محمد جعفر


سید غلام اکبر (۱۶ مارچ ۱۹۳۵ئ-۲۹؍اپریل ۲۰۱۲ئ) ہر دل عزیز شخصیت کے مالک تھے۔ مختلف بیماریوں کے شکار ہونے کے باوجود اُن کی خوش مزاجی میں آخر وقت تک کوئی فرق واقع نہیں ہوا۔شگفتہ مزاجی اُن کی شخصیت کا حصہ تھی۔ تعلیم اور پیشہ کے لحاظ سے مکینیکل اور الیکٹریکل انجینیر تھے ۔ حیدرآباد سے انجینئرنگ کی دو ڈگریاں حاصل کر نے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے روس گئے اور اینٹی کروزین انجینئرنگ میں تخصص کیا۔ روس میں تعلیم کے دوران روسی زبان کی بول چال میں اتنی مہارت حاصل کر لی، کہ اس لیاقت کی وجہ سے کلکتہ کی ایک بڑی کمپنی جس کے معاملات روس کی ایک کمپنی سے تھے، اس میں اُنھیں اچھی ملازمت ملی ۔ کلکتہ کے قیام کے دوران ہی وہ جماعت اسلامی سے زیادہ قریب ہوئے۔ یوں تو جماعت سے اُن کی قربت پہلے سے تھی اور اسی وجہ سے دفتر حلقہ مغربی بنگال شام کے اوقات میں اکثرجایا کرتے تھے اور اپنے مزاج کے مطابق وہاں کا ماحول گلزار بنا رہتا تھا۔ ایک شام اُس وقت کے امیر حلقہ عبدالفتاح مرحوم نے ان سے فرمایا: ’’ایسا لگتا ہے کہ آپ نے جماعت کا قریبی مطالعہ نہیں کیاہے۔ آپ یہاں مکتبے سے جماعت کی رودادیں خرید لیں اور اُن کامطالعہ کرلیں تو اچھا ہے‘‘۔ موصوف نے رودادیں حاصل کرلیں اور اُن کا مطالعہ کر ڈالا۔ اُن کے مطالعے اور تحریر و تقریر کی رفتاربہت تیز تھی۔ جس تیزی سے ان کا ذہن کام کرتا تھا اُسی تیزی سے وہ گفتگو کرتے تھے اور قدم بھی ویسے ہی تیز اُٹھاتے تھے۔

رودادجماعت کے مطالعے کے بعد ان کا تحریک سے رشتہ پختہ شعور کے ساتھ قائم ہوگیا۔ ۱۹۹۱ء میں جماعت کے رکن بن گئے۔ رودادجماعت کی یہ بڑی خصوصیت ہے کہ یہ اپنے قاری کے اندر تحریکی شعور اور اسپرٹ پیدا کر دیتی ہے۔ ا س کے مطالعے کے بغیر تحریکی شعور میں پختگی نہیں آتی اور نہ کام کی صحیح اسپرٹ کا رکن کے اندر پیدا ہو پاتی ہے۔ موصوف کو مطالعے کا شوق تھا۔ ہر قسم کی کتابیں پڑھتے تھے۔ مختلف علوم و فنون پر جو بھی کتاب ملتی، اسے خریدتے بھی اورپڑھتے بھی۔ ان کا ذاتی دارالمطالعہ کئی الماریوں پر مشتمل تھا۔ دینی و تحریکی لٹریچر کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ قرآن کی تفاسیر ، سیرت پر مختلف مصنفین کی کتابیں اور احادیث کی مختلف کتب کا مطالعہ کر رکھا تھا۔ عالمی اسلامی تحریکوں کا لٹریچر جو بھی اردو و انگریزی زبان میں دستیاب تھا بالعموم ان کے مطالعے میںآچکا تھا، اور تقریباً تمام اسلامی تحریکوں کی اہم شخصیات سے بھی ملاقات او رتبادلۂ خیال کا اُنھیں شرف حاصل ہو اتھا۔ علمی موضوعات پر اہل علم اور اہم شخصیات کو بھی اُن سے تبادلۂ خیال کرنے میں خوشی ہوتی تھی۔ ان کے روابط ہندستان، پاکستان ،بنگلہ دیش، سری لنکا ، کشمیر ، ایران ، ترکی، سوڈان، ملایشیا، انڈونیشیا، عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک ، برطانیہ ، امریکا ، کنیڈا وغیرہ کے تحریکی افراد و ذمہ داران اور بعض دیگر اہم شخصیات اور بعض ممالک کے سربراہان سے بھی رہے ۔ لوگ ان سے گرچہ جماعتی رشتے سے متعارف ہوتے تھے لیکن اُنھیں شخصی طور سے بھی یاد رکھتے تھے۔ 

میٹھے کے بہت شوقین تھے۔ شوگر کے مریض ہونے کے باوجود مٹھائیوں کا بہت کثرت سے استعمال کرتے تھے اور اس میں بھی اُن کا اعلیٰ ذوق نمایاں تھا۔ عمدہ قسم کی کھجور اکثر استعمال میں رہتی تھی، خوب کھاتے تھے اور خوب کھلاتے تھے، بلکہ کھانے سے زیادہ کھلانے کا شوق تھا۔ جیب میں ہمیشہ عمدہ قسم کی ٹافیاں بھری رہتی تھیں اور راہ چلتے بچوں پر بھی اس کی عنایتیں ہوتی رہتی تھیں۔ ایک مرتبہ ان کے پیر کے زخم نے جب خطرناک صورت اختیار کر لی تو ڈاکٹر نے کہاکہ اب میٹھا لازماً چھوڑنا پڑے گا ورنہ اگر دوا سے تین چار دنوں میں مزید یہ انفکشن نہ رکا توپیر کاٹنا پڑے گا۔ وہ اس احساس سے بہت مغموم نظر آئے کہ اپاہج ہو کر زندہ رہنا پڑے گالیکن چند ہی گھنٹوں میں وہ اس احساس سے باہر نکل آئے اور مٹھائی منھ میں رکھتے ہوئے خوش مزاجی سے فرمایا کہ پیر کٹنے سے زیادہ غم اس بات کا رہے گا کہ ایک پیر کی خاطر مٹھائی کی نعمت سے محروم ہو گیا اور یہ مجھے منظور نہیں۔ کہتے تھے میٹھے سے توبہ کرنے کے بجائے میٹھاکھا کر توبہ کی جائے تو بارگاہ الٰہی میں زیادہ مقبول عمل ہوگا اور جنت میں کھانے کے لیے میٹھا ہی ملے گا۔ اس لیے اس کی مشق نہیں چھوٹنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنت میں شہد کی نہروں کے قریب رکھے اور من پسند میٹھے پھل عطا فرمائے۔ آمین!

شوگر کے مرض نے ان کے اعضاے رئیسہ کو بھی متاثر کر رکھا تھا، قلب و جگر کے ساتھ ساتھ گردہ بھی متاثر ہو گیا تھا۔ سوفی صد پیس میکر (pacemaker) پر تھے۔ اس کے باوجود دل کے آپریشن کرانے پڑے تھے اور ایک سے زیادہ مرتبہ ہارٹ اٹیک کے شکار ہو چکے تھے ۔اُن کا انتقال بھی ہارٹ اٹیک ہی کی وجہ سے ہوا ،گرچہ انھیں اسپتال میں گردہ کی ڈایلیسس کے لیے داخل کرنا پڑا تھا لیکن وہاں پہنچ کر اُن پر قلب کا جان لیوا حملہ ہوا۔ ۲۹؍اپریل ۲۰۱۲ء کو جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون

 کلکتہ کی ملازمت کے بعد موصوف نے بوکارو اسٹیل پلانٹ میں، جو اُس وقت ریاست بہار میں تھا اوراب جھارکھنڈ میں ہے، کئی سال ملازمت کی ۔اس کے بعد سعودی عرب تشریف لے گئے اور ریاض میں وزارتِ داخلہ میں ایک طویل عرصے تک بحیثیت انجینئر ملازمت کے فرائض انجام دیتے رہے۔ ساتھ ہی ڈاکٹر محمدعبدالحق انصاری سابق امیر جماعت اسلامی ہند کی قیادت میں، جب کہ وہ ریاض یونی ورسٹی میں استاد کے فرائض انجام دے رہے تھے، جماعتی رفقا کو منظم کرنے میں نمایاں کردار کیا۔ جب ڈاکٹر صاحب ہندستان واپس آگئے تو سعودی حلقے کی نظامت کی ذمہ داری بحسن و خوبی انجام دی ۔ یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آیا جب سعودی حکومت کا رُخ جماعت کے لوگوں کے خلاف ہوگیا تو بعض دیگر رفقا کے ساتھ انھیں بھی گرفتار کر لیا گیا اور قیدوبند کے اس مرحلے میں اُن کے رویے اورصاف گوئی سے تعینات افسر بہت متاثر رہا۔ چنانچہ وہ اُن سے برابر معافی طلب کرتا رہا اور حکومت کے احکام کی وجہ سے اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتا رہا۔

 جب سعودی حکومت نے انھیں ملک سے نکالنے کا حکم جاری کیا تو بہت ہی عزت و احترام کے ساتھ انھیں ہوائی جہاز تک پہنچایا۔ حکومت نے ان کی ملازمت کے سارے حقوق سلب کر لیے اور وہ تقریباً خالی ہاتھ اپنے وطن لوٹے اور اپنی خدمات مرکز جماعت کو پیش کر دیں، حالانکہ انھیں یہاں بعض کمپنیوں نے اچھی تنخواہ کی پیش کش کی لیکن انھوں نے اسے قبول نہیں کیااور بہت ہی قلیل اعزازیے پرسکریٹری تنظیم اور سکریٹری مالیات مرکز کے فرائض انجام دینے لگے۔ اس ذمہ داری پر تقریباً ۱۴ سال مامور رہے۔ شعبہ تنظیم اور شعبہ مالیات کے استحکام میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ اس دوران میں انھوں نے جماعت کی مالیات کے استحکام کے ساتھ ساتھ غریبوں، مسکینوں، بیماروں اور ہر طرح کے ضرور ت مندوں کے مسائل کو حل کرنے میں بڑی فکر مندی کا مظاہرہ کیا۔ جماعت کے معمولی کارکن سے لے کر بڑے سے بڑے ذمہ دار سے گہرا ذاتی تعلق رکھتے تھے اور سب کے ذاتی مسائل میں دل چسپی لینا اور اُن کے کام آنا موصوف کا معمول تھا۔ ہر شخص ان سے اپنائیت کا احساس رکھتا تھا۔ اپنوں سے لے کر غیر تک ان سے امیدیں وابستہ رکھتے تھے اور کوئی مایوس ہو کر نہیںجاتا تھا۔ اپنی اور اپنی بیوی بچوں کی جیب سے بھی ضرور ت مندوں کی مدد کثرت کے ساتھ  کیا کرتے تھے۔ لُٹنے اور لٹانے میں انھیں مزہ آتا تھا۔ حساب دانی میں بڑی مہارت تھی لیکن اپنے ذاتی پیسے بے حساب خرچ کرتے تھے ۔ ملک و بیرون ملک کی اونچی تنخواہوں والی ملازمت کے باوجود آخر تک اپنا کوئی مکان بنا سکے اور نہ کوئی قطعۂ زمین خریدا ، کرایے کے مکان سے ہی جنازہ اٹھا۔

سید غلام اکبر صاحب ہیومن ویلفیئر ٹرسٹ کے بھی سکریٹری تھے۔ اس ٹرسٹ کے تحت مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرزکے فروغ کی بھی اُنھوں نے کامیاب کوشش کی۔ اس ٹرسٹ کے تحت قائم الشفاء اسپتال کی مینیجنگ کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے اور اسپتال کے قیام میں بھی اچھا کردار ادا کیا۔

موصوف کے لباس، وضع قطع اور دسترخوان کا معیار بھی بہت بلند تھا اور مہمان نوازی کا جذبہ بھی خوب تھا ۔ حیدرآباد میں رہتے اور کوئی وہاں پہنچتا اور جب وہ دہلی آتے اور کوئی یہاں آتا تو اس کی مہمان نوازی ضرور کرتے۔ ہم لوگ جب جماعت کے کام سے حیدرآباد جاتے اور     شدید بیماری کی حالت میں ان کی عیادت کے لیے جاتے تو اُس وقت بھی بہ اصرار ایک وقت کے کھانے کی دعوت دیتے اور اس حالت میں بھی، جب کہ ان کے لیے بیٹھنا مشکل ہوتا خود بیٹھ کر پُرتکلف کھانا کھلانے سے باز نہ آتے تھے۔

اپنے ذاتی حالات اور معاملات و مسائل میں وہ بالکل بے فکر رہتے، لیکن جماعت کے معاملات و مسائل کی فکر ہر آن دامن گیر رہتی۔ بارہا جماعتی احوال پر گفتگو کرتے وقت انھیں   آب دیدہ ہوتے دیکھا ہے ۔ذاتی معاملے میں انھیں صرف اُس وقت پریشان اور فکر مند دیکھا جب ڈاکٹر نے اُن کی اہلیہ محترمہ کو کینسر کے مرض کی تشخیص کی ،لیکن اس فکر مندی پر بھی انھوں نے جلد قابو پا لیا اور اُن کے علاج پر خصوصی توجہ دے کر الحمدللہ انھیں اس موذی مرض سے نجات دلائی۔ اُن کی بیوی بھی اُن کی بہترین رفیقۂ حیات ثابت ہوئیں۔ بہت ہی خاموش طبع اور خوش اخلاق اور شوہر کا ہرحال میں ساتھ دینے والی۔ بہت بڑے گھرانے سے آئی تھیں، محل نما مکان سے شوہر کے کرایے کے معمولی مکان میں آئیں اور پوری زندگی اسی حال میں گزار دی ۔دونوں بچے بھی ما شاء اللہ شاکر او رناصر اسم بامسمیٰ اور سعادت مند نکلے۔ تینوں بچیاں اور داماد بھی اُن سے بڑے بے تکلف اور اُن سے خوب پیار کرنے والے ملے ۔وہ بھی بیٹی داماد، پوتے پوتی، نواسی نواسے سب سے بہت بے تکلف رہتے تھے۔ ان سب سے اسی طرح ہنسی مذاق کرتے جیسے بے تکلف دوستوں سے کرتے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ خلوت و جلوت ہر جگہ وہ باغ و بہار رہتے اور ماحول کو گلزار بنائے رہتے ۔ یقینا اُن کی یاد بہت دنوں تک ستاتی رہے گی اور انھیں بھولنا تو ممکن ہی نہیں۔

انسان کی خوبیاں اور خامیاں یا تو معاملات میں نمایاں ہوتی ہیں یا ہم سفری میں۔ معاملات کے تو الحمد للہ وہ صاف تھے ہی، کبھی کسی سے اُن پر کسی معاملے میں کوئی دعویٰ تو درکنار  شکوہ بھی کرتے نہیں سنا گیا۔ کئی اسفار میں اُن کا ساتھ ہوا۔ ملک و بیرون ملک ہر جگہ سفر کے بہترین ساتھی ثابت ہوئے ۔ ہر وقت اپنے سفر کے ساتھی کا خیال اپنی ذات سے کہیں زیادہ رکھتے۔

اُن کے تعلقات اصحاب خیر سے خصوصاً بیرون ملک میں اچھے خاصے ہو گئے تھے، لیکن کبھی کسی سے کوئی ذاتی منفعت حاصل نہیں کی ۔ تحائف قبول کرنے میں بھی محتاط رہتے ۔ جماعتی وقار کا ہمیشہ خیال رہتا۔ جماعت کا تعارف ایسے احسن انداز میں کراتے کہ جماعت کی مالیات کے لیے لوگ پیش کش کرنے پر تیار ہو جاتے، لیکن ان کی طرف سے استغنا کا مظاہرہ ہوتا تھا، جس کی وجہ سے لوگ اُن کا بہت احترام کرتے تھے۔

کویت کی معروف صاحب ِخیر شخصیت شیخ عبداللہ علی المطوع مرحوم کو اُن کا غیر معمولی عقیدت مند پایا۔ لوگ ھیتہ الخیریہ کی میٹنگ میں شیخ مطوع سے ملنے کے لیے کوشاں تھے اور شیخ مطوع میٹنگ سے فارغ ہو کر شیخ اکبر شیخ اکبر پکارتے ہوئے سید غلام اکبر صاحب کے پیچھے دوڑتے نظر آئے۔شیخ مطوع کے انتقال کے بعد اُن کے صاحب زادے کا فون آیا کہ اُن کے والد نے اپنی ڈائری میںیہ لکھا ہے کہ خیر کے کاموں میں امداد کے سلسلے میں جو نام اُن کی ڈائری میں نہ ملیں ان افراد یا اداروں سے کیا اور کتنا تعاون کیا جائے، اس کے لیے مشورے میں سید غلام اکبر صاحب سے بھی رجوع کرو، چنانچہ بہ ا صرار انھیں کویت بلایا اور اُن سے مشورے کیے۔

موصوف بہت ہی خو ش خط اور خوش کلام تھے۔ بڑی مؤثر اور پوری تیاری کے ساتھ تقریر کرتے تھے۔ تقریر میں دلائل اور جذبات دونوں کا حسین امتزاج ہوتا تھا۔ تربیتی تقریر میں اکثر اُن پر رقت طاری ہو جاتی تھی اور سامعین بھی آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ گجرات کے فساد کے بعد جب ہم لوگوںکا امریکا کا سفر ہوا، تو ہم جہاں کہیں بھی گئے اُن کی تقریر خواہ اُردو میں ہو یا انگریزی میں یکساں طور پر سامعین ان سے متاثر ہوتے اور اُن کی پیش کش کے انداز سے اس قدر متاثر ہوتے کہ بغیر کسی اپیل کے بڑھ بڑھ کر ریلیف کے لیے رقوم پیش کرتے ۔

حفظ مراتب کا بڑا خیال رکھتے ۔ عمر میں بہت بڑے ہونے کے باوجود اتنے احترام اور محبت سے پیش آتے کہ شرمندگی ہوتی۔ اُن کی وضع داری اور انکسار میں کوئی کمی واقع نہ ہوتی۔ جب انسان زیادہ قریب ہوتا ہے اور بے تکلفی بڑھ جاتی ہے تو انسان کے کمزور پہلو بھی سامنے آتے ہیں۔ انسان خطا و نسیان کا پتلا ہے۔ جب کوئی اُن کی کسی کمزوری کی نشان دہی کرتا تو بڑی خندہ پیشانی سے اُس کا اعتراف کرتے اور کھلے دل سے اظہار معذرت کرتے۔ اُن کی یہ ادا بہت پسند آتی۔

 یقینا ہماری طرح اُن کے اندر بھی کمزوریاں تھیں لیکن میرا خیال ہے کہ اگر جائزہ لیاجائے تو اُن کی کمزوریوں پر اُن کی خوبیاں بہت بھاری تھیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کی کمزوریوں سے درگزر فرمائے اور بھلائیوں کا پلڑا بھاری رکھے۔ اپنے سایۂ رحمت میں جگہ دے،اعلیٰ علیین اور جنت الفردوس میں مقام عطا فرمائے۔ آمین!جس وقت نماز جنازہ ہو رہی تھی، اُن کی میت ایک درخت کے سایے میں رکھی تھی اور درخت پر چڑیاں چہچہا رہی تھیں۔ بار بار خیال آرہا تھا اللہ تعالیٰ نے گویاانھیں بھی موصوف کے حق میں تسبیح و مناجات کی ہدایت فرمادی ہے۔ نماز جنازہ اُن کے بڑے لڑکے شاکر سلمہٗ نے پڑھائی جو انجینئر بھی ہیں اور حافظ قرآن بھی ۔ موصوف کے دونوں ہی بیٹے رکن جماعت ہیں۔ موصوف گرچہ دنیا سے خالی ہاتھ گئے لیکن سرمایۂ آخرت صالح اولاد کی شکل میںچھوڑ گئے ہیں۔ ان شاء اللہ یہ صدقۂ جاریہ ثابت ہوں گے اور اُن کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسا ہی خوش نصیب بنائے۔ آمین!

 

مضمون نگار نائب امیر جماعت اسلامی ہند ہیں

تحریکوں اور تنظیموں پر جب ایک طویل مدت گزر جاتی ہے تو اُن کے اصل مقصد کے ساتھ دوسرے مقاصد بھی شامل ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو صرف ڈھانچا رہ جاتا ہے، روح غائب ہوجاتی ہے۔ دستور میں درج شدہ نصب العین اور طریقۂ کار سے یا تو رشتہ کٹ جاتا ہے یا پھر کمزور ہوجاتا ہے۔ اگر یہ سانحہ فرد کے ساتھ ہو تو فرد ناکام ہوتا ہے اور اگر یہ حادثہ تحریک کے ساتھ ہو تو تحریک ناکام ہوتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً ہم جائزہ لیتے رہیں کہ جس تحریک سے ہم جڑے ہوئے ہیں، اس کے نصب العین سے ہمارا رشتہ کتنا اور کیسا ہے؟ یہی جائزہ اور احتساب ہمیں اور ہماری تحریک کو صحیح خطوط پر گامزن رکھ سکتا ہے۔

تحریک کا اوّلین تقاضا یہ ہے کہ اس کا ایک واضح نصب العین ہو،اور قائدین اور وابستگان کو اس کا صحیح شعور ہو۔ اسلامی تحریک میں لفظ ’اسلامی‘ اس تحریک کے نظریے (Ideology)،   اس کے رُخ اور تحریک کے ہر پہلو (dimension) کی نشان دہی اور رہنمائی کرتا ہے۔ یہ تحریک اللہ کے بندوں کو ان کے رب سے جوڑتی ہے، اُسی کی رضاجوئی اور خوشنودی کے لیے جینے اور مرنے کا سبق سکھاتی ہے، اور اپنے جیسے انسانوں سے رشتے اور تعلق کا پیمانہ اور اصول بتاتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے کو وجود میں لاتی ہے، جس میں افراد صرف اپنی ہی فکر نہیں کرتے بلکہ موجود اور آنے والی نسلوں کو بھی اس راہ پر لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تحریک ایسے ادارے اور نظامِ حیات کو وجود میں لاتی ہے، جس میں اس کے نظریے اور اصول کا غلبہ ہوتا ہے اور پوری انسانیت اس سے فیض یاب ہوتی ہے۔ انسان اپنے نفس اور اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات پاتا ہے، اسے سچی آزادی اور ابدی راحت و سکون نصیب ہوتا ہے۔

یہ تحریک ایک ایسی انقلابی تحریک ہے، جو انسان کو اندر سے لے کر باہر تک بدل کر رکھ دیتی ہے۔ مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں سے اسے نکھارتی ہے۔ ایک اللہ کی بندگی، غیراللہ کا انکار، انبیاؑ کی غیرمشروط اطاعت اور دوسری تمام قیادتوں سے بغاوت اور ان کی اطاعت سے انکار اس کی انقلابیت کی روح ہے۔ اس روح کی برقراری و پرورش اصل داخلی استحکام ہے۔

  •  دعوت: اھم ترین تقاضا: تحریکِ اسلامی کا اہم ترین تقاضا دعوت ہے۔ کوئی  اسلامی تحریک دعوت کا فریضہ انجام دیے بغیر اسلامی تحریک نہیں کہلا سکتی۔ دعوت نہ دی جائے تو لوگ جانیں گے کیسے؟ ساتھ کیسے آئیں گے؟ دین کیسے قائم ہوگا؟ اسے غلبہ کس طرح حاصل ہوگا اور اسلامی ریاست کس طرح قائم ہوگی؟ دعوت کے یہ مختلف پہلو اور مراحل ہیں۔ آغاز سے انجام تک ہرمرحلے میں اصل رول دعوت کا ہے۔ اس لیے دعوت غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے: بَلِّغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ط وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ط(المائدہ ۵:۶۷) ’’جو کچھ تمھارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، وہ لوگوں کو پہنچا دو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا‘‘۔ اُمت کا مقصد وجودِ دنیا کے لوگوں پر دین حق کی گواہی ہے: وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُھَدَآئَ عَلَی النَّاسِ وَ یَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَھِیْدًاط (البقرہ ۲:۱۴۳) ’’اور اسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک اُمت ِ وسط بنایا ہے، تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو‘‘۔

اس دعوت کا ایک پہلو جہاں یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کا ماحول بنے، وہیں اس کا لازمی نتیجہ   یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی انصاف کے اُوپر قائم ہو: لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج (الحدید ۵۷:۲۵) ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوںاور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان  نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں‘‘۔ یہ نہایت اہم بات ہے۔ اس کو نظروں سے کبھی اوجھل نہیں ہونا چاہیے کہ یہ دین عدل و انصاف کے لیے آیا ہے اور یہ دنیا سچے عدل و انصاف کی محتاج ہے۔

دعوت کے یہ وہ پہلو ہیں جو بنیادی اور مستقل نوعیت کے ہیں۔ یہ دعوت اور تحریک خلا میں کام نہیں کرتی، بلکہ یہ ٹھوس زمین اور زندہ معاشرے میں کام کرتی ہے۔ اس لیے بندگیِ رب کی دعوت کے ساتھ ساتھ معاشرے کے زندہ مسائل میں دل چسپی رکھتی ہے اور انھیں حل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔ یہ تحریک ایک ہمہ گیر نوعیت کی تحریک ہے۔ اگرچہ ہم یہ ضرور چاہتے ہیں کہ علم عام ہو، لیکن اسلامی تحریک کسی مدرسے کا نام نہیں ہے۔ ہم نفوس کے تزکیے کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تزکیہ ہو، لیکن اسلامی تحریک کسی خانقاہ کا نام نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اسلامی ریاست قائم ہو اور اقتدار صالحین کے ہاتھ میں ہو، لیکن اسلامی تحریک کسی مجرد سیاسی پارٹی کا نام نہیں۔ اسی طرح محض ادارے اور تنظیمیں بنانا اور ان کو چلاتے رہنا بھی اسلامی تحریک کا مقصد  نہیں رہا ہے۔ اسلامی تحریک کا مقصد تو یہ ہے کہ اللہ کی بندگی قائم ہو اور لوگ اللہ کی خوشنودی  حاصل کرکے آخرت کی کامیابی اور جنت کے مستحق بنیں۔ دنیا میں عدل وانصاف قائم ہو، لوگ امن و سکون اور خوش حالی و ترقی سے ہم کنار ہوں۔ اگر تحصیل علم ہو تو اسی مقصد کے لیے، تزکیہ ہو تو اسی نصب العین کے لیے، سیاست ہو تو اسی لیے، اور اگر ادارہ بنایا جائے تو اسی غرض کے لیے، الغرض اگر یہ ہمہ گیر مقصد سامنے ہو تو جزوی کام بھی اپنی جگہ پر ہوسکتے ہیں۔

  •  جدوجھد کا مطلوب و مقصود: ساری سرگرمیوں، تمام پروگراموں اور منصوبوں اور جدوجہد کا مقصود و مطلوب صرف رضاے الٰہی ہونا چاہیے۔ دعوت کا پھیلائو، اسلامی معاشرے کی تشکیل، اسلامی ریاست کے قیام کی کوشش اور ان سب کے لیے ایک مضبوط اجتماعیت کے استحکام کی حیثیت، تحریک کے ذرائع کی ہے۔ دنیا میں ایسی بہت سی تنظیمیں ہیں، جو تحریک بن کر نمودار ہوئیں بالآخر وہ صرف تنظیم اور سوسائٹی بن کر رہ گئیں۔ یہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی مقصود و مطلوب ہو اور اس کی رضا ہی محور و محرک ہو اور یہ بات ہمیشہ سامنے رہنی چاہیے۔ یہی چیز دراصل متعین کرتی ہے کہ یہ تحریک کہاں تک اس مقصد کے حصول کے لیے سرگرمِ عمل اور مخلص ہے۔

جب انسان کے حوصلے صرف دُنیوی کامیابی کے ہونے یا نہ ہونے سے بلند اور پست ہونے لگیں تو اس کے معنی یہی ہیں کہ مقصود و مطلوب کے اندر فرق آگیا ہے، اور اُسے اس پیمانے سے ناپا جاسکتا ہے کہ اس میں اسلامی تحریک کی خصوصیات موجود ہیں یا اس میں کوئی کمی واقع ہوگئی ہے۔ تحریک داخلی طور پر مستحکم ہے یا کمزور ہوئی ہے۔

فرد کا مقصود تو رضاے الٰہی اور فلاحِ اُخروی کا حصول ہے اور یہ ہمیشہ تازہ اور تابندہ رہنا چاہیے۔ لیکن جماعت اور تحریک کا مقصد یہ ہے کہ وہ افراد کی سعی و جہد کو اس طرح بروے کار لائے کہ فرد آخرت میں کامیاب ہو اور تحریک دنیا کے اندر کامیابی حاصل کرسکے۔ اس چیز کو قرآن نے ’فتح‘ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔ ’’وہ تجارت جو تمھیں عذابِ الیم سے نجات دے‘‘ کے مخاطب وہ  افراد ہیں، جن کی آخری منزل جنت ہے۔ تحریک کی ذمہ داری محض اتنی نہیں ہے کہ وہ افراد تحریک کو اللہ کی رضا کی طلب میں مصروف دیکھ کر یہ سمجھ لے کہ اس کا کام پورا ہوگیا۔ تحریک کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اپنے افراد و وسائل کو بہترین طریقے سے صرف کرے، تاکہ دنیا میں جسے ’فتح قریب‘ کہا گیا ہے، اس کے حاصل ہونے کے امکانات پیدا ہوجائیں۔ اللہ کا ارشاد ہے: وَاُخْرٰی تُحِبُّونَھَاط نَصْرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَفَتْحٌ قَرِیْبٌ ط (الصف ۶۱:۱۳) ’’اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو، (اللہ)   وہ بھی تمھیں دے گا۔ اللہ کی طرف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہونے والی فتح‘‘۔

اگر فرد اپنا سب کچھ اخلاص کے ساتھ اللہ کی راہ میں لگا دے ، لیکن جماعت اپنی منزل تک نہ پہنچ سکے تب بھی فرد کامیاب ہے۔ لیکن اگر فرد کی نیت خالص نہ ہو تو جماعت و تحریک اگر اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجائے تب بھی فرد ناکام و نامراد ہے۔ اگر ہم نے کامیابی کے ان دونوں معیاروں کو اپنے سامنے رکھا تو داخلی استحکام کے تعلق سے اپنے جائزے اور احتساب میں ہمیشہ آسانی ہوگی، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ جائزہ اور احتساب کا صحیح رُخ یہی ہے۔ اگر رضاے الٰہی کے مقصد کے شعور اور وابستگی میں نقص ہے تو فرد خواہ کتنے ہی نعرے لگائے، جلسے کرلے، تقریریں کرلے، پوسٹر لگا لے، خدمت خلق کرے، بہرحال وہ ناکام ہوگا۔ اسی طرح جماعت کی حیثیت سے افراد کتنا ہی اچھا کام کر رہے ہوں، وہ قربانی کے جذبے سے بھی سرشار ہوں، اور نظم و ضبط کے بھی پابند ہوں، لیکن جماعت اگر افراد کے جذبے کو صحیح راہوں پر، صحیح حکمت عملی سے، صحیح رُخ پر نہ لگائے تو بہرحال جماعت اس دنیا کے اندر ناکام ہوگی۔ ممکن ہے کہ جماعت کے قائدین اس بات کے ذمہ دار ٹھیریں کہ انھوں نے کیوں ان وسائل و ذرائع کو ضائع کیا اور صحیح مصرف میں نہیں لگایا۔

  •  فرد اور جماعت میں توازن: اسلامی تحریک میں ’فرد‘ اور ’جماعت‘ دونوں ہی اہمیت رکھتے ہیں۔ آخرت کی کامیابی کے لحاظ سے ’فرد‘ ہی اصل ہیں۔ اس لیے ’جماعت ‘ کی تمام کوششوں کو اس بات پر مرکوز ہونا چاہیے کہ فرد کے لیے ایسے مواقع اور امکانات پیدا ہوں، جن سے وہ  اپنے اس مقصد کو حاصل کرسکے۔

انسانی زندگی باہمی تعلقات کا مجموعہ ہے اور نام ہے معاشرے اور جماعت کا۔ اس لیے جماعت کے بغیر انسان اپنے مقصد کو حاصل نہیں کرسکتا۔ جماعت نظم اور ڈسپلن کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ نظم اور ڈسپلن کی پابندی سے فرد کی آزادی پر پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ دوسری طرف فرد کی تعمیر وترقی میں اس کی آزادی اور اختلاف راے کا حق بہت معاون ہوتا ہے اور انھی دونوں کے درمیان تصادم و تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔اس کا حل یہی ہے کہ فرد اور جماعت اپنی کوششوں سے مستقل طور پر اس میں توازن پیدا کرتے رہیں۔ فرد اتنا آزاد نہ ہوجائے کہ نظم و ضبط برقرار نہ     رہ سکے اور نظم و ضبط اتنا سخت نہ ہوجائے کہ فرد کی آزادی پر قدغن لگ جائے۔

  •  افراد کی تیاری: تحریک کے ہمہ جہت تقاضوں کی تکمیل کے لیے مناسب حال افراد کی فراہمی ناگزیر ہے۔ فرد کی تعمیر اور اس کے ارتقا میں ایک صالح اور مضبوط اجتماعیت کا رول بڑا اہم ہے۔ ایک خوش گوار اور مضبوط اجتماعیت میں باہمی اخوت و خیرخواہی، سمع و طاعت، شوریٰ و احتساب اور نظم و ضبط اہم ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ سب باہم ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ سمع و طاعت کا نظام باہمی اخوت و خیرخواہی کی بنیاد پر ہی مستحکم ہوتا ہے۔ دوسری طرف سمع و طاعت کے لیے شورائی نظام کا بہتر اور خوش گوار ہونا بھی ضروری ہے۔ نظم و ضبط کی بہتری کے لیے احتساب کا عمل برقرار رہنا چاہیے اور نظم و ضبط کے استحکام کے لیے سمع و طاعت کے نظام کا چست ہونا ضروری ہے۔ اس سارے عمل (process) میں فرد کا رول کلیدی ہوتا ہے اور افراد کی تیاری اور ان کے ارتقا کے لیے ان کا اس عمل سے متعلق ہونا اور مستقل گزرتے رہنا بھی ضروری ہے۔
  •  مؤثر تنظیم: اسلامی اجتماعیت کا قیام یوں تو خود ہی ایک دینی فریضہ ہے لیکن اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے بھی اسلامی اجتماعیت ناگزیر ہے۔ اس کا شمار بھی اہم ترین تحریکی تقاضوں میں ہوتا ہے، کیوں کہ ہمہ جہت تحریکی تقاضوں کی تکمیل کے لیے جن اخلاقی اوصاف اور صلاحیتوں کے افراد کی ضرورت ہوتی ہے وہ ایک اسلامی اجتماعیت میں ہی پروان چڑھتے ہیں۔

اقامت دین کا فریضہ ہر مسلمان پر فرض ہے اور یہ فریضہ تنظیم اور اجتماعی زندگی کے بغیر ادا نہیں ہوسکتا۔ اسلامی انقلاب کا کام تنظیم کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس لیے دینی و تحریکی لحاظ سے جماعت کی جو اہمیت ہے وہ ہمارے ذہنوں میں محفوظ رہنی چاہیے۔ افراد کی قوتیں، طاقتیں اور صلاحیتیں تنظیم میں جمع ہوکر کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ یہاں ایک اور ایک دو نہیں بلکہ ایک اور ایک گیارہ ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مختلف قوتوں اور صلاحیتوں کے حامل افراد اگر الگ الگ ہوں تو وہ کارنامہ انجام نہیں دے پاتے، جو ایک اجتماعیت میں باہم مل کر انجام دے جاتے ہیں۔ جماعت کا کام   یہ ہے کہ وہ خواب کو حقیقت بنائے۔ تمنائوں اور آرزوئوں کے حصول کو ممکن بنائے۔ جو چیز اُسے ناممکن نظر آتی ہو، وہ ممکن بن جائے اور حقیقت کا روپ دھار لے۔

تنظیم کا کام زیادہ تیزرفتاری سے ہونا چاہیے۔ جتنی تیزرفتاری سے کام ہوگا، تنظیم اتنی ہی مؤثر سمجھی جائے گی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری تحریک ہمہ جہت تحریک ہے، اس لیے اس کے کام کی رفتار کم معلوم ہوتی ہے۔ کچھ کہتے ہیں کہ ایک فرد کا ذاتی کام ہو تو وہ جلد انجام پاتا ہے اور زیادہ نفع بخش ہوتا ہے۔ جماعت کا کام سُست بھی ہوتا ہے اور اس میں خسارہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح کی سوچ پیشۂ تدریس سے وابستہ لوگوں کی ہوتی ہے یا کاروباری لوگوں کی۔ صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کی صورت حال اسی تنظیم یا جماعت کی ہوتی ہے جو داخلی طور پر مستحکم نہیں ہوتی۔ تجزیہ ہمیشہ حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے۔ خوش فہمی اور قنوطیت سے بچنا چاہیے۔ حقیقت پسند تجزیہ بتاتا ہے کہ تنظیم اگر مستحکم ہو تو کم سے کم محنت اور کم سے کم خرچ سے زیادہ سے زیادہ نفع حاصل ہوتا ہے۔ بڑی سے بڑی صلاحیت رکھنے والا فرد بھی بڑا سرمایہ لگا کر وہ نتیجہ حاصل نہیں کرسکتا جو ایک مؤثر اور کارگر تنظیم کرتی ہے کیونکہ یہاں تھوڑی سی محنت اور سرمایہ جمع ہوکر غیرمعمولی اور بابرکت ثابت ہوتے ہیں۔ اسلامی تحریک کا اصل سرمایہ اس کا عقیدہ، اس کا اخلاقی نظام اور اس کے افراد کا باہم شیروشکر اور ایک دوسرے کے لیے محبت و ایثار کا پیکر ہونا، اور اپنے دین و تحریک کے لیے قربان ہونے کا جذبہ ہوتا ہے۔ اس کے اثرات و نتائج کا مقابلہ فرد اورافراد الگ الگ نہیں کرسکتے۔ اگر تنظیم مؤثر نہ ہو اور اسے وہ حکمت میسر نہ ہو، جس سے تنظیم کو مؤثر بنایا جاسکتا ہے تواس کا امکان ہے کہ وسائل تو موجود ہوں، افراد بھی میسر ہوں، بھاگ دوڑ اور کوششیں بھی جاری ہوں، اس کے باوجود نفع حاصل نہ ہوسکے۔

اسلامی تحریک کی کامیابی کے لیے ایسی تنظیم کارگر نہیں ہوسکتی ہے جو صرف چلتے ہوئے کاموں اور اداروں کو چلاتی رہتی ہو، بلکہ اسے ایسی تنظیم درکار ہوتی ہے جو رسمی امور پر قناعت کرنے سے زیادہ ارتقا اور پیش رفت پر نظر رکھتی ہو۔ اس کے پیش نظر معاشرے کو مسخر کرکے اس پر غلبہ حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اگر تحریک اپنے مقصد کو حاصل کرلے یا کامیابی کے قریب پہنچے تو وہ کارگر کہلائے گی۔ لیکن اگر تحریکی تنظیم یا جماعت انسانی وسائل کو اسلامی انقلاب کی منزل قریب لانے میں نہیں لگا پاتی ہے تو اپنی کوتاہی سے ان وسائل اور اوقات کو ضائع کرتی ہے۔ ان کی قوتوں اور صلاحیتوں کو کم تر کاموں اور مقاصد میں لگاتی ہے تو یہ ایک غیر مؤثر اور غیرکارگر تنظیم کہلائے گی۔ اس لیے تنظیم کے لیے ا س کا وہ نصب العین اس کی روح کی حیثیت رکھتا ہے، جو ہمیشہ شعور میں واضح رہے، نگاہیں اسی پر مرکوز رہیں اور تمام وسائل، اقدامات اور مساعی اسی کے لیے ہوں۔

تحریکی تنظیم کے لیے وہی کام اصل کام ہے، جو آنے والے کل کی تشکیل، اس کے منصوبے اور اس کے مقاصد کے مطابق کرسکے۔ ورنہ تحریک ہمیشہ آج ہی میں گردش کرتی رہے گی اور کل کبھی نہیں آئے گی۔ ہماری ہرپالیسی، ہمارے ہر فیصلے، ہمارا ہر اقدام، ہمارے ہر ضابطے اور دستور کی ہرشق کو اسی کل (مستقبل) کے لیے ہی وقف ہونا چاہیے۔ جس طرح ایک فرد کی زندگی میں وہی کام کارگر ہے جو آخرت میں نافع ہو، اسی طرح تنظیم کو بھی اپنے کام، فیصلے اور اقدامات وہی کرنے چاہییں جو کل کے لیے نفع بخش ہوں۔

فرد ہو یا تنظیم، اس کا صرف متحرک ہونا یا نظر آنا کافی نہیں۔ فرد کی اُخروی کامیابی اور تنظیم کی نصب العین سے قربت اور معاشرے پر اس کے مثبت اثرات کا ہونا ضروری ہے۔ اجتماع میں لوگوں کی کثرت، تربیت گاہ میں بڑے بڑے پروگرام کا انعقاد، اخبارات و رسائل کی اشاعت میں اضافے پر تحریک کو مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے لیے اطمینان کی بات اس وقت ہوسکتی ہے، جب نتائج معاشرے کے اندر سے نمودار ہوں۔ معاشرے میں دعوت کتنی مقبول ہو رہی ہے،    نصب العین کو اپنانے والے کتنا آگے آرہے ہیں،ملت کے اندر نصب العین کے شعور کی بیداری کی رفتار کیا ہے؟ تعلیم یافتہ طبقے نے کتنا اثر قبول کیا؟ عوام میں کتنا نفوذ ہوا؟ نوجوانوں کی کتنی ذہن سازی ہوئی اور وہ کس قدر تحریک کے دست و بازو بنے؟ حکومت کے ایوانوں میں کتنی کھلبلی مچی؟ تحریک کو سمجھ کر کتنی آوازیں حمایت میں اور کتنی مخالفت میں اُٹھنے لگیں؟ میڈیا کی نگاہیں کتنا پیچھا کرنے لگیں؟ اور جن افراد کی تربیت کی جارہی ہے انھوں نے ان محاذوں پر کتنے جوہر دکھائے؟ ان تمام پہلوئوں کا جائزہ بتائے گا کہ تحریک اپنے مقصد سے کتنا قریب اور اس کا داخلی نظام کتنا مؤثر اور مستحکم ہے۔

  •  تحریک کو مقصد نہ بننے دیں: تحریک کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ تنظیم کو خود مقصد نہ بننے دیا جائے، ورنہ اصل مقصد میں آمیزش ہوسکتی ہے، تبدیلی بھی آسکتی ہے، اور اصل مقصد نگاہوں سے اوجھل بھی ہوسکتا ہے۔ معاشرے کو مسخر کرنا اور اسلامی انقلاب کی منزل کو قریب لانا اس جماعت کا اصل مقصد ہے۔ ایسا نہ ہو کہ ہماری طاقت اور وسائل کا بڑا حصہ تنظیم میں لگ جائے۔   یہ خطرہ ایک دینی جماعت کو لاحق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اسلامی جماعت کا قیام بذاتِ خود بھی ایک مقدس دینی فریضہ ہوتا ہے۔ جب افراد کم ہوتے ہیں تو ان کے اوقات اور صلاحیتوں کا قلیل حصہ تنظیم پر لگتا ہے اور بڑا حصہ دعوت کی توسیع اور مقصد کے غلبے کی کوشش میں صرف ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے افراد میں اضافہ ہوتا ہے، تناسب بدلتا جاتا ہے۔ تنظیم بڑھے گی تو اس پر زیادہ قوت اور وسائل یقینا لگیں گے، لیکن انھیں فطری مقام سے ہٹنا نہیں چاہیے۔ کیونکہ فطری تناسب برقرار نہ رہنے سے تنظیم بوجھل ہونے لگتی ہے اوراس کی تاثیر میں کمی واقع ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

انسان کے اوقات اور صلاحیتیں ان چیزوں میں شامل ہیں جن سے تحریک پھیلتی اور معاشرے کو مسخر کرتی ہے۔ ان کا بڑا حصہ انھی کاموں پر صرف ہونا چاہیے۔ اگر ان کا بڑا حصہ تنظیم پر خرچ ہونے لگے تو اس خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ داخلی استحکام پر زیادہ قوت صرف کی جارہی ہے، کیونکہ اس خوش فہمی کے نتیجے میں تحریک کی معاشرے کو مسخر کرنے کی قوت کم ہوجاتی ہے۔    لہٰذا ایسی کوشش ہونی چاہیے کہ اپنی قوت کا استعمال متناسب ہو۔ اس کا کوئی متعین فارمولا پیش نہیں کیا جاسکتا۔ قیادت اور افراد جماعت کی سوجھ بوجھ اور تجربے سے ہی اسے درست کیا جاسکتا ہے۔ داخلی استحکام کا اہم تقاضا ہے کہ اس مسئلے پر خصوصی توجہ صرف کی جائے___ گہرائی سے اس بات کا جائزہ لینا ہوگا کہ ہمارے اوقات، وسائل اور صلاحیتوں کا کتنا بہتر استعمال ہورہا ہے۔ بہت سارے کام جو ہم کر رہے ہیں وہ کیوں کر رہے ہیں، اور ان سے کیا حاصل ہو رہا ہے؟ نصب العین کی طرف پیش قدمی میں ان سے کیا مدد مل رہی ہے؟ اگر ہم نے اس جائزے کی روشنی میں تحریک اور تنظیم کے تناسب کو درست کرلیا تو ان شاء للہ تحریک داخلی طور پر مستحکم بھی ہوگی اور منزل کی طرف پیش قدمی میں تیزی بھی آئے گی۔

  •  مؤثر منصوبہ بندی: تحریک کی پیش قدمی کے لیے بہتر منصوبہ بندی بھی ضروری ہے۔ خواہشوں اور تمنائوں کا نام ’منصوبہ‘ نہیں ہے۔ نئے پرانے کاموں کی ’فہرست مرتب‘ کرنا بھی منصوبہ نہیں۔ منصوبہ اس چیز کو کہتے ہیں جو واضح طور پر طے کرے کہ کیا کرنا ہے اور کس طرح کرنا ہے؟ کون سے وسائل درکار ہوں گے اور کہاں سے فراہم ہوں گے؟ منصوبہ اس بات کا نام ہے کہ آج وہ کون سا کام کیا جائے، جس سے مستقبل ہماری مرضی کے مطابق ہوجائے۔ منصوبہ بندی کے لیے مستقبل کا اندازہ لازمی اور ناگزیر ہے۔ کُل کام کا اندازہ بھی ضروری ہے۔ کام کا جو ہدف ہے اس میں سے جو ممکن ہے اس کا بھی اندازہ ہونا چاہیے۔ اہداف بڑے اور بلندہونے چاہییں، البتہ ترجیحات کا قائم کرنا بہت ضروری ہے۔ ترجیحات کو ملحوظ رکھے بغیر اگر ہر اچھے کام کو بڑا ضروری اور وقت کا تقاضا سمجھ کر کرنے لگے تو کاموں کا بوجھ جماعت کو بوجھل اور غیرمؤثر بنا دے گا۔ ہر کام جو پسند آجائے کرلینے کا نہیں ہوتا۔ ہم کسی کام کو اس وقت تک ہاتھ میں نہیں لے سکتے، جب تک کہ اس کے مناسب حال ذرائع اور افراد میسر نہ ہوں۔ ترجیحات قائم کرنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری ہے۔ فیصلے اگر ناقابلِ عمل ہوں تو رودادوں اور فائلوں کی زینت بنے رہتے ہیں، عملی جامہ نہیں پہنتے۔
  •  کمزوریوں کی بروقت گرفت: جماعت جب پھیلتی اور بڑھتی ہے تو افراد مسائل بھی پیدا کرتے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں مختلف قسم کی کمزوریاں سامنے آتی ہیں۔ کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش بروقت ہونی چاہیے اور ایک حد تک ہی ہونی چاہیے۔ نہ مسائل کو پال کر رکھنا چاہیے اور نہ ایسے افراد کے پیچھے اپنا وقت ضائع کرتے رہنا چاہیے۔ انسانوں کی جماعت کبھی بھی تمام کمزوریوں سے پاک نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اندیشوں کا اسیر بننے سے زیادہ امکانات پر نظر رہنی چاہیے۔ ایک فرد اگر اصلاح قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا تو اسی فرد کے پیچھے لگے رہنے کے بجاے بہتر افراد کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خوش گوار اور تازہ ہوا کے جھونکے اندر کی ناخوش گوار فضا کو صحت بخش بنا دیتے ہیں۔
  •  بوجہل تنظیم:تنظیم کو بوجھل نہیں بنانا چاہیے۔ ہلکی پھلکی چیز تیزرفتاری کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور بھاری بھرکم چیز کے لیے چلنا دشوار ہوتا ہے۔ اس کے اندر مسائل اور امراض بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اچھی چیز اگر ضرورت سے زیادہ کھائی جائے تو موٹاپا بڑھتا ہے اور صحت خراب ہوجاتی ہے۔ اجتماعات تنظیم کے لیے ضروری ہیں۔ اگر سرجوڑ کر نہ بیٹھیں گے تو تنظیمی زندگی پیدا نہیں ہوسکتی۔ لیکن اجتماعات کی کثرت تنظیم کو بوجھل بناتی ہے، اس لیے اجتماعات کی کثرت پر قابو پانا چاہیے۔ مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بھی ضروری اور مفید ہوتی ہیں، لیکن ان کی کثرت بھی تنظیم کو بوجھل بناتی ہے۔ اس لیے جو کام افراد کرسکتے ہیں، انھیں کمیٹیوں کے حوالے نہیں کرنا چاہیے۔
  •  وقت، سب سے قیمتی سرمایہ: سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ وقت ہے۔ افراد کے وقت کے استعمال میں اس کی افادیت پر نظر رہنی چاہیے۔ پیسہ اگر زیادہ خرچ ہوجائے یا ضائع ہوجائے تو دوبارہ آنے کا امکان ہوتا ہے، لیکن وقت دوبارہ ہاتھ نہیں آتا۔ روٹین کی تکمیل اور منصوبوں میں درج پروگرام کی انجام دہی کے لیے اجتماعات وغیرہ کا انعقاد یہ دیکھے بغیر کہ کیا  فی الوقت اس کی کوئی ضرورت یا افادیت ہے؟ وقت، مال اور صلاحیت کے زیاں کا سبب بنتا ہے۔
  •  نئی راھیں تلاش کرنا: انسان کو اللہ تعالیٰ نے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے، اس صلاحیت کا استعمال ضروری ہے۔ نئی راہوں کی تلاش، نئی صورت حال پیدا ہو تو اس سے نمٹنے کے لیے نئی منصوبہ بندی، پرانے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسی راہ تلاش کرنا کہ اس پر بار بار وقت ضائع نہ کرنا پڑے، معاشرے میں اپنا وجود محسوس کرانے کی تدابیر پر غور کرتے رہنا اور نئے تجربات کرنا، مرعوبیت و نقالی سے بچنا اور خوداعتمادی کے ساتھ آگے بڑھنا___ تحریکی افراد کا خاصا ہوتا ہے۔ ایسے ہی افراد سے تنظیم میں جان پیدا ہوتی ہے اور تحریک آگے بڑھتی ہے۔
  •  منصب اور بھتر کارکردگی: تحریک کا ہر کارکن اپنے معاشرے میں دوسرے لوگوں کے لیے ذمے دار اور ان کا قائد ہوتا ہے، اس لیے اسے اپنی ذات اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے فکرمند اور کوشاں ہونا چاہیے۔ جو شخص تحریک کے کسی ذمے دار منصب پر فائز ہو اسے اور بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سب سے پہلی چیز ذمے داری کا احساس ہے۔ کسی منصب پر فائز ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسے اقتدار حاصل ہوا ہے اور جو لوگ اس کے ساتھ چل رہے ہیں، وہ سب اس کے ماتحت ہیں، بلکہ صورت حال یہ ہے کہ وہ ان سب کا، ان کی اصلاح وتربیت کا اور ان کی خیرخواہی کا ذمے دار ہے۔ اُن کے ذاتی، گھریلو اور اجتماعی مسائل کا ذمے دار ہے اور ان سب سے بڑھ کر خود اپنی ذات کی اصلاح و تربیت کے لیے بھی ذمے دار ہے۔ اگر ایسی سوچ اور ایسا طرزِعمل وہ اختیار کرتا ہے تو اس کے ساتھ چلنے والے افراد بھی اپنے شعبے میں  یا اپنے ادارے میں یا اپنے محلے اور علاقے میں موجود افراد کے درمیان اسی روش پر چلیں گے، اور اپنے دعوتی فرائض کو ادا کرتے ہوئے اپنی ذات کے تزکیے و تربیت کی فکر زیادہ کریں گے۔

ذمے داری چھوٹی ہو یا بڑی، یہ اسی عظیم الشان ذمے داری کا ایک حصہ ہے، جسے شہادت علی الناس کہا گیا ہے۔ جماعت نے جو دائرہ بھی طے کر دیا ہے، اس کے لحاظ سے اسے اپنی ذمہ داری کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کہاں تک اسے ادا کر رہا ہے۔ اسے اِس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ اپنے ہرعمل کے سلسلے میں وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ اگر خلقِ خدا کی نگاہوں سے بچ بھی گیا تو اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے وہ نہیں بچ سکے گا۔

اسلامی تحریک میں منصب کی طلب تو کجا اس کا خواہش مند ہونا بھی بڑے خسارے کا سودا ہے۔ یہ خودکشی کا اقدام ہے، جو یقینا حرام ہے۔ لیکن اگر کوئی منصب یا ذمے داری بغیر کسی خواہش اور طلب کے کسی کے حوالے کی جائے تو اسے اللہ پر اور اس کی نصرت و تائید پر اعتماد کر کے خوداعتمادی کے ساتھ اسے قبول کرنا چاہیے اور بہتر سے بہتر انداز میں اس کی ادائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرتے رہنا چاہیے۔ اُسے چاہیے کہ وہ اپنے لیے بھی روئے اور گڑگڑائے اور دعائیں کرے اور اپنے اُن رفقا کے لیے بھی گڑگڑا کر دعائیں کرے جو اس کے ساتھ کام کررہے ہیں۔  یہ خیرخواہی اور اخوت اسلامی کا عین تقاضا ہے۔

ذمے دار کو چاہیے کہ وہ اپنی اور اپنے ساتھیوں کی صلاحیتوں کا صحیح ادراک کرے اور اپنے رفقا میں کام کی تقسیم ان کی صلاحیتوں کے اعتبار سے کرے۔ ایک اچھی ٹیم کے افراد کی گرچہ یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ انھیں جو کام بھی تفویض کیا جائے، اسے ذمے دارانہ طور پر انجام دینے اور کامیاب بنانے کی کوشش کریں، خواہ وہ کام ان کی پسند کا ہو یا نہ ہو۔ لیکن ایک صحت مند اور    خوش گوار اجتماعیت کے لیے بہتر یہی ہے کہ صلاحیتوں کے اعتبار سے ہی کام تقسیم کیے جائیں اور ہرفرد کی اس کے کام کی مناسبت سے تربیت کی جائے اور صلاحیتوں کو پروان چڑھایا جائے۔

  •  مشاورت کی روح: بہتر منصوبہ بندی اور کارکردگی کے لیے شورائی نظام کا بہتر ہونا بھی ضروری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ذمے دار کیسا ہی سمجھ دار اور ذہین ہو لیکن عقلِ کُل نہیں ہوسکتا۔ ٹیم کے افراد کے فکروفہم سے استفادہ کیا جائے تو کارکنوں میں خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اجتماعیت پر بھی اعتماد راسخ ہوتا ہے اور ٹیم میں اپنائیت کا احساس بڑھتا ہے، جو اجتماعیت کا بڑا سرمایہ ہے۔ مشوروں کی روشنی میں فیصلے خواہ اتفاق راے سے ہوں یا کثرت آرا سے یا ذمے دار کی صواب دید سے، ان کا احترام ضروری ہے۔ اس صحت مند روایت کو برقرار رکھنے کے لیے شورائیت میں شفافیت کا لحاظ بھی ضروری ہے۔
  •  خیرخواھی اور احتساب: اگر ذمے دار جماعت اپنے رفقا کا خیرخواہ ہو اور اس کا طرزِ عمل اس کا گواہ ہو تو سمع و طاعت اور نظم و ضبط کا معاملہ بڑی حد تک درست رہتا ہے۔ اگرچہ اسلامی اجتماعیت سمع و طاعت اور نظم و ضبط کو ذمے دار کے رویے سے مشروط نہیں کرتی، لیکن مضبوط اجتماعیت کے لیے ذمے دار اور قائد کا رول اور رویہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہوتاہے۔ تحریکِ اسلامی میںقائد اور ذمے داروں سے قربت، محبت اور فدائیت درکار ہوتی ہے اور ان چیزوں کا انحصار قائداور ذمے دار کی خوے دل نوازی پر ہے۔ قائد اور ذمے دار کی رفقا سے خیرخواہی، محبت اور ایثار، رفقا کے اندر بھی اپنے قائد اور ذمے دار کے لیے محبت ، احترام، قربانی اور ان کی اطاعت کا جذبہ بیدار کرتا ہے۔ رفقا کے ساتھ نرمی اور شفقت کا یہ مطلب نہیں کہ رفقا کو تفویض کردہ کام کا جائزہ نہ لیا جائے، ٹیم کی کارکردگی کا احتساب نہ ہو۔ اسی طرح قائد اور ذمے دار کے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ وہ احتساب سے بالاتر ہوگا۔

جائزے اور احتساب کا ایسا نظام ہو، جس میں امیر و مامور سبھی ایک دوسرے کے سامنے جواب دہ ہوں۔ یہ عمل ٹیم اسپرٹ کو برقرار رکھتا ہے اور اجتماعیت کو مستحکم کرتا ہے۔ یہ عمل جتنا کمزور ہوگا، اجتماعیت اتنی ہی کمزور ہوگی۔ اگر قیادت کا احتساب نہ ہو تو قیادت کمزور ہوگی اور اگر ٹیم کا بھی احتساب نہ ہو تو ایسی ٹیم بھی کمزور ہوگی۔ قیادت کو چاہیے کہ اپنی ٹیم میں جائزے اور احتساب کی فضا کو نہ صرف بحال رکھے بلکہ پروان چڑھائے اور دوسروں کے احتساب سے پہلے خود اپنا احتساب کرے اور خود کو دوسروں کے سامنے احتساب کے لیے پیش کرے۔ احتساب کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہرفرد خواہ وہ ذمے دار ہو یا کارکن، اپنا احتساب خود کرے اور بے دردی کے ساتھ کرے اور اپنے ساتھیوں کا احتساب نرمی اور درد کے احساس کے ساتھ کرے۔

  •  قابلِ تقلید مثالیں: افراد جماعت کی تربیت کے لیے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ان کے سامنے ایسی مثالیں موجود ہوں جو قابلِ تقلید ہوں، خواہ وہ ساتھیوں میں سے ہوں یا ذمے داروں میں سے۔ کیوں کہ انسان اپنے سامنے کے کردار سے جتنا متاثر ہوتا ہے اور اثر قبول کرتا ہے دیگر کسی ذریعے سے یہ نہیں ہوتا۔ خاص طور پر جو لوگ قیادت و رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہوں، وہ اپنے طرزِعمل سے ایسی مثالیں پیش کریں جن کو دیکھ کر دوسروں کی حوصلہ افزائی ہو۔ جماعت کا کوئی ذمے دار ہو یا رفیق، بہرحال اس میں کمزوریاں ہوں گی، انھیں دیکھ کر مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے باوجود قیادت اور ذمے دار حضرات کی یہ ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی زندگی اور طرزِعمل سے قابلِ تقلید مثالیں پیش کریں۔
  •  فکری رھنمائی اور تنظیم میں مطابقت: اسلامی اجتماعیت کی بنیاد قرآن و سنت ہے۔ اس لیے ہم میں سے ہر شخص کو قرآن و سنت سے اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔ خصوصاً ہمارے وہ ذمے دار جنھیں ہماری رہنمائی کرنی ہے، انھیں رہنمائی قرآن وسنت کی روشنی میں ہی کرنی چاہیے، تاکہ تحریک کارشتہ قرآن و سنت سے ہرسطح پر استوار رہے اور ہرفیصلہ و ہدایت پر خواہ وہ چھوٹی ہو یا بڑی، تحریک پورے شرح صدر کے ساتھ گام زن رہے۔ جماعت و تحریک کے ماحول اور سمت اور تربیت کی کوششوں میں مطابقت کا ہونا ضروری ہے۔

درس قرآن و حدیث اور دوسرے ذرائع سے ہماری تربیت کے لیے جو غذائیں ملتی ہیں، اگر جماعت کے فیصلوں اور رہنمائی میں ان کی جھلک نہ ہو اور اس سے مطابقت نہ پائی جائے تو متضاد ذہن کے ساتھ تحریک کی پیش رفت معیارِ مطلوب کے مطابق نہیں ہوگی۔ اس سے داخلی استحکام بھی متاثر ہوگا۔ ضرورت ہے کہ ذمے دار اور قائدین اس بات پر خصوصی نظر رکھیں کہ جو باتیں وہ اپنے دروس، تقاریر اور تربیتی پروگراموں میں کہہ رہے ہیں، تنظیم کا ماحول اور رُخ بھی اسی سمت میں ہونا چاہیے۔ جو کچھ کہا جا رہا ہو یہ تو ممکن نہیں کہ تنظیم ہوبہو اس کا نمونہ ہو لیکن کم از کم اس بات کا اہتمام کیا جائے کہ مجموعی طور پر تنظیم کا ماحول اور رُخ انھی تعلیمات کی سمت میں ہو۔


  •  مقالہ نگار نائب امیر جماعت اسلامی، ہند ہیں