پروفیسر امیرالدین مہر


اِبتلا و آزمایش میں ثابت قدم رہنے اور اس سے کامیابی کے ساتھ عہدہ برآ ہونے کے متعدد طریقے اور راستے ہیں۔ مومن کی حیثیت سے ان کو سامنے رکھنا اور ان میں سے اپنی حالت کے مطابق کسی ایک دو یا زیادہ کو اختیار کرنا چاہیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طریقے واضح طور پر بیان کیے ہیں۔ ان میں سے بعض کا تذکرہ کیاجاتا ہے۔

عقیدۂ توحید پر ایقان

اِبتلا و آزمایش میں سے کامیابی سے گزرنے کے لیے بنیادی بات عقیدۂ توحید پر پختہ ایمان ہے۔ جتنا یہ عقیدہ مضبوط ہوگا، اتنا ہی آسانی سے مومن اِبتلا و آزمایش سے گزر جائے گا۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگیوں میں بڑی بڑی آزمایشیں آئیں لیکن عقیدے کی پختگی کی وجہ سے ذرہ برابر قدم ڈگمگانے اور پسپائی اختیار کرنے کی حالت و کیفیت ان کے نزدیک نہیں آئی۔ حضرت بلالؓ پر کفارِ مکہ نے کتنی سختیاں کیں لیکن احد، احد ہی پکارتے رہے اور اِبتلا و آزمایش سے نکل آئے۔ ایسے سیکڑوں صحابہ کرام و تابعین تھے جنھوں نے اس طرح کا مظاہرہ کیا۔ اِبتلا وآزمایش کے بعد کے ادوار میں ایسے بہت سے مومن نظر آتے ہیں جو توحید کے عقیدے پر مضبوط ایمان کی وجہ سے کامیاب ہوکر نکلتے دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ دور کی گوناگوں آزمایشیں جیسے مصر میں اخوان المسلمین، اور وسطی ایشیا کے لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ فلسطین و عراق کے مسلمانوں پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے، افغانستان میں بارود اور لوہے کی آگ برسائی گئی اور خون کے دریا بہائے گئے۔ پل چرخی اور گوانتانامو کی بدنامِ زمانہ جیلوں میں اللہ کے نام لیوائوں کو روح کو لرزہ دینے والی اذیتیں دی گئیں لیکن اللہ کے بندے عقیدۂ توحید پر پختہ یقین اور تعلق باللہ کی وجہ سے ذرا برابر نہیں ڈگمگائے اور ایک دفعہ پھر سنت ِابراہیمی ؑ کو دنیا کے سامنے زندہ کردیا۔

ابتلا و آزمایش کی دو صورتیں ہیں: ایک طرف ظلم وستم خوداپنی ذات پر اور بعض اوقات بیوی، بچوں اور خاندان والوں پر۔ اگر یہ کارگر نہ ہو تو پھر دولت اور جاہ و جلال کی طمع اور خوف۔  امام احمد بن حنبلؒ پر جب تک کوڑے برستے رہے بڑی ہمت و جرأت سے برداشت کرتے رہے لیکن جب دولت پیش کی گئی تو گھبرا گئے اور رونے لگے۔

آخرت پر یقین

اسلام میں آخرت کا عقیدہ اساسی و بنیادی ہے۔ مکی دور میں قرآن مجید نے اسے مختلف طریقوں سے بیان کر کے اپنے پیروکاروں کو ذہن نشین کرایا ہے۔ قرآن مجید کی ۱۱۴ میں سے ۱۰۰سورتوں میں آخرت کا تذکرہ موجود ہے۔ پھر جتنی تفصیل آخرت کے بارے میں ہے اور جنتیوں اور دوزخیوں کے باہمی مکالمے، گفتگوئیں اور ان کی خواہشات بیان ہوئی ہیں، توحید و رسالت کے بعد شاید ہی کسی اور عقیدے کی اتنی تفصیل بیان ہوئی ہو۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے پختہ عقیدے کا انسانی زندگی پر گہرا اثر ہوتا ہے اور انسان کی سیرت و کردار کی تعمیر اور نشوونما میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔

تعلق باللّٰہ

اِبتلا سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا توحید کے بعد سب سے مضبوط اور یقینی طریقہ اللہ کے ساتھ تعلق جوڑنا اور اسے پختہ کرنا ہے۔ اِبتلا کے جتنے واقعات قرآن مجید میں اور احادیث ِ مبارکہ میں بیان ہوئے ہیں ان کے اختتام پر تعلق باللہ کو مختلف پیرایوں سے بیان کیا گیا ہے، جیسے    سورۂ ملک (۶۷:۳-۴)، سورۂ قلم (۶۸:۲۸-۲۹)، سورۂ یونس (۱۰:۳۰)۔

تعلق باللہ کی متعدد صورتیں ہیں۔ انھیں حسب ِ حال اختیار کرنا چاہیے۔ چند ایک کا مختصراً تذکرہ کیا جاتا ہے۔

  •  اللّٰہ کا ذکر: اللہ تعالیٰ کی یاد زبان و دل اور احساس و شعور سے کرنا، اُٹھتے بیٹھتے، لیٹتے اور چلتے پھرتے ہر حال میں اللہ کا ذکر جاری رہے۔ بزرگوں نے بہت سے اذکار مسنونہ و ماثورہ لکھے ہیں۔ اللہ کا ذکر تعلق باللہ کی بنیاد ہے۔ قرآن مجید میں ذکراللہ کا کلمہ اور ترکیب ۲۹۰ مرتبہ آئی ہے۔ ان میں دو تہائی اللہ کی یاد کے لیے ہے۔ اس یاد میں تقویٰ کی کیفیت بھی ہے تو قلبی و روحانی پاکیزگی بھی۔مسنون دعائیں اور ماثورادعیہ زندگی کے تمام معاملات کے لیے بیان ہوئی ہیں۔ زندگی کا چھوٹے سے چھوٹا کام جیسے چھینک آنا، پانی پینا، کھانا کھانا، اس سے فارغ ہونا، حتیٰ کہ کپڑا پہننا، بیت الخلا میں داخل ہونا یا باہر نکلنا۔ کوئی تکلیف پہنچنا، کوئی راحت و نعمت حاصل ہونا بہرحال ذکراللہ سے خالی نہیں ہے۔ یہاںتک کہ دو افرادباہم ملیں تو سلام (ذکرودعا) سے ملیں۔
  •  نماز: نماز میں ذکر کے کئی پہلو ہیں بلکہ خود نماز کو ذکراللہ کہا گیا ہے:

اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُوا الْبَیْعَ (الجمعۃ ۶۲:۹) اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔

سلف صالحین اور شہدا و دعاۃ کی زندگیوں میں دیکھتے ہیں کہ جب وہ آزمایش میں مبتلا ہوئے تو نماز کی طرف سبقت کی۔ قرآن مجید نے فرمایا: وَاسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ (البقرۃ ۲:۴۵ و۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد لو اور تقویت حاصل کرو‘‘۔

نماز کے کئی اہم پہلو ہیں جیسے دلی اطمینان حاصل ہونا، اجروثواب کا ملنا، برائیوں سے بچنا، شیطان اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ رہنا، دنیا اور آخرت کے خسارے سے بچنا اور اِبتلا سے بخیروخوبی گزر جانا، نیز نماز باجماعت اور نظامِ صلوٰۃ کی اپنی اہمیت ہے۔

بندہ جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کا براہِ راست اللہ سے تعلق جڑ جاتا ہے اور درمیان سے سب واسطے ہٹ جاتے ہیں۔ اسی لیے نماز کو مومن کی معراج کہا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بندہ جب سجدے میں ہوتا ہے تو اللہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

  •  تھجد: داعی اور مومن کامل کے لیے تہجد ضروری ہے۔ تہجد اللہ کا قرب حاصل کرنے، اللہ سے استعانت اور اس کی یاد کا بہترین طریقہ ہے، لہٰذا داعی حضرات اور آزمایش میں مبتلا شخص کے لیے اس کی ادایگی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نمازِ تہجد کو قیامُ اللیلقرار دیا ہے جس سے مراد سجدوں اور رکوعوں میں رات گزارنا، اللہ تعالیٰ سے گِڑگڑا کر دعائیں مانگنا اور اپنے کام میں تقویت حاصل کرنا ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے مطالعہ کریں: بنی اسرائیل ۱۷:۷۹، المزمل ۷۳: ۲-۲۰، الفرقان ۴۰: ۶۴، الدھر ۷۶:۲۶، السجدہ ۳۲:۱۶، آل عمران ۳:۱۹۱، النساء ۴:۱۰۳)
  •  تلاوت قرآن مجید: تعلق باللہ کا ایک مضبوط ذریعہ کتاب اللہ کی تلاوت ہے۔ ارشاد باری ہے: وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا (اٰل عمرٰن ۳:۱۰۳) ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو‘‘۔ ایک روایت میں حبل اللہ قرآن مجید کو کہا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: ’’قرآن اللہ کی مضبوط رسی اور اس کی سیدھی راہ ہے‘‘۔ (ابن کثیر، ج ۱، ص۳۸۸)

تلاوت کا لطف اور مزہ اس وقت حاصل ہوگا جب خوش الحانی، یک سوئی اور تفکر وتدبر کے ساتھ تلاوت کی جائے۔ اس قسم کی تلاوت سے وقتی طور پر دکھ درد دُور ہوجاتے ہیں اور آدمی اپنے آپ کو راحت میں محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا صبح و شام اور سفروحضر میں تلاوت کا اہتمام ہونا چاہیے۔

مکہ مکرمہ کے ابتدائی دور میں اور مشکل اوقات میں صحابہ کرامؓ تلاوت کرتے تھے اور  کتاب اللہ کی تلاوت سے قوت اور سہارا لیتے تھے۔ حضرت جعفرؓ سے جب شاہِ حبشہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے قرآن مجید کی سورئہ تحریم کی تلاوت کی۔ اس سے ایک طرف ان کو اطمینان ہوا تو دوسری طرف یہ تلاوت ان کے لیے حق گوئی، بے باکی اور اِبتلا سے نکلنے کا ذریعہ بن گئی۔اس طرح تلاوت میں ضروری آداب کا ملحوظ رکھنا، صحیح تلفظ سے ادایگی، اس کے معنی اور مفہوم پر نظر رکھنا اور اس میں غورکرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید کی تلاوت کی برکات اور فائدے حاصل کرنے کے لیے یہ دعا سکھائی گئی:

اَللّٰھُمَّ اجْعَلِ القُراٰنَ رَبِیحَ قُلُوبِنَا وَنُورَ صُدُورِنَا وَذَھَابَ ھُمُومِنَا وَجِلَائَ اَحْزَانِنَا، یااللہ! قرآن کو ہمارے دلوں کی بہار بنا دے، ہمارے سینوں کا نور بنا دے، ہمارے خوف کے دفع کرنے اور ہمارے غم کا مداوا بنادے۔

انبیا کی سیرت و کردار کا مطالعہ

اِبتلا میں عام طور پر سابقہ انبیا کی سیرت کا پڑھنا، اس میں غوروفکر کرنا،ان کی اِبتلا و آزمایش کا گہرا مطالعہ کرنا اور انھوںنے جس طرح ثابت قدمی دکھائی، اسے سامنے رکھنا اور ان کے اسوہ سے تقویت حاصل کرنا اور خود کو اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ انبیاے کرام کی سیرت میں صبر وثبات اور ثابت قدمی کے بے شمار نمونے سامنے آتے ہیں۔ عقیدت اور یقین سے ان کی سیرت کا مطالعہ کیا جائے تو انسان کو بڑی تقویت حاصل ہوتی ہے۔

سیرتِ مصطفٰیؐ سے رھنمائی

اِبتلا وآزمایش میں گرفتار شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، سنت اور احادیث کا مطالعہ کرے تو قدم قدم پر آپؐ کی اِبتلاوآزمایش کے نمونے سامنے آئیں گے۔ دورِ طفولیت سے لے کر اس دنیا سے آپؐ کے تشریف لے جانے تک قدم قدم پر آپؐ کو مختلف آزمایشوں سے واسطہ پیش آیا ہے۔ ذہنی، جسمانی، مالی و معاشرتی اور تمدنی معاملات میں آپؐ کو تکالیف پہنچائی گئیں۔ آپؐ کے پیارے ساتھیوں کو بے حد ستایا گیا۔ لہٰذا آپؐ کے امتیوں اور پیروکاروں کو آپؐ کے اسوئہ حسنہ سے تقویت و اہمیت حاصل کرنی چاہیے۔ آپؐ کے ان فرمودات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے جن میں ایک طرف سابقہ اُمم کے واقعات بتاکر ان کی ثابت قدمی اور صبر کی کیفیت بیان کر کے مثالیں دی گئی ہیں اور ساتھ ہی اِبتلا میں ثابت قدم رہنے کا اجروثواب بیان اور آخرت کی کامیابی کا مژدہ سنایا گیا ہے۔ یہ بھی تقویت کا ذریعہ ہیں۔

اجتماعیت سے جڑنا اور صالحین سے تعلق

اسلام کا مجموعی مزاج اور نظام اجتماعی ہے۔ اس میں انفرادیت اور انفرادی زندگی کا بہت کم حصہ ہے۔ لہٰذا مومن کو عام حالات میں بھی تنہائی سے بچنا چاہیے بلکہ اجتماعیت اختیار کرلینی چاہیے۔ ارشاد باری ہے: ’’تم میںایک اُمت ایسی ہونی چاہیے جو نیکی کی طرف بلائے جو معروف (بھلائی) کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہی لوگ کامیاب ہیں‘‘ (اٰل عمرٰن۳:۱۱۴)۔ مزید فرمایا: ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو‘‘۔ (التوبۃ ۹:۱۱۹)

اجتماعیت سے جڑنے سے، اور اجتماعیت بھی ایسی جو پورے دین پر عمل کرنے اور اسے نافذ کرنے کا کام کرتی ہو، آدمی سنبھل جاتا ہے، اسے سہارا ملتا ہے، تقویت پہنچتی ہے اور یہ ہمت افزائی کا سبب بن جاتی ہے اور اسے اِبتلا سے نکال لیتی ہے۔

اِبتلا کے دنوں میں صالحین سے تعلق مضبوط کرنا، اجتماعیت کے ذمہ داروں سے مزید قریب ہونا، ان سے اپنے حالات بیان کرنا، اپنی مشکلات اور مصائب کا اظہار کرنا، اپنے نفس کی حالت بتانا، ان سے رہنمائی اور مشورہ لینا چاہیے،اور وقتاً فوقتاً ان سے ملنا چاہیے۔ اگرنفس میں غرور و تکبر ہے یا غلط اوہام ہیں یا قوتِ فیصلہ کام نہیں کر رہی توان کا علاج معلوم کرنا چاہیے۔

ایک روایت ہے کہ آدم علیہ السلام نے کہا کہ اگر میں فرشتوں سے مشورہ کرتا تو نقصان نہ اٹھاتا‘‘۔ (شرح اربعین نووی ابن رجب حنبلی)۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: فَسْئَلُوْٓا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَo (النحل ۱۶:۴۳، الانبیا ۲۱:۷) ’’اہلِ علم سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے‘‘۔ لہٰذا اہلِ علم و دانش اور اس راہ کے راہی، داعیوں اور مبلّغوں سے مشاورت کرنا فائدہ مند ہے۔ مشورہ اور خیر میںکئی پہلو ہیں، اس لیے مومن کو چاہیے کہ اچھے، نیک، باکردار لوگوں سے ہراہم معاملے میں مشورہ لیتا رہے اور اسے اپنا طریقہ و وتیرہ بنا لے۔ عام طور پر اِبتلا میں لوگ اس کے مختلف پہلوؤں اور گوشوں میں کھو جاتے ہیں اور اس سے نکل نہیں پاتے بلکہ نااہل اور نابلد لوگوں سے مشورہ کرنے کی وجہ سے مزید اُلجھ جاتے ہیں اور الجھے رہتے ہیں۔

دعوت کا کام

اِبتلا وآزمایش میں مومن کو چاہیے کہ دعوتی تحریکوں اور تنظیموں سے مل کر دعوتی اور اصلاحی کام کرے۔ خاص طور پر جماعت اسلامی سے مضبوطی و دل جمعی سے وابستہ ہوکر اعلاے کلمۃ اللہ اور اقامت ِدین کی کوشش کرے۔ اسی طرح دوسری دعوتی تنظیموں سے بھی حسب حال جڑا جاسکتاہے۔

جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کے پاس زمانۂ حال میں رہنمائی کرنے والا وسیع لٹریچر موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزاے خیر دے کہ انھوں نے اسلام کے تمام انفرادی اور اجتماعی کاموں پر روشنی ڈالی ہے اور ہر زاویے سے اسلام کی نمایندگی اور وضاحت کی ہے۔  جماعت اسلامی کے شائع کردہ لٹریچر میں مولانا مودودیؒ کا وسیع لٹریچر اتنا جامع، مکمل اور دین کا احاطہ کیے ہوئے ہے کہ اگر درسِ نظامی کا ایک فارغ التحصیل عالم مطالعہ کرے تو وہ جدید علوم سے روشناس ہوجاتا ہے اور موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھ کر دین کے کام کا واضح لائحہ عمل پاتا ہے،  جب کہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کو دین کا فہم نصیب ہوتا ہے اور عمل کی ترغیب ملتی ہے۔

دعوتی کام کرنے سے دینی احکام کی عملی تعلیم حاصل ہوتی ہے اور انسان عملی طور پر دینی احکام کا عادی بن جاتا ہے۔ اسی لیے طبیعت میں دین رچ بس جاتا ہے۔ دعوتی کام میں کسی جماعت کے ساتھ ہونے سے ہم خیال اور ایک راہ کے راہی لوگوں سے جڑ جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کا سہارا بن جاتے ہیں۔ اگر ایک گر رہا ہے تو دوسرے اسے سنبھالنے کے لیے آگے   آتے ہیں۔ پھر معاشرتی، معاشی، اخلاقی لحاظ سے ایک دوسرے کے لیے معاون بن جاتے ہیں اور تنگی ترشی میں ایک دوسرے کو سہارا دیتے ہیں۔ اس طرح ایک کفالتی (مالی تعاون کا) نظام بن جاتا ہے۔ دنیا میں بہت ساری مثالیں ہیں۔ تازہ دور کی ایک مثال فلسطین کی سب سے بڑی جماعت حماس ہے جس نے لاکھوں مصیبت زدہ اور جنگ کے مارے ہوئے، لٹے پٹے خاندانوں کی ایک عرصے تک کفالت کرکے مدینہ کی مواخات کا سبق عملاً دہرایا۔

صبراختیار کرنا

صبر اِبتلا میں سے نکلنے کے لیے ایک اہم عنصر ہے۔ کتاب اللہ میں اِبتلا کا واقعہ بیان کرنے کے بعد عام طور پر صبر کا تذکرہ ہے۔ سورئہ بقرہ کی آیت ۱۵۷ میں ہے: وبشرالصابرین اور صبر کرنے والوں کو بشارت دے دیجیے۔ (مزید دیکھیے: سورہ محمد ۴۷:۳۱، البقرہ ۲: ۱۷۲-۲۴۹،اٰل عمرٰن ۳:۱۶-۱۷، ھود۱۱:۴۹، الصافات ۳۷:۱۰۳۔ الاحقاف ۴۶:۳۵،  الفرقان ۲۵:۴۲، الانعام ۶:۳۴، الکھف ۱۸:۲۸)

صبر کرنے سے بے قراری ختم ہوجاتی ہے۔ مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں اور برداشت کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور ضبطِ نفس کی صفت سے بندہ متصف ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کا کلمہ ۹۲ مرتبہ آیا ہے اور ان میں سے اکثر اِبتلا میں صبر کرنے کے لیے ہے۔

دعا کا ھتہیار

اِبتلا و آزمایش سے کامیابی کے ساتھ نکلنے کا ایک بڑا وسیلہ دعا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دعا مومن کا ہتھیار، دین کا ستون اور زمین و آسمان کا نور ہے‘‘(مشکوٰۃ)۔ دعا تعلق باللہ کا بڑا ذریعہ، دلی تسلی کا مضبوط وسیلہ، اجروثواب کا باعث، شیطان کے وسوسوںسے بچنے کا بہترین عمل اور دنیا وآخرت کے خسارے سے محفوظ رکھنے کا سبب ہے، لہٰذا مومن کو اِبتلا میں خاص طورپر اورعام حالات میں بھی دعا کی کثرت رکھنی چاہیے کیونکہ مومن کی دعا کبھی بے کار نہیں جاتی بلکہ اپنے اثرات دکھاتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو بندہ بروقت، ہر جگہ اور ہر حالت میں کرسکتا ہے۔

علما و شھدا کو نمونہ بنانا

علما، شہدا، صالحین کی سیرت کو نمونہ بنانا چاہیے۔ اِبتلا میں گھرے ہوئے مومن کو چاہیے کہ سلف صالحین کی سیرت کا مطالعہ جاری رکھے اور ان سے تقویت حاصل کرے۔ ان کی سیرتوں میں سیکڑوں ہزاروں ایسے نمونے موجود ہیں جس سے اِبتلا میں رہنمائی ملتی ہے۔ ان نمونوں میں ان لوگوں کا اِبتلا میں صبروثبات، حق گوئی، تعلق باللہ نمایاں ہے۔ اس لیے اِبتلا میں گھرے ہوئے شخص کو ان کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنا چاہیے۔

دعوت دین میں مصروف و مشغول لوگوں کو ان لاکھوں کروڑوں لوگوں کی غائبانہ دعائیں پہنچتی رہتی ہیں، نیز ان ساتھیوں کی طرف سے دعائیں ہوتی ہیں۔ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ان کی دعائیں ان کو گھیر لیتی ہیں۔ بہرحال اِبتلا وآزمایش کے وقت انسان بہت ساری برائیوں سے بچ جاتا ہے اور شیطان کے وسوسوں اور شرارتوں سے محفوظ رہتا ہے۔

اس دور میں مسلم اُمہ پر اجتماعی طور پر اور دعوت کا کام کرنے والوں پر خاص طور پر بڑی اِبتلائیں اور آزمایشیں آئی ہیں۔ اس طرح انفرادی طور پر بھی کافی لوگ اس سے گزرے ہیں۔ ان میں مصر کے علما و دعاۃ اور صلحا گرفتار ہوئے، نیز شام، ترکی، سوڈان اور دیگر ممالک سے وابستہ افراد کی طویل فہرست ہے۔ ان کے ہراول دستے میں محمد بن عبدالوہاب، سید محمد احمد مصری سوڈانی، سیدجمال الدین افغانی، امام محمد عبدہٗ، رشید رضا مصری، امام حسن البنا شہید، سید ابوالاعلیٰ مودودی، مولانا محمودحسن، مولانا محمدقاسم نانوتوی، فقیرایپی، مُلّا شوربازار، مولانا تاج محمودامروٹی، سیدقطب شہید، عبدالقادر عودہ شہید شامل ہیں، جنھوں نے تمام تر خطرات و مشکلات کو انگیز کر کے اُمت کو روشن شاہراہ دی اور بہت بڑا علمی ذخیرہ چھوڑا۔ کچھ لوگ گھر سے بے گھر، وطن سے بے وطن اور بے بسی کی حالت میں ہجرت کر کے نکلے لیکن دین کے کام میں آخر دم تک مصروف رہے۔ ان کی فہرست تو بہت طویل ہے البتہ کچھ کا تذکرہ کیا جاتا ہے جیسے محمد غزالی، زینب الغزالی، عبدالبدیع صقر، محمد علی صابونی، ڈاکٹر یوسف قرضاوی، استاد عبداللہ العلوان، سعید رمضان، ڈاکٹر مصطفی السباعی، عبدالرحمن عزام، حسن الہضیبی، السید سابق، فواد سرگیں، عبدالوہاب خلاف، ڈاکٹر نبیل الطویل اور ڈاکٹر عبداللہ عزام شہید وغیرہ۔ یہ چند نام تو ان حضرات کے ہیں جنھوں نے زبان و قلم، علم وعمل سے جہاد کیا لیکن جنھوں نے اپنے مال ودولت اور جسم و جان سے اس راہ میں قربانیاں دیں وہ تو اَن گنت ہیں، ایک طویل فہرست ہے۔ اس دور میں عزیمت اور ثابت قدمی کی مثالیں افغانستان میں بگرام اور قندھار کی جیلیں، عراق کی ابوغریب اور گوانتاناموبے کے قیدیوں اور بہن عافیہ صدیقی کی ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جو نشانِ راہ اور روشنی کے مینار ہیں۔

ایسے ہی لوگ اس آیت کے مصداق بنتے ہیں اور اس زمرے میں شامل ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاھَدُوا اللّٰہَ عَلَیْہِ فَمِنْھُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاo (الاحزاب ۳۳:۲۳) ’مومنوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنے دل و جان سے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی سے اصلاحِ حال کے لیے مصروف ہیں۔ فرمایا: وَ الَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت ۲۹:۶۹) ’’جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ان کو ہم اپنی راہوں کی ضرور ہدایت دیتے ہیں‘‘۔

الغرض اِبتلا و آزمایش مومن کے لیے ایک لازمی منزل ہے، لہٰذا اسے پہچاننا، اس کا احساس و شعور رکھنا، اس میں ثابت قدم رہنا، اس سے صحیح طور پر نکلنے کے لیے جدوجہد کرنا اور روحانی و مادی وسائل ڈھونڈنا مومن کا وتیرہ ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائیں۔ آمین!

 

دین اسلام کی اہم اساسی اصطلاحات میں سے ایک بڑی اصطلاح اِبتلا ہے۔ انسانی زندگی میں، چاہے وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، اِبتلا کا واقع ہونا ضروری ہے۔ یہ فطرۃ اللہ ہے، یہ سنت اللہ ہے۔ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر انسان کی آزمایش کرکے اسے لوگوں کے سامنے نمایاں کرتا ہے۔ اس سے انبیا، صلحا، شہدا اور اولیاء اللہ، مسلم اور غیرمسلم سب کو واسطہ پیش آتا ہے اور ہرانسان کو اس سے گزرنا ہوتا ہے۔ جب انسان کو موت اور حیات سے سابقہ پیش آتا ہے تو اسے اس منزل سے گزرنا بھی لازمی ہے۔ ارشار باری تعالیٰ: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط وَّھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ o (الملک ۶۷:۲) ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی‘‘۔

باری تعالیٰ نے عمومی اِبتلا کا بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّھَالِنَبْلُوَھُمْ اَیُّھُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاo (الکھف ۱۸:۷) ’’واقعہ یہ ہے کہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے، اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ان لوگوں کو آزمائیں، ان میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے‘‘۔

ان دونوں آیات کا روے سخن تمام انسانوں کی طرف ہے۔ گویا یہ سروسامان جو زمین کی سطح پر تم دیکھتے ہو اور جس کی دلفریبیوں اور رنگینیوں پر تم فریفتہ ہو ایک عارضی زینت ہے جو محض تمھیں آزمایش میں ڈالنے کے لیے مہیا کی گئی ہے لیکن تم اس غلط فہمی میں مبتلا ہوکہ یہ سب کچھ ہم نے تمھارے عیش و عشرت کے لیے فراہم کیا ہے اس لیے تم زندگی کے مزے لوٹنے کے سوا اور کسی مقصد کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سامان عیش نہیں،بلکہ وسائلِ امتحان ہیں۔ تمھیں یہ بتایا جا رہا ہے کہ جس انسان نے زندگی دیکھی ہے وہ لازماً موت بھی دیکھے گا اور اسے دنیا کی زندگی میں اِبتلا و آزمایش اور امتحان سے گزرنا ہوگا۔

مفھوم

اِبتلا کا مادہ ب ل و ہے۔ اس کا مصدر بلاء ہے۔ قرآن مجید میں اس مصدر اور جڑ سے کل ۳۷ کلمات آئے ہیں۔ یہ کلمہ دو ابواب سے آیا ہے: باب بَلٰی یَبْلُوْ بلائً (ن) اِبتَلی یَبْتَلِیْ اِبْتِلَائً سے مختلف افعال اور اسماء کی صورت میں آیا۔ یہی بَلٰی یَبْلُوْ بَلَاء فعل متعدی ہے اور اِبْتَلٰی یَبْتَلِیْ اِبْتِلَائً سے فعل لازم اور متعدی دونوں ہیں جس کے معنی ہیں: آزمانا، تجربہ کرنا اور امتحان لینا۔ یہی معنی بلاء اور اِبتلا کے اصطلاحی بھی ہیں۔ انسان کے مقصدِحیات کے بارے میں آزمایش کرنا اور امتحان لینا۔ اس کلمے کے دو اور مترادف کلمے قرآن مجید میں بیان ہوئے ہیں: فِتنَۃ، فَتَنَ، یَفْتِن اور اِمتحان کا کلمہ ہے ان تینوں کے معنی بظاہر تو ایک دوسرے سے ملتے ہیں لیکن معنی میں گہرائی کے لحاظ سے تھوڑا سا فرق ہے۔

۱- اِمتَحَن، اِمْتِحَان ایسی آزمایش کو کہتے ہیں جس میں سختی کے بجاے نرمی کی جائے اور اس میں کشایش کا پہلو بھی شامل ہو۔ (ملاحظہ کریں سورۃ الممتحنہ ۶۰:۱۰)

۲- بَلٰی یَبْلُوْبَلَائً ایسی آزمایش جس میں سختی اور نرمی دونوں پائی جائیں۔ یہ آزمایش خیروشر، نرمی و سختی دونوں صورتوں میں ہوسکتی ہے جیسے ارشاد ہے: بَلَوْنَاھُمْ بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّاٰتِ لَعَلََّھُمْ یَرْجِعُوْنَ o (الاعراف ۷:۱۶۸) ’’اور ہم ان کو اچھے اور بُرے حالات سے آزمایش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں‘‘۔

چونکہ آزمایش عموماً تکلیف دہ ہوتی ہے اس لیے تکلیف اور شر کا پہلو غالب ہوتا ہے، تاہم دونوں طرح سے ہوسکتی ہے۔ پھر ایک لطیف فرق یہ بھی کیا گیا ہے کہ یہ اِبتلا عموماً ایسے اتفاقی حادثے سے ہوتی ہے جو لوگوں کو دکھائی دیتا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت لیں جیسے: وَ اِذِ ابْتَلٰٓی اِبْرٰھٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ… (تفصیل آگے آرہی ہے)

۳- فَتَنَ، فِتْنَۃ میں اِبتلا کی طرح نرمی اور سختی پائی جاتی ہے، تاہم اس میں سختی زیادہ ہوتی ہے۔

حاصل یہ کہ اِبتلا انسان کی ذاتی برائی، خباثت اور غلطی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ عام طرح حادثے کے طور آتی ہے۔ (مترادفات القرآن عبدالرحمن کیلانی ’آزمایش‘)

احادیث کی روشنی میں

احادیث مبارکہ اور سنت مطہرہ میں اِبتلا کا کلمہ متعدد مرتبہ آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی چھوٹی باتوں اور چیزوں سے لے کر بڑے معاملات تک میں آزمایش ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں صرف تین حدیثیں بیان کی جاتی ہیں۔

  •  حضرت مصعب بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش انبیا کی ہوتی ہے۔ پھر ان جیسے لوگوں کی، پھر ان (دوسرے درجے والے) جیسے لوگوں کی ہوتی ہے۔ (المستدرک للحاکم، جامع الترمذی، الزھد، نمبر ۴۳۹۸)
  •  حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے بیان کیا کہ میں نے سوال پوچھا: یارسولؐ اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش کس کی ہوتی ہے؟ آپؐ  نے فرمایا: انبیا کی، پھر ان جیسے (عمل و ایمان میں) لوگوں کی پھر ان جیسے لوگوں کی۔ بندے کی آزمایش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر اگر ان کے دین میں پختگی اورسختی ہوگی تو آزمایش بھی سخت ہوگی اور اگر اُن کے دین میں نرمی (ڈھیل) ہوگی تو اسے اس کے دین کے مطابق آزمایا جائے گا۔ (دنیا میں) بندے کی مسلسل آزمایش ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس حال میں زمین پر چلتا ہے کہ اس پر کوئی خطا نہیں رہتی یعنی گناہوں سے پاک ہوجاتا ہے۔ (بخاری، باب الفتن ۴۰۲۳، ابن ماجہ ، باب الفتن ۴۰۲۳)
  •  تیسری روایت جسے ابوسعید خدریؓ نے بیان کیا یہ ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا تو آپؐ بخار میں مبتلا تھے۔ میں نے آپؐ  پر اپنا ہاتھ رکھا تو اپنے ہاتھوں میں لحاف کے اُوپر سے گرمی محسوس کی۔ میں نے عرض کیا: یہ بخار آپؐ  پر کتنا سخت ہے۔ آپؐ  نے فرمایا: ہمارے لیے آزمایش دگنی ہے تو اجر بھی دگنا ہے۔ میں نے عرض کیا: یارسولؐ اللہ! لوگوں میں سب سے زیادہ آزمایش میں کون ہے؟ آپؐ  نے فرمایا: انبیا۔ میں نے عرض کیا: پھر کون ہیں؟ آپؐ  نے فرمایا: صالح لوگ، ان میں سے کوئی ایک فقرو تنگی میں مبتلا ہوتا ہے یہاں تک کہ مصیبت میں گھرنے کی وجہ سے اس کے پاس سواے ایک کمبل کے کچھ نہیں باقی رہتا۔ لیکن وہ مصیبت میں مبتلا ہوکر ایسے خوش ہوتا ہے جیسے تم لوگ فراخی پر خوش ہوتے ہو۔ (جامع الترمذی، ۲۳۹۸)

ان آیات اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہربندے کو کسی نہ کسی طرح آزمایا جاتا ہے۔ البتہ اس آزمایش کا احساس کرنا، اس میں ثابت قدم رہنا، آزمایش میں پورا اُترنا اور اس سے پار ہوجانا مومن کو نصیب ہوتا ہے۔

آزمایش کی مختلف نوعیتیں

قرآن مجید میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِبتلا کے مختلف پہلو اور نوعیتیں بیان کی ہیں۔ یہاں ان کا ایک مختصر مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔

  •  مسلم و کافر کے لیے آزمایش کا لازم ھونا: قرآن مجید کی متعدد آیات میں وضاحت سے آیا ہے کہ انسان کو دنیا میں پیدا کرنے کا مقصد اس کا امتحان لینا ہے۔ زندگی گزارنے کی تمام صلاحیتیں اور قابلیتیں دے کر اسے دنیا میں بھیجا تاکہ وہ اپنے خالق و مالک اور رازق کو پہچانے اور اس کے احکام کو قبول کرے۔ ارشاد باری ہے: ’’جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے، تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی‘‘۔ (الملک ۶۷:۲)

سورۂ ملک کی اس آیت سے پانچ بنیادی نکات نکلتے ہیں:

ا- موت و حیات اسی کی طرف سے ہے۔ کوئی دوسرا نہ زندگی بخشنے والا ہے اور نہ موت دینے والا ہے۔

ب- انسان کی نہ زندگی بے مقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیداکیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا ہے۔

ج- اسی امتحان کی غرض سے خالق نے ہر ایک انسان کو عمل کا موقع دیا ہے تاکہ وہ دنیا میں کام کرکے اپنی اچھائی اور برائی کا اظہار کرسکے۔

د- خالق ہی دراصل اس بات کا فیصلہ کرنے والا ہے کہ کس کا عمل اچھا ہے اور کس کا برا ہے۔

ھ- جس شخص کا جیسا عمل ہوگا اسی کے مطابق اس کو جزا دی جائے گی کیونکہ اگر جزا اور سزا نہ ہو تو سرے سے امتحان لینے کے کوئی معنی ہی نہیں رہتے۔

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ ق نَّبْتَلِیْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِیْعًام بَصِیْرًا o اِنَّا ھَدَیْنٰـہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا o (الدھر ۷۶:۲-۳) ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے    ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا، ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا۔

اس آیت کریمہ میں انسان کی اور انسان کے لیے دنیا کی اصل حیثیت بتائی گئی۔ وہ درختوں اور جانوروں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا مقصد تخلیق یہیں پورا ہوجائے، نیز یہ دنیا انسان کے لیے نہ دارالعذاب ہے، نہ دارالجزا جیساکہ تناسخ کے قائلین سمجھتے ہیں اور نہ چراگاہ اور تفریح گاہ ہے جیساکہ اکثر مادہ پرست سمجھتے ہیں اور نہ رزم گاہ (میدانِ جنگ) جیساکہ ڈارون اور مارکس کے پیروکار سمجھتے ہیں، بلکہ یہ دراصل اس کے لیے ایک امتحان گاہ ہے جہاں خالق نے یہ دیکھنے کے لیے پیدا کیا ہے کہ وہ زندگی کا کون سا رویہ اختیار کرتا ہے: نیکی اور فرماں برداری کا، یا برائی اور نافرمانی کا۔ انسان کو سمیع اور بصیر بنانے کا واضح مطلب یہ ہے کہ اسے نیکی اور بدی کی حِس دی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اِبتلا و آزمایش میں پورا اُترے اور کامیاب ہو۔

سورۃ الفجر میں ارشاد ہے: ’’مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے اور اسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنادیا۔ اور جب وہ اس کو آزمایش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا‘‘۔ (الفجر ۸۹:۱۰-۱۶)

اس آیت پر غور کرنے سے عام لوگوں کا نظریہ اور دنیاوی زندگی کا تصوریہ سامنے آتا ہے کہ یہاں کی خوش حالی، مال و دولت کو عزت اور اللہ کی رضا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ فلاں پر اللہ راضی ہے اور ان چیزوں کے نہ ملنے کو یا چھن جانے کو ذلت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے یہ لوگ نہیں سمجھتے، یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمایش کے لیے دیا ہے۔ اس کی طرف سے دولت اور جاہ و اقتدار میں بھی آزمایش ہے اور مفلسی اور فقر میں بھی آزمایش ہے۔

مذکورہ بالا ان تینوں آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آزمایش ہر انسان کی ہونی ہے چاہے کوئی بھی اور کسی مذہب و ملک کا باشندہ اور ملت کا فرد ہو۔ اسے اس منزل سے گزرنا ہے۔ البتہ عام انسانوں کے لیے آزمایش اور امتحان کی نوعیت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک، رازق و رؤف، حاکم و مقتدراعلیٰ کو سمجھیں، اس پر ایمان لائیں اور اس کے پیغمبروں کو برحق جانیں۔

دوسری آزمایش اور امتحان ان لوگوں کا ہوتا ہے جو دین اسلام کو قبول کر کے اپنے آپ کو اُمت مسلمہ کا فرد اور مسلمان کہلاتے ہیں۔ ان کی آزمایش کئی نوعیت کی اور کئی طرح کی ہوتی ہے۔ بعض کی بڑی سخت اور بعض کی نرم اور وقتی ہوتی ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے چند نوعیتیں یہ ہیں:

  •  عام مسلمانوں کی آزمایش: ا-آزمایش غزوئہ خندق کے موقع پر ہوئی جب بہت سے لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوئے اور خطرناک افواہیں پھیلیں۔ قرآن مجید نے اس کیفیت کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے: ’’جب دشمن اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں، کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے‘‘۔ (الاحزاب ۳۳:۱۰)

اللہ تعالیٰ نے اس موقع کو اِبتلا و آزمایش سے بیان کیا ہے: ھُنَالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا o (الاحزاب ۳۳:۱۱) ’’اس وقت ایمان لانے والے خوب آزماے گئے اور بری طرح ہلامارے گئے‘‘۔ ایمان لانے والوں سے مراد یہاں وہ سب لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکاروں میں شامل کیا تھا، ان میں سچے اہلِ ایمان بھی شامل تھے اور منافقین بھی۔

اس اِبتلا نے سچے مسلمانوں اور منافقین کو علیحدہ کیا۔ دونوں کے کردار پر آیت ۱۲ سے  لے کر ۲۰ تک تفصیلی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اِبتلا سے کیسے پار ہو اور کتنے صبر اور عزیمت کا اظہار کیا جائے، سب اس سورت میں بیان ہوا ہے۔

ب- آزمایش پر پورا اُترنے پر مخالفین (کفار اور مشرکین) کی طرف سے طعن وتشنیع سننا اور صبر کرنا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: لَتُبْلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ قف وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَذًی کَثِیْرًا ط وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرo (اٰل عمرٰن۳:۱۸۶) ’’مسلمانو! تمھیں مال اور جان دونوں کی آزمایشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اگر ان حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو، تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے‘‘۔

جب تم آزمایش میں پورے اُترو گے تو ان سے طعن و تشنیع، ان کے الزامات اور بے ہودہ طرزِکلام اور ان کے جھوٹے پروپیگنڈے سے واسطہ پیش آئے گا۔ لہٰذا ایسی حالت میں صبر اختیار کرنا، حق و صداقت پر قائم رہنا اور وقار، تہذیب اور اخلاقِ فاضلہ کو اپنانا ہی ان کا جواب ہے۔

ج- مسلمانوں کی اِبتلا وآزمایش کا بیان اللہ تعالیٰ نے سورئہ بقرہ میں ان الفاظ میں فرمایا:

وَ لَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ َوالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ط وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَo (البقرۃ۲:۱۵۵) ہم ضرور تمھیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کر کے تمھاری آزمایش کریں گے۔ اِن حالات میں صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔

اسلام کی اس اصطلاح کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کی جو آزمایش کی جاتی ہے اور ان سے جو امتحان لیا جاتاہے وہ کئی نوع اور انداز کا ہوتا ہے۔ اس لیے مسلمان کو اس کے لیے ہر وقت تیار رہنا چاہیے، اس کا جائزہ لینا چاہیے اور سوچتے رہنا چاہیے کہ کہیں میری آزمایش تو نہیں ہو رہی ہے۔ (مزید ان آیات کا مطالعہ کریں: البقرہ ۲:۲۴۹،آل عمران ۳:۱۵۲-۱۵۴، المائدہ ۵:۴۸، الانعام ۶:۱۶۸، الانفال ۸:۱۷، النحل ۱۶:۹۲، الاحزاب ۳۳:۱۱)

  •  مومنوں میں سے منتخب لوگوں کی آزمایش: بعض اوقات مومنوں کے خاص گروہ اور جماعت کی آزمایش کی جاتی ہے تاکہ اس میں کھرے کھوٹے ظاہر ہوجائیں، لوگوں پر ایک دوسرے کا حال واضح ہوجائے اور معاملات اور برتائو میں آسانی ہوجائے۔ اس نوع کی آزمایش کی کئی مثالیں اور نمونے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائے ہیں۔

ا- وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰھِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ وَنَبْلُوَاْ اَخْبَارَکُمْo (محمد۴۷:۳۱) ہم ضرور تم لوگوں کو آزمایش میں ڈالیں گے تاکہ تمھارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں۔

جہاد کے ذریعے اور میدانِ جہاد میں آزمایش کرنا تاکہ سچے مومن اور منافق واضح ہوجائیں اور کسی کو غلط فہمی نہ رہے۔

ب- ذٰلِکَ ط وَلَوْ یَشَآئُ اللّٰہُ لاَنْتَصَرَ مِنْھُمْ وَلٰـکِنْ لِّیَبْلُوَاْ بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍط وَالَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَھُمْo (محمد۴۷:۴) یہ ہے تمھارے کرنے کا کام، اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا، مگر یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے، تاکہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے آزمائے، اور جو لوگ   اللہ کی راہ میںمارے جائیں، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔

اللہ کے پیش نظر یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو حق پرست ہوں وہ باطل پرستوں سے  ٹکرا جائیں اور ان کے مقابلے میں جہاد کریں تاکہ جس کے اندر جو کچھ اوصاف ہیں وہ اس امتحان سے نکھر کر پوری طرح نمایاں ہوجائیں اور ہر ایک اپنے کردار کے لحاظ سے جس مقام اور مرتبے کا مستحق ہے وہ اسے دیا جائے۔

  •  بعض کو بعض پر فضیلت دے کر آزمانا: دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض لوگوں کو دوسرے بعض پر مال، مرتبے، عہدے اور دیگر وسائل میں جو فضیلت دی اس کی ایک وجہ آزمایش ہے۔ فرمایا: وَ ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَآ اٰتٰکُمْ ط اِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِصلے وَاِنَّہٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌo (الانعام ۶:۱۶۵) ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمھاری آزمایش کرے۔ بے شک تمھارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔

اس آیت میں تین حقیقتیں بیان ہوئی ہیں: ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا، یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی ملکیت میں سے بہت سی چیزیں ان کی امانت میں دیں، ان میں تصرف کرنے کا اختیار دیا۔

دوم یہ کہ ان خلیفوں میں مرتبوں کا فرق بھی اللہ نے ہی رکھا ہے۔ کسی کی امانت کا دائرہ وسیع ہے اور کسی کا محدود،کسی کو زیادہ چیزوں پر تصرف کرنے کے اختیارات دیے اور کسی کو کم چیزوں پر، کسی کو زیادہ قوت کار دی اور کسی کو کم اور بعض انسان بھی بعض انسانوں کی امانت میں ہیں۔

سوم یہ کہ یہ سب کچھ دراصل امتحان کا سامان ہے۔ پوری زندگی ایک امتحان گاہ ہے اور جس کو جو کچھ بھی اللہ نے دیا ہے اس میں اس کا امتحان ہے کہ کس طرح اللہ کی امانت میں تصرف کیا، کہاں تک امانت کی ذمہ داری کو سمجھا اور اس کا حق ادا کیا اور کس حد تک اپنی قابلیت اور ناقابلیت کا ثبوت دیا۔ اسی آزمایش اور امتحان کے نتیجے پر زندگی کے دوسرے مرحلے میں انسان کے درجے کا تعین منحصر ہے۔

  •  مسلمانوں کے خاص گروہ کی آزمایش: بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی گروہ کو کسی بڑے کام کے لیے منتخب کرنے سے پہلے چھوٹا سا حکم دے کر آزماتا ہے تاکہ بڑے کام اور مہم کے لیے پختہ افراد کو میدان میں لایا جائے۔ کسی ایک چھوٹے سے واقعے سے آزماتا ہے اور اس میں جو پختہ رہتے ہیں اور ثابت قدمی دکھاتے ہیں انھیں منتخب کرلیتا ہے۔ ایسا ہی ایک موقع طالوت کے لشکر کے ساتھ پیش آیا۔ اس کا بیان قرآن میں اس طرح ہے: ’’پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اس نے کہا: ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمھاری آزمایش ہونے والی ہے۔ جو اس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں ہے۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چلّو کوئی پی لے تو پی لے‘‘۔ مگر ایک قلیل گروہ کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے۔ پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انھوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے، انھوں نے کہا: ’’بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے‘‘۔ (البقرۃ ۲:۲۴۹)

طالوت کو بنی اسرائیل کی اخلاقی حالت معلوم تھی، اس لیے کارآمد اور ناکارہ لوگوں کو چھانٹنے کے لیے آزمایش کا یہ طریقہ تجویز کیا اور اس سے کھرے کھوٹے لوگ علیحدہ ہوگئے۔ میرے نزدیک اگر دینی، دعوتی اور جہادی جماعتوں کے سربراہ آزمایش کا ایسا ہلکا طریقہ تجویز کریں اور کام میں لائیں تو گنجایش نظر آتی ہے۔

مسلمانوں کے گروہوں اور طبقات کی آزمایش کا تذکرہ قرآن مجید میں کافی مقامات پر آیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف اشیا اور معاملات سے آزمایش کی ہے۔ ان میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے اور سابقہ اُمتوں کے واقعات ہیں۔ آپؐ سے پہلے واقعات میں اصحاب الجنۃ (باغ والے) (القلم ۶۸:۱۷)، اصحاب السبت، مختلف انبیاے کرام اور ان کے ساتھیوں کی آزمایش (البقرۃ ۲:۲۱۴)، ایوب علیہ السلام کی آزمایش (الانبیاء ۲۱:۸۳-۸۴)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے واقعات میں غزوئہ حنین (التوبۃ ۹:۲۰، المائدہ ۵:۹۴)،    غزوئہ بدر، غزوئہ اُحد، غزوئہ تبوک (التوبۃ ۹:۱۱۸)، جب کہ دنیا کی خوش حالی و فراوانی سے آزمایش۔ (الکھف ۱۸:۷)

  •   انبیاے کرام کی اِبتلا و آزمایش: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمایش کو قرآن مجید نے اس طرح بیان کیا ہے: ’’یاد کرو کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اُتر گیا، تو اس نے کہا: ’’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں‘‘۔ ابراہیم ؑنے عرض کیا: ’’اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے‘‘۔ (البقرۃ ۲:۱۲۳)

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ابوالانبیا اور خلیل اللہ کی ایسی سخت آزمایش کی جیسی شاید ہی کسی نبی سے لی گئی ہو۔ انسانی زندگی میں جتنی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جن سے وہ پیار کرتا ہے، محبت رکھتا ہے، وہ ساری ان کو حاصل تھیں اور اللہ کے بندے نے وہ سب قربان کردیں اور امتحان میں پورا اُترا۔ ابن کثیر کی روایت اور تفسیرتفہیم القرآن کے مطابق انھوں نے جن بڑے احکام کی تکمیل کی اور امتحان میں پورے اُترے وہ یہ ہیں: اللہ کی طرف سے حکم ہونے پر اپنی قوم سے جدا ہوجانا اور ان کو چھوڑ دینا، باوجود جان کے خطرے اور قتل ہونے کے ڈر کے ہوتے ہوئے نمرود کے روبرو جاکر توحید کی دعوت دینا اور اس سے حجت بازی کرنا، آگ کے الائو میں بے خطر کود جانا اور صبر کا مظاہرہ کرنا، ہجرت کا حکم ملنے پر اپنے وطن سے ہجرت کرنا، مہمان نوازی کرنا اور اپنے بیٹے کو اشارہ ملنے پر ذبح کرنا۔ ان آزمایشوں کے علاوہ انھوں نے کئی ایک بڑی قربانیاں دیں جیسے بیوی اور چھوٹے بیٹے کو عرب کے بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ دینا، اپنے خاندان کی دھن دولت کو چھوڑ دینا، روشن مستقبل اور خاندانی جاہ و جلال کو چھوڑ دینا۔

قرآن مجید میں حضرت ایوب علیہ السلام کا آزمایشی تذکرہ آیا ہے اور یہی (ہوش مندی اور حلم و علم کی نعمت) ہم نے ایوب کو دی تھی۔ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے رب کو پکارا کہ ’’مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے‘‘۔ ہم نے اس کی دعا قبول کی اور جو تکلیف اسے دی تھی اس کو دُور کردیا، اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے اپنی رحمتِ خاص کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے‘‘۔ (الانبیا ۲۱:۸۳-۸۴)

قرآن مجید میں اسی طرح دیگر انبیاے کرام کی آزمایش کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے جیسے حضرت دائود علیہ السلام، ملاحظہ کریں۔ سورہ صٓ ۳۸:۷۱تا۳۰، الانبیا ۲۱:۷۸، سورۂ نمل اور سورئہ سبا۔ حضرت سلیمان ؑ ،سبا ۳۴:، صٓ ۳۸:۳۴

  •  آزمایش کا لازمی ھونا اور مسلمان: قرآن مجید، احادیث اور صلحا کی سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمایش ہر انسان کی ہوتی ہے۔ مسلمان کی آزمایش تو ہروقت اور ہرحالت میں ہوتی ہے۔ قدم قدم پر اس سے مومن کا واسطہ رہتا ہے۔ ایک تاجر جب دکان پر جاکر بیٹھتا ہے تو اس کی کئی طرح سے آزمایش ہوتی رہتی ہے۔ وہ جب کسی کو چیز دیتا ہے تو صحیح تول کردیتا ہے تو یہ ناپ تول کی آزمایش پر پورا اُترا ہے۔ جب مسلم جج عدالت میں جاکربیٹھتا ہے تو مسلم کی حیثیت سے اس کی آزمایش ہورہی ہے۔ اگر انصاف کا مظاہرہ کرتا ہے، صحیح فیصلے کرتا ہے تو کامیاب ہے، ورنہ ناکام ہے۔ اس کے سامنے کوئی رشوت کی رقم رکھتا ہے تو اس کی آزمایش ہو رہی ہے اور اس کے فیصلے پر اسے کامیاب یا ناکام کہیں گے۔ غرضیکہ بہت سے واقعات اِبتلا میں قائم رہنے، اس سے احسن طریقے سے نکلنے کے ہیں۔ ان واقعات کا گہرائی سے مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ (جاری)