مضامین کی فہرست


دسمبر ۲۰۱۴

 افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی نے سب سے پہلے جس ملک کا غیر ملکی دورہ کیا وہ چین تھا اور اس کے بعدپاکستان آئے ۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ اس لیے کہ اشرف غنی صاحب انتخابات سے پہلے اور بعد میں بھی جس فراست اورعملیت پسندی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس کا تقاضا یہی تھا کہ ہندستان سے پہلے اس پڑوسی ملک میں آئیں جو ان کے ملک میں غلط یا صحیح سب سے زیادہ موضوع بحث رہتاہے ۔

ڈاکٹر اشرف غنی نے کرسیِ صدارت سنبھالتے ہی ایسے اقدامات کیے جس سے ان کے مصالحانہ رویے اور عملیت پسندی کا اظہار ہوتا ہے ۔ ایک زیرک سیاستدان کی خوبی یہی ہوتی ہے کہ وہ موقعے کا انتظار کرتا ہے اور موقع ملتے ہی فیصلے کرنے سے دریغ نہیں کرتا ۔ چنانچہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ سے مصالحت کرنے کے فوراًبعد انھوں نے امریکا کے ساتھ دوطرفہ معاہدے پر دستخط کرنے میں دیر نہیں لگائی جس کا عرصے سے امریکی حکومت کو انتظار تھا ۔ لیکن یہ مصالحانہ رویہ صرف طاقت ور حریفوں کے ساتھ تھا ۔ حکومتی اداروں اور اہلکاروں پر انھوں نے فوراًہی گرفت مضبوط کی۔ کابل میں موجود سرکاروں شعبوں پر چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کیا اور چند ہی دنوں میں ان کی کایا پلٹ گئی۔ اب آپ کو طورخم بارڈر عبور کرتے ہی ایک مختلف کلچر نظر آئے گا۔ سرکاری افسر ہویا ملازم، کام پر لگ گیا ۔ وہ خود دن میں۱۸گھنٹے کام کررہے ہیں اور اپنے اسٹاف کے آرام سے بیٹھ رہنے کے روادار نہیں۔

پاکستان کا دورہ اور پاکستان کے ساتھ افغانستان کے جملہ معاملات طے کرنا ہی ان کی ترجیحات میں شامل تھا۔ اس لیے پہلی فرصت میں ایک بھاری بھر کم وفد کے ساتھ دورے پر آئے۔    افغان صحافتی حلقوں نے ۱۳۰؍افراد پر مشتمل وفد کے حجم پر اعتراض کیا لیکن وہ جو کہتے ہیں نا کہ  He means business، یعنی وہ پاکستان سے کچھ چاہتاہے ۔ ہوسکتاہے کہ پہلے دورے میں وہ متنازع اُمور نہ چھیڑیں، تاہم روزمرہ کے معاملات پر وہ سنجیدگی سے بات کرنا چاہتے تھے ۔ ظاہر ہے پاکستان کی اہمیت افغانستان کے لیے ہر دوسرے ملک سے سوا ہے ۔ اگر طورخم پھاٹک چندگھنٹوں کے لیے بند ہوجاتا ہے تو کابل کے بازار میں ملک پیک کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور  کرنسی مارکیٹ مندی پڑجاتی ہے ۔ صدر کے وفد میں چیف آف اسٹاف جنرل شیرمحمدکریمی، وزیردفاع بسم اللہ محمدی اوروزیر خزانہ عمرزخی خیل سمیت سینیرافغان دفاعی حکام بھی شامل تھے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا پروگرام تھا کہ ہر سطح پر پاکستانی اور افغانی قیادت کو باہم مربوط کیا جائے، ذہنی دُوری ختم کی جائے اور قربت پید اکی جائے ۔وہ پاکستان سے فوری طور پر کوئی مراعات لینے کے موڈ میں نہیں تھے بلکہ تعلقات بنانے آئے تھے ۔ اعتماد سازی کا عمل چاہتے تھے۔ کرزئی حکومت کا المیہ یہ تھا کہ وہ پاکستان مخالف رجحانات کی اسیربن گئی تھی اور گاہے بہ گاہے  اس کا اظہار بھی ہوتا تھا ۔ اس کا افغانستان کوکوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ دونوں پڑوسی ممالک میں دُوریاں پیدا ہوئیں جس کا فائدہ ہندستان نے اٹھایا اور اس کا اثر ورسوخ غیر معمولی حدتک بڑھ گیا ۔ اب ایسا بھی نہیں کہ ڈاکٹر اشرف غنی پاکستان سے تعلقات بنانے کی قیمت پر بھارت سے بگاڑ پیدا کریں گے۔ ان کی عملیت پسندی کا تقاضایہ ہے کہ وہ ہر ایک فریق سے اس کی اپنی حیثیت کے مطابق معاملہ کریں۔ کوئی بھی کابل حکومت پاکستان سے تعلقات بگاڑکر افغانستان میں ترقی اور امن وسلامتی کا خواب نہیں دیکھ سکتی ۔

ڈاکٹر اشرف غنی نے صدر پاکستان ممنون حسین اور وزیر اعظم میاں نوازشریف سے ملاقاتوں میں طالبان کا ایشواس طرح نہیں اٹھا یا جس طرح اس سے پہلے افغان حکومتیں اٹھاتی رہی ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتے بھی تو اس کا جواب دینا پاکستا نی قیادت کے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا ۔ البتہ ہوسکتا ہے کہ یہ محض اتفاق ہو کہ امریکی انتظامیہ نے نئی افغان حکومت کے سربراہ کے دورۂ پاکستان سے محض ۱۰دن پہلے ایک خفیہ پرانی رپورٹ نشرکردی جس میں حسب سابق پاکستانی جاسوسی اداروں پر افغانستان میں حکومت مخالف گروہوں کی پشت پناہی کا الزام لگایا گیا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ اس رپورٹ کا مقصد پاکستانی حکومت کو دبائو میں لانا ہو تاکہ وہ ڈاکٹر اشرف غنی کے مطالبات بآسانی تسلیم کرے ۔ حالانکہ پاکستانی قوم سب سے زیادہ اس کی متمنی ہے کہ افغانستان میں امن وامان قائم ہو اور  ایک منتخب نمایندہ حکومت ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرے ،متحارب افغان گروہوںمیں مصالحت ہوجائے اور پاکستان میں موجود افغان مہاجر آبادی اپنے ملک واپس جاسکے۔

افغان صدارتی دورے کی ایک اہم پیش رفت پاکستان مسلح افواج کی قیادت سے اس کا براہ راست مکالمہ ہے ۔ اس سے پہلے پاکستان کے سالار جنرل راحیل شریف نے کابل کا ایک روزہ دورہ کیا ۔ یہ ایک ایسا خیرسگالی دورہ تھا جس کی عرصے سے ضرورت تھی۔ اس کی حیثیت محض علامتی نہ تھی بلکہ پاکستانی اور افغانی فوج کے درمیان تعلقات کی بحالی ایک زمینی حقیقت ہے۔

جنرل راحیل شریف نے اس دورے میں افغان فوج کوتربیت کی سہولتیں پہنچانے کی  پیش کش بھی کی تھی ۔ پاک آرمی دنیا میں عسکری اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے لحاظ سے ایک اعلیٰ مقام رکھتی ہے ۔ ایبٹ آباد کی کاکول اکیڈمی دنیا میں عسکری تربیت کا ایک منفرد ادارہ ہے۔ اس لیے افغان آرمی کے افسران کے لیے اس کے دروازے کھولنا ایک اہم پیش رفت ہے ۔ اب تک افغان آرمی کی تربیت کاکام مغربی افواج کے ماہرین نے سرانجام دیا ہے ۔ بھارت نے بھی اس میں   اپنا حصہ ڈالا ہے اور کئی سطح پر افغان عسکری اہلکار وہاں تربیتی کورسز میں شرکت کررہے ہیں ، جب کہ زیادہ قریب پاکستان ادارے اس ’ثواب‘ سے محروم رہے ہیں ۔ حالیہ دورے میں افغان صدر نے اس پیش کش کو قبول کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لیے تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی ۔ انھوں نے جی ایچ کیو جاکر پاکستانی کمانڈر انچیف سے ملاقات کی اور یادگارِ شہدا پر پھول بھی چڑھائے ۔

افغان صدر کے سہ روزہ دورے کے اختتام پر جو اعلامیہ جاری کیا گیا ہے اس میں پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تجارت کو بڑھانے اور تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان اور صدر افغانستان نے مشترکہ پریس کانفر نس سے خطاب بھی کیا ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں امن عمل کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے اشرف غنی کے پروگرام کاحامی ہے ۔ یادرہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران باربار افغان طالبان کے ساتھ با معنیٰ مذاکرات کا ارادہ ظاہر کیا تھا اور اب بھی ایسا کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ مشیرخارجہ سرتاج عزیزنے بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ پاکستان افغانستان میں امن کے قیام میں اپنا کردار اداکرنا چاہتا ہے لیکن مسلح افغان گروہوں کے ساتھ اس کے تعلقات اب اس درجے کے نہیں کہ وہ ان پر کوئی دبائو ڈال سکے۔

پاکستان اور افغانستان نے باہمی تجارت کے ایک معاہدے پر دستخط کیے جسکی تفصیلات کے لیے ماہِ دسمبر میں باقاعدہ مذاکرات کیے جائیں گے۔جن اہم تجارتی منصوبوں پر گفتگو ہوئی اس میں وسط ایشیائی ممالک سے بجلی اور گیس کے ترسیل کے معاہدے اور کاسا1000اور تاپی بھی شامل ہیں جو بین الممالک اور علاقائی تجارتی منصوبے ہیں ۔ ایک اور اہم منصوبہ پاکستان سے ریل کی پٹڑی کو افغانستان اورپھر وسط ایشیائی ممالک تک توسیع دینے کا منصوبہ ہے جو بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ گرم سمندروں سے پاکستان کے ذریعے مواصلاتی رابطے ان ممالک کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ اس خطے کا پورا نقشہ بدل سکتے ہیں ۔ چین بھی ان رابطوں میں دل چسپی رکھتاہے۔ اس لیے کراچی کے بعد گوادر کی بندرگاہ پاکستان کے لیے بے پناہ تزویراتی اہمیت کی حامل ہے ۔

میاں نواز شریف نے افغان صدر کو خوش آمدید کہتے ہوئے دوجملے ایسے کہے جو اس تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان موجود ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہم اشرف غنی کو ان کے دوسرے گھر پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور یہ کہ افغانستان کے دوست ہمارے دوست، جب کہ اس کے دشمن ہمارے دشمن ہیں۔ اشرف غنی نے جواب میں کہا کہ ماضی کو بھول کر مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے ۔ انھوں نے تجارت سے متعلق حالیہ سمجھوتے کے بارے میں کہا کہ ۱۳سال کا سفر تین دن میں طے ہوا۔ گویا دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں جورکاوٹیں ہیں ان کو دور کرلیا گیا ہے ۔ انھوں نے وزیراعظم پاکستان کو دورۂ افغانستان کی دعوت بھی دی ۔

افغان صدر نے دورۂ پاکستان کے دوران جن قومی رہنمائوں کو شرفِ ملاقات بخشا ان میں نیشنل عوامی پارٹی کے صدر اسفندیار ولی اور ان کے ہمراہ افراسیاب خٹک ، پختونخوا ملّی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خا ن اچکزئی اور قومی وطن پارٹی کے صدر جناب آفتاب خان شیر پائو قابل ذکر ہیں ۔ جو سب کے سب پختون قوم پرست لیڈر شمار کیے جاتے ہیں ۔ ان کے علاوہ پیپلز پارٹی کے رہنمائوں میں اعتزاز احسن ، فیصل کریم کنڈی ، فرحت اللہ بابر اور شیریں رحمن صاحبہ نے بھی ان سے ملاقات کی ۔ کسی بھی دینی یا مذہبی پارٹی کے سربراہ سے ان کی ملاقات نہ ہوئی ۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہت ساری جہتوں میں ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ دونوں ان ۱۳ممالک کی فہرست میں شامل ہیں جن کو دنیا میں سب سے زیادہ امریکی مالی تعاون حاصل ہے۔امریکی بالادستی عسکری اور معاشی دونوں میدانوں میں فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے۔ امریکی چھتری تلے ان ممالک کی قیادت کے لیے ایسے فیصلے کرنا جو مستقبل میں ان کی معاشی وسیاسی آزادی کا سبب بنیں ناممکن نہیں تو مشکل ضرو ر ہیں۔ پھر بھی قیادت کا استحکام اور تسلسل اس منزل کی طرف سفر جاری رکھ سکتا ہے ۔

آخر میں ڈاکٹر اشرف غنی کے بارے میں ایک افواہ جو کابل کے ٹیکسی ڈرائیوروں میں عام ہے سنتے جائیے ۔ ڈاکٹر اشرف غنی اچھا آدمی ہے، محنت کررہاہے لیکن وہ ایک ایسی جان لیوا بیماری میں مبتلاہے جس کی وجہ سے اس کے پاس وقت بہت کم ہے ۔

بہترین انسان، مؤلف: ظفر اللہ خان۔ ناشر: ایمل مطبوعات، ۱۲-دوسری منزل، مجاہد پلازا، بلیوایریا، اسلام آباد۔ فون: ۵۵۴۸۶۹۰-۰۳۴۲۔ صفحات: ۱۹۰۔ قیمت: ۴۵۰ روپے

مؤلف جو بیرسٹر ہیں، اسلام، قانون اور حقوقِ انسانی پر کئی کتب کے مصنف ہیں، کتاب کی وجۂ تالیف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’پیشِ نظر کتاب میں اسلامی تہذیب کے بنیادی اصولوں اور آداب کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسوئہ رسولؐ کے زندہ جاوید آثار کی رہنمائی میں حُسنِ اخلاق سکھلانے والا یہ مجموعہ مرتب کیا گیا ہے جس میں انسانی زندگی کے بہت سے پہلوئوں سے متعلق اسلامی آداب پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے‘‘۔ (ابتدائیہ)

کتاب میں اختصار کے ساتھ مختلف موضوعات اور ابواب کے تحت احادیث کا انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ انداز ایسا ہے کہ دورانِ مطالعہ قاری کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ صحبت ِ رسولؐ میں موجود ہو اور براہِ راست آپؐ کی ہدایات سے فیض یاب ہو رہا ہو۔ کچھ عنوانات: ’خندہ پیشانی   حُسنِ اخلاق ہے‘، ’تم آسانیاں پیدا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو‘، ’اللہ سے عزت لینے کا آسان طریقہ‘، ’مزاح سنت ہے‘، ’غیبت بدبودار ہے‘، ’بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے‘، ’ایثار شرف کا ثبوت ہے‘۔ آخری باب: ’دعوت انبیا ؑ کا راستہ ہے‘ اس پہلو کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اخلاقی تعلیمات پر نہ صرف خود عمل کرنا ہے بلکہ اسلامی تہذیب و معاشرت کے فروغ کے لیے دوسروں کو دعوت بھی دینا ہے۔ ہرنبی ؑ کی طرح رسولِ کریمؐ کے اسوئہ کا یہ نمایاں ترین پہلو ہے۔

کتاب کی ایک اور خصوصیت اختصار و جامعیت ہے۔ وقت کی کمیابی سے دوچار افراد  بھی مختصر وقت میں اخلاقی تعلیمات اور عملی رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ طباعت کا معیار ’بہترین‘ ہے۔(امجدعباسی)


برصغیر میں اسلامی صحافت کی تاریخ اور ارتقا، ڈاکٹر سلیم الرحمن خان ندوی۔ ناشر:اسلامک ریسرچ اکیڈیمی ، کراچی۔ تقسیم کنندہ: اکیڈیمی بک سنٹر، ڈی ۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ صفحات: ۴۱۹۔ قیمت: ۶۰۰ روپے۔

انسانی تہذیب و ثقافت میں اظہار و ابلاغ کے متعدد ذرائع رُونما ہوئے۔ پریس کی ایجاد نے اخبارو اطلاعات کی ترسیل کا دائرہ بہت وسیع کردیا۔ یورپ کی استعماری طاقتوں نے اپنے تجارتی اور توسیع پسندانہ عزائم کے تحت جب مسلم ممالک پر قبضہ کیا تو پریس کی طاقت کا استعمال بھی ہوا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہد میں صحافت کے ابتدائی نقوش اُبھرے۔ ۱۷۸۰ء میں ملّی گزٹ سے متحدہ ہندستان میں صحافت کا آغاز ہوا۔ ۱۸۰۰ء میں فورٹ ولیم کالج قائم ہوا جس سے اُردوزبان کو تعلیم یافتہ طبقے میں اعتبار حاصل ہوا۔ ۱۸۳۳ء میں کلکتہ سے آئینہ سکندری کے نام سے فارسی زبان میں اخبار شائع ہوا۔ عیسائی اپنے اخباروں کے ذریعے اسلام پر شدید تنقید کررہے تھے۔ اسلامی صحافت کا وجود معاصر حالات کے ردّعمل کے طور پر ہوا۔ ۱۸۳۳ء سے ۱۸۵۷ء تک مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخباروں کی تعداد ۴۴ تھی۔

زیرنظر کتاب میں برصغیر میں اسلامی صحافت کے آغاز اور ارتقا پر تحقیقی و تنقیدی نظر ڈالی گئی ہے۔ ۱۸۵۷ء میں اخبار سراج الاخبار وغیرہ میں مسلمانوں کے کارنامے منظرعام پر لائے جاتے تھے۔جنگ کے بعد انگریز حکومت نے ایک مدت کے لیے مسلمانوں کے تمام اخبار بند کردیے۔ دہلی اُردو اخبار کے ایڈیٹر مولوی محمد باقر کو توپ سے اُڑا دیا گیا۔ انگریزی اخبار مسلمانوں کے خلاف محاذ بنائے ہوئے تھے۔ سرسیداحمدخاں نے جریدہ سائنٹفک سوسائٹی اور تہذیب الاخلاق  کے ذریعے مسلمانوں کو جدید تعلیم و تہذیب کی طرف راغب کیا۔

۱۸۵۸ء سے لے کر ۱۹۰۰ء تک مختلف زبانوں میں متحدہ ہندستان میں ہفت روزوں، ماہناموں، دس روزوں، پندرہ روزوں اور روزناموں کی تعداد ۲۵۱تھی۔ ان اخبارات کے ناموں کے علاوہ ان کے مدیروں کے نام بھی لکھے گئے۔ ۱۹۰۱ء سے ۱۹۴۷ء تک کے اخبارات کو اُردو صحافت کا سنہری دور کہا گیا ہے۔ انگریزی سامراج کے خلاف زوردار آواز حسرت موہانی نے ۱۹۰۳ء میں رسالہ اُردوے معلٰی میں اُٹھائی۔ محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد اور ظفر علی خان کے اخبارات نے مسلمانوں کی دینی، معاشرتی اور سیاسی بیداری میں اہم کردار ادا کیا۔ زیرنظر کتاب میں فاضل محقق نے ان اخبارات کے مقاصد، سیاسی وابستگی، مضامین کے عنوان اور مضمون نگاروں کے نام بھی لکھے ہیں۔ مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، محمدعلی جوہر، ابوالکلام آزاد، عبدالماجد دریابادی اور مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی صحافتی زندگی، ان کے اخبار و جرائد کی خصوصیات، سیاسی وابستگی اور     ان کے علمی و ادبی کمالات کے علاوہ صحافت کی تاریخ میں ان کے مرتبہ و مقام کا تفصیلاً جائزہ لیا گیا ہے۔ مجلہ معارف ،ترجمان القرآن، اسلامک کلچر، الفرقان اور مجلہ بُرہان پر بھی جامع تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ پاک و ہند میں عربی صحافت کا بھی فاضل محقق نے تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس کتاب کے مصنف نے ریاض یونی ورسٹی سے ایم اے کے لیے یہ مقالہ عربی زبان میں تحریر کیا تھا جسے مولانا احسن علی خاں ندوی نے اُردو قالب میں ڈھالا ہے۔بعض اندرجات توجہ طلب ہیں: سرسیّد احمد کا سنہ وفات ۱۸۸۹ء نہیں (ص ۴۶) ۱۸۹۸ء صحیح ہے۔ ابوالکلام آزاد نے الہلال دوبارہ ۱۹۲۷ء میں نکالا، اس وقت دوسری جنگ عظیم نہیں بلکہ پہلی جنگ ِ عظیم کی وجہ سے ہندستان پیچیدہ حالات سے گزر رہا تھا(ص ۱۶۲)۔ البلاغ، ۱۹۱۴ء میں نہیں بلکہ ۱۲نومبر ۱۹۱۵ء کو منصہ شہود پر آیا (ص۱۶۲)۔ان کے علاوہ بھی مزید چند مقامات پر تصحیحات کی ضرورت ہے۔(ظفرحجازی)


ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیم وقت ، محمد بشیر جمعہ۔ ناشر: ٹائم مینجمنٹ کلب بالمقابل زینب مارکیٹ، ۲۶۸- آر اے لائنز، عبداللہ ہارون روڈ، صدرکراچی-۷۵۵۳۰۔ فون: ۲۹۸۷۶۳۸-۰۳۲۳ صفحات: ۲۹۲۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

شاہراہِ وقت پر ترقی اور کامیابی کا سفر تبھی طے ہوسکتا ہے جب انسان متوازن زندگی گزارے۔ محمدبشیر جمعہ کی ترتیب دی ہوئی تازہ کتاب ترقی اور کامیابی بذریعہ تنظیم وقت انسانی زندگی کو مؤثر ، منظم، مستعد اور مربوط بنانے کے عمل میں مشوروں پر مشتمل عمدہ رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ کتاب دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ترتیب کار نے کتنی محنت، دقّت نظر اور عرق ریزی کے ساتھ یہ لوازمہ فراہم کیا ہے۔ قرآن و سنت، تاریخی واقعات و شخصیات اور جدید تحقیق کی روشنی میں کامیابی کے گُر سامنے لائے گئے ہیں۔ کتاب میں درج بنیادی ساری باتیںکتابی نہیں عملی بھی ہیں، جن کو کام میں لاکر کوئی چاہے تو زندگی کے میدان میں کامیابی سمیٹ سکتا ہے اور آگے بڑھ سکتا ہے۔

۱۵ ابواب پر مشتمل یہ لوازمہ کامیابی کے مفہوم، وقت کی قدروقیمت، فوائد، اقسام اور استعمال بارے تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ وقت بہتر انداز میں کیسے استعمال کیا جائے، اور اس کے ضیاع کو کیسے روکا جائے، اس کے اہم اور کلیدی موضوعات ہیں۔ زندگی کے نصب العین کا تعین، تبدیلی کیوں اور کیسے؟ آگے بڑھنے کا عمل، اخلاقِ فاضلہ کوکیسے پروان چڑھایا جائے؟ بُری عادات اور رویّے کیسے ترک کیے جائیں؟ صلاحیتوں کی آبیاری کیسے ہو؟ ترجیحات کا تعین، منصوبہ سازی، کارکردگی میں بہتری اور سستی اور کاہلی کا مقابلہ کیسے ہو؟ گفتگو، تقریر و تحریر اور مطالعہ کیسے کیا جائے کہ یاد رہے۔ یہ اور اس طرح کے عملی مشوروں پر مشتمل یہ کتاب ایک دل چسپ اور مفید کتاب ہے۔ کتاب میں استعمال کی گئی بعض اصطلاحات اُردو خواں طبقے کے لیے نئی ہوسکتی ہیں اور مشورے اجنبی، لیکن ان پر عمل کرنے والا محروم نہیں رہے گا۔ آخر میں جن کتب ، تراجم اور مضامین سے استفادہ کیا گیا ہے، ان کی فہرست بھی فراہم کردی گئی ہے۔ تمام شعبہ ہاے زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات ان مفید مشوروں سے فیض یاب ہوسکتے ہیں لیکن وہ لوگ جنھوں نے ابھی زندگی کا سفر طے کرنا اور زندگی کے میدان میں کارہاے نمایاں سرانجام دینے ہیں، یہ کتاب ان کے لیے رہنمائی کا عمدہ ذریعہ ہے۔ وہ ایک کامیاب اور متوازن زندگی کے لیے مکمل لائحہ عمل اور پلان ترتیب دے سکتے ہیں۔ بڑے بھی چاہیں تو اس سے نفع پاسکتے ہیں۔

اتنے اہم اور قیمتی مشوروں اور رہنمائی پر مبنی یہ لوازمہ خوب صورت اور معیاری طریقے پر پیش کیا گیا ہے اور قیمت بھی زیادہ نہیں۔(عمران ظہور غازی)


قرآنِ حکیم اور حقیقت ِ کائنات، انجینیر نفیس عالم حنفی بخاری۔ ناشر: نیو امیج پبلی کیشنز، کراچی۔ صفحات: ۲۱۶۔ قیمت: درج نہیں۔

مصنف انجینیرہیں اور مطالعے کا ذوق اور اسلام کا درد رکھتے ہیں۔ا نھوں نے کائنات کے حوالے سے قرآن حکیم کی جتنی آیات اور احادیث مل سکیں ان کو ان ۱۵ مختلف عنوانات کے تحت   نہ صرف بیان کیا ہے بلکہ ان کی تشریح بھی لکھی ہے۔ سائنسی تشریحات اور قرآن و حدیث کی تشریحات کا موازنہ بھی کیا ہے۔ کتاب میں جابجا زمین اور آسمان کے نقشے، اللہ تعالیٰ کے عرش کے مختلف حالتوں کے نقشے ،اور زمین ، آسمان اور سیاروں کے ایک دوسرے سے فاصلے کے جدید ریاضی کے مطابق حسابیات بیان کی گئی ہیں۔ غرض کہ کتاب کی تصنیف بڑی عرق ریزی سے کی گئی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ یہ سب قرآن اور حدیث کے تصورات کے حدود میں رہیں۔ اس حوالے سے پروفیسر مفتی منیب الرحمن نے بڑی صائب راے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے دی ہے: یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ فہم قرآنی کی ایک علمی کاوش اور بشری سعی ہے۔ ضروری نہیں کہ قطعی اور حتمی ہو، حقیقی اور قطعی علم صرف اللہ کے پاس ہے ، کیونکہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں‘‘۔ (ص ۲۷)

سائنسی اُمور پر اُردو میں لکھنا جب تک عبور حاصل نہ ہو بیان اور جملوں میں بے ربطی پیدا کردیتا ہے۔ بعض آیات کے ترجمے بھی قابلِ غور ہیں۔ مصنف کی یہ پہلی کوشش ہے توقع ہے کہ آیندہ طباعت میں اس طرف توجہ کی جائے گی۔ (شہزادالحسن چشتی)


تعارف کتب

  • ماہنامہ فقہ اسلامی ،(اشاریہ) ، مدیر: پروفیسر ڈاکٹر نوراحمد شاہتاز۔ ناشر: اسلامک فقہ اکیڈمی، پوسٹ بکس نمبر ۱۷۷۷۷، گلشن اقبال، کراچی۔ فون: ۲۳۷۶۹۸۵-۰۳۳۳۔ صفحات: ۱۱۱۔ قیمت: درج نہیں۔[علمی و فقہی مباحث اور عصرِحاضر کے مسائل پر رہنمائی پر مشتمل مجلہ فقہ اسلامی گذشتہ ۱۴برس سے علمی و تحقیقی خدمت انجام دے رہا ہے۔ اہلِ علم اور محققین کی سہولت کے لیے اشاریہ آج ایک ضرورت کی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔ زیرنظر اشاریہ فقہ اسلامی کے گذشتہ ۱۴برس (اپریل ۲۰۰۰ء تا دسمبر ۲۰۱۳ء) پر مشتمل ہے۔ مجلے میں اُردو، عربی اور انگریزی میں مضامین یک جا شائع ہوتے ہیں۔ اشاریہ میں مضامین کی ترتیب موضوعاتی اور مصنف وار ہے۔ محمد شاہد حنیف نے اشاریے کو مرتب کیا ہے۔]
  • تربیت اولاد،تعلیماتِ نبویؐ کی روشنی میں ، سیّد فضل الرحمن۔ناشر: زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اے-۴؍۱۷، ناظم آباد نمبر۴، کراچی۔ فون: ۳۶۶۸۴۷۹۰-۰۲۱۔[مولانا سیّد زوار حسین اکیڈمی ٹرسٹ کے زیراہتمام ’جواہرسیرت‘ کے تحت دعوتی و علمی موضوعات پر کتب کی اشاعت کا آغاز دعوتی نقطۂ نظر سے کیا گیا ہے۔      ان کتب کے اشاعتی حقوق بھی عام ہیں۔ زیرنظر کتابچہ بچوں کی تربیت سے متعلق ہے۔ قرآن و سنت اور    اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں بچوں کی تربیت کے خطوط اور بنیادی حقوق کا مطالعہ پیش کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے کے تحت اُمِ ایمنؓ، رسولِؐ اکرم کی انا از ڈاکٹر محمد یاسین مظہر صدیقی شائع کیا جاچکا ہے۔ اس سے اسوئہ رسولؐ کا ایک منفرد پہلو سامنے آتا ہے۔ عہدِحاضر میں جہاد کے تصور اوراس کے بارے میں پائے جانے والے شبہات کے ازالے کے لیے ڈاکٹر محمود احمد غازی کا کتابچہ: رسولؐ اللّٰہ کا نظریۂ جہاد اور جدید ذہن کے شبہات بھی شائع کیا جاچکا ہے۔]

     

عبدالحفیظ احمد ، لاہور

ترجمان القرآن کے ’اشارات‘ نے ہمیشہ تحریک اسلامی کے کارکنان کی ذہنی آبیاری کی ہے اور فکری یکسوئی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ یہ ’اشارات‘ مولانا سیّدابوالاعلیٰ مودودی نے تحریر کیے ہوں یا پروفیسر عبدالحمید صدیقی نے ، نعیم صدیقی نے یا ملک غلام علی نے، خرم مراد نے یا پروفیسر خورشیداحمد نے۔ یہ ’اشارات‘ خونِ جگر نچوڑ کر تحریر کیے جاتے رہے ہیں۔ لیکن نومبر ۲۰۱۴ء کے اشارات ’تحریک اسلامی اور موجودہ سیاسی بحران‘ نے مولانا مودودی مرحوم کی یاد تازہ کردی۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر انیس احمد کو جزا عطا فرمائے۔


محمد اخلاق خاں ، لاہور

’تحریک اسلامی اور موجودہ سیاسی بحران‘ (نومبر ۲۰۱۴ء) ڈاکٹر انیس احمد نے جس تحریکی، دینی، سیاسی اور انقلابی وژن کے ساتھ لکھا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ہر کام اور سوچ میں کارکن کو اللہ تعالیٰ سے مضبوط تعلق پیدا کرنے، اخلاص و خلوص اور دیانت و امانت کو ہرحال میں پیش نظر رکھنے کی جس طرح تلقین کی گئی ہے،  نیز شہرت و نام وَری اور ریاکاری و دکھلاوے سے اپنے ہرعمل کو پاک رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے___ یہی ایک اسلامی تحریک کا شعار ہے۔


عمران ظہور غازی ، لاہور

ڈاکٹر انیس احمد کے مضامین اپنے موضوعات اور مواد کے اعتبار سے اہم اور بیش قیمت ہیں۔ وہ    جس محنت اور عرق ریزی کے ساتھ لکھتے ہیں اس کو نہ سراہنا قرین انصاف نہ ہوگا۔ ارشداحمد بیگ کا مضمون:   ’مؤثر قیادت: چند غور طلب پہلو‘ (نومبر۲۰۱۴ء) بہت اہم ہے۔ تحریکِ اسلامی کی ہرسطح کی قیادت کے لیے اہم اور غورطلب نکات ہیں اور مفید رہنمائی کا ذریعہ ہے۔نومبر کا ترجمان طباعت کے لحاظ سے بہتر لگا۔ اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔


عبداللہ، گجرات

’دعوتِ دین: حکمت اور تقاضے‘ (نومبر ۲۰۱۴ء) کے مطالعے سے مولانا مودودیؒ کے درسِ قرآن کی یاد تازہ ہوگئی۔ دعوتِ دین اور فریضۂ شہادتِ حق کے مراحل اور عملی تقاضوں پر اہم نکات سامنے آئے۔ تاہم فجر کی اذان کے بعد نبی کریمؐ کا دو نفل ادا کرنا (ص ۳۹) دراصل فجر کی سنتیں ادا کرنا تھا۔ اس بات کی وضاحت کی ضرورت تھی۔