مضامین کی فہرست


اکتوبر۲۰۲۰

اخوان المسلمون ایک جامع اسلامی اجتماعیت ہے، جو ایک واضح اور مخصوص طریق کار رکھتی ہے۔ ایسا طریق کار کہ جو در حقیقت اہل سنت و الجماعت کا منہج ہے۔ اخوان اس امر کا لحاظ اپنی ان تمام سرگرمیوں میں رکھتی ہےجو وہ معاشرے کی اصلاح اور تبدیلی کے لیے بروے کار لاتی ہے، تاکہ وہ اپنی ذمہ داری کو حکمت اور بہترین اسلوب کے ساتھ ادا کرے۔ وہ ذمہ داری جو عین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق ہو اور جو معاشرے کے ہر فرد اور ادارے میں ان کی گوناگونی کےباوجود ایک احساس امن اور آزادی پیدا کرے۔ اخوان المسلمون معاشرے کی اصلاح کے لیے جو کردار ادا کرنا چاہتی ہے، وہ ایک مسلم فرد، مسلم گھرانے اور مسلم امت کی اساس پر قائم ہوتا ہے۔ وہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایک مسلمان اگر اسلام کے صحیح تصور کے مطابق زندگی گزارتا ہے، تو اس کے اسی عمل کے نتیجے میں کامیابی کی دوسری تمام راہیں کھلتی ہیں۔ اور ایسا شخص لازمی طور پر ایک صالح شہری بھی ہوتا ہے، جو اس بات کا فہم اور علم رکھتا ہے کہ ایک صالح مسلما ن گھرانا ہی وہ بنیادی اکائی ہے، جس پر ایک مسلمان معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اخوان یہ بھی جانتی ہے کہ اللہ کی مرضی سے جب تک امت مسلمہ اس بات پر قادر رہے کہ وہ حق اور انصاف کا علَم اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق بلند کرتی رہے تو وہ نہ گمراہ ہوگی اور نہ بدبخت:

فَاِمَّا يَاْتِيَنَّكُمْ مِّنِّيْ ہُدًى۝۰ۥۙ  فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقٰي۝۱۲۳ وَمَنْ   اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَہٗ مَعِيْشَۃً ضَنْكًا وَّنَحْشُرُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ اَعْمٰى۝۱۲۴ (طٰہٰ ۲۰:۱۲۳-۱۲۴) جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا۔اور جو میرے ’ذِکر‘ (درسِ نصیحت) سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہو گی اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔

اپنے اس مخصوص طریقے کار پر عمل کرتے ہوئےتمام مشکلات، مصائب اور رکاوٹوں کے باوجود الحمدللہ اخوان اپنا فرض نبھاتی آرہی ہے اور اسلام کا اعتدال پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتے  ہوئے اپنے مقاصد اور اہداف کے حصول کے لیے کوشاں ہے، تاکہ ایک ایسی اسلامی ریاست کی بناڈالے جو اسلام کو تمام گوشہ ہاے زندگی میں نافذ کرے۔ عوام شعوری طور پر اگر اس بات پر تیار ہو جاتے ہیں، تو نہ صرف وہ خوش نصیب ہوں گے بلکہ اس کے ذریعے انھیں دنیا میں عزت اور قیادت بھی ملے گی، اور اگر وہ اس کو رد کر دیتے ہیں تو اللہ کی ذات توتمام انسانوں سے غنی ہے۔ وہ تو صرف بندوں کو بخشنے کاروادار ہے،بشرطیکہ وہ توبہ کی روش اختیار کریں، صرف اسی کی طرف پلٹیں اور اسی کو خلوص دل سے پکاریں، نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کریں۔

مختصراً یہ کہ اخوان المسلمون دعوتِ دین اور تحریک و تنظیم کے ذریعے عوام کو مخاطب کرتی ہے۔ ہم اُن کو اسلام کی طرف بلاتے ہیں جس کا ایک جز حکومت بھی ہے۔ اور آزادی اس کا ایک فریضہ ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام ہی تمام انسانیت کے لیے دینِ حق ہے۔ اور وہ کسی خاص نسلی یا علاقائی یا جغرافیائی گروہ کی میراث نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام بنی نوع انسان کی جانب اپنی رحمت کے ساتھ مبعوث کیا تھا:

وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِيْنَ۝۱۰۷  (الانبياء ۲۱:۱۰۷) اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔

ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم لوگوں تک اللہ کا دین بے کم و کاست اور بنا کسی رد و بدل کے پیش کر دیں:

اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا۝۰ۭ (المائدہ ۵:۳) آ ج میں نے تمھارے دین کو تمھارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے اسلام کو تمھارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔

اسی کے ساتھ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ امت ہی قیادت اور سیادت کا منبع اور مصدر ہے۔ انھی اہلِ ایمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی قیادت کا خود چناؤ کریں۔ اس معاملے میں ہم منصفانہ طور پر عوام کی منتخب راے کے ساتھ چلیں گے، چاہے یہ ہماری راے کے مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ بس اس شرط کے ساتھ کہ وہ شریعت کے کسی اصول سے متصادم نہ ہو اور نہ اس معاملے میں کسی فرد یا جماعت کی جانب سے اس پر کسی دباؤ، دھمکی، یا آمریت و استبداد کا استعمال کیا گیا ہو۔

اخوان اور سیاسی جماعت

آج کل معاشرے میں سیاسی اور اسلامی جماعتوں کے حوالے سے کافی باتیں زیربحث ہیں۔ بہت سے کرم فرماؤں کی یہ راے ہے کہ ’’اخوان کوبھی انھی جماعتوں کی طرح ایک سیاسی جماعت ہونا چاہیے‘‘۔اُن کی نظر میں ’’اسے ایک عوامی سیاسی جماعت میں ڈھل جانا چاہیے‘‘جو دوسرے شعبوں، مثلاً نوجوانوں کی تربیت، دعوت دین اور خدمت خلق کے شعبوں کے ساتھ مربوط ہو اور سول سوسائٹی کے تمام اداروں، مثلاً رفاہی انجمنوں، کھیل کے کلبوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی امداد کمیٹیوںکے ساتھ مل کر کام کرے گی‘‘۔

اس حوالے سے اخوان کی پوزیشن پہلے روز سے آج تک بہت واضح ہے۔ اخوان کو ایسی کسی بھی تنظیم پر کوئی اعتراض نہیں ہے، جو اخوان کے پیش نظر مختلف جہتوں میں پھیلے ہوئے کسی بھی کام کےحوالے سے قائم کی جائے مگر شرط یہ ہے کہ محض حصولِ اقتدار اس جماعت کی اوّلین ترجیحات میں سے نہ ہو بلکہ وہ ایک ایسی اجتماعی ہیئت ہو، جو زندگی کے تمام شعبوں میں اسلام کی دعوت کو اپنی اوّلین ترجیح رکھے اور اس بات کے لیےکوشاں رہے کہ یہ امت ایک صاحبِ رسالت امت بننے کے قابل بن سکے۔

اخوان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس وقت کسی ایسی جماعت کی رجسٹریشن کے لیے درخواست دینا بے سود ہے کیونکہ حکومت عوام پر ہر قسم کا تشدد روا رکھے ہوئے ہے اورجس میں اخوان اس کا مرکزی ہدف ہے۔ اور حکومت کسی بھی ایسی جماعت کی تشکیل کی اجازت نہیں دے گی اور اخوان بھی اس جبر کے نظام میں یک طرفہ طور پر متحرک نہیں ہو سکتے۔ اپنے اصلاحی کام کے ذریعے اگر کبھی ایسی جماعت بننے کی سبیل پیدا ہوئی، تو اخوان ایک مسلمان معاشرے اور ایک عادلانہ امت کے قیام کے لیے ضرور دعوت،تنظیم، تعلیم و تربیت اورخدمت کے ایجنڈے پر عمل کرے گی۔

 اس لیے اخوان کا عوامی کام جس میں سیاسی کام بھی شامل ہے، اپنے اہداف اور وسائل کے اعتبار سے اسلامی اصول و ضوابط سے باہر نہیں نکلتا، اور نہ نکل سکتا ہے، اور نہ یہ ممکن ہے کہ اخوان کسی تکنیکی حکمت عملی کے تحت تحریک کے جامع پروگرام کے کسی جزو کو نظر انداز کردیں۔ اگرچہ بہت سے ہمدرد یہ کہتے ہیں کہ ’’اخوان اگر اپنے تحریکی کام کے بعض اجزاکو ترک کردے، تو نہ صرف ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے بلکہ ان کو مغرب اور صہیونیوں کے ہاں بھی پذیرائی مل سکتی ہے،اور اس طرح وہ قلیل وقت میں چند شعبوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں‘‘۔ لیکن ہماری نظر میں اگر ہم نے اپنے بنیادی دعوتی کام کے پہلوؤںکو نظر انداز کر کے کوئی جماعت بنا بھی لی، تو یہ بہرحال ایک اور ہی جماعت ہوگی، مگر کسی بھی صورت میں اخوان المسلمون نہیں ہو گی۔

اخوان تو ایک ایسے اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے کوشاں ہے، جس میں سے اسلامی حکومت ایک فطری طریقے سے ابھرے، جو امت مسلمہ کی اُمنگوں کی ترجمانی بھی کرے اور شریعت کا نفاذ بھی۔ لیکن یہ خواہش ایک طویل المیعاد ا ور جاںگسل جدو جہد کا مطالبہ کرتی ہے کیونکہ ہمارا ہدف بھی اتنا ہی بلند ہے:

اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ۝۰ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاہُ۝۰ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۝۴۰ (یوسف ۱۲:۴۰)فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

ہاں، اگر کسی بھی مسلمان ملک میں کوئی اسلامی جماعت، حکومت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے جیسا کہ ترکی میں ہوا تو ہم امت کے بھائی چارے اور آزادیوں اور انصاف کی روش عام ہونے کی مناسبت سے اس پر ضرور خوش ہوںگے۔ لیکن ان جماعتوں کی کامیابی اور اخوان کی حکمت عملی میں موازنہ کرنا خلط مبحث ہوگا۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ دو مختلف النوع تحریکوں کا موازنہ ہے، جن کے اصول، اہداف اور طریق کار یکساں مختلف ہیں۔

مصر اور ترکی کے حالات کا موازنہ

اخوان المسلمون نے نہ تو اپنے اصولوں کو تبدیل کیا ہے اور نہ وہ مستقبل میں کبھی ایسا کریں گے۔ہمارے نزدیک اسلامی تحریک کا کوئی بھی جزو معطل نہیں کیا جاسکتا۔ ہماری کامیابی زندگی کے انفرادی، اجتماعی، حکومتی اور ریاستی پہلوؤں کے حوالے سےایک ہمہ پہلو جد و جہد کا عنوان ہے۔ اسی کی ہم دعوت دیتے ہیں اور اسی کے لیےہم تربیت کا اہتمام کرتے ہیں۔

ترکی کی جسٹس پارٹی نے سیکولرزم کے مغربی تصور کے پہلو بہ پہلو چلنے کی رضامندی کا راستہ اختیار کیا ہے جو ہمارے اعلیٰ اجتماعی اور سیاسی ہدف سےیکسر مختلف ہے۔ہم یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک ایسی اسلامی ریاست قائم ہو، جو مغرب کی پاپائیت (Theocracy ) سے بالکل مختلف ہو۔اس موقعے پر ترکی اور مصر کا فرق ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے۔مصر جہاں اخوان المسلمون متحرک ہے، تمام خرابیوں کے باوجود اس کے دستور میں ریاست کا مذہب اسلام ہے، اسلامی شریعت کے مبادی ،قانون سازی کا مصدر ہیں، جو کہ مصری ریاست کے اسلامی پہلو کا مظہر ہے، جسے کوئی بھی مصری حکومت یا جماعت تبدیل نہیں کر سکتی۔ اس کے بر عکس ترکی کے دستور میں ابھی تک سیکولرزم ہی اس ریاست کی بنیاد ہے اور وہی اس کی قانون سازی کا منبع ہے۔ ترکی خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد سے اب تک مصطفیٰ کمال کی سیکولر قوم پرستی کے تصور پر گامزن ہے اور یورپ میں ضم ہونے کا حریص ہے، باوجود اس کے کہ مسلمان ترک قوم اور لادین یورپ میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اسی جوہری اختلاف سے حق اور انصاف کے دو مختلف معیار وجود میں آتے ہیں، جن میں اتفاق ممکن نہیں ہے۔

اس تفصیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جو شخص بھی ایک اسلامی جماعت اور اسلامی تحریک کو سمجھتا اور اس کے ساتھ چلتاہے تو ضروری ہے کہ اسلام ہی اس کا پہلا اور آخری ہدف ہوجو اس کے طریق کار اور مقاصد پر مکمل طور پر حاوی ہو۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ہمیں دل چسپی تو اسلام کے حقیقی مفہوم سے ہے، نہ کہ چندشعار اور اصطلاحات سے۔ اب جو چاہے اپنے لیے جس منزل کا انتخاب کرلے، لیکن یہ بات اچھی طرح جان لے کہ یہ صرف اسلام کا صحیح مفہوم اور اس کا صحیح طریق کار ہی ہے جس کو بقا ملے گی اور اس کے علاوہ سب فنا ہو جائے گا، جس طرح غروبِ آفتاب کے ساتھ دھوپ!

میرے اہل خانہ اور غزہ کے عوام کے لیے، اگست ۲۰۲۰ء کے دن بہت خوفناک رہے۔  اسرائیل نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر غزہ کی پٹی پر بمباری کی۔ اس دوران ہمیں ایسا محسوس ہوتا رہا کہ ہم کبھی نہ ختم ہونے والے زلزلے کے مرکز پر پھنس گئے ہیں۔ دھماکے ، کبھی کبھی تو ہمارے گھر سے بمشکل ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہوتے اور اتنے زوردار ہوتےکہ ، میری دو سالہ بھانجی رات بھر سونہیں سکتی تھی۔ جب بھی وہ ز ور دار دھماکے کی آواز سنتی، جلدی سے کھلونے سمیٹ کراپنے اردگرد جمع کر لیتی ، کہ یہ کھلونے اسے اسرائیل کے بموں سے بچا لیں گے۔

اگست کا مہینہ واقعتاً بھیانک توتھا ہی، لیکن یہ کسی طرح سے غیر معمولی نہیں تھا۔ اسرائیل کے فوجی ، جنگی طیارے ، ڈرون اور بندوق بردار کئی عشروں سے غزہ کے عوام کو بڑے تسلسل سے ہراساں کررہے ہیں ، دھمکا رہے ہیں اور اس سے آگے بڑھ کر مار بھی رہے ہیں۔ اسرائیل کے    یہ بہیمانہ حملے، غزہ کی روزمرہ زندگی کے معمولات کا حصہ ہیں۔ زندہ رہنے کے قابل ہونے کے لیے اور کسی ایسی چیز کی رہنمائی کرنے کے لیے جو عام زندگی سے ملتی ہے ، ہم اہل غزہ کے پاس ، اپنے اوپر ہونے والے تشدد کو معمول کے مطابق قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔

 غزہ میں پیدا ہونے اور پرورش پانے کے دوران میں نے ہمیشہ ایمرجنسی ، دہشت اور کسی بھی لمحے اسرائیل کی جانب سے مسلط ہوجانے والی درندگی کا احساس محسوس کیا ہے۔میرا خاندان ہمیشہ بدترین حالات و انجام کا سامنا کرنے کے لیے تیار چلا آرہا ہے، کیونکہ بدترین انجام کسی بھی وقت ہمارے دروازے پر دستک دے سکتا ہے ، جیسا کہ اس نے ماضی قریب میں غزہ پر۲۰۰۸ء، ۲۰۰۹ء ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۴ء میں حملوں کے دوران کیا تھا۔ بچپن سے میں جانتا تھا کہ ہر دن خوف میں رہنا ہی ہمارا مقدر ہے۔ میرے دل نے روزمرہ کی ہولناکیوں کے خاتمے کے خوش کن تصور کو مسترد کردیا ہے ، کیوں کہ اَب میں اپنی انسانی قسمت سے رابطہ نہیں کھونا چاہتا ۔یوں مجھے آخر کار اپنے گردونواح کی اس صورتِ حال سے اتفاق کرنا پڑا جس میں مَیں پیدا ہوا تھا۔

اب ، میری بھانجی اور ہزاروں دوسرے بچے ، جو غزہ میں اسرائیلی محاصرے میں رہ رہے ہیں ، اسی خوف اور مسلسل ہنگامی صورتِ حال کے ایک جیسے احساس کے ساتھ پل بڑھ رہے ہیں۔  جب وہ بموں کی آوازوں میں سونے کی کوشش کرتے ہیں ، اور اپنے کھلونوں کو خوفناک دہشت سے بچاتے ہیں جو ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے، اور فضا سے ان پر مسلط ہے، تو انھیں معمول کے مطابق ایک پُرتشدد حقیقت کو قبول کرنا ہی ہے۔ ایسا پُرتشدد ماحول دُنیا کا کوئی معاشرہ، کوئی ملک یا کوئی باپ اپنے بچے کو کبھی نہیں دکھانا چاہتا۔

کائنات میں تیرتی اس دُنیا میں حالیہ برسوں کے دوران شاید ہی کوئی ایسا دن دیکھنے میں آیا ہو، جس میں اسرائیل نے فلسطین کے انتہائی گنجان آباد علاقوں پر بمباری یا فائرنگ نہ کی ہو یا جسمانی طور پر حملہ نہ کیا ہو ، بلکہ ایک ایسی جگہ بھی تھی، جس کا بدترین محاصرہ ہوئے ۱۳ سے زیادہ دن گزرگئے، جن میں عام انسانی کی زندگی کے لیے بنیادی ضروریات تک میسر نہ تھیں۔

اسرائیل کا نوآبادیاتی انفراسٹرکچر ہمارے اوپر آسمان کو اور ہمارے ارد گرد زمین کو اور پھیلے ہوئے سمندر کو کنٹرول کرتا ہے ۔ غزہ میں ، جہاں بھی آپ نظر ڈالتے ہیں ، آپ کو جبر ، قبضے اور جنگی آلات نظر آتے ہیں ۔ سرحد پر تقسیم کرتی دیواریں ، بکتر بند گاڑیاں ، جنگی طیارے اور قلعہ نما چوکیوں کا منظر، جس میں ہم رہتے ہیں___ اس کو ’غزہ‘ کہتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب آپ گھر میں ہوتے ہیں، تو فوجی ڈرون کی منحوس آواز آپ کو یاد دلاتی ہے کہ آپ قید ہیں ، اور آپ پر کسی بھی وقت حملہ ہوسکتا ہے۔

 مجھے یقین ہے کہ اسرائیل غزہ کے فلسطینیوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے یہ سب شعوری طور پر کرتا ہے۔ اپنے قبضے کو ظاہر کرنے کے لیے نہایت گھناؤنی طاقت کا مکروہ مظاہرہ کرتا ہے،اور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ’’ہم تمھیں کبھی عام انسان نہیں بننے دیں گے ، اور کبھی تمھیں  عام زندگی بسر نہیں کرنے دیں گے‘‘۔

اسرائیل کے نزدیک ، ’’غزہ ایسی جگہ نہیں ہے جہاں ۲۰لاکھ مرد ، خواتین اور بچے اپنی پناہ گاہ کو گھر کہہ سکیں، البتہ اپنے آپ کو ’دشمن کا نشانہ بننے والی ایک مخلوق سمجھ سکتے ہیں‘‘۔ وہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ ’’ہم ایک اجنبی جگہ کے باشندے ہیں، جو انسانی شائستگی کے سلوک کے مستحق نہیں ہیں‘‘۔ اسرائیل کی پروپیگنڈا مشین ، دنیا بھر میں اپنے حلیفوں کی مدد سے ، غزہ کے عوام کو غیر مہذب، متشدد ’انتہا پسندوں‘ کا نام دینے کے لیے اَن تھک کام کرتی ،اور یہ تاثر دیتی ہے کہ ’ارضِ فلسطین پر اسرائیل کا قبضہ ’انسانیت پسندانہ‘ اور ’مہذبانہ اقدام‘ ہے۔

بلاشبہہ، حقیقت اس سے بہت مختلف ہے۔ اسرائیل کی طرف سے ہمیں دہشت زدہ کرنے کی کوششوں کے باوجود ، ہم غزہ کے عوام کو ، ہمارے غاصب فسطائی حاکم، اپنی رُودادِغم سنانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے ہم اپنے خوف ، خطرات اور مایوسیوں کو مزاحمت میں بدل کر دنیا کے ہر اس چوراہے پر پہنچ جاتے ہیں کہ جہاں اپنی المناک صورتِ حال کو بیان کرکے اپنے جابر قابضین کو شرمندہ کرنے کے لیے آواز بلند کر سکتے ہیں۔

غزہ کی پٹی اور پھر پوری دنیا میں بکھرے غزہ کے بہت سے مظلوموں کی طرح ، میں نے بھی زندگی بھر اسرائیل کی نوآبادیاتی پالیسیوں کا مقابلہ کیا ہے۔ میں غزہ میں پہلے اپنے مہاجر کیمپ میں ، اور بعد میں جرمنی میں ، انصاف اور آزادی کے لیے فلسطینی جدوجہد میں صفِ اوّل میں رہا ہوں۔ ان کوششوں پر مجھے دھمکیاں دی گئیں ، ستایا ، ڈرایا گیا اور یہاں تک کہ ایک بار گولی مار دی گئی۔ لیکن میں کبھی اس جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوا ، کیونکہ میں یہ جانتا ہوں کہ مزاحمت ہی اس بات کا یقین کرنے کا واحد راستہ ہے کہ میرے لیے ، میرے اہل خانہ اور میرے پیارے اہلِ غزہ کے لیے زندگی کی راہ اسی خطرناک گھاٹی سے گزر کر نکلے گی۔

لیکن ، یہ افسوس ناک بات ہے کہ دنیا ہماری بات سننے میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف جاری جرائم کا انکشاف بار بار، صحافیوں ، اقوام متحدہ کے نمایندوں، کارکنوں اور خود فلسطینیوں کے ذریعے ہوا ہے۔ اس کے باوجود ، بیش تر عالمی حکومتوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ کچھ لوگوں نے اسرائیل کی محض رسمی ’مذمت‘ کرنے ، اور فلسطینیوں کے خلاف اپنے جارحانہ حملوں کو روکنے کے لیے چند پامال لفظوں پر مبنی کھوکھلے بیانات جاری کیے ، لیکن دوسری طرف اسرائیل کو سفارتی ، سیاسی اور فوجی مدد فراہم کرتے رہے۔ بہت سے تو مکمل طور پر خاموش رہے اور ہمارے دُکھوں کی طرف سے آنکھیں بند کیں ، جو غلیظ خودغرضی اور اخلاقی غداری ہے۔

لیکن عالمی برادری ہماری حالت زار کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔ اقوام متحدہ نے تین سال پہلے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ۲۰۲۰ء تک غزہ ناقابلِ رہایش علاقہ بن جائے گا۔ تب سے اسرائیل نے نہ صرف یہ کہ غزہ کو تیزی سے بگاڑنا شروع کیا ہے، بلکہ غزہ پٹی پر اپنے حملے تیز کردیے۔  مقامی لوگوں کی کوشش ہے کہ اس کھلی جیل کو مزید لمبے عرصے تک رہنے کے قابل بنایا جائے۔ کورونا وائرس اب پورے غزہ کے مہاجر کیمپوں اور بستیوں میں پھیل رہا ہے۔ ہم اپنے دکھوں کی صورتِ حال تسلیم کرانے اور کارروائی کرنے کے لیے مزید انتظار کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے ہیں۔

 ہر سال ۱۵ مئی کا دن، فلسطینیوں نے ہم وطنوں کی نسل کشی اور ۱۹۴۸ء میں فلسطینی معاشرے کی تباہی کا حوالہ بنا رکھا ہے۔ اس افسوس ناک دن کے بعد سے ، اسرائیل کا بنیادی اسٹرے ٹیجک مقصد فلسطینیوں کو اسی ٹکڑے میں قید رکھنا ہے۔ تباہی کی اس حالت کا مقصد اسرائیلی نوآبادیاتی ڈھانچے کی تعمیر کے ذریعے اہلِ فلسطین کے لیے ہر روشن دان بند کرنے کا انتظام ہے۔

اسرائیل نے فلسطین کو اتنے لمبے عرصے سے تباہ کن حالت میں دبوچے رکھا ہے، کہ اب ہماری یہ خستہ صورتِ حال پوری دنیا کو ’معمول کی صورتِ حال‘ لگتی ہے۔ حالانکہ اسرائیل ہماری سماجی، معاشی اور ذاتی زندگیوں کو تباہ کرنے کے لیے پوری قوت، تسلسل سے لگا رہا ہے۔

 فلسطینی عوام بلاشبہہ اسرائیل کی نوآبادیاتی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کو نچلی سطح تک منظم کرکے چلا رہے ہیں، لیکن یہ بات بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم آزادی ، مساوات اور وقار کے لیے اپنی عدل و انصاف پر مبنی اخلاقی جنگ کو عالمی برادری کی حمایت کے بغیر نہیں جیت سکتے۔

اسی لیے ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین میں اسرائیلی جرائم کا حصہ نہ بنیں۔ اگر دنیا ہمارے حالات کو ’معمول‘ کے حالات سمجھ کر عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہی تو میرے ہم وطن اپنے گھربار کو بچانے سے ہمیشہ کے لیے محروم رہ جائیں گے۔(الجزیرہ، انگلش، ترجمہ: س م خ)