مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۲۴

غزہ شہر سے گذشتہ ماہ لاپتہ ہونے والی ایک چھ سالہ بچی اپنے کئی رشتہ داروں اور انھیں بچانے کی کوشش کرنے والے دو طبی اہلکاروں کے ساتھ مُردہ پائی گئی ہے، جسے اسرائیلی ٹینکوں نے گولیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

چھ سالہ ہند رجب کو اس وقت نشانہ بنایا گيا جب وہ اپنی چچی، چچا اور تین کزنز کے ساتھ کار میں شہر سے فرار ہو رہی تھیں۔ہند اور ایمرجنسی کال آپریٹرز کے درمیان فون پر ہونے والی باتوں کی آڈیو ریکارڈنگ سے پتا چلتا ہے کہ کار میں صرف چھ سالہ بچی زندہ بچی تھی اور وہ اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کے درمیان اسرائیلی فورسز سے چھپ رہی تھی۔

ایک موقعے پر وہ ایمرجنسی سروسز سے کہتی ہیں کہ ’’ٹینک میرے کافی قریب ہے۔ وہ پاس آ رہا ہے۔ کیا آپ مجھے آ کر بچا سکتے ہیں؟ مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے‘‘۔

ان کی التجا اس وقت ختم ہو گئی جب مزید فائرنگ کی آواز کے درمیان فون لائن کٹ گئی۔

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی (پی آر سی ایس) کے پیرامیڈیکس ہفتہ کے روز اس علاقے تک پہنچنے میں کامیاب رہے جسے ایک فعال جنگی زون ہونے کی وجہ سے پہلے بند کر دیا گیا تھا۔

انھیں موٹر کمپنی کِیا کی سیاہ کار نظر آئی جس میں ہند رجب اپنے اہل خانہ کے ساتھ سفر کررہی تھیں۔ اس کار کی ونڈ سکرین اور ڈیش بورڈ پاش پاش ہو گئے تھے اور گاڑی پر چار اطراف سے گولیوں کے سوراخ تھے۔

ایک پیرامیڈیک نے صحافیوں کو بتایا کہ کار کے اندر سے ملنے والی چھ لاشوں میں ہندرجب کی میت بھی شامل تھی، جن میں سے سبھی پر گولیوں اور گولہ باری کے نشانات تھے۔ چند میٹر کے فاصلے پر ایک اور گاڑی پڑی تھی جو مکمل طور پر جل چکی تھی۔ اس کا انجن نکل کر زمین پر پھیل گیا تھا۔ ہلال احمر کا کہنا ہے کہ یہ ہند رجب کو لانے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس تھی۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ رجب کو بچانے کے لیے روانہ کیا جانے والا ان کا عملہ یوسف الزینو اور احمد المدعون اس وقت مارے گئے جب ایمبولینس پر اسرائیلی فورسز نے بمباری کر دی۔

ایک بیان میں پی آر سی ایس نے اسرائیل پر ایمبولینس کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ اس گاڑی کو ۲۹ جنوری کو جائے وقوعہ پر پہنچتے ہی نشانہ بنایا گیا۔ اس میں کہا گیا: 'قابض (اسرائیلیوں) نے جان بوجھ کر ہلال احمر کے عملے کو نشانہ بنایا، حالانکہ ان سے پیشگی تعاون حاصل کرنے کے لیے ایمبولینس کو جائے وقوعہ پر پہنچنے کی اجازت دی گئی تھی تاکہ بچی ہند کو بچایا جاسکے۔

پی آر سی ایس نے بتایا کہ اسے ہند کو بچانے کے لیے پیرا میڈیکس بھیجنے میں کافی وقت لگا کیونکہ اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں کئی گھنٹے لگ گئے تھے۔پی آر سی ایس کے ترجمان نیبل فرسخ نے رواں ہفتے کے شروع میں مجھے بتایا: 'ہمیں کوآرڈینیشن ملا، ہمیں گرین لائٹ ملی۔ ہمارے عملے نے وہاں پہنچنے پر اس بات کی تصدیق کی کہ انھیں وہ کار نظر آ رہی ہے، جس میں ہند رجب پھنسی ہوئی تھیں، اور وہ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ آخری بات جو ہم نے سنی وہ مسلسل فائرنگ تھی۔ فون کال آپریٹرز کے ساتھ ہند کی بات چیت کی ریکارڈنگز کو فلسطینی ہلال احمر نے پبلک پلیٹ فارم پر شیئر کیا ہے۔ جس کے بعد اس بات کو جاننے کی ایک مہم چل پڑی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا؟

ہند کی ماں نے ہمیں بتایا کہ بیٹی کی لاش ملنے سے پہلے تک وہ 'ہر لمحے، ہر پل اس کی آمد کی منتظر تھیں۔اب وہ مطالبہ کر رہی ہیں کہ اس کا احتساب ہونا چاہیے اور کسی نہ کسی کو اس کا ذمہ دار ٹھیرایا جانا چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ 'میں ہر اس شخص کو جس نے میری اور میری بیٹی کی التجا سنی، پھر بھی اسے نہیں بچایا، قیامت کے دن اللہ کے سامنے ان سے سوال کروں گی۔ میں نتن یاہو، بائیڈن اور ان تمام لوگوں کے لیے اپنی دل کی گہرائیوں سے بددعا کروں گی جنھوں نے ہمارے خلاف، غزہ اور اس کے لوگوں کے خلاف تعاون کیا ہے۔

اس ہسپتال میں جہاں وہ اپنی بیٹی کی خبر کا انتظار کر رہی تھیں ہند کی والدہ وسام کے پاس اب بھی وہ چھوٹا سا گلابی بیگ ہے جو وہ اپنی بیٹی کے لیے رکھے ہوئے تھیں۔ اس بیگ کے اندر ایک نوٹ بک ہے جس میں ہند اپنی خوش خطی کی مشق کرتی تھی۔

ہند رجب کی والدہ پوچھتی ہیں: 'آپ اس درد کو محسوس کرنے کے لیے اور کتنی ماؤں کا انتظار کر رہے ہیں؟ اور کتنے بچوں کو مارنا چاہتے ہیں؟ہم نے دو بار اسرائیلی فوج سے اس دن علاقے میں ان کی کارروائیوں کے بارے میں تفصیلات جاننے کی کوشش کی اور ہند کے لاپتہ ہونے اور اسے بازیافت کرنے کے لیے بھیجی گئی ایمبولینس کے بارے میں پوچھا، تو انھوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں جانچ کر رہے ہیں۔ہم نے ہفتے کے روز فلسطینی ہلال احمر کی طرف سے لگائے گئے الزامات پر ان سے دوبارہ جواب طلب کیا ہے۔

جنگ کے اصولوں میں کہا گیا ہے کہ طبی عملے کو تحفظ دیا جانا چاہیے اور انھیں کسی تنازعے میں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ اور یہ کہ زخمی افراد کو ممکنہ عملی حد تک اور کم سے کم تاخیر کے ساتھ ہی سہی وہ طبّی دیکھ بھال فراہم کی جانی چاہیے جس کی انھیں ضرورت ہو۔

یہ خبر دوپہر ۲ بجے کے قریب آئی کہ غزہ میں طبی عملے کے رُکن محمود المصری اور اُن کی ٹیم کے ارکان شمالی غزہ کے العودہ ہسپتال میں ایمرجنسی کال کا انتظار کر رہے تھے۔

اس دوران اعلان ہو گیا کہ ’ایمبولینس ۵-۱۵ کو نشانہ بنایا گیا ہے‘۔ یہ وہی ایمبولینس تھی کہ جس میں محمود المصری کے والد اور اُن کی ٹیم کے ارکان سوار تھے۔ یاد رہے محمود کے والد بھی  طبّی عملے کے رُکن تھے۔محمود اور اُن کے ساتھی یہ دیکھنے کے لیے اُس جانب بھاگے کہ آخر ہوا کیا ہے؟جب وہ وہاں پہنچے، تو انھوں نے دیکھا کہ ایمبولینس سڑک کے کنارے متعدد ٹکڑوں میں بکھری پڑی تھی۔ محمود چیختے ہوئے گاڑی کے ملبے کی طرف بھاگے، لیکن اس ایمبولینس کے اندر موجود تمام افراد ’بُری طرح جل چکے تھے اور اُن کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے‘ ہو چکے تھے۔  محمود نے روتے اور ہچکیاں لیتے ہوئے کہا کہ ’میرے والد کا چہرہ قابلِ شناخت نہیں رہا تھا‘۔

یہ اسرائیل، غزہ جنگ شروع ہونے کے پانچ دن بعد یعنی ۱۱؍ اکتوبر کی بات ہے۔ محمود کے والد یوسری المصری کا بے جان جسم سفید کفن میں لپٹا ہوا تھا اور اسی کے ساتھ اُن کا خون آلود ہیلمٹ بھی پڑا تھا۔جنازے کے موقعے پر جب محمود اپنے والد کی میت کے پاس گھٹنے ٹیکے اپنے آنسو پونچھ رہے تھے تو ایسے میں اُن کے دوست اُن کے قریب جمع ہو گئے۔ ایسے ہولناک واقعات کو غزہ کے ایک مقامی صحافی فراس الاجرامی نے دستاویزی فلم ’غزہ ۱۰۱: ایمرجنسی ریسکیو‘ کے لیے فلم بند کیا ہے۔

اپنے والد کی موت کے بعد، ۲۹ سالہ محمود، جن کے اپنے تین بچے ہیں، نے چند ہفتوں کی چھٹی لے لی۔لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’گہرے دُکھ کے باوجود مَیں کام پر واپس جانا چاہتا ہوں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری سب سے بڑی خواہش فلسطینی عوام کی خدمت کرنا ہے‘۔

انھوں نے اپنے فون کے وال پیپر پر اپنے والد کی تصویر لگا رکھی ہے ،صرف اس لیے تاکہ ’وہ اپنے والد کے چہرے کو دن رات دیکھ سکیں‘۔محمود کی اپنے والد سے آخری ملاقات اُن کی ہلاکت سے چند گھنٹے قبل ہی ہوئی تھی۔ انھوں نے محمود سے ایک کپ کافی کی فرمایش کی تھی جو انھوں نے دوپہر کی نماز سے قبل پی لی تھی۔ اس کے بعد ایمبولینس سنٹر میں محمود کے والد یوسری کی ایمبولینس کا نمبر پُکارا گیا اور انھیں زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے روانہ ہونا پڑا۔

اس واقعے سے صرف دو دن پہلے محمود خود بھی زخمی ہوئے تھے اور اُنھیں سٹریچر پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ ایک حملے کے دوران محمود کی گردن اور پیٹھ میں چھرے لگے تھے۔ اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے محمود نے کہا کہ ’ان کے والد شدید پریشانی کے عالم میں اُن کے پہلو میں کھڑے رو رہے تھے اور وہ بہت پریشان تھے‘۔

مگر اب چند ہفتے گزر جانے کے بعد خود محمود کو اپنے والد کی تباہ شدہ ایمبولینس کو دیکھنے کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ محمود نے کہا کہ ’جب بھی میں اکیلا بیٹھتا ہوں، میں انھیں یاد کرتا ہوں کہ میں ایمبولینس کی طرف بھاگ رہا تھا، میں اپنے والد کی طرف بھاگ رہا تھا، میں ان کے جسم کے ٹکڑے دیکھ کر نیم بے ہوشی کے عالم میں ڈوب چکا تھا۔ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ میرے والد کے ساتھ کیا ہوا؟ میں حواس باختہ ہوگیا تھا‘۔

محمود سات سال سے میڈیکل عملے کے رکن ہیں اور اِس وقت ’فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی‘ (پی آر سی ایس) کی ٹیم میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں مقیم تھے۔

اس دستاویزی فلم میں ۷؍اکتوبر کے ایک ماہ بعد تک کے واقعات کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ یادرہے حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فوج کے غزہ پر حملوں میں ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ۳۰ ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

اس دستاویزی فلم میں طبّی عملے کے اراکین کو قریب سے اس دورانیے میں فلمایا گیا ہے، جب وہ اندھیری گلیوں سے گزر رہے تھے اور زخمی بچوں کی لاشوں اور ان کے جسموں کے ٹکڑے جمع کر رہے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی ذاتی اور پیشہ ورانہ زندگی کس طرح ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔ اس صورتِ حال نے اس صدمے کو ظاہر کیا جس کا انھیں سامنا تھا، خاص طور پر جب انھیں بچوں کی لاشوں سے نمٹنا پڑا۔

جنگ کے ان ابتدائی دنوں میں طبی عملے کے ایک اور رُکن رامی خمیس اپنی ایمبولینس کے سٹیرنگ ویل کے سامنے بیٹھے روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انھیں ایک ایسے گھر کی جانب بلایا گیا کہ جو اس کے اپنے ہی مکینوں پر آن گرا تھا، اور اس گھر میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہی موجود تھے۔ جب وہ اس تباہ حال گھر کے ایک کمرے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تو انھوں نے وہاں تین فلسطینی بچیوں کو مُردہ حالت میں پایا اور انھیں یہ منظر دیکھ کر اپنی بیٹیوں کا خیال آیا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکا، میں یہ دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا‘۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب رامی کی روتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔گذشتہ برس اکتوبر کے آخر میں ٹیم کے ایک اور رکن علاء الحلبی کو ایک رشتہ دار کی طرف سے ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی۔

علاء نے کہا کہ ’ان کے چچا کے گھر کو دو روز قبل اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن ہلاک ہونے والے کچھ افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ان کے کزن کی لاش نکال لی گئی تھی اور وہ اسے ہسپتال لے جانے کی کوشش میں تھے‘۔جیسے ہی وہ ایک تنگ گلی میں داخل ہوئے، جہاں لوگوں کا ایک گروپ کنکریٹ کے ڈھیر کو ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا، ایک رشتہ دار نے انھیں بتایا کہ ’ایک لڑکی ہے، یا تو اس کا آدھا یا پورا جسم ہے‘۔

وہ رُک گئے، ایک گہری سانس لی، اُن کا چہرہ جزوی طور پر ان کے میڈیکل ماسک کے پیچھے چھپا ہوا تھا، انھوں نے کہا کہ ’لڑکی کے اعضا اس کے ساتھ ہی رکھ دیں‘۔

اسی دن علاء ایک ایسے گھر میں پہنچے جہاں بُری طرح جھلسے ہوئے پانچ مردہ بچوں کو رکھا گیا تھا۔ انھوں نے ایک ٹیم کو ہدایت کی کہ بچوں کو پلاسٹک کے کفن میں اُن کی ایمبولینس میں رکھ دیں۔انھوں نے کہا کہ جب آپ کسی بچے کے جسم کے اعضا کو پکڑتے ہیں تو سب سے پہلے جو چیز ذہن میں آتی ہے وہ آپ کے اپنے بچے ہوتے ہیں۔

طبّی عملے کے یہ اراکین فون پر یا ریڈیو نیٹ ورک پر ہونے والی گفتگو کے ذریعے اپنے بیوی بچوں سے رابطے میں رہتے تھے۔ رامی دو عشروں سے طبی عملے کے رُکن کے طور پر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ جب بھی غزہ میں تشدد کا کوئی نیا واقعہ پیش آتا ہے تو میری بیٹیاں مجھ سے چپک جاتی ہیں اور مجھ سے کام پر نہ جانے کی التجا کرتی ہیں۔ علاء نے یہ بھی کہا کہ جب وہ بچوں کی بات نہ مانتے ہوئے کام پر چلے جاتے ہیں تو اُن کے بچے روتے ہیں۔

ایک اور واقعے میں، جب طبی عملے کے چند اراکین العودہ ہسپتال کے باہر اپنی گاڑی میں انتظار کر رہے تھے تو ایک بڑے دھماکے نے انھیں ہلا کر رکھ دیا۔ اس حملے میں کم از کم دو ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا۔ طبی عملے کے ایک رُکن نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں ہسپتال کے قریب واقع ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

پی آر سی ایس کا کہنا ہے کہ ۷؍ اکتوبر سے اب تک غزہ میں اس کی ٹیموں کے گیارہ ارکان ہلاک ہو ئے ہیں۔تنظیم کی ترجمان نیبل فرسخ کا کہنا ہے کہ ’ہر مشن میں ہماری ٹیموں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے‘۔وہ کہتی ہیں کہ ’ڈیوٹی کے دوران ہمارے عملے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور جن حالات میں ہم کام کر رہے ہیں وہ خطرناک اور خوفناک ہیں‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اسرائیلی کارروائیوں کے دوران استعمال ہونے والی ٹکنالوجی کے ہوتے ہوئے یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں کہ اسے دیکھا ہی نہیں گیا‘۔

پی آر سی ایس کا کہنا ہے کہ ۷؍ اکتوبر سے جاری لڑائی کی وجہ سے اس کی اپنی ۱۶ گاڑیاں ناکارہ ہوئی ہیں اور غزہ بھر میں مجموعی طور پر ۵۹؍ ایمبولینسیں مکمل طور پر تباہ ہو ئی ہیں۔

فرسخ کہتی ہیں کہ ’پی آر سی ایس کو کبھی فلسطینی جنگجوؤں کی مداخلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا‘۔ وہ کہتی ہیں کہ ’زمین پر ہمارا کام صحت اور انسانی ہمدردی کی خدمات فراہم کرنا ہے‘۔

جنوری کے اواخر میں، جب خان یونس کے ارد گرد لڑائی میں شدت آئی، محمود نے اپنی بیوی اور بچوں، ۶سالہ محمد، ۵ سالہ لیلیٰ اور ۳ سالہ لیان کو ساحلی صحرائی علاقے المواسی میں ایک خیمے میں رہنے کے لیے منتقل کر دیا، جسے پہلے اسرائیل نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا۔اپنے والد کی موت کے چار ماہ بعد بھی وہ کہتے ہیں کہ بیماروں اور زخمیوں کی مدد کرنے کا ان کا عزم جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ میرے والد کا پیغام اور مشن تھا اور مجھے اسے جاری رکھنا ہے‘۔

۱۹۷۱ءکی جنگ میں ہندستان نے اس اُمید پر مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کی عسکری اور سفارتی مدد کی تھی کہ مشرقی سرحد پر بننے والی یہ نئی ریاست آزادی کے بعد مستقل اس کے تسلط میں رہے گی۔ بھارتی رہنماؤں کو اُمید تھی کہ پاکستان سے علیحدگی کے بعد بنگالی رفتہ رفتہ اپنا اسلامی تشخص بھول جائیں گے اور ہندو بنگالی ثقافت کو قبول کر کے ’عظیم بھارت‘ کا حصہ بن جائیں گے۔  جنوبی ایشیا میں مجموعی طور پر ہندستان کی حکمت عملی یہی ہے کہ کمزور ہمسایوں کو ڈرا دھمکا کر یا ان کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر انھیں اپنا دست نگر رکھا جائے۔

عوامی لیگ کے دعوئوں اور حقائق کے مطابق شیخ مجیب نے پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد اس ہندستانی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز کیا لیکن تب ذرا جھجک باقی تھی۔ اس ضمن میں ’اگرتلہ‘ بھارت مجیب گٹھ جوڑ اور سازشوں کا مرکزبنا۔ جس سے پہلے تو عوامی لیگی انکار کرتے رہے، مگر ۲۰۱۱ء کو اس سازش کے ایک براہِ راست کردار ڈپٹی اسپیکر شوکت علی نے بنگلہ دیش پارلیمنٹ میں کھل کر اعتراف کیا کہ ’’ہم اگرتلہ میں ۱۹۶۲ء سے بھارت کے رابطے میں تھے‘‘۔ ۱۹۷۵ء میں شیخ مجیب کے خلاف خون ریز فوجی بغاوت کی ایک بڑی وجہ ان کی ہندستان نوازی بھی تھی، اگرچہ وسیع بدعنوانیوں، ۱۹۷۴ میں پڑنے والے قحط کے اثرات اور یک جماعتی آمر حکومت سےلوگوں کی بیزاری نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہندستانیوں نے خاموشی سے اس صدمے کو برداشت کیا اور دوبارہ ایسے عالمی و مقامی سیاسی حالات کا انتظار کرنے لگے، جن کے اندر اپنی کٹھ پتلی حکومت کو بنگلہ دیش پر دوبارہ مسلط کر سکیں، تاکہ شیخ مجیب الرحمٰن کے جانے سے ہونے والے نقصان کی تلافی ہو سکے۔ ہندستان کو یہ مراد پوری ہونے کے لیے تین عشروں تک انتظار کرنا پڑا۔

تاہم، اس دوران ہندستان فارغ نہیں بیٹھا رہا۔ اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے لوگ پیہم بنگلہ دیشی عدلیہ، انتظامیہ، فوج، صحافت، تعلیم اور سول سوسائٹی میں نقب لگاتے رہے، تا کہ حتمی وار سے پہلے زمین ہموار کی جا سکے۔ نائین الیون کے بعد پیدا ہونے والی اسلام مخالف سیاسی صورتِ حال کا ہندستان نے بھرپور فائدہ اُٹھایا اور امریکی انتظامیہ کے تعاون سے بنگلہ دیش کے خلاف شکنجہ تنگ کرنا شروع کر دیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکی صدر بش نے ’’آپ ہمارے دوست ہیں یا دشمن‘‘ کا نعرہ لگایا، تو مسلم ممالک میں پائی جانے والی سیکولر جماعتوں کی اہمیت مغربی دنیا میں بڑھنے لگی۔ عراق اور افغانستان پر خوفناک اور خوں ریز حملے کے بعد بش حکومت مسلم ممالک میں ایسی جماعتوں کو مضبوط کرنا چاہتی تھی، جو اسلامی نظریات کو دباسکیں۔ ہندستان نے اس صورتِ حال کا پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۲۰۰۹ء میں امریکی حکومت کے تعاون سے بنگلہ دیش میں شیخ مجیب کی بیٹی حسینہ واجد کی حکومت قائم کروا دی۔

بنگلہ دیشی فوج پہلے ہی ’را‘ کے ذریعے رام کی جا چکی تھی۔ چنانچہ اس نے ۲۰۰۹ء کے انتخابات میں عوامی لیگ کی فتح یقینی بنانے کے لیے ہر طریقہ استعمال کیا، تا کہ ایک ایسی آمرانہ حکومت (Orwellian State) قائم کی جا سکے جو اپنے شہریوں پر ہر جبر کو روا رکھتے ہوئے ہندستانی غلبے کو قبول کرے اورقبول کرائے۔ تب بنگلہ دیشی فوج کے سپہ سالار جنرل معین نے پہلے ہی اپنے عہدے اور معاشی مفادات کے لیے بنگلہ دیشی خودمختاری کا سودا کر لیا تھا۔ بھارتی صدر پرناب مکھرجی (م: ۲۰۲۰ء)اپنی یادداشتوں The Presidential Years میں لکھتے ہیں: ’’فروری ۲۰۰۸ء میں بنگالی سپہ سالار معین احمد چھ دن کے دورے پر ہندستان آئے۔ اس دوران وہ مجھ سے بھی ملے۔غیر رسمی گفتگو کے دوران میں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے زور دیا۔ وہ حسینہ واجد کی رہائی کے بعد اپنی نوکری کے لیے فکر مند تھے۔ تاہم، میں نے ذاتی ذمہ داری لیتے ہوئے انھیں یقین دہانی کروائی کہ حسینہ واجد کے آنے پر ان کی نوکری متاثر نہیں ہو گی‘‘۔ (ص ۱۱۴)

پرناب مکھرجی اور حسینہ واجد دونوں نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ جنرل (ر) معین نے حسینہ واجد کی سربراہی میں اپنی مدت اطمینان سے پوری کی۔ اس دوران انھوں نے ۲۰۰۹ء کی بی ڈی آر بغاوت میں ۵۷ افسران کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے اور بڑی مہارت سے بنگلہ دیشی فوج کا مورال کچل کر اسے نااہل، بزدل، بدعنوان اور ملک دشمن فوج بنا دیا۔ آج کل وہ اپنے خاندان کے ساتھ بہت ساری دولت سمیٹ کر نیویارک منتقل ہوکر زندگی بسر کررہے ہیں۔

۲۰۰۹ء سے حسینہ واجد، ہندستان کی کھلی حمایت کے ساتھ تین جعلی انتخابات کروا چکی ہیں اور ریاستی طاقت پر ان کی گرفت سخت سے سخت ہوتی جا رہی ہے۔ جنوری ۲۰۱۴ میں قاضی راکب الدین کے الیکشن کمیشن نے یک جماعتی الیکشن کروایا، جس میں ۳۰۰ کے ایوان میں عوامی لیگ کے ۱۵۳ ؍ارکان بلامقابلہ الیکشن سے پہلے ہی منتخب کرا دیئے گئے۔ چنانچہ پہلے سے جاری حکومت کو بغیر ایک بھی ووٹ ڈالے، آئندہ پانچ سال کا مینڈیٹ سونپ دیا گیا۔

ہندستان نے سفارتی سطح پر کوششیں کرکے واشنگٹن اور دیگر دارالحکومتوں میں الیکشن کے نام پر ہونے والے اس فراڈ کے لیے قبولیت پیدا کی۔ اس وقت کے ہندستانی سیکرٹری اور وزیر خارجہ نے واشنگٹن، لندن اور برسلز کا دورہ کر کے حسینہ واجد کے لیے سازگار فضا پیدا کی۔ دریں اثناء حسینہ واجد نے امریکی حمایت برقرار رکھنے کے لیے ’اسلامی دہشت گردی ‘ کا بھی بھرپور شور مچایا۔ ان کے خفیہ اداروں نے ڈھاکہ اور گردونواح میں کئی جعلی دہشت گرد حملے کر کے بے گناہ لوگوں کو قتل کیا اور کئی افراد کو بغیر کسی ثبوت کے ’دہشت گرد‘ قرار دے کر تختۂ دارپر چڑھا دیا گیا۔ اسلام مخالف مغربی مقتدرہ کی جانب سے حسینہ واجد کی اس حکمت عملی کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اور مغربی ممالک ایک بے رحم آمر کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے۔ یوں بنگلہ دیش میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی رات طویل تر ہوتی چلی گئی۔

دسمبر ۲۰۱۸ء میں نورالہدیٰ کی سربراہی میں ہونے والے الیکشن میں عوامی لیگ کے غنڈے اور پولیس کے سپاہی الیکشن سے ایک رات قبل انتخابی باکس بھرتے رہے، تا کہ عوامی لیگ کی جیت یقینی بنائی جا سکے۔ ۳۱ دسمبر ۲۰۱۸ کو ٹائم میگزین نے رائے دہندگان کی حق تلفی پر ایک مضمون شائع کیا، جس کا عنوان ’’ حسینہ واجد کی جیت ووٹروں کی واضح حق تلفی سے عبارت ہے‘‘ تھا۔ بنگلہ دیش میں جمہوریت کے قتل پر جہاں ہر طرف سے مذمت ہوئی، وہیں ہندستان اس دفعہ بھی اپنی کٹھ پتلیوں کے ساتھ کھڑا رہا۔

جنوری ۲۰۲۴ء میں ہونے والے انتخابات کو حسینہ واجد خود ’ڈمی الیکشن‘ قرار دے چکی ہیں۔ ان انتخابات میں حزب اختلاف کی تمام جماعتوں خصوصاً بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) اور جماعت اسلامی بنگلہ دیش [یاد رہے کہ جماعت اسلامی کے براہِ راست انتخاب میں حصہ لینے پر اس حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے]کے بائیکاٹ کے بعد عوامی لیگ نے حسینہ واجد کے ’ڈمی‘[جعلی] اُمیدواروں کو میدان میں اتارا اور الیکشن ’جیت‘ لیا۔ بنگالی عوام نے بھی انتخابات کے نام پر ہونے والے اس شرمناک ڈرامے کو مسترد کر دیا اور تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود صرف ۱۰ فی صد لوگ ووٹ ڈالنے کے لیے گھروں سے نکلے۔ تقریباً ۹۵ فی صد حلقوں میں عوامی لیگ کے اصل اور ’ڈمی‘ اُمیدواروں کو ’فاتح‘ قرار دے دیا گیا۔ کچھ نشستیں دوسری ہندستان نواز جماعتوں کو بھی دے دی گئیں، جن کا انتخاب خود حسینہ واجد نے ’را‘ کے مشورے سے کیا تھا۔ ’حبیب الاول کمیشن‘ نے ۴۱ فی صد ٹرن آؤٹ کا دعویٰ کرتے ہوئے فسطائی حکمرانوں کی خواہش کے مطابق انتخابی نتائج کا اعلان کر دیا۔ نسل پرست اور متنازعہ ہندو وزیر اعظم نریندر مودی نے ۴۸ گھنٹوں کے اندر فون کرکے حسینہ واجد کو اس فراڈ الیکشن میں ’کامیابی‘ اور چوتھی دفعہ وزیر اعظم بننے پر مبارک باد دی۔

 حسینہ واجد نے بھی ہندستان کے ان احسانات کا پورا پورا بدلہ ادا کیا ہے اور اکثریتی عوام کی اُمنگوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام ہندستانی مطالبات پورے کیے ہیں۔ تاریخی تناظر میں بنگلہ دیش سے متعلق ہمیں بھارت کے مندرجہ ذیل سفارتی اہداف نظر آتے ہیں:

            ۱-         ہندستان، بنگلہ دیش میں ایک وفادار حکومت چاہتا ہے، جو جنوبی ایشیا میں اس کے عزائم کو پورا کرنے کے لیے معاون ہو سکے۔

            ۲-         ہندستان کو بنگلہ دیش کے بری، بحری اور فضائی وسائل کی ضرورت، تا کہ علیحدگی کے خواہش مند اور متنازعہ شمال مشرقی علاقوں پر گرفت برقرار رکھ سکے۔

            ۳-         ہندستان نہ صرف یہ چاہتا ہے کہ بنگلہ دیش کی جانب سے اسے کوئی دفاعی خطرہ نہ ہو بلکہ یہ مشرق میں بنگلہ دیش کو اپنی چھاؤنی کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔

            ۴-         بنگلہ دیش، ہندستان کے سول اور عسکری منصوبوں کے لیے ایک راہداری ہو سکتا ہے۔

            ۵-         بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری اور ہندستان مخالف سوچ کو دبانے کے لیے بھارت کو یہاں ایک وفادار حکومت کی ضرورت ہے۔

            ۶-         ہندستان اپنی معاشی ترقی کے لیے بنگلہ دیشی وسائل پر قبضے کا خواہش مند ہے تا کہ ایک چھوٹے ہمسائے کی ملکیت کو غصب کر کے اپنے مفادات کو آگے بڑھایا جائے۔

گذشتہ ۱۵ سال میں ہندستان نے یہ تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں۔ ایک اتحادی کا کردار ادا کرتے ہوئے حسینہ واجد نے نہ صرف ملک کا جمہوری انتخابی نظام تباہ کر دیا ہے بلکہ شہریوں کی آزادی اور خودمختاری بھی نئی دہلی کے ہاتھ بیچ دی ہے۔ ایک سابقہ سینئر جرنیل لیفٹیننٹ جنرل (ر) حسن سہروردی جو آج کل سرکاری حراست میں ہیں، کے بقول: ’’بنگلہ دیش ہندستانی مقتدرہ کی پیشگی منظوری کے بغیر اپنا آرمی چیف بھی تعینات نہیں کر سکتا‘‘۔

            ملک کے تمام عسکری، عدالتی اور انتظامی عہدوں پر تعیناتی، ہندستان کے خفیہ اہلکاروں کی ایما اور کلیرنس پر کی جاتی ہے، جو سیکریٹیریٹ اور چھاؤنیوں میں قیام پذیر ہیں۔ ہندستان میں برسرِاقتدار شدت پسند جماعت کی پالیسیوں کے مطابق حسینہ واجد نے ’عظیم بھارت‘ کے لیے ملک کے ۹۰ فی صد مسلمان عوام پر ہندو غلبہ قائم کر دیا ہے۔ ہندو غلبے کے اس عمل کوتیز تر کرنے کے لیے حسینہ واجد حکومت نے تعلیمی نظام میں بھی ہندو ثقافت، روایات، عقائد، داستانوںاور مذہبی رسوم و رواج کو شامل کیا ہے۔ نصابی کتب میں تیرھویں سے سترھویں صدی تک سلاطین کے زمانے میں بنگال کی آزاد سیاسی تاریخ کو بھی مسخ کر کے دکھایا جاتا ہے۔ دوسری طرف بالکل یہی عمل ہندستان میں دُہرایا جا رہا ہے، جہاں نسل پرست حکومت اپنی کتابوں میں مغل سلطنت اور سلاطین دہلی کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرتی ہے۔ اس سب کا حتمی مقصد یہ ہے کہ آغاز میں ہی نوجوانوں کے ذہن میں غلط معلومات اور مسخ تاریخ کو داخل کر کے بنگالیوں کا اسلامی تشخص ختم کر دیا جائے۔

سارک ریاستوں میں سے بھوٹان باضابطہ طور پر ہندستانی تسلط میں ہے۔ ہمالیہ میں واقع اس سلطنت نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے پر بھی آزادی کا چہرہ نہیں دیکھا۔ بیسویں صدی کے آغاز سے یہ علاقہ برطانوی ہندستان کے انتداب میں تھا۔ ہندستان کو نہ صرف یہ تعلق ورثے میں ملا، بلکہ ۱۹۴۹ء میں بھارت۔بھوٹان معاہدے کے ذریعے اس کو قانونی حیثیت بھی دے دی گئی۔ تب سے یہ ریاست باقاعدہ طور پر براہ راست نئی دہلی کے زیرتسلط ہے۔ اکیسویں صدی میں حسینہ واجد کے ذریعے ہندستان نے بنگلہ دیش کو بھی یہی حیثیت دے دی ہے۔ بھارت میں انتہاپسند نسل پرستی کے عروج کے ساتھ عسکری طور پر کمزور ممالک مثلاً بنگلہ دیش اور بھوٹان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

’ہندوتوا‘ کا فلسفہ جنوبی ایشیا میں ہندو غلبے کا علَم بردار ہے۔ سخت قسم کے شدت پسند ہندو سمجھتے ہیں کہ ’اکھنڈ بھارت‘ کا نقشہ بنگلہ دیش سے لے کر افغانستان تک پورے جنوبی ایشیا پر مشتمل ہو گا۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کا جنون انتہا پسند ہندوؤں کی کئی نسلوں کو اپنی گرفت میں لے چکا ہے۔ مشرق اور جنوب میں واقع ممالک کو فتح کرنا نسل پرست مودی حکومت کے لیے ضروری ہے تاکہ اپنے ووٹروں کو مطمئن رکھا جا سکے۔ حسینہ واجد اس مہم میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ وہ بڑی ذمہ داری سے تمام علاقائی اور بین الاقوامی فورمز پر ہندستانی موقف کی تائید کرتی نظر آتی ہیں۔ چنانچہ ہندستان کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ بنگلہ دیش میں عوامی حمایت کے ساتھ یا اس کے بغیر، حسینہ واجد کی حکومت قائم رکھی جائے۔ پس حسینہ واجد کی فسطائی حکومت کے خلاف بنگلہ دیش کے جمہوریت پسند، مگر مظلوم اور مجبور عوام کی جدوجہد دراصل ملکی خودمختاری کے حصول کے ساتھ براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔

نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ایک سعادت اور عظیم منصب ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرامؑ کو عطا فرمایا ۔جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ’خاتم النبیین‘ قرار دیا اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا، اور دین اسلام کو مکمل دین قرار دے دیا (اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ)، اور دین اسلام کو اپنی بڑی نعمت بتایا اور یہ فرمادیا کہ یہ نعمت میں نے تم پر مکمل کر دی (وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ )،تو اس منصب پر نبی ؐ کی امت کو سرفراز فرمادیا۔اور اس عظیم خوبی کی وجہ سے انھیں سب سے بہتر امت قرار دیا: كُنْتُمْ خَيْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ (اٰل عمرٰن۳:۱۱۰)۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ امت محمدیہؐ کو دنیا میں اس مقصد کے لیے لائے ہیں کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔کیونکہ انسان بھول جاتا ہے ،اسی لیے اللہ رب العزت نے ہر زمانہ اور ہر قوم کے لیے نبی مبعوث فرمائے،جو انھیں بھولا ہوا سبق یاد دلاتے تھے،گمراہی سے بچنے اور راہِ ہدایت کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔آپؐ کے وصال کے بعد یہ فرض آپؐ کی امت پر عائد کر دیا گیا۔ اسی لیے آپؐ کی اُمت کو’ خیر اُمت‘ قرار دیا گیا کیونکہ انسانیت کو سیدھی راہ پر بلانا ہی سب سے بڑی نیکی اور خیر ہے ۔امام رازیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

۱-امت مسلمہ کو بہترین امت اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ اللہ کے حقوق کی ادائیگی میں ہمیشہ سے کمر بستہ ہے (اللہ کے حقوق میں پہلا حق یہ ہے کہ وہ حاکم مطلق ہے ۔تکوینی احکام کے ساتھ ساتھ تشریعی احکام میں بھی اُسے حاکم مانا جائے۔ اس لیے کہ پوری کائنات کا خالق ،مالک ،رازق اور رب صرف وہی ذات وحدہُ لا شریک ہے)۔

۲- اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اس لیے فضیلت دی ہے کیونکہ وہ اللہ کے احکام کو پوری انسانیت تک پہنچاتی ہے۔ ’معروف‘ اللہ کے حکم کا نام ہے ۔ اس لیے امت اجتماعی طور پر جس چیز کا حکم دے وہ معروف ہونے کی وجہ سے اللہ کا امر بن جائے گا ۔ اور امت مسلمہ کبھی گمراہی پر جمع نہیں ہوگی۔

۳- اہل ایمان منکر کو روکتے ہیں ،منکر وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے روک دیا ۔اس صفت کی وجہ سے اِن افراد کی مرضی وہی ہوتی ہے جو اللہ کی مرضی ہے۔

حضرت درہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سب لوگوں سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن پڑھتا ہے ،سب سےزیادہ پرہیزگار ہے ،اچھے کاموں کا حکم دیتا ہے، سب سے زیادہ برائیوں سے روکنے والا ہے اور رشتہ ناتا ملانے والا ہے‘‘۔ (مسند احمد بن حنبل :۲۷۴۳۴)

اُمت مسلمہ کی فضیلت

حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جنت والوں کی ۱۲۰ صفیں ہوں گی ۔ان میں سے ۸۰  صفیں اُمت ِمحمدیہؐ کی ہوں گی اور چالیس صفیں دوسری امتوں کی ہوں گی‘‘۔ (سنن ابن ماجہ:۴۲۵۹)

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا: ہم آخری امت ہیں مگر ہمارا حساب پہلے ہوگا‘‘۔(سنن ابن ماجہ: ۴۲۹۰)

کتب احادیث میں امت محمدیہ ؐکی فضیلت کے اعتبار سے بہت سی احادیث مبارکہ ملتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امت مسلمہ کی فضیلت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھا جائے۔

دین اسلام ایک مکمل ،عالمگیر اور آخری دین ہے جسے قیامت تک برقرار رہنا ہے ۔ یہی دین تمام انسانیت کے لیے راہ نجات ہے ،لائحہ عمل ہے ،ضابطۂ حیات ہے ،کامیابی وکامرانی کا ذریعہ اور مسائل کا حل ہے۔

 اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ خدا کے حکم پر قائم رہے گا اور انھیں جھٹلانے والے اور مخالفت کرنے والے نقصان نہیں پہنچا پائیں گے‘‘۔(صحیح    مسلم : ۲۸۸۹)

اس سے مراد ہے کہ دشمن اسے ختم نہیں کر پائیں گے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ حق وباطل کا معرکہ ہمیشہ ہی جاری رہا۔باطل خواہ کتنا ہی طاقت ور رہا ،مگر وہ راہِ حق پر چلنے والوں کو ختم نہیں کرسکا۔ اُن کی منزل کھوٹی نہیں کر پایا ،ہر طرح کے آلام ومصائب میں یہ مومن بندے اپنا فریضہ انجام دیتے رہے ہیں۔ نبوت کا سلسلہ ختم ہو جانے کے بعد اس وسیع وعریض کرۂ ارض پر مجدد دین، اسلامی تحریکوں اور علمائے کرام کی محنتوں سے دین اسلام محفوظ ومامون ہے۔ہر دور میں اسلامی تحریکیں آگے بڑھتی رہی ہیں اور دین اسلام اپنی صحیح تعریف وتشریح کے ساتھ اگلی نسلوں تک منتقل کرتی رہی ہیں اور یہ سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ؐ نے فرمایا: سنو آج رات انبیائے کرامؑ پنی اپنی امت سمیت مجھے دکھائے گئے۔ بعض انبیاؑ کے ساتھ صرف تین اشخاص تھے۔بعض کے ساتھ مختصر گروہ ،بعض کے ساتھ ایک جماعت اور کسی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا۔حضرت موسی ؑ آئے تو ان کے ساتھ بہت سارے لوگ تھے۔مجھے یہ جماعت پسند آئی ۔

میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو جواب ملا: یہ موسٰی ہیں اور اُن کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں۔ میں نے پوچھا کہ پھر میری اُمت کہاں ہے؟جواب ملا: اپنی داہنی طرف دیکھو ،دیکھا تو بہت بڑا مجمع تھا۔جس سے پہاڑیاں بھی ڈھک گئی تھیں۔مجھ سے پوچھا گیا کہ خوش ہو؟میں نے کہا: اے اللہ میں راضی ہوں‘‘۔( صحیح بخاری :۶۵۴۳)

جامع ترمذی کی حدیث (۴۶۷۹) اس کی تائید وتوثیق کرتی ہے ۔آپ ؐ نے فرمایا: ’’اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں سے ۸۰صفیں صرف اس امت کی ہوں گی‘‘۔

حضرت ابوہریرہؓ سے جو تفسیری احادیث ملتی ہیں اُ ن احادیث میں کنتم خیر امۃ کی تشر یح میں فرمایا گیا:’’تم اس لیے بہترین امت ہو کہ تم لوگوں کو اسلام کی طرف کھینچ کر لاتے ہو‘‘۔

جنّت میں داخلـے کی بشارت

ہر صاحب ِایمان کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ بغیر حساب کتاب کے جنت میں چلا جائے۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’اے عائشہؓ! جس کا حساب ہوا وہ مارا گیا‘‘۔

شہید کو یہ مقام حاصل ہے کہ وہ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوگا،کیونکہ جہاد کی غرض بھی اسلامی نظامِ زندگی کا قیام ہے۔اسی مقصد کے لیے حضوؐر اور صحابہ کرامؓ نے جنگیں لڑیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔قرآن پاک میں شہداء کے لیے حکم ہے کہ انھیں مردہ نہ کہو وہ تو زندہ ہیں اور اپنے رب کے ہاں سے رزق پا رہے ہیں،مگر تم اس بات کا شعور نہیں رکھتے۔جہاد کی فضیلت بھی اسی لیے ہے کہ اس کے نتیجے میں افراد اور اقوام کا بنایا ہوا نظام زندگی ختم کر کے اللہ کا بھیجا ہوا قانون نافذ کیا جاتا ہے۔ہم مسلم اکثریت کے حامل ملک کے شہری ہیں۔یہاں پر قرآن کے احکامات کو جاری و ساری کرنے کے لیے، اپنی قوم کو بھولا ہوا سبق یاد کروانے،قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے،اپنی زندگیوں کو خدا کے قانون کے مطابق ڈھالنے،بندگیٔ ربّ پر اُبھارنے، منافقت سے دُور رہنے کی ترغیب دینے کی ضرورت ہے، تاکہ زندگی کی گاڑی ٹھیک ٹھیک اللہ کے راستے پر چل سکے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے کی گئی ہر طرح کی کوشش جہاد فی سبیل اللہ کے ذیل میں آتی ہے۔ داعی الیٰ اللہ بھی راہِ حق کا وہ مجاہد ہے جس کے لیے نبیؐ کی بشارت ہے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّـمَّنْ دَعَآ اِلَى اللہِ  وَعَمِلَ صَالِحًـا وَّقَالَ اِنَّنِيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۝۳۳ ( حم السجدہ ۴۱:۳۳) ’’اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں‘‘۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ جو شخص معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے وہ خدا کی زمین میں خدا کا نائب ہے ، خدا کے رسول ؐ کا نائب ہے اور خدا کی کتاب کا نائب ہے ‘‘۔گویا کہ اُمت محمدیہؐ کو جو فضیلت حاصل ہے وہ اِ س بنیاد پر حاصل ہے کہ وہ دعوت اور تربیت کا فریضہ انجام دیتی ہے اور قرآنی تعلیمات کے مطابق اس اُمت کا مقصد بھی یہی ہے۔

معروف و منکر ایک دعوتی و تربیتی فریضہ

امر بالمعروف ونہی عن المنکر دراصل دو کاموں کا مجموعہ ہے:دعوت و تبلیغ اور تنظیم وتربیت۔ یہ دونوں کام ایک فطری ترتیب کے ساتھ انجام پاتے ہیں ۔پہلے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا جاتا ہے ۔اس کے بعد اُن افراد کی تنظیم اور تربیت کی جاتی ہے جو اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں ۔اسی تنظیم وتربیت پر دعوت کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے ۔اگر تنظیم مضبوط اور تربیت صحیح ہے تو دعوت کامیاب ہوگی ورنہ اس کی ناکامی یقینی ہے۔اس لیے دعوت وتبلیغ اور تنظیم وتربیت کے درمیان بہت ہی گہرا اور قریبی ربط ہے۔امت مسلمہ کو دعوت وتبلیغ اور تنظیم وتربیت دونوں ہی کام کرنے ہیں۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض اپنے دائرے کے باہر بھی انجام دینا ہے اور اندر بھی ،جو کام اپنے دائرے سے باہر کریں گے وہ دعوت وتبلیغ ہے اور جو اپنے دائرے کے اندر انجام دیں گے وہ تنظیم وتربیت ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے:

خُذِ الْعَفْوَوَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰہِلِيْنَ۝۱۹۹(اعراف ۷:۱۹۹)، اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جائو، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔

آپ ؐ نے یہود ونصاریٰ ،مشرکین اور منافقین سب کو دین کی دعوت دی،اخلاقِ حسنہ کی نصیحت کی،آداب زندگی کی تلقین کی ۔وہ سب امربالمعروف اور نہی عن المنکر میں شامل ہے۔ اس وقت اگر ہم اپنی قوم کی حالت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح وتربیت کی بھی ضرورت ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ کچھ عقائد کی اصلاح بھی مطلوب ہے۔ لہٰذا دعوت وتبلیغ اور تنظیم وتربیت کا فریضہ انجام دینا اور تسلسل کے ساتھ اسے جاری رکھنا ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔ اس کی انجام دہی ہماری نجات اور فلاح کی ضامن ہے۔(جلال الدین عمری، معروف و منکر)

فریضۂ معروف و منکر اور علمی خدمات

دعوتِ دین بالکل سادہ کام نہیں ہے،بلکہ اس میں جہاں وعظ ونصیحت اور تذکیر وتلقین کی ضرورت پڑتی ہے وہاں دین کو دلائل سے ثابت کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے ۔یہ علمی اور استدلالی خدمت بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ایک اہم پہلو ہے ۔امام رازی ؒ لکھتے ہیں: ’’معروف کا حکم دو ،یعنی دینِ حق کی وضاحت اور اس کے دلائل کے اثبات کے ذریعے‘‘۔

ابن عربی مالکی کہتے ہیں کہ دین کو علمی رنگ میں پیش کرنا اور اسے دلائل سے ثابت کرنا امربالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔ یہ بات بھی امر بالمعروف ونہی المنکر میں شامل ہے کہ مخالفین پر حجت قائم کرکے دین کی مدد کی جائے۔

ہم اس وقت فریب اور دھوکا دہی پر مبنی دورِ دجل میں جی رہے ہیں۔ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔عورت کی حیثیت ،عورت کا مقام اور اس کا دائرہ موضوع بحث ہے۔ تاریخ اسلام اور مسلمان حکمرانوں کے کارہائے نمایاں پر حرفِ تنقید ہے۔حضورؐ کی ذاتِ مبارکہ بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں۔ علم حدیث اور سنت متواتر ہ تک پر حملے ہو رہے ہیں۔اس لیے دینِ  اسلام کے پورے نظام کا دفاع بہت ضروری ہے۔ لہٰذا امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں دعوت دین کی پوری جدوجہد شامل ہے۔اس کا فطری اور لازمی تقاضا ہے کہ دنیا کو اللہ کے دین کی طرف بلایا جائے۔ اس بات کو دلائل سے ثابت کیا جائے کہ اللہ کا دین ہی حق ہے ۔اسی میں ہماری نجات ہے۔ اس دین کو فروغ دینے،اسے پھیلانے اور اس کا نظام نافذ کرنے کی جدو جہد وقت کا تقاضا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس نے ہدایت کی طرف دعوت دی،اس کے لیے بھی اتنا ہی ثواب ہےجتنا اس پر عمل پیرا ہونے والوں کا ہے‘‘ ۔(صحیح    مسلم:۱۸۶۰ )

مزید ارشاد فرمایا:’’اللہ کی قسم! اگر اللہ تیرے ذریعے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت بخش دے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے‘‘۔(صحیح       بخاری: ۱۱۹۳)

الغرض امت مسلمہ کو دنیا میں بھیجے جانے کا مقصد حاکمیت الٰہیہ کا قیام ہے ۔اس مقصد کے حصول کے لیے جان و مال سے جہاد کرنا ہو، قرآن پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دروس قرآن اور دروس حدیث کا سلسلہ ہو،اسلامی لٹریچر کا مطالعہ ،دین کی دعوت دینے کے لیے ملاقات ہو یا اجتماع عام، یا انسانی زندگیوں کو اخلاق و معاملات کےدائرے میں لانے کے لیے تربیت گاہوں کا انعقاد___ یہ سب کوششیں جہاد فی سبیل اللہ کے ذیل میں آتی ہیں۔

نبی اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارتوں کے مستحق ہیں وہ سب داعیانِ دین جنھوں نے اپنی زندگیاں اس راہ میں لگا دیں۔

سوال: ایک ملازم روزہ رکھتا ہے، مگر اس کا مسلمان مالک بلاعُذر شرعی روزہ نہیں رکھتا۔ کیا ملازم کا اپنے مالک کے لیے کھانا پکانا اور کھلانا درست ہے؟

جواب: ملازم اس صورت میں گنہگار نہیں ہوگا۔ روزہ ترک کرنے اور ملازم سے کھانا پکوانے کا گناہ مالک کے ذمے ہے۔افسوس کہ ایسے مسلمان آقائوں اور مشرکین و کفّار آقائوں کے درمیان کوئی زیادہ فاصلہ نہیں رہا۔ البتہ ملازم ایسے آقا کو توجہ ضرور دلائے کہ وہ روزہ رکھے۔

روزہ اور نماز

سوال: بعض لوگ روزہ تو رکھتے ہیں، لیکن نماز نہیں پڑھتے۔ کیا ایسی صورت میں روزے کا اجر انھیں مل جائے گا؟

جواب: میرے علم میں ایسے آدمی کے روزے کا کوئی اجر نہیں ہے، جو نماز ترک کردے اور روزے رکھے۔


’انذار اور ’خشیت‘

سوال: ’انذار‘ اور’خشیت‘ میں کیا فرق ہے؟

جواب: ’انذار‘ کے معنی ہیں ڈرانا اور ’خشیت‘ کے معنی ڈرنا۔ لیکن ڈرانا، دہشت زدہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ تنبیہ [وارننگ] کے لیے ہے۔ ’خشیت الٰہی‘ کا یہی مطلب ہے کہ خدا کی عظمت و جلال سے متاثر اور مرعوب ہوکر اس کی رضا طلب کی جائے۔