بھارت کی طرف سے اہل کشمیر سے وعدوں میں مسلسل خیانت اور جموں و کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو واضح طور پر نظر انداز کرنے کے نتیجے میں خطے میں جبر اور خوف کی کیفیت ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسئلہ کشمیر کے حل کی اہمیت کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے ایک اہم پہلو کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ اگست ۲۰۱۹ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا کشمیر پر خصوصی اجلاس کا انعقاد خطے میں دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کشمیر کے تنازع کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور یو این سیکورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے اقوام متحدہ کے عزم کا اعادہ کیا۔ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے بھی انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے ہندستان کے زیر انتظام کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے بھارت پر زور دیا کہ وہ خطے میں بلدیاتی انتخابات کی بحالی کے لیے فوری کارروائی کرے۔ یہ ضروری ہے کہ عالمی برادری کشمیر میں احتساب اور انصاف کے لیے دباؤ ڈالے تاکہ خطے کے تمام افراد کے لیے انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی حکومت اور یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے بھارت کی طرف سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس قضیے کا واحد پُرامن حل یہ ہے کہ تنازعۂ کشمیر میں شامل تمام فریق انسانی حقوق اور تمام متاثرہ افراد کے حقِ خود ارادیت کو ترجیح دیں۔
خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارت کاری، بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی پاسداری اور مذاکرات اور سمجھوتہ کے لیے مخلصانہ عزم ضروری ہے۔ ایک متوازن اور حقیقت پر مبنی نقطۂ نظر ہی مؤثر پیش رفت کا باعث بنے گا۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جنوبی ایشیا کے تمام ممالک اور اہل دانش مل کر کام کریں، تاکہ کشمیر کے لوگ آخرکار اس امن اور آزادی کا تجربہ کر سکیں، جس کے وہ حق دار ہیں۔
عالمی برادری کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور نقطۂ نظر کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ انسانی حقوق کی کسی بھی درجے کی خلاف ورزی یا بنیادی آزادیوں سے انکار ناقابلِ قبول ہے۔ ایسی صورتِ حال کا مناسب قانونی اور سفارتی ذرائع سے ازالہ کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے تحفظ کی علَم بردار بین الاقوامی تنظیموں نے کشمیر کی صورت حال کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے لیکن ان کے خدشات پر کان دھرے ہی نہیں جا رہے ہیں۔ کشمیر کی صورت حال کی پیچیدگیوں کو اس کے متنوع نقطۂ نظر اور تاریخی شکایات کے ساتھ تسلیم کرتے ہوئے اس کو تمام متعلقہ افراد کی بہتری کے لیے حل کرنا چاہیے۔
اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن (UNHRC) کی جون ۲۰۱۸ءاور جولائی ۲۰۱۹ء کی رپورٹوں میں کشمیر میں بھارتی مسلح افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی جاری خلاف ورزیوں سے نمٹنے اور اس کے تمام متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی ایک جامع، آزاد اور بین الاقوامی تحقیقات کے لیے کمیشن آف انکوائری کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
۲۴مارچ ۲۰۲۲ءکو ہیومن رائٹس واچ نے کشمیری عوام پر عائد سخت پابندیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واشگاف طور پر کہا کہ ان کی آزادیٔ اظہار اور پُرامن اجتماع کو محدود کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کی جابرانہ پالیسیوں سے کشمیریوں میں عدم تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم نے ’آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) کی خصوصی قانونی دفعات کی بھرپور مذمت کی، کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
۲ ستمبر ۲۰۲۲ء کو، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے بیوروکریٹس، سیاستدان، دانش ور اور میڈیا کے لوگ بھارتی حکومت کی جانب تشویش بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی حالیہ رپورٹ میں بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کی پریشان کن تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’جینوسائیڈ واچ‘ (Genocide Watch)کے بانی صدر ڈاکٹر گریگوری سٹینٹن کے مطابق، بھارت مبینہ طور پر ۲۰۰ملین مسلمانوں کی ’نسل کشی اور قتل عام‘ کی تیاری کر رہا ہے۔مسلمانوں پر ظلم و ستم مبینہ طور پر بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں درخواست کی گئی ہے کہ امریکی محکمۂ خارجہ مذہبی اقلیتوں پر جاری حملوں کی وجہ سے ہندستان کو ’خاص تشویش کا حامل ملک‘ قرار دے۔ ہندستانی حکومت پر بغاوت کے قانون جیسے قوانین کے ذریعے تنقیدی آوازوں، خاص طور پر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی آوازوں کو دبانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
یہ اعداد و شمار واقعی تشویشناک ہیں، جن میں جنوری ۱۹۸۹ء سے اپریل ۲۰۲۴ء تک ۹۶ہزار۳ سو سے زیادہ اموات ہوئیں، جن میں ۷ہزار ۳سو ۳۳ حراستی اموات بھی شامل ہیں۔ شہری گرفتاریوں کی تعداد ایک لاکھ ۷۰ ہزار ۳ سو۵۴ تک پہنچ گئی ہے۔ ایک لاکھ ۱۰ہزار ۵سو۱۰ سے زیادہ گھر اور دکانیں تباہ ہوچکی ہیں۔ خواتین اور بچوں پر اس ظلم و زیادتی کے اثرات تباہ کن ہیں۔ تقریباً۲۳ ہزار خواتین بیوہ، ایک لاکھ ۷ہزار سے زیادہ بچّے یتیم اور ۱۱ہزار سے زیادہ خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ رپورٹ ہندستان میں تمام افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کی ضرورت کی واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرنے کے لیے خبردار کرتی ہے، چاہے ان کے مذہبی عقائد کچھ بھی ہوں۔
۲۰۲۳ء میں ہندستانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی تشدد کے واقعات میں ۲۴۸؍ اموات ہوئیں۔ ان میں ۸۲ آزادی پسند، ۶۶ شہری اور ۱۰۰ بھارتی قابض افواج کے اہلکار شامل تھے۔ ہندستانی فوج صنفی بنیاد پر تشدد کو ہتھیار کے طور پر برت رہی ہے۔ اس طرح کشمیری عوام کی ہندستان کے قبضے سے آزادی کی خواہش کو ڈرانے اور دبانے کے ذریعے دبایا جارہا ہے۔ ۱۹۹۱ء میں ایک ہولناک واقعہ میں، کنان پوش پورہ میں تقریباً ۱۰۰ خواتین پر بھارتی فوجیوں نے حملہ کیا، اور بٹوٹ میں ایک خاتون کو اس کے بچے کے سامنے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
انسدادِ بغاوت کے لیے بنائے گئے قوانین نے بھارتی قابض افواج کو ضرورت سے زیادہ اختیارات دیے ہیں، جو ممکنہ طور پر معصوم کشمیریوں کے خلاف 'مظالم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ جنوری سے دسمبر ۲۰۲۳ء تک، بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ۲۶۰ ’کورڈن اینڈ سرچ آپریشنز‘ (CASOs) اور ’کورڈن اینڈ ڈسٹرائے آپریشنز‘ (CADOs) کیے گئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہندستانی افواج اور کشمیر کے آزادی پسندوں کے درمیان ۷۰ مقابلے ہوئے۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً ۱۳۸ شہری املاک کی توڑ پھوڑ اور تباہی ہوئی۔
مزید برآں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جنوری سے دسمبر ۲۰۲۳ء تک انٹرنیٹ کی بندش کی متواتر مثالیں ہیں۔ اس طرح خطے میں مواصلات اور معلومات کے بہاؤ پر لگائی گئی سخت پابندیوں کو واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے لوگ انصاف کے حصول کے ساتھ تشدد اور جبر کے خوف سے آزادی کے حق کے مستحق ہیں۔
کشمیر میں نوجوانوں کو بلاجواز تفتیشی مراکز میں لے جایا جا رہا ہے اور شہریوں کو بڑے پیمانے پر قتل و غارت کا سامنا ہے۔ کشمیری باشندوں کے ساتھ یہ ظالمانہ سلوک انتقامی کارروائی، سزا اور کنٹرول کا طریقہ ہے، جسے مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ ایک منظم حربہ ہے، جو سول آبادی میں خوف پیدا کرنے اور قبضے کے خلاف مزاحمت کے جذبے کو کمزور کرنے کے لیے آزمایا جارہا ہے۔ کشمیریوں کو جھوٹے الزامات کے ساتھ نشانہ بنانے اور اجتماعی سزا دینے کے لیے ’نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی‘ (NIA) کا ظالمانہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ غیر منصفانہ مہم، خوف اور ناانصافی کا ماحول پیدا کرتی ہے، حقِ خود ارادیت، انسانی حقوق اور انصاف کے لیے آواز اٹھانے والوں کو خاموش کر دیتی ہے۔ کشمیر کو آہستہ آہستہ ’روانڈا‘ جیسے انسانیت کُش خونیں ماحول کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ اس ظلم کے خاتمے کے لیے ہرباضمیر انسان پر لازم ہے کہ وہ ظلم کے خاتمے اور کشمیری عوام کے حقوق کے لیے اُٹھ کھڑا ہو۔آیئے، سب اس انصاف اور برابری کے مطالبے میں ایک ساتھ کھڑے ہوں۔
اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی موجودہ نسل کشی واضح طور پر اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ امریکا و مغرب کی یونی ورسٹیوں کی انتظامیہ سمیت اکثر عالمی ادارے فلسطینیوں کی نسل کشی کی راہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے سے انکاری ہیں ۔ دوسری طرف یونی ورسٹیوں میں بڑے پیمانے پر اس نسل کشی اور اس خونریزی سے نظریں پھیر لینے والی ’مغربی اکادمیہ‘ (اعلیٰ تعلیمی انتظامیہ)پر لازم ہے کہ وہ غزہ میں جاری تباہ کن جارحیت کے خلاف ایک زبردست مذمتی تحریک کھڑی کرے۔ بظاہر دکھائی دیتا ہے کہ اپنی عقل و شعور، تمام تر علم، تحریک کے اثر کا ادراک، ترقی پسندی، حالات سے واقفیت، اور حقوق کے تحفظ کی بحثیں ملا کر یہ اصحاب علم ودانش ایک پوری کی پوری ریاست کے ملیامیٹ کرنے سے نہیں روک رہے ہیں۔ اس تباہ کاری نے غزہ میں اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے کو مکمل طور پر زمیں بوس کر دیا ہے اور اکا دمیہ اور طالب علموں کی نعشوں کے انبار لگا دیے ہیں، جن میں سے کئی ایک کے بے جان لا شے اب تک ملبے تلے دبے ہیں۔
اس غم زدہ کرنے والے ماحول میں دنیا کی مختلف یونی ورسٹیوں میں طلبہ کی جانب سے لگائے گئے ’غزہ یک جہتی کیمپس‘ میں یہ بات واضح طور پر نمایاں ہے کہ سیاسی شعور، حق کے لیے کھڑے ہونے کا عزم، اور صحیح غلط کی پہچان جیسے بنیادی اوصاف یونی ورسٹیوں کے طلبہ و طالبات میں، یونی ورسٹیوں کی انتظامیہ کے اہل کاروں اور ان کے اعلیٰ عہدے داروں سے کہیں زیادہ پائے جاتے ہیں ،جو بظاہر ان اصولوں کے مجاور بنے پھرتے ہیں۔ اور اب، جب اساتذہ کو آئینہ دکھایا جا رہا ہے،تو جوابا ً وہی علم و تحقیق کے دیوتا ان نہتے طلبہ پر تشدد کے لیے پولیس کو بلا لیتے ہیں۔
دیکھا جائے تو ان کا یہ رد عمل حیران کن نہیں ہے۔ پورے عالمِ مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسرائیل کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے۔یہ اسلحہ اور اس جیسے دیگر موضوعات پر تحقیق کو فروغ دیتے ہیں، جو نہ صرف جنگی جنون کو ہوا دیتی ہیں بلکہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کو بہتربنانے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔علاوہ ازیں اسرائیلی اعلی تعلیمی اداروں کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات کے قیام کے ذریعے، اسرائیلی جارحیت کے حق میں کام کرنے والے اداروں کو دنیا بھر سے توثیق دلوانے میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ جیسا کہ متحدہ ریاست ہائے امریکا اور فرانس میں لگائے گئے طلبہ کے احتجاجی کیمپس سے اُبھرنے والے رد عمل سے صاف ظاہر ہے کہ یہ لوگ اپنے حکمرانوں کے فیصلوں کے علاوہ ایک سوچی سمجھی تدبیر کے تحت اپنے اداروں میں فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آواز کو دبا رہے ہیں۔ ایسا کرنے سے یہ اسرائیل کی اپنی یونی ورسٹیوں میں ہونے والی سرگرمیوں کی ہی ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ترقی پسندی کے نام پر اسرائیل کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنا بے نقاب ہوچکاہے۔ اس امر میں جس چیز کا کلیدی کردار ہے، وہ نظریے کی آڑ میں ڈالا جانے والا دبائو ہے۔ علاوہ ازیں اختیارات کا نا جائز استعمال اور دبائو کی سیاست بھی اسے بڑھاوا دینے والے عناصر میں شامل ہیں۔
اگرچہ مغرب ہی میں چند ایک تعلیمی اداروں میں اسرائیلی جارحیت پر مزاحمت کی کچھ جھلکیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں، جیسے کہ ابرڈین، ٹورونٹو جیسی دیگر کئی یونی ورسٹیوں کی جانب سے کی گئی ’سامیت مخالفت‘ (Anti-Semitism )کی تعریف تسلیم کرنے سے انکار ،اسرائیل سے تعلقات جزوی طور پر منقطع کرنا ، جو کہ حال ہی میں یونی ورسٹی آف ٹورن، ناروے کی چار یونی ورسٹیوں ، اور امریکا میں پِٹزر کالج نے نافذ کیا ہے۔ یا پھر کولمبیا اور دیگر امریکی یونی ورسٹیوں کے منتظمین کے فیصلوں کے برعکس، آسٹریلیا کی یونی ورسٹیوں کا غزہ یک جہتی کیمپوں کو بند کرنے سے اب تک انکار۔ تاہم، ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے بعد سے ’فلسطین یک جہتی کیمپس‘ پر ہونے والے شدید جبر اور مغربی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے وائس چانسلروں، ریکٹروں اور صدور کی طرف سے اسرائیلی نسل پرستی کو مسلسل پیش کی جانے والے نظریاتی توثیق کے باوجود طالب علموں میں یہ مخالفت کم نہیں ہوئی۔
اگر یونی ورسٹیوں کے ان اعلیٰ عہدے داروں میں سے چند (یا بہت سے) یقینا صہیونی ہیں، یا صہیونیت نواز ہیں تو باقی اکثریت بھی واضح طور پر فلسطین کے حق میں اٹھنے والی آواز دبانے کو محض ایک ذمہ داری کے طور پر دیکھتے اور سمجھتے ہیں، جو ادارے کے سرپرست ہونے کی بدولت وہ خود پر خودبخود عائد سمجھتے ہیں۔فلسطینی موقف کے حامی مظاہرین کی خاموشی کو تنظیمی استحکام، صہیونی مخیر حضرات کوناراض نہ کرنے کی خواہش، یا تہذیب کے تصورات جیسے الفاظ کا ملمع پہنا کر اسے قابلِ قبول حقیقت کی شکل دے دی گئی ہے۔ ایسے جواز جو سینئر تعلیمی منتظمین کے ضمیر کو کسی بھی قسم کی اخلاقی ذمہ داری کو نظرانداز کرنے کا جواز دیتے ہیں، جسے بصورت دیگر اگر وہ محسوس کرتے تو یقینا خود کو تاریخ کے اوراق میں باطل کی فہرست میں موجود پاتے۔ اور تو اور، قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اپنے عملے کو کٹھ پتلیوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔
تحفظ کی آڑ میں نسل کشی
یونی ورسٹیوں کے اعلیٰ عہدے داروں میں اپنے اداروں کے تحفظ کی بحث اب تحریک یک جہتی فلسطین کے خلاف کسی بھی حد تک تشدد کی پیمائش کے لیے گھڑا گیا جواز بن چکی ہے۔ یہ مطالبہ کہ نسل کشی کے خلاف احتجاج کو صہیونیوں کے ’تحفظ‘ کے لیے دبایا جائے، اسی استدلال کی ایک مثال ہے، جو اسرائیلی ’تحفظ‘ کی ضرورت کے ذریعے غزہ کوملیا میٹ کرنے کا جواز پیش کرتی ہے۔ اسرائیلی یونی ورسٹیوں میں یہودی طلبہ کی حفاظت کے نام پر فلسطینیوں کے ساتھ ظلم اور امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ جب کولمبیا یونی ورسٹی کی مصری نژاد صدر منوشے شفیق نے قانون نافذ کرنے والی فورس کو اپنے طلبہ کے خلاف بلایا، تو اس کا جواز بھی صرف تحفظ تھا۔آسٹریلیا میں، صہیونی تنظیمیں اس بنیاد پر ایک مشترکہ مہم چلا رہی ہیں کہ ’کیمپس یہودی طلبہ کے لیے غیر محفوظ ہیں‘۔ ساتھ ہی ساتھ وہ فلسطینیوں کے خلاف ’دوسرے نکبہ‘ کا جواز بھی پیش کر تے دکھائی دیتے ہیں۔ صہیونیوں اور ان کے ہمدردوں کی طرف سے سوشل میڈیا پر اٹھائے جانے والے نکات میں سے ایک مغربی فلسطین کے حامیوں، خاص طور پر ہم جنس پسندوں کو غزہ جانے کی دعوت دینا ہے، جہاں ان کے خیال میں، حماس کی طرف سے انھیں تیزی سے نکالا جائے گا۔
ان دعوؤں میں موجود خطرات کے تصور کی جانچ کی جانی چاہیے۔اسرائیلی نسل کشی کا دفاع کرتے ہوئے، نیو لبرل یونی ورسٹی میں صہیونی اور ان کے اتحادی ’اسرائیلی یا یہودی تحفظ‘ کا ایک خود ساختہ تصور مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ ’تحفظ کا تصور‘ ایک احساس کے طور پر — ایک ایسا جذبہ ہے جسے ایک علم کا پرستار تعلیمی اداروں سے حاصل کرنے کاپابند ہےبشمول ان دیگر مصنوعات کے جو وہ تعلیم کے نام پر خرید رہا ہے ۔ اس تصور کے مطابق تحفظ ، یونی ورسٹی کے برانڈ کے لیے ایک اور سیلنگ پوائنٹ بن جاتا ہے، جو کہ طالب علم صارف اور خریدار کو مطمئن کرنے کے لیے ایک پیداوار کی مانند ہے جو کہ کیمپس میں دن کے دوران ایک شاپر میں مفت آئس کریم اور کافی کے ساتھ دی جاتی ہے۔
کسی فرد کی شناخت صرف اسی صورت میں برقرار رہتی ہے، جب کہ شناخت دہندہ کسی ایسے معاشرے کا رکن ہو جس میں قوانین کی عمل داری کی شرائط وضع شدہ ہوں ۔ گویا ، تحفظ مکمل طور پر انفرادی احساس کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔ بنیادی طور پر یہ ان شرائط اور قوانین پر مبنی ہونا چاہیے، جن کے ذریعے لوگ اجتماعی طور پر محفوظ رہ سکتے ہوں۔ وہ حالات کہ جن میں ایک معاشرہ زندہ اور خوشحال ہو سکے۔ سیاسی جبر، فرعونیت ، بہتان اور جبری گرفتاری کا ’تحفظ کے نظریے‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی ایک ایسا معاشرہ جس میں نسل کشی کو غلط قرار دینےکی جرأت ایک جرم ہو جس کے لیے اسے نشانہ بنایا جاتا ہو، اور اس کی سلامتی کو داؤ پر لگایا جاتا ہو ،وہ ترقی کی منازل کبھی طے نہیں کر سکتا۔
غزہ کے باسیوں کی نسل کشی پر خوش ہوتے صہیونی اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ درحقیقت ان کی کمیونٹی محفوظ نہیں ہے۔ فلسطین کے حامی کیمپ کی عالمگیریت کے خلاف صہیونی چاہتے ہیں کہ ہم یہ تسلیم کر لیں کہ اُن کی یک طرفہ یلغار کا جواز اور ان کے تحفظ کا انحصار ہماری خاموشی پر ہے۔
فلسطین کی آزادی کے حامیوں کو ’سامیت دشمن‘ اور دہشت گردوں کے حامی قرار دے کر بدنام کیا جاتا ہے۔ لیکن دنیا میں شعور بڑھنے کی وجہ سے صہیونیت نواز اب اپنی سرگرمیاں کھلے عام نہیں انجام دے سکتے ۔لہٰذا فلسطینیوں کے ساتھ یک جہتی کی سیاست پر براہ راست حملہ کرنے کے بجائے، صہیونی عوامی طور پر دلیل اور جواب کے میدان سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ چونکہ جذبات کی بحث کوئی نہیں جیت سکتا، اس لیے وہ توقع کرتے ہیں کہ فلسطین کے حق کے علَم برداروں پر 'غیرمحفوظ ہونے کا الزام لگا دینے سے ان کے لیے اپنے سیاسی موقف کا دفاع کرنا آسان ہو جائے گا۔
ایک ایسی شناخت جس کو نسل کشی کی مخالفت سے خطرہ لاحق ہو، اس کا انصاف کے ساتھ تعلق ہرگز کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں ’تحفظ ‘کو اپنے فیصلہ کن کارڈ کے طور پرلہرانا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ صہیونیت نہ صرف ایک تشدد پر مبنی نسل پرست اور قتلِ عام کرنے والا نظریہ ہے، بلکہ فکری طور پر بھی ایک جاہلانہ تصورہے۔
صہیونیت کے ہاںمضبوط دلائل کی تو کمی ہو سکتی ہے، لیکن جھوٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ البتہ ہمیشہ یہ شور و غل ضرور سنائی دیتا ہے کہ ’’فلسطین کے حامی سام دشمن ہیں، غزہ میں جو ہو رہا ہے وہ نسل کشی نہیں ہے، اور اسرائیل نسل پرستی پر یقین نہیں رکھتا‘‘۔ لیکن جب اختلاف کیا جاتا ہے، تو گرفتاریاں عمل میں لائی جاتی ہیں، اعلیٰ تعلیمی انتظامیہ کے عہدے داروں کو برطرف کر دیا جاتا ہے اور طلبہ کو اداروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مکوئیر ی (Macquarie) کے دلیر اور ذہین فلسطینی وکیل عبدالفتاح، اور سڈنی یونی ورسٹی کے علومِ سیاسیات کے ممتاز پروفیسر جان کین، اس وقت انھی وجوہ کی بناپر شدید حملے کی زد میں ہیں۔ کیمپس تو امن کے شہر ہیں مگر وہ طالب علموں اور مایہ ناز استادوں کے لیے کتنے محفوظ رہ گئے ہیں ؟ کیا سامیت نوازوں نے کبھی اس پہلو پر سوچا ہے؟
بائیکاٹ بطور تحفظِ جان
ایک طرف تو مغربی یونی ورسٹیوں کے مدبرانہ، آزادانہ، عقلیت، لبرل، ترقی پسندی اور کثیرجہتی بحثوں جیسے تصورات ہیں۔ اور دوسری طرف ہتھیار بنانے والوں، اسرائیلی لابی کے مہروں اور فلسطین دشمن تجزیہ کاروں کے ساتھ تعلقات کی استواری ہے۔ ایسے میں اسرائیل کے لیے مغرب میں پائی جانے والی حمایت کے حوالے سے عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے میں مغربی یونی ورسٹیوں کے یہ تصورات کوئی خاص فیصلہ کن کردار نہیں ادا کر تے۔یہ حقیقت تو بالکل واضح ہے کہ مغرب کی تاریخ خونریز نوآبادیاتی نظام اوردیگر جنگوں ، نسل کشی، حراستی کیمپ، تشدد، بے لگام ماحول ، انسانی تذلیل اور استحصال سے بھری پڑی ہے۔لوگوں کے درمیان تعلقات کے کسی بھی منصفانہ یا معقول تصور میں بار بار مداخلت ہمیشہ سے مغرب کا خاصہ رہا ہے۔البتہ جزوی طور پر مغرب اور اسرائیل میں یکساں طور پر یونی ورسٹیوں میں ہونے والی نظریاتی سرگرمیوں کی بدولت لبرل معاشرے کے نظریاتی تصورات کی فضا میں مغرب کی نگرانی میں بنایا گیا 'قوانین پر مبنی ضابطہ ' پھر سے اُڑان بھر رہا ہے۔
مغربی یونی ورسٹیوں کی اسرائیلائزیشن کی مزاحمت کاایک مطلب یہ بھی ہے کہ اپنے اداروں کو ان یونی ورسٹیوں سے دور کیا جائے جوجبری قبضے، نسل پرستی اور نسل کشی کے نظام کی آلہ کار ہیں۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ فلسطین کمیٹی برائے اکیڈمک اینڈ کلچرل بائیکاٹ آف اسرائیل (PACBI) کے تحت ۲۰۰۴ء سے اسرائیلی یونی ورسٹیوں کو ادارہ جاتی تعلیمی بائیکاٹ میں شامل کیا جائے ، جیسا کہ کئی برسوں سے ہو رہا ہے۔جو دیگر سول سوسائٹی ایسوسی ایشنز اور اکیڈمک ٹریڈ یونینوں کی طرف سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ ۱۹۱۸ء سے مسلسل شائع ہونے والے اسرائیلی اخبار ہاریٹز (Haaretz) کے تازہ شمارے میں بائیکاٹ کے اقدامات پر اسرائیلی تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے خوف و ہراس کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے، اور بہت سے مضبوط شواہد فراہم کیے گئے ہیں کہ یہ بائیکاٹ اسرائیل میں اعلیٰ تعلیمی اداروں پر فی الواقع دباؤ ڈال رہے ہیں۔
عین ممکن ہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت سے پھیلنے والی وحشت کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیلی یونی ورسٹیوں کے بائیکاٹ کی اپیل غیر مؤثر معلوم ہوتی ہو۔ ایسی صورتِ حال میں تعلیمی بائیکاٹ کی ضرورت پر زور دینا، جب کہ غزہ کھنڈرات میں تبدیل ہو رہا ہے، ہو سکتا ہے کہ موجودہ حالات کے تناظر میں اعلیٰ تعلیم کی یہ بحث بے سود لگنے اور اپنی سیاسی نااہلی کا ملبہ اعلیٰ تعلیمی انتظامیہ کے سر پر لادا جائے۔ جب ایک خونریز نسل کشی جاری ہو ، تو ایسی صورت میں یقیناً مزید ٹھوس مزاحمت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ادارہ جاتی اکادمی بائیکاٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود، اب بھی مغربی ماہرینِ تعلیم کی اکثریت کے سامنے یہ تعداد ایک اقلیت ہی سمجھی جارہی ہے۔ ماہرین تعلیم کے بائیکاٹ سے انکار کو کسی حد تک متوسط طبقے کی پیشہ ورانہ مہارت کو برقرار رکھنے کی روش کے شاندار فتنوں کے صرف ایک نتیجہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔جس میں حد سے زیادہ احتیاط، سیاسی خاموشی و موافقت شامل ہیں۔ تاہم، بعض اوقات یہ ماہرین تعلیم کے پیشہ وری کی وجہ سے پیداہو جانے والی بدگمانی کا نتیجہ بھی ہوتا ہے، جو پرولتاری مقبولیت اور ادارہ جاتی احترام و خودمختاری میں کمی کی صورت میں نمایاں ہوئی ہے۔ معاصر یونی ورسٹیوں میں ماہرین تعلیم کو بطور غیر ضروری استعمال کے تدریسی یا تحقیقی پرزے گرداننے کا سلوک، اس بات پر کم ہی حیران کرتا ہے کہ وہ ماہرین اپنے اداروں پر اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی صلاحیت کو کم تر سمجھتے ہیں۔ غزہ کی موجودہ تباہی اس المناک نتیجے کو نمایاں کرتی ہے۔ مغربی یونی ورسٹیوں کے عملے میں فلسطین کے لیے حمایت میں معمولی اضافہ ہزاروں فلسطینیوں کی ہلاکت کے مقابلے میں کوئی بہت باوزن چیز نہیں ہے، تاہم قابلِ قدر ضرور ہے۔
اکادمی بائیکاٹ نہ صرف اسرائیلی اعلیٰ تعلیمی اداروں اور اسرائیلی معاشرے پر دباؤ ڈالنے کا ایک ضروری قدم ہے، بلکہ یہ خود مغربی یونی ورسٹیوں کی اسرائیلائزیشن کے خلاف مزاحمت اور اس خوش فہمی کو چیلنج کرنے کا بھی ایک موقع ہے کہ تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنا ہمیشہ اوّلین ترجیح ہوتی ہے۔ لیکن جب بھوک، بیماری، بے سر و سامانی اور گرتے ہوئے بموں کی دہشت غزہ کے باشندوں کو اپنے مرنے والوں کا سوگ منانے تک سے بھی روک رہی ہو، تو ایسے میں علمی تجزیے کو ترجیح دینا بہت معیوب ہے ۔ یہ کام اور بھی زیادہ معیوب ہے کہ جب زیر بحث تعلیمی سرگرمی اسرائیلی یونی ورسٹیوں کی سرپرستی میں یا ان کے ساتھ مشترکہ طور پر کی جا رہی ہو۔
اگر اور کچھ نہیں تو، اکادمی بائیکاٹ کی قانونی شرائط کے مطابق، اسرائیلی اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ تعلقات کی معطلی اس دکھاوے کو چیلنج کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ دنیا کی غلطیاں سرکاری طور پر منظور شدہ کسی لبرل منصوبے کے تحت ٹھیک کی جا سکتی ہیں ۔اس میں مغرب اور اسرائیلی یونی ورسٹیوں کے اعلیٰ عہدے دار، ادارے کے رکن ہونے کے ناتے یکساں پابند ہیں۔ مغرب میں یہ امر فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی سے زیادہ کسی بھی ایسے فرد کے لیے خود کو بچانے کے لیے بھی ایک نا گزیر عمل ہے، جو یونی ورسٹیوں کو ریاستی جبر سے آزاد، حقیقی سیاسی تنقید کے مراکز سمجھتا ہو۔
(ماخذ: Overland Magazine، آسٹریلیا)
۱۹ مئی ۲۰۲۴ء کی دوپہر ایرانی صدر جناب ابراہیم رئیسی کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر آذربائیجان کی سرحد سے متصل ارسباران پہاڑوں پر پرواز کے دوران لاپتہ ہوگیا۔ اس ہیلی کاپٹر میں صدر سمیت ایران کے وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان اور دیگر اعلیٰ عہدے داران بھی سوار تھے۔ رئیسی، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ سرحد پر ایک ڈیم کے افتتاح میں حصہ لینے کے بعد واپس آرہے تھے۔ جہاں ہیلی کاپٹر گرا ہے، وہ ’خدافرین ڈیم‘ سے تقریباً ۱۲۰کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس حادثے میں صدر رئیسی سمیت تمام افراد جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کے بعد بعض لوگ آذربائیجان کو موردِ الزام ٹھیرا رہے ہیں، کیونکہ اس خطے میں یہ اسرائیل کا اتحادی ملک ہے اورماضی میں آرمینیا کے خلاف جنگ میں اسرائیل نے اس کی بھر پور مدد کی تھی، جب کہ آرمینیا آرتھوڈوکس عیسائی ملک ہونے کے ناتے یہودیوں کا مخالف اور موجودہ صورت حال میں ایران کا اتحادی ہے۔
حال ہی میں خلیجی ریاست اومان میں ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ مذاکرات کے دور شروع ہوچکے تھے۔ لیکن اس ناگہانی موت کے بعد یہ مذاکرات خطرے میں پڑ گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا کو ان مذاکرات کی ضرورت ۱۸ ؍اپریل ۲۰۲۴ء کے بعد محسوس ہوئی، جب ایرانی میزائلوں اور ڈرون طیاروں نے اسرائیل کو نشانہ بنایا۔ یاد رہے اس سے قبل اسرائیل نے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ کرکے کئی ایرانی افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں پیش رفت ہورہی تھی۔ دوسری چیز جو متاثر ہوئی وہ یہ کہ حالیہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جانشینی کا معاملہ ہے۔ جس طرح ابراہیم رئیسی کو صدر بنایا گیا تھا، اس سے لگتا تھا کہ ان کو اس منصب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
اومان کے دارالحکومت مسقط میں مذاکرات کی سربراہی امریکی صدر بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے سینئر مشیر بریٹ میک گرک اور ایران کے نائب وزیرخارجہ علی باقری کر رہے تھے۔ لیکن ہیلی کاپٹر حادثے میں وزیر خارجہ کی ہلاکت کے بعد اب وہ قائم مقام وزیر خارجہ ہیں۔ مذاکرات تین موضوعات پر مرکوز تھے: اسرائیل میں حکومت کی تبدیلی کی مشترکہ خواہش، غزہ پر اسرائیل کی جنگ کا خاتمہ، اور تنازعے کو خطے میں اور زیادہ پھیلنے سے روکنا___ ایک اندازہ ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام اور تیل کی پابندیوں میں نرمی پر بھی بات چیت ہورہی تھی۔
صدر ابراہیم رئیسی کی موت کے بعد، ایران میں ۵۰دنوں کے اندر صدارتی انتخابات کرانا دستوری اعتبار سے لازم ہیں۔ غیر یقینی کے اس دور میں خارجہ پالیسی کے بڑے فیصلے کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔ دوسری طرف امریکی صدارتی انتخابات نومبر میں ہونے والے ہیں۔
صدر رئیسی کی وفات کے بعد سب اہم مسئلہ ایران کے ۸۵ سالہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانشینی کا ہے۔ ایران میں یہ ایک اہم اور طاقت ور عہدہ ہے، جو ملک کی سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کی حتمی منظوری دیتا ہے۔ آئین کے مطابق ماہرین کی ۸۸ رکنی اسمبلی سپریم لیڈر کے جانشین کا انتخاب کرتی ہے۔ تاہم، خود اسمبلی کے ارکان کو ایران کی ’گارڈین کونسل‘ کے ذریعے پہلے جانچا اور پرکھا جاتا ہے، جو کہ ایک طاقت ور ۱۲ رکنی ادارہ ہے۔ یہ دستوری ادارہ انتخابات اور قانون سازی کی نگرانی کرتا ہے۔ ممکنہ جانشینوں کی فہرست کو انتہائی خفیہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ ممکنہ امیدواروں کو ایران کے دشمنوں خاص طور پر امریکا اور اسرائیل کی طرف سے خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ مگر ذرائع کے مطابق تین افراد یعنی موجودہ سپریم لیڈر کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای، آیت اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی اور صدر ابراہیم رئیسی کو جناب خامنہ ای کے جانشین کے بطور شارٹ لسٹ کردیا گیا تھا۔ رئیسی کی موت کے تین روز بعد ہی اس اسمبلی نے ۲۱ مئی کو ایک بورڈ کا انتخاب کیا۔ جواگلے سپریم لیڈر کے لیے نام دوبارہ شارٹ لسٹ کرے گا۔
ماہرین کی اسمبلی نے جن افراد کو اس بورڈ کےلیے منتخب کیا ہے وہ ہیں، آیت اللہ محمد علی موحدی کرمانی، جو اس بورڈ کے مسندنشین ہوں گے۔ ان کی عمر ۹۳ سال ہے۔ آیت اللہ ہاشم حسینی بوشہری اس بورڈ کے نائب مسندنشین ہوں گے۔ دیگر ممبران میں آیت اللہ علی رضا عرفی، آیت اللہ محسن اراکی اورآیت اللہ عباس کعبی شامل ہیں۔ فی الحال نائب صدر محمد مخبر نے صدارتی اختیارات سنبھال لیے ہیں۔
ابراہیم رئیسی سخت گیر دھڑے کے لیڈر مانے جاتے تھے۔ ۲۰۲۱ء میں جب و ہ ملک کے آٹھویں صدر منتخب ہوئے، تو گارڈین کونسل نے ان کا راستہ صاف کرنے کے لیے متعدد اصلاح پسند اور اعتدال پسند امیدواروں کو نااہل قرار دیا تھا۔ بطور ایک جج، رئیسی کو ۱۹۸۸ء کے متنازعہ عدالتی کمیشن میں اپنے فیصلوں اور پھر ۲۰۰۲ء میں حجاب نہ پہننے کی وجہ سے ایک خاتون مہسا امینی کی حراستی موت کے بعد برپا پُرتشدد مظاہروں اور ہنگاموں کو طاقت سے دبانے کے سبب کافی عالمی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ مظاہرے ۱۹۷۹ء میں انقلاب کے بعد ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے اور طویل ترین مظاہروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ جن کے دوران مغربی میڈیا نے ہلاکتوں کے حوالے سے بہت مبالغہ آمیز اعداد و شمار دُنیا بھر میں پھیلا ئے تھے۔
صدر رئیسی کے دور صدارت کا سب سے بڑا کارنامہ ۲۰۲۳ء میں عوامی جمہوریہ چین کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سعودی عرب سے ایران کے تعلقات کو بحال کر نا تھا۔ سعودی عرب اور ایران کی باہمی چپقلش نے کئی عشروں سے مسلم دنیا کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے رکھ دیا تھا۔ ان کے اس قدم نے مغربی ممالک خاص طور پر امریکی سفارت کاری کو ایسی مات دی ہے کہ جس کی بازگشت کئی برسوں تک سنائی دیتی رہے گی۔ اگرچہ امریکی خفیہ اداروں کو معلوم ہو گیا تھا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان گفتگو چل رہی ہے، مگر ان کو امید تھی کہ جوہری معاملات پر ایران کے سخت گیر رویہ کی وجہ سے یہ تعلقات اتنی جلدی معمول پر نہیں آئیں گے۔ تاہم، ابراہیم رئیسی کے تدبّر نے عرب ممالک کو قائل کردیا۔ اس مفاہمت نے یمن اور شام میں امن مذاکرات کی راہیں کھول دیں، جہاں دونوں ممالک متحارب گروپوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق رئیسی نے خارجہ اُمور میں عملیت پسندی کو اپنایا۔ سعودی عرب کے ساتھ مفاہمت نے دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بات چیت کی راہیں بھی کھول دیں۔
یہ سب اسی کا نتیجہ تھا کہ نومبر ۲۰۲۳ء میں، غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے دوران، شام کے صدر بشار الاسد اور صدر رئیسی دونوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کی، اور اسرائیل کے خلاف مزید اقدامات کی وکالت کی گئی۔ رئیسی کی قیادت میں، ایران نے ممکنہ امریکی پابندیوں کی پروا نہ کرتے ہوئے چابہار بندرگاہ کے معاہدے کو سرد خانہ سے نکال کر اس کا ایک ٹرمینل باضابطہ طور پر انڈیا کے حوالے کر دیا۔ ان دونوں ممالک نے اس اسٹرے ٹیجک بندرگاہ کو ترقی دینے اور چلانے کے لیے ۱۰ سالہ معاہدے پر دستخط بھی کردیئے۔ جس کے تحت انڈیا شہید بہشتی ٹرمینل کو اپنی تحویل میں لے گا اور اس کو جدید ترین بنانے کے لیے ۱۲۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
اپریل میں رئیسی نے پاکستان کا دورہ کیا۔ دونوں برادر ملکوں کے درمیان جنوری میں اس وقت سرحدی کشیدگی بڑھ گئی تھی، جب ایران نے سرحد پار سے پاکستان میں فضائی حملے کیے تھے، جس میں پاکستان کے دو بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق حملہ میں مسلح گروپ جیش العدل کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایرانی علاقے میں میزائل داغ دیئے اور تہران سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا۔ پاکستانی سفارت کاروں کے مطابق ان حملوں کے فوراً بعد ہی صدر ابراہیم رئیسی کی خواہش پر ایرانی وزیرخارجہ تناؤ کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد آنا چاہتے تھے، مگر پاکستان نے ان کو انتظار کر نے کے لیے کہا۔ صدر رئیسی کے دورۂ پاکستان سے جلد ہی تعلقات دوبارہ پٹڑی پر آگئے۔
اسی طرح اگست ۲۰۲۳ء میں انھوں نے ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کی منظوری دی۔ جس کی وجہ سے کوریا میں منجمد چھ بلین ڈالر تک ایران کی رسائی ہوگئی۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء میں جب حماس نے اسرائیل کی طرف سے بنائی گئی سرحدوں کوعبور کر کے کئی فوجی ٹھکانوں پر یہودی بستیوں پر حملہ کیا، تو کئی ممالک نے ایران کو حماس کی مالی اور فوجی امداد و ٹریننگ فراہم کرنے کا ذمہ دار ٹھیرایا۔ مگر چند دن بعد، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ ’’اس بات کے ابھی تک کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملے ہیں‘‘۔ اس دوران اسرائیل نے ایران کو اس قضیہ میں شامل کرنے کی بھر پور کوشش کی، تاکہ ایران کا نام استعمال کرکے مغربی ممالک اور امریکا کو بھی اس جنگ میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کیا جائے، اور دُنیا کی توجہ غزہ سے ہٹ جائے۔ مگر ابراہیم رئیسی کی دانش مندی نے یہ دال گلنے نہیں دی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جب اسرائیل نے دمشق میں ایران کے موجود سفارت خانے کو نشانہ بنایا، اس کا جواب بھی خاصی دانش مندی سے دیا گیا۔ اس سے ایک طرف اسرائیل کو وارننگ دی، مگر جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کا جوا ز بھی نہیں دیا گیا۔ فلسطین کے مزاحمتی گروپوں کی ایران کی جانب سے مسلسل حمایت اور سفارتی و ابلاغی یک جہتی نے مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا میں ایران کی قدرومنزلت اور اثر و رسوخ بڑھا دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں مصر اور دیگر عرب ممالک کو بھی فلسطینیوں کی مدد کے لیے عوامی سطح پر آگے آنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
ترکیہ کے ڈرون کا کردار
ترکی کے ڈرون طیارے نے صدر رئیسی کے لاپتا ہیلی کاپٹر کو تلاش کرکے پوری دنیا کی نگاہیں ترکیہ کے تیار کردہ ملٹری ڈرون پر مرکوز کر دی ہیں۔ ترکیہ کے وزیر ٹرانسپورٹ کے مطابق: ’’ایسا لگتا ہے کہ ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر میں یا تو ٹرانسپانڈر نہیں تھا، یا وہ کام نہیں کر رہا تھا‘‘۔ ٹرانسپانڈر کی وجہ سے جہاز اگر حادثہ کا بھی شکار ہو جائے یا سمندر کی گہرائیوں میں بھی پہنچ جائے، تو سگنل دیتا رہتا ہے۔ جب رات کو دیر تک ریسکیو ٹیم کو کوئی سگنل نہیں مل رہا تھا، تو ترکیہ کے ڈرون کو کسی گرم چیز کے سگنل ملے۔ اکنجی ڈرون، جو کہ ۴۰۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچنے اور کم رفتار سے علاقے کو مؤثر طریقے سے سکین (جانچنے) کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس نے مقامی وقت کے مطابق تقریباً ۱۲بج کر۴۵ منٹ پر ترکیہ کے شہر وان سے ایرانی فضائی حدود کو عبور کیا۔صبح ۲ بج کر۲۲ منٹ پر گرمی کے ایک منبع کا پتہ چلایا۔ جو ایک اہم اشارہ تھا، جسے ترکیہ کے حکام نے فوری طور پر ایرانی حکام تک پہنچا دیا۔ اس دریافت نے ملبے کے مقام کی توثیق کی، لیکن جب امدادی کارکن صبح ۵بج کر ۴۶منٹ پر جائے حادثہ پر پہنچے، تو وہاں کوئی فرد زندہ نہیں بچا تھا۔
گذشتہ برسوں میں ترکیہ کے ڈورنز نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا یا ہے۔جدید ترین ترک اکنجی ڈرون ۲۶ گھنٹوں تک محو پرواز رہ سکتا ہے اور چالیس ہزار فٹ کی بلندی حاصل کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ بڑے پیمانے پر ایک وسیع علاقے کے اوپر خاصی دیر تک سرچ اور ریسکیو کر سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ترین الیکٹرانک سسٹمز کی وجہ سے اکنجی کو موسم کے منفی حالات اور جنگی حالات میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا فنی اور ٹکنالوجی کی سطح پر مقابلہ امریکی ریپر ڈرون کے ساتھ ہے۔ جو ستائیس گھنٹوں تک پرواز کرسکتا ہے اور پچاس ہزار فٹ کی بلندی حاصل کرسکتا ہے۔ مگر امریکی ڈرون زیادہ بھاری پے لوڈ نہیں لے جاسکتا ہے۔
ترکیہ کے دیگر ڈرونز نے حالیہ عرصے کی جنگوں میں شان دار کارکردگی کے مظاہرے کیے ہیں۔ آذربائیجان اور آرمینا کی جنگ میں اس نے میدان جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا۔ اسی طرح لیبیا، ایتھوپیا اور یوکرین، روس کی جنگ میں بھی اس نے حریفوں کو مات دی۔ ترکیہ کی اس ڈرون ٹکنالوجی کے بانی سلجوک بائراکتر ہیں، جنھوں نے امریکا کی میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (MIT) اور یونی ورسٹی آف پنسلوانیہ سے انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کے والد نے ۱۹۴۸ء میں ہوائی جہازوں کی مرمت وغیرہ کی ایک فیکٹری قائم کی تھی۔ امریکا سے واپسی پر سلجوک نے اپنے فیملی بزنس کو سنبھال کر ڈرون ٹکنالوجی کو متعارف کروایا۔
سلجوک کا ایک اور تعارف یہ بھی ہے کہ وہ ترک صدر رجب طیب اردگان کے داماد ہیں۔ انھوں نے اردگان کی بیٹی سومیہ سے ۲۰۱۲ء میں شادی کی۔ اکثر مواقع پر یہ افواہیں گشت کرتی رہتی ہیں کہ وہ اردگان کے سیاسی جانشین ہو سکتے ہیں، مگر سلجوک نے کئی بار اس کی تردید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایروسپیس انڈسٹری میں ترکیہ کو دنیا میں ایک اہم پاور بنانا چاہتے ہیں، حکومت میں شامل ہونا ان کی ترجیح نہیں ہے۔ یہ ڈورن اور ان کی فروخت اب ترکیہ کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم جز بن گئے ہیں۔ تقریباً ۳۰ ممالک کو ان ڈرونز کے مختلف ماڈل مہیا کیے جارہے ہیں۔ایران میں ہونے والے المناک واقعے نے بحرانی حالات میں ڈرون ٹکنالوجی کی جنگی اور تزویراتی اہمیت کو اُجاگر کیا اور دکھایا ہے کہ کس طرح یہ بغیر پائلٹ کے چھوٹے جہاز مشکل وقت میں ایک بڑے خلا کو پُر کر سکتے ہیں۔
عالمی مالیاتی نظام ڈگمگا رہا ہے، جس کی بڑی وجہ ٹھوس اثاثوں کے بجائے بڑی تعداد میں صرف کاغذی اثاثہ جات کا پھیلائو ہے۔ نتیجتاً سرمایہ کاری کی یہ مارکیٹیں کسی بھی وقت پھٹ جانے والے ٹائم بم کی طرح ہیں، جسے توقعات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں تبدیلی کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ جب یہ جذبات سرد پڑتے ہیں، تو یہ مصنوعی بلبلہ پھٹ جاتا ہے، جس میں جھٹکے کو جذب کرنے اور سرمایہ کاری میں گراوٹ کو برداشت کرنے کی کمی ہوتی ہے۔ عالمی مالیاتی نظام کی یہ کمزوری متبادل مالیاتی ماڈلز کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ ایسے میں اسلامی مالیاتی نظام ایک ممکنہ حل کے طور پر اُبھرتا ہے۔
روایتی بنکاری نظام میں، سرمایہ کاری میں خطرہ بنیادی طور پر قرض لینے والے کے ذمے ہوتا ہے، جب کہ اس کی ادائیگی کی صلاحیت پر اثر انداز ہونے والے بیرونی عوامل پر بہت کم غور کیا جاتا ہے۔ ادائیگی کے نظام میں قرض لینے والے کی صلاحیت پر یہ عدم توجہ ۲۰۰۸ء کے امریکی ہاؤسنگ بلبلے کے دوران تباہ کن ثابت ہوئی۔
بینکوں نے، لالچ کی وجہ سے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اور گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے حوصلہ پاتے ہوئے، ناکافی ضمانت والے افراد کے لیے قرضے بڑھا دیے۔ گمان یہ تھا کہ مکانات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بالآخر ضمانت کی قیمت کو بڑھا دیں گی، جس سے قرض لینے والوں کی ناکافی ضمانت قابلِ اعتبار ہو جائے گی۔ تاہم، جب مکانات کی قیمتیں کم ہوئیں، قرض دہندگان نے ڈیفالٹ کیا، جس سے فوری بندش کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور عالمی معاشی بدحالی کا آغاز ہوا۔ نئی مالیاتی مصنوعات کے تعارف نے ریگولیٹری نگرانی کو آگے بڑھایا، جس سے نگران ادارے اُبھرتے ہوئے خطرات کی نگرانی اور ان سے نمٹنے کے لیے مستعد ہو گئے۔ اس کے بعد کے نتائج نے عالمی مالیاتی نظام کی کمزوری میں روایتی رسک مینجمنٹ فریم ورک کے ناکافی ہونے پر زور دیا۔
اسلامی مالیاتی نظام ایک زبردست متبادل پیش کرتا ہے، جو ایکویٹی، رسک شیئرنگ، اور حقیقی اثاثوں کی مدد سے چلنے والی خدمات کے اصولوں پر مشتمل ہے۔ روایتی مالیاتی نظام کے برعکس، جو سود پر مبنی لین دین اور قیاس آرائیوں کے گرد گھومتا ہے، اسلامی مالیات اخلاقی طرزِ عمل اور رسک اور منافع کی منصفانہ تقسیم کو ترجیح دیتا ہے۔ قرض دہندگان اور قرض خواہوں کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے اور مالیاتی لین دین کو ٹھوس اثاثوں سے جوڑ کر، اسلامی مالیاتی نظام معاشی استحکام کے لیے زیادہ لچک دار فریم ورک پیش کرتا ہے۔
مساوات اور رسک شیئرنگ کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے، اسلامی مالیاتی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ دونوں فریق مالیاتی لین دین کے نتائج کو برداشت کریں۔ یہ اصول ڈیفالٹ کی صورت میں اس کے اثرات بڑے پیمانے پر پھیل جانے کے امکانات کو کم کرتے ہیں۔ شفافیت پر زور مارکیٹ کے نظام کی ناکامیوں اور مالیاتی بحرانوں کے امکانات کو کم کرتا ہے۔
مزید برآں، اسلامک فنانس مالیاتی شمولیت اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کا واضح امکان رکھتا ہے، خاص طور پر پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کو ٹھوس بنیادوں پر مالیات کی فراہمی اور صکوک بانڈ جیسے مالیاتی ذرائع کے ذریعے بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی حمایت کرتے ہوئے، اسلامی مالیاتی نظام جامع ترقی کو آگے بڑھا سکتا ہے اور پائیدار ترقی کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم، اس کے ممکنہ فوائد کے باوجود، اسلامی مالیاتی نظام کی تکمیل میں ریگولیٹری خلا اور عدم مطابقت کی وجہ سے رکاوٹ ہے۔ اسلامی مالیاتی نظام عالمی مالیاتی منظر نامے میں ایک زبردست تبدیلی کے امکانات رکھتا ہے، جس میں استحکام کو بڑھانے، شمولیت کو فروغ دینے اور اقتصادی ترقی کو تیز کرنے کی صلاحیت ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹائزیشن میں تیزی آتی جارہی ہے اور مارکیٹ کی حرکیات تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہیں، حقیقی اثاثوں پر مبنی سرمایہ کاری کو اپنانا ناگزیر ہوتا جارہا ہے۔ مساوات، شفافیت اور رسک شیئرنگ کے اصولوں کو اپناتے ہوئے، اسلامک فنانس پاکستان اور دُنیابھر میں ، زیادہ لچک دار اور پائیدار مالیاتی مستقبل کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
سوال: کیا حج کے موقع پر پردہ ضروری نہیں ہے؟
جواب: دراصل احرام کی حالت میں چہرے کو اس طرح نہیں ڈھانپنا چاہیے کہ کپڑا جِلد کو چھوتا رہے۔ بہت سی خواتین نے اس کا یہ حل نکالا ہے کہ وہ چہرے کے آگے پنکھا رکھ لیتی ہیں کہ چہرہ چھپ جاتا ہے۔ بعض گھونگھٹ اس طرح نکال لیتی ہیں کہ چہرہ چھپ جائے اور کپڑا منہ سے نہ لگے۔ خود اَزواجِ مطہراتؓ جب حج کو جاتی تھیں، تو جہاں مرد نہیں ہوتے تھے وہ چہرہ کھول دیتی تھیں، جہاں مرد ہوتے وہاں چہرہ ڈھانپ لیتیں۔ مزیدبرآں بعض موقعے ایسے بھی ہوتے ہیں جب یہ اہتمام نہیں کیا جاتا، مثلاً طواف کے دوران اگر منہ کھلا رہے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ وہاں مہلت نہیں ملتی کہ لوگ عورتوں کو دیکھتے رہیں۔
سوال: کیا شرعاً اس دلیل میں وزن ہے کہ دونوں جنسوں(Genders) کے مل کر پڑھنے سے مسابقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور معیارِ تعلیم بلند ہوتا ہے؟
جواب: مخلوط تعلیم سے دونوں جنسوں میں تعلیمی مسابقت کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا بلکہ غیرتعلیمی اور غیراخلاقی موانست و ملامست کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جوعلم و اخلاق کے لیے سمِ قاتل ہے۔
سوال: چونکہ مسلم خواتین نے قرنِ اوّل میں مردوں کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا ہے، تو کیا اس سے مخلوط جدوجہد کا جواز ثابت نہیں ہوتا ہے؟ اس لیے کیا تعلیم بالخصوص فنی تعلیمی اداروں میں مخلوط تعلیم دی جاسکتی ہے؟
جواب: یہ بات غلط ہے کہ مسلمان خواتین نے قرنِ اوّل میں مردوں کے ساتھ جنگوں میں حصہ لیا ہے۔ کچھ عورتیں بعض اوقات ساتھ ہوجاتی تھیں اور اپنے محرم مردوں کی مرہم پٹی اور تیمارداری کرتی تھیں۔ ان میں سے بعض نے ناگزیر حالات میں حرب و ضرب میں بھی حصہ لیا ہے، مگر یہ سب استثنائی صورتیں ہیں اور حالاتِ جنگ پر، عام شہری زندگی کے دوران میں تعلیمی مشاغل کو قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔(تصریحات)