ڈاکٹر توقیر عالم فلاحی


عصرِحاضر میں جہاں انسان نے اپنی قابلیت واستعداد کے جو ہر متعدد شعبہ ہاے زندگی میں دکھلائے ہیں، ان میں ذرائع وسائل یا ذرائع ابلاغ ایک اہم موضوع ہے جو اکیسویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کا موضوع بحث ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ یہ وہ اہم شعبہ ہے جس میں انسان اپنی جودتِ طبع اور کمال و استعداد کا ناطق ثبوت پیش کررہاہے۔ ذرائع وسائل کا استعمال خواہ قومی سطح پر ہو یا بین الاقوامی سطح پر، تعمیروتخریب دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ سعادت مند ہے وہ فرد یا قوم جو وسائل کا استعمال ذاتی اور اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کرتی ہے، جب کہ ان وسائل کا منفی مقاصد کے لیے استعمال ملک و قوم کے مفاد کے منافی ہے۔

اصطلاح میں اس لفظ کی تعبیر ذرائع ابلاغ و ترسیل یا وسائل نشرواشاعت سے ہوتی ہے۔ اس وقت بالعموم دو قسم کے ذرائع ابلاغ معروف ہیں۔ ایک کو طباعتی ذرائع ابلاغ (Print Media) سے جانا جاتا ہے، جب کہ دوسرے کو برقیاتی ذرائع ابلاغ (Electronic Media) کہا جاتا ہے۔ دوسرے ذرائع ابلاغ کو قومی سطح سے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے قومی ذرائع ابلاغ (National Media) کا نام دیا جاتا ہے۔ تیسری قسم مخصوص خطۂ ارض یا جغرافیائی حدود سے پرے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی ہے جسے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ (International Media) کہا جاتا ہے اور انھیں اہم مسائل کی نشرواشاعت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کی یہ تینوں قسمیں جو علاقائی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر استعمال کی جاتی ہیں بلاشک و تردد یہ کہا جاسکتا ہے کہ مثبت اور منفی دونوں طریقوں سے ان کا استعمال ہوتا ہے۔ میڈیا پر جس طبقے کا غلبہ ہوتا ہے یا جو برسرِاقتدار حکومت ہوتی ہے، وہ بہرحال تعصب و جانب داری کی دلدل سے نہیں نکل پاتی اور پھر اس کے مثبت اثرات و نتائج مجروح ہونے سے بچ نہیں پاتے۔ میڈیا کی اہمیت اور میڈیا پر تسلط و غلبہ پانے والی تنظیموں، جماعتوں اور حکومت کے منفی کردار سے متعلق مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کا یہ اقتباس قابلِ ملاحظہ ہے:

دنیا کی سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی تنظیمات، سب کا حال یہی ہے۔ یورپ، امریکا اور روس کی حکومتوں کو دیکھیے، اسی کے ساتھ مشرقی حکومتوں کو بھی دیکھیے کہ وہ فاسق الخیال، فاسدالمقاصد، جن کے مقاصد تخریبی، جن کی زندگی فاسد، جن کے اخلاق خراب، جن کے افکاروخیالات فاسد، ان سبھوں نے ایک اجتماعی نظام بنایا ہے اور وہ اجتماعی نظام قوموں کی قسمتوں کا فیصلہ کر رہا ہے۔ اس وقت صورت یہ ہے کہ اس گروہ کا جادو چل رہا ہے جس کے ہاتھ میں ابلاغ کے ذرائع ہیں۔(مقدمہ: مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، نذرالحفیظ ندوی)

  • میڈیا کا منفی کردار:انسانوں کے درمیان انتشار پیدا کرنا، عوام و خواص کو بغاوت اور نافرمانی پر اُبھارنا، عوام و خواص میں راہنمایانِ قوم کے متعلق شکوک و شبہات کو فروغ دینا،  مستحکم قیادت سے محروم کرنے کی کوشش کرنا، فرقہ واریت کے جذبات کو شہہ دینا، واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کر کے عوام کو گمراہ کرنا اور ان کو خلافِ شان حرکتوں پر مجبور کرنا، دوسروں کے محاسن کو بالاے طاق رکھنا اور ان پر دبیز پردے ڈالنے کی کوشش کرنا، نااہل اور نالائق افراد اور جماعتوں کی تعریف میں آسمان و زمین کے قلابے ملا دینا، معمولی خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کر کے پیش کرنا، اصل اور مطلوب اُمور و مسائل کے بجاے جزئیات اور غیرضروری اُمور پر توجہ مرکوز کرانا___ یہ سب میڈیا کے منفی کردار کے ثبوت و مظاہر ہیں جو آئے دن عینی مشاہدات میں آتے رہتے ہیں۔ حقائق کا نظروں سے اوجھل ہوجانا، اخلاقی قدروں کی پامالی، فتنہ و فساد کا دور دورہ اور انسانیت دشمنی کے کریہہ اور المناک حوادث و واقعات کی ذمہ داری بھی تعصب و جانب داری پر مبنی میڈیا کے سر آتی ہے۔

طباعتی میڈیا میں چاہے کتابیں ہوں یا جرائد و رسائل یا اشتہارات، اور برقیاتی میڈیا میں خواہ کمپیوٹر ہو، ٹیلی ویژن ہو، ریڈیو ہو، یا ان دونوں کے علاوہ معاشرے میں ایسے بدکردار اور  فساق و فجارلوگوں کی موجودگی ہو جو بُرائیوں کے لیے نرم گوشہ ہی نہیں رکھتے ہوں بلکہ زبانِ حال اور زبانِ قال سے شرانگیزیوں اور بدکاریوں کی سرپرستی کرتے ہوں، میڈیا کے دائرے میں آتے ہیں۔ اس میں فحاشی و عریانیت کے انفرادی اور اجتماعی کاروبار کا طریقہ اختیار کرنے والے بھی آتے ہیں اور وہ لوگ بھی اس میں شامل ہیں جن کی فطرتِ ثانیہ ہی فتنہ پروری اور بدکاری بن چکی ہو اور وہ عملی طور پر بُرائی کو ایک دوسرے تک اور پھر پورے معاشرے تک عام کرتے ہیں۔

  • میڈیا کا منفی کردار اور معاشرتی انتشار:ذرائع ابلاغ کے یہ تمام طریقے انتہائی مذموم ہیں۔ ایک طرف فحاشی و عریانیت، انسانی قدروں کی پامالی اور اخلاق سوز حرکتیں، انسانی معاشرے میں ان مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعے جاری و ساری ہوجاتی ہیں اور دوسری طرف امن و چین سے معاشرہ محروم ہوجاتا ہے۔ عزت و آبرو دائو پر لگ جاتے ہیں اور ان کی سرگرمیِ عمل کے نتیجے میں بہت سے افراد اور جماعتیں بھی ان بُرائیوں کی نقیب بن کر میدانِ عمل میں آجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت کا عطاکردہ ضابطۂ زندگی قرآنِ مجید ایسے عمل کو انتہائی سنگین جرم قرار دیتا ہے اور رسولِ عربیؐ پر نازل شدہ یہ کتاب جو سراپا ہدایت و رحمت ہے دنیا کی عدالتوں کو بھی مکلف بناتی ہے کہ انھیں ان کے جرائم کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور عبرت ناک سزائیں دی جائیں، تاکہ یہ آیندہ ایسے اقدامات کی جرأت سے اجتناب کریں اور معاشرے میں موجود بعض اس قسم کے عناصر کے لیے بھی یہ عبرت کا باعث ہوں۔ اللہ وحدہٗ لاشریک ایسے مجرموں، بدکرداروں اور اخلاق و انسانیت کے دشمنوں کے لیے اس زندگی کے بعد کی زندگی میں ابدی عذاب کی یقین دہانی بھی کراتا ہے۔ قرآنِ مجید میڈیا کے اس منفی کردار کو شنیع جرم قرار دیتا ہے۔ جرم کی شدت و سنگینی کا اندازہ قرآنِ مجید کی اس جامع تعلیم سے کماحقہ ہوتاہے:

اِِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّونَ اَنْ تَشِیعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ لا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط  وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَo(النور۲۴:۱۹) یقینا جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں اور اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔

اگرچہ یہ آیت کریمہ اُم المومنین حضرت عائشہؓ کی شخصیت پر بہتان تراشی کرنے اور افواہوں کا بازار گرم کرنے والے منافقین اور کمزور ایمان والے حضرات سے متعلق ہے، لیکن قرآنِ مجید  کی عظمت کا راز اس حقیقت میں پنہاں ہے کہ اس کی تعلیمات مخصوص دور سے تعلق نہیں رکھتیں اور نہ افراد اور جماعتوں کے کردار محض ہدفِ تنقید بنانے اور مخاطبین کے لیے تفریح طبع کا سامان فراہم کرنے کے لیے بیان کیے جاتے ہیں، بلکہ ہرہرآیت پوری آب و تاب کے ساتھ آج کے افراد و معاشرے کے لیے بھی روح پرور پیغام ثابت ہوتی ہے۔ افراد و اشخاص یا اقوام و ملل کی بابت حقائق کے بیان میں قیمتی اسباق مطمح نظر ہوتے ہیں، اور اس کا یہی فیض بے کم و کاست تاقیاقت برقراررہے گا۔ اس آیت کریمہ کے ضمن میں مولانا مودودیؒ کی وضاحت جامع اور فکرانگیز ہے:

موقع و محل کے لحاظ سے تو آیت کا براہِ راست مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اس طرح کے الزامات گھڑ کر اور انھیں اشاعت دے کر مسلم معاشرے میں بداخلاقی پھیلانے اور اُمت مسلمہ کے اخلاق پر دھبہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سزا کے مستحق ہیں، لیکن آیت کے الفاظ فحش پھیلانے کی تمام صورتوں پر حاوی ہیں۔ ان کا اطلاق عملاً بدکاری کے اڈے قائم کرنے پر بھی ہوتا ہے اور بداخلاقی کی ترغیب دینے والے اور اس کے لیے جذبات کو اُکسانے والے قصوں، اشعار، گانوں، تصویروں اور کھیل تماشوں پر بھی۔ نیز وہ کلب اور ہوٹل اور دوسرے ادارے بھی ان کی زد میں آجاتے ہیں جن میں مخلوط رقص اور مخلوط تفریحات کا انتظام کیا جاتا ہے۔قرآن صاف کہہ رہا ہے کہ یہ سب لوگ مجرم ہیں۔ صرف آخرت ہی میں نہیں دنیا میں بھی ان کو سزا ملنی چاہیے۔ لہٰذا ایک اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اشاعت ِ فحش کے ان تمام ذرائع و وسائل کا سدّباب کرے۔ اس کے قانونِ تعزیرات میں ان تمام افعال کو مستلزمِ سزا ، قابلِ دست اندازی پولیس ہونا چاہیے جن کو قرآن یہاں پبلک کے خلاف جرائم قرار دے رہا ہے اور فیصلہ کر رہا ہے کہ ان کا ارتکاب کرنے والے سزا کے مستحق ہیں۔(تفہیم القرآن، ج۳، ص۳۷۰-۳۷۱)

ظاہر ہے کہ یہ اسلامی قانون ہے اور اسلامی قانون کا نفاذ معیارِ مطلوب کی حد تک اسی وقت ہوسکتا ہے جب اسلامی حکومت قائم ہو۔ لیکن آج دنیا کا ہرباضمیر، حسّاس اور باشعور شخص اپنی عزت و آبرو محفوظ رکھنا چاہتا ہے تو آخر دوسروں کے حق میں اس فکر کو جِلا کیوں کر نہیں ملتی۔ یقینا آج ہتک عزت کا قانون جمہوری حکومتوں میں رائج ہے اور اس کے مطابق کم و بیش فیصلے بھی ہوتے ہیں اور بسااوقات عدلیہ کی طرف سے راحتیں بھی ملتی ہیں۔ لیکن ذرائع ابلاغ جو بسااوقات حقائق و معارف کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں، انسانوں کی عزت کو دائو پر لگادیتے ہیں، فتنہ و فساد کو فروغ دیتے ہیں، یہاں تک کہ قتل و خون ریزی تک نوبت آجاتی ہے اور ملک و قوم کی امن و آشتی مخدوش و پُرخطر   بن جاتی ہے، آخر ان کے اس حد تک بے لگام ہونے کے کیا معنی ہیں؟ کیوں نہیں ان کے لیے حدود متعین کی جاتیں اور ایک حدتک انھیں پابند کیوں نہیں کیاجاتا؟ اگر ایسا ہو تو ذرائع ابلاغ کو استعمال کرنے والے افراد و اشخاص بہت حد تک محتاط و ہوشیار رہیں گے۔ انھیں افراد اور جماعتوں کی عزت و آبرو کا بھی خیال ہوگا اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے بھی فکرمند ہوں گے۔ کم از کم   اس قسم کی کارروائی کے ذریعے افواہوں کو ہوا دے کر معاشرے کا ماحول مکدر کرنے سے یقینی طور پر ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران گریزاں ہوں گے اور بالآخر بڑی حد تک میڈیا میں شفافیت آئے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ذرائع اطلاعات و نشریات پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ عدلیہ ہی اس سلسلے میں تعزیرات کے نفاذ کے ذریعے مؤثر اور قابلِ ستایش رول ادا کرسکتی ہے، کیوں کہ ذرائع وسائل نشریات بالعموم حکومت وقت کے اشارۂ ابرو پر سرگرمِ عمل رہتے ہیں۔

  • اسلام اور مسلمانوں کے خلاف تعصب:آج قومی اور بین الاقوامی میڈیا کا مرکز توجہ اسلام اور مسلمان ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا پر اپنا تسلط جمانے والے اصحابِ حل و عقد آج اس مشن میں محو و مستغرق ہیں کہ صحیح اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کردیا جائے، اور ایسے اسلام کو باقی رکھا جائے جو دنیا میں بے حس و حرکت اور معذور و مجبور بن کر رہے۔ جن کے نام لیوا زندہ تو رہیں لیکن انسداد شروفتنہ، قیامِ امن، خدا کے گھر میں خدا کے قانون کے نفاذ اور صرف اور صرف ایک خدا کی خدائی کے علَم بردار بن کر وہ دوسرے مذاہب و اقوام کے علی الرغم اپنی سمت ِسفر متعین نہ کریں۔

انسانیت نوازی اور بشر دوستی کی جو تعلیمات قرآن و سنت سے مترشح ہوتی ہیں، دنیا کا کوئی مذہب ان کے عشرعشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ تمام مخلوقات ارضی و سماوی میں انسان کو اشرف بنائے جانے کا اعلان ہو(التین ۹۵:۴)، یا پوری انسانی برادری کے مکرم اور معزز ہونے کا اعلامیہ (بنی اسرائیل ۱۷:۷۰)،کائنات کی تمام اشیا کا انسان کے لیے پیدا کیے جانے اور اس کے لیے مسخر کرنے کا فرمان ہو(النحل ۱۶:۱۲، لقمان ۳۸:۲۰، الجاثیہ ۴۵:۱۳)،آدم ؑ و حوا ؑ کی تمام اولاد کو یا دنیا کے ہرخطہ، رنگ اور نسل کے انسانوں کو عالم گیر اور آفاقی رشتے میں پرو کر ایک ماں باپ کی اولاد قرار دینے کی تلقین ہو (النساء۴:۱، الحجرات ۴۹:۱۳)،  یا پھر ایک انسان کے قتلِ ناحق کو ساری انسانیت کے قتل کے مترادف اور ایک انسان کی زندگی کو سارے انسانوں کی زندگی بچانے کے برابر قرار دینے کی تعلیم و ہدایت ہو(المائدہ ۵:۳۲)___ہرلحاظ سے اسلام انسانیت کا عظیم ترین نجات دہندہ ہے اور انسانوں کے مابین اخوت و محبت ، رحمت و رافت اور ہمدردی و بشردوستی کی تعلیمات کا سب سے بڑا علَم بردار ہے۔ یہ محض دعویٰ نہیں بلکہ تمام بندگانِ خدا کے لیے بھیجے گئے ہدایت نامہ قرآنِ مجید کی بنیادی تعلیمات کو اگر ایک شخص تعصب کی عینک ہٹاکر دیکھے تو اس کے سامنے اس دعویٰ کی صداقت آشکار ہوجاتی ہے۔ توحید کی تعلیم دراصل ایک خدا کو ماننے اور اسی کا تابع فرمان ہوکر رہنے کی تعلیم ہے۔ یہ تعلیم ایک انسان کو تمام جھوٹے خدائوں سے متنفر کردیتی ہے اور اس کی گردن سے تمام باطل خدائوں کا قلادہ اُتار کر ایک خدا کی عبودیت کا تاج اس کے سر پر رکھتی ہے۔ خدائوں کے جھرمٹ میں رہتے ہوئے ایک شخص ذہنی اور نفسیاتی لحاظ سے اضطراب و بے چینی کا شکار ہوتا ہے، جب کہ ہزاروں خدائوں کے مقابلے میں ایک خدا کو خوش کرنا اس کے لیے آسان بھی ہوتا ہے۔ اسی طرح رسالت کا عقیدہ انسان کو خدا کی مرضی کے حصول کے مستند ترین اور عملی طریقے کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسی طرح آخرت کی تعلیمات دنیا کی اس چند روزہ زندگی میں انسان کو ذمہ دار اور جواب دہ بنادیتی ہیں۔

یہ بنیادی تعلیمات انسانی عظمت کی نمایندہ اور نقیب ہیں۔ ان درخشاں تعلیمات کے باوجود اگر اسلام کو انسانیت کا دشمن قرار دیا جائے اور اس دین و مذہب کو خونخواری سے منسوب کیا جائے تو اس سے بڑی بددیانتی اور بے حیائی کیا ہوسکتی ہے۔ لیکن یہ سچ ہے کہ آج بین الاقوامی سطح پر اسلام کی شبیہہ بگاڑنے کی سعیِ نامشکور کی جارہی ہے۔ اسلام کو انتہاپسندی، خونخواری اور دہشت گردی سے منسوب کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو امن و آشتی کا دشمن اور دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ میڈیاکے نزدیک جو جتنا صحیح العقیدہ اور پختہ مسلمان ہے وہ اتنا ہی بڑا دہشت گرد ہے اور جو مصالحت، مفاد پرستی اور ابن الوقتی کا ثبوت دے کر وقتاً فوقتاً اپنے موقف کو بدلتا رہتا ہے وہ پسندیدہ اور محبوب ہے اور اسے سیکولر ہونے کا تمغا دیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جس اسلام سے امن و آشتی کے جھوٹے دعوے داروں اور اقتدار کے متوالوں کو خطرہ ہے وہ دراصل انتہاپسندی اور دہشت گردی ہے، اور جس اسلام سے من مانی کرنے والوں، خودساختہ قوانین کو نافذ کرنے والوں اور اقتدار کے پجاریوں کو خطرہ نہیں ہے اور ان کے ذاتی، گروہی اور ملکی مفادات مجروح نہیں ہوتے، وہ اسلام انھیں محبوب ہے اور ایسے ہی مسلمان دراصل ان کے معیار پر پورے اُترتے ہیں۔

میڈیا کا کردار اور قرآنی تعلیمات

  •  تقویٰ اور خدا خوفی:نیکی و صالحیت کے لیے آمادہ کرنے والی مہتم بالشان چیز تقویٰ یا خوفِ خدا ہے۔ یہ خوفِ خدا زبردست ضابطے و حکمراں (controller) کی حیثیت رکھتا ہے۔ معاشرے کی کوئی روایت، حکومت کا کوئی ضابطہ اور پولیس کا کوئی ڈنڈا آبادی میں، روشنی میں، چوراہوں اور شاہراہوں پر تو کام آتا ہے، لیکن آبادی سے دُور کسی صحرا اور کسی ویرانے میں ، بندکمرے میں، مخصوص چہاردیواری کے اندر یا رات کی مہیب و پُرخطر تاریکی میں صرف اور صرف تقویٰ کا قانون کام کرتا ہے۔ اگر انسان کے قلب و ضمیر پر اس خدائی قانون کی حکمرانی ہوجائے تو انسان راست رو، اعتدال پسند اور ہرمعاملۂ زندگی میں اپنے خالق حقیقی کی مرضی کا تابع بن جاتا ہے، اور افراد اور معاشرہ جو اس قانون کی عظمت کا علَم بردار بن جاتا ہے وہ اللہ کی نظر میں صحیح معنوں میں مکرم و معزز ہوجاتا ہے(الحجرات۴۹:۱۳)۔ اس قانونِ الٰہی سے متعلق ربانی ہدایات جابجا قرآنِ کریم میں موجود ہیں(ملاحظہ کیجیے: البقرہ ۲:۱۹۴، ۱۹۶، ۲۰۳، اٰل عمرٰن ۳:۱۰۲، المائدہ ۵:۲،۴،۷، ۳۵، ۵۷، الانفال۸:۱، التوبہ۹:۱۱۹، الاحزاب ۳۳:۷۰، الحدید۵۷:۲۸)۔ یہ تقویٰ انسان کو اخلاقی قدروں کا پاسباں، محبت و بشر دوستی کا محافظ اور عدل و قسط کا پیامی بناکر گویا اس فانی زندگی میں بھی متاع بے بہا ثابت ہوتا ہے اور آخرت کی لازوال مسرتوں کے حصول میں اس قانونِ الٰہی کے لاثانی توشۂ راہ ہونے میں کوئی شبہہ باقی نہیں رہتا۔

سورئہ حشر میں خوفِ خدا کے اسی قانون کے اختیار کرنے کی تلقین کی جاتی ہے:

یٰٓـیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط  (الحشر۵۹:۱۸) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہرشخص کو اس بات کے لیے فکرمند ہونا چاہیے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔

ایک جگہ تقویٰ کی فضیلت بایں طور بیان کی جاتی ہے کہ انسان کا کوئی بھی نیک عمل اللہ کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے ہم کنار نہیں ہوتا جب تک تقویٰ کے قانون پر عمل پیرا ہوتے ہوئے نہ کیا جائے۔ بڑی سے بڑی قربانی اور عظیم سے عظیم تر عمل قبولیت سے محروم رہتا ہے، دل کی دنیا پر اگر خوفِ خدا کی حکمرانی نہ ہو۔ فرمایا جاتا ہے:

لَنْ یَّنَالَ اللّٰہَ لُحُوْمُھَا وَ لَا دِمَآؤُھَا وَلٰکِنْ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنْکُمْ ط (الحج۲۲:۳۷) (جانوروں) کے گوشت اللہ تک ہرگز نہیں پہنچتے ہیں اور نہ ان کا خون ہی، مگر اس کی بارگاہ میں تمھارا تقویٰ پہنچتا ہے۔

دنیا کا ہر آدمی آخرت کا مسافر ہے (بخاری)۔ مسافر راستے کو منزل نہیں قرار دیتا بلکہ اس کی نگاہ منزل پر رہتی ہے۔ سفر بھی اچھی طرح گزر جائے اور منزل کی یافت بھی آسان تر ہوجائے، اس کے لیے تقویٰ ہی دراصل توشۂ راہ ہے۔ اور صحیح معنوں میں یہ تقویٰ اس فانی زندگی کی سعادتوں سے بھی ایک شخص کو مالامال کرتا ہے اور اس زندگی کے بعد کی ابدی زندگی کے لیے بھی  نوید مسرت ثابت ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید کی اس سلسلے میں جامع تعلیم ہے:

وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰٓاُولِی الْاَلْبَابِ (البقرہ ۲:۱۹۷) اور زادِ راہ ساتھ لے لو اور سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔ پس اے ہوش مندو! میری نافرمانی سے پرہیز کرو۔

اس خوف و خشیت الٰہی کی بنیاد پر ایک فرد اور معاشرے کی زندگی میں جن اخلاقِ فاضلہ کی نشوونما ہوتی ہے، اس کی بناپر رب العالمین کی جانب سے اس کے معزز ہونے کا اعلان ہوتا ہے:

اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ ط (الحجرات۴۹:۱۳) درحقیقت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمھارے اندر سب سے زیادہ     خدا سے ڈرنے والا ہے۔

  •  راست بازی اور عدل و انصاف:صدق اور عدل، تقویٰ کے نمایاں ترین مظاہر میں سے ہیں۔ قرآنِ مجید میں کہیں سچائی کا طریقہ اختیار کرنے والوں کو متقین سے تعبیر کیا جاتا ہے (البقرہ ۲:۱۷۷)، تو کہیں عدل و انصاف کے طریقے کو تقویٰ سے قریب تر بتایا جاتا ہے (المائدہ ۵:۸)۔ صدق و عدل ذرائع ابلاغ کا حسین زیور ہیں۔ میڈیا اگر ان اوصاف سے عاری ہوجائے اور اس کے بجاے پروپیگنڈا، جھوٹ، فریب، ناانصافی، دھوکا اور تعصب کے دلدل میں پھنس جائے تو اپنی وقعت کھو بیٹھتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان عیوب و نقائص کے ساتھ عصرِحاضر میں بے پناہ قوت و اثر کا حامل میڈیا اپنے ہی ہاتھوں اپنے پائوں پر کلہاڑی مارتاہے اور عوام و خواص کی نگاہوں میں مشکوک و مشتبہ ہی نہیں بلکہ مذموم بن جاتا ہے۔ صحت مند اور کامیاب میڈیا کے لیے قرآن مجید کی یہ آیت مہمیزکا کام کرتی ہے اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داروں کو فکروعمل کی دعوت دیتی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے اللہ رب العزت کا ارشاد جس میں صدق و عدل کی دونوں خصوصیات اصلاحِ اعمال اور عفو تقصیرات کی ضمانت کے طور پر جلوہ گر ہیں:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاo یُّصْلِـحْ لَکُمْ اَعْمَالَکُمْ وَ یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط  وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًاo(الاحزاب۳۳:۷۰-۷۱) اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور درست بات کیا کرو۔ اللہ تمھارے اعمال سنوار دے گا اور تمھارے گناہوں کو معاف فرمائے گا۔ اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔

حضرت شاہ عبدالقادرؒ کے ترجمے کے مطابق سیدھی سچی اور پختہ بات کے عادی ہونے پر اصلاح اعمال کا جو وعدہ ہے وہ صرف آخرت کی زندگی کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ اس عارضی اور غیرمستقل زندگی کے نقطۂ نظر سے بھی ہے۔ گویا دینی اور دنیوی دونوں قسم کے اعمال کی درستی کا وعدہ اللہ رب العزت کی طرف سے ہے۔ لہٰذا جو شخص قولِ سدید کا عادی ہوجائے، یعنی کبھی جھوٹ     نہ بولے، سوچ سمجھ کر کلام کرے، کسی کو فریب نہ دے، اس کے اعمال آخرت میں بھی درست ہوجائیں گے اور دنیا کے کام بھی بن جائیں گے۔ (مفتی محمد شفیع، معارف القرآن، جلد۷، ص ۲۴۲)

  •  جواب دھی کا احساس اور فکرِ آخرت:کوئی فرد، معاشرہ، تنظیم اور حکومت جب ذمہ دار اور جواب دہ ہو تو اس سے حُسنِ عمل اور اچھی کارکردگی کی توقع ہوتی ہے۔ یوں بھی اس کی تعبیر کی جاتی ہے کہ جو شخص یا معاشرہ جتنا ذمہ دار اور جواب دہ ہوتا ہے اتنا ہی اس کی جانب سے خیر کی توقع ہوتی ہے۔ وہ ہرقدم پھونک پھونک کر رکھتا ہے اور خدمت انسانیت میں وہ پیش پیش ہوتا ہے۔ موت کے بعد کی زندگی سے متعلق عقیدہ کم و بیش ہرمذہب میں پایا جاتا ہے۔ یہ عقیدہ جتنا صاف اور شفاف اور واضح و مبرہن ہو، عملی زندگی میں اس کے مظاہر اسی کے لحاظ سے اعلیٰ و ارفع ہوتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی تعلیمات اس سلسلے میں یہ ہیں کہ یہ دنیا و مافیہا فانی ہے(الکہف ۱۸:۸، الرحمٰن ۵۵:۲۶)۔ یہاں کی صعوبتیں وقتی اور راحتیں زوال پذیرہیں۔ انسان پوری کائنات میں اشرف و اکرم ہے اور اس کی تخلیق اس لیے ہوئی ہے کہ وہ اس تغیر آشنا اور زوال پذیر زندگی میں آزمایا جائے(الکہف ۱۸:۷، الملک ۶۷:۲)۔ گویا دنیا کی اس زندگی کو امتحان گاہ کی حیثیت حاصل ہے جس کا نتیجہ اس چند روزہ زندگی کے بعد ملے گا، جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ من پسند عیش میں ہوگا اورجس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا(القارعۃ ۱۰۱:۶-۹)۔ نیکی و بدی ذرہ برابر بھی چھپ نہ سکے گی اور ہر ایک اس کے مطابق اجروثواب یا عتاب و عذاب پائے گا (الزلزال ۹۹:۷-۸)۔ جب میڈیا کے ذمہ داروں میں اس زندگی کے بعد کی زندگی کا یقین تازہ اور عقیدہ مستحکم ہوجائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کے لحاظ سے حساس ہوں گے، بُرائیوں سے مجتنب ہوں گے اور اچھائیوں کے فروغ کی کوشش کے ذریعے خدمت انسانیت کا حق ادا کریں گے، کیوں کہ خداے بزرگ و برتر کے سامنے جواب دہی کا احساس کسی کو بھی اعمالِ صالحہ کی انجام دہی میں  متحرک و فعال بنائے رکھتا ہے۔ اگر وسائل ترسیل اور ذرائع ابلاغ کے ذمہ داران اس جہت سے اپنے آپ کو تیار کرلیں اور اس دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی ابدی اور لازوال مسرتوں کے  طلب گار بن کر لائحہ عمل طے کریں تو یقینی طور پر خوش گوار تبدیلیاں وقوع پذیر ہوں گی۔

موت کے بعد کی زندگی کا احساس اور خوفِ خدا، یہ بنیادی اوصاف ہیں جن کا حامل ایک فرد ذمہ دارانہ زندگی گزارتا ہے۔ اس دنیا کو وہ امتحان گاہ اور آخرت کی کھیتی سے تعبیر کرتا ہے اور اس کے لیے کوشاں و سرگرمِ عمل رہتا ہے، تاکہ عالم نتیجہ گاہ میں اپنے آپ کو سرخ رُو اور سعادت مند بنائے۔ اسی طرح خوفِ خدا کی بنیاد پر اس کے اندر ان اخلاقِ حسنہ کو جِلاملتی ہے جن کی بناپر وہ بہت محتاط ہوجاتا ہے اور ہرشعبۂ عمل میں خدا کی مرضی کا علَم بردار بن کر اپنی مصروفیات و مشغولیات کا رُخ متعین کرتا ہے۔ اس لیے کہ اسی بیش قیمت سرمایے کی بناپر خالقِ حقیقی کی طرف سے معزز اور مؤقر ہونے کی بناپر سند اعزاز بھی عطا کی جاتی ہے۔ یقینا یہ دونوں قرآنی تعلیمات میڈیا یا ذرائع ابلاغ کو انسانیت کے لیے بامقصد اور مفید مطلب بنانے میں سرگرم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان خصوصیات کو توشۂ راہ بناکر میڈیا اگر رخت ِ سفر باندھے اور دنیا کی منڈی میں آئے تو ایک طرف بلاشک و شبہہ عوام و خواص اور علما و جہلا سب کی جانب سے راست رو، ایمان دار، بے باک اور شفافیت سے پُر ہونے کی سند حاصل ہوگی، اور دوسری طرف بے لاگ تبصروں اور خبر رسانی کے یہ ذرائع ان کے ذمہ داروں کو خالق حقیقی کی نگاہ میں بھی محترم اور باعزت بنادیتے ہیں۔

  •  قیاس و گمان کے بجاے حقائق:قیاس و گمان اور شک و شبہے پر مبنی بات بھی   بے وزن ہوتی ہے اور بالعموم اس قسم کی باتیں کرنے والے افراد یا وسائل اطلاع و ترسیل کو صحت مند فکر کا حامل قرار نہیں دیا جاتا۔ عوام و خواص بھی ایسے ذرائع و وسائل یا ایسے اشخاص و جماعتوں سے بدظن ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ چیزیں حقائق سے اغماض برتنے کی راہ ہموار کرتی ہیں اور افواہوں کو پروان چڑھاتی ہیں جن کے بسااوقات سنگین نتائج تصادم اور جنگ و جدال کی شکل میں سامنے آتے ہیں اور امن و آشتی کے ماحول کو مکدر کردیتے ہیں۔ اس شکل میں میڈیا جس سطح کا ہو، اسی سطح کے مفاسد کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔ قرآنِ مجید کی تعلیم یہ ہے کہ بعض قیاس و گمان اور ظن و تخمین کا سرا گناہوں سے مل جاتا ہے(الحجرات ۴۹:۶)۔ بایںطور ذرائع ابلاغ میں قیاس و گمان صرف یہی نہیں کہ صداقت کے لحاظ سے کسی چیز یا اطلاع کو مشکوک و مشتبہ بنادیتے ہیں بلکہ یہ ارتکابِ گناہ ہوتا ہے۔ قیاس و گمان اور شک و شبہے سے بالا ہوکر حقائق کو شُستہ اور شگفتہ انداز میں منظرعام پر لانا دراصل امانت کا تقاضا ہے۔ اس کے برخلاف شکوک و شبہات کے سہارے کوئی بات کہنا بڑی خیانت ہے اور تلخ نتیجے کے طور پر بسااوقات ندامت و شرمندگی اُٹھانی پڑتی ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ آیت میڈیا کو شفافیت سے ہم کنار کرنے اور بامقصد بنانے کے لیے نسخۂ شافی کے طور پر ملاحظہ کی جائے:

ییُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنْ جَآئَ کُمْ فَاسِقٌم بِنَبَاِ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًام بِجَھَالَۃٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَo (الحجرات ۴۹:۶) اے لوگو جو ایمان لائے ہو اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔

  •  حقائق کو مسخ کرنے اور لغویات کی نفی:عام طور پر ذرائع ابلاغ کا یہ منفی پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ واقعات کو من و عن بیان کرنے کے بجاے حذف و اضافہ اور قطع و بُرید کے ذریعے خبروں کو مسخ کردیا جاتا ہے۔ کبھی کسی کی تعریف اس حد تک کی جاتی ہے کہ آسمان و زمین کے قلابے ملا دیے جاتے ہیں اور کبھی کسی کی تحقیر و تذلیل پر ذہن آمادہ ہوتا ہے تو اسے ذلت و پستی کے قعرعمیق میں گرا دیا جاتا ہے۔ حقائق اور واقعات کو دل نشیں پیرایۂ بیان میں بیان کرنا قابلِ ستایش ہے لیکن نمک مرچ لگاکر، تصنع اور تکلف کے لبادے میں ملمع کاری کرنا اور تفریح طبع کا سامان اس طور پر پیش کرنا کہ حقائق و واقعات سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو، محض نیک نامی، شہرت اور بازار میں اپنی قیمت منوانے کا سطحی ذریعہ تو بن سکتا ہے لیکن میڈیا کے نام پر یہ جذبات کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ قرآنِ مجید نے اس عمل کو ’لہوالحدیث‘ سے موسوم کیا ہے جس کی تعبیر کلام دل فریب یا کلامِ لغو سے بھی کی جاتی ہے۔ ایسے کلام دلفریب دراصل ضلالت و گمراہی کا باعث بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عملِ بد کا انجام بھی اہانت آمیز عذاب کی شکل میں ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ ہدایت میڈیا اور ان کے ذمہ داروں سے متعلق ایک زبردست تنبیہہ ہے جس کے اندر وعظ و نصیحت کا سامان بھی موجود ہے:

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ق  وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا ط  اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مُّھِیْنٌo (لقمان ۳۱:۶) اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلامِ دل فریب خرید کر لاتا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے علم کے بغیر بھٹکا دے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اُڑا دے۔ ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔

مفتی محمد شفیعؒ کے مطابق آیت کریمہ کا شانِ نزول نضر بن حارث کا وہ نامبارک عمل ہے جو تجارت کی غرض سے فارس کا سفر کیا کرتا تھا اور شاہانِ عجم وغیرہ کے تاریخی قصے خرید کر لاتا، اور قومِ عاد و ثمود وغیرہ کے قرآنی قصوں کے بالمقابل رستم، اسفندیار اور دوسرے شاہانِ فارس کے قصے محض اس لیے سناتا کہ مشرکین اور کمزور ایمان والے لوگ قرآنِ مجید سے بدک جائیں، اور شاہراہِ ہدایت کے بجاے ضلالت و گمراہی کو اپنا شیوہ بنا لیں۔(معارف القرآن، ج۷، ص ۲۰)

اس سلسلے میں مولانا ابوالحسن علی ندوی کی وضاحت مفید مطلب ہے: ’’لہوولعب اور   تفریح و تمتع کے سازوسامان کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جن کا تعلق کھیل، مقابلوں اور مظاہروں سے بڑھی ہوئی دل چسپی اور محویت و انہماک سے ہے۔ دوسری قسم لطف و تفریح کی گفتگو ہے جس میں پڑکر لوگ فرائض و واجبات اور ذکراللہ سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس میں کہانی قصے اور فحش روایات آتی ہیں۔ یہاں پر اس آیت میں لہوولعب اور کہانی و قصے دونوں کو یک جا کردیا گیا ہے اور اس کو ’لہوالحدیث‘ سے تعبیر فرمایا ہے‘‘۔(مقدمہ: مغربی میڈیا اور اس کے اثرات، نذرالحفیظ ندوی)

اگرچہ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر ایک خاص واقعہ ہے، تاہم قرآنِ مجید  کتابِ ہدایت ہے اور قیامت تک پوری انسانیت کے لیے اپنی اصل افادیت کے ساتھ یہ نوشتۂ ہدایت بصیرت و روشنی کا سامان کرتا رہے گا۔ کسی فرد یا گروہ کے سلسلے میں قرآنِ مجید کی تنقید یا تعریف کا   یہ مقصد قطعاً نہیں ہوتا کہ کسی فرد یا گروہ کو ذلت و پستی کے قعر میں گرا دیا جائے یا کسی کو خراجِ تحسین پیش کردیا جائے، بلکہ اس کا مقصد درس و عبرت ہوتا ہے۔ آج کے زمانے میں قرآنِ مجید اسی زورواثر اور اسی شیرینی و سحرانگیزی کے ساتھ انسانی معاشرے سے مخاطب ہے جس طرح آج سے  چودہ سو سال قبل مخاطب تھا۔ زیربحث آیت کریمہ کی معنونیت اس امر میں پنہاں ہے کہ ایک فرد ہو یا معاشرہ یا اطلاعات و نشریات کے ذرائع علم و آگہی کے بغیر اگر باتوں کو نشر کرتے اور سطحی مقاصد کے حصول کے لیے حقائق و شواہد کے بالمقابل خانہ ساز اور خودساختہ افکاروبیانات کی تشہیر کے ذریعے عوام کی تفریح طبع کا سامان کرتے ہیں، تو گویا یہ ناقابلِ معافی جرم ہے۔ اس لیے کہ اس طریقۂ عمل سے حق و صداقت کا رُخ زیبا داغ دار ہوتا ہے بلکہ حقائق پس پردہ چلے جاتے ہیں اور کذب، بطلان، فریب اور جھوٹ معاشرے میں پھیل کر فتنوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔

  •  ضابطۂ اخلاق اور گرفت کی ضرورت: راہنمایانِ ملک اور رٔوساے قوم اگر ایسے افراد کو بے لگام چھوڑ دیتے ہیں اور عدلیہ بھی اگر ان کے ان افعالِ رذیلہ سے بے اعتنائی برتتی ہے، تو ملک و قوم میں امن و آشتی، راست روی، حق گوئی اور حقائق سے آگہی کے لیے فضا ہموار نہیں کی جاسکتی اور ملک و قوم کو معنوی ترقیوں سے ہم کنار نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے ایسے افراد یا میڈیا بہرحال پُرامن اور خوش حال زندگی کے لیے چیلنج ہیں اور ان سے سخت طریقے سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مذکورہ آیت سے متعلق عبداللہ یوسف علی کی راے ہے: ’’ان افراد کے ذریعے زندگی کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے جو ان معاملات و مسائل کا شعور رکھتے ہیں جن سے زندگی متعلق ہے۔ لیکن (معاشرے میں) غیرسنجیدہ اور بے ہودہ ذہنیت کے لوگ بھی ہوتے ہیں جو لغو باتوں اور بے حقیقت قصوں کو صداقت اور حقائق پر ترجیح دیتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو بجاطور پر ملامت زدہ ہیں‘‘۔(Abdullah Yousuf Ali: The Meaning of the Holy Quran, p 1034, )

ذرائع ابلاغ یا وسائل نشریات کی اہمیت عصرِحاضر میں مسلّم حقیقت کے طور پر تسلیم کرلی گئی ہے۔ یہ ذرائع ابلاغ جن افراد، جماعتوں اور حکومتوں کے زیرسایہ پروان چڑھتے ہیں یا ان پر جن لوگوں کی گرفت مضبوط ہوتی ہے دراصل آج کے دور میں باعزت، طاقت ور اور مؤثر وجود کی حیثیت سے ان کی شناخت ہوتی ہے۔ یہ ذرائع جن کی دسترس سے باہر ہیں یا جو کسی وجہ سے ان سے قربت کی شکل پیدا نہیں کرپاتے، دراصل وہ گوشۂ گمنامی میں ہوتے ہیں اور کمزور و پس ماندہ افراد و طبقات کی حیثیت سے دنیا کے پردئہ سیمیں پر دیکھے جاتے ہیں۔

میڈیا دو دھاری تلوار کی طرح طاقت رکھتا ہے۔ تلوار کا استعمال شروفساد کا خاتمہ کرنے کے لیے اور امن وآشتی کی پُربہار فضا قائم کرنے کے لیے بھی ہوتا ہے اور اس کااستعمال قتل و خوں ریزی کے لیے اور فتنہ و فساد کے جذبات کو بھڑکانے کے لیے بھی ہوتا ہے۔ غورطلب بات یہ ہے کہ یہ تلوار کس کے ہاتھ میں ہے۔ آیا یہ تلوار ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو امن وآشتی کامفہوم نہیں جانتا، جو انسانی قدروں کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھتا اور جو اخلاقی قدروں کی پامالی کو اپنا شیوہ بناتا ہو،  یا یہ تلوار ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جس کی سرشت میں عدل و انصاف ہو، امن و آشتی کو نعمت غیرمترقبہ سمجھتا ہو، انسانی اقدار کا پاسباں اور نقیب ہو اور اخلاقیات اس کی ترجیحات میں ہوں۔ کامیاب میڈیا دراصل وہی ہے جس کے اہل حل و عقد میں ایک طرف اس کائنات کے حقیقی مالک کا خوف قلب و ضمیر پر حکمرانی کرتا ہو اور دوسری طرف جو موت کے بعد کی زندگی میں اپنے آقا کے سامنے اعمال کی جواب دہی کا احساس رکھتے ہوں۔ اس کے علاوہ راست گوئی، عدل و انصاف اور تحقیق و تمحیص کی بنیاد پر کہی گئی باتیں ہی دراصل علمی دیانت داری کا مظہر ہیں اور یہی چیزیں علاقہ، قوم، ملک بلکہ پوری دنیا میں انسانی قدروںکی افزایش کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ یہی چیزیں خدمت ِقوم  بلکہ خدمت ِانسانیت کا حق ادا کرنے کے لیے قوتِ محرکہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

موجودہ ذرائع ابلاغ خواہ طباعتی ہوں یا برقیاتی، علاقائی سطح پر ہوں یا ملکی سطح پر یا پھر بین الاقوامی سطح پر، وہ افراد ہوں جن کا شیوہ ہی فسق و فجور اور بے حیائی و بدکرداری ہو یا وہ معاشرہ ہو جو شرانگیز اور فتنہ پروروں کو نہ صرف یہ کہ انگیز کرتا ہو بلکہ محویت و استغراق کے ساتھ ان کے قافلے میں شریک ہوجاتا ہو، ایسے افراد و اشخاص یا ایسی جماعتیں اور تنظیمیں یا ذرائع ابلاغ اور اطلاعات کے وسائل  نہ صرف یہ کہ قابلِ مذمت ہیں بلکہ قابلِ مواخذہ ہیں، اور ملک و قوم کی امن و آشتی کے لیے اور  عوام و خواص کی مرفّہ الحالی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عدلیہ کی سطح پر ان پر سخت کارروائی ہو۔ قرآنِ مجید اس سلسلے میں راہنما نقوش یہ دیتا ہے کہ اس فانی زندگی میں اس قسم کے جرائم کی سنگینی کے پیش نظر انھیں کیفروکردار تک پہنچایا جانا چاہیے، اگرچہ موت کے بعد کی زندگی میں رب السموات والارض کی طرف سے ان کے لیے دردناک عذاب کی نوید بھی ہے۔

میڈیا جہاں ملک و قوم اور افراد و معاشرے کی زندگی کے دوسرے گوشوں میں خیانت کا ارتکاب کرتا ہے، ان میں سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ ایک مخصوص مذہب کے خلاف انھیں استعمال کیا جارہا ہے۔ اسلام جو عالم گیر بھائی چارگی کا تصور دیتا ہے، تمام معبودانِ باطل سے متنفر کرا کے خداے واحد کی عبودیت کا تاج سر پر رکھتا ہے، انسان کو اشرف و اکرم کا اعزاز بخشتا ہے، تسخیرکائنات کا پروانہ سونپتا ہے اور ایک انسان کے قتل ناحق کو ساری انسانیت کے قتل ناحق کے مترادف قرار دیتا ہے۔ ایسے آفاقی اور انسانیت نواز مذہب کے رُخ زیبا کو انتہاپسندی، خوں خواری اور دہشت گردی جیسے الفاظ سے داغ دار کیا جا رہا ہے اور لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِھِمْ (الصف ۶۱:۸) کے اعلان کے مطابق پوری دنیا اللہ رب العزت کی اس بیش قیمت نعمت اور انسانیت نوازی کے سب سے بڑے نقیب مذہب کو حرفِ غلط کی طرح مٹادینے کے لیے سعی میں مصروف ہے۔

تقویٰ یا خوفِ خدا ہی دراصل وہ ضابطۂ حکمراں اور زبردست قوتِ محرکہ ہے جو افراد و معاشرے کو اور میڈیا کے علَم برداروں کو بے لگام ہونے سے بچاسکتا ہے۔ قلب وضمیر اگر خوفِ خدا کے نشیمن بن جائیں تو ہرجگہ اور ہروقت انسان اس خدائی قانون کے تابع ہوکر منکرات و سیّات سے گریزاں ہوتا ہے اور خیر و حسنات کا پیامی بن جاتا ہے۔ صدق اور عدل تقویٰ کے عظیم ترین مظاہر ہیں۔ اس سلسلے میں قرآنِ مجید نے ’قولِ سدید‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ دروغ گوئی سے اجتناب کیا جائے۔ سوچ سمجھ کر گفتگو کی جائے، فریب دہی سے باز رہا جائے اور دل خراش کلمات سے گریزاں ہوا جائے۔ اسی طرح قیاس و گمان اور شک و شبہے پر مبنی بات ہلاکت انگیزی کا سبب ہے۔ اس کی بنیاد پر میڈیا ماحول اور معاشرے کو مکدر کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتا اور اپنا اثرورُسوخ کھو دیتا ہے۔ قرآنِ مجید کی یہ درخشاں تعلیم دعوت فکروعمل دیتی ہے کہ گمان و قیاس کی بنیاد پر کہی ہوئی بات صرف یہی نہیں کہ استناد کی میزان پر پوری نہیں اُترتی، بلکہ یہ گناہ ہے اور بسااوقات انسان کو اس طریقۂ عمل سے شرمندہ و نادم ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح لگائی بجھائی کرنا، نمک مرچ لگاکر باتیں پیش کرنا، تصنع اور تکلف کا لبادہ پہننا اور اُمور ومسائل پر ملمع کاری کرنا، یہ ساری چیزیں صحت مند میڈیا کے خلافِ شان ہیں۔ قرآن اسے ’لہوالحدیث‘  سے موسوم کرتا ہے، جس کی تعبیر کلام دل فریب یا لغو اور مہمل بات سے بھی کی جاسکتی ہے۔ اس قسم کی باتیں ایک صحت مند معاشرے کو جلا نہیں دیتیں بلکہ ہدایت کی شاہراہ سے پھیر کر گمراہی کے بے شمار دروازے اور راہیں کھول دیتی ہیں۔ اسی لیے قرآنِ مجید اس قسم کی باتوں کو معاشرے میں فروغ دینے والوں کے لیے اہانت آمیز عذاب کا اعلامیہ جاری کرتا ہے۔

اس امر میں صداقت ہے کہ اگر میڈیا اپنی ذمہ داری کو بحسن خوبی سمجھے، اپنے اعلیٰ و ارفع مقصد کو مستحضر رکھے، خدمت انسانیت کو اپنا شعار بنائے اور ملک و قوم کے ماحول کو پُرامن بنانے کے موقف پر مصر ہو، تو یقینا اس کے اہل حل و عقد قابلِ ستایش اور لائقِ مبارک باد ہیں۔ لیکن میڈیا کے یہ مثبت پہلو اسی وقت بامعنی اور بامقصد ہوسکتے ہیں جب کہ خوفِ خدا کے قانون کو جگہ دی جائے، موت کے بعد کی زندگی اور اس میں محاسبۂ عمل کی یاد کو تازہ رکھا جائے، عدل و صدق کو   شیوئہ حیات بنالیا جائے، قیاس و گمان اور شک و شبہے سے اجتناب کرتے ہوئے استناد کو محبوب   رکھا جائے، اور حقائق و مسائل کو من و عن دل نشیں پیرایۂ بیان میں واشگاف کردیا جائے۔


٭ مقالہ نگار علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی ، علی گڑھ، بھارت سے وابستہ ہیں۔

کسی بھی قوم کا عروج اس پر منحصر ہے کہ وہ فکرونظر اور علم و دانش کی کس شاہ راہ پر گامزن ہے۔ فلک بوس عمارتیں‘ دعوت نظارہ دیتی ہوئی شاہ راہیں‘ دل کش اور جاذبِ نظر مراکز تجارت ترقی و کامرانی کے سطحی مظاہر ہیں جن سے قوم ووطن کی حقیقی عظمت و رفعت کی ترجمانی نہیں ہوتی۔ فی الحقیقت ذہنی آزادی‘ افکار و خیالات کی وسعت و ہمہ گیری‘ انسانیت دوستی پر مبنی تعلیمات اور علوم نافعہ کی اشاعت ایک فرد‘ معاشرہ اور قوم کی زندگی کا نوشتۂ تقدیر تیار کرتی ہیں اور دوسری طرف اقوام عالم میں عظمت سے روشناس کراتی ہیں۔ علم و دانش وہ متاع بیش بہا ہے جو فرد اور معاشرے‘ دونوں کی زندگی کو انقلاب آشنا کر دیتی ہے‘ فکر کی کجی ختم ہوتی ہے‘ سوچنے سمجھنے کے انداز مہذب اور نشست و برخاست کے طریقے شائستہ ہو جاتے ہیں‘ مصروفیات و مشغولیات کا رُخ بدل جاتا ہے اور شب و روز میں حیرت انگیز تغیر رونما ہوتا ہے جس کی بنا پر ظلمتوں کا سدباب ہو جاتا ہے اور شاہ راہ زندگی روشن ہو جاتی ہے۔

مخلوقات اراضی و سماوی میں انسان کو شاہ کار کی حیثیت حاصل ہے۔ قوت فکر و شعور کی نعمت سے اُسے نوازا گیا۔ چاند و سورج‘ آسمان و زمین‘ شجر و حجر اور پوری کائنات اس کی خدمت میں مصروف ہے۔ انسان کو تسخیر کائنات کا پروانہ عطا کیا گیا:  وَسَخَّرَلَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مِّنْہُ ط (الجاثیہ ۴۵:۱۳) ’’اور اس نے زمین و آسمان کی ساری ہی چیزیں تمھارے لیے مسخر کر دی ہیں‘‘۔ مخدوم کائنات اور اشرف المخلوقات انسان کی تخلیق کا مقصد بھی اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب عزیز میں واضح فرما دیا:  وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ o (الذاریات ۵۱:۵۶) ’’ہم نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا‘‘۔

اسلام میں عبادت کا جامع مفہوم یہ ہے کہ ہر شعبۂ حیات میں خوفِ خدا کی دلوں پر حکمرانی ہو اور اس کی ہر سعی و عمل پر مرضی مولا کے اشتیاق کی چھاپ ہو۔ اللہ رب العزت سے محبت اور تخلیق انسانیت کی عظیم و مقدس غایت کو کماحقہ عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکتا جب تک کہ علم و فضل کی ضیا پاشیوں سے قلب و ضمیر روشن نہ ہوں۔ اللہ کا دین ایک امانت عظمیٰ کی شکل میں جن بندگانِ خدا کو ملا ہے ان میں سے ہر ایک پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اسے خدا کے ان بندوں تک پہنچائے جو اللہ کے دین سے دور ہیں اور اس نعمت کی قدر و عظمت سے آشنا نہیں ہیں۔ اس مقصد کی بازیابی کے لیے بھی ضروری ہے کہ علم و حکمت کی شمع فروزاں کی جائے اور اس کی دولت گراں بہا سے فیض یاب ہوا جائے۔

علم جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور اس کا فیض پورے معاشرے پر جاری و ساری رہتا ہے۔ خوگر علم اخلاق فاضلہ اور اعمال حسنہ کا علم بردار بن کر حیات اُخروی کی ابدی مسرتوں کے حصول کے گُر جان لیتا ہے۔ علم و حکمت کے زیور سے آراستہ ہونے والوں کے سامنے کائنات کی ساری نشانیاں کھلی ہوئی کتاب ہوتی ہیں‘  انھیں حق و باطل میں کوئی اشتباہ نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب مختلف پیرایۂ بیان میں علم اور اہل علم کی فضیلت بیان کرنی ہے:  قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ  لاَ یَعْلَمُوْنَ ط (الزمر ۳۹:۹) ’’اے محمدؐ! فرما دیجیے کہ کیا جو لوگ زیور علم سے آراستہ ہیں وہ اور جو اس سے محروم ہیں وہ ‘ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘

قرآن اس شخص کو چشم بینا کا متحمل نہیں قرار دیتا جو علم و حکمت کے جوہر سے محروم ہو اور پھر اس کے نتیجے میں راہِ حق پر گامزن ہونے کے بجائے ظلمتوں کا ہم نشین بن جائے۔ قرآن کی نگاہ میں علم کی روشنی رکھنے والا شخص ہی بینا ہے اور اس کے برعکس جو اس سے محروم ہے وہ نابینا اور بے بصارت ہے۔ بینائی سے محرومی تاریکیوں سے عبارت ہے۔  وَمَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ o وَلاَالظُّلُمٰتُ وَلاَالنُّوْرُ o (الفاطر ۳۵:۱۹-۲۰) ’’اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہیں‘ نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں‘‘۔ ایک مقام پر ایمان و ایقان اور علم و عرفان کی نعمت سے بہرہ ور ہونے والوں کے رفع درجات کا اعلان ہوتا ہے:  یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ  لا وَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ط (المجادلہ ۵۸: ۱۱) ’’اللہ تم میں سے اہل ایمان اور علم سے نوازے جانے والے لوگوں کے درجات کو بلند کر دیتا ہے‘‘۔

احادیث نبویؐ بھی علم و فضل کی قدر و منزلت پر سند فراہم کرتی ہیں۔ اللہ کے محبوب ترین بندے خاتم النبیینؐ نے اہل علم و دانش کو انبیا کرام کا ورثہ قرار دیا ہے۔ ان العلماء ھم ورثۃ الانبیا (الصحیح للبخاری‘ ج اوّل‘ کتاب العلم‘ ص ۱۶) ’’بلاشبہ علما ہی انبیا ے کرام کے وارث ہیں‘‘۔  رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر آسمان کے ان درخشاں تاروں سے ان علما کی تعبیر کی جو منزل مقصود تک رسائی کے لیے مشعلِ راہ بنتے ہیں۔ ’’اہل زمین میں علما ستاروں کی طرح ہیں جن کے ذریعے بحروبر کی ظلمتوں میں راہِ  یاب ہوا جاتا ہے‘‘ (مسند احمد‘ ج ۳‘ ص ۱۵۷) ۔

اسلام میں علم و دانش کی فضیلت کا اندازہ اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ انسانیت کی فلاح و بہبوداور ہدایت و کامرانی کے لیے معزز ترین ضابطۂ زندگی کے نزول کا آغاز بھی  اِقْرَاْ (العلق ۹۶: ۱) ’’تو پڑھ‘‘ کی مبارک تعلیم سے ہوتا ہے۔ اس کے معاً بعد وحی الٰہی کے جو الفاظ کتاب الٰہی میں محفوظ ہیں‘ ان کی روشنی میں علم کی روح‘ انسان کی حیثیت‘ اوراللہ کے مقابلے میں انسان کو نوازے گئے علم کی حقیقت پوری طرح عیاں ہے :  اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ o خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ o اِقْرَاْ وَرَبُّکَ الْاَکْرَمُ o الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ o عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ o (العلق ۹۶:۱-۴) ’’تو پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے انسان کو ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمھارا رب کریم ہے‘ جس نے قلم کے ذریعے علم کی نعمت سے بہرہ ور کیا۔ اس نے انسان کو وہ کچھ بتایا جس سے وہ ناآشنا تھا‘‘۔ تحصیل علم کو  رب حقیقی کے نام کے ساتھ مشروط کر کے دراصل قرآن نے اس فکر کا علم بلند کیا ہے کہ علم دراصل پوری انسانیت کے لیے متاع محبوب ہے‘ اور اس کی اہمیت و افادیت اسی وقت مسلمہ ہو سکتی ہے‘ جب کہ خالق حقیقی کو فراموش نہ کیا جائے۔

اسلام علوم و فنون کے مابین جائز و ناجائز کا‘ مستحسن و قبیح اور دینی و دنیوی ہونے کے اعتبار سے کوئی خط امتیاز نہیں کھینچتا  بشرطیکہ یہ مالک حقیقی کے بے پایاں احسانات کے استحضار کے ساتھ اور مرضی مولا کے حصول کے پیش نظر کیے جا رہے ہوں۔ جغرافیہ‘ تاریخ‘ معاشیات‘ سیاسیات اور انگریزی کی تعلیم بھی حالات کے تقاضوں کے پیش نظر بسااوقات دینی ضرورت بن جاتی ہے بشرطیکہ خوشنودی رب کو پیش نظر رکھتے ہوئے کی جائے۔ چنانچہ چاند کا سفر‘ ستاروں کی گزرگاہوں کی یافت‘ سورج کی شعاعوں کی تسخیر‘ خلائوں کی سیر‘ دریا کی موجوں اور سمندر کی لہروں پر گرفت‘ یہ سب مسعود و مبارک بن جاتے ہیں اگر انسان ذکر الٰہی سے اپنی شب تاریک میں قندیل روشن کر لے اور انسانیت کی ظلماتِ حیات کو سپیدی سحر سے بدل دینے کا عزم کر لے۔

اسلامی عبادات کی روح تقویٰ ہے۔ یہ مخصوص اوقات میں محدود مقامات پرایک خاص قسم کی پُرتکلف کیفیت پیدا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ خشیت الٰہی سے عبارت ہے۔ دلوں کی دنیا پر جب خوفِ خدا کے قانون کی حکمرانی ہوتی ہے تو پھر کسی خود ساختہ قانون کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ ہی پولیس کا ڈنڈا برائیوں کا قلع قمع کرنے میں محرک ثابت ہوتا ہے۔ چنانچہ دن کی روشنی ہو یا رات کی تاریکی‘ چوراہا یا  شاہ ر ا ہوں یا بند کوٹھری‘  آبادی ہو یا ویرانہ‘ رزم گاہ ہو یا بزم گاہ‘ ہرجگہ یہ خشیت الٰہی ایک ضابطہ بن جاتی ہے۔ علم و فضل وہ دولت گراں مایہ ہے جو فرد اور معاشرے کی فلاح کی ضمانت ہے۔ اگر تقویٰ کی روح نہ رہے تو انسان کی زندگی میں امن و سکون عنقا ہو جاتا ہے اور پھر یہ صراط مستقیم سے منحرف ہو کر اپنی ناکامی و نامرادی کا نوشتۂ تقدیر خود اپنے ہاتھوں تیار کر لیتا ہے۔ ایک بڑے سے بڑا فلاسفر‘ ماہر سے ماہر طبیب‘ علم کیمیا اور علم طبیعیات کا ماہر ‘ ریاضیات و شماریات کا حاذق‘ خلائوں کا ہم نشیںاور سمندروں میں اپنی دنیا بسانے والا اگر مالک حقیقی کی اطاعت و وفاشعاری اور خشیت الٰہی کے زیور سے آراستہ نہیں ہے توقرآن کی نگاہ میں علم و فضل کا حامل نہیں ہے۔ اسی طرح قرآن وسنّت اور فقہ و سیرت کے میدان میں طبع آزمائی کرنے والے بندگان خدا کی زندگیاں خشیت الٰہی سے محروم ہیں تو قرآن انھیں علما کی فہرست میںشامل نہیں کرتا:  اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰٓؤا ط (الفاطر ۳۵:۲۸) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں‘‘۔

تحصیل علم کے لیے تقویٰ مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ علوم وفنون کی تحصیل کے مراحل میں اگریہ اہم ترین اصول پیش نظر نہ ہو تو علم حقیقی روح سے عاری ہو جاتا ہے اور پھر بندئہ مومن کا مقصد حیات رضاے الٰہی مجروح ہو کر دولت کمانا‘ شہرت و ناموری حاصل کرنا اور جاہ و اقتدار طلب کرنا‘ علم کے مقاصد بن جاتے ہیں۔ جب یہ سطحی چیزیں مقصد حیات بن جائیں تو ایک طرف انسانوں کے مابین اخوت و محبت اور ہمدردی و غم گساری کے جذبات بتدریج معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں اور ظلم و ناانصافی‘ کجی و ہٹ دھرمی اور بغض وعناد کے مظاہر فروغ پاتے ہیں اور مستزاد--- یہ کہ رشد و ہدایت کی شاہ راہ سے گریز کرتے ہوئے شعوری اور غیر شعوری طور پر ضلالت و گمراہی کو قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ایسے ہی محروم القسمت لوگوں کے بارے میں کتاب اللہ میں یہ قول فیصل موجود ہے:  صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ o (البقرہ ۲: ۱۸) ’’یہ بہرے ہیں‘ گونگے ہیں‘ اندھے ہیں‘ یہ اب نہ پلٹیں گے‘‘۔

اس کے برعکس علم حقیقی حق شناسی کی ضمانت بنتا ہے۔ آیات بینات ‘ امثال و قصص اور احکام و ہدایات علم و دانش کے انھی علم برداروں کے لیے سودمند ثابت ہوتے ہیں جو ہر قسم کے تحفظات سے بری ہو کے للّٰہ اور فی اللہ تدبر و تفکر کا شیوہ اختیار کرتے ہیں۔ اس صداقت پر کتاب اللہ کی یہ سند ملاحظہ کی جائے۔ فرمایا جاتا ہے:  وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ ج  وَمَا یَعْقِلُھَآ اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَo (العنکبوت ۲۹:۴۳) ’’اس طرح کی مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں مگر انھیں وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں‘‘۔ دوسرے مقام پر حقیقی علم و فضل کی نعمت سے متمتع ہونے والوں کا طرز عمل یوں سراہا جاتا ہے:  وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْ اُنِزْلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ھُوَ الْحَقَّ لا (سبا ۳۴:۶) ’’اور (اے نبیؐ!) علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے‘‘۔

قرآن مجید میں علم کا مقام و مرتبہ اخلاق و کردار سے مشروط ہے۔ دولت علم سے متمتع ہونے کے بعد ایک شخص کے اندر جہاں بہت سی خوش گوار تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں وہاں تواضع اور خاکساری کا وصف بھی اس کی ذات کو مزین کر دیتا ہے۔ اسے ایک طرف وما اوتیتم من العلم الا قلیلاً کے مطابق اپنے علم کی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے اور دوسری طرف  یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ ج وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْ ئٍ مِّنْ عِلِمْہٖٓ اِلاَّ بِمَاشَآئَ ج  (البقرہ ۲:۲۵۵) ’’وہ بندوں کے سامنے موجود اور اوجھل ساری چیزوں کو جانتا ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز اس کی مشیت کے بغیر ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی‘‘ کے ارشاد کے مطابق رب العالمین کے سرچشمۂ علم و فضل ہونے کا اسے ایمانِ کامل ہوتا ہے۔ اس سے اس کے اندر شکرکے جذبات نشوونما پاتے ہیں اور اس کے اندر کبر اور سرکشی کے جذبات سرد پڑ جاتے ہیں بلکہ خدا کی عطا کردہ نوازش کا احساس اور خالق دوجہاں کے ہی منبع علم ہونے کا ایمان تواضع و انکساری کے لیے مہمیز کرتا ہے۔ الخلق عیال اللّٰہ کی تعلیم نبویؐ کو مستحضر رکھتے ہوئے اور حقوق العباد کے تلف ہونے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اپنے آپ کو ایک ذمہ دار اور جواب دہ شخصیت گردانتا ہے‘ چنانچہ خدمت خلق کے جذبے سے معمور ہو کر اس کے بازو دوسروں کے لیے جھک جاتے ہیں۔ اس کے اندر گیرائی و گہرائی ہوتی ہے لیکن سکوت و خاموشی اس کا شعار ہوتا ہے۔ علم و حکمت کی متاع بے بہا سے اس کی شخصیت بلاشبہ بھاری بھرکم ہو جاتی ہے لیکن وہ شجر ثمربار کے مانند ہوتا ہے جو ہر خاص و عام کی خاطر و مدارت کے لیے جھکا رہتا ہے۔ اس طرح اُسے عباد الرحمن کی ربانی فہرست میں شامل ہونے کا اعزاز مل جاتا ہے:  وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا (الفرقان ۲۵:۶۳) ’’رحمان کے بندے (فی الحقیقت) وہ لوگ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں‘‘۔

انسان اور جانور میں جہاں بہت سے امتیازات ہیں ان میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ جانور عقل و شعور سے محروم رہتا ہے‘ اس لیے اسے حدود و قیود کی پرواہ نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس انسان اس وصف کا حامل ہوتا ہے۔ یہ نعمت خداداد اس کی حرکات و سکنات نیز مسائل حیات اور مشاغل زندگی کو منضبط رکھنے کے لیے مؤثر ثابت ہوتی ہے جس کی بدولت جائز و ناجائز‘ مستحسن و قبیح اور حلال و حرام کی تمیز کرتے ہوئے اقطاع عالم اور انواح حیات میں وہ سرگرم عمل رہتا ہے اور اللہ کی حدود کا احترام ملحوظ رکھتا ہے۔

علم کے مقابلے میں ’’جہل‘‘ کا لفظ قرآن مجیدمیں حقائق کی یافت سے محرومی‘ عناد و تکبّر‘ ضد و ہٹ دھرمی اور تعصّب و تنگ نظری کی بنا پر حقائق و معارف سے اعراض و انحراف کے معانی میں استعمال ہوا ہے۔ آفاق و انفس کی شہادتیں‘ توحید‘ رسالت اور آخرت کے دلائل‘ پیغمبران خدا کی سرگذشتیں اور اقوام بائدہ کے انجام علم سے بے بہرہ اشخاص کے لیے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن بار باریہ حقیقت ذہن نشین کراتا ہے کہ کائنات کی نشانیاں اور آفاق و انفس کی شہادتیں ان لوگوں کے لیے سودمند نہیں ہوتیں جو علم و  آگہی کی نعمت غیر مترقبہ سے شرف یاب نہیں ہوتے۔ جو لوگ تدبر و تفکر کو کام میں نہیں لاتے اور حقائق کی جستجو میں سرگرداں نہیں ہوتے‘ ان کے لیے خالق دوجہاں کی نشانیوں میں خیر کا پہلو حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا اور بسااوقات ان کا عمل حقائق سے دوری‘ اللہ عزوجل پر افتراپردازی اور اپنے ساتھ نوع بشری کی گمراہی پر منتج ہوتا ہے۔ یہ انتہائی شنیع حرکت ہے کہ اللہ رب العزت کے بے پایاں احسانات کو فراموش کرتے ہوئے ایک انسان اس کی طرف خلافِ شان باتوں کا انتساب کرے اور خود پیکر ضلالت بن کر نوعِ انسانی کی گمراہی کا سبب بنے۔: ’’پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کر کے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط راہنمائی کرے‘‘۔ جہل و ناواقفیت کی سنگینی اس آیت کریمہ میں بھی عیاں ہے:  وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ ق (لقمان ۳۱:۶) ’’اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو کلام دل فریب خرید کر لاتا ہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا دے‘‘۔

مولانا مودودی کی یہ وضاحت بھی معنی خیز ہے:

جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانۂ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانے میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس وگمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کر لیے تھے (تفہیم القرآن‘ ج۱‘ ص ۴۷۹)۔

جہل کے اس عام مفہوم کے علاوہ قرآن اس کا ایک اور مفہوم بھی واضح کرتا ہے۔ بعثت نبویؐ سے قبل کے انسانی معاشرے کو پیش نظر رکھا جائے تو یہ قرآنی مفہوم واضح ہو جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کا دور دورِ جاہلیت سے موسوم ہے۔ اگرچہ یہاں قادرالکلام شعرا‘ نابغہ روزگار ادبا اور نادر المثال فصحا جنھیں اپنی قوت گویائی اور زبان دانی پر ناز تھا‘ موجود تھے۔ وہ اپنی قابل رشک صلاحیتوں کی ہی بنیاد پر دوسروں کو طفل مکتب کہہ دینا بھی اپنا پیدایشی حق سمجھتے تھے۔ قرآن پاک اگر انھیں جاہل قرار دیتا ہے تو اس بنیاد پر کہ علوم و معارف سے  آگہی کے باوجود ضد و عناد اور آبا و اجداد کی اندھی تقلید اور ہٹ دھرمی کی بنا پر حق شناسی کی نعمت سے محروم تھے۔ قرآن کے معانی اور اسرار و رموز سے  آگہی کے لیے کلام عرب بھی قیمتی مرجع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چونکہ قرآن پاک کے اوّلین مخاطب اہل عرب تھے اور یہ بعید از قیاس ہے کہ ذات باری تعالیٰ ایسے اسلوب و زبان میں گفتگو کرے جو مخاطب کے فہم و دانش کے معیار کے مطابق نہ ہو۔ چنانچہ جہل کے اس دوسرے مفہوم کا تعیین نابغۂ روزگار جاہلی شاعر عمرو بن کلثوم کے اس شعر سے ہوتا ہے:

الا لایجھلن احد علینا  - فنجھل فوق جھل الجاھلین

خبردار! کوئی ہمارے خلاف جہالت پر آمادہ نہ ہو‘ ورنہ ہم تمام جاہلوں کی جہالت سے بڑھ جائیں گے (جمھرۃ اشعار العرب‘ ص ۱۲۸)۔

حضرت ہودؑ نے اپنی قوم کو خداے واحد کی عبادت کی دعوت دی تو قوم نے ان کے ساتھ تمسخر کیا اور سند کے طور پر عذاب الٰہی طلب کیا۔ پیغمبر وقت نے اللہ تعالیٰ کو سرچشمۂ علم قرار دیا اور اپنی حیثیت واضح کرتے ہوئے ان کی اخلاقی گراوٹ کی تصویرکشی کی:  قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ ز وَاُبَلِّغُکُمْ مَّآ اُرْسِلْتُ بِہٖ وَلٰکِنِّیْٓ اَرٰکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُوْنَ o (الاحقاف ۴۶:۲۳) ’’اور جس چیز کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے‘ اُسے تم لوگوںتک پہنچا دیتا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو‘‘۔ حضرت موسیٰ  ؑنے اپنی قوم کو رشد و ہدایت کی تلقین کی اور گائے ذبح کرنے کے حکم الٰہی کو ان کے گوش گزار کیا تو انھوں نے پیغمبر کی شان میں نازیبا کلمات کہے۔ اس پر پیغمبر نے ان کی جہالت سے پناہ مانگی:  قَالُوْآ اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا ط قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ o (البقرہ ۲:۶۷) ’’ کہنے لگے کہ کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰ  ؑنے کہا: میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں‘‘۔

دعوت و تبلیغ کی راہ میں ایسے صبرآزما مراحل آتے ہیں کہ داعیحق کے قدموں میں لغزش آجاتی ہے لیکن ایسے سنگین حالات میں بھی داعی کے منصب دعوت کے مقام کا تقاضا ہوتا ہے کہ وہ صبروثبات قدمی کا طریقہ اختیار کرے۔ دعوت کے اس مقدس مشن میں ایسے مخاطبیں بھی سامنے آتے ہیں جن کے اذہان و قلوب پر ضد و عناد اور آبا پرستی اور تقلید جامد کی وجہ سے حق کی روشن شعاعوں کا گزر نہیں ہوتا۔ وہ کبر و غرور کے نشے میں بدمست ہو کر دعوت صالحہ سے بے اعتنائی برتتے ہیں۔ تعصّب و تنگ نظری اور آبا پرستی و تقلید محض کو قرآن جہل سے تعبیر کرتا ہے اور ایسی نامبارک روش اختیار کرنے والوں کو الجاھلین یا الجاھلون سے موسوم کرتا ہے۔ داعی ٔحق کو قرآن تلقین کرتا ہے کہ اس مبارک کام میں وہ حکمت کا طریقہ اختیار کرے۔ دعوت کی راہ میں جب کبھی ایسے لوگ منظرعام پر آئیں جو اگرچہ علم و فن کی ثریا پر کمندیں ڈالے ہوں لیکن حق کی باتوں کو سننے اور سمجھنے کے لیے اپنے دل و دماغ کے دریچوں کو مقفل رکھتے ہوں‘ یا ایسے لوگ سامنے آئیں جو کسی کالج یا مدرسے سے سند فراغت تو حاصل کر چکے ہوں لیکن تعصّب و تنگ نظری کا حصار اور بے جا رسوم اور روایات کا طوق سلاسل ان کے قبول حق میں سدّراہ بن رہا ہو تو داعی سے ایسے نامساعد موقع پر حکمت کو روبۂ عمل لانے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ یہاں ایسے ناقدروں سے اعراض کی تلقین کی جاتی ہے: خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰھِلِیْنَo (الاعراف ۷: ۱۹۹) ’’اے نبیؐ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو‘ معروف کی تلقین کیے جائو اور جاہلوں سے نہ الجھو‘‘۔

قرآن جہل کو امّ الامراض قرار دیتا ہے جس کی سنگینی سے یہ ناپایدار زندگی تعفن کا شکار ہو جاتی ہے۔ آدمی جانور بن جاتا ہے اور ضلالت و گمراہی کے قعر عمیق میں گر کر حیات ابدی کی مسرتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ قرآن کی نظر میں وہ جہالت انتہائی سنگین قرار پاتی ہے جو کبر‘ ہٹ دھرمی اور توہم پرستی پر مبنی ہو۔ اس قسم کی جہالت کے علم بردار مادّی علوم و فنون کی نمایاں منزلوں کو طے کرنے کے باوجود دعوت کی لذت و شیرینی اور سحرانگیزی و اثر آفرینی سے نہیں پگھلتے اور اپنے موقف پر نظرثانی کو منافی شان سمجھتے ہیں۔ ان کی طرف سے بسااوقات مفاہمت کی پیش کش بھی ہوتی ہے۔ اسوئہ رسولؐ ہمارے سامنے ہے۔ علم برداران کفر وشرک اور اساطین قریش سمجھوتوں کی پالیسی کے ذریعے دعوت پر قابو پانا چاہتے تھے لیکن اللہ رب العزت کو ان کی یہ ادا انتہائی ناگوار لگی اور اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کفر و جہالت کے ان علم برداروں کی تنبیہ کروائی: لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ o (الکافرون ۱۰۹:۶) ’’(اے نبیؐ! کہہ دو کہ) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین‘‘۔ حق بہرحال حق ہے اور باطل بہرحال باطل ہے۔ حق کی سرشت میں ظہور وغلبہ ہے اور باطل کے لیے شکست و ہزیمت مقدر ہے۔  قل جآء الحق وزھق الباطل ان  البال کان زھوقًا اے نبیؐ! اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا۔ باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔ چنانچہ حق و باطل کی رزم گاہ میں دعوت اور داعی کی عظمت و خودداری کا تقاضا یہ ہے کہ فکرونظر کی جہالت پر مبنی معاہدوں اور سمجھوتوں سے بے نیازی برتے  اور  اعلان کر دے:  لَنآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ز سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ ز لاَنَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَo (القصص ۲۸ :  ۵۵)  ’’ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمھارے اعمال تمھارے لیے۔ تم کو سلام ہے‘ ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے‘‘۔

دین اسلام ایک عظیم ترین امانت ہے جو کلمۂ طیبہ کے علم برداروں کے کاندھوں پر ہے۔ بے کم و کاست اپنی صلاحیت  و استعداد کے مطابق ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اس امانت کو ان لوگوں تک پہنچائے جو اللہ رب العزت کی اس دولت عظمیٰ سے محروم ہیں۔ جوجتنا زیادہ ناواقف اور گم گشتۂ راہ ہے و ہ اتنا ہی زیادہ محتاج و مستحق ہے کہ اس تک اللہ و تبارک تعالیٰ کی یہ امانت روشن اور منزہ شکل میں پہنچائی جائے۔ حالات کے ناخوش گوار اور نامساعد ہونے کی بنا پر اگر انھیں حصولِ علم کی توفیق نہ ملی ہو یا قسّام ازل کی مشیت کے مطابق عقل و فہم کی نعمت سے محروم ہوں تو یہ اور بھی زیادہ لائق توجہ ہیں۔ نذیر و بشیر ہونے کی حیثیت سے دعوت و تبلیغ کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ یقین ہو جائے کہ مخاطب کے سامنے وہ خیروشر کے تمام گوشے کماحقہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود اگر وہ اپنے موقف پر مصر رہتا ہے اور اپنی ہی روش کو محبوب اور قابل تقلید سمجھتا ہے تو داعی کے لیے ایسے مدعو یا مخاطب سے اغماض و اعراض کا اقدام مناسب ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایسے ہی شخص کو قرآن اصل جاہل قرار دیتا ہے اور اس سے دُور رہنے کی تلقین کرتا ہے:  وَّاِذَا خَاطَبَھُمُ الْجٰھِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا (الفرقان ۲۵: ۶۳) ’’ اور جب جاہل ان کے منہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام‘‘۔

علم دولت بے بہا ہے جس سے جینے کا سلیقہ آتا ہے۔ دوسری طرف یہ کسی فرد و معاشرہ اور ملک و قوم کے معنوی وجود کی ضمانت بن کر اقوام عالم میں زندہ قوم کی حیثیت سے روشناس کرانے کا وسیلۂ بھی بنتا ہے۔ یہی وہ نعمت ہے جو حق شناسی‘ تواضع و خاکساری اور حدود اللہ کے احترام کے زرّیں سبق سکھاتی ہے بشرطیکہ علم و دانش کی یہ متاع روح تقویٰ اور خشیت الٰہی سے مالا مال ہو۔ بصورت دیگر علم و دانش میں کوئی شخص ثریا کاہم نشیں بن جائے لیکن اگر اپنی زندگی کی شب تاریک کو روشن نہیں کر سکا اور خالق حقیقی کو پہچاننے سے قاصر رہا تو وہ  علم کی حصول یابی سے محروم ہے۔ اس کے بالمقابل جہل کا لفظ قرآن پاک میں ناواقفیت اور تعصب و تنگ نظری اور ضد وعناد کی بنا پر اپنے موقف پر جمے رہنے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اور بلاشبہ جہل کے یہ دونوں معانی حق شناسی سے محرومی اور جادئہ مستقیم سے دوری پر منتج ہوتے ہیں۔ قرآنی تصریحات کے مطابق جہل بمعنی عدم واقفیت ایک اتفاقی امر و حادثہ ہے۔ جو شخص اس ناخوش گوار امر سے دوچار ہے‘ اس کے قبول حق کے امکانات روشن ہوتے ہیں بشرطیکہ متعلقہ امور و مسائل کے اسرار و رموز بے نقاب کر دیے جائیں۔ اس کے برعکس وہ جہل جو تمام حقائق سے آشنا ہونے کے باوجود ضد و ہٹ دھرمی کی بنیاد پر اپنے نظریۂ و عمل سے تمسک اختیار کرنے سے عبارت ہے‘ یہ انتہائی سنگین اور مہلک مرض ہے۔ اس کا تعلق فکر ونظریہ سے ہے۔ اسی جہل کو قرآن جاہلیت سے بھی تعبیر کرتا ہے۔ فکری جہالت میں مبتلا افراد سے ان کے نظریۂ وعمل کی تبدیلی کے لیے اصرار حکمت کے خلاف اور دعوت و داعی کی عظمت و شان کے منافی ہے۔ آج اگر فرد یا معاشرہ قرآن کے نظریۂ علم کو قبول کرتے ہوئے علم کی حقیقی روح سے اپنے آپ کو مزین کرلے اور جہالت کی تمام تر ظلمتوں کو خیرباد کہ دے‘ بالخصوص تعصّب و تنگ نظری اور ضد و عناد کے دلدل سے نکل کر اپنا رخت سفر باندھ لے تو یہ بعید نہیں کہ فرد و جماعت‘ ملک و قوم بلکہ پورا معاشرہ انسانی حق و صداقت ‘ اخوت و محبت‘ اتحاد و اتفاق‘ وسعت فکروعمل اور خوش گوار اور شایان انسانیت تبدیلیوں کا روح پرور منظر کا دعوت نظارہ دے رہا ہو!۔