مئی ۲۰۲۵ء کے پہلے بارہ دنوں میں دنیا نے انڈین دہشت گردی کی ایک ایسی خون آشامی کا مشاہدہ کیا، جو ریاستی حکمت عملی کی آڑ میں چھپی ہوئی تھی۔ ۲۲؍اپریل کو پہلگام (مقبوضہ کشمیر) میں ہونے والے ایک مہلک حملے میں ۲۶ ؍انڈین ہندو،مسلم سیاح ہلاک ہوئے۔ کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہ کی، کوئی تفتیش نہ کی گئی اور نہ کوئی ثبوت منظر عام پر آیا۔ مگر نئی دہلی نے، حقائق کی عدم موجودگی کے باوجود، الم ناک و اقعے کے صرف آدھ گھنٹے کے اندر اندر اپنی مرضی کا بیانیہ تشکیل دے ڈالا۔ اتنی عجلت میں تمام مرحلوں کا طے کر ڈالنا ریاستی ڈرامے کے خالقوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا، کہ انھیں نہ سچائی مطلوب تھی اور نہ ضروری ہی تھی۔ صرف ایک چیز اہم تھی کہ برق رفتاری سے — کشیدگی کی طرف بڑھتے ہوئے، تشدد پر تیار کردہ اپنے عوام کی نفسیاتی تسکین کا سامان کیا جائے۔
۷ مئی کی رات، انڈیا کے جنگی طیارے لائن آف کنٹرول پار کر کے پاکستان کے اندر مبینہ شدت پسند ٹھکانوں پر بمباری کر چکے تھے۔ اس کارروائی کا نام ہی ’سندور‘ تھا، یعنی وہ سرخ سفوف جو ہندو عورتیں اپنے شادی شدہ ہونے کی علامت کے طور پر لگاتی ہیں۔ — یہ اپنی جگہ خود ایک علامتی اعلان بھی تھا۔ یہ محض فوجی کارروائی نہ تھی، بلکہ مذہبی علامتوں میں لپٹی سیاسی نمائش تھی___ زعفرانی قوم پرستی اور فضائی بالادستی کا ایک دکھاوا بھرا امتزاج۔ یہ بدلہ نہ تھا، بلکہ رسم تھی۔ یہ حکمت عملی نہ تھی، بلکہ ایک خونیں تماشا تھا۔ یہ قومی دفاع نہ تھا، بلکہ یہ زعفرانی تھیٹر تھا۔
اس پوری کارروائی کی منطق سکیورٹی نہیں تھی، بلکہ بہکانا تھا۔ اصل ہدف رائے دہندہ تھے۔ جنگی جہاز، انتخابی مہم کے ہتھیار تھے، مقتولین کو انتقام کے رقص میں شریک کر لیا گیا اور آگے بڑھ کر بہاولپور، مظفرآباد، مریدکے میں ایک ایک مسجد کو بھی نشانہ بنایا۔جہاں قریب رہنے والوں، گھروں کے بچّے اور عورتیں بھی جاں بحق ہوئیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اس انڈین حملے پر عالمی ردِعمل غصے کا نہیں تھا — بلکہ بےحسی کا تھا۔ ایسا ردعمل، جو ہر نئے ظلم کے ساتھ مزید مکروہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کیونکہ آج کی ظالم جیوپولیٹیکل دنیا میں کس کا خون اہم ہے اور کس کا اہم نہیں، یہ ظلم کی شدت سے نہیں بلکہ گروہی یا نسلی وابستگی سے طے ہوتا ہے۔
بہاولپور ،مظفرآباد اور مریدکے میں مسجد پر حملہ کوئی حادثہ نہ تھا، وہ ایک پیغام تھا۔ وہ مودی کی جانب سے نیتن یاہو کے خون آلود اسکرپٹ کی تکرار تھی۔ اسرائیل میں فلسطینیوں کا منظم قتلِ عام ’اپنے خودار دفاع‘ کے نام پر بیچا جا رہا ہے۔ انڈیا میں کشمیری جانوں کی تباہی کو ’انسدادِ دہشت گردی‘ کا لیبل دیا جاتا ہے۔ دونوں جگہ، شہریوں کا دُکھ جھٹلایا جاتا ہے یا پھر لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ مزاحمت کو جرم بنادیا جاتا ہے، اور ماتم کو بغاوت سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض فوجی حکمت عملی نہیں، — یہ ایک خونیں نظریاتی تھیٹر ہے۔
یہ مشابہتیں محض اتفاقیہ نہیں — بلکہ باقاعدہ طریق کار کا حصہ ہیں۔ نیتن یاہو کا مستقل جنگ جاری رکھنے کا نظریہ، مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہدفی قتل، مغربی تہذیبی درندگی، اور صلیبی جوش و تعصب کا وحشیانہ استعمال، — یہ سب نئی دہلی میں صرف سراہا ہی نہیں جا رہا، بلکہ عملی طور پر اپنایا بھی جا رہا ہے۔ انڈیا اب اسرائیلی نگرانی (Survillence)کا سافٹ ویئر، ڈرون، حتیٰ کہ مخصوص ’جنگی اخلاقیات‘ درآمد کر رہا ہے۔
نیتن یاہو اپنے تشدد کو ’یہودی بقا‘ کی زبان میں چھپاتا ہے، جب کہ مودی اسے ’ہندو مظلومیت‘ کے نام پر تقدیس عطا کرتا ہے۔ دونوں اپنے افسانوی اور خیالی ماضی کے صدموں کو حال کے مظالم کا جواز بناتے ہیں۔ دونوں خوف کے ذریعے حکومت کرتے ہیں، دونوں اپنے دشمن تخلیق کرتے ہیں، اور دونوں مذہب کو نجی عقیدہ نہیں، بلکہ اژدہا بنا کر استعمال کرتے ہیں۔ صہیونیت اور ’ہندوتوا‘ نہ صرف سانجھے طریقے استعمال کرتے ہیں — بلکہ ایک کائناتی تصور بھی بانٹتے ہیں۔ اسرائیل میں بالادستی مقدس ہے، اور فتح نجات، پھر ’قبضے سے جلاوطن تک‘ غزہ جس اذیت سے گزر رہا ہے، کشمیر تو اس برہمی نسل پرست عقیدے کو مدتوں سے جانتا ہے، انیسویں صدی سے تو مسلسل ۔
لیکن اب، قبضہ ایک اور بھیانک رُوپ اختیار کر چکا ہے — یعنی ’جلا ڈالو‘۔ ۲۰۱۹ء میں جب آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵-اے کو منسوخ کیا گیا، تو یہ کوئی حکومتی اقدام نہ تھا — بلکہ ایک آئینی چال میں لپٹی ہوئی، دُنیا سے بغاوت تھی۔ اُس دن سے، مقبوضہ کشمیر اجتماعی سزا کی تجربہ گاہ بن چکا ہے: اجتماعی گرفتاریاں، مواصلاتی بلیک آؤٹ، ماورائے عدالت قتل۔ جس میں ہر مظاہرہ بغاوت قرار پاتا ہے، ہر کشمیری مشتبہ، باغی اور گردن زدنی ٹھیرتا ہے۔
یہ محض جبر نہیں، — یہ بنیادی ڈھانچے کی تباہی ہے۔ اسرائیلی ڈرونز جو خان یونس پر منڈلاتے تھے، وہ اب کپواڑہ پر بھی منڈلاتے ہیں۔ تل ابیب میں تیار کردہ چہرہ شناس سافٹ ویئر اب سری نگر میں متحرک ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی نگرانی، حیاتیاتی ڈیٹا کی شناخت، اور پیش گوئی پر مبنی پولیس گردی، — جو کبھی فلسطینیوں پر آزمائی گئی تھی، اب انڈین ریاست کے ہتھیار بن چکی ہے۔ یہ محض فوجی ہم آہنگی نہیں، بلکہ بے حساب ظلم کی عالمی توسیع ہے۔ نسل کشی (Genocide)اب ایک برانڈ بن چکی ہے، جس کے فرنچائز ہر سمت کھل رہے ہیں۔ اس بارے کسی کو غلط فہمی نہ ہو، یہ ایک عریاں نسل کشی ہے۔ ایسی نسل کشی جو ہمیشہ گیس چیمبر یا اجتماعی قبروں سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات یہ نسل کشی خاموش بیوروکریسی، معیشت کے گلا گھونٹنے، اور الگورتھمی نقاب میں مسلط کی جاتی ہے۔ ایک قوم کو صرف جغرافیہ سے نہیں، بلکہ یادداشت سے بھی مٹا دیا جاتا ہے۔
امریکا و مغرب، جو برسوں سے اسرائیل کی بے لگام درندگی کے شریکِ کار رہے ہیں، انڈیا کو ایک منافع بخش شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اسرائیل، امریکی ہتھیاروں سے شہریوں کا قتلِ عام کرتا ہے اور انڈیا یہی کام اسرائیلی ٹکنالوجی سے کرتا ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی زبان کو بے اثر کردیا گیا ہے۔ — وہ محض ’تحمل‘ اور’مذاکرات‘ جیسی مبہم اپیلوں تک محدود ہو چکی ہے۔ واشنگٹن، لندن، جنیوا اور پیرس میں تجارتی معاہدے جنگی جرائم سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ جنگی مجرم ’مصلح‘ دکھائی دیتے ہیں۔ نسل پرست قاتل، جمہوریت پر لیکچر دیتے ہیں۔ میڈیا خونریزی کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کرتا ہے، تاریخ، اخلاق، اور انجام کی ارتھی اُٹھائے مہاشوں کا ہجوم!یہ صرف اخلاقی انحطاط نہیں — یہ بازاری منطق ہے۔ یعنی قتل، اگر ’درست انداز‘ میں پیش کیا جائے، تو منافع بخش چال ہے۔
اب جنوبی ایشیا ایک خطرناک کنارے پر کھڑا ہے۔ دو ایٹمی ریاستیں، ایک ایسی قیادت کے ہاتھوں یرغمال ہیں، جو مذہبی اور قومی نسل پرستی کے خواب میں مدہوش ہے۔ ایک غلطی، ایک غلط اندازہ، اور پورا برصغیر پاک و ہند راکھ ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی ڈراوا نہیں، — یہ ریاضی کا ایک سیدھا جواب ہے۔ علاقہ جوہری تاب کاری میں بھڑکنے اور قیادت بھڑنے کی دہلیز پر ہے۔ اور دنیا، حسبِ معمول، اپنی ہی دُنیا میں گم۔مودی اور نیتن یاہو جو کچھ کھیل رہے ہیں، وہ صرف اپنے دشمنوں کی تقدیر سے نہیں —، ہم سب کی تقدیر سے کھیل رہے ہیں۔
مودی کے انڈیا میں افسانہ قانون بن چکا ہے، اور قانون محض افسانہ۔ نیوز اینکر خبریں نہیں دیتے، نعرے لگاتے، چیختے اور چنگھاڑتے ہیں۔ مؤرخین تشریح نہیں کرتے، — وہ نشانے باندھتے ہیں۔ یونی ورسٹیاں علم کی جگہ نہیں فکری غلامی کے کارخانے بن چکی ہیں۔ ’ہندوتوا‘ کوئی قدامت پسند نظریہ نہیں، — یہ نسلی برتری کا وحشیانہ مذہب ہے۔ یہ ایک ایسا ہندو ریاستی خواب دیکھنا ہے جو مسلمان، عیسائی، دلت، اور اختلاف رائے، سب کو آلودگی قرار دے کر ان کے خاتمے اور کچلنے کا پیغام دیتا ہے۔ ’ہندوتوا‘ کا منصوبہ، صہیونیت کی طرح، صرف تابع داری نہیں چاہتا — بلکہ خاتمہ۔ اسے صرف غلبہ نہیں چاہیے — بلکہ یکسانیت چاہیے۔ انڈیا اور اسرائیل دونوں میں ریاست اب ادارہ نہیں — مذہبی قربانی کی مقتل گاہ بن چکی ہے۔
اور جب دنیا خوفناک تباہی کے کنارے پہنچ چکی تھی، ۱۰ مئی کو ایک جنگ بندی کا اعلان ہوا۔ انڈیا اور پاکستان نے مزید کشیدگی روکنے پر اتفاق کیا۔ تب میدان میں داخل ہوا ڈونلڈ ٹرمپ، خود ساختہ ’امن کا پیغامبر‘۔ جس نے فوراً یہ کریڈٹ لیا کہ ’اس نے برصغیر کو پُرسکون کر دیا‘۔ دو جوہری ممالک کی قسمت ایک کھوکھلے لیڈر کے کریڈٹ شو کی نذر ہو جائے، یہ ایک مضحکہ خیز اور شرمناک منظر ہے۔مگر دھوکا نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ یہ جنگ بندی کسی امن کی تمہید نہیں۔ — یہ محض وقفہ ہے۔ غزہ میں اب بھی شعلے بھڑک رہے ہیں۔ کشمیر میں اب بھی نگرانی کے ٹاور غرا رہے ہیں۔ اور جو نظریہ اس قتل گاہ کو چلارہا ہے، وہ اب بھی پھیل رہا ہے تیزرفتار — کینسر کی طرح۔
یہ ان سب کے لیے پکار ہے، جو انصاف کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وقت گزر چکا ہے۔ مظلوم محض علامتیں نہیں، — وہ بیٹے، بیٹیاں، خاندان اور مستقبل ہیں۔ غزہ اور کشمیر میدانِ جنگ نہیں، نسل پرست — جرم کے منظرنامے ہیں۔ اور اگر اس پر کھل کر، بے خوف ہو کر، اکٹھے ہو کر آواز نہ اٹھائی — تو ہم تماشائی نہیں رہیں گے —، ہم شریکِ جرم بن جائیں گے۔اگلا باب بلوچستان، کراچی، سری نگر، یا رفح میں کھل سکتا ہے۔
سوال اب یہ نہیں کہ ہم عمل کریں گے یا نہیں، — بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم میں اتنی اخلاقی ہمت ہے کہ ہم تباہی کے اس انجن کو روک سکیں؟ اس سے پہلے کہ یہ ہمیں بھی کچل کر چلا جائے۔ کیونکہ یہ کھیل کا اختتام نہیں۔ — یہ وہ لمحہ ہے جب ناظرین فیصلہ کرتے ہیں:کیا وہ کھڑے ہوکر اپنے آپ کو بچائیں گے؟ یا جلتے اسٹیج کے ساتھ جل جائیں گے؟
جب انڈیا اور پاکستان اپنی فوجی کامیابیوں کے تذکرے کرتے ہیں تو ان نعرئہ ہائے تحسین میں کشمیریوں کو سسکنے کے لیے غم کی وادی میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔
’اوڑی‘ انڈین زیر انتظام کشمیر میں — ۸ مئی کی رات صنم بشیر کے لیے اُلجھے ہوئے منظرنامے کی متحرک تصویر کے طور پر آتی ہے۔ اس کا خاندان تین گاڑیوں میں سوار تھا۔ اس کے بقول: ’’سڑک بہت تاریک تھی، اور گولہ باری کی آواز کانوں کے پردے پھاڑنے والی تھی۔یہ قیامت کی گھڑی لگ رہی تھی‘‘۔ ۲۰سالہ صنم اپنے چارسالہ کزن منیب، اپنی خالہ اور اپنی ماں نرگس بیگم کے ساتھ پچھلی سیٹ پر دبکی ہوئی تھی۔ صنم کو یاد نہیں کہ گاڑی کی چھت کو کس چیز نے چیر ڈالا، لیکن وہ اپنی خالہ کی تیز چیخ یا اپنی ماں کے گلے سے نکلنے والے گرم خون کو نہیں بھول سکتیں۔ جب وہ ہسپتال پہنچے تو نرگس بیگم کی موت و اقع ہو چکی تھی۔
انڈیا اور پاکستان کے درمیان چار دن کی لڑائی میں جموں و کشمیر کے بھارتی زیر انتظام علاقے میں کم از کم ۲۷؍ افراد جان سے گئے، جن میں گیارہ سالہ جڑواں بچے بھی شامل تھے، اور ۵۰سے زائد زخمی ہوئے۔ اچانک ہونے والی یہ لڑائی اس خطے میں کئی عشروں میں سب سے بدترین لڑائی تھی۔ جیسا کہ پچھلے تنازعات میں ہوا، شہریوں ہی کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ جنگ بندی کے بعد، ہم نے لائن آف کنٹرول سے ۱۵کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع دیہات کا دورہ کیا۔ — یہ وہ غیر رسمی سرحد ہے جو پہاڑوں اور دریاؤں کے پار گزرتی ہے، اور کشمیر کو دوحصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
گذشتہ ماہ کئی برسوں کی نسبتاً خاموشی اس وقت ٹوٹ گئی جب مبینہ طور پر سیاحتی شہر پہلگام کے قریب ۲۶ شہریوں کو گولی مار دی گئی، اور نئی دہلی حکومت نے فوراً کہہ دیا کہ اس حملے کے ذمہ داران کے پاکستان سے روابط تھے۔اسلام آباد نے ایسی کسی بھی شمولیت و سرپرستی سے انکار کیا اور غیرجانب دارانہ تحقیقات کے لیے تعاون کی پیش کش کی۔ خطۂ کشمیر کے لوگوں نے مابعد واقعات کے خوف سے سانس روک لی۔انڈیا نے ۷ مئی کی رات پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے اور خود پاکستان کے چند شہروں پر جوابی حملہ کیا۔ پھر اگلے روز پاکستان کے اندر دُور تک پچاس سے زیادہ حملے کیے، جس میں کم از کم ۲۶؍ افراد جاں بحق ہوئے۔ اگلی تین راتوں تک، ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک جنگ کے اور قریب ہوتے گئے۔ — فوجی اہداف پر حملوں کا تبادلہ کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے شہروں میں ڈرونز کی پروازیں بھیجتے رہے۔ ۱۰ مئی کو امریکی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد، دونوں ممالک نے اپنی فوجی کامیابیوں کے دعوے کیے، اور اپنے اپنے نقصانات کو کم کر کے پیش کیا۔
لائن آف کنٹرول کے ساتھ، جہاں خاندان طویل عرصے سے تنازع کے سائے میں رہتے ہیں، پاکستانی گولہ باری شدید ترین تھی۔ ادھر پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں بھی ایسی ہی رپورٹس تھیں، جہاں بھارتی فائرنگ سے کم از کم ۱۶؍افراد جاں بحق ہوئے۔ اوڑی اور اس کے آس پاس ۴۵۰ سے زائد گھر یا دکانیں تباہ ہوئیں، اور کم از کم ایک تہائی آبادی اپنے گھروں سےنکل جانے پر مجبور ہوئی۔ جنگ بندی کے بعد، لوگ اپنی زندگیوں کے جمع شدہ ملبے کو ٹھکانے لگانے کے لیے واپس لوٹ رہے تھے۔اگرچہ بھارتی فوج نے پاکستان کے ساتھ جنگ بندی کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، لیکن ان علاقوں میں سول آبادی اور رہائشی اب بھی خوفزدہ ہیں۔
راجروانی کے گاؤں میں نرگس بیگم کے گھر پر، ان کے پیاروں کو اب بھی صدمہ ہے:’’اگر حکومت نے بنکر [پختہ مورچے] بنائے ہوتے یا صبح ہمیں انخلا کے لیے کہا ہوتا، تو وہ آج ہمارے ساتھ ہوتیں‘‘،ان کے ۲۷ سالہ بیٹے ثاقب بشیر خان نے کہا۔آٹھ افراد کے اس خاندان نے ہمیشہ غربت کا سامنا کیا۔ نرگس بیگم اسکول میں کھانا تیار کر کے ماہانہ ۱۲ ڈالر کماتی تھیں، ان کے شوہر ایک دہاڑی دار مزدور ہیں، جنھیں مستقل کام نہیں ملتا۔ نرگس بیگم کے رشتہ داروں کو مقامی حکومت نے موت کے بدلے ۷ہزار ڈالر معاوضہ دیا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا نقصان کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔ حکومت غریبوں کو زندہ رہنے کی سہولت دینے سے پہلو بچاتی ہے‘‘۔ان کی بھابھی حفیظہ بیگم نے کہا، ’’لیکن اب جب وہ مر چکی ہیں، تو حکومت پیسے دے رہی ہے۔ اب اس دولت کا کیا فائدہ؟‘‘
قریبی گاؤں باندی میں، محمد انور شیخ مدد کے انتظار میں ہیں: ’’پہلے بھی فائرنگ ہوتی تھی، لیکن ہمارے گھروں پر کبھی اس طرح گولے نہیں برسے تھے‘‘، ۴۰سالہ شیخ نے کہا، جن کا سادہ تین کمروں کا گھر ایک بھارتی فوجی کیمپ کے قریب ہے۔ ایک گولے نے ان کے مرکزی کمرے کو چیر دیا، کھڑکیاں توڑ دیں، ٹیلی ویژن کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا اور دیوار پر گہرے گڑھے چھوڑ دیے۔ ان کے بیٹے کی نوٹ بک ٹکڑوں میں بکھر چکی تھی۔شیخ انور نے بتایا: ’’انڈین فوجی تین دن پہلے گولوں کے ٹکڑے جمع کرنے آئے تھے اور کہا تھا ہم آپ کی مالی مدد کریں گے۔ جب لڑائی شروع ہوئی تو میں نے اپنی بیوی اور چھ بچوں کو ڈیڑھ گھنٹے کی دوری پر ایک امدادی کیمپ میں بھیج دیا تھا۔ ہم ہررات، اپنے چند پڑوسیوں کے ساتھ ایک عارضی مورچے میں دبک کر پڑے رہتے تھے، جو ہمیں صرف جزوی تحفظ فراہم کرتا تھا۔ مگر ۹ مئی کی صبح سویرے، فائرنگ اور تیز گولہ باری ہو گئی‘‘، شیخ نے کہا۔
شیخ کے گھر سے آگے، ایک تنگ ندی کے کنارے سرسبز پہاڑیوں میں واقع لگاما گاؤں ہے۔ ۶۳ سالہ محمد شفیع پٹھان کی جائیداد پر اخروٹ اور ناشپاتی کے کھڑے درخت لہلہا رہے ہیں، لیکن ان کا گھر رہنے کے قابل نہیں رہا۔ یہ ریٹائرڈ فوجی ۹ مئی کی رات کو اپنی بیوی، بیٹے اور تین پوتے پوتیوں کے ساتھ اس وقت جان بچانے کے لیے بھاگا، جب وادی میں دھماکوں کی گونج سنائی دی۔ اگلی صبح سویرے، پولیس نے فون پر شفیع کو بتایا کہ اس کا گھر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ سن کر وہ گھر آیا تو ٹین کی چھت اُڑ چکی تھی اور کنکریٹ کا ایک بڑا ٹکڑا ایک جانب پڑا ہوا تھا۔ چاول کے ڈرم راکھ سے ڈھکے ہوئے تھے اور بارود کی بہت تیز بدبُو تھی۔
’’ایک بھی چیز نہیں بچی، سب برباد‘‘، پٹھان نے کمبل، کھلونوں، کپڑوں اور چمچوں کے بکھرے ہوئے ڈھیر پر سے گزرتے ہوئے کہا۔ سرحد کے ساتھ زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ غربت عام ہے اور تنازعے کا سایہ ہمیشہ سانس کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ شہری روزانہ بار بار چیک پوسٹوں پر تلاشی دینے کے لیے انڈین فوج کا سامنا کرتے ہیں، جن کے مسلح قافلے باقاعدگی سے گزرتے اور جگہ جگہ ہیں۔
مئی ۲۰۲۵ء کی انڈوپاک لڑائی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے: ’’کشمیر ایک فلیش پوائنٹ ہے اور اس میں پورے جنوبی ایشیا کو ایک بڑی جنگ میں دھکیلنے کی بھرپور صلاحیت ہے‘‘، سری نگر میں مقیم سیاسی تجزیہ کار شیخ شوکت حسین نے یہ بات کہی۔ حسین نے کہا۔ ’’کشمیری، ایسی صورتِ حال میں پھنسے ہیں جو ان کے کنٹرول سے باہر ہے، اور یہی سب سے زیادہ تکلیف اٹھاتے ہیں۔ بڑی عالمی طاقتوں کا کام ہے کہ وہ کشیدگی کو مستقل طور پر کم کرنے میں مدد کریں‘‘، انھوں نے کہا۔
سری نگر میں نئے کافی شاپس اور ہوٹل کھلے ہوئے ہیں، جو نئی دہلی کی جانب سے سیاحتی صنعت کو بحال کرنے کی کئی سالہ کوشش کا حصہ ہے۔ لیکن پاکستان کے بے مثال ڈرون حملوں کے نتیجے میں سری نگر پر ایک اُداسی چھائی ہوئی ہے۔ڈل جھیل پر — جو عظیم الشان پہاڑی چوٹیوں سے گھری ہوئی ہے —، کشتی بان گپ شپ لگا رہے تھے یا مچھلی پکڑ رہے تھے، مگر کوئی بھی چیز سیر کے لیے راغب کرنے والی نہیں تھی۔ سیاح غائب ہوچکے تھے۔
سری نگر کے مرکزی لال چوک میں، ۲۱ سالہ مسکان، اپنے بھائی کے ساتھ تصاویر لے رہا تھا۔ انھوں نے کہا:’’پہلگام حملے سے کشمیریوں کو تکلیف پہنچی، لیکن اس کے بعد بھارتی سیکیورٹی کریک ڈاؤن اور انڈیا کے طول و عرض میں زیرتعلیم کشمیری طلبہ پر حملوں کی خبروں نے انھیں اور بھی زیادہ صدمے سے دوچار کیا‘‘۔ انھوں نے کہا:’’ ہمارے لیے اور سیاحوں کے لیے کوئی خوف کی فضا نہیں ہونی چاہیے‘‘۔
اوڑی، جو چند دن پہلے تک ایک ویران شہر تھا، دکاندار واپس آ گئے تھے، انڈے، سکارف اور پلاسٹک کا سامان بیچ رہے تھے۔ ساتھ ہی ایک سرکاری دفتر کے احاطے میں پختہ مورچہ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن کچھ مقامات پر آنا جانا اب بھی ممنوعہ ہے۔ ایک چیک پوسٹ پر، بھارتی فوجیوں نے ہم کو اسلام آباد گاؤں جانے سے روک دیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تازہ ترین تنازع نے سب کچھ بدل دیا۔ ریٹائرڈ فوجی شفیع پٹھان نے کہا: ’’ہماری کیا زندگی ہے کہ ہم نہ سکون سے جی سکتے ہیں، اور نہ سکون سے مر سکتے ہیں‘‘۔ [ترجمہ: س م خ]
منگل، ۲۷ مئی ۲۰۲۵ء کی صبح چیف جسٹس سید رفعت احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف بنگلہ دیش کے سات رکنی فل بنچ نے یہ فیصلہ سناتے ہوئے اے ٹی ایم اظہرالاسلام کی رہائی کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس سید رفعت احمد کی سربراہی میں قائم سات رکنی بنچ نے ۸ مئی کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ۲۷ مئی کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی۔اس سے قبل، ۲۲ ؍اپریل کو اظہرالاسلام کی جانب سے دائر اپیل کی سماعت کے لیے عدالت نے ۶ مئی کی تاریخ مقرر کی تھی۔ مقررہ دن سماعت کا آغاز ہوا اور اظہرالاسلام کے وکیل نے دلائل دیے۔ جس کے بعد عدالت نے ۸ مئی کو مزید سماعت کی، اور فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ۲۷ مئی کی تاریخ متعین کی گئی۔
اپیل کنندہ کی جانب سے وکیل محمد منیر نے دلائل دیے، جب کہ ان کے ساتھ سید محمد ریحان الدین بھی موجود تھے۔ ریاست کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اے آر حق اور پراسیکیوٹر غازی ایم ایچ تمیم نے دلائل پیش کیے۔
یاد رہے کہ ۳۰دسمبر ۲۰۱۴ء کو حسینہ واجد حکومت کی جانب سے قائم کردہ نام نہاد ’بین الاقوامی جرائم ٹریبونل‘ (ICT)نے جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے مرکزی سیکرٹری جنرل اے ٹی ایم اظہرالاسلام کو ’۱۹۷۱ء کی جنگِ آزادی کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم‘ کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف انھوں نے ۲۸ جنوری ۲۰۱۵ء کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔بعد ازاں، ۳۱ ؍اکتوبر ۲۰۱۹ء کوبنگلہ دیش سپریم کورٹ نے ان کی سزائے موت برقرار رکھی، اور ۱۵مارچ ۲۰۲۰ء کو اس فیصلے کی باقاعدہ تفصیلی کاپی بھی جاری کر دی گئی، جس کے بعد اظہرالاسلام نے ۱۹ جولائی ۲۰۲۰ء کو نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ بعدازاں وہ مسلسل جیل میں قید رہے اور حسینہ واجد کی حکمرانی کے دوران ہروقت اُن پر سزائے موت کے باقاعدہ عمل درآمد کا خطرہ موجود رہا۔ مگر مشیت ِ خداوندی کے تحت، وقت گزرتا گیا، حتیٰ کہ اگست ۲۰۲۴ء میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور ۲۶ فروری ۲۰۲۵ءکو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل کو سماعت کے لیے منظور کرکے فریقین کو دو ہفتوں کے اندر سمری جمع کرانے کا حکم دیا۔ سمری جمع ہونے کے بعد اپیل پر یہ سماعت ہوئی، اور فیصلہ سنایا گیا ہے۔
۱- سپریم کورٹ نے کہا کہ انسانیت کے خلاف جرائم سے متعلق مقدمات میں ماضی میں دیے گئے فیصلوں کے ذریعے نہ صرف بنگلہ دیش بلکہ پورے برصغیر کی فوجداری عدالتی نظام کی بنیادی ساخت کو بدل کر رکھ دیا گیا تھا، جو کہ ایک سنگین اور ناقابلِ معافی جرم تھا۔
۲- سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ جناب اے ٹی ایم اظہرالاسلام کو سزا دیتے وقت ان کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور ثبوتوں کی منصفانہ جانچ کیے بغیر ہی سزائے موت سنادی گئی تھی۔
۳- سپریم کورٹ نے اسے ’تاریخ میں سچائی کے ساتھ ایک سنگین مذاق‘ (travesty of truth) قرار دیا، یعنی انصاف کے نام پر کھلم کھلا ناانصافی۔
۴- عدالت کا کہنا تھا کہ زیرسماعت مقدمے میں جو شواہد اور ثبوت پیش کیے گئے ہیں، ماضی میں ان کی اپیل پر عدالت نے درست اور دیانتدارانہ جائزہ لینے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا۔
یہ امرواقعہ ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف ایک انفرادی مقدمے میں انصاف کی بحالی ہے بلکہ یہ بنگلہ دیش میں خصوصاً عوامی لیگی فسطائی حکومت کے دورِ حکمرانی میں عدالتی نظام میں ماضی کی سنگین لغزشوں، گناہوں اور جرائم کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
تشکر کے اس موقعے پر ڈاکٹر شفیق الرحمان، امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا: ’’آج بنگلہ دیش کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ کے فل بنچ نے ہماری نظرثانی کی درخواست کی سماعت کے بعد فیصلہ سنایا ہے۔ اس فیصلے میں ہمارے قابلِ احترام مظلوم لیڈر اور ہمارے پیارے بھائی اے ٹی ایم اظہر الاسلام کو اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ کتنے صدمے کی بات ہے کہ اس طرح کی جعلی فیصلہ سازی سے ہمارے نہایت عظیم ساتھیوں اور ملّت و قوم کے راہ نمائوں کو پھانسیاں دے کر ہم سے جدا کردیا گیا۔اگر وہ رہنما جو ہماری قوم کے سرتاج ہیں، قومی بحران کے اس لمحے میں زندہ ہوتے تو اپنی دانش مندی، دُور اندیشی اور تجربے سے اس قوم کو راستہ دکھا سکتے تھے۔ کینگرو کورٹ نے انھیں ایک ایک کر کے مار دیا۔ آج دنیا میں کوئی بھی انھیں ہمارے پاس واپس نہیں لا سکتا۔ لیکن اللہ کے دین کے لیے ان کی قربانی اور خدمات ہمیشہ باقی رہیں گی‘‘۔
یاد رہے ان مقدمات کو نمٹانے میں لامحدود دھوکا دہی اور جعل سازی کا سہارا لیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس سریندرکمار سنہا نے ستمبر ۲۰۱۸ء میں اپنی کتاب A Broken Dream: Rule of Law, Human Rights & Democracy میں اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے کس طرح جھوٹ کا سہارا لیا۔ اس وقت کی عدلیہ اور حکومت نے مشترکہ طور پر ایک منصوبہ بنایا کہ منظم طریقے سے جماعت کے ان مرکزی رہنماؤں کو قتل کیا جائے۔عدالتی ڈرامے کے ذریعے پھانسی پانے والا اللہ کی عدالت میں چلاگیا ہے۔ ان ظالموں نے اسی پر بس نہ کیا، بلکہ ان کے لواحقین اور گھروالوں کو بھی وحشیانہ طریقے سے مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ عبدالقادر مُلّا کو جس رات پھانسی دی گئی، اسی رات ان کے گھر پر حملہ کیا، ان کے اہل خانہ کو ہراساں اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ انھیں جنازے میں شرکت کی اجازت دینے کے بجائے دھکے دیتے اور تشدد کرتے ہوئے جیل میں ڈال دیا گیا۔ یوں پھانسیاں پانے والے تمام خاندانوں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار کیا گیا۔
قتل کاری کے اس عدالتی عمل کے دوران ’اسکائپ اسکینڈل‘ کو دیکھ کر پوری دنیا نے مذمت کی۔ ان مقدموں کے دوران دو ٹارچر سیل بنائے گئے: ایک کا نام ’سیف ہوم‘ تھا، اور دوسرے کا نام ’سیف ہاؤس‘ تھا۔ ’سیف ہوم‘ میں متاثرہ رہنماؤں کو ہراساں کیا گیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر انھیں ’سیف گھر‘ میں رکھا گیا اور کئی دنوں تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جماعت کے کارکنوں نے اسے خاموشی سے برداشت کیا۔ احتجاج کی کوشش کی، مگر سیاسی غنڈوں کے حملوں کا انھیں سامنا کرنا پڑا۔
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور مختلف رفاہی تنظیموں نے ان مقدموں کی مذمت کی۔ لیکن حکمرانوں اور ان کے پروردہ ججوں نے اس سے کوئی سبق نہیں لیا۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر منصفانہ مقدمات کی کارروائی چلی تو وہ قتل کی اجازت نہیں دے گی، مگر یہ بات کسی نے نہیں سنی۔
ڈاکٹر شفیق الرحمٰن نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ ہمیں اپنے ملک سے محبت ہے۔ ہمارے پیارے لیڈر بھی اس ملک سے محبت کرتے تھے۔ اسی محبت کی وجہ سے انھوں نے ملک کی بہتری کے لیے جدوجہد کی۔ وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں صحت مند سیاست کا فروغ چاہتے تھے۔ نہ صرف انھوں نے سڑکوں پہ سیاسی جدوجہد کی بلکہ حکومت کا حصہ بننے کے بعد بھی انھوں نے حکومتی انتظام کو بہتر بنانے کی مثالی کوششیں کیں۔ پوری قوم گواہ ہے، دووزیروں نے مثالی انداز سے تین وزارتیں چلائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خصوصی مدد فرمائی۔ انھوں نے پوری ایمانداری اور مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دیئے۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے عوام کے لیے روشن وصیت نامہ چھوڑا ہے اور شان دار مثال قائم کی ہے‘‘۔
جب ہم ماضی میں دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ سارے بنگلہ دیش اور پوری دُنیا کے سامنے عوامی لیگی خصوصی عدالت میں کیس نمٹاتے ہوئے ان خاندانوں کی طرف سے کسی سے کوئی گواہی نہیں لی جن کے نام لے لے کر قتل کے مقدمے چل رہے تھے۔ بلکہ ایسے مقدمے کی بنیاد بننے والے ایک مقتول کا بھائی گواہی دینے آیا تو سادہ لباس پولیس نے عدالت کے احاطے میں اس فرد کو وکیل کی گاڑی سے کھینچ کر اغوا کرلیا، تشدد کا نشانہ بنایا اور انڈیا کی سرزمین پر چھوڑ دیا گیا۔ وہ مذہباً ہندو اور عملاً سچّی گواہی دینے کی غرض سے عدالت پہنچنے کی کوشش میں طویل عرصہ جیل میں رہنے کے بعد وطن واپس آیا ہے۔ یہ گواہ علامہ دلاور حسین سعیدی کے حق میں گواہی دینے کے لیے آیا تھا۔
اظہر الاسلام کی موجودہ اپیل کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے حکومتی وکیل سے کہا کہ ’’مطیع الرحمان نظامی کو ایک دن یا ایک منٹ بھی سزا دینے کی گنجائش نہیں تھی، مگر انھیں سزائے موت دی گئی۔ ان عدالتوں نے جماعت اسلامی کے لیڈروں پر ظلم کیا ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد سے پہلے ہی سازشیں رچائی گئیں‘‘۔
جماعت کے پھانسی پانے اور جیلوں میں انتقال فرمانے والے قائدین سب کے سب ثابت قدم تھے۔ وہ اپنے ایمان میں مضبوط تھے، وہ حق پر قائم تھے۔ اس لیے وہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرتے ہوئے پھانسی کے تختے پر کھڑے ہوگئے، یا جیل میں سسکتے رہے، لیکن ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انھوں نے یہ سکھایا ہے کہ اگر ایک باوقار قوم سچائی پر ڈٹی رہتی ہے تو پھانسی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ موت توصرف ایک بار آنی ہے، مگر وہ موت ذلت آمیز موت نہیں بلکہ بہادری کی موت ہونی چاہیے۔ ان کی شہادت اور موت بہادری کی موت تھی۔
ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا: ’’ان مقدمات کو چلاتے ہوئے بین الاقوامی روایتی قانون کی پاسداری نہیں کی گئی اور ساتھ ہی ملکی قانون کی بھی پاسداری نہیں کی گئی۔ جو ثبوت قانون کے تحت موجود تھے ان پر بالکل عمل نہیں کیا گیا۔ حکمران طبقے کے لیے آئین کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا، قانون کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ جن کے کہنے پر عدالت کی کارروائی چلی، انھی کی مرضی قانون تھا، انھی کی مرضی کا فیصلہ تھا۔ چاہے وہ قانونی ہو یا غیر قانونی۔ اس طرح جماعت اسلامی کو نشانہ بنایا گیا‘‘۔
معین الدین چودھری جنھیں انھی کینگرو عدالتوں نے سزائے موت سنائی تھی، ان کے مقدمے پر برطانوی سپریم کورٹ نے گذشتہ برس فیصلہ دیتے ہوئے لکھا تھا: ’’بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے مقدمات انصاف کے نام پر ایک سنگین مذاق ہیں۔ یہ فیصلے نہیں، یہ انصاف کی نسل کشی ہے۔ ان میں انصاف کا قتل عام کیا گیا ہے‘‘۔ انھوں نے ’کلنگ آف دی جسٹس‘ نہیں کہا۔ کیونکہ اگر یہ ایک ہی کیس ہوتا تو وہ کہتے کہ یہ قتل ہے، لیکن یہاں تو ایک سے زیادہ کیس تھے۔ اسی لیے برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ ’انصاف کی نسل کشی‘ ہے۔ لیکن اُس وقت کی بنگلہ دیشی عدالت نے ایسا نہیں لکھا تھا۔ تاہم، بنگلہ دیشی عدالت نے ۲۷مئی کو اپنے فیصلے کے ذریعے یہ بات دُہرائی ہے جو برطانوی سپریم کورٹ نے متعین کی تھی۔
جماعت اسلامی کے شہید قائدین میں: سابق امیر پروفیسر غلام اعظم، سابق نائب امیر ابوالکلام محمد یوسف، سابق امیر شہید مولانا مطیع الرحمان نظامی، سابق سیکرٹری جنرل شہید علی احسن محمد مجاہد، سابق اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل شہید قمر الزمان، سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ میرقاسم علی، سابق اسسٹنٹ سیکرٹری شہید عبدالقادر مُلّا، نائب امیردلاور حسین سعیدی، سابق نائب امیر سابق ایم پی مولانا عبدالسبحان رحمہ اللہ، سابق رکن مرکزی مجلس شوریٰ عبدالخالق رحمۃ اللہ علیہ، جنھیں ناحق قتل کیا گیا۔ وہ دنیا سے تو مٹ گئے ہیں، لیکن اہل حق کے دلوں سے نہیں نکل سکتے۔ اہل باطل نے اس قیادت کو انصاف کی نسل کشی کے ذریعے ختم کر کے ملک اور جماعت کو قیادت سے محروم کرنے اور عوام کو اندھیروں میں دھکیلنے کی ظالمانہ کوشش کی ہے، مگر ۲۷مئی کے فیصلے سے ثابت ہوتا ہے کہ سچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ سچائی بادلوں کو چیر کر روشنی کی چمک لاتی ہے اور وہ سچ آج دُنیا پہ ظاہر ہے۔
بنگلہ دیش میں ’جولائی انقلاب‘ رَدِ فسطائیت کا ایک تاریخی اور قومی یکجہتی کا موقع لے کر آیا تھا۔ ہزاروں نوجوان طلبہ و طالبات اور عوام کے لہو سے ہم فسطائیت اور بھارتی تسلط کے مشترکہ طوقِ غلامی سے اپنی مادرِ وطن کو نجات دلانے میں کامیاب ہوئے۔ عوام کو یہ توقع تھی کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کی قیادت میں فسطائیت مخالف تمام عناصر پر مشتمل ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے گی، جو آئندہ انتخابات تک ریاست کا نظم و نسق سنبھالے گی۔
بدقسمتی یہ ہوئی کہ گذشتہ سال ۸؍ اگست کو نہ تو کوئی قومی حکومت بنی، نہ کوئی حقیقی انقلابی حکومت وجود پاسکی۔ اس کے بجائے، نام نہاد سول سوسائٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک عبوری حکومت قائم کی گئی، مگر وہ مطلوبہ وسیع تر سیاسی اتحاد تشکیل دینے میں ناکام رہی۔ حکومت کی تشکیل کے آغاز ہی میں مخصوص ’این جی اوز‘ اور ’سول سوسائٹی‘ کی بالادستی کے تاثر کو ایک بااثر مشیر نے غیرملکیوں سے گفتگو میں خوشی سے اس طرح بیان کیا: ’’’سول سوسائٹی‘ کے نصف درجن نمائندے حکومت میں جگہ پاچکے ہیں‘‘۔ یہ بات مجھے انھی غیرملکیوں نے بتائی۔ ذرا ماضی میں جائیں تو قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ۲۰۰۷ء میں اسی ’سول سوسائٹی‘ کے اخبار کے ایک مشہور مدیر نے اُس وقت کے اطلاعاتی مشیر مینال حسین کو برملا ڈانٹ کر یہ کہا تھا کہ ’’یہ حکومت [یعنی حسینہ واجد] ہم نے بنائی ہے‘‘۔ اس طرح یہ گروہ ہر دورِ حکومت میں اثر و رسوخ اور اپنی گرفت قائم رکھتا آیا ہے۔ حال ہی میں، یہی مدیر انقلاب کے چندماہ بعد ڈاکٹر یونس پر سخت تنقید کرنے لگے ہیں۔
ہم نے دیکھا کہ حکومت بننے کے بعد، بیرونِ ملک مقیم تمام ’سمارٹ‘ بنگلہ دیشیوں کو مشیر، خصوصی معاون، مشیروں کے مشیر وغیرہ مختلف عہدوں پر فائز کیا جا رہا ہے۔ ہم ان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت بنگلہ دیشیوں کا تذکرہ سن کر خوش ضرور ہوئے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملک میں غیرمعروف ہیں اور یہاں کے ماحول میں کام کرنے کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔
چنانچہ، حکومت بننے کے ۹ ماہ بعد بھی نہ تو کوئی اصلاحات نافذ ہو سکیں، اور نہ اصلاحات کے کسی سیاسی اتفاقِ رائے کے آثار نظر آتے ہیں۔ میرے لیے باعث تشویش یہ ہے کہ موجودہ حکومت کئی طرح کی اصلاحی تجاویز کو بغیر کسی نتیجے پر پہنچائے، درمیان میں چھوڑ کر اور کسی مشترکہ مثبت اور دُوررس اثرات کے حامل سیاسی نظامِ کار کو متعارف و نافذ کرائے بغیر ہی رخصت ہوجائے گی۔ مزید ستم یہ کہ صرف ۹ ماہ کے اندر اندر حکومت کو درجنوں مطالبات کے ذریعے سڑکوں پر ہنگاموں کی صورت میں بے حال کرنے کی کوششیں تسلسل کے ساتھ سامنے آئیں۔ حکومت کے مینڈیٹ پر جب بار بار سوالات اٹھائے گئے، تو غیر تجربہ کار مشیروں کا گروہ ان کا معقول جواب دینے سے قاصر رہا۔
دوسری طرف، انقلاب کی گرمی ٹھنڈی ہونے سے قبل ہی، عوامی لیگ سے ہٹ کر بنگلہ دیش کی دو بڑی سیاسی جماعتوںبنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی)اور جماعت اسلامی کے درمیان بیانات کی جنگ چھڑ چکی تھی۔ جماعت اسلامی، جو سترہ سالہ وحشیانہ عوامی لیگی اور بائیں بازو کے جبر سے اچانک نجات پانے میں کامیاب ہوئی۔ وہ کئی پہلوئوں سے اپنی حقیقی عوامی تائید اور تنظیمی قوت کی نسبت سے زیادہ خوداعتماد نظر آئی۔ ملک کے بدلے ہوئے سیاسی منظرنامے میں جماعت اسلامی کی قربانیوں اور عزم و حوصلے کے احترام کے باوجود بہرحال، رائے دہندگان کی ووٹوں کی صورت میں تائید و حمایت پورے ملک میں اس درجہ منظم انداز سے پھیلی ہوئی نہیں ہے۔ جن علاقوں میں جماعت کی انتخابی طاقت موجود ہے، اس کی بنیاد پر مستقبل قریب میں جماعت کے لیے اقتدار کا حصول ممکن نظر نہیں آتا۔ تاہم، جماعت اسلامی ایک معقول تعداد کے ساتھ پارلیمان میں جا کر اپوزیشن کا بڑا مؤثر مقام ضرور حاصل کر سکتی ہے۔
’جولائی انقلاب‘ کے بعد پیدا ہونے والی اس کش مکش میں، جلد اقتدار میں آنے کی خواہش مند اور عوامی حمایت و تنظیمی طاقت میں بہت برتر بی این پی کی جانب سے صورتِ حال اس وقت کش مکش میں تبدیل ہوگئی، جب شہروں میں جماعت اسلامی کے بڑے بڑے جلسے ہوئے تو بی این پی جماعت اسلامی پر غضبناک ہو گئی۔ حسینہ کے فرار کے کچھ ہی دنوں بعد، بی این پی اور جماعت اسلامی کے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے۔
درحقیقت ۲۰۱۴ء کے بعد ہی سے بی این پی اور جماعت کے مابین دوریاں پیدا ہو چکی تھیں۔ پھر ۲۰۱۸ء کے ضمنی کے الیکشن میں فاصلے مزید بڑھ گئے۔ جن بی این پی رہنماؤں کو نظرانداز کرکے یہ نشستیں جماعت کو دی گئی تھیں، وہ ناراض بھی ہوئے۔ تب سے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حریف بن گئی ہیں۔ ۲۰۲۲ء میں بی این پی نے باضابطہ طور پر ۲۰جماعتی اتحاد توڑ دیا، جس کے بعد صاف ظاہر ہو گیا کہ مستقبل میں یہ دونوں جماعتیں شدید سیاسی حریف بن کر ابھریں گی۔
موجودہ حالات میں، بی این پی اور جماعت کے درمیان تنائو یا تصادم کی فضا عوامی لیگ کے تلخ تجربے سے بھی زیادہ تلخ نتائج سامنے لاسکتی ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ حالیہ دنوں میں بی این پی سے بائیں بازو کی بڑے پیمانے پر قربت میں دیکھی جا سکتی ہے۔
وہ بھارت نواز بائیں بازو کے عناصر جو عوامی لیگ کے کاندھوں پر سوار ہوکر سترہ سال اقتدار میں رہے، اور اختلاف رائے کو کچلتے رہے، بھارت کا اسلام مخالف بیانیہ بھی پھیلاتے رہے، اور فسطائیت کے دامے درمے مددگار بنے رہے، انھوں نے جماعت اسلامی اور بی این پی کے باہمی تصادم سے پیدا ہونے والے خلا سے فوراً اور بھرپور فائدہ اٹھایا۔ یہ عوام سے کٹے ہوئے بائیں بازو کے سیاستدان ہر دور میں کسی نہ کسی بڑی جماعت کی چھتری تلے اپنے مفادات کا تحفظ کرتے رہے ہیں۔
فسطائیت مخالف قوتوں کی ناپختہ یکجہتی اور بی این پی کے بائیں بازو کی طرف جھکاؤ نے ان عناصر کو بی این پی میں داخل ہونے کی کھلی راہ فراہم کر دی۔ وہی میڈیا گروہ، جو برسوں سے ضیاء خاندان اور بی این پی کے خلاف مہم چلاتے رہے، اب جب انھیں بی این پی اقتدار کے قریب نظر آئی تو انھوں نے روایتی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے موقف بدل لیا۔ دوسری جانب بی این پی کی قیادت نے بھی موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماضی کی تمام تلخ یادیں بھلا کر انھیں خوش آمدید کہا۔ اقتدار کی سیاست غالباً ہمیشہ مفاد پرستانہ ہی ہوتی ہے۔
اب بی این پی کی صفوں میں عوامی لیگ کی بھارت نوازی کو نشانہ بنانے کے بجائے اُن اسلامی حلقوں کو جنھیں وہ ’اسلامسٹ‘ کہتے ہیں، انھی کو اصل چیلنج اور نشانہ بنایا جارہا ہے۔
بی این پی اور جماعت اسلامی سے باہر نوجوان طلبہ اور عوام پر مشتمل ایک تیسری سیاسی قوت کے اُبھرنے کی اُمید ضرور پیدا ہوئی ہے، مگر سرِدست وہ صحیح معنوں میں سیاسی میدان میں جڑ نہیں پکڑ سکی۔
۷۰کے عشرے میں جنرل ضیاء الرحمٰن نے چین نواز بائیں بازو اور اسلام پسندوں کو ملا کر بی این پی کی بنیاد رکھی تھی۔ وہ جماعت آج بھی ملک کی ایک بڑی قوت ہے، مگر اندرونی نظریاتی کش مکش ختم نہیں ہو سکی۔ اقتدار میں شراکت کی خواہش نے سب کو ایک چھت کے نیچے اکٹھا تو رکھا، لیکن بائیں بازو اور اسلام دوست قوتوں کی مسلسل نظریاتی جنگ چلی آرہی ہے۔ ایک عشرے سے بی این پی میں بھارت نواز اور بائیں بازو کی بڑھتی ہوئی موجودگی نے جماعت کے لیے اجنبیت پیدا کردی ہے۔
اب بی این پی میں ان افراد کو خوش دلی سے خوش آمدید کہا جا رہا ہے، جو پہلے عوامی لیگ کا حصہ تھے۔ یہ موقع پرستی بی این پی کے نظریاتی انحراف کی افسوس ناک علامت ہے۔
طلبہ کی نئی جماعت ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ (NCP) میں بھی ستّر کی دہائی کی بی این پی کی طرح بائیں بازو اور اسلام دوست عناصر کا امتزاج موجود ہے، جس سے نظریاتی تقسیم واضح ہو رہی ہے۔ قیادت کے تقریباً تمام افراد ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے قیادت کی چپقلش بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ این سی پی کے علاوہ ’جولائی انقلاب‘ کے طالب علم رہنماؤں کے کئی پلیٹ فارم وجود میں آچکے ہیں۔ اگر ان میں وحدت پیدا نہ ہو سکی، تو بی این پی اور جماعت کے علاوہ تیسری جماعت کے وجود پذیر ہونے میں مزید مدت لگے گی۔
اگرچہ بحیثیت جماعت عوامی لیگ کی واپسی فی الحال ممکن نظر نہیں آتی، مگر ان کے کم از کم ۲۰فی صد وفادار حمایتی ملک میں موجود ہیں۔ دوسری جانب بی این پی نے ان سب کے لیے دروازے کھول دیئے ہیں۔ این سی پی قیادت کا بھی ایک طبقہ عوامی لیگ کے ۱۹۷۱ء سے متعلق بیانیے کے قریب تر موقف پیش کر رہا ہے، تاکہ عوامی لیگ کے حامیوں کو اپنی طرف مائل کر سکے۔
میرا اندازہ ہے کہ عوامی لیگ کے کارکنان اور حامی، موجودہ حالات میں اپنی سلامتی کے لیے، واضح طور پر اقتدار کے قریب پہنچتی بی این پی کا رُخ کریں گے۔ چونکہ بھارت بھی بظاہر بی این پی کو قابلِ اعتماد سمجھنے لگا ہے، اس لیے عوامی لیگ نوازوں کی بی این پی میں شمولیت پر کوئی رکاوٹ باقی نہیں۔
حال ہی میں بی این پی نے، ڈاکٹر یونس حکومت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر، سیاسی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب، بنگلہ دیش کے فوجی سربراہ جنرل وقار الزماں کی اس تقریر نے حکومت کو کمزور کر دیا ہے، جس میں انھوں نے آرمی ہیڈ کوارٹر میں افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’عبوری حکومت جلداَز جلد انتخابات کرائے، فوجی معاملات میں مداخلت بند کرے اور رخائن راہداری کے بارے میں معاملات سے فوج کو باخبر رکھے‘‘۔ اہم سوال یہ ہے کہ ایک حاضر سروس فوجی سربراہ کو حکومت کے متعلق ایسے بیانات دینے کا اختیار کیسے حاصل ہے ؟
ان حالات میں، عبوری حکومت ایک ’لنگڑی بطخ‘ بن چکی ہے۔ تاہم، اگر موجودہ حکومت کسی حادثاتی یا سازشی عمل کے نتیجے میں رخصت ہو جاتی ہے، تو انڈیا کی منصوبہ بندی کامیاب ہو جائے گی۔ افسوس کہ جو سیاسی جماعتیں اس حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ لازمی طور پر اس خطرے کو نظر انداز کر رہی ہیں۔صرف دو ماہ قبل، عیدالفطر کے روز قومی عیدگاہ میں لوگوں کا پُرجوش خیرمقدم دیکھ کر ڈاکٹر یونس کو بنگلہ دیش کا مقبول ترین رہنما تصور کیا جا رہا تھا، مگر آج وہ بی این پی کی جزوی تنظیمی طاقت کے سامنے غیر متوقع حد تک بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔
جولائی کے انقلاب نے اگرچہ شیخ حسینہ واجد کی فاشسٹ حکومت کو اقتدار سے محروم کر دیا تھا، مگر افسوس کہ اس کے بعد کی عبوری حکومت، بنگلہ دیش کو انڈیا کی آکٹوپس گرفت سے آزاد کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ۲۰۰۷ء سے ۲۰۲۴ء تک، ۱۷ برسوں میں ریاست کے ہر شعبے میں انڈین ایجنٹوں کی جو دراندازی ہوئی ہے، انھیں شناخت کر کے بے دخل کرنے کے لیے کوئی مؤثر اور مربوط اقدام نہیں کیا گیا۔
چھ سالہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آ کر میں نے پروفیسر یونس صاحب سے بارہا کہا: ’’یا تو واقعی حکومت کریں، ورنہ کنارہ کش ہوجائیں‘‘۔ مگر سیاست سے ناواقفیت کے باعث شاید وہ میری بات کا مفہوم نہ سمجھ سکے۔ وہ، ان کے مشیر اور طلبہ رہنما ایک خودپسندانہ ’کمفرٹ زون‘ میں داخل ہوگئے۔ انھوں نے باہر کے خیرخواہوں کی بات سننے کی ضرورت محسوس نہ کی۔اس حکومت کی ناکامی، سیاست دانوں کی ناعاقبت اندیشی، اور اقتدار کی شدید خواہش نے انڈیا کو ایک بار پھر بنگلہ دیش کی سیاست میں داخل ہونے کا موقع دے دیا ہے۔یوں دکھائی دیتا ہے کہ نامکمل ’جولائی انقلاب‘ کو مکمل کرنے کے لیے قوم کو ایک بار پھر جدوجہد کی تیاری کرنا ہوگی۔
تیونس میں خصوصی ’فوجداری عدالت‘ نے جمعہ کی شب، صدر قیس سعید کے درجنوں سیاسی مخالفین کو ۱۳ سے ۶۶سال کی سزائیں سنادیں۔ سزا پانے والوں میں جناب راشد الغنوشی (رئیس تحریک نہضت)، عصام الشابی (سیکرٹری جنرل جمہوری پارٹی)، نجیب الشابی (اپوزیشن اتحاد جبھۃ الخلاص کے رہنما)، غازی الشواشی (سابق سیکرٹری جنرل ڈیموکریٹک موومنٹ) اور اپوزیشن کے ایک اور معروف رہنما جوہر مبارک سمیت تیونس کی نمایاں ترین سیاسی، صحافتی اور قانونی حلقوں سے وابستہ ۴۰ شخصیات شامل ہیں۔
ان سیاسی قیدیوں پر جو دو سال سے زائد عرصے سے حراست میں ہیں، حددرجہ سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں ریاستی سلامتی کے خلاف سازش ، ملکی و غیرملکی عناصر سے خفیہ روابط، صدرقیس سعید کا تختہ اُلٹنے کی کوشش، اور دہشت گرد گروہ تشکیل دینا شامل ہیں۔ ان سبھی سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات کی کارروائی آن لائن چلائی گئی۔ ساری عدالتی کارروائی عدل و انصاف کے ادنیٰ سے ادنیٰ تقاضوں سے یکسر خالی اور ’قانونِ انسداد دہشت گردی‘ اور ’فوجداری قانون‘ کے تحت سخت ترین ماحول میں انجام پائی، جس پر دُنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانون پسند حلقوں نے شدید تنقید کی ہے۔
۸۳برس کے جناب راشدالغنو شی گذشتہ دو برس سے جیل میں قید ہیں۔ یاد رہے، اس سے ہٹ کر ایک نام نہاد مقدمے میں انھیں پہلے ہی ۲۲برس قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔
اپوزیشن رہنمائوں پر یہ مقدمہ دوخفیہ مخبروں کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے، جن کا نام آج تک دُنیا کے سامنے نہیں آسکا۔ اس سے پہلے ۲۰۲۳ء میں صدرقیس سعید بیان دے چکے ہیں: ’’جو جج قیدیوں کو بری کریں گے، وہ بھی شریک جرم سمجھے جائیں گے‘‘۔
جناب راشدالغنوشی عرب اور اسلامی دُنیا کے نمایاںترین مفکرین اور سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۷۰ء کے عشرے میں حزب النہضۃ (تحریک ِ نہضت) کی بنیاد رکھی۔ سابق صدر حبیب بورقیبہ کے دور میں انھیں قید کیا گیا، اور پھر زین العابدین بن علی کے اقتدار میں جلاوطن کردیا گیا۔۲۰۱۱ء میں ’تیونسی انقلاب‘ کے بعد، وہ جلاوطنی ترک کرکے لندن سے واپس تیونس آئے، اور ان کی سیاسی جماعت نے آئین ساز اسمبلی کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی، جس کے نتیجے میں انھوں نے عبوری دور کے خدوخال متعین کرنے میں فعال حصہ لیا۔
بعدازاں انھوں نے دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ مفاہمت کی حکمت عملی اپنائی، جس کا نتیجہ مرحوم صدر باجی قائدالسبسی کے ساتھ اتحاد کی صورت میں سامنے آیا۔ یہ دور انقلاب کے بعد کے اَدوار میں سب سے زیادہ مستحکم دور شمار ہوتا ہے۔ الغنوشی، ’مسلم جمہوریت‘ کا تصور کو پیش کرنے والے اوّلین اسلامی مفکرین میں سے ہیں۔
راشدالغنوشی ۲۰۱۹ء سے تیونس کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے منصب پر فائز رہے، اور ۲۵جولائی ۲۰۲۱ء کو جس وقت صدر قیس سعید نے پارلیمنٹ کو معطل کیا، تو الغنوشی نے بطور اسپیکر اسمبلی صدر کے اس اقدام کی کھل کر مذمت کی اور اس صدارتی اقدام کو دستوری اختیار اور ۲۰۱۴ء کے آئین کے خلاف بغاوت قرار دیا۔
صدر قیس سعید نے ۲۵جولائی۲۰۲۱ء کو وزیراعظم ہشام مشیشی کی حکومت کو برطرف کر دیا، پارلیمنٹ اور اعلیٰ عدلیہ کو تحلیل کر دیا اور ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وسیع تر اختیارات کے ساتھ ملک کا کنٹرول خود سنبھال لیا۔ بعدازاں صدر قیس سعید نے تیونس میں ایک نیا آئین نافذ کیا، جس کے تحت مزید اختیارات سمیٹ لیے۔ ۲۰۲۴ء کے صدارتی انتخابات میں رائے دہندگان نے ملکی تاریخ کے کم ترین شرح سے ووٹ ڈالے تھے ، جس کی بنیاد پر خود کو دوبارہ صدر منتخب قرار دے دیا۔
’اسلام‘ ، ’جمہوریت‘ اور ’جدیدیت‘ ،معاصر اسلامی فکر کا مستقل مسئلہ رہا ہے۔ اس کے جوابات بھی مختلف اسلامی تحریکوں نے الگ الگ طریقے سے دیے ہیں۔ ان جوابات میں مفکرین اور محققین نے اسلامی تحریکوں کی حد بندی کی ہے۔ کچھ اسلامی مفکرین کہتے ہیں کہ ’اسلام اور جمہوریت میں توافق پیدا کیا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرے اسلامی مفکرین کا خیال ہے کہ جمہوریت تو وہی ہے، جس کا ذکر قرآن میں ’شوریٰ‘ کے نام سے آیا ہے‘۔ یہ حضرات احادیث نبویؐ اور بعض فقہی آراء سے استشہاد کرتے ہیں جس کی رُو سے ’شوریٰ ‘واجب ہے۔ انھی میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں، جو کہتے ہیں کہ جمہوریت اور شوریٰ ایک ہی چیز ہے۔ یہ لوگ دستورِ مدینہ سے استدلال کرتے ہیں کہ وہ انسانی تاریخ میں مشترک شہریت کا پہلا معاہدہ تھا کیونکہ اس میں انصاف، کثرتیت اور اقلیتوں کی حفاظت کی بات کی گئی تھی، نیز یہ کہا گیا تھا سب مسلمان ایک امت کا حصہ ہیں۔
اس کے برعکس اسلامی مفکرین کی ایک جماعت ایسی بھی ہے، جو کہتی ہے کہ ’جمہوریت اور اسلام ایک دوسرے کی ضد ہیں اور دونوں جمع نہیں ہو سکتے ہیں‘۔ یہ لوگ دو جماعتوں میں تقسیم ہو گئے ہیں: ایک روایت پسند ہے اور دوسری جہاد پر مبنی سرگرمیوں کی قائل۔ یہ دونوں قرآن اور سنت سے اپنے موقف کا استشہاد کرتے ہیں کہ ’حقِ حکومت‘ اللہ کا ہے، عوام کا نہیں ہے اور قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہے، پارلیمنٹ کو نہیں ہے۔ پہلے فریق کا کہنا ہے کہ ’جمہوریت‘ اسلام کے سیاسی طاقت اور حکومت کے تصور سے ٹکرا رہی ہے، جب کہ دوسرا فریق فقہی مباحث سے آگے بڑھ کر عقیدے کی بات کرتا ہے کہ جمہوریت کفر ہے بلکہ وہ اسے موجودہ زمانے کا ’طاغوت‘ کہتا ہے۔
یہ آراء اور تصورات ’قابلِ تبدیلی‘ اور ’نا قابلِ تبدیلی‘ اعتقادات پر مبنی ہیں، جو سوسائٹی کے بدلتے ہوئے سیاسی فکر و نظریات سے متاثر ہیں اور جو دنیا بھر میں جمہوریت کے پچھلی صدی کے آٹھویں عشرے سے چلن کا نتیجہ ہے۔ ان آراء کی وجہ سے عربی اور دوسری زبانوں میں بہت کچھ شائع ہوا ہے، جس کا موضوع ہے: فکری تجدید، جدیدیت، جمہوریت، لبرلزم اور سیاسی اسلام وغیرہ۔
یہ سلسلہ ’عرب بہار‘ کے بعد مزید تیز ہو گیا ہے، جس کے بعد عرب قومیں آزادی، عزّت، برابری، جمہوریت اور سیاسی زندگی میں خواتین کے کردار کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان مسائل پر لکھنے والوں میں عالم اسلام کے کچھ مشہور سیاسی رہنما اور مجتہد شامل ہیں۔ مثلاً سوڈان کے سیاسی و دینی مفکر اور قائد ڈاکٹر حسن عبداللہ الترابی (م: ۲۰۱۶ء) جنھوں نے السیاسۃ و الحکم: النظم السلطانیۃ بین الأصول و سنن الواقع (۲۰۰۳ء) اس وقت لکھی، جب وہ سوڈان کی حکومت کے ساتھ اختلاف کے باعث جیل میں بند تھے، حالانکہ خود اسی حکومت کو لانے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ اُن لکھنے والوں میں تیونس کی تحریک نہضہ کے قائد راشد الغنوشی [پ:۲۲جون ۱۹۴۱ء]بھی شامل ہیں، جو اپنے ملک میں سیاسی اختلاف کی وجہ سے ۲۰۲۳ء سے جیل میں قید ہیں۔ انھوں نے الحریات العامۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ کتاب لکھی، جس کی پہلی جلد ۱۹۹۳ء میں شائع ہوئی اور دوسری جلد ۲۰۱۲ء میں۔ انھوں نے الدیمقراطیۃ وحقوق الانسان فی الاسلام بھی لکھی، جو مرکز الجزیرۃ برائے تحقیق اور الدار العربیۃ سے ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی۔
اس کتاب میں امریکی پروفیسر نے راشد غنوشی کےمتعدد عربی مقالوں کا انگریزی ترجمہ کیا ہے، اور کتاب میں غنوشی کے ساتھ ایک طویل انٹرویو بھی شامل ہے، جس میں انھوں نے اپنے فکری اور سیاسی سفر اور اس میں بڑی تبدیلیوں پر بات کی ہے اور بتایا ہے کہ وہ کیسے ’اسلامی جمہوریت‘ سے ’مسلم جمہوریت‘ تک پہنچے۔ یہ ۲۸۴ صفحات پر مشتمل کتاب ہے۔ اس کے بارے میں ۱۸ مارچ کو پروفیسر اینڈریو مارچ نے شہر ’سلا ‘(مراکش) میں اسلام اور جمہوریت پر بات کرتے ہوئے ایک کانفرنس میں اظہار خیال کیا، جس میں ممتاز اہلِ قلم، سیاسی رہنمااور اہلِ فکر شریک تھے۔ اس موقعے پر غنوشی کے ایڈوائزر برائے امور خارجہ رضا ادریس بھی موجود تھے۔
پروفیسر مارچ نے کہا: کتاب لکھنے کی وجہ یہ ہے کہ میں حکومت اور آزادی کے متعلق اسلامی افکار سے دلچسپی رکھتا ہوں۔ شیخ غنوشی کی کتاب الحریات العامۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ (اسلامی حکومت میں عمومی آزادیاں) پڑھنے کے بعد ان سے ’استخلاف‘ (خلافت)کے بارے میں مزید بات کرنے کی خواہش ہوئی کیونکہ اسلامی سیاسی فکر میں یہ تصور ایک بنیادی مقام رکھتا ہے۔ میں سمجھنا چاہتا تھا کہ کس طرح تقلیدی ’خلافت‘ کا نظریہ عصری جمہوری تبدیلیوں سے متاثر ہوا ہے، بالعموم عرب اور اسلامی ممالک میں ’عرب بہار‘ کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے اور بالخصوص تیونس میں جہاں سے ۲۰۱۱ء میں ’عرب بہار‘ کی پہلی چنگاری پھوٹی تھی۔
دوسری اسلامی تحریکوں کے برعکس ،تحریک نہضہ نے اپنے سیکولر مخالفین کے لیے بہت نرمی کا رویہ اختیار کیا، تاکہ تیونس میں سیاسی استحکام پیدا ہوسکے۔ تحریک نہضہ اس سے بھی آگے تک گئی اور واضح طریقے سے الیکشن جیتنے کے با وجود، ایک ٹیکنوکریٹ حکومت کے حق میں دست بردار ہوگئی ۔ یہی نہیں بلکہ تیونس کے آئین بننے کے تین سال بعد مئی ۲۰۱۶ میں تحریک نہضہ نے کافی اندرونی بحث و مباحثہ کے بعد اپنی دسویں کانفرنس میں اعلان کیا کہ وہ عصرحاضر میں اسلامی احیا کے اپنے طریق کار سے آگے بڑھ کر اب اپنی سیاسی فکر کو ’مسلم جمہوریت‘ کا نام دیتی ہے۔
اسی کے ساتھ تحریک نہضہ نے مسلم ڈیموکریٹس کو دعوت دی کہ وہ یہ راستہ اپنانے کے لیے مکالمہ شروع کریں تاکہ اسلامی سوچ اور جدیدکاری میں کوئی ٹکرائو باقی نہ رہے۔ اس نئی سوچ کے بارے میں حالات پر نظر رکھنے والوں کا تجزیہ تھا کہ اس طرح تحریک نہضہ اپنے اس تاریخی اور نظریاتی راستے سے ہٹ گئی ہے، جس پر وہ ابتدا میں کار بند تھی۔
پروفیسر مارچ نے کہا کہ غنوشی کی گرفتاری اور ان کے ساتھ اب تک کا معاملہ تیونس میں ڈیموکریٹک تجربے کو پیچھے لے جانے والا قدم ہے۔ یہ صورت حال اس چیلنج کو واضح کرتی ہے، جو ’اسلامی جمہوریت‘ کو نہ صرف سیاسی تجربے کے طور پر بلکہ ایک فکر کے طور پر بھی درپیش ہے،جب کہ اسلامی جمہوریت اسلامی فریم ورک میں کثرتیت اور آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ پروفیسر مارچ نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ’اسلامی جمہوریت‘ کے بارے میں لکھا گیا ہے، لیکن ان کی کتاب انگریزی میں اس موضوع پر پہلی کتاب ہے، جس میں بنیادی اُمور اور تحریک نہضہ کو پیش کیا گیا ہے، جس نے اسلامی تحریکی سوچ سے تجاوز کرتے ہوئے ’مسلم جمہوریت‘ کے مفہوم کی وضاحت کی ہے۔ یہ مفہوم روایتی اسلامی سیاسی فکر سے آگے بڑھ کر ایک قدم ہے۔
یہ وہ سوال ہیں جن پر پروفیسر مارچ نے اس کتاب میں گفتگو کی ہے اور اس کے لیے انھوں نے ’مسلم جمہوریت‘ کی اصطلاح کی تشریح کی غرض سے راشد غنوشی کے ۱۰ مقالات کا ترجمہ کیا ہے اور ان سے تفصیلی گفتگو بھی کی ہے، جس سے اس نظریے کی وضاحت ہوتی ہے۔ اس گفتگو سے پچھلے چالیس برسوں کے درمیان غنوشی کے بحیثیت سیاسی لیڈر پر روشنی پڑتی ہے۔
راشد غنوشی نے اپنی سیاسی زندگی کی ابتدا ایک سیکولر اور قوم پرست لیڈر کے طور پر کی تھی اور دھیرے دھیرے نہضہ پارٹی کے ذریعے اسلامی تحریک میں شامل ہوئے تھے۔ اس دوران ان کو پریشانیوں، گرفتاریوں اور تعذیب کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلی صدی کے نویں عشرے میں ان کی پھانسی کا دو بار حکم صادر ہوا، جس کی وجہ سے وہ ۱۹۸۹ء سے لے کر ۲۰۱۱ء تک جلاوطن کے طور پر لندن میں مقیم رہے ،کیونکہ ان کے خیالات اور نظریات ان کے مخالفین کو نا پسند تھے۔ خصوصاً اس لیے کہ انھوں نے ایک نیا فکری ماڈل پیش کیا تھا، جس سے سیاسی اور اجتماعی تبدیلی کے خواہش مند مسلم ممالک کو ایک راستہ نظر آتا ہے۔
اس کے برعکس غنوشی کے سیاسی مخالفین، یقین رکھتے ہیں جن میں اسلامی حرکیات سے تعلق رکھنے والے بعض پُرجوش حضرات اور سیکولر دونوں شامل ہیں کہ اسلامی تحریکی فکر اور جمہوریت کو ایک دوسرے سے قریب لانا ممکن نہیں ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جمہوریت کا اسلامی حرکی پہلو یا اسلامی تحریکوں کا جمہوریت کے ذریعے اقتدار میں آناایک وقتی حربہ ہے تاکہ یہ لوگ حکومت پر قبضہ کرسکیں اور اس کے بعد یہ لوگ جمہوریت اور جمہوری قدروں کے خلاف بغاوت کر کے تاریخی اسلامی خلافت جیسی حکومت قائم کریں۔ مگر ان لوگوں کے برعکس تحریک نہضہ نے جمہوریت، سماجی امن و سلامتی اور وطن کی خاطر، حکومت میں سیاسی شرکت سے کنارہ کشی کا راستہ اپناکر دکھایا تھا۔
پروفیسر مارچ کے خیال میں غنوشی صرف ایک سیاسی لیڈر نہیں ہیں بلکہ وہ ایک مفکر اور مجدد ہیں، جنھوں نےاسلامی سیاسی روایت اور جدید جمہوریت کے درمیان قربت تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس گفتگو سے سیاسی کثرتیت، حقوق، آزادیاں، بالخصوص عقیدے اور ضمیر کی آزادی ، عوامی حکومت اور انصاف کے بارے میں غنوشی کے افکار واضح ہوتے ہیں۔
غنوشی کے خیال میں ’’آزادی صرف ایک لبرل قدر (value ) نہیں ہے بلکہ وہ کسی اخلاقی اور دینی عمل کے لیے ایک بنیادی شرط ہے اور دینی فضیلت کو حقیقی آزادی کے بغیر حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے‘‘۔ اسی کے ساتھ غنوشی سیاسی کثرتیت کاگہرے طور پر اعتراف کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں سیاسی کثرتیت کوئی جادو کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سیاست کی حقیقت کوسمجھنے کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے اشارہ کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دستورِ مدینہ بنایا اور نافذ کیا، جو اسلامی حکومت کی تاریخ میں پہلا سول دستور تھا۔ غنوشی کے خیال میں دستورِ مدینہ کثیرقومی ریاست کا سیاسی و انتظامی ماڈل تھا، جس میں سوسائٹی کے مختلف عناصر شہری انتظامی مصلحتوں کی بنیاد پر حکومت بناتے ہیں، نہ کہ دین یا عقیدے کی بنیاد پر۔
پروفیسر مارچ کا کہنا ہے: برسوں کے سیاسی سفر کے دوران غنوشی،ایک خیالی، مثالی مرحلے سے نکل کر سیاسی واقعیت کے مرحلے میں داخل ہوئے اور ان کی سوچ زیادہ واضح ہو گئی کیونکہ وہ تجربے سے اس نتیجے پر پہنچے کہ سیاست میں مثالیت نہیں چلتی بلکہ مصلحتوں کے درمیان موافقت پیدا کرنی ہوتی ہے اور مسائل کو کم کیا جاتا ہے۔ اس سفر کے دوران غنوشی، اسلامی تحریک اور سیکولر لوگوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں اس مرحلے تک پہنچے جس میں سیاسی کش مکش کو دینی نقطۂ نظر سے نہیں دیکھا جاتاہے، جس میں لوگوں کے درمیان دوست اور دشمن، دین دار اور کافر سمجھ کر تفریق نہیں کی جاتی۔ کیونکہ ’مسلم ڈیموکریسی‘ کے دائرے میں جمہوریت کے مخالف کو ’دشمن ‘سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ شخص اسلام پسند ہو یا سیکولر، اور ’دوست‘ اس کو سمجھا جاتا ہے جو جمہوریت پر یقین رکھتا ہے، چاہے وہ نظریاتی طور پر کسی بھی بات پر یقین رکھتا ہو ۔دوستوں میں وہ شامل نہیں ہیں جو ڈکٹیٹرشپ یا سیاسی استبداد پر یقین رکھتے ہوں یا غیر ملکی طاقتوں کے بل پر کھڑے ہوں۔
پروفیسر مارچ کے خیال میں: ’مسلم ڈیموکریسی‘ کی کامیابی کی وجہ یہ ہے کہ وہ استبداد کے خلاف ایک عملی متبادل پیش کرتی ہے جو آزادی، کثرتیت اور انصاف پر قائم ہے۔ اسلامی حکومت کا ایک مثالی ماڈل پیش کرنے کے بجائے ’مسلم ڈیموکریسی ‘ ایک ایسا نظام پیدا کرنا چاہتی ہے، جس میں مختلف نظریات کا آپس میں نبھا ہوسکے۔ پروفیسر مارچ نے لکھا ہے کہ میں نے راشد غنوشی سے زیادہ اس بات پر عمل کرنے والا کسی کو نہیں پایا۔ وہ اپنے ان نظریات کی وجہ سے اب تک دو رمضان جیل میں گزار چکے ہیں۔ ان کا جیل میں رہنا ’مسلم ڈیموکریسی‘ کے لیے ایک حقیقی امتحان ہے اور وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ عالم اسلام میں جمہوریت کی جڑیں پھیلانا کتنا مشکل ہے۔
پروفیسر مارچ نے کہا کہ جمہوریت محض ایک نظام کا نام نہیں بلکہ وہ ایک کلچر ہے جس پر لوگوں کا یقین اور اعتماد ہونا ضروری ہے۔ اگر جمہوریت ، استبداد اور خانہ جنگی میں سے کسی ایک کو چننا ہو، تو ایسی حالت میں ’مسلم ڈیموکریسی‘ ہی بہترین حل ہے، جو مسلم معاشروں میں استحکام اور کثرتیت کی ضامن ہوگی۔ (الجزیرہ، ۲۷مارچ ۲۰۲۵ء)
سوال : [آپ کی کتاب] خطبات میں عبادات کے مقاصد کے تذکرے پر یہ اعتراض اُٹھایا گیا ہے کہ آپ نے صرف ان کے دُنیوی فوائد کا تذکرہ کیا ہے۔ عبادات کے اُخروی فوائد کا یا تو ذکر ہی نہیں کیا، یا اگر کیا بھی ہے تو ثانوی درجے کی حیثیت سے۔ اس کے جواب میں ہم اپنے علم کے مطابق وضاحت کی کوشش کرتے رہے ہیں مگر معترضین ہمارے جواب سے مطمئن نہیں ہوتے۔ اس لیے خود آپ کی توضیح زیادہ مفید ہوگی بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کتابوں کی عبارتوں میں ضروری ترمیم کر دی جائے۔ آخر میں یہ خوش خبری بھی عرضِ خدمت ہے کہ اندھی مخالفت کا یہ طوفان جتنا جتنا زور پکڑ رہا ہے، ہماری دینی دعوت بھی اسی کے ساتھ روزبروز بڑھتی جارہی ہے۔ آپ ہمارے لیے خدا تعالیٰ سے دُعا فرمایئے۔
جواب : خطبات میں عبادات کے دُنیوی نہیں بلکہ اخلاقی فوائد کو میں نے زیادہ نمایاں کرکے پیش کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ میں اُخروی فوائد کا قائل نہیں ہوں یا انھیں کم اہمیت دیتا ہوں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے لوگوں کی نگاہوں سے عبادات کے اخلاقی، اجتماعی اور تمدنی فوائد اوجھل ہوگئے ہیں، اور ان کے اوجھل ہوجانے کی وجہ سے لوگ ان عبادات سے غفلت برتنے لگے ہیں۔ اس لیے میں نے ان پہلوئوں کو زیادہ نمایاں کیا ہے۔ نمایاں وہی چیز کی جاتی ہے، جو مخفی ہو یا جس سے عموماً لوگ غافل ہوں،نہ کہ وہ چیز جس سے پہلے ہی لوگ واقف ہوں۔
آخر میں دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کی مدد فرمائے اور فتنہ پردازوں سے آپ کی حفاظت فرمائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسے موقع پر دُعا فرمایا کرتے تھے:
اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ (سنن ابی داؤد، کتاب تفریع، حدیث: ۱۵۳۷) [اے اللہ! ہم تجھے اُن (دشمنوں) کے مقابلے میں سامنے رکھتے ہیں اور اُن کے شرور سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔]
یہی دُعا مَیں بھی مانگتا ہوں۔ جو لوگ محض نفسانیت اور تعصب اور حسد کی بنا پر ہمارے خلاف طرح طرح کے فتنے اُٹھا رہے ہیں اور محض اپنے ذاتی کینے کی وجہ سے اُس خیر کا راستہ روکنا چاہتے ہیں جس کے لیے ہم کوشش کررہے ہیں، ان کے شر سے ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں ، اور خدا ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان سے نمٹ لے۔
سوال : نماز میں سورئہ فاتحہ ، سورئہ اخلاص یا کوئی اور سورت جو ہم پڑھتے ہیں، ان میں صرف اللہ ہی کی حمدوثنا اور عظمت و بزرگی کا بیان ہے۔ اسی طرح رکوع و سجود میں اسی کی تسبیح و تہلیل بیان ہوتی ہے۔ لیکن جیسے ہی ہم تشہد کے لیے بیٹھتے ہیں تو حضور سرورِ کائنات حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر شروع ہوجاتا ہے، جیساکہ تشہد اور دونوں درود شریف وغیرہ۔ کیا اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ کی عبادت میں شریک نہیں ہوجاتے؟
جواب : تشہد کی پوری عبارت پر آپ غور کریں۔ پہلے آپ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنا سلام پیش کرتے ہیں، پھر رسولؐ کے لیے رحمت و برکت کی دُعا کرتے ہیں۔ پھر اپنے حق میں اور تمام نیک بندوں کے حق میں سلامتی کی دُعا کرتے ہیں۔ پھر اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمدؐ کی رسالت کی شہادت دیتے ہیں۔ پھر رسولؐ اللہ پر درود بھیجتے ہیں، جو دراصل اللہ ہی سے اس امر کی دُعا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی نوازشات کی بارش فرمائے۔ پھر اللہ سے اپنے حق میں اور اپنے والدین کے حق میں بخشش کی دُعا کرتے ہیں۔ ان سارے مضامین کو آپ خود دیکھیں، ان میں کیا چیز ہے جسے آپ ’شرک‘ کہہ سکتے ہیں؟ یہ توساری دُعائیں اللہ تعالیٰ ہی سے ہیں۔ کیا اللہ سے دُعا کرنا ’شرک‘ ہے؟ اور کیا اللہ کے رسولؐ کو رسول ماننا بھی ’شرک‘ ہے؟ (ترجمان القرآن، فروری۱۹۶۱ء(
خلافت ِ راشدہ حقیقت میں محض ایک سیاسی حکومت نہ تھی، بلکہ نبوت کی مکمل نیابت تھی۔ یعنی اس کا کام صرف اتنا ہی نہ تھا کہ ملک کا نظم و نسق چلائے، امن قائم کرے اور سرحدوں کی حفاظت کرتی رہے، بلکہ وہ مسلمانوں کی اجتماعی زندگی میں معلّم، مربی اور مرشد کے وہ تمام فرائض انجام دیتی تھی، جونبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حیاتِ طیبہ میں انجام دیا کرتے تھے، اور اس کی یہ ذمہ داری تھی کہ دارالاسلام میں دینِ حق کے پورے نظام کو اس کی اصلی شکل و روح کے ساتھ چلائے ، اور دُنیا میں مسلمانوں کی پو ری اجتماعی طاقت، اللہ کا کلمہ بلند کرنے کی خدمت پر لگادے۔
اس بناپر یہ کہنا زیادہ صحیح ہوگا کہ وہ صرف ’خلافت ِ راشدہ‘ ہی نہ تھی بلکہ ’خلافت ِ مرشدہ‘ بھی تھی۔ ’خلافت علیٰ منہاج النبوۃ‘ کے الفاظ اس کی انھی دونوں خصوصیات کو ظاہر کرتے ہیں، اور دین کی سمجھ رکھنے والا کوئی شخص بھی اس بات سے ناواقف نہیں ہوسکتا کہ اسلام میں اصل مطلوب اِسی نوعیت کی ریاست ہے نہ کہ محض ایک سیاسی حکومت۔
(’خلافت راشدہ سے ملوکیت تک‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جون ۱۹۶۵ء، ص ۳۳)