وقار حسن


انسانوں کی شناخت، اجتماعیت پسند مخلوق کے طورپر کی جاتی ہے۔ وہ سماجی تعلقات کو قائم رکھتے ہوئے معاشروں کی صورت میں پروان چڑھتے ہیں۔ جوچیز انھیں دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے، وہ اخلاقی بنیادوں پر صحیح اور غلط کے درمیان تمیزکرنے کی صلاحیت ہے۔ انسان میں یہ اخلاقی صفت اس لیے ودیعت کی گئی ہے تاکہ اس میں کردار سازی کا عمل بتدریج نشوونماپاکر  راسخ ہوجائے۔ جس سے ایک معاشرے کا قیام ممکن بنایا جاسکے، جہاں وہ مل جل کر رہ سکیں اور ترقی کرسکیں۔ لوگوں میں اس آگہی اور کردار سازی کا مقصد صرف انسان کی تشکیل نہیں ہے بلکہ انھیں گراں قدر کردار کا حامل بنانا بھی ہے۔ عصرِحاضر میں ’قابلِ قدر‘ (valuable)کی اصطلاح سے مراد عموماً مادی افادیت لی جاتی ہے۔ وہ تعلیمی ادارے جہاں ہم تعلیم پاتے ہیں، وہ یونی ورسٹیاں جہاں ہم تحصیلِ علم کرتے ہیں اور جو قابلیت حاصل کرتے ہیں، وہ ہمیں مالی وسائل اور مادی فوائد کے حصول کے ساتھ ساتھ اس دُنیا میں اپنے وجود کی بقا کے لیے صلاحیتوں سے آراستہ کرتے ہیں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم بنیادی طور پر مادیت پرستی کے مقاصد کے حصول کے ایک ذریعے میں تبدیل ہوگئی ہے، جس نے کردار سازی کے اپنے بنیادی مقصد کو دُنیوی مفادات کے حصول کی بے رحم جدوجہد میں پس پشت ڈال دیا ہے۔ معاشروں کے ارتقائی سفر کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ ان کا آغاز نامعلوم غیریقینی صورت حال اور خطرات سے بچنے کی خواہش سے ہوا تھا۔ جانوروں سے لاحق خطرات اور غیرمتوقع قدرتی آفات نے انسانوں کو معاشروں کی تشکیل پر مجبور کیا۔ اس کے برعکس، عصری منظرنامے سے پتا چلتا ہے کہ ہمارے آباواجداد جن خطرات سے دوچار تھے وہ ختم ہوچکے ہیں، لیکن سب سے زیادہ اذیت ناک منظرنامہ یہ ہے کہ موجودہ دور کے انسان اپنے ساتھی انسانوں کے لیے اہم خطرہ بن چکے ہیں۔

عصری معاشروں میں بُرائیوں کی بھرمار ہے، اور قومیں غیراخلاقی تنازعات میںا ُلجھی ہوئی ہیں۔ ایک دوسرے کا خوف سماجی تعلقات میں بڑی گہرائی تک سرایت کرگیا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ا نسانی ارتقا کی تاریخ میں کیا انحراف ہوگیا ہے؟ ہم جس طرح سے افراد کی تشکیل کرتے ہیں، اس مشق میں پوشیدہ اور پائی جانے والی خامی واضح طور پر عیاں ہے۔ جس کا تشویش ناک پہلو یہ ہےکہ ہمارا تعلیمی نظام جو ہماری نسلوں کو ڈھالتا ہے اور جو نتائج برآمد کرتا ہے بڑی بے بسی سے اس کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ بات بڑے دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتی ہے اور اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ تعلیمی ڈھانچہ افراد کے کردار کو مستحکم کرنے میں بُری طرح ناکام ہوا ہے، جس کے فطری نتیجے میں سماجی انتشار اور باہمی اختلافات نے جنم لیا ہے۔ تعلیم باہمی احترام کے لیے رہنمائی کرتی ہے۔ یہ محض روزگار کے تحفظ کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ یہ روشن خیالی کے سرچشمے کی خدمت بھی انجام دیتی ہے۔ تعلیم سے پیدا ہونے والی اخلاقی، صبروتحمل اور برداشت کی قوت ایسی ہونی چاہیے کہ افراد اخلاقی اصولوں پر پوری ثابت قدمی سے جمے رہیں، یہاں تک کہ قانون کی خلاف ورزی کے نتائج سے بچنے کے واضح امکانات بھی موجود ہوں۔

اگر ہماراتعلیمی نظام اپنے اصل مقصد پر قائم رہتا تو شاید ہم ایک پُرسکون معاشرہ تشکیل دے پاتے۔ وسیع پیمانے پر پائی جانے والی معاشرتی خرابیاں اور بدعنوانی ایک روایتی عمل اور معمول بن چکا ہے۔ مگر اس میں بھی جو چیز پریشان کن ہے، وہ وسیع پیمانے پر پایا جانے والا ایسا تصور ہے کہ سماجی تعلقات میں باہمی انحصار تو بہت کم ہے، مگر اس کے باوجود یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہرفرد کردار کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھے۔ یہ تضاد واقعی حیران کن ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہم بدقسمتی سے ایسے واقعات دیکھتے ہیں جہاں خواتین اور بچوں کو شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس طرح کے بہت سے واقعات کو میڈیا پر بڑے پیمانے پر پیش کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود ظالموں کو ان کے بااثر حلقوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خواتین کے خلاف جنسی زیادتی، بچوں کے ساتھ بدسلوکی، یا بے گناہ افراد کا بلاجواز قتل اور وسیع پیمانے پر ملاوٹ و جعل سازی اور تعمیراتی منصوبوں میں ناقص میٹریل کا استعمال جیسے واقعات کا ارتکاب دراصل سماجی حلقوں میں طاقت ور مجرموں کے اثرورسوخ کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان مجرموں کو جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، مثالی سزائیں نہیں دی جاتی ہیں، جس سے فائدہ اُٹھاکر وہ وحشیانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ پھر اس سے بھی زیادہ پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ایسے غیرانسانی رویے کے مرتکب لوگ بغیرکسی شرم کے، بڑی آن بان سے زندگی گزارتے ہیں۔ کیا ہم واقعی ایک پڑھے لکھے معاشرے میں رہ رہے ہیں؟ کیا تعلیم اس نوعیت کے افراد کو معصوم شہریوں کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنے کی اجازت دیتی ہے، جو ایک دن ان کے جرائم کا شکار ہوسکتے ہیں؟ دوسری طرف، ریاست کے لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ وہ تن دہی سے عوام کی خدمت کررہے ہیں، اس کے باوجود عوام نے سماجی اور سیاسی معیارات میں انحطاط دیکھا ہے۔ اگر قیادت کے نزدیک واقعی سب کچھ ٹھیک ہے، تو پھر ہم اُن کے دعوئوں اور وعدوں کے مطابق سہولیات کی فراہمی میں ناکامی کا مشاہدہ کیوں کرتے ہیں؟

بلاشبہہ، تعلیمی نظام افراد کو مؤثر رہنما بنانے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں قیادت کا خلا پیدا ہوا ہے۔ اگر نوجوانوں کی خواہشات کا جائزہ لیں، تو آپ کو بے پناہ دولت اور بے مثال شہرت کی مشترکہ خواہش ملے گی۔ کیا تعلیم کا وجود صرف ایسے افراد کی آبیاری کے لیے ہے، جو دولت اور شہرت کے حصول کو ترجیح دیتے ہیں؟ اس سے بھی زیادہ دل شکنی کی بات یہ ہے کہ بقائے باہمی، سب کے لیے انصاف، متنوع نقطۂ نظر کا احترام اور صحیح کی تعریف کرتے ہوئے غلط کام کی مذمت کرنے کی اخلاقی قوت جیسی خوبیوں کا موجودہ دور سے کوئی تعلق نہیں نظر آتا ہے۔

سماجی ترقی اور خوش حالی کے فروغ کے لیے کردار سازی پر مبنی تعلیم کو ترجیح اوّل قرار دینا ناگزیر ہے۔ یہ بات کوئی آئیڈیل ازم کی اپیل نہیں ہے۔ ایسے افراد کو پروان چڑھانا اور ان کی شخصیت کی تعمیر کرنا مکمل طور پر ممکن ہے، جن کی اعلیٰ اخلاقی اقدار انھیں معاشرے کا مثالی رکن بناتی ہیں۔ ایمان داری کو حصولِ تعلیم میں بنیادی قدم کے طور پر اُبھارنا چاہیے۔ باقی تمام خوبیاں کسی فرد کے کردار کی ایمان داری سے پیدا ہوتی ہیں، سماجی تعلقات میں انقلاب برپا کرتی ہیں اور انفرادی اور سماجی ترقی کو فروغ دیتی ہیں۔

کردار کی ایمان داری کی بنیاد، خامیوں کو تسلیم کرنے اور ذاتی ترقی کے لیے کوشش کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے، جس سے ہر ایک کو فائدہ ہوتا ہے۔ کردار سازی کے لیے تعلیم کا مقصد انصاف قائم کرنا ہے اور اس کا آغاز خاندان کے اندر سے ہوسکتا ہے۔ بچوں کو اپنے ساتھیوں کے حقوق کا احترام کرنے کی اہمیت سکھانا بہت ضروری ہے۔ والدین کو اس بات پر زور دینا چاہیے کہ ان حقوق کی خلاف ورزی کا نتیجہ اُن میں انسانیت کے خاتمے کا ہم معنی ہے۔

ہماری نسل کو ایک ایسی تعلیم کی ضرورت ہے جو مستقبل کے لیڈروں میں اپنی ناکامیوں کا احتساب کرنے کی جرأت پیدا کرے اور اگر وہ ناکام ہوجائیں تو اقتدار سے دستبردار ہونے پر آمادہ ہوجائیں۔ کردار کے لیے تعلیم خواتین کے احترام کو ترجیح دیتی ہے اور بچوں کے لیے محبت کی پرورش کرتی ہے۔ ان کے خلاف منفی رجحانات کو ختم کرتی ہے اور ایک محفوظ،زیادہ سازگارسماجی ماحول کو فروغ دیتی ہے۔ اخلاقی تعلیم ایسے معاشرے کو فروغ دیتی ہے،جہاں افراد اجتماعی طور پر بدسلوکی کے خصائل کو مسترد کرتے ہیں اور پاکیزگی و دیانت کو اپناتے ہیں، اور ہم آہنگی کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے شمولیت کو فروغ دیتے ہیں۔کردار کے لیے تعلیم کو ترجیح دینے والے معاشرے میں نفرت، منفی تنقید اور بہتان تراشی جیسی بُرائیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ کردار سازی کے لیے تعلیم سے امن و سکون میسر آتاہے۔ لوگوں کو قناعت کی ترغیب ملتی ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، اس پر مطمئن رہیں۔ کردار سازی کی تعلیم ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے کی غیرصحت مند خواہش کو کم کرتی ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کو تبدیل کرنا ہوگا کیونکہ یہ وہ ماحول ہے جہاں ہمارے بچّے نشوونما پائیں گے، آگے بڑھیں گے اور جوان ہوں گے۔ یہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایک ایسا سماجی نظام قائم کریں جہاں انصاف، دیانت، کردار اور انسانیت سے محبت معیار بن جائے۔ اس کے بغیر، سماجی تانے بانے کا نازک ڈھانچہ ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘ جیسا مکروہ قانون کے سامنے بے بس ہوجائے گا، جو معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔