فروری ۲۰۲۶

فہرست مضامین

مصافحہ اور مُعانقہ

سیّد ابوالاعلیٰ مودودی | فروری ۲۰۲۶ | ۶۰ سال پہلے

Responsive image Responsive image

مصافحہ محض خوشی کے مواقع پر ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہرملاقات کے موقع پر نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور مسنون ہے۔ سنن ابوداؤد میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو مسلمان آپس میں مل کر مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کرتے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرما دیتا ہے‘‘۔ 

جامع ترمذی میں ارشاد مبارک کے الفاظ یہ ہیں: ’’جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں، اللہ ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرما دیتا ہے‘‘، یعنی ان کا ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا چونکہ مسلمان سے مسلمان کی محبت اور باہمی اکرام کا اظہار ہے، اس لیے یہ ان کی مغفرت کا موجب ہوتاہے۔ سنن ابوداؤد میں ہے کہ حضرت ابوذرؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ فرمایا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا:’’ کبھی ایسا نہیں ہواکہ میں حضورؐ سے ملا ہوں اور آپ نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو‘‘۔ اسی بنا پر مصافحہ کے بارے میں فقہا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

مگر ’معانقہ‘ کے معاملے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض فقہا (جن میں امام ابویوسفؒ بھی شامل ہیں)اسے بلا کراہت جائز سمجھتے ہیں، بعض صرف سفر سے واپسی پر یا ایسے ہی کسی غیرمعمولی مواقع پر اس کو جائز اورعام حالات میں مکروہ قرار دیتے ہیں ، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ مطلقاً مکروہ ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہےکہ معانقہ کے بارے میں احادیث مختلف ہیں.... ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر صرف مصافحہ پر اکتفا فرمایا کرتے تھے۔ معانقہ آپ کا عام معمول نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی خاص موقع پر آپ نے معانقہ فرمایا ہے۔ (’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۶ء، جلد۶۴، عدد۶، ص۶۷-۶۸)