اسد احمد


’’جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور ہمارے مفاد میں تو ہرگز بھی نہیں۔ بھلا کون ہے جو ایٹمی طاقت سے لیس ملک کا غلیل سے مقابلہ کرنا چاہے گا؟ آخرکار جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آپ وار رپورٹر ہیں، آپ ہی بتائیں: کیا آپ کو جنگ پسند ہے؟‘‘ یہ سوال ۲۰۱۸ء میں اطالوی صحافی فرانسسکو بوری کو انٹرویو میں ’طوفان الاقصیٰ‘ کے منصوبہ ساز اور حماس کے شہید سربراہ یحییٰ سنوار نے کیا تھا۔ ان کا یہ انٹرویو شہ سرخیوں کی زینت بنا، جسے سیاسی حل کی طرف پیش قدمی کی کوشش قرار دیا گیا۔

 یحییٰ سنواراسرائیل اور مصر کی جانب سے غزہ پر مسلط کردہ بحری ، فضائی اور زمینی ناکہ بندی کا خاتمہ چاہتے تھے، جس نے غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں بدل دیا تھا۔ کیا کرۂ ارض پر ایسا کوئی دوسرا مقام ہے، جس کی ۲۳ لاکھ انسانوں پر مشتمل آبادی مسلسل ۱۸ سال سے محاصرے کی حالت میں ہے؟ زراعت، تجارت اور ماہی گیری، سب تباہ کر دیئے گئے۔ صرف چار گھنٹے کے لیے بجلی فراہم کی جاتی، ۶۲فی صد آبادی کو خوراک کے لیے امداد کی ضرورت تھی، جب کہ بے روزگاری کی شرح ۴۶فی صد پر پہنچ چکی تھی ۔ اس ناکہ بندی کو ختم کرنے کے لیے تمام بااثرعرب ممالک نے کوئی خاص کردار ادا نہ کیا۔ جمہوریہ ترکیہ کے ادارے نے ۲۰۱۰ء میں فریڈم فلوٹیلا بھیجا، جس پر اسرائیل نے حملہ کرکے ۹؍ افراد کو شہید کردیا ۔

۲۰۰۸ء، ۲۰۱۲ء اور ۲۰۱۴ء کی غزہ اسرائیل جنگیں اسی ناکہ بندی کے خاتمے کے لیے ہوئی تھیں۔ ۲۰۱۷ءمیں غزہ میں حماس کی قیادت سنبھالنے والے یحییٰ سنوار ناکہ بندی کے خاتمے کے بدلے جنگ بندی پر آمادہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور ہمارے مفاد میں تو ہرگز بھی نہیں‘‘۔ انھوں نے نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے مارچ ۲۰۱۸ء میں ’گریٹ مارچ آف ریٹرن‘ ' کے نام سے ہر جمعے کے بعد مظاہروں کا اعلان کیا۔ فلسطینی ہزاروں کی تعداد میں جمعہ کی نماز کے بعد غزہ کی سرحد پر مظاہرہ کرتے۔ اسرائیل نے ان پرامن مظاہرین کو بھی نہ بخشا۔ ۳۰ مارچ ۲۰۱۸ءسے ۲۷ دسمبر ۲۰۱۹ء تک پونے دو سال تک جاری رہنے والے ان مظاہروں میں اسرائیل نے ۲۲۳ فلسطینی شہریوں کو شہید کیا ، اور ایک سال مکمل ہونے پر بتایا گیا تھا کہ شہداء میں ۴۱ بچے بھی شامل تھے، جب کہ زخمیوں کی تعداد ۲۹ ہزار سے زیادہ تھی ۔

ماہرین نے ان پُرامن مظاہروں اور یحیٰی سنوار کے بیان کو پالیسی شفٹ قرار دیا تھا ۔ شاید عرب ممالک ، مسلم دُنیا اور بین الاقوامی برادری غزہ اور اہل غزہ کو بالکل فراموش کرچکے تھے۔ عرب حکمران ناکہ بندی تو کیا ختم کراتے، اب ان کی دلچسپی اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے والے نام نہاد ’معاہدہ ابراہیمی‘ میں تھی۔ فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے ۲۰۲۰ء میں نام نہاد ’معاہدہ ابراہیمی‘ پر دستخط نے دو ریاستی حل کی اُمید کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔ متحدہ عرب امارات ، بحرین ، مراکش اور سوڈان نے ’معاہدہ ابراہیمی‘ پر دستخط کرکے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلیے۔ اس سے پہلے۲۰۱۸ء میں امریکا، مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرچکا تھا۔ دو ریاستی حل ٹھیک ہے یا غلط؟ اب اس بحث کی گنجائش بھی نہ بچی تھی۔ سعودی عرب کی طرف سے ’معاہدہ ابراہیمی‘ پر دستخط کے ساتھ ہی دو ریاستی حل ماضی کا قصہ بن جانا تھا، اس کے شواہد ہم آگے پیش کردیں گے۔

یہ طویل تمہید ہمیں حماس ، فلسطین اور دو ریاستی حل سے متعلق، نہایت قابل احترام دانش ور کے بیان کی وجہ سے باندھنا پڑی، جو مختلف سوشل میڈیا صفحات پر زیر بحث ہے۔ کسی مسئلے پر افراد کی آراء میں اختلاف کا پایا جانا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ محترم دانش ور نے حماس کے ۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء کے اقدام پر قرآن و سنت اور تاریخ کے تعلق سے جو بات کی، اس کا بہتر جواب تو علما، اسکالرز اور مؤرخین ہی دے سکتے ہیں۔ ہم یہاں ان کی گفتگو کے کم از کم چار ایسے مقامات کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتے ہیں، جو ہمارے علم کی حد تک درست بات نہیں ہے۔یہاں وہی الفاظ نقل کیے جارہے ہیں، جو محترم صاحب ِدانش دوست نے ادا کیے:

            ۱-         ’کیا سعودی عرب سے پوچھ کر(حماس نے ۷؍اکتوبر کا) حملہ کیا تھا؟ تین دن بعد فیصلہ ہونے والا تھا۔ دو ریاستیں بن جاتیں اب تک ، اناؤنس ہوجاتیں ، امریکا ضامن تھا اس کا‘۔

             ۲-        ’جہاں اسرائیلی یرغمالی رکھے گئے وہاں [اسرائیل کی طرف سے] بمباری غلطی سے بھی نہیں ہوئی، صرف تین کی اموات اس وجہ سے ہوئیں کہ عین اس وقت یہ لوگ ان کو زبردستی اسپتال کی بیسمنٹ [تہہ خانے] میں لے گئے تھے۔ ان [یعنی اسرائیل]کو سب معلوم تھا کہ کیا کہاں ہے؟‘

             ۳-        ’حماس کے ۷؍اکتوبر کے اقدام کے پیچھے ایران تھا‘۔

             ۴-        ’حماس نے عرب سرپرستی کو چھوڑ کر جو ایرانی سرپرستی کو قبول کیا، یہ سخت ناعاقبت اندیشی کا فیصلہ تھا۔ انھیں اپنے بانی شیخ احمد یٰسین کے نقش عدم پر رہنا چاہیے تھا۔ شیخ احمد یٰسین تمام پیش کشوں کے باوجود کبھی ایران کی طرف نہیں بڑھے‘۔

یہ جاننا ضروری ہے کہ عرب ریاستوں اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے والے ’معاہدہ ابراہیمی‘ پر دستخط کے بعد دو ریاستی حل کے نعرے کی زبانی کلامی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی۔ ’طوفان الاقصیٰ‘ سے دو ہفتے پہلے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ۲۲ ستمبر ۲۰۲۳ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مشرق وسطیٰ کا جو نقشہ ساری دنیا کو دکھایا تھا، اس میں فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں تھا۔ نقشے میں بیت المقدس کے مشرقی علاقے، غزہ اور مغربی کنارے کو اسرائیلی ریاست کا حصہ دکھایا گیا تھا۔ اسی تقریر میں قاتل نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا: ’اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان معاہدہ طے پانے کے قریب ہے‘۔

 نیتن یاہو نے مصر، اردن اور ۲۰۲۰ء میں دیگر ممالک کے ساتھ اسرائیلی معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے حاضرین سے کہا تھا: ’’غور کیجیے سعودی عرب کے ساتھ امن کا کیا نتیجہ نکلے گا؟‘‘۔ ساتھ ہی اس نقشے کی دوسری جانب ایک تصویر پر اسرائیل کے ارد گرد وسیع سبز علاقے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’امن کے نتیجے میں پورا مشرق وسطیٰ تبدیل ہو جائے گا‘‘۔اس سے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن اور اسرائیل پر مشتمل ایک علاقائی راہداری بنے گی، جو ایشیا کو یورپ سے ملائے گی‘‘۔

نیتن یاہو نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان جس معاہدے کی بات کی تھی، اس میں دو ریاستوں کی کوئی بات نہیں تھی، سوائے ’معاہدہ ابراہیمی‘ کے، اور جس پر امارات، بحرین ، مراکش اور سوڈان تو پہلے ہی دستخط کرچکے تھے۔ اگر سعودی عرب بھی اس معاہدے پر دستخط کرنے جارہا تھا، جس کے لیے آج بھی سخت دباؤ ہے تو پھر کون سی اور کہاں کی دو ریاستیں؟ یوں فلسطین کا معاملہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہوجانا تھا۔ جس طرح ۱۹۴۸ء کے بعد سے آج تک فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جاری ہے، غزہ اور مغربی کنارے سے یہ عمل بھی جلد یا بدیر مکمل کرلیا جاتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے برابر میں بیٹھ کر اسی منصوبے کا تو اعلان کیا ہے یعنی ’فلسطینیوں سے خالی غزہ!‘___ معترض دانش ور صاحب وہ بات نہ کہیں، جس کے شواہد موجود نہیں ہیں۔ اگر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان کوئی معاہدہ ہونا تھا تو وہ ’معاہدہ ابراہیمی‘ ہی تھا، جس کا ذکر نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں کیا تھا اور اس کا دو ریاستی حل سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

 سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سخت بیان بازی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر چین کے سخت ردعمل نے ’دو ریاستی حل‘ کو ایک بار پھر زندہ کردیا ہے کہ جس کے خاتمے کا باضابطہ اعلان ۲۲ ستمبر کو نیتن یاہو نے اقوام متحدہ میں کیا تھا۔ [تاہم، اپنے جائز تصور کے مطابق مسلم اُمہ کو بھی دو ریاستی حل قبول نہیں کہ اس میں غاصب ریاست کو زبردستی تحفظ دیا جارہا ہے۔ادارہ]

یہ بات بھی ریکارڈ پر رہنی چاہیے کہ اسرائیل فلسطینیوں کو ریاست کے نام پر ایک انچ بھی نہیں دینا چاہتا۔ ان کا ایجنڈا فلسطینیوں سے غزہ مکمل خالی ہے اور ٹرمپ نے نتین یاہو کے ساتھ بیٹھ کر یہی اعلان بھی کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ موصوف کی یہ بات بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتی کہ ’’صرف تین یرغمالی اسرائیل کی قید میں مارے گئے اور اسرائیل نے غلطی سے بھی ان مقامات پر بمباری نہیں کی جہاں یرغمالیوں کو رکھا گیا تھا‘‘۔ حقیقتاً اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں مارے گئے یرغمالیوں کی تعداد کم از کم ۳۳ ہے۔ ۲۰ فروری ۲۰۲۵ءکو حماس نے بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے چار یرغمالیوں کی لاشیں واپس کرتے ہوئے اسرائیلی خاندانوں کے نام پیغام میں کہا تھا: ’’ہم آپ کے بچوں کو زندہ واپس بھیجنا چاہتے تھے، مگر آپ کی فوج اور حکومتی رہنماؤں نے انھیں قتل کرنا پسند کیا۔ چارمزید مغویوں کی لاشیں اسرائیل کو آئندہ ہفتے واپس کی جائیں گی‘‘۔

دانش ور صاحب نے فرمایا ہے: ’’۷؍اکتوبر کے حملے کے پیچھے ایران تھا‘‘۔ یہ بھی حقیقت کے خلاف ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے۱۶ نومبر۲۰۲۳ء کو یہ خبر دی تھی کہ ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای نے تہران میں حماس رہنما اسماعیل ہنیہ سے ملاقات میں واضح پیغام دیا :’’آپ نے ہمیں ۷؍ اکتوبر کے حملوں سے باخبر نہیں کیا تھا اور ہم آپ کی طرف سے جنگ میں داخل نہیں ہوں گے‘‘۔

رائٹرز نے حماس اور ایرانی اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اسماعیل ہنیہ کو آگاہ کیا: ’’ہم آپ کی سیاسی اور اخلاقی حمایت تو جاری رکھیں گے، مگر براہِ راست مداخلت نہیں کریں گے‘‘۔حماس نے رائٹرز کی اس رپورٹ کی تردید کی تھی، مگر ایرانی وزیرخارجہ نے اس دوران یہ بات کئی بار کہی کہ ’’ہم نہیں چاہتے کہ اسرائیل حماس کی لڑائی پورے خطے میں پھیل جائے‘‘۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ نے فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں بتایا کہ ’’ایران امریکا کو آگاہ کرچکا ہے کہ وہ اس بات کے حق میں نہیں کہ حماس، ایران تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے‘‘۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ایران یہ بات کئی بار کہہ چکا ہے کہ ’’اسے ۷؍اکتوبر کے حملے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا اور امریکا بھی ایران کی اس بات سے اتفاق کرتا ہے‘‘۔

 ایران اور حماس کے تعلقات پر امریکی جریدے Foreign Policy میں شائع مضمون The 7 Reasons Iram Won't Fight for Hamas میں بتایا گیا ہے: ’’یہ سمجھنا غلط ہے کہ حماس اور حزب اللہ ایران کی پراکسیز ہیں ، تاہم یہ ایران کے نان اسٹیٹ اتحادی ہیں ۔ ماسکو اور بیجنگ میں ایران کے اسٹرے ٹیجک پارٹنرز نے حماس کی مکمل حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی اور امریکی انٹیلی جنس کے مطابق ایران کے اعلیٰ عہدے داران ۷؍اکتوبر کے حملے سے واقف نہیں تھے۔ Foreign Policy کے مطابق:

 There is no top-down relationship between Tehran and Hamas. Even as Hamas aligns its actions with Iran, its approaches could diverge,  as they notably did during the Syrian civil war when Hamas supported the Sunni anti-Assad rebels. American and Israeli intelligence has suggested that Iran’s top officials were not aware of the Hamas operation.

واجب الاحترام دانش ور نے اسی موضوع پر اپنی اگلی پوڈ کاسٹ میں یہ بھی کہا: ’’حماس نے عرب سرپرستی کو چھوڑ کر جو ایرانی سرپرستی کو قبول کیا، تو یہ سخت ناعاقبت اندیشی کا فیصلہ تھا، انھیں اپنے بانی شیخ احمد یٰسین کے نقش قدم پر رہنا چاہیے تھا۔ شیخ احمد یاسین کبھی ایران کی طرف نہیں بڑھے‘‘۔ ہماری رائے میں اگر موصوف ’سرپرستی‘ کے بجائے ’تعاون‘ کا لفظ استعمال کرتے تو یہ زیادہ مناسب تھا۔ پھر یہ بات بھی یاد دلانا چاہیں گے کہ حماس کے سربراہ شیخ احمد یاسین نے ۱۹۹۸ء میں ایران کا دورہ کیا تھا اور ایران کے رہبر آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی تھی۔ ایران اور حماس کے درمیان تعلقات ۱۹۹۲ء میں قائم ہوگئے تھے۔ اس کے پہلو بہ پہلو ایران، ’الفتح‘ کی بھی حمایت کرتا رہا ہے۔ حماس نے ۱۹۹۹ء میں، جب کہ شیخ احمد یاسین حیات تھے اپنا سیاسی بیورو اردن سے ایران کے قریب ترین اتحادی ملک شام میں منتقل کرلیا تھا ۔ یہ فیصلہ اُردن کی جانب سے تنظیم کے خلاف پابندی ،خالد مشعل اور موسیٰ ابو مرزوق جیسے سینئر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور دفاتر کی بندش کے بعد کیا گیا ۔ مگر جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ حماس اپنے فیصلوں میں آزاد رہی ہے۔ اسی لیے جب شام میں بشار الاسد نے مارچ ۲۰۱۱ء میں اپنے ہی عوام کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کیا، تو حماس نے ایران سے تعلقات کی خرابی کا خطرہ مول لیتے ہوئے فروری ۲۰۱۲ء میں قطر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا ۔ غزہ میں حماس کی منتخب حکومت کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے بشار کے خلاف شامی عوام کی حمایت کا اعلان کیا اور اس طرح ایران کو ناراض کیا ۔ حماس کا سیاسی دفتر قطر میں ہے۔ کیا قطر عرب ملک نہیں ہے؟ محترم دانش ور صاحب نے اپنی گفتگو میں ۱۹۹۳ء میں ہونے والے معاہدے کا بھی ذکر کیا اور ایڈورڈ سعید کے کردار کی تعریف کی ہے، حالانکہ ایڈورڈ سعید کا ’اوسلو معاہدے‘ پر تبصرہ یہ تھا:

"It is an instrument of Palestinian surrender, a Palestinian Versailles".

 ہمیں اسرائیلی پالیسی اور فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کی کارکردگی پر حماس کے Foreign Policy  چیف اسامہ حمدان کا یہ تجزیہ بالکل درست نظر آتا ہے: Abbas had given Israel everything but on other hand has received nothing in return. (عباس نے اسرائیل کو وہ سب کچھ دیا جو وہ چاہتا تھا، مگر دوسری جانب کچھ بھی وصول نہ کیا)

ڈاکٹر عشرت حسین اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے گورنر تھے، آٹھ سال تک پاکستان کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی کے ڈین رہے۔ پاکستان میں بدانتظامی کے بحران پر ان کی کتابGoverning the Ungovernable   سند کا درجہ رکھتی ہے ۔ انھوں نے پاکستانی سیاست کے چار سے پانچ قابل منتظمین کا ذکر کرتے ہوئے کراچی کے سابق سٹی ناظم  [۲۰۰۱ء-۲۰۰۵ء] نعمت اللہ خان کو بھی بطور مثال پیش کرتے ہوئے لکھا ہے :’’جماعت اسلامی کے بزرگ میئر نعمت اللہ خان ایک ايسے ایماندار فرد تھے جو مستعدی اور باقاعدگی سے زیرتکمیل کاموں کی نگرانی کرتے تھے۔ ان پر نظر رکھنے کے ساتھ لوگوں کی شکایات اور تکالیف کا ازالہ کرنے میں دانش مندی اور انصاف سے معاملہ کرتے تھے‘‘۔

۱۷دسمبر۲۰۰۴ءکو صدر جنرل پرویز مشرف نے گواہی دی:’’کراچی میں ترقیاتی کاموں کا کريڈٹ نعمت اللہ خان کو جاتا ہے۔ان کی قیادت میں شہر کا نقشہ بدل رہا ہے، ۲۹؍ارب روپے کا ’تعمیر کراچی پروگرام‘ ان ہی کا تصور ہے ، وہی اصل ہيرو ہیں۔ (جنگ،ڈان)

خوش قسمتی سے ہم نے نعمت اللہ خان کی قیادت میں ان کے چار سالہ دور (۲۰۰۱ء تا ۲۰۰۵ء) کو بہت قریب سے دیکھا ہے، جس کے نمایاں پہلو درج ذیل ہیں :

۱-صوبائی حکومت ان کے سخت ترین مخالفین کے پاس تھی مگر نعمت اللہ خان فنڈز و اختيارات کی کمی کا رونا رونے، کسی سازش یا ماضی پر ملبہ ڈالنے کے قائل نہیں تھے۔ وہ ايک انتہائی تجربہ کاراور حقیقت پسند انسان تھے،جن کی نظریں مستقبل پر تھیں۔ وہ تخریب کے بجائے تعمیر و تدبیر پر یقین رکھتے تھے۔ ساری توجہ اس بات پر تھی کہ چار سالہ دور میں ڈليور کرکے دکھانا ہے ، نظام میں رہتے ہوئے راستہ نکالنا ہے اور دستیاب سرکاري افسران سے کام لینا ہے تاکہ اہداف حاصل کیے جاسکیں۔

۲-نعمت اللہ خان تو ۷۰ سال کی عمر میں میئر بنے، مگر جماعت اسلامی نے مختلف شعبوں کے ليے مشیروں کی جو ٹيم انھیں فراہم کی وہ ۳۵سے۴۰سال عمر کے ديانت دار اور اعلیٰ تعلیم يافتہ افراد پر مشتمل تھی۔ یہی معاملہ ٹاؤن ناظمین اور یونین کونسل ناظمین کا تھا ۔ اس طرح نعمت اللہ خان نچلی سطح تک مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے۔

۳-ايک اچھے منتظم کی طرح انھیں کراچی کے تمام مسائل کا ادراک تھا۔ پھر مسائل کا حل اور اہل افراد کی ٹیم ان کے پاس موجود تھی مگر اصل چیلنج یہ تھا کہ وسائل کس طرح حاصل کرنے ہیں؟ 

یہ بات چند مثالوں کے ساتھ دیکھیے کہ جماعت اسلامی کراچی کے رہنما اور سٹی ناظم نے کس طرح وسائل حاصل کیے؟ گڈ گورننس کی مثال قائم کی اور کرپشن کا خاتمہ کردیا۔

  •  پہلی مثال:کراچی کے ٹرانسپورٹ مسائل کے حل کے لیے شہری حکومت کے پاس اربوں روپے کی میٹرو بس کا بجٹ نہیں تھا۔ انھوں نے اربن ٹرانسپورٹ اسکیم کا آغاز کیا۔ بسوں کی خریداری پر اربوں روپے خرچ کرنے کے بجائے سرمایہ کاروں کو شہر میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور شہر میں۱۵سےزائد روٹس پر ۳۶۴ بڑی،کشادہ اور آرام دہ بسیں رواں ہوگئیں۔ کراچی میں پہلی بار گرین بس انھی کے زمانے میں شروع ہوئی تھی۔ یہ تدبیر اور حسن انتظام کی ایک عمدہ مثال ہے کہ نہ قرض لینا پڑا، نہ حکومت کا سرمایہ خرچ ہوا اور عوام کو ایئر کنڈیشنڈ بسیں بھی مل گئیں۔
  • دوسری  مثال:جماعت اسلامی کی شہری حکومت نے اس دور میں پٹرول اور ڈیزل کی مد میں ہونے والی ماہانہ۷۰لاکھ روپے اور سالانہ ۸کروڑ۴۰ لاکھ کی کرپشن کا خاتمہ کیا، جس سے شہری حکومت کی آمدنی میں نماياں اضافہ ہوا اور نئے منصوبوں کی گنجایش پیدا ہوئی (۲۰۰۱ء میں پٹرول ۲۰روپے ليٹر تھا، جب کہ آج ۲۳۴روپے ليٹر ہے)۔ سوال یہ ہے کہ نچلی سطح پر یہ کرپشن کس طرح ختم ہوئی؟سابق ناظم گلبرگ ٹاؤن فاروق نعمت اللہ کے مطابق: ’’گلبرگ ٹاؤن کے حصے میں کچرا اُٹھانے کی ۱۱۰گاڑیاں آئیں، ۹۰ گاڑیاں بالکل خراب تھیں، ان کے ٹائر تک نہیں تھے۔ ان گاڑیوں کا ماہانہ بل ۲۴لاکھ روپے تھا۔ ہم نے روزانہ فجر کی نماز کے بعد اپنے سامنے ڈیزل بھروانا شروع کیا ،کیونکہ ہمارے علم میں یہ بات آئی تھی کہ اس سے قبل گاڑی میں ۵لیٹر ڈالا جاتا تھا اور پرچی پر ۴۰لیٹر لکھ دیا جاتا، باقی رقم حصے داروں میں بٹ جاتی۔ صرف ۶ماہ بعد صورت حال یہ تھی کہ تمام ۱۱۰ گاڑیاں کچرا اٹھانے کے قابل تھیں اور ڈیزل کا بل ۲۴لاکھ سے کم ہوکر ۸لاکھ پر آگیا تھا۔
  •  تیسری مثال:جب خان صاحب سٹی ناظم بنے تو بل بورڈز یا آوٹ ڈور ایڈورٹائزنگ سے سالانہ آمدنی صرف سوا دو کروڑ روپے تھی۔ بیش تر بل بورڈز کی آمدنی طاقت ور وزرا کے اکاؤنٹس میں چلی جاتی اور شہري حکومت کےہاتھ کچھ نہ آتا۔ سٹی ناظم نے آوٹ ڈور ایڈورٹائزنگ کا شعبہ اپنے ايک ایک قابل اعتماد مشير زاہد سعید کو اس ہدایت کے ساتھ سونپ دیا کہ یہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی سے شہر میں ہر سال ایک فلائی اوور کا اضافہ کیا جائے گا۔ سابق یوسی ناظم اور معروف تاجر زاہد سعید کے مطابق: ’’صرف ايک سال میں آؤٹ ڈور ایڈورٹائزنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی سالانہ سوا دو کروڑ سے بڑھ کر سالانہ ۲۵کروڑ تک پہنچ گئی اور اسی آمدنی سے ایف ٹی سی کا فلائی اوور بنا اور اگلے سال پھر ۲۵کروڑ روپے جمع ہوئے۔
  • چوتھی مثال:کراچی میں سرکاری شعبے میں دل کا صرف ایک اسپتال تھا، اور جناح اسپتال پہنچتے پہنچتے روزانہ چھے افراد راستے میں ہی فوت ہوجاتے۔ اسی زمانے میں فیڈرل بی ایریا میں واقع کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج نارتھ ناظم آباد میں ایک بالکل نئی عمارت میں منتقل ہوگیا۔ نعمت اللہ خان نے میڈیکل کالج کی پرانی عمارت میں ضروری تبدیلیوں اور نئی تعمیرات کے بعد جدید سہولیات سے آراستہ امراض قلب کا بڑا اسپتال کراچی انسٹیٹیوٹ آف ہارٹ ڈیزیز کم خرچ اور قلیل مدت میں میں قائم کردیا۔ ۱۷۰بستروں پر مشتمل یہ اسپتال آج بھی ضلع وسطی اور شرقی کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، اگر سندھ حکومت مناسب توجہ دے۔
  • پانچویں مثال: پاکستان انفارمیشن ٹکنالوجی ایکسپورٹ میں اضافہ چاہتا ہے مگر انجینئرز کی تعداد کم ہے۔ماضی میں جب نجی یونی ورسٹیوں میں نہایت مہنگے بی سی ایس پروگرام شروع ہوئے تو نعمت اللہ خان نے کراچی کے چھے بڑے بوائز اور گرلز سرکاری کالجز میں جامعہ کراچی سے منظور شدہ بی سی ایس کمپیوٹر سائنس پروگرام کا آغاز کیا۔ اس طرح بلامبالغہ ہزاروں نوجوانوں کو کم فیس پر بہترین ڈگری ملی اور یہ ہزاروں افراد ملک اور بیرون ملک خدمات انجام دے رہے ہیں۔
  •  چھٹی مثال:سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے بقول: ’کے تھری واٹر پراجیکٹ‘ نعمت اللہ خان نے ۶؍ارب۸۰کروڑ کے بجائے ۶؍ارب میں مکمل کیا تھا اور ۸۰کروڑ روپے بچانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ یہ بچت کس طرح ممکن ہوئی؟ تب خان صاحب کے مشیر ڈاکٹر فیاض عالم صاحب نے بتایا:’کے تھری پراجیکٹ‘ کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے رقم سٹی گورنمنٹ کے پاس آچکی تھی۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نامی ادارہ سرکاری منصوبوں پر کڑی نظر رکھتا ہے۔ نعمت اللہ خان نے اس ادارے سے منسلک دو انجینئرز کو بلایا اور کہا کہ ’’یہ ہمارا پہلا میگا پراجیکٹ ہے، آپ ٹینڈر طلب کرنے کے عمل میں شامل ہوجائیں‘‘۔ ان کے انجینئرز نے جواب دیا کہ ’’ہم تو واچ ڈاگ (یعنی نگران) ہیں، ہمارا کام تو آپ پر چیک رکھنا ہے‘‘۔ سٹی ناظم نے جواب دیا: ’’اگر آپ ٹرانسپیرنسی چاہتے ہیں تو ہمارا ساتھ دیں‘‘۔ یوں خان صاحب تقریباً ایک ارب روپے بچانے میں کامیاب ہوگئے ۔ منصوبہ مکمل ہوا تو کراچی کو روزانہ ۱۰۰ملین گیلن پانی کی فراہمی شروع ہوئی۔ ’کے تھری‘ کے بعد ’کے فور‘ آج تک نہیں بن سکا۔
  • ساتویں مثال: ۲۰۰۳ء میں کراچی میں طوفانی بارشیں ہوئیں۔ نعمت اللہ خان نے کہا: ’’انفراسٹرکچر تباہ ہوچکا ہے۔ کراچی کو ۲۰؍ارب روپے کے پیکج کی ضرورت ہے۔ صدر مشرف نے جواب دیا: ’’آپ لینڈ سے محصول حاصل کریں‘‘۔ نعمت اللہ خان نے جواب دیا: ’’ہم شہریوں پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگائیں گے، ہاں ایک آئیڈیا ہمارے پاس موجود ہے‘‘۔ نعمت اللہ خان نے تجویز دی کہ کراچی میں قائم وفاقی ادارے جیسے کراچی پورٹ ٹرسٹ، پاکستان اسٹیل، پورٹ قاسم اتھارٹی، پی آئی اے وغیرہ کراچی کے وسائل استعمال کرتے ہیں مگر شہر پر خرچ نہیں کرتے۔ میں منصوبوں کی نشاندہی کرتا ہوں آپ ان اداروں کو پابند کریں کہ وہ یہ منصوبے اسپانسر کریں گے‘‘۔ جنرل پرویز مشرف اس تجویز پر بہت حیران ہوئے۔اسٹیک ہولڈرز کا اجلاس بلایا گیا اور نعمت اللہ خان نے ۲۹؍ارب روپے کے پیکج کی پوری تفصیلات اور منصوبے شرکا کے سامنے رکھے۔ پیکج کے تحت ۱۴؍ارب روپے وفاقی اداروں،۶،۶؍ ارب روپے شہری اور سندھ حکومت، جب کہ تقریباً ۲؍ارب روپے وفاقی حکومت کو دینے تھے ۔ یہ پروگرام کراچی کے لیے تبدیلی کا انجن ثابت ہوا اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں ایک انقلاب آگیا۔ کراچی میں انڈرپاسز، فلائی اوورز اور سگنل فری کوریڈورز بنے تو ٹریفک جام کا مسئلہ بڑی حد تک ختم ہوگیا ۔
  • آٹھویں مثال: تعلیم کے شعبے میں لائی گئی اصلاحات کا فائدہ یہ ہوا کہ چار سال کی مدت میں اے ون اور اے گریڈ میں میٹرک کرنے والے سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی تعداد ۱۵۰سے بڑھ کر دو ہزار تک پہنچ گئی،جب کہ ۳۲کالجوں کی تعمیر بھی مکمل ہوئی۔

مندرجہ بالا مثالیں یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ ایک باصلاحیت ایڈمنسٹریٹر کی قیادت میں کس طرح اہل اور دیانت دار ٹیم تمام تر رکاوٹوں کے باوجود، شور شرابے اور ہنگامے کے بجائے تدبیر کے ذریعے راستے بناتے ہوئے آگے بڑھی۔ اس طرح چار سال میں کراچی کا بجٹ ۶؍ارب روپے سے ۴۳؍ ارب روپے تک پہنچایا اور انفراسٹرکچر کے شعبے میں انقلاب لے آئی۔

نعمت اللہ خان اور ان کی ٹیم نے اس دور میں ثابت کیا کہ صرف کرپشن میں کمی لے آئیں تو آمدنی میں خاطرخواہ اضافہ ممکن ہے بلکہ عوام کو ریلیف دیا جاسکتا ہے۔ چار سال میں سیکڑوں پارکس بنائے مگر کسی پر انٹری فیس نہ رکھی۔ سٹی گورنمنٹ کے ماتحت تعلیمی اداروں میں سیلف فنانس اسکیم رائج تھی جو آمدنی کا بڑا ذریعہ تھی۔ نعمت اللہ خان نے سیلف فنانس اسکیم ختم کرکے اوپن میرٹ کا نظام قائم کردیا۔ وہ چار سال میئر کراچی رہے مگر ایک دن بھی سرکاری رہائش گاہ میں نہ رہے… ان کے انتقال کے بعد معلوم ہوا کہ وہ اپنی تنخواہ نہیں نکلواتے تھے اور بلدیہ کی نظامت ختم ہونے کے بعد چار سالہ تنخواہ زلزلہ متاثرین فنڈز میں جمع کرا گئے تھے۔

درحقیقت، نعمت اللہ خان اور ان کی ٹیم کی کامیابی کی بنیادیں بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی رکھ کر گئے تھے، جنھوں نے لکھا ہے: ’’اسلامی نظام محض کاغذی نقشوں اور زبانی دعوؤں کے بل پر قائم نہیں ہوسکتا ۔ اس کے قیام اور نفاذ کا سارا انحصار اس پر ہے کہ آیا اس کی پشت پر تعمیری صلاحیتیں‘ اور ’ صالح انفرادی سيرتیں‘ موجود ہیں يا نہیں ۔ کاغذی نقشوں کی غلطی تو اللہ کی توفیق سے ’علم‘ اور ’تجربہ‘ ہر وقت رفع کرسکتا ہے لیکن ’صلاحیت‘ اور’صالحیت کا فقدان‘ سرے سے کوئی عمارت اٹھا ہی نہیں سکتا اور اٹھا بھی لے تو سہار نہیں سکتا‘‘۔