برصغیر پاک و ہند میں مسلم عہد ِ حکومت (جسے عام طور پر عہد ِ وسطیٰ کے ہندستان (Medieval India ) کے نام سے جانا جاتا ہے) مذہبی و ثقافتی اور سماجی و سیاسی مختلف حیثیتوں سے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور کی تاریخ میں بڑی دل چسپی پائی جاتی ہے۔ ایک جانب اس زمانے کے اندازِ سیاست، نظمِ حکومت ، مذہبی و تمدنی اور سماجی و معاشی حالات کو جاننے اور سمجھنے کی سنجیدہ و علمی کوششیں کی جاتی ہیں، تو دوسری جانب ایک طبقے کی مسلسل منصوبہ بند مہم یہ ہے کہ اس عہد کی تاریخ کو مسخ کرکے اس کی ایسی گھنائونی تصویر پیش کی جائے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ مسلم حکمرانوں سےبے زاری پیدا ہو بلکہ موجودہ دور میں ان کے ہم سخنوں کے خلاف جذبات بھی برانگیختہ ہوں۔ اس صورتِ حال میں اس بات کی ضرورت اور بڑھ گئی ہے کہ ہند میں مسلم عہدِحکومت کی تاریخ کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے ،اور اس زمانے کے سیاسی و اقعات، انتظامی اقدامات اور سما جی و معاشی کوائف کا گہری نظر سے جائزہ لیا جائے، تاکہ صحیح صورتِ حال سامنے آئے اور تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں ناکام ہوجائیں۔
ہند کے ساحلی علاقوں میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ ساتویں صدی عیسوی کے آخرسے شروع ہوا۔ مغربی ساحل پر تھانہ اور بھروچ کے علاقے میں مسلمانوں کی اوّلین مہم حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت سے منسوب کی جاتی ہے۔۱ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں میں مسلم (عرب) تاجروں کی آمد آٹھویں صدی عیسوی سے شروع ہوئی، جو اس علاقے میں اسلام کے تعارف کا ذریعہ بنی۔ بعدمیں یہاں مسلم معاشرت کے قیام اور مختلف مقامات پر ان کے مذہبی و ثقافتی مراکز کے وجود میں آنے سے اسلام کی اشاعت کی راہیں مزید ہموار ہوئیں۔۲ ہندستان میں مسلمانوں کی اوّلین حکومت ۷۱۲ء میں نوجوان سپہ سالار محمد بن قاسم [۶۹۵ء-۷۱۵ء] کی قیادت میں سندھ میں قائم ہوئی، اور اس سرزمین میں اسلام کی اشاعت اور اسلامی تہذیب و تمدن کے فروغ کا سلسلہ اسی دور سے شروع ہوا۔
اگرچہ محمد بن قاسم کو پورے دو سال بھی سندھ میں حکومت کرنے کا موقع نہ مل سکا، اور ان کے جانشینوں کے عہد میں عربوں کی حکومت یہاں کچھ ہی علاقوں (منصورہ و ملتان) تک محدود ہوکر رہ گئی، لیکن ان کی حکومت کا یہ سلسلہ کسی نہ کسی طرح ۹۸۵ء تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ قرامطہ فرقے کے لوگ اس پر قابض ہوگئے۔۳ یہاں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ سندھ میں عربوں کی یہ حکومت ہندستان میں اسلام کی اشاعت اور اسلامی ثقافت کے فروغ کے اعتبار سے بہت مفید ثابت ہوئی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس سے ہندستان کے دوسرے حصوں میں مسلم فتوحات کی راہیں بھی ہموار ہوئیں۔ اسی لیے سندھ کی فتح ’باب الاسلام فی الہند‘ کے نام سے بھی معروف ہے۔
مزید یہ کہ سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت اس لحاظ سے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کہ یہاں پہلی بار ہندستان میں مسلمانوں کو حکمران کی حیثیت سے ہندوئوں سے تعلقات و معاملات قائم کرنے اور ان کے ساتھ اپنے طرزِعمل کے مظاہرے کا موقع ملا، اور ان سب سے اہم یہ کہ سندھ کے فاتح و اوّلین حکمران محمد بن قاسم نے اپنی حکومت کے تحت ہندوئوں کی جو قانونی حیثیت (ذمّی) متعین کی اور ان کے تئیں جو روادارانہ رویہ اختیار کیا، وہ اسلامی اصول و ضوابط کے مطابق تھا، اور وہی بعد کے دور میں شمالی ہندستان میں ترک سلاطین و مغل بادشاہوں کے لیے نظیر بن گیا۔
تاریخی واقعات اسی حقیقت کے شاہد ہیں کہ پورے مسلم عہد ِ حکومت میں یہاں عام طور پر غیرمسلموں کے ساتھ مسلم حکمرانوں کا برتائو، رواداری و انصاف پر مبنی رہا ہے۔ اس پس منظر میں یہ مطالعہ بڑی اہمیت و معنویت رکھتا ہے کہ سندھ میں حکومت کے دوران محمد بن قاسم نے ہندوئوں کے ساتھ کیسا طرزِعمل اختیار کیا ؟اور ان کے ساتھ سلوک و برتائو کا کیا معیار قائم کیا؟
سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت کے قیام کے بعد سب سے پہلے یہ بنیادی سوال زیربحث آیا کہ: ’’ہندوئوں کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ ان کے ساتھ ذمّی کا برتائو کیا جائے یا غیرمسلموں کے کسی اور طبقہ (حربی و امانی وغیرہ) کی حیثیت سے ان کے ساتھ سلوک کیا جائے؟‘‘
تاریخ سندھ کے معروف ماخذ چچ نامہ۴ کے بیان کے مطابق محمد بن قاسم نے سندھ کے مختلف علاقوں کے ان مفتوحین (جن میں برہمن اور بدھ دونوں شامل تھے) کو قانونی طور پر ذمّی کی حیثیت سے تسلیم کیا اور ان پر جزیہ عائد کیا ، جنھوں نے اپنے قدیم مذہب پر قائم رہتے ہوئے مسلم حکومت کے زیرنگیں رہنے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس حیثیت سے انھیں مذہبی آزادی ملی اور قدیم مندروں کی مرمت و آبادکاری کی اجازت بھی مرحمت ہوئی۔(علی بن حامد الکوفی، چچ نامہ ، ص۲۰۸، ۲۰۹ ، ۲۱۰، ۲۱۲)
ان ذمّیوں پر تین شرح (مال دار کے لیے ۴۸ درہم، متوسط کے لیے ۲۴ درہم اور ان سے کم آمدنی والوں کے لیے ۱۲ درہم) کے مطابق سالانہ جزیہ عائد کیا گیا۔ اس سے متعلق فاتح سندھ نے باقاعدہ اعلامیہ بھی جاری کیا اور سندھ کے ہندوئوں (ذمّیوں) کو واضح طور پر یہ یقین دہانی کرائی کہ: ’’انھیں مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور ان کے مال و اسباب سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا‘‘۔(چچ نامہ، ص ۲۰۹)
اگرچہ تاریخی مآخذ میں صراحت نہیں ملتی، لیکن قرینِ قیاس یہی ہے کہ فاتح سندھ نے والیِ عراق سے استفسار کے بعد ہی سندھ کے ہندوئوں کی شرعی حیثیت متعین کی ہوگی۔ بعض جدید مؤرخین نے (بغیر کسی حوالے کے) پوری قطعیت کے ساتھ یہ ذکر کیا ہے کہ: محمد بن قاسم نے عراق کے گورنر اور علما سے صلاح و مشورے کے بعد ہی سندھ کے غیرمسلمین کے بارے میں اپنا مذکورہ بالا موقف اختیار کیا۔۵
یہاں پر یہ واضح رہے کہ فتح سندھ کی مہم کے دوران اور قیامِ حکومت کے بعد بھی محمد بن قاسم کا یہ معمول رہا ہے کہ وہ اہم اُمور میں فیصلہ لینے سے قبل کوفہ کے اُموی گورنر حجاج بن یوسف [۶۶۱ء-۷۱۶ء]سے مشورہ کرتے تھے اور بعض اوقات ان میں شرعی نقطۂ نظر سے حل طلب مسائل بھی شامل ہوتے تھے۔ اس بات کے واضح شواہد ملتے ہیں کہ گورنر عراق مقامی علما سے مشورے کے بعد ہی اپنی راے سے محمد بن قاسم کو مطلع کرتے تھے، اور اہم بات یہ کہ بعض معاملات میں گورنر نے محمد بن قاسم کو جواب بھیجنے سے قبل خلیفہ کی راے بھی معلوم کی۔۶
رہا یہ سوال کہ: ’’سندھ کے ہندوئوں کو کس بنیاد پر ذمّی کی حیثیت دی گئی، جب کہ وہ ’اہلِ کتاب‘ میں سے نہیں تھے؟‘‘ چچ نامہ اور دوسرے مآخذ کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ’شبہ اہلِ کتاب‘ کے زمرے میں شامل کر کے ذمّیوں کے حقوق دیے گئے(البلاذری، ص۶۱۷؛ چچ نامہ، ص۲۱۴)۔متعدد جدید مؤرخین نے بھی اسی خیال کی تائید کی ہے۔۷ یہاں پر یہ وضاحت بھی مناسب معلوم ہوتی ہے کہ تیرھویں صدی عیسوی کی ابتدا میں شمالی ہند میں ترکوں کی حکومت (یا دہلی سلطنت) کے قیام کے بعد ہندوئوں کی اس حیثیت کو نہ صرف سلاطین نے سرکاری طور پر تسلیم کیا، بلکہ اسی کے مطابق ان کے ساتھ عملی رویہ اختیار کیا اور بعد میں مغل دورِحکومت میں بھی ان کے ساتھ یہی طرزِعمل جاری رہا۔ مزیدبرآں اس عہد کے تاریخی مآخذ اور فقہی لٹریچر میں ہندوئوں کے لیے ’ذمّی‘ کی اصطلاح کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔۸
یہاں یہ ذکر بھی برمحل معلوم ہوتا ہے کہ عہد ِ مغلیہ کے آخری دور کے مشہور عالم اور نقشبندی صوفی مرزا مظہر جانجاناں (۱۶۹۸ء-۱۷۸۱ء) تو ہندوئوں کو واضح طور پر ’اہلِ کتاب‘ میں شمار کرتے تھے۔۹ مولانا ابوالکلام آزاد [م: ۲۲فروی ۱۹۵۸ء]کی راے یہ تھی کہ اگر مجوسی و صابی ٔ ’شبہ اہلِ کتاب‘ میں شمار کیے جاسکتے ہیں تو ہندو بدرجہ اولیٰ غیرمسلموں کے اس طبقے میں شامل کیے جانے کے مستحق ہیں۔۱۰
چچ نامہ اور دوسرے مآخذ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سندھ کی فتح کے بعد محمد بن قاسم نے یہاں کے انتظامی معاملات پر توجہ دی اور اُموی خلافت کی ہدایات کے مطابق وہ یہاں کا نظم و نسق چلاتے رہے۔ حکمراں (گورنر) کی حیثیت سے انھوں نے عوام کے ساتھ اچھے برتائو اور انصاف پسندی کا جو مظاہرہ کیا اور غیرمسلموں کے تئیں جو فراخ دلانہ سلوک روا رکھا، وہ تاریخی حقائق کا حصہ ہے۔
یہ عظیم فاتح بذاتِ خود شریف الطبع ، نیک طینت، نرم خو و انصاف پسند تھا۔ والیِ عراق، حجاج بن یوسف (جو ان کے چچا و خسر بھی تھے) بھی انھیں عوام سے اچھے تعلقات و حُسنِ معاملات کی تلقین برابر کرتے رہے۔ سندھ کی فتح کے دوران حجاج بن یوسف (جنھیں عام طور پر ایک جابر و ظالم حاکم کہا جاتا ہے) نے مختلف مواقع پر محمد بن قاسم کو تحریری ہدایات بھیجی تھیں۔ ان کی اوّلین تحریری ہدایت کے ایک حصے کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
جب علاقے پر حکومت چلانا یقینی ہوجائے اور قلعے مضبوط ہوجائیں تو جو کچھ بچے اس کو رعایا کی بہبودی میں خرچ کرنے میں دریغ نہ کرو۔ تاجروں اور کاشت کاروں کے لیے ہرقسم کی رعایت روا رکھو، اس لیے کہ ان کی خوش حالی سے ملک آسودہ و خوش حال رہتا ہے۔ جو کوئی تم سے اقطاع (زمین کے عطیے) کا طلب گار ہو، اسے نااُمید نہ کرو۔ رعایا کو امان دے کر ان کے دلوں کو مضبوط کرو۔(چچ نامہ، ص ۱۱۶، اور ص ۱۲۷-۱۲۸)
اسی طرح ایک دوسرے موقعے پر والیِ عراق نے انھیں یہ تلقین کی:
اپنا ایک عام دستور یہ بنا لو کہ رعایا کے ساتھ نہایت لطف و کرم سے پیش آئو، تاکہ دشمن بھی اطاعت پر آمادہ ہوجائیں، رعایا کو ہروقت تسلی دیتے رہو۔(سیّد ابوظفر ندوی، تاریخ سندھ، ص ۹۶)
حقیقت یہ ہے کہ ان ہدایات پر عمل کرتے ہوئے محمد بن قاسم نے عوام کی بھلائی و خبرگیری میں دل چسپی اور غیرمسلموں کے ساتھ اپنے روادارانہ و منصفانہ برتائو سے یہ ثابت کردکھایا کہ اہلِ اسلام جنگ کے بعد مفتوحوں و محکوموں کے ساتھ امن و آشتی کا معاملہ زیادہ پسند کرتے ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔
سندھ کے مفتوحین میں جن لوگوں نے مسلم حکومت کی تابع داری اور جزیہ کی ادایگی قبول کی، انھیں محمد بن قاسم نے مذہبی آزادی عطا کی اور یہ اجازت دی کہ وہ اپنے مذہبی رسوم و روایات بلاخوف و خطر بجا لائیں۔ برہمن آباد کے زیراقتدار آنے کے بعد محمد بن قاسم نے وہاں کے غیرمسلموں کے لیے جو مشہور اعلامیہ جاری کیا تھا، اس میں یہ صاف صاف ذکر تھا کہ: جو لوگ مسلم حکومت کے ماتحت رہتے ہوئے اپنے مذہب پر باقی رہنا پسند کریں گے، ان پر جزیہ عائد کیا جائے گا اور انھیں اپنے مذہب پر عمل کی آزادی حاصل ہوگی۔ اس سلسلے میں ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہ کی جائے گی۔۱۱
اس مسئلے پر اس سے زیادہ وضاحت برہمن آباد کے مشہور قدیم مندر کے پجاریوں کی محمدبن قاسم کی خدمت میں پیش کردہ عرض داشت اور اس کے جواب میں ملتی ہے۔ اس قصبے پر مسلمانوں کے قبضے کے بعد وہاں کے عام لوگ اس قدر خوف زدہ ہوئے کہ انھوں نے مندر آنا جانا بند کر دیا۔ اس کی وجہ سے مندر کے پجاری اور دیگر خدام پریشانی میں مبتلا ہوئے، اس لیے کہ ان کا سارا گزر بسر مندر کے نذرانے و بھینٹ پر تھا۔ آخرکار انھوں نے محمد بن قاسم (جن کی رحم دلی و انسانی ہمدردی اس وقت تک معروف ہوچکی تھی) کے سامنے عرض داشت پیش کی، جس میں اپنی پریشانی کا ذکر کرکے یہ درخواست کی کہ: ’’اس مندر کی آبادکاری کے لیے ضروری قدم اُٹھایا جائے اور لوگوں کا خوف اور پریشانی دُور کی جائے، تاکہ ان کی آمدنی بحال ہوجائے‘‘۔ محمد بن قاسم نے اس عرض داشت کی اطلاع حجاج کو بھیج کر ان کی راے معلوم کی۔ گورنر نے اس کا جو جواب دیا وہ مسلم حکومت کے تحت غیرمسلموں کے جانی و مالی تحفظ اور ان کی مذہبی آزادی کے مسئلے پر بہت ہی شافی و وافی ہے۔اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
تمھارا خط ملا اور حالات سے آگاہی ہوئی۔ اگر برہمن آباد کے مُکھیا [سردار] یا سربرآوردہ لوگ اپنا مندر آباد کرنا چاہتے ہیں تو اب، جب کہ انھوں نے ہماری اطاعت قبول کرلی ہے اور دارالخلافہ کو مال (جزیہ وغیرہ) ادا کرنے کا ذمہ لے لیا ہے تو اس محصول کے علاوہ ان پر ہمارا کوئی اور حق نہیں۔ جب وہ ذمّی ہوگئے تو ان کے جان و مال پر کسی طرح کی دست اندازی صحیح نہیں ہے۔ ان کو اجازت دی جائے کہ وہ اپنے معبود کی عبادت کریں۔ کسی کو بھی اپنے مذہب کی پیروی سے روکا نہ جائے تاکہ وہ اپنے گھر میں جس طرح چاہیں زندگی بسر کریں۔(چچ نامہ، ص ۲۱۳، سیّد ابوظفر ندوی، ص ۹۳)
اس جواب کی وصولی کے بعد محمد بن قاسم نے شہر کے معززین و پجاریوں کو اس کے مندرجات سے آگاہ کیا اور ان کے سامنے یہ اعلان کیا کہ:
ہرشخص بلاخوف و خطر مندر میں آجاسکتا ہے اور اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرسکتا ہے۔ اس باب میں ان سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا۔(چچ نامہ، ص ۲۱۳-۲۱۴)
دل چسپ بات یہ کہ اس موقعے پر محمد بن قاسم نے برہمن آباد کے شہریوں کو یہ نصیحت بھی کی کہ وہ قدیم رسم کے مطابق برہمن پجاریوں کو نذرو نیاز دینا جاری رکھیں اور بالخصوص برہمن فقرا پر خوب داد و دہش کریں۔ مزید برآں انھوں نے یہ ہدایت بھی جاری کی کہ مال گزاری میں سے تین فی صد برہمن پجاریوں کے لیے علیحدہ رکھے جائیں، تاکہ بوقت ِ ضرورت ان پر خرچ کیا جاسکے۔(چچ نامہ، ص ۲۱۴)
پہلی نصیحت کا تعلق بظاہر ہندو عوام سے معلوم ہوتا ہے، دوسری کے مخاطب غالباً اہلِ حکومت تھے، لیکن یہ واضح نہیں ہوسکا کہ برہمن پجاریوں کے لیے محصولِ اراضی کا تین فی صد مختص کرنا قدیم دستور تھا یا محمد بن قاسم نے یہ قانون وضع کیا۔ بصورتِ دیگر ممکن ہے یہ خصوصی رعایت کسی مصلحت کی بناپر رہی ہو، لیکن اسلامی نقطۂ نظر سے یہ بات محلِ نظرمعلوم ہوتی ہے۔
محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت سندھ میں ہندوئوں کو اپنے مندروں میں نہ صرف پوجاپاٹ کی آزادی تھی، بلکہ انھیں اپنی قدیم عبادت گاہوں کی مرمت و تجدید کاری کی اجازت بھی حاصل تھی۔ یہ بات برہمن آباد کے پجاریوں کی عرض داشت کے جواب سے واضح ہوتی ہے۔ دوسرے محمد بن قاسم نے اس موقعے پر یہ صراحت کی کہ ان کے مندروں کی وہی حیثیت ہے جو عراق و شام میں یہود کے کنیسوں، نصاریٰ کے گرجوں اور مجوسیوں کے آتش کدوں کی ہے۔ (البلاذری ، ص ۶۱۷، چچ نامہ، ص ۲۱۴)
یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ اُموی و عباسی دورِ خلافت میں ’اہلِ کتاب‘ (یہود و نصاریٰ) اور ’شبہ اہلِ کتاب‘ (مجوسیوں) کی قدیم عبادت گاہوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا گیا تھا، بلکہ ان کے متعلقین کو اپنی عبادت گاہوں کے نظم و نسق اور بوقت ِ ضرورت ان کی مرمت کی آزادی بھی عطا کی گئی تھی۔ یہاں یہ واضح رہے کہ سندھ میں عربوں کی حکومت کے تحت یہ مذہبی آزادی نہ صرف برہمنوں یا ہندو مذہب کے ماننے والوں کو حاصل تھی، بلکہ پیروانِ بدھ مت بھی اس سے مستفیض ہوئے تھے۔
محمد بن قاسم نے سندھ کے غیرمسلموں (ذمّیوں) کو مذہبی آزادی دینے کے ساتھ انھیں سماجی تحفظ فراہم کیا اور ان کے سماجی و معاشرتی حقوق کی پوری پوری رعایت کی۔ انھیں اس بات کی اجازت حاصل تھی کہ وہ اپنی سماجی مصروفیات و تقریبات کو انجام دیتے رہیں اور حسب ِ دستور سابق اپنے مخصوص تہوار مناتے رہیں۔ برہمن آباد کے شہریوں کے سامنے انھوں نے کھلے عام یہ اعلان کیا کہ انھیں اپنی رسوم و روایات کو بجا لانے اور تہواروں کا اہتمام کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے (واعیا و مراسم خود را بشرائط آباء و اجداد قیام نمایند)۔(چچ نامہ، ص ۲۱۴)
مزید برآں ارضِ سندھ کے لوگوں میں جو پہلے سے اہلِ مناصب و اصحابِ حیثیت تھے، ان کے عہدہ و منصب کو فاتحِ سندھ نے بحال رکھا اور ان کے ساتھ معاملات میں ان کی سماجی حیثیت کی رعایت کی۔ اسی طرح جو لوگ یہاں کی قدیم رسم و رواج کے مطابق مخصوص لباس، زیور یا سواری استعمال کرتے تھے، انھیں اس کی اجازت باقی رہی۔(چچ نامہ، ص ۲۰۹-۲۱۰، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن، ص ۱۴)۔پھر یہ کہ ان میں جو مقامی رئیس یا مُکھیا کی حیثیت رکھتے تھے، انھیں ’رانا‘ کا خطاب عطا کیا گیا۔(چچ نامہ، ص ۲۱۴)
محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت سندھ کے ہندوئوں کو جو سماجی مراعات حاصل ہوئیں اور عزت و آرام کے ساتھ انھیں زندگی بسر کرنے کا موقع ملا، اس کا اندازہ خود ان کے بیانات سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب جزیہ و خراج کی ادایگی کی شرط پر حکومت کی جانب سے مہیا کردہ مذہبی، سماجی و معاشی آسانیاں وہاں کے اہم و بااثر لوگوں کے سامنے آئیں۔ انھوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ان کی سماجی حیثیت بحال کی گئی اور سابق حکمران خاندان کے افراد بالخصوص باصلاحیت و تجربہ کار لوگوں کو حکومت کے کاموں سے منسلک کیا گیا۔ انھیں عہدہ و خطاب سے نوازا گیا تو وہ دیہات میں جاجا کر لوگوں کے سامنے مسلم حکومت کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کرتے اور حکومت کی تابع داری پر لوگوں کو آمادہ کرتے رہے۔ ان کے بیانات کا ایک حصہ یہاں قابلِ ذکر ہے:
اے لوگو، تمھیں معلوم ہے کہ راجا داہر مقتول ہوگئے اوریہاں کافروں کی حالت ابتر ہوگئی۔ سندھ کے مختلف حصوں میں اہلِ عرب کی حکومت قائم ہوچکی ہے۔ اس سلطنت کے تحت شہرو قریات میں بڑے چھوٹے یکساں ہوگئے ہیں۔ ہمارے معاملات اب (مسلم) حکمران سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ اگر سلطان کا فرمان نہ ہو تو ہمیں نہ مال ملے اور نہ معاش حاصل ہو۔ ہم پر یہ اہلِ حکومت کا فضل و کرم ہے کہ ہم اچھے عہدوں اور عزت کے مقام پر ہیں۔ نہ تو ہم اپنے وطن سے نکالے گئے اور نہ مال و اسباب سے محروم کیے گئے۔ ہماری جایداد و عیال ہر طرح یہاں محفوظ ہے۔(چچ نامہ، ص۲۱۰-۲۱۱، سیّد ابوظفر ندوی،ص ۹۲)
تاریخی مآخذ میں یہ صراحت بھی ملتی ہے کہ عام لوگوں کے سامنے مذکورہ بیانات کا یہ اثر ہوا کہ دیہی علاقوں سے لوگ کثیر تعداد میں محمد بن قاسم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کی حکومت کے تئیں اطاعت کا اظہار کیا اور اس کے محاصل (خراج وغیرہ) کے بارے میں براہِ راست ان سے استفسار کیا (پس جملہ روساے شہر حاضر آمدند و مال بخود قبول کردند و از محمد بن قاسم مبلغ خراج خود را استخبار کردند)۔(چچ نامہ، ص ۲۱۱، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۵)
اس کے علاوہ محمد بن قاسم نے شہر اور گائوں کے تمام لوگوں کو اطمینان دلایا کہ وہ بلاخوف و خطر اپنی اپنی مصروفیات جاری رکھیں، ہر طرح خوشی و اطمینان سے رہیں۔ ان کے حقوق پر کسی کو دست درازی کا حق حاصل نہ ہوگا۔(چچ نامہ، ص ۲۱۲)
اسلامی قانون کی رُو سے مسلم حکومت کے تحت جن غیرمسلموں کو ذمّی کی حیثیت سے تسلیم کیا جاتا ہے، ان کی جان کے تحفظ کے ساتھ ان کے اموال و اسباب کی حفاظت کی ضمانت بھی حکومت لیتی ہے۔ اسلام میں ان کی جان کی طرح ان کے مال و اسباب کو بھی اس قدر محترم سمجھا جاتا ہے کہ اسلامی شریعت کسی کے لیے یہ بھی روا نہیں رکھتی کہ وہ ان کی چیزوں کو تباہ و برباد کرے جن کا قانونی طور پر ذمّی کے لیے مسلم شہرو ں میں لانا یا رکھنا جائز نہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ وہ اس قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے تادیب یا سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔۱۲
اسی کے مطابق محمد بن قاسم نے دیبل، نیروں، برہمن آباد ، ارور اور دوسرے شہروں میں اپنا نظم و نسق قائم کرتے ہوئے مفتوحین کو یہ یقین دلایا تھا کہ حکومت ان کے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت لیتی ہے اور وہ کسی کو یہ اجازت نہ دے گی کہ وہ ان کی جایداد و املاک کو نقصان پہنچائے۔ اپنے مشہور ’برہمن آباد اعلامیہ‘ (Declaration) میں انھوں نے یہ صاف طور پر واضح کیا کہ:
مفتوحین میں سے جن لوگوں کو ذمّی کا مقام مل گیا ہے ان کے اموال و اسباب ان کی تحویل میں باقی رہیں گے اور ان کی کسی چیز میں کوئی تصرف نہ کیا جائے۔(چچ نامہ، ص ۲۰۹)
مزید برآں محمد بن قاسم کے استفسار پر مفتوحین کی حیثیت واضح کرتے ہوئے حجاج بن یوسف نے صاف لفظوں میں یہ تحریر کیا کہ: ’’جب وہ ذمّی ہوگئے تو ان کے جان و مال میں تصرف کا ہمیں کوئی اختیار حاصل نہیں بلکہ انھیں جانی و مالی تحفظ فراہم کرنا ہم پر فرض ہوگیا‘‘ (چوں ذمی شدند در خون و مال ایشاں دست تصرف ما مطلق نباشد)۔(چچ نامہ، ص ۲۱۳،سیّد ابوظفر ندوی، ص ۹۳)
اس سے اہم یہ کہ محمد بن قاسم نے صرف برہمن آباد کے علاقے میں ۱۰ ہزار ایسے تاجروں، دست کاروں اور کاشت کاروں کو مالی امداد فراہم کی، جنھیں اس علاقے میں جنگ کے دوران مالی نقصان اُٹھانا پڑا تھا(چچ نامہ، ص ۲۰۹، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۴)۔ اس سے بڑھ کر معاشی تحفظ کی اور کیا مثال ہوسکتی ہے!
محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت سندھ کے ہندوئوں کو نہ صرف معروف ذرائع معاش (تجارت، زراعت و دست کاری) اختیار کرنے کی مکمل آزادی تھی بلکہ حکمران کی جانب سے انھیں یہ ترغیب بھی دی گئی کہ وہ بلاخوف و خطر اپنی معاشی سرگرمیاں جاری رکھیں اور مسلمانوں سے اقتصادی معاملات قائم کرنے میں بھی وہ کوئی خطرہ محسوس نہ کریں بلکہ مطمئن رہیں اور اپنی بہتری کے لیے کوشش کرتے رہیں (وبا مسلماناں خرید و فروخت کنند و ایمن باشند و در صلاح خود کوشند)۔ (چچ نامہ، ص ۲۱۴)
ذمّیوں کے لیے معاشی سرگرمیوں کی آزادی اور ان کے مالی حقوق کے تحفظ کی یہی یقین دہانی، گورنر عراق کے اس خط میں بھی ملتی ہے، جسے قصبہ منھل کے محمد بن قاسم کے زیرنگیں آنے کے بعد ان کو لکھا تھا۔ اس کے ایک حصے کا ترجمہ ملاحظہ ہو:
جو لوگ اطاعت قبول کرلیں انھیں امان دو، ان پر حکومت کے محصول مقرر کرو، اہلِ حرفت و تجارت پر زیادہ بار نہ ڈالو۔ جو لوگ کاشت کاری اور پیداوار بڑھانے میں محنت سے کام لیتے ہیں، ان سے خاص طور سے نرمی و فراخ دلی کا مظاہرہ کرو اور انھیں مالی مدد بھی بہم پہنچائو۔ جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوجائیں، ان سے عشر (زمین کی پیداوار کا دسواں حصہ) وصول کرو اور جو اپنے مذہب پر قائم رہیں ان کی صنعت و زراعت پر مقامی دستور کے مطابق محصول عائد کرو۔(چچ نامہ، ص ۲۱۹، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۸)
خراج کی ادایگی کی شرط پر غیرمسلموں کی اراضی پران کا قبضہ بحال رکھنا ذمّیوں سے متعلق اسلامی قوانین کا ایک حصہ ہے جس پر محمد بن قاسم کی حکومت کے تحت بھی عمل ہوا(چچ نامہ، ص ۲۰۹، ۲۱۱، ۲۱۳، ۲۱۹-۲۲۰)۔مزید برآں انھوں نے سندھ کے ہندوئوں میں بااثر و تجربہ کار لوگوں بالخصوص سابق حکومت کے متعلقین کو خراج (مال گزاری) کی تشخیص و تحصیل کی ذمہ داری سپرد کی۔ اس طرح مقامی لوگوں کو ہی ’امین‘ و ’عامل‘ کے منصب پر مامور کیا (پس دہقان و رئیساں را بر تحصیل مال نصب فرمود تا از شہر ور وستا اموال در ضبط آرند۔ ایشاں را قوتی و استنطہارے باشد)۔ (چچ نامہ، ص ۲۰۹- ۲۱۱)
یہاں یہ ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ خراج کی تحصیل کے لیے افسروں کو مقرر کرنے کے ساتھ محمد بن قاسم نے انھیں یہ ہدایت بھی جاری کی کہ کسانوں پر ان کی استطاعت سے زیادہ محصول نہ عائد کیا جائے، اس کی وصولی میں ان کے ساتھ نرمی و رعایت برتی جائے۔ حکمران اور رعایا کے مابین معاملات سچائی و انصاف کی بنیاد پر قائم کیے جائیں (راستی میان خلق و سلطان نگاہ دارید و بقدر احتمال ہرکس را خراج نہید و باہم دیگر ساختہ باشید و متردد نشوید تادلایت خراب نگردد)۔(چچ نامہ، ص ۲۱۱،۲۱۹، سیّد ابوظفر ندوی، ص ۹۱-۹۲)
محمد بن قاسم نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ افسرانِ محاصل کو مذکورہ ہدایات جاری کرنے کے بعد عوام کے مختلف طبقوں کو الگ الگ بلا کر انھیں یہ اطمینان دلایا کہ وہ نئی حکومت سے کوئی اندیشہ نہ کریں۔ محاصلِ واجبہ کے علاوہ ان سے اور کچھ نہ وصول کیا جائے گا۔ بس وہ حکومت کے مقررہ محصول کو ادا کرتے رہیں۔ ان کے ساتھ ہر طرح سے نرمی و رعایت کی جائے گی اور جو کچھ بھی عرض داشت وہ پیش کریں گے اس کی بروقت شنوائی ہوگی۔(چچ نامہ، ص ۲۱۲، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، ص ۱۵)
مذکورہ بالا تفصیلات سے یہ بخوبی عیاں ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم نے سندھ میں اپنی حکومت کے دورانِ مذہبی ، سماجی و معاشی تمام معاملات میں غیرمسلموں کے ساتھ روادارانہ و عادلانہ برتائو کا مظاہرہ کیا اور بلاکسی امتیاز جملہ عوام کے تئیں فراخ دلانہ رویہ اپناتے ہوئے انھیں ہرطرح سے مطمئن اور خوش رکھنے کی کوشش کی۔ سندھ کے ایک معروف علاقے نیروں کی فتح کے دوران حجاج بن یوسف نے مفتوحین (رعایا) کی دل داری و دل جوئی کی ترغیب دیتے ہوئے محمد بن قاسم کو لکھا تھا کہ:
قیامِ سلطنت کے چار اہم ستون ہیں: ۱- مداراۃ (خاطرداری)، مواساۃ (ہمدردی)، مسامحت (رواداری)، مصاہرت (رشتہ داری) ۔ ۲- مال و عطیہ دینا ۳- دشمنوں کی مخالفت میں صحیح راے قائم کرنا ۴- رُعب و شہامت ، قوت و شوکت کا اظہار کرنا۔ (چچ نامہ، ص ۲۱۲، سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن ، حوالہ بالا، ص ۶)
اس میں کسی شبہے کی گنجایش نہیں کہ محمد بن قاسم نے اپنی سلطنت ان ستونوں پر قائم کی اور اپنے چچا کی اس نصیحت کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھا کہ رعایا کے ساتھ لطف و کرم اور ان کی فلاح و بہبود کو دستور بنایا جائے۔ اسی طرح یہ وضاحت بھی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ محمد بن قاسم نے غیرمسلموں کے مختلف طبقات کے لوگوں کو سماجی حقوق عطا کرنے میں رواداری کا مظاہرہ کیا، جن میں برہمن و بدھ، اعلیٰ و ادنیٰ، امیروغریب سبھی شامل تھے۔ لیکن تاریخی مآخذ بالخصوص چچ نامہ میں برہمنوں کے سیاق میں اس کا زیادہ ذکر ملتا ہے جیساکہ اُوپر کے مباحث میں بھی بار بار ان کا حوالہ سامنے آیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ برہمن اس وقت کے سندھی معاشرے میں پہلے سے معزز و بااثر لوگ شمار ہوتے تھے اور سیاست و حکمت کے دائرے میں بھی انھی کی بالادستی قائم تھی۔ اس لیے ان کی خصوصی دل جوئی اور مدارات مصلحتاً مطلوب تھی۔
یہاں یہ ذکر بھی دل چسپی سے خالی نہ ہوگا کہ سندھ کی فتح کے دوران بعض اوقات مفتوحین کے ساتھ محمدبن قاسم کی ضرورت سے زیادہ رواداری کی مثالیں حجاج بن یوسف کے سامنے آئیں تو انھوں نے اس پر انھیں متنبہ کیا اور فہم و فراست اور احتیاط و ہوش مندی سے کام لینے اور دوست دشمن میں تمیز کرنے کی تلقین کی۔(چچ نامہ، ص ۱۵۱-۱۵۲،سیّد ابوظفر ندوی، ص ۸۲-۸۲)
دوسرے مؤرخین کے یہاں برہمنوں کے ساتھ محمد بن قاسم کی حکومت کی مراعات کے زیادہ ذکر کی وجہ ایک یہ بھی ہوسکتی ہے کہ سابق اہلِ حکومت کی حیثیت سے ان سے فاتح سندھ کا زیادہ واسطہ پڑا اور حکومت کی سطح پر انھی سے معاہدات و معاملات طے ہوئے، اس لیے وہی خاص طور سے مؤرخین کی توجہ کا مرکز بنے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس عظیم فاتح کی رواداری و فراخ دلی اور اس کا کریمانہ و منصفانہ رویہ، غیرمسلموں کے دوسرے طبقے کے لوگوں اور عام رعایا کے ساتھ محقق و مسلّم ہے جس کا متعدد بار حوالہ اُوپر بھی دیا گیا۔اس کا مزید ثبوت مقامی لوگوں کی کثیر تعداد کے محمد بن قاسم کے تئیں حُسنِ اعتقاد، اظہارِ محبت و حمایت اور اطاعت و تابع داری سے ملتا ہے۔ اس بات کی توثیق اُس شدید رنج و غم سے بھی ہوتی ہے، جسے سندھ کی غیرمسلم رعایا نے اپنے محبوب حکمران محمد بن قاسم کی سندھ سے دمشق واپسی کے وقت ظاہر کیا تھا۔۱۳
مزید برآں مؤرخین اس کی بھی شہادت دیتے ہیں کہ گورنر عراق نے سندھ میں محمد بن قاسم کی حکومت کے دوران اپنے متعدد خطوط میں نظم و نسق کے باب میں ان کی بہترین کارکردگی کو سراہا اور بالخصوص ان کی رعیت نوازی اور عوام کے ساتھ ملاطفت و رواداری کی خوب تعریف کی ہے۔ مثال کے طور پر برہمن آباد اور لوہانہ میں ان کے حُسنِ انتظام کی تفصیلات ملنے پر وہ انھیں لکھتے ہیں:
آنچہ در سپہداری و رعیت نوازی و تربیت احوال رعایا و ترتیب امور کوشی ، محمدت وافر باشد۔ (چچ نامہ، ص ۲۱۶)[تم نے فوجی انتظام، رعایا نوازی، ان کے حالات کی درستی اور انتظامی اُمور کی بہتری کے لیے جو اَن تھک کوشش کی ہے، وہ کافی قابلِ تعریف ہے۔]
قدیم و جدید مسلم مؤرخین میں محمد بن قاسم کے اوصافِ حمیدہ بالخصوص رعیت نوازی، رواداری، انصاف پسندی اور عوام کی بھلائی میں غیرمعمولی دل چسپی کو نمایاں کرنے والوں کی کمی نہیں۔ یہاں بعض غیرمسلم مؤرخین کے تاثرات نقل کرنا زیادہ مناسب و موزوں معلوم ہوتا ہے۔ History of Jahangir(تاریخِ جہانگیر)کے مصنف ڈاکٹر بینی پرشاد اسی کتاب میں ایک جگہ محمدبن قاسم کی حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہندستان میں کسی حکومت کے مقبول ہونے کے لیے ایک ضروری شرط یہ بھی ہے کہ اس کے باشندوں کو مذہبی فرائض انجام دینے اور عبادت کرنے میں آزادی ہو۔ ہندستان کے مسلم حملہ آوروں نے مذہبی رواداری کی اہمیت کو بہت جلد محسوس کرلیا تھا اور اپنی حکمت عملی اسی کے مطابق بنائی۔ آٹھویں صدی میں محمد بن قاسم نے سندھ میں اپنی حکومت کا جو نظم و نسق قائم کیا، وہ اعتدال اور رواداری کی روشن مثال ہے۔۱۴
آخر میں اس جانب بھی اشارہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اُوپر کے مباحث میں سندھ کے غیرمسلموں کے ساتھ محمد بن قاسم کے روادارانہ برتائو سے متعلق جو کچھ پیش کیا گیاہے، وہ زیادہ تر ذمّی کی حیثیت سے ان کے حقوق کی وضاحت پر مبنی تھا۔ اس کی وجہ اس اٹل حقیقت کی روشنی میں سمجھی جاسکتی ہے کہ ذمّیوں سے تعلقات کے بارے میں اسلام کی جو تعلیمات اور ان سے برتائو و معاملات سے متعلق جو قوانین ملتے ہیں، وہ مسلم حکومت کے تحت غیرمسلموں کے ساتھ رواداری، فراخ دلانہ سلوک و منصفانہ برتائو اور ان کی فلاح و بہبود کی بہترین ضمانت پیش کرتے ہیں۔
اسلام کے ان اصول و ضوابط پر عمل کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ غیرمسلموں کے جان و مال کے تحفظ کا اہتمام ، ان کے سماجی و معاشی حقوق کا احترام، بلاکسی امتیاز عوام کے ساتھ اچھا سلوک ، رعایا کے ساتھ اچھا برتائو اور محکوموں کی بھلائی اور اصلاحِ احوال میں دل چسپی۔۱۵ مولانا ابوالکلام آزاد نے بہت درست نشان دہی فرمائی ہے کہ اگر شریعت کی روشنی میں اہلِ ذمّہ کے حقوق و نفاذِ جزیہ کی غرض و غایت غیرمسلموں کے سامنے اچھی طرح واضح کر دی جائے، تو ان کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوجائے گی کہ ’ذمی‘ بنانے کا مطلب ان کی تذلیل و تحقیر نہیں بلکہ ’’یہ وہ بہتر سے بہتر سلوک ہے جو دنیا میں کوئی حاکم قوم محکوموں کے ساتھ کرسکتی ہے‘‘ ۔ ۱۶
۱- تفصیل ملاحظہ ہو: قاضی اطہر مبارک پوری ، خلافت ِ راشدہ اور ہندستان، ندوۃ المصنّفین، دہلی ۱۹۷۲ء، ص ۵۲، ۹۸-۱۰۱
۲- سیّد سلیمان ندوی، عرب و ہند کے تعلقات، مطبع معارف، اعظم گڑھ، ۱۹۷۹ء، (باب دوم، تجارتی تعلقات)، ص ۴۴-۹۶۔ ڈاکٹر تاراچند: Influence of Islam on Indian Culture ، الٰہ آباد، ۱۹۷۶ء، ص ۲۵-۲۹
۳- تفصیلات کے لیے دیکھیں: سیّدابوظفر ندوی، تاریخ سندھ، اعظم گڑھ، ۱۹۷۰ء
۴- یہ کتاب اصلاً عربی میں منہاج المسالک کے نام سے مرتب کی گئی تھی، جو اس وقت دستیاب نہیں ہے۔ اسے محمد علی بن حامد بن ابوبکر کوفی نے سندھ کے آزاد حکمران ناصرالدین قباچہ [م: ۱۲۲۸ء]کے عہد میں ۱۲۱۶ء میں فارسی میں منتقل کیا۔ اب یہ ترجمہ ہی اہلِ علم و مؤرخین میں متداول ہے۔ اس پر مفصل معلومات کے لیے ملاحظہ فرمائیں: مقدمہ مصحح و مرتب چچ نامہ، عمر بن محمد داؤد پوتہ، محولہ بالا، نیز دیکھیے: ڈاکٹر این اے بلوچ: Great Books of Islamic Civilization، نئی دہلی، ۱۹۹۷ء، ص۱۱۱-۱۱۲)
۵- عبدالحفیظ صدیقی، برصغیر پاک و ہند میں اسلامی نظام عدل گستری، ادارہ تحقیقات اسلامی، اسلام آباد، ۱۹۶۹ء، ص ۷۱
۶- احمد بن یحییٰ البلاذری، فتوح البلدان، بیروت، ۱۹۵۷ء، ص ۶۱۳- ۶۱۴؛ چچ نامہ، ص ۲۱۳- ۲۱۴، ۲۱۸
۷- سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن، ہندستان کے سلاطین ، علما اور مشائخ کے تعلقات پر ایک نظر، اعظم گڑھ، ۱۹۷۰ء، ص ۴۹؛ خلیق احمد نظامی، سلاطین دہلی کے مذہبی رجحانات، ص۶۷، عبدالحفیظ صدیقی، محولہ بالا، ص ۷۱۔
۸- فخر مدبر، آداب الحرب والشجاعۃ ،ص ۴۰۳؛ ضیاء الدین برنی ، تاریخ فیروز شاہی، ص ۸۷، ۱۴۱، ۲۹۰، ۲۹۱، ۵۷۳، ۵۷۵؛ شمس سراج عفیف، تاریخ فیروز شاہی، ص۱۸۰، ۳۶۶، ۳۸۲، ۳۸۴؛ فتوحاتِ فیروز شاہی ، ص، ۹، ۱۶، ۱۷، ۱۹، ۲۰؛سیرتِ فیروز شاہی، ص ۱۲۸
۹- کلماتِ طیبات (مشتمل بر مکتوبات غوث الثقلین)، مرزا مظہر جانِ جاناں، قاضی ثناء اللہ پانی پتی و شاہ ولی اللہ دہلوی) مطبع مطلع العلوم، مرادآباد، ۱۸۹۱ء، ص ۲۷-۲۸۔ راقم کا مقالہ: ’ہندوئوں کے ساتھ سلطان فیروز شاہ تغلق کا برتائو‘، تحقیقاتِ اسلامی ، علی گڑھ،۱۲/۳، جولائی-ستمبر ۱۹۹۳ء، ص ۳۵- ۷۲
۱۰- ابوالکلام آزاد، جامع الشواہد فی دخول غیرالمسلم فی المساجد، ۱۹۶۱ء ، ص ۸۱-۸۴
۱۱- چچ نامہ، ص ۲۰۹؛ سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن: ہندستان کے عہدماضی میں مسلمان حکمرانوں کی مذہبی رواداری، اعظم گڑھ، ۱۹۷۵ء، ص ۱۴
۱۲- ظفرالاسلام اصلاحی: اسلامی قوانین کی ترویج و تنفیذ، عہد فیروز شاہی کے ہندستان میں ، مسلم یونی ورسٹی، علی گڑھ، ۱۹۹۸ء، ص ۷۱-۸۸
۱۳- البلاذری، محولہ بالا، ص ۴۴۰، تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں: سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن، ص۲۱-۲۲، سیّد ابوظفر ندوی، ص ۱۲۳
۱۴- ڈاکٹر بینی پرشاد: History of Jahangir ، الٰہ آباد، ۱۹۶۲ء، ص ۸۰-۸۱؛ سیّد صباح الدین عبدالرحمٰن: ہندستان کے عہد ِ ماضی میں مسلم حکمرانوں کی مذہبی رواداری، ص ۲۴
۱۵- سیّدابوالاعلیٰ مودودی، اسلامی حکومت میں غیرمسلموں کے حقوق، اسلامک پبلی کیشنز، لاہور، ۱۹۷۰ء
۱۶- ابوالکلام آزاد، جامع الشواہد فی دخول غیر المسلم فی المساجد، ص ۸۴
]ہم چین کی ترقی، یک جہتی اور دوستی کے قدر دان ہیں۔ یہی قدردانی اور دوستی تقاضا کرتی ہے کہ عوامی جمہوریہ چین کی سیاسی قیادت کے سامنے یہ حقیقت واضح کی جائے کہ: ’’دنیا کے مختلف حصوں میں بسنے والے مسلمان، محض علاقائی یا نسلی اقلیت یااکثریت نہیں ہیں بلکہ (مسلمان ایک نبی کی ایک ہی اُمت کی حیثیت سے شناخت رکھتے ہیں)۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا مغربی و امریکی سامراج، مسلمانوں کو علاقوں، ملکوں اور نسلوں کی بنیاد پر دیکھنے کے بجاے، انھیں صرف مسلمان کی حیثیت سے مخاطب کرتاہے۔ اس ابدی حقیقت اور تاریخی سچائی کی طرف متوجہ کرتے ہوئے یہ بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ چین کی جہاں دیدہ سیاسی قیادت کو ایغور مسلمانوں کے حوالے سے بھی یہی حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے۔ یہ امرواقعہ بھی ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ چین، تجارت اور اسٹرے ٹیجک تعلقات کے حوالے سے، سب سے زیادہ قریب مسلم ممالک ہی سے ہے۔ وہ اپنے ہاں بسنے والے مسلمانوں کے مسائل کو فوجی یا جبری انداز سے حل کرنے کے بجاے، وہاں رہنے والے مسلمانوں کے دینی، سماجی اور معاشی مفادات کو حق و انصاف کی بنیاد پر حل کرتا ہے اور ان کی تہذیب و ثقافت کا احترام کرتا ہے تو یہ بات خود چین کے مفاد میں ہوگی۔ اس طرح ایک جانب وہ مسلمان حکومتوں سے بڑھ کر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دل میں جگہ بنا سکے گا تو دوسری جانب اپنے لیے ملک اور ملک سے باہر خیرسگالی کے جذبات کو پروان چڑھاپائے گا۔ س م خ
یہ ایک دل چسپ اور رُلا دینے والا رپورتاژ ہے ___ رپورتاژ کو اہل نقد بالعموم افسانوی ادب (fiction) میں شمار کرتے ہیں، مگر زیر نظر کتاب میں حقیقت ہی حقیقت ہے، افسانہ نہیں ہے۔ قاری مطالعے کے دوران ڈاکٹر شفیق انجم کی خوب صورت نثر کی بے ساختہ داد دیتا ہے۔
مصنف کو ملازمتی مصروفیات کے سلسلے میں کچھ عرصہ سنکیانگ میں رہنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں :’’مختصر مدّت کی یہ رفاقت عمر بھر کی رفاقت محسوس ہوتی ہے ۔ میں نے اسے صرف دیکھا ہی نہیں، سوچا، سمجھا، چکھااور بھگتا بھی ہے۔ اس قربت و رفاقت کے کچھ زاویے میں نے اپنی نظمیہ کہانیوں میں نقش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ نظمیہ کہانیاں: جلا وطن، خود کلامی اور سنکیانگ میں محبت کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہو چکی ہیں۔ زیر نظر تحریر سنکیانگ نامہ میں کچھ مزید زاویوں کو سمیٹنے اور بیان کرنے کی کوشش کی ہے‘‘۔ (ص۶)
یہ کتاب سنکیانگ کے ایغور مسلمانوں کے شان دار ’ماضی‘ اور درد ناک ’حال‘ کی رُودادِ زندگی ہے۔ جہاں تک سنکیانگ میں ایغور وں کے ’مستقبل‘ کا تعلق ہے: ’’زمین اس کی ہوتی ہے جس کے پاس طاقت ہو‘‘ (ص ۷)۔ اس اعتبار سے ایغوروں کا ’مستقبل‘ بظاہر دکھائی نہیں دیتا، کیوں کہ موجودہ حکومت ان سے جس طرح معاملہ کر رہی ہے، کوئی دن جاتا ہے (اور یہ چند برسوں کی بات ہے ) کہ وہ نابود کردیے یا دُور دُور بکھیر دیے جائیں گے۔ پھر وجود کہاں؟ اور زمین کا ذکر کہاں؟
مصنف کہتے ہیں : ’’چین سے ہمارا دوستی کا ایک مضبوط رشتہ قائم ہے، یہ رشتہ قائم رہنا اور پھلنا پھولنا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پہلوئوں پر ضرور بات ہونی چاہیے، جو اس پُر خلوص رشتے میں دُکھ اور تکلیف کے عناصر شامل کیے جا رہے ہیں، انھی میں سے ایک سنکیانگ ہے‘‘۔ (ص ۱۲)
اس طرح یہ کتاب سنکیانگ کے ایغوروں کے دکھوں کی کہانی ہے۔ سنکیانگ ۱۶لاکھ ۶۴ہزار ۸سو ۹۷مربع کلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ چین نے جس کثرت سے یہاں سٹرکیں، پُل اور عمارتیں بنائی ہیں، اسی کثرت سے چین کے مختلف علاقوں سے چینی باشندوں کو لا لا کر سنکیانگ میں بسا یا ہے۔ بقول مصنف: ’’کسی زمانے میں یہاں مسلمان واحد اکثریت تھے، لیکن چینی عمل داری کے بعد منظم آباد کاری کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب یہ تناسب ۴۵/۵۵ کا ہو گیا ہے اور آنے والے برسوں میں مسلم اکثریت آٹے میں نمک کے برابر رہ جائے گی‘‘۔ (ص۱۸)
مصنف نے سنکیانگ کے مختلف شہروں کے محل وقوع کے ساتھ ان کا تعارف کرایا ہے ۔ مختلف علاقوں کے لوگوں سے تبادلۂ خیال کیا ، ان کے ناگفتہ بہ حالات سنے اور ان میں سے بعض واقعات نقل کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’سنکیانگ مکمل طور پر ایک پولیس اسٹیٹ ہے۔ غیر ملکی سیّاح بکثرت آتے ہیںمگر ایک دودن کے قیام سے انھیں اصلیت کا پتا نہیں چلتا، ہاں طویل قیام سے بخوبی سمجھ لیتے ہیں کہ سنکیانگ میں ایغور ہونے کا مطلب سسکتی موت ہے ۔ بظاہر یہ لوگ زندہ ہیں لیکن انھیں اندر سے مار دیا گیا ہے۔ یہ خبریں تو اب عالمی میڈیا پر بھی عام ہیں کہ سنکیانگ میں ایغوروں کے لیے بڑے بڑے ’حراستی کیمپ‘ بنائے گئے ہیں، جہاں لاکھوں کی تعداد میں لوگ لائے جاتے اور انھیں اذیت ناک مراحل سے گزار کر وفا دار بننے کی تربیت دی جاتی ہے۔ ان کیمپوں کی موجودگی سے چینی حکومت انکاری ہے اور اسے چین دشمن عناصر کا پروپیگنڈا کہہ کر رد کیا جاتا ہے۔ لیکن واقفانِ حال جانتے ہیں کہ ’حراستی کیمپ‘ ہونے نہ ہونے کی بات ایک طرف، یہاں تو گھر گھر ، گلی گلی، کوچہ کوچہ حراست معصوم لوگوں کو دبوچے بیٹھی ہے۔ ہر ایغور ’مشکوک‘ ہے، ہر ایغور ’دہشت گرد‘ ہے اور ہرایغور پر لازم ہے کہ وہ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے چینی حکومت سے وفاداری کا ورد کرتا رہے۔ پولیس کی نگرانی کے ساتھ ہر ایغور گھرانے پر ایک چینی گھرانا مامور ہے۔ نجی معاملات میں یہ چینی گھرانا دوستی کے لیبل اور باہمی تعاون ومدد کے سلوگن کے ساتھ ایغور گھرانے کی کوتوالی کرتا ہے۔ باہمی شادیوں اورثقافتی اشتراک کی راہ نکالتا ہے اور اگر کہیں کسی طرح کی کم آمادگی یا گریز کی صورت دیکھتا ہے تو نہ جانے پولیس کو کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ فلاں ایغور گھرانے کے فلاں فرد یا پورے گھرانے کو ’خصوصی تربیت کی ضرورت ہے‘۔ پس ’تربیت‘ دی جاتی ہے ، اور ایسی کہ دائیں بائیں والوں کے بھی اوسان خطا ہوجاتے ہیں‘‘ ۔ (ص۵۳)
ایک اور جگہ کہتے ہیں: ’’ارومچی کے جنوبی علاقے میں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ یہاں مساجد موجود ہیں، جن کا احاطہ محدود کر کے ان کے گرد باڑیں لگا دی گئی ہیں۔ گیٹ میں سکینر اور کیمرے ، ہر مسجد کے سامنے پولیس بکتر بند گاڑیاں چوبیس گھنٹے کھڑی رہتی ہیں۔ مسجد صرف نماز کے وقت کھلتی ہے اور پھر مقفل۔ ہر نمازی کی شناخت نوٹ ہوتی ہے ۔ پس، گنے چنے بوڑھے ہی نماز کے اوقات میں نظر آتے ہیں۔ مساجد کے علاوہ گھروں میں قرآن شریف یا کوئی بھی مذہبی متن یا آثار رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ داڑھی رکھنے پر پابندی، روزے پربھی پابندی ، رمضان میں جان بوجھ کر دفتروں میں آفیشل لنچ رکھے جاتے ہیں۔ جو ایغور ملازمت میں ہیں، ان کی جامع رپورٹ بنتی ہے ، نگرانی ہوتی ہے۔ رات دن سولی پر لٹکتے رہتے ہیں، پھر بھی اعتباری قرار نہیں پاتے ‘‘ (ص۵۴- ۵۵) ۔اسی طرح: ’’مسلم ثقافت کا زور توڑنے کے لیے بدھ مذہبی ثقافت کو مقابل لایا جارہاہے‘‘ (ص۶۶)۔’’چینی حلقوں میں ان [ایغور مسلمانوں]کی کوئی عزت نہیں۔ یہ لوگ حکومتی مشینری میں اعلیٰ عہدے بھی رکھتے ہیں اور بہت قابل پروفیسر ، ڈاکٹر اور انجینیر اور کاروباری لوگ بھی ہیں، لیکن نسلاً ایغور ہونا ان کے لیے ایک تہمت بنا رہتا ہے‘‘۔ (ص۷۷)
مصنف نے اپنے مشاہدے کو صرف ایغوروں کی مظلومیت تک محدود نہیں رکھا، بلکہ ان کی ثقافت، تعلیم اور ان کے خوردو نوش کی عادت کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ ریستورانوں میں چائے ، کھانے، چکن تکے، سیخ کباب ، نمکین اور میٹھے بسکٹ ، کلچے ، کرانچی جلیبی، پیزہ اور یہاں کے پھل___ جو ایغور دُور دراز دیہی علاقوں میں رہتے ہیں ، وہ قدر ے عافیت میں ہیں (مگر تابکے ؟)۔ لوگ حلیم اور خوش گفتار ہیں۔ دھول مٹی سے اَٹے ، لتھڑے، لیکن دل کے غنی وباد شاہ اور مہمان نوازی میں بے مثل ۔ مسافروں کے پہنچتے ہی ہر ایک بقدرِ استطاعت خدمت میں جُت جاتا ہے ۔ پانی، دودھ اور میوے پیش کیے جاتے ہیں ۔ رسم کے مطابق بھیڑ یا دنبہ ذبح کر کے خوان سجایا جاتا ہے۔ اپنے پاس بھیڑ میسر نہ ہو تو ساتھ والوں سے اُدھار لے لی جاتی ہے۔ زبان اجنبی ہے، چہرے اجنبی ہیں، منظر وماحول اجنبی ہے، لیکن خلوص وایثار ومحبت کے جذبے اپنے اپنے سے ہیں۔
ایغوروں اور چینیوں کے عقائد و تجربات، نظریہ ہاے زندگی اور رسومات و مشاغل الگ الگ ہیں۔ مصنف کا اخذ کردہ نتیجہ انھی کے الفاظ میں درج ذیل ہے:
’’چین، سنکیانگ سے جانے کا نہیں۔ سرحدیں سیل ہیں اور ایسی سیل کہ کوئی پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا ہے ۔ شہروں شہر نا کہ بندی اور ایسی ناکہ بندی کہ ایک شہر کی ہوا بھی دوسرے شہر جانے سے گریز کرتی ہے۔ شہروں اور قصبوں کے اندر ہر ہر کالونی کی الگ الگ ناکہ بندی ہے۔ ہر کالونی کی ہر منزل کی الگ ناکہ بندی ۔ ہر منزل کے ہر گھر کی الگ ناکہ بندی ۔اور ہر گھر کے ہر فرد کی الگ ناکہ بندی۔ اتنے حصار اور اتنے کڑے حصار ہیں کہ بے بسی سینہ پیٹتی ، بین کرتی رہتی ہے، لیکن کوئی نہیں سنتا۔ جب جس کو اٹھانا ہو، اٹھا لیا جاتا ہے۔ ایک ایک قیدی کے لیے چھے چھے بم پروف گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے، اور معلوم نہیں جانے والا کہاں جاتا ہے۔ شہروں شہر بکتر بند گاڑیوں میں دہشت گشت کرتی رہتی ہے۔ ٹینک اور راکٹ بردار گاڑیاں چوک چوراہوں میں کھڑے ہیں۔ جگہ جگہ پولیس سٹیشن ہیں۔ فوج الگ سے تیارو چوکس کھڑی ہے۔ تو ایسے میں یہ کہنا کہ یہ سارا اہتمام حفاظت کے لیے ہے، کتنا مضحکہ خیز لگتا ہے۔ کیا حفاظت کا یہ اہتمام چین کے باقی شہروں میں بھی ہے؟ کیا [اُن] عالمی اہمیت کے حامل شہروں میں بھی ہے؟ کیا بیجنگ ، شنگھائی اور گوانگ زو جیسے عالمی اہمیت کے حامل شہروں میں اس سے زیادہ اہتمام کی ضرورت نہیں ؟ جواب ملتا ہے: ’نہیں، کیونکہ وہاں ایغور نہیں‘۔توگویا ایغوروں کا ہونا چین کی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ لیا گیا ہے‘‘۔ (ص۷۸)
مصنف نے آخر میں لکھا ہے:’’سنکیانگ چینیوں کا ہے اور سنکیانگ کے باشندے بھی چینیوں کے ۔ کوئی کچھ نہیں کر سکتا___ مگر دوست کو دوستی کا حوالہ دے کر، درخواست تو کی جا سکتی ہے اگرچہ واضح ہے کہ شنوائی کی کوئی صورت نہیں۔ کسی طور کسی کا دل نہیں پسیجے گا، کسی طور کوئی آمادۂ رحم نہ ہو گا کہ طاقت ، بے مہار طاقت فریادیں نہیں سنتی، حکم لگاتی ہے، حکم نافذ کرتی ہے۔ اور مظلوم وبے کس لوگ مرتے ، اذیت ناک موت مرتے رہتے ہیں___ تاریخِ انسانی میں ایسا ہوتا رہا ہے اور ہرجغرافیے سے جڑی کہانیوں میں یہ بات مشترک ہے کہ زور والے زیر دستوں پر چڑھ دوڑے اور انسانیت انھیں دیکھ دیکھ شرماتی رہی۔ ترقی اور ارتقا کے خروش میں خون کی ندیاں بہائی جاتی رہیں اور کوئی کسی کے لیے کچھ بھی نہ کرسکا۔ دُکھ ہوتا ہے اور سوچ غالب آتی ہے کہ آخر انسان ترقی اور کمال کی منزلوں پر پہنچ کر بھی دوسروں کو معاف کرنا اور جینے کا حق دینا کیوں نہیں سیکھ پاتا؟ اپنے بچے اپنے ہیں تو دوسروں کے بچے بھی اپنوں کی طرح کیوں نہیںلگتے؟ رنگ، نسل، قوم، قبیلے اگر تفاخر کا باعث ہیں تو اپنے تفاخر کے ساتھ دوسروں کے تفاخر کا احترام کیوں نہیں کیا جاتا؟ تجارت ، کاروبار اور مال واسباب کی دوڑ دھوپ اگر زندگی کے لیے ہے تو پھر یہ سب کچھ پانے کی خواہش میں زندگی ، زندگی کو کیوں کاٹ کھاتی ہے؟ شاید انسان طاقت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے۔ شاید انسان خدا بننا چاہتا ہے؟ لیکن جان لینا چاہیے کہ زمین حاکم تو پالتی ہے لیکن کسی کو خدا نہیں بننے دیتی ___ یہ زمین کی سرشت ہے۔ اور یقینا آسمان کی سرشت بھی یہی ہے___ ایسے میں کیا ہی اچھا ہو کہ حاکم، محکوموں پر مہربانی کریں تو سب کی زندگیوں میں خوشیوں کے پھول کھل سکتے ہیں‘‘۔(ص ۷۹-۸۰)
مصنف کی اس درد بھری اپیل پر دوستوں کو بھی دھیان دینا چاہیے اور اپنے آپ کو اُمت ِ مسلمہ سے منسوب کرنے والے حاکموں کو بھی سفارتی اور اخلاقی سطح پر اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ اس رُودادِ اَلم کو پڑھنے کے لیے ملاحظہ ہو:سنکیانگ نامہ ،ڈاکٹر شفیق انجم ۔ الفتح پبلی کیشنز، ۳۹۲-اے ،گلی نمبر ۵۔اے، لین نمبر ۵، گل ریز ہائوسنگ سکیم۔۲ ، راولپنڈی ۔ صفحات : ۸۰ ۔ قیمت :۲۵۰ روپے۔
رسولِ اکرم ؐ کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی ،ڈاکٹر حسین بانو۔ ناشر:راحیل پبلی کیشنز، ۳۱۴ بک مال ، اردو بازار کراچی ۔ فون :۸۷۶۲۲۱۳۔۰۳۲۱۔ صفحات :۴۹۱۔ قیمت :۸۵۰ روپے۔
عالمِ اسلام کے دینی ادب میں سب سے بڑا موضوع سیرت النبی ؐ ہے، اور عربی، اُردو، فارسی، انگریزی ، ترکی ، فرانسیسی اور دیگر متعدد زبانوں میں سیرت النبی ؐ کا ذخیرہ ہزاروں سے متجاوز ہے۔ صدر محمد ضیاء الحق کے دورِ حکومت (۱۹۷۷ء-۱۹۸۸ء) میں وزارتِ مذہبی اُمور نے سال کی بہترین کتاب پر ’سیرت ایوارڈ‘ دینا شروع کیا تھا۔ چنانچہ اس شعبے کی طرف اہل قلم کی توجہ اور بڑھ گئی۔
زیر نظر کتاب ایک تحقیقی مقالہ ہے جس پر کراچی یونی ورسٹی نے مصنفہ کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی۔ پانچ ابواب اور ان کے تحت متعدد فصلوں پر عنوانات قائم کر کے بات کی گئی ہے۔ ہر باب کے آخر میں خلاصۂ کلام بھی دیا گیا ہے۔ حوالوں کا مقام تو مقالے میں ناگزیر ہوتا ہے، اس اعتبار سے مقالے کی ترتیب وتدوین بہت عمدہ ہے۔ مقالہ جس شکل میں پیش کیا گیا، غالباً اسی طرح شائع کر دیا گیا ہے۔ ہمارے خیال میں باب اوّل کو خصوصاً پہلی تین فصلوں کو مختصر کرلیا جاتا اور پہلے اور دوسرے باب کو ملا لیا جاتا تو بہتر تھا۔
رسولِ اکرم ؐ کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کے مباحث جامع ہیں۔ مصنفہ نے ریاست ِ مدینہ کی سیاست خارجہ کے اصولوں کو واضح کیا ہے۔ اس کے ساتھ سفارت کاری کے سلسلے میں آںحضور ؐ نے مختلف حکمرانوں کو جو خطوط ارسال کیے، ان کا متن دیا ہے اور اس متن سے کچھ نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔ اسی طرح آپ ؐ نے بعض صحابہ ؓ کو سفار ت کاری کے مشن پر بیرونِ حجاز بھیجا ۔ پھر اطرافِ مدینہ سے بلکہ بیرونِ ملکِ حجاز سے بھی چند وفود آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، مقالے میں ان سب صحابہ ؓ اور وفود کی تفصیل دی گئی ہے۔ خارجہ پالیسی میں معاہدوں کی بہت اہمیت ہے۔ آپؐ نے قریش ، اہلِ مکہّ، یہودیوں اور عیسائیوں سے مختلف مواقع پر جو معاہدے کیے ، ان کا ذکر بھی کتاب میں ملتا ہے۔ آخری حصے میں معروف سیرت نگاروں نے آپ ؐ کی سفارت کاری اور خارجہ پالیسی کو جو خراجِ تحسین پیش کیا ہے، اس کا ذکر کیا گیا ہے۔آپؐ کی سفارتی پالیسی کی وجہ سے عرب اور بیرون عرب کی اقوام ایک دوسرے کے قریب آئیں اور تعلقات کو فروغ ملا۔ اسی کی وجہ سے دنیاے عرب کے ساتھ ساتھ بیرون عرب بھی انسان کو اس کی جائز حیثیت ملی اور طاقت ور اور محکوم کی تفریق ختم ہوئی اور ہر انسان اپنی مرضی کی زندگی گزارنے لگا۔ (رفیع الدین ہاشمی)
$ Islamic Perspective of Adulthood and Family Life ،[بلوغت اور خاندانی زندگی اسلامی تناظر میں] ڈاکٹر محمد آفتاب خاں۔ ناشر: ادبیات، اُردو بازار، لاہور۔ فون: ۷۲۳۲۷۸۸-۰۳۱۳۔ صفحات:۷۹۔ قیمت: ۲۵۰ روپے۔ [گذشتہ صدی کے وسط میں، مغرب میں جنسی تعلیم کا اجرا کیا گیا۔ مغربی فکر سے متاثر ’دانش ور‘ مسلم ممالک میں بھی اس کے اجرا پر زور دے رہے ہیں۔ پنجاب یونی ورسٹی کے تحت انٹرنیشنل کانفرنس میں مصنف نے اس موضوع پر تحقیقی مقالہ پڑھا ۔ جنسی تعلیم کا عمومی جائزہ،قرآن و حدیث کی تعلیمات، فقہا کی آرا اور جنسی تعلیم کے حوالے سے والدین کو درپیش مسائل کا احاطہ کیا اور نصاب سازی کی طرف توجہ دلائی۔]
اشارات: ’مدینہ کی ریاست، حکومت کے لیے رہنمائی‘ (دسمبر۲۰۱۸ء)سے مدنی معاشرے کے کئی نئے پہلو سامنے آئے ہیں،جس کے لیے پروفیسر خورشید احمد شکریے کے مستحق ہیں۔نبی اکرمؐ کی قیادت میں مدینہ منورہ میں مثالی اسلامی معاشرہ قائم ہوا تھا۔ اس عظیم الشان اسلامی ریاست کی پانچ اہم مضبوط اور منظم بنیادیں تھیں: مذہبی، سیاسی، تعلیمی، سماجی اور معاشی۔ معاشی خوش حالی اور مادی ترقی کے لیے مدینہ مارکیٹ کا قیام اور اس کا انتظام وانصرام، سیرتِ نبویؐ کا ایک تاب ناک باب ہے، جو عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔ اس کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مدینہ میں یہودیوں کے بازار میں استحصال اور اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے مسجد نبویؐ کے قریب ہی مارکیٹ قائم کی اور فرمایا: اَلْجَالِبُ اِلٰی سُوْقِنَا کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ [مستدرک حاکم، کتاب البیوع، حدیث: ۲۱۶۷] ’’جو ہماری مارکیٹ میں خرید و فروخت کرے گا وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے‘‘۔ میری کتاب ہندستان میں اسلامی معاشیات اور مالیات: موانع اور مواقع میں اس موضوع پر ایک تفصیلی مضمون شامل ہے اور اسلامی ریاست کے معاشی استحکام کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔
’مدینہ کی ریاست‘ کے حوالے سے یہ نکتہ نمایاں کرنا ضروری تھا کہ وہاں سود سے پاک معیشت کا نفاذ ہوا۔
دسمبر کے ’اشارات‘ نہایت مختصر، حددرجہ مؤثر ، بہت جامع اور دل پذیر ہیں۔
’۶۰ سال پہلے‘ میں مولانا مودودیؒ کی تحریر’’اگر خدا کا خوف نہ ہوتا…؟‘‘ ایک داعی کے لیے کام کو خوش اسلوبی سے سرانجام دینے کے رہنما اصول بیان کرتی ہے۔
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب نے نام نہاد روشن خیالوں اور قادیانیوں کی ’تاریخ سازی‘ اور گمراہی پھیلانے کی کوششوں کو نہایت مدلل انداز سے بے نقاب کیا ہے۔ آج کل پاکستانی ذرائع ابلاغ کی حالت زار دیکھ کر لگتا ہے کہ تاریخ پاکستان کا مقدمہ بھی ترجمان القرآن ہی کو پیش کرنا چاہیے کہ دوسری جگہیں بے جا تعصب کی نذر ہوچکی ہیں۔
ڈاکٹر تحسین صاحب کی پُرشکوہ اور شان دار تحریر کی اشاعت پر ادارے اور مصنف کے لیے مبارک باد !
جناب تحسین فراقی نے بلاشبہہ بہت عمدہ ’عالمِ آشوب‘ لکھا ہے، جو ان کی وسعت ِ مطالعہ، قدرتِ اظہار اور شان دار ابلاغ کی مثال ہے۔ ایسے عالی شان مضامین کی اشاعت پر مبارک باد قبول کیجیے۔
ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کا مضمون: سبحان اللہ، کیا خوب صورت اُردو ہے اور کیا بلند خیال۔ بہت سادگی سے، زمان و مکان کے پھیلائو اور زیربحث موضوع کو حیرت انگیز طور پر پیش کیا ہے۔ اللہ کرے ترجمان کے قارئین اس خوب صورت اُردو اور شان دار مباحث سے لطف اندوز ہوسکیں۔
علّامہ محمد اسد کا بلاخوف و خطر دوبارہ موت کے منہ میں جاکر دارالاسلام کے مکینوں کو لانے کا واقعہ بڑا ایمان افروز ہے، اور ساتھ ہی پاکستان کے لیے مظلوم خواتین کی قربانی کا ذکر ہلا دینے والا تازیانہ ہے۔
علّامہ محمد اسد کے حددرجہ قیمتی مضمون کے حوالے سے جب تفصیلات کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا ہے کہ اسدصاحب لاہور سے جو تین بسیں لے کر دارالاسلام گئے تھے، ان میں: چودھری نیاز علی خاں صاحب، عبدالجبار غازی صاحب اور دارالاسلام میں محصور خواتین (جن میں مولانا مودودی کی والدہ، اہلیہ اور بچے بھی شامل تھے، انھیں لے کر) پاکستان آئی تھیں، جب کہ مولانا مودودی نے علّامہ اسد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ: ’’جب تک ہمارے ہاں پناہ لینے والے تمام لوگ یہاں سے محفوظ جگہ نہیں منتقل ہوجاتے، میں کہیں نہیں جائوں گا‘‘۔ اسی لیے وہ اس قافلے میں نہیں آئے بلکہ بعد میں ۳۰؍اگست ۱۹۴۷ءکو پاکستان پہنچے تھے۔
محمدبشیرجمعہ صاحب کا مضمون: ’عملی زندگی میں تنظیم‘ (نومبر ۲۰۱۸ء)بہت ہی کارآمد ثابت ہوا۔
ترجمان القرآن حق کا داعی اور رہنما مجلّہ ہے جو بڑی کامیابی سے لاکھوں دلوں کو حق کا راستہ اور استقامت کا درس دیتا ہے۔ تاہم، اکتوبر۲۰۱۸ء کے شمارے میں ’ہندو آر ایس ایس اور اخوان المسلمون ؟‘ مضمون میں ایک اسلامی تحریک اور ایک فاشسٹ تنظیم کے فرق پر سیرحاصل بحث نہیں ہوسکی۔
قریب ترین رشتہ داروں کے حق [وراثت] ادا ہوچکنے کے بعد، یا ان کی غیرموجودگی میں حقِ میراث ان قریب تر جدی رشتہ داروں کو پہنچے گا، جو ایک آدمی کے فطرتاً پشتی بان اور حامی و ناصر ہوتے ہیں۔ یہی معنی ہیں ’عصبات‘ کے ، یعنی آدمی کے وہ اہلِ خاندان جو اس کے لیے تعصب کرنے والے ہوں۔ اور اگر وہ موجود نہ ہوں تو پھر یہ حق ’ذوی الارحام‘ (رحمی رشتہ داروں،مثلاً: ماموں، نانا، بھانجے اور بیٹی یا پوتی کی اولاد) کو دیا جائے گا۔ یہاں بھی نہ تو قائم مقامی کا اصول کام کرتا ہے اور نہ یہ اصول کہ جو محتاج اور قابلِ رحم ہو اس کو میراث دی جائے، بلکہ قرآن کے بتائے ہوئے چاراصول اس معاملے میں کارفرما ہیں:
یہ ہیں تقسیمِ میراث کے اسلامی اصول، جن کو سمجھنے میں کوئی ایسا شخص غلطی نہیں کرسکتا، جس نے کبھی قرآن کو سمجھ کر پڑھا ہو اور اس کے مضمرات پر غور کیا ہو۔ (’یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن ، جلد۵۱، عدد۴، جنوری ۱۹۵۹ء، ص۳۴-۳۵)