محمد اشرف


پاکستان کے کسی شہرکا کوئی بھی اخبار ہاتھ میں لیں‘ جرائم کی خبریں نظریں کھینچ لیتی ہیں۔ نت نئے جرائم‘ خصوصاً جنسی جرائم‘ اور وہ بھی بچوں کے خلاف ___اعداد و شمار جمع کرنے والے بالکل ناقابلِ یقین اعداد و شمار پیش کرتے ہیں۔ یہ کہانی صرف پاکستانی معاشرے کی نہیں‘ تیونس کے بارے میں المجتمع، کویت (۲۱ مئی ۲۰۰۵ئ) نے ایک رپورٹ شائع کی ہے کہ وہاں بھی حالات اچھے نہیں۔ والدین اخبارات میں شائع ہونے والی معصوم بچوں کی جرائم سے متعلق تصویریں اور خبریں دیکھ کر پریشان رہ جاتے ہیں کہ ان کے اپنے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا!

تقریباً تین سال قبل ایک لوک ورثہ فن کار کا ایک معصوم بچہ وحشیانہ جنسی تشدد کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہ واقعہ مقامی ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیوں کا موضوع بنا رہا۔ اس فن کار کے ایک دوست نے اپنے بچے کو گھر تک چھوڑنے کے لیے کہاتھا مگر اس شقی القلب انسان نے اس بچے سے اپنی جنسی خواہش زبردستی پوری کی اور بعدازاں بھید کھلنے کے خوف سے اسے موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ کچھ عرصے بعد ایک نوجوان بچی کو اسکول سے واپسی پر راستے میں اغوا کرلیا گیا اور    بے حرمتی کرنے کے بعد اسے مار ڈالا گیا اور اس کی لاش کو مسخ کر دیا گیا۔ ابھی چند ماہ قبل دو ۱۲ سال کی بچیوں کو‘ جب ان کی استانی نے کلاس میں تجربے کے بعد اسکول کے نزدیکی جوہڑ سے مینڈک لانے کو بھیجا تو انھیں اغوا کرلیا گیا۔ ان کی بے حرمتی کی گئی اور ان کے ہاتھ پائوں تاروں سے باندھ کر ان پر تشدد کیا گیا جس سے ان دونوں بچیوں کی لاشیں بھی مسخ ہوگئیں۔

تیونس کا معاشرہ اس لحاظ سے ایک ’مثالی‘ معاشرہ ہے کہ یہاں وہ سب کچھ نصف صدی  قبل سے___ مشہور زمانہ حبیب بورقیبہ کے دور سے ہو رہا ہے جس کی طرف ہمارا آغاز کروایا جارہا ہے۔ آغا خاں بورڈ نے تیونس کے نصابات کو ہی قابلِ تقلید قرار دیا ہے۔ صدرمشرف      براہ راست مشاہدے کے لیے تیونس بھجوائے گئے تھے۔ تیونس کہنے کو مغرب کا پیروکار ہے لیکن یہاں زین العابدین علی جیسے سفاک آمر کی حکومت ۱۸ برس سے قائم ہے اور اسلامی تحریکوں کے ہزاروں کارکن پابند سلاسل اور تعذیب کا شکار ہیں۔ جمہوری اقدار خواب و خیال ہیں۔

دوسری طرف معاشرے کی صورت حال یہ ہے کہ تشددکے حوالے سے ۱۹۹۹ء میں ۳۸ہزار ۷ سو ۲۸ مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں سے ۷۳ فی صد مردوں کے اور ۲۷ فی صد عورتوں کے خلاف تھے۔ ۲۰۰۰ء میں ان مقدمات میں ۷ فی صد کا اضافہ ہوا۔ آج کی کیفیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

مغربی اقدار کی بلاروک ٹوک ترویج کے معاشرتی زندگی پر اثرات کا اندازہ ۱۹۲ خاندانوں کے سوشل ڈیفنس کے سروے سے ہوتا ہے۔ کل ۱۹۸ پرتشدد واقعات پیش آئے‘ جن میں سے ۷۸ماں کے خلاف تھے۔ ۲۳ واقعات عام توڑ پھوڑ کے تھے۔ ۴۲ باپوں کی طرف سے تھے کیوں کہ ماں نے والد کو بچوں سے ملنے سے منع کیا تھا۔ طلاق کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر منتشر ہوگئے تھے۔ اس سے عائلی زندگی کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

تیونس کے اہلِ علم اور ماہرین اس موضوع پر بحث کر رہے ہیں کہ جرائم کا رواج کیوں بڑھ رہا ہے؟ حیرت ہوتی ہے کہ دیوار پر لکھے اسباب پڑھنے کے بجاے‘ دُور دُور کی کوڑیاں لائی جاتی ہیں۔ مذہب کو زندگی سے بے دخل کر دیا گیا ہو‘ مغربی ٹی وی براہ راست دیکھے جا رہے ہوں‘ اور خود بھی اس کی نقالی سے بہتر نہ سوچ سکتے ہوں‘ شرم و حیا کی اقدار پالیسی کے تحت مٹائی جاتی ہوں‘ خیرکے علم بردار ظلم و جبر کا شکار ہوں اور بدی کے علم بردار سر آنکھوں پر بٹھائے جاتے ہوں‘ تو یہ کڑوے کسیلے نتائج کیوں نہ آئیں گے۔

تیونس ایک مثال ہے۔ اس راستے پر متعدد مسلم معاشرے بگٹٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ سب جگہ انجامِ کار یہی حال ہوگا۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ہمارا میڈیا دراصل مغربی معاشرے میں پروان چڑھاتا ہے۔ اس کو آئیڈیل کے طور پر پیش کرتا ہے‘ انھی کی خبریں سناتا‘ دکھاتا‘ پڑھاتا ہے۔ جرائم کی خبریں بھی امریکا و یورپ کی دیتا ہے (تاکہ ہم اس سے سیکھیں!) ۔اگر ہمارے ذرائع ابلاغ جرائم کی خبریں مسلم ممالک‘ مثلاً نائیجیریا‘ مراکش‘ انڈونیشیا‘ مصر‘ ملایشیا اور ازبکستان کی لائیں تو اُمت مسلمہ کے اتحاد کو کچھ نئی بنیادیں فراہم ہوسکتی ہیں۔