متاثرہ اور ملزم) کے بارے میں کوئی بھی ایسا عبوری حکم جاری کر سکتی ہے جو وہ مناسب سمجھے۔

  • سیکشن ۱۳، ۱۴ اور ۱۵: میں عبوری حکم کی آڑ میں بعض ایسے اُمور میں کمک (relief) لینے کی کوشش کی گئی ہے، جو سراسر میراث یا دوسرے سول معاملات ہیں۔ اور  جن کے لیے باقاعدہ قوانین موجود ہیں۔ لہٰذا، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ عدالت کو بااختیار بناکر یہ معاملات اُس کی صواب دید پر چھوڑ دیے جائیں، تاکہ وہ قانون کی روشنی میں مناسب فیصلہ دے سکے۔ یہ تمام شقیں حذف کی جائیں اور عدالت کو مکمل طور پر با اختیار بنایا جائے۔

ان تمام شقوں کے بجاے سیکشن ۱۳ میں یہ عبارات لکھ دی جائیں: سیکشن ۱۳۔ عدالت کو اگر تشدد کا وقوع پذیر ہونے کا یقین ہو جائے، تو وہ سیکشن ۱۲ کے تحت جاری کردہ احکامات کے علاوہ ملزم کو متاثرہ فریق کی رضامندی کے ساتھ اس بات کا پابند بنائے کہ وہ متاثرہ فریق کو انتہائی ناگہانی صورت حال کے بغیر جس کی وہ باقاعدہ اطلاع ضلعی حفاظتی کمیٹی یا متعلقہ عدالت کو پیشگی اطلاع دے گا، گھر سے بے دخل نہیں کرے گا،تاکہ دونوں فریق ایک دوسرے سے دوبارہ مانوس ہونے کے مواقع پا سکیں۔فریقین یا اُن کے خاندانوں کے سرپرستوں سے اس سلسلے میں ضمانت کی اگر عدالت ضرورت سمجھتی ہوتو یہ عہد لیا جا سکتا ہے۔
اس بات کو بھی یقینی بنایا جائےکہ فریقین کے خاندانوں کے درمیان ثالثی کی کوشش متعلقہ علاقہ ناظم اور علما کی سرکردگی میں کی جائے۔’’متاثر فریق کو سرکاری پناہ گاہوں میں بھیجنا ان اقدامات کی ناکامی کی صورت میں آخری حل ہوگا۔‘‘

  • سیکشن ۱۸: جھوٹی درخواست جمع کرانے والے پر جرمانہ کی حد کم از کم ۲ لاکھ مع ۳ ماہ قید کی سزا لاگو ہو، تاکہ جھوٹی درخواست بازی ختم ہو۔
  • سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات، خلیق احمد نظامی۔ ناشر: مجلس ترقی ادب، ۲-کلب روڈ، لاہور۔فون: ۹۹۲۰۰۸۵۶-۰۴۲۔ صفحات:۴۸۶۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

خلفاے راشدین کے دور میں نظامِ حکومت، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کےبناکردہ اصولوں پر استوار رہا، مگر دورِ بنی اُمیہ میں حکومت و سیاست کی بنیادیںہل گئیں۔اگرچہ خلیفہ،  بادشاہ بن گیا (تاہم، وہ خود کو خلیفہ ہی سمجھتا تھا)۔ ان کے برعکس سلاطینِ ہند نے اس روش سے اجتناب برتنے کی کوشش کی۔ زیرنظر کتاب میں قطب الدین ایبک (سے لے کرالتمش، فیروز شاہ، ناصرالدین محمود، غیاث الدین، معزالدین کیقباد، جلال الدین خلجی، غیاث الدین تغلق، محمد تغلق، سکندر لودھی وغیرہ تک) کے مذہبی رجحانات کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔فاضل مصنف علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے وائس چانسلر رہے اور مصر میں حکومت ِ ہند کے سفیر بھی۔ مگر اصلاً وہ ایک وسیع النظر عالم اور غیر جانب دار مؤرخ تھے۔اپنی وقیع اور بلندپایہ تصانیف کی تحریر و تدوین کے لیے انھوں نے عربی، فارسی اور انگریزی مصادر سے براہِ راست استفادہ کیا۔ ڈاکٹر نظامی بتاتے ہیں کہ: یہ سلاطین عدل و انصاف، عبادات میں انہماک، علما و صوفیا سے عقیدت، اشاعت ِ اسلام اور احترامِ شریعت جیسے قابلِ قدر اوصاف کے ساتھ مخالفین کے قتل، شراب نوشی، رقص و سرود میں دل چسپی میں بھی ملوث نظر آتے ہیں۔ اسی طرح بعض ذاتی زندگی میں بہت متقی، پرہیزگار اور تہجدگزار بھی تھے۔ ان میں غازی ملک غیاث الدین تغلق جیسا ’مناقب ِ جمہور‘ سے متصف شخص بھی تھا، جس کی مؤرخین نے جی بھر کر تعریف کی ہے۔ محمدشاہ تغلق جیسا نابغہ بھی تھا، مگر نہایت متضاد اوصاف کا مالک اور عجیب و غریب حکمران۔ 
مؤرخین نے ان میں سے بعض سلاطین پر طرح طرح کے الزامات بھی لگائے ہیں۔ نظامی صاحب نے تجزیہ کرکے بہ دلائل ان کی تصدیق یا تردید کی ہے۔ مجموعی طور پر ان بادشاہوں کے ہاں مذہبیت غالب تھی اور ان کے مذہبی رجحانات قوی تھے۔ اس کی ایک وجہ اس دور کے نڈر اور بے باک علما و صوفیا اور باعمل مشائخ بھی تھے۔یہ کتاب بہت پہلے بھارت میں چھپی تھی، مجلس نے اس کا عکسی ایڈیشن شائع کرکے ایک علمی خدمت انجام دی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


  • تذکار بگویہ، جلد پنجم، مرتب و ناشر: ڈاکٹر انوار احمد بگوی۔ چیف ایگزیکٹو، منصورہ ٹیچنگ ہسپتال، منصورہ، لاہور۔ صفحات: ۶۰۸۔ قیمت:درج نہیں

۔بھیرہ کا خاندانِ بگویہ اپنی علمی، تبلیغی اور اصلاحی خدمات کی وجہ سے پورے برعظیم میں ایک امتیازی حیثیت رکھتا ہے۔ اس خاندان میں ایسے متعدد عالم، محدث، فقہی اور صاحب ِ قلم بزرگ گزرے ہیں، جن کی زندگیوں کا مقصد ِ وحید دینِ اسلام کی حفاظت اور فروغ تھا۔ دین کے یہ بے لوث خادم ہمیشہ سرکار، دربار سے گریزاں اور صاحبانِ اقتدار سے فاصلے پر رہے۔ دنیاوی مناصب اور عہدوں سے انھیں کوئی دل چسپی نہ تھی۔ایک طرف انھوں نے تحریک ِ خلافت، تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ مدحِ صحابہؓ کی تائید کی اور حسب ِ استطاعت ان میں حصہ بھی لیا۔ دوسری طرف معاصر گمراہ کن تحریکوں اور شخصیات کی تردید میں اپنا بھرپور اثرورسوخ استعمال کیا۔ بگویہ علما نے بھیرہ میں  مجلس حزب الانصار، دارالعلوم عزیزیہ اور کتب خانہ عزیزیہ قائم کیے، اور شمس الاسلام  کے نام سے ایک دینی رسالہ بھی جاری کیا۔
مولانا ظہور احمد بگوی اس خانوادے کے علما میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ زیرنظر کتاب میں ان کی ۲۵سال کی تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔ جو مضامین، مقالوں، تجزیو ں اور اداریوں کی صورت میں ماہنامہ شمس الاسلام میں بکھرے ہوئے تھے۔
اس کتاب کے مؤلف ڈاکٹر انوار احمد بگوی ڈاکٹر ہیں اور ایک ہسپتال کے کُل وقتی سربراہ بھی۔ اس ہمہ پہلو مصروفیت کے ساتھ ایسی علمی کتاب کی تدوین، وقت کی تنظیم اور استعمال کے باب میں ان کی سلیقہ مندی کو ظاہر کرتی ہے۔ چار جلدیں وہ قبل ازیں مرتب اور شائع کرچکے ہیں۔ یہ علمی کارنامہ بظاہر تو اپنے ذوق و شوق اور اپنے بزرگوں کے کارناموں کو تاریخ کے اَوراق میں منضبط کرنے کے خیال سے انجام دیا گیا ہے، لیکن درحقیقت ایک قیمتی اثاثے کو آیندہ نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)


  • STRAIGHT TALK، [سیدھی بات]، ذوالفقار احمد چیمہ۔ ناشر: ماورا پبلشرز، ۶۰-شارع قائداعظم، لاہور۔ فون: ۳۶۳۰۳۳۹۰-۰۴۲۔صفحات: ۲۵۲۔ قیمت: ۷۰۰ روپے۔

اچھا سوچنا ایک اعلیٰ قدر ہے اور اس سوچ کو تعمیری تحریر میں ڈھالنا باعث ِ سعادت۔  ذوالفقار احمد چیمہ معروف اور نیک نام سول افسر رہے ہیں۔ انھوں نے معاشرے کے جملہ تضادات کو باریکی سے دیکھا، پرکھا اور ہمدردانہ دانش سے ان کا علاج تجویز کیا ہے۔
ہم بنیادی طور پر ایک ظاہردار اور تہذیبی اعتبار سے بیمار معاشرہ ہیں۔ اس بیماری کا سب سے بڑا مظہر اپنی قومی زبان اُردو کو دھکے دے کر علمی اور قانون ساز اداروں، سرکاری دفتروں اور عدالتوں سے باہر نکال پھینکے کا جرمِ عظیم ہے۔ جرمِ عظیم کہنا اس لیے درست ہے کہ ہمارا کم و بیش تمام تر تہذیبی، دینی، ادبی اور علمی اثاثہ اُردو میں ہے۔ لیکن یہ زبان دفتر اور عدالت، اسکول اور مارکیٹ، تعلقات اور معاشرے کے دائرے سے باہر اور ایک قابلِ رحم بھکارن کے رُوپ میں دکھائی دیتی ہے۔
جناب ذوالفقار نے اس کتاب کی بیش تر تحریریں اُردو میں لکھیں، لیکن وہ یہ دیکھ کر سخت صدمے سے دوچار ہیں کہ نئی نسل کا ایک قابلِ لحاظ حصہ اپنے ملکِ عزیز میں بھی اُردو سے بیگانہ اور لاتعلق ہے۔ چنانچہ انھوں نے کتاب کے کچھ مباحث کو انگریزی میں ڈھالا، تاکہ آنے والی نسل کے دل و دماغ پر ہتھوڑا بن کر برسنے والے بدیسی، سیکولر، اسلام گریزی اور پاکستان دشمن بیانات و خیالات کے برعکس دوسرا پہلو بھی سامنے آسکے۔
کتاب میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے لے کر رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ کے پُرنور گوشے، علامہ اقبال کے پیغامِ زندگی سے لے کر قائداعظم کے وژن اور ۱۱؍اگست کی تقریر کی بحث تک، تاریخ کے اسرار و رُموز سے لے کر انتظامیات کے پیچ و خم پر پھیلے ۴۰موضوعات کو سمیٹا گیا ہے۔ انگریزی زبان رواں، شُستہ اور عام فہم ہے اور تاثیر انگیز۔ (س م خ)
 

عاتکہ منیر ، پٹنہ (بھارت)

انٹرنیٹ پر ترجمان القرآن (اکتوبر۲۰۱۹ء) کا حرف حرف پڑھا، جو اچانک اور بلاارادہ میری رسائی میں آیا۔ اس شمارے نے مجھ پر جموں و کشمیر کے مسئلے کی حقیقت کے وہ گوشے روشن کیے ہیں کہ تحقیق کی دنیا سے تعلق کے باوجود آج سے پہلے وہاں تک رسائی حاصل نہ تھی۔ پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے ’اشارات‘ میں مسئلے کی تاریخ کو ایسے علمی، قانونی، مدلل ، منطقی اور غیرجذباتی انداز سے پیش کیا ہے کہ یہ مضمون ہندی میں خود بھارت کے طول و عرض میں فراہم کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح شکیل رشید ، افتخار گیلانی اور ڈیویکا ایس کی تحریریں کشمیر کے المیے کو اُجاگر کرنے کی راہ میں بڑے بڑے مضمونوں پر بھاری ہیں۔


فاطمہ بدر ،کراچی

حیرت ہے کہ ڈاکٹر رشیداحمد (لاہور) نے (اکتوبر ۲۰۱۹ء، ص ۱۱۱) مفتی منیب الرحمٰن صاحب کے مضمون کو کھلے دل سے پڑھنے اور سمجھنے کے بجاے اُلٹا اس پر اعتراض وارد کر دیا ہے۔ مفتی صاحب نے کہیں پر بھی فہم قرآن کی نفی نہیں کی، لیکن حفظ و تلاوت کلامِ الٰہی کی قرار واقعی اہمیت ضرور اُجاگر کی ہے۔ اگر محض قرآنی زبان کا جاننا ہی ایک اعلیٰ قدر ہوتی ، تو ابولہب اور ابوجہل اُس زبان کا ٹھیک ٹھیک فہم رکھنے کے باوجود اس مقامِ عبرت پر نہ ہوتے۔ ثابت ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کے لیے زبان دانی کی اہمیت کے باوجود، اس سے برتر چیز ایمان اور تفقہ فی الدین ہے۔ اسی طرح یہ بھی ایک بے معنی پھبتی ہے کہ مدارسِ دینیہ میں قرآن نہیں پڑھایا جاتا۔


حبیب الرحمٰن چترالی ، اسلام آباد

محترم ایچ عبدالرقیب صاحب کا معلوماتی مضمون: ’زکوٰۃ اور اسلامی سرمایہ کاری کا عالمی کردار‘ (ستمبر۲۰۱۹ء) پڑھا۔ جس میں پاے دار ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے ۱۹۱ممبر ممالک کے متعین کردہ ’ترقی کے معیارات‘ اور ’ہزار سالہ ترقیاتی اہداف‘ کے حوالے سے، مجھے مضمون نگار کی راے سے سخت اختلاف ہے۔ فریضۂ زکوٰۃ کے عالمی کردار کو ہمیں اقوامِ متحدہ کے معیارات پر نہیں دیکھنا چاہیے کیونکہ مقاصد کے اعتبار سے ان مقامروں [جواریوں] کو اقبالؒ نے ’کفن چوروں‘ سے تشبیہہ دی ہے۔ مسلم دنیا کے معدنی وسائل اور اقتدارِ اعلیٰ پر قبضہ حاصل کرنے کے بعد اب عالمِ اسلام کے دینی مناسبت سے معاشی وسائل کو بھی اپنے مقاصد اور عزائم کی تکمیل میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مطلوب یہ ہے کہ مقاصد تو اسلام کے ہوں، اور مسلم دنیا کے وسائل اِن کے مقاصد کے لیے استعمال ہوں۔ وہ وسائل جن کے لیے ’تم میں سے ہوں‘ کی شرط بیان کرکے اسلام، مسلم معاشروں کو ہدایت دیتا ہے۔ اگر اقوام متحدہ، شریعت ِ محمدی کے نام سے یا مقاصد ِ شریعت کے نام سے یہ وسائل اپنے تصوراتِ ہیومن اَزم (Humanism) کے لیے استعمال کرے گی، تو اس طرح دینی اور شرعی مقاصد و اہداف کی تکمیل ہرگز نہ ہوسکے گی۔ 
اقوام متحدہ غالباً یہ چاہتی ہوگی کہ ۲۲ فی صد مسلمانوں کی توحیدی قوت بھی ۱۹۱ ممالک کی تکثیری قوت کے تابع ہوجائے، تاکہ مسلم دنیا کے اقتدار پر قابض سیکولر، دولت پرست اور مغرب نواز حاکموں کے ہاتھوں شریعت ِ محمدی کے اپنے متعین کردہ معاشی و معاشرتی اہداف کی تکمیل تو درکنار، زکوٰۃ کے آٹھ مصارفِ شرعی بھی انھی کے مقرر کردہ ملینیم گول کی نذر کر دیے جائیں ۔ اقوام متحدہ ’شارع‘ بن کر اپنے متعین کردہ اہداف کے لیے شریعت اور زکوٰۃ کو بطورِ وسیلہ استعمال کرنا چاہتی ہے۔ یہ چیز شرکِ جلی کی خطرناک صورت ہے اور مسلم معاشروں کے معاشی وسائل کے استحصال کی ایک نئی صورت بھی۔اگرچہ مضمون نگار نے تو اس کارگزاری کو ایک مثبت پیش رفت کے طور پر پیش کیا ہے، لیکن ہم ان کے شکرگزار ہیں کہ اُن کےذریعے فی نفسہٖ ایک زہریلی چیز سے آگاہ ہوئے ہیں، جس پر مسلم دنیا کے متعلقہ اداروں کو اپنا ٹھیک ٹھیک کردار ادا کرنا چاہیے۔