مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۲۳

؍اگست ۲۰۱۹ء کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دینے والے آرٹیکل ۳۷۰ کے اہم مندرجات کو ختم کر دیا تھا۔ اسی کے ساتھ دفعہ ۳۵-اے، جس کی رو سے ریاستی باشندوں کو خصوصی اور علیحدہ شہریت کے حقوق حاصل تھے، اسے بھی منسوخ کردیا گیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف انڈین سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا، جس کے جواب میں چارسال گزرنے کے بعد، سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے ۲؍اگست ۲۰۲۳ء سے سماعت شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جب کہ فریقین کو ۲۷جولائی ۲۰۲۳ء تک دستاویزات جمع کرانے کے لیے ہدایت کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چیف جسٹس جسٹس دھنن جے چندراچوڑ نے سرینگر کے ایک روزہ دورہ سے واپسی پر دفعہ۳۷۰ کے حوالے سے زیر التوا درخواستوں پر سماعت کرنے کا اچانک فیصلہ کرلیا۔ آخر سرینگر میں ان کو کیا کچھ نظر آیا ، جس کی وجہ سے انھوں نے سماعت کا فیصلہ کیا؟

اگرچہ کشمیر کے معاملے پر چاہے سپریم کورٹ ہو یا قومی انسانی حقوق کمیشن ، بھارت کے کسی بھی مؤثر ادارے کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی، مگر چونکہ اس مقدمے کے بھارت کے عمومی وفاقی ڈھانچے پر دور رس اثرات مرتب ہوںگے، اس لئے شاید سپریم کورٹ کو اس کو صرف کشمیر کی عینک سے دیکھنے کے بجائے وفاقی ڈھانچے اور دیگر ریاستوں پر اس کے اثرات کو بھی دیکھنا پڑے گا۔ اس تناظر میں مثبت نتائج پر نظر رکھنے والے لوگوں کو اُمید ہے کہ سپریم کورٹ ایک معروضی نتیجے پر پہنچ کر کشمیری عوام کی کچھ داد رسی کا انتظام کرسکے گی۔

 دفعہ ۳۷۰ کی قانونی حیثیت و افادیت کے علاوہ سپریم کورٹ کے سامنے یہ بڑے سوالات ہیں:(۱) بھارتی پارلیمان کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے بھی، کیا یہ ممکن ہے کہ عددی طاقت کے بل پر کسی بھی ریاست کو دولخت کرکے اس کو مرکزی زیر انتظام علاقہ بنایا جا سکتا ہے؟ (۲)کیا اس سلسلے میں اس خطے کی اسمبلی یا اس خطے کے اراکین پارلیمان کی رائے کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے؟

پچھلی صدی کے اواخر میں اتراکھنڈ، چھتیس گڈھ، جھاڑکھنڈ، نئے صوبے تشکیل دیئے گئے۔ ان میں جو طریق کار اپنایا گیا، وہ یہ تھا کہ ریاستی اسمبلیوں نے پہلے صوبہ کی تشکیلِ نو کے لیے ایک قرار داد منظور کرکے اس کو مرکزی حکومت کو بھیجا۔ مرکزی کابینہ نے اس کی منظوری دے کر ایک بل ڈرافٹ کرکے اس کو پھر ریاستی اسمبلی کو منظوری کے لیے بھیجا۔ اس کے بعد اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے پاس کرنے سے قبل ہاؤس کمیٹی کے سپرد کرکے اس کے خدوخال کا جائزہ لیاگیا۔ صرف تلنگانہ کے معاملے میں اس طریقے کو تبدیل کیا گیا۔ مگراس معاملے میں بھی کئی برس قبل آندھرا پردیش کی اسمبلی قرار داد پاس کر چکی تھی۔ بعد میں اس اسمبلی نے اپنا موقف تبدیل کردیا تھا، مگر اس وقت کانگریس کی قیادت میں مرکزی حکومت نے پچھلی قرار داد کی بنیاد پر زبردست ہنگامہ اور شور شرابہ کے دوران پارلیمنٹ سے اس نئے صوبہ کی تشکیل کا بل پاس کروایا۔

اگر ریاستوں کو تحلیل کرنے اور ان کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کے عمل کو بھارتی سپریم کورٹ تسلیم کرتا ہے، تو اس سے بھارت کے پورے وفاقی ڈھانچا کے مسمار ہونے کا خطرہ ہے۔ ماضی میں نظم و نسق وغیرہ کا بہانہ بناکر مرکزی حکومتوں نے تو کئی بار اپوزیشن کی زیر قیادت صوبوں کی منتخب حکومتوں کو برخواست کیا ہے،مگر بعد میں سپریم کورٹ نے ایس آر بومئی کیس میں اس پر کئی رہنما اصول طے کر دیئے، جس کے بعد نئی دہلی حکومتوں کے لیے صوبائی حکومتیں برخواست کرنے کے اختیار پر روک لگ گئی۔

 چیف جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ کی سربراہی میں پانچ ججوں کا بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ اس بنچ میں جسٹس سنجے کشن کول، جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس بھوشن رام کرشن گاوائی اور جسٹس سوریا کانت ہوں گے۔ جسٹس کول کے بغیر بقیہ تینوں جج اگلے کئی برسوں میں باری باری چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہوں گے۔ جسٹس چندراچوڑکے والد یشونت ویشنو چندراچوڑ بھی ملک کے ۱۶ویں چیف جسٹس ( ۱۹۷۸ءسے ۱۹۸۵ء)رہے ہیں۔ وہ بھارت کی سول سوسائٹی کے لیے کچھ اچھی یادیں چھوڑ کر نہیں گئے۔ ۱۹۸۴ء میں بھوپال شہر میں زہریلی گیس کے اخراج کے بعد، جس میں ہزاروں لوگوں کی جانیں چلی گئیں، تو انھوں نے امریکی کمپنی یونین کاربائیڈ کے سربراہ وارن اینڈرسن کو ملک سے باہر جانے میں مدددی۔ ان پر مقدمہ بھی نہیں چلایا جاسکا۔ اس کے علاوہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی تصدیق کے بغیر ہی فروری ۱۹۸۴ءمیں انھوں نے کشمیری لیڈر مقبول بٹ کی سزائے موت کے فرمان کے خلاف پٹیشن خارج کی،اور اگلے ہی دن مقبول بٹ کو تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

مگر ان کے فرزند موجودہ چیف جسٹس اپنے اعتدال پسندانہ رویہ اور معرکہ آرا فیصلوں کی وجہ سے اپنے والد کے برعکس سول سوسائٹی کے چہیتے ہیں۔ انھوں نے اظہارِآزادی، شخصی آزادی، حق راز داری وغیر ہ جیسے قوانین کی تشریح کرکے اور ان پر فیصلہ دیتے وقت عوامی مفاد کو مقدم رکھ کر خوش گوار تاثر قائم کیا ہے۔ ۲۰۰۰ء میں ممبئی ہائی کورٹ میں جج کے عہدے پر فائز ہونے سے قبل ان کو ۱۹۹۸ءمیں اٹل بہاری واجپائی کے اقتدار میں آتے ہی اڈیشنل سولسٹر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔ اس دوران مجھے ان سے کئی بار ملنے کا موقع ملا ہے۔ دوسرے جج جسٹس سنجے کشن کول کشمیری پنڈت ہیں۔ وہ سورج کشن کول کے خاندان سے نسبت رکھتے ہیں، جو ڈوگرہ حکومت میں وزیر مالیات ہوتے تھے۔ وہ اور ان کے ایک اور برادر دہلی ہائی کورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔بطور دہلی ہائی کورٹ جج انھوں نے معروف مصور مرحوم ایم ایف حسین کے خلاف ہندو تنظیموں کی پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے ، بزرگ مصور کی دادرسی کی تھی۔اس فیصلے میں انھوں نے لکھا تھا: ــ’’تکثیریت اور یگانگت جمہوریت کی روح ہوتی ہے۔ جس سوچ کو ہم پسند نہیں کرتے ہیں، اس کے اظہار کی بھی آزاد ی ہونا ضروری ہے۔ اگر تقریر یا اظہار رائے کے بعد آزادی نہ ہو، تو یہ آزادی کوئی معنی نہیں رکھتی ہے۔ جمہوریت کی حقیقت آزادی اور ناقدین کو برداشت کرنے میں مضمر ہے‘‘۔

تیسرے جج جسٹس سنجیو کھنہ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ بھی ججوں کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، اور نومبر ۲۰۲۴ء کو وہ چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ان کے والد ونود راج کھنہ دہلی ہائی کورٹ میں جج تھے۔ وہ بھارت کے ایک معروف جج جسٹس ہنس راج کھنہ کے بھتیجے ہیں، جنھوں نے ۱۹۷۶ء میں آنجہانی وزیر اعظم اندراگاندھی کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ اور بنیادی حقوق کی معطلی کے خلاف فیصلہ دیا تھا، حالانکہ بینچ کے دیگر ججوں نے اس کی حمایت کی تھی۔ جس کی وجہ سے ان کو چیف جسٹس نہیں بننے دیا گیا تھا۔ انھوں نے سپریم کورٹ سے استعفا دے دیا تھا۔ ۱۹۸۲ءکے صدارتی انتخابات میں گیانی ذیل سنگھ کے خلاف وہ اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے۔ جسٹس سنجیو کھنہ مئی ۲۰۲۵ءکو چیف جسٹس بن جائیں گے۔

اس بینچ کے چوتھے جج بھوشن رام کرشن گاوائی ہیں۔ وہ اس وقت سپریم کورٹ کے واحد دلت جج ہیں۔وہ مئی ۲۰۲۵ء  چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔ ۲۰۱۰ء میں جسٹس بالا کرشنن کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہ پہلے دلت چیف جسٹس اور بھارت کی تاریخ میں دوسرے دلت چیف جسٹس ہوں گے۔ فی الوقت بھارتی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے کل ۵۶۹ ججو ں میں صرف ۱۷دلت کمیونٹی سے ، نو درجہ فہرست قبائل سے، ۱۵؍اقلیتی برادریوں سے اور ۶۴دیگر پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بھوشن کے والد آر، ایس گاوائی مہاراشٹرہ کے مشہور دلت رہنما اور ری پبلکن پارٹی کے سربراہ تھے۔ یہ پارٹی بھارت کے معروف دلت لیڈر ڈاکٹر بھیم راو امیبڈکر نے تشکیل دی تھی۔ گاوائی بود ھ مت سے تعلق رکھتے ہیں۔

پانچویں جج جسٹس سوریہ کانت کا تعلق ہریانہ صوبہ سے ہے۔ جج بننے سے قبل وہ قیدیوں کے حقوق کے حوالے سے خاصے سرگرم رہے ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ میں جج کے عہدے پر رہتے ہوئے بھی انھوں نے جیلوں میں اصلاحات کے نفاذ میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ممبئی میں بھارت کے معروف ادارے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز، جو جیلوں کی اصلاحات کے سلسلے میں ورکشاپ کا انعقاد کرتے ہیں۔ ان سے ملاقات اور ان کے لیکچر سننے کا کئی بار موقع ملا ہے۔

سوال : آپ فرقہ پرستی کے مخالف ہیں مگر اس کی ابتدا تو ایک حدیث سے ہوتی ہے کہ ’’عنقریب میری اُمت ۷۲ فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے صرف ایک ناجی ہوگا، جو میری اور میرے اصحاب کی پیروی کرے گا‘‘ (بلکہ شیعہ حضرات تو ’اصحاب‘ کی جگہ ’اہل بیت‘ کو لیتے ہیں)۔اب غور فرمایئے کہ جتنے فرقے موجود ہیں، سب اپنے آپ کو ناجی سمجھتے ہیں اوردوسروں کو گمراہ۔ پھر ان کو ایک پلیٹ فارم پر کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟ جب ایسا ممکن نہیں تو ظاہر ہے کہ یہ حدیث حاکمیت غیراللہ کی بقا کی گارنٹی ہے۔ بہت سے لوگ اسی وجہ سے فرقہ بندی کو مٹانے کے خلاف ہیں کہ اس سے حدیث نبویؐ کا ابطال ہوتا ہے۔

جواب :جس قسم کاسوال آپ نے کیا ہےاس پر اگر آپ خود اپنی جگہ غور کرلیتے تو آپ کو آسانی سے اس کا جواب مل سکتا تھا۔ احادیث میں مسلمانوں کے اندر بہت سے فتنے پیدا ہونے کی خبردی گئی ہے ، جس سے مقصود اہل ایمان کو فتنوں پر متنبہ کرنا اور ان سے بچنے کے لیے تاکید کرنا تھا، لیکن وہ شخص کس قدر گمراہ ہوگا جو صرف اس لیے فتنہ برپا کرنا یا فتنوں میں مبتلا رہنا ضروری سمجھے کہ احادیث میں جو خبر دی گئی ہے اس کا مصداق بننا ضروری ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے قرآن میں کہا گیا ہے کہ بہت سے انسان جہنمی ہیں، تو کیا اب کچھ لوگ جان بوجھ کر اپنے آپ کو جہنم کا مستحق بنائیں تاکہ یہ خبر ان کے حق میں سچی نکلے؟(ترجمان القرآن، مارچ ۱۹۴۶ء)

 

ہادی ہمارے ، فرزانہ چیمہ۔ ناشر: ادبیات ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ رابطہ:042-37232788۔ صفحات: ۳۰۴-قیمت(مجلد): ۶۵۰  روپے۔

خالق کائنات نے بنی آدم کو ہدایت دینے کے لیے اپنے نبیؑ اور رسولؑ بھیجے،جنھوں نے ہرعلاقے، ہرقوم اور ہرنسل میں اللہ کا پیغام پہنچایا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس ہدایت کو لوگ بھلاتے اور شرک کے راستوں پر چلتے رہے۔ رحمت ِ خداوندی نے سب سے آخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جنھوں نے انسان کو ماں کی گود سے لے کر قبر کی مٹی تک کے سفر میں زندگی گزارنے کے ڈھنگ بتائے۔

محترمہ فرزانہ چیمہ ایک معروف ادیبہ اور وسیع دینی مطالعے سے فیض یاب ہیں۔ انھوں نے بچوں کو سیرتِ پاکؐ کی تفصیلات، رہنمائی اور اسباق ذہن نشین کرانے کے لیے یہ قیمتی کتاب مرتب کی ہے، جواختصار اور عام فہم اسلوب کے سبب انفرادیت کا حامل تحفہ ہے۔ (ادارہ)


محسن اُمت سیّدنا ابوبکر صدیقؓ، پروفیسر محمد باقر خاں خاکوانی۔ ناشر: ادبیات، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ رابطہ: 042-37361408 ۔ صفحات:۴۸۸۔ قیمت (مجلد): ۸۵۰ روپے۔

خاتم الانبیا حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے جب حکم الٰہی سے اعلانِ نبوت فرمایا تو بالغ مردوں میں ایمان کی دولت پانے والوں میں پہلے فرد حضرت ابوبکرصدیقؓ تھے ، جنھوں نے جرأت ایمانی سے حق کی گواہی دی۔ قربانی، بصیرت، بہادری، ثابت قدمی اور دُوراندیشی کے وہ کارنامے انجام دیئے کہ وصالِ نبویؐ کے بعد وہی مسلم اُمت کے پہلے خلیفہ بنے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ کے شخصی فضائل اور فہم دین کی وسعت کے آثار کتب ِ سیرت، احادیث اور تواریخ میں جگمگا رہے ہیں۔ محترم باقرخاں صاحب نے اس کتاب میں حسنِ ترتیب سے اُن احوال و آثار کو، خوب صورت اسلوبِ بیان میں مرتب کیا ہے۔ مصنّف نے کوشش کی ہے کہ صدیق اکبرؓ کا نظامِ حکومت، عوامی خدمت، شورائی نظام، جنگی اسلامی انسانی اصول اور حکومت اسلامیہ کے قیام کے لیے شبانہ روز جدوجہد جیسی خصوصیات کو نمایاں کیا جائے۔

یہ کتاب تفصیلی مطالعے کا تقاضا کرتی ہے، تاہم چند ابواب کے یہ عنوانات کتاب کی وسعت واضح کرتے ہیں: l اقوامِ عالم پر تین احسانات l اُمت ِ مسلمہ پر تین احسانات lمکّی دور میں احساناتl مدنی دور میں احسانات l وصالِ نبویؐ کے موقعے پر احسانات lخلافت میں اُمت پر احسانات وغیرہ۔ مطالعے کے دوران قاری نہ صرف صحابہ کرامؓ سے محبت کی لذت پاتا ہے بلکہ ایمانی جذبے سے عمل کی اُمنگ بھی اپنے وجود میں موجزن پاتا ہے۔ (ادارہ)


باقیاتِ اقبال، مرتبین: سیّد عبدالواحد معینی+ محمد عبداللہ قریشی، نظرثانی و حواشی: خالد علیم۔ ناشر:مکتبہ تعمیر انسانیت، اُردو بازار، لاہور۔فون: 0333-7237500۔ صفحات:۴۲۴ قیمت (مجلد):  ۱۲۰۰ روپے۔

علامہ اقبال کے غیرمتداول اور متروک کلام کا جامع مجموعہ، جسے ابتدائی طور پر عبدالواحد معینی نے مرتب کیا تھا۔ بعدازاں محمدعبداللہ قریشی نے اس میں غیرمعمولی اضافے کیے اور سرودِ رفتہ کے نام سے غلام رسول مہر اور صادق علی دلاوری کی مرتبہ کتاب کا سارا کلام بھی اس میں شامل کرلیا۔ ڈاکٹر صابر کلوروی صاحب نے مختلف مآخذ (علّامہ اقبال کی بیاضیں، اقبال کی مرتبہ درسی کتابوں اور متروک کلام کے مجموعہ وغیرہ) سے مزید کلام جمع کیا اور جملہ جمع شدہ کلام کو کلیاتِ باقیاتِ شعرِاقبال کے نام سے ۲۰۰۴ء میں شائع کردیا۔اب ڈاکٹر خالد علیم نے مذکورہ تمام مجموعوں کو اَزسرِنو کھنگالا، خصوصاً کلیاتِ باقیاتِ شعر اقبال کی ترتیب میں بہت سی مفید تبدیلیاں کیں۔ مثلاً ڈاکٹر صابر کلوروی صاحب کے ہاں بانگِ درا کے متروکات جو تین اَدوار میں بکھرے ہوئے تھے، فاضل محقق نے اُنھیں یکجا کردیا ہے۔ یہ بہتر صورت ہے۔ علیٰ ہذا القیاس، متروکاتِ بالِ جبریل، متروکاتِ ضربِ کلیم وغیرہ۔کلام اقبال کی باقیات اور متروکات کے لیے زیرنظر مجموعہ فی الحال حتمی سمجھ کر، اسے ہی حوالہ بنانا چاہیے۔ (رفیع الدین ہاشمی)


اُمت مسلمہ : منصب، تقاضے اور مستقبل، علامہ یوسف القرضاوی۔ ترجمہ : ارشاد الرحمٰن۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ۳۵-ڈی بلاک۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی۔ رابطہ: 021-36809201۔ صفحات:۳۰۳۔ قیمت(مجلد): ۱۵۰۰ روپے۔

الطاف حسین حالی نے لکھا تھا:’’اُمت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے‘‘ ، اور اس عجب وقت کا روئے سخن اُمت کے تہذیبی، دینی ، سیاسی، معاشی اور اخلاقی عدم توازن کی طرف ہے، جس نے اسے بے وزن اور بے توقیر بنا کر رکھ دیا ہے۔ حالی نے یہ بات اب سے سوا سو سال پہلے کہی تھی۔ جناب یوسف القرضاوی نے اپنی پوری زندگی، اُمت مسلمہ کو اس خرابے سے نکالنے کے لیے لگادی۔

زیرنظر کتاب جناب قرضاوی کے اُن مقالات کا انتخاب ہے، جس میں مسئلہ زیربحث کی ماہیت اور اسباب کو بیان کرکے، اس کے حل تجویز کیے گئے ہیں۔ ’اُمت وسط‘ کے عمومی تصورِ اسلام میں وسطیت کے مختلف مظاہر کی نشان دہی کرتے ہیں۔ رواداری کے تصور کے تحت متعدد گروہوں کے وجود کا جواز، انسانیت کی تکریم اور مکالمے کے عصری تقاضے جیسے موضوعات پر اجتہادی راستہ اپناتے ہیں۔

محترم مصنف کو اللہ تعالیٰ نے فہم دین کا خزانہ عطا فرمایا تھا اور اجتہادی بصیرت کے ساتھ مجاہدانہ جرأت بھی انعام کی تھی۔ کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے کہ کس گہرائی کے ساتھ وہ مُزمن بیماری کے اسباب کی نشان دہی کرتے ہیں، اور ساتھ منصوبۂ عمل بھی تجویز کرتے جاتے ہیں۔

جناب ارشاد الرحمٰن ایک مشاق مترجم ہیں۔ انھوں نے بڑی توجہ سے، یہ امانت عربی سے اُردو میں منتقل کی ہے، جس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ (ادارہ)


یہودیوں کے تاریخی جرائم، ڈاکٹر محمد آفتاب خان، اُم انس۔ ناشر: مکتبہ فروغِ فکر ِ اقبال، ۹۷۰-نظام بلاک، اقبال ٹائون، لاہور۔ فون:0332-8076918  صفحات:۳۶۸۔ قیمت (مجلد): ۶۰۰ روپے۔

قومِ یہود کی تاریخ، احسان فراموشی، محسن کشی، زرپرستی اور سازش و نفاق سے بھری پڑی ہے۔ انفرادی سطح پر کچھ بھلے لوگوں کا وجود تو کہیں بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، مگر مجموعی طور پر ایک قومی مزاج ہوتا، جسے کسی قوم سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ زیرنظر کتاب میں فاضل مصنف نے یہود کے جرائم اور فطرت میں رچی خرابی کو قرآن کریم کے ارشادات کی روشنی میں یکجا بیان کردیا ہے۔

آج مسلم دُنیا کے دولت مند ممالک، قرآن کریم کی ہدایت کو نظرانداز کرکے، نسل پرست اسرائیل کی ناجائز حکومت و ریاست کو تسلیم کرنے کی دوڑ میں شریک نظر آتے ہیں ۔ اس صورتِ حال میں یہ کتاب بھولے ہوئے سبق کی یاد دہانی کراتی ہے۔ (ادارہ)


مولانا ظفر علی خان اور فتنۂ قادیانیت، محمد متین خالد۔ ناشر:عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان۔فون: 061-4783486۔ صفحات: ۵۹۰۔ قیمت: درج نہیں۔

محمد متین خالد قادیانیت کے مختلف پہلوئوں پر اب تک متعدد کتابیں شائع کرچکے ہیں، جن میں ثبوت حاضر ہیں کو خاص طور پر شہرت حاصل ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے مرزا قادیانی کی اصل کتابوں اور تحریروں کے عکس دیے ہیں۔ اب انھوں نے زیرنظر کتاب پیش کی ہے۔

قادیانیت پر مولانا ظفر علی خان کے مضامین، مقالات، توضیحات، اداریوں، مکاتیب اور شاعری کا ایک خوب صورت گلدستہ ہے۔ مولانا نہایت قادرالکلام، نثرنگار اور شاعر تھے۔ وہ جس چیز کو درست سمجھتے تھے، اسے لگی لپٹی رکھے بغیر، بہ بانگ دہل کہہ دیتے اور لکھ دیتے تھے۔ ان کی یہ سب تحریریں، ان کے اپنے اخبار زمیندار میں شائع ہوتی رہیں۔بعدازاں انھوں نے بہت سے مضامین کو کتابی شکل میں بھی شائع کیا۔ کتاب کے ایک حصے میں مولانا ظفر علی خان کی شخصیت اور قادیانیت کی بیخ کنی کے سلسلے میں ان کی خدمات پر مختلف اہل قلم (شورش کاشمیری، چراغ حسن حسرت، عنایت اللہ نسیم سوہدری، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، خالد بزمی، ڈاکٹر نظیرحسنین زیدی، فاطمہ اطہر وغیرہ) کے مضامین جمع کیے گئے ہیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


اقبالیات، ادبیات، تاثرات، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ ناشر : قلم فائونڈیشن ، بنک سٹاپ ، والٹن روڈ، لاہور کینٹ ۔ رابطہ : 0323-4393422 ۔ صفحات: ۳۱۲۔ قیمت : ۱۲۰۰ روپے۔

انٹرویو ایک ایسی صنف ہے ، جس میں کسی بھی صاحب ِ علم و فن سے اُن باتوں کی تفصیل معلوم کی جاسکتی ہے کہ جو وہ لکھ نہیں سکے یا اُن اُمور کو سمجھا جاسکتا ہے جو وہ بیان نہیں کرسکے، یا پھر سائل اپنی اُلجھن دُور کرنے کے لیے ان سے مدد کا طالب ہوتا ہے۔

پروفیسر رفیع الدین ہاشمی نے زندگی کا طویل عرصہ اقبالیات اور ادبیات کے استاد و محقق کے طور پر گزارا ہے۔ اس دوران اُن سے طالب علموں اور اخبار نویسوں نے مذکورہ موضوعات پر بہت سے استفسارات کیے۔ یہ کتاب ایسے ہی سوال و جواب پر مشتمل ہے، جس میں اقبال اور ادب کی مناسبت سے دلچسپی کا عنصر غالب ہے، معلومات بھی ہیں ، اور علمی و ادبی اُلجھنوں کا مداوا بھی۔

کتاب کا پہلا حصہ تو انٹرویوز پر مشتمل ہے، جب کہ دوسرے حصے میں انھوں نے جب اپنے چند کرم فرمائوں کے بارے میں تفصیلات بیان کیں تو انھیں مکالمے کے حصے سے نکال کر شخصی تاثرات کی صورت میں یکجا کردیا گیا ہے۔ یہ سبھی لوگ اپنی اپنی جگہ نہایت قابلِ قدر ہیں۔ کتاب کا اشاریہ مطالعے کو سہل بناتا ہے اور متن میں پوشیدہ احوال کو نمایاں کرتا ہے۔ (ادارہ)


ساتھی، ماہ نامہ، مدیر: عبدالرحیم متقی۔ ناشر: ۲۰۶- ایف، سلیم ایونیو، بلاک بی، ۱۳-گلشن اقبال، کراچی۔ رابطہ: 0332-5803339 صفحات: ۱۶۸۔قیمت: ۱۰۰ روپے۔

نئی نسل کی تربیت اور مزاج بگاڑنے کے ہزار وسیلے ہیں، لیکن اُمت کے اس قیمتی ترین سرمائے کو بچانے، سنوارنے اور معیاری انسان بنانے کے ذرائع اور محرک بہت کم ہیں۔ پاکستانی قوم پر یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کی صورت میں طلبہ کی تنظیم، بہت سے اداروں سے بڑھ کر یہ مبارک کام کرر ہی ہے کہ نئی نسل کو تہذیبی و ثقافتی حملے سے محفوظ رکھے اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے جوڑدے۔

ماہ نامہ ساتھی ان تعمیری کوششوں کا منہ بولتا ثبوت ہے جو گذشتہ نصف صدی سے یہ کارِنمایاں انجام دے رہا ہے کہ بچوں کو اعلیٰ ادب پڑھنے کے لیے فراہم کرے۔ زیرنظر شمارہ ایک خصوصی اشاعت ’خواہش نمبر‘ کی صورت شائع کیا گیا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ اس پرچے کے خریدار بنیں اور اپنے بچوں اور بچیوں کو اس تربیت گاہ سے گزاریں۔ (ادارہ)

یہی شہر مکّہ ہے ، جس سے حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ کا آغاز فرمایا تھا، اور یہی صفا کی پہاڑی ہے جس پر کھڑے ہوکر حضورؐ نے سب سے پہلے قریش کے خاندانوں کو نام بہ نام پکار کر اللہ وحدہٗ لاشریک پر ایمان لانے کی تلقین فرمائی تھی۔اس شہر کے سرداروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اِس دعوت کو دبادینے کے لیے اپنا سارا زور صرف کر دیا۔ یہ حرم کی زمین، یہ ابوقبیس کا پہاڑ،اور یہ مکہ کی گھاٹیاں، سب اس ظلم و ستم کے گواہ ہیں جو ۱۳سال تک حضورؐ اور آپؐ کے اصحابؓ پر توڑا گیا تھا۔ مگر آخرکار اُن سب لوگوں نے نیچا دیکھا، جنھوں نے دعوتِ محمدی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو نیچا دکھانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیا تھا۔ دیکھ لیجیے، آج یہاں ابوجہل اور ابولہب کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے، اور اس حرم کے میناروں سے پانچوں وقت اشھد انَّ محمدًا رسول اللہ کی آواز بلند ہورہی ہے....

یہی شہر مکّہ ہے، جس کے لوگوں سے حضوؐر نے اپنی دعوت کے ابتدائی زمانے میں فرمایا تھاکہ میں ایک ایسا کلمہ تمھارے سامنے پیش کر رہا ہوں، جسے اگر تم مان لو گے تو عرب اور عجم سب اس کی بدولت تمھارے تابع فرمان ہوجائیں گے، کَلِمَۃٌ وَاحِدَۃٌ تُعْطُوْنِیْہَا  تَـمْلِکُوْنَ بِھَا الْعَرَبُ وَتَدِیْنُ لَکُمْ بِھَا الْعَجَمُ۔قریش کے لوگ اس کے برعکس اپنی جگہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کلمے کو ہم نے قبول کرلیا تو تمام عرب ہم پر ٹوٹ پڑے گا اور ہماری ریاست تو کیا، ہمارا وجود بھی یہاں باقی نہ رہ سکے گا۔ وہ کہتے تھے کہ اِنْ نَتَّبِعِ الْھُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفُ مِنْ اَرْضِیْنَا ، ’اگر ہم تمھارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو ہم اپنی جگہ سے اُچک لیے جائیں گے‘۔ لیکن اللہ کے رسولؐ کی زبانِ مبارک سے جو کچھ نکلا تھا وہ لفظ بلفظ پورا ہوکر رہا۔ قریش کے جن لوگوں نے حضوؐر کی یہ بات اپنے کانوں سے سنی تھی، انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ چند سال کے اندر عرب اور عجم سب خلافت ِ اسلامیہ کے تابع فرمان ہوگئے اور قریش ہی کے خلفاء اس عظیم الشان سلطنت کے فرماںروا ہوئے۔(’خطباتِ حرم‘ ، سیّد ابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ج۶۰، عدد۵، اگست ۱۹۶۳ء، ص۴۰-۴۲)