ملک عزیز بڑی اُمنگوں اور کاوشوں سے وجود میں آیا۔ بڑی محنتوں اور بڑی قربانیوں سے آزادی کی منزل اور الگ وطن نصیب ہوا۔ خوش قسمتی سے ہمیں اُس نسل سے براہِ راست حالِ دل سننے اور پڑھنے کاموقع بھی ملا، جس نسل نے آزادی کا معرکہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جس کے افراد خون اور آگ کا دریا پار کر کے اپنی منزلِ پاکستان پر پہنچے تھے۔ بے بہا جذبوں سے لبریز اور ٹوٹے ہوئے خوابوں سے چُور، ان گواہوں میں کچھ کو دل برداشتہ پایا، کچھ کو حالات کا دھارا موڑنے کے لیے پُرعزم دیکھا۔ کچھ ایسے بھی تھے اور شاید ان کی تعداد زیادہ تھی، جنھوں نے سب کچھ بھلا کر آسائش و مال کی دوڑ کو اپنا مقصد ِ زندگی بنالیا۔ تحریک آزادی کے گواہوں پر مشتمل یہ تینوں طبقے اسی معاشرے میں متحرک اور فعال کردار ادا کرکے، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں ربّ العالمین کی عدالت میں پہنچ گئے اور ہم انھیں سننے، دیکھنے والے بھی منزلِ وداع کے قریب آن لگے ہیں۔
بنیادی سوال اپنی جگہ ہے کہ وطن عزیز کا کیا بنا؟ کیسے بنا؟ اور کون کس درجے میں ذمہ دار ٹھیرا؟
امرواقعہ ہے کہ بڑی جاں گسل جدوجہد کے بعد ملک کو آزادی نصیب ہوئی، اور پہلی نسل کے ایک حصے نے بے پناہ محنت کرکے ٹوٹتے خوابوں کو سنبھالا، بکھری اینٹوں کو اکٹھا کیا، قربانیاں دے کر دوسروں کو جینے کا درس بھی دیا اور عمل کرکے قوم کو سنبھالنے کا فریضہ بھی انجام دیا۔ اس چھوٹی سی اقلیت کے احسانات کا پھل یہ ہے کہ وہ پاکستان جسے تحریک ِ پاکستان کے دوران دیوانے کا خواب کہا جاتا تھا، خواب سے حقیقت میں ڈھلتا ڈھلتا اقوامِ عالم کے نقشے پر ایک باوقار ملک کی صورت میں اُبھرا۔
محنت، دانش اور عزم سے سرشار اس اقلیت کے کارنامے برگ و بار لا رہے تھے کہ ان کے پیچھے تعاقب کرتے ٹڈی دَل فصل کو چاٹنے لگے۔ قربانیوں کے ہیکل اور ابتدائی تعمیری کاوشوں کی قوت نے گاہے ان حشرات کا منہ موڑا، اور ان کی تباہ کن رفتار کو روکا، مگر پھر بھی کئی بار یہ غالب آگئے۔ آج تک قوم، ملک اور سلطنت پاکستان اسی داخلی کش مکش سے گزر رہے ہیں، جب کہ بیرونی قوتیں مثل گدھ (Vulture) کوئی نہ کوئی حصہ اُڑانے کے لیے تاک لگائے بیٹھی ہیں۔ کچھ کامیاب رہی ہیں اور کچھ منتظر ہیں۔
ہمارے مشاہدے و تجزیے کے مطابق اس المیے کو جنم دینے اور مسلسل تقویت فراہم کرنے والوں میں سیاسی، انتظامی، سول، عسکری، عدالتی، صحافتی اور تعلیمی قیادتوں نے غیرذمہ داری کا راستہ اختیار ہی نہیں کیا بلکہ غیرذمہ داری کی بیماری کو چھوت کی طرح پورے معاشرے میں پھیلا دیا اور چھوت کی طرح پھلنے والی یہ بیماری اُس جاں باز اقلیت کی کاوشوں کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔
ملک ِ عزیز بنا تو واضح چیلنج کے طور پر معاشی بحران سے بچنا ممکن دکھائی نہ دیتا تھا، لیکن قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور لیاقت علی خانؒ کی قیادت میں بننے والی پہلی حکومت نے بے پناہ محنت سے ملکی اقتصادی گاڑی چلانے کے لیے حیران کن کرشمے دکھا کر ثابت کیا کہ وہ اخلاص اور وژن کی دولت سے سرشار ہیں۔ تاہم، اسی قیادت کے دائیں اور بائیں، آگے اور پیچھے، خود انھی سے تعلق رکھنے والے مفاد پرست افراد اور گروہوں نے وہ دھماچوکڑی مچائی کہ تباہی کے آثار اور تھور کے زہریلے پودے اُگنے شروع ہوگئے۔
قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے پہلی دستور ساز اسمبلی میں ۱۱؍اگست ۱۹۴۷ء کو تقریر میں بڑے دردِ دل سے اور واضح الفاظ میں چند بنیادی اُمور پر زور دیتے ہوئے فرمایا:
دو چیزیں میرے ذہن میں ہیں، وہ آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں: پہلی اور سب سے اہم بات جو زور دے کر کہوں گا،وہ یہ ہے کہ آپ خودمختار قانون ساز ادارہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ کس طرح فیصلے کرتے ہیں۔ ایک حکومت کا پہلافریضہ یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے، تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور اُن کے مذہبی عقائد کو مکمل طور پر تحفظ دے سکے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اس وقت ہندستان جس بڑی لعنت میں مبتلا ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دُنیا کے دوسرے ممالک اس سے پاک ہیں، لیکن میں یہ کہوں گا کہ ہماری حالت بہت ہی خراب ہے، وہ رشوت ستانی اور بدعنوانی ہے۔ دراصل یہ ایک زہر ہے، اور ہمیں نہایت سختی سے اس کا قلع قمع کر دینا چاہیے۔
چور بازاری دوسری لعنت ہے۔مجھے علم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور سزا بھی پاتے ہیں۔ آپ کو اس لعنت کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ چور بازاری معاشرے کے خلاف ایک بہت بڑاجرم ہے۔ جب کوئی شہری چور بازاری کرتا ہے تو میرے خیال میں وہ بڑے سے بڑے جرم سے بھی زیادہ گھنائونے جرم کا ارتکاب کرتاہے۔ یہ چور بازاری کرنے والے افراد باخبر، ذہین اور عام طور پر ذمہ دار لوگ ہوتے ہیں، اور جب یہ چور بازاری کرتے ہیں تو میرے خیال میں انھیں بہت کڑی سزا ملنی چاہیے۔ اس بُرائی کو سختی سے کچل دینا ہوگا۔ یہ واضح کردوں کہ میں نہ احباب پروری اور اقربا پروری کو برداشت کروں گا، اور نہ کسی اثرورسوخ کو قبول کروں گا، جو مجھ پر بالواسطہ یا بلاواسطہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، خواہ یہ اعلیٰ سطح پر ہو یا ادنیٰ پر، ہرگز ہرگز اسے گوارا نہیں کروں گا۔
اگر ہم مملکت پاکستان کو خوش و خرم اور خوش حال دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود پر مرکوز کردینی چاہیے، بالخصوص عوام الناس اور غریبوں کی جانب۔ اگر آپ باہمی تعاون کے ساتھ کام کریں گے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چُومے گی۔
اسی خطاب میں آگے چل کر قائداعظمؒ نے ملک میں بڑے پیمانے پر پھیلے ہندو مسلم خونیں فسادات کے ہولناک منظرکو پیش نظر رکھتے ہوئے، یہ فرمایا:
اب اس مملکتِ پاکستان میں آپ آزاد ہیں۔ آپ مندروں میں جائیں، اپنی مساجد میں جائیں یا کسی اور عبادت گاہ میں۔ آپ کا کسی مذہب ، ذات پات یا عقیدے سے تعلق ہو، کاروبارِ مملکت کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔
یہ خطبہ پاکستان کے قیام سے تین روز قبل دیا گیا ، اور اپنے پیغام و تصور کے اعتبار سے یہ ایک بہترین خطبہ تھا۔ لیکن ایک آنکھ سے دیکھنے والی ’دانش‘ نے اس کے ایک حصے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے اسے من مانے معانی پہنانے کا کاروبار شروع کر دیا، اور قائد ِ محترم کی ۱۱؍اگست کی اس تقریر کے مجموعی پیغام کو نظرانداز کرکے اور اس کے آخری حصے کو سیاق وسباق سے کاٹ کر من مانا مطلب اخذ کرکے پیش کرنے کا کاروبار مسلسل چلایا جارہا ہے۔
قائد نے ۱۱؍اگست کی اس تقریر میں کرپشن، بدعنوانی، امن و امان، چور بازاری اور اقربا پروری کے ناسوروں پر جس شدت سے نشتر چلایا، وہ اس مخصوص ’دانش‘ کو بالکل یاد نہ رہا یا اچھا نہیں لگا۔ حالانکہ اسی چیز نے ملک کے سیاسی،سماجی، معاشی اور آخرکار جغرافیائی منظرنامے کو بدنُما اور داغ دار بناکر رکھ دیا ہے۔ قائد نے قیامِ وطن سے پہلے ہی انگلی رکھ کر اُن امراض کی نشاندہی کی اور انھیں مٹانے کے لیے سخت ایکشن اور کچل دینے کا پیغام دیا۔ لیکن حیران کن حد تک ہماری سیاسی، فکری، عسکری، سول، عدالتی، انتظامی اور صحافتی قیادت کو ان میں سے کوئی بات بھی یاد نہ رہی، اور کبھی کسی کو قائد کے یہ الفاظ دُہراتے نہ دیکھا گیا اور نہ سنا گیا۔
البتہ اس خطبے کے آخر میں ’مسلم، ہندو رواداری‘ پر جو فرمایا، اس کے بارے میں یہ مقتدر طبقے بلائیں لیتے اور نہال ہوتے ضرور نظر آتے ہیں۔ جو غنیمت ہے کہ چلیے کسی حوالے سے قائد کے لیے کچھ توجہ اور کچھ تحسین کی گنجائش پیدا ہوئی۔
قائد محترم کی اسی ۱۱؍اگست کی تقریر میں اسمبلیوں کے کردار اور ذمہ داریوں کے بارے میںدی گئی ہدایات کی نسبت سے، ہمارے مخصوص دانش وَر طبقے میں مکمل خاموشی اور تغافل پایا جاتا ہے۔ آج ان اسمبلیوں کی جو حالت ِ زار ہے، اُن کے بارے میں سقراط کی معاصر یونانی اسمبلیوں جیسی کیفیت ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں، جو بقول سقراط: عوام کے مفاد میں سوچنے کے بجائے، ارکانِ اسمبلی کے مفادات کی نگہبان، اور ایسی ایسی تدابیر سوچنے کے اڈے ہیں کہ کس طرح اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ محفوظ بنائیں۔
ان اسمبلیوں کو قائد کے وہ جملے اپنی دیوار پر کندہ کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، جس میں اُنھوں نے بدعنوانی کے ان محافظوں کی سرزنش کی تھی۔ اَدھورے پن کا یہی تضاد ہماری قومی و سماجی زندگی کا گہرا ناسور ہے، جو رِستے رِستے سرطان بن چکا ہے۔
اسی تسلسل میں یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ ہمارے ہاں پائے جانے والے مخصوص سیکولر دانش وروں کو پاکستان کے بانیان پر مشتمل اسی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’قرارداد مقاصد‘ بھی سخت ناپسند ہے، جو اپنی جگہ جمہوریت، انصاف، رواداری اور تحفظ کی ضامن تاریخی دستاویز ہے۔ اس قراردادِ مقاصد کی بنیاد پر نہ تو کسی ظالم، غاصب اور بدعنوان فرد یا طبقے کو تحفظ ملا اور نہ اس قرارداد نے انھیں تحفظ دینے کا جھنڈا اُٹھایا۔ اس کے برعکس ان ’کرم فرمائوں‘ کو ۱۱؍اگست کو قائد کا وہ ہوشیار باش پیغام نظر نہیں آیا جس میں انھوں نے ’کرپشن‘ اور ’بدعنوانی‘ پر خبردار کیا تھا۔
آج پاکستان کے سارے مسائل کی جڑ یہی بدعنوانی ہے۔ بدعنوانی ایک کثیرالجہتی شیطانی وجود کا نام ہے۔ بدعنوانی کے جسم سے: مالی بدعنوانی، میرٹ تباہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی ذمہ داری ادا نہ کرنے کی بدعنوانی، اپنی منصبی ذمہ داری کو محنت و دیانت سے ادا کرنے کے بجائے دوسری ذمہ داریوں میں ٹانگ اُڑانے کی بدعنوانی، حق کی گواہی نہ دینے کی بدعنوانی، سچائی پر قائم نہ رہنے کی بدعنوانی اور مالی و مادی خوف میں مبتلاہونے کی بدعنوانی شامل ہے۔
ذرا چاروں طرف نظر دوڑا کر دیکھیے کہ قائد کے اس فرمان کی دھجیاں کون کون اور کس کس حیلے سے اُڑا رہا ہے؟ شاید ہی کوئی چہرہ اس میزان پہ سرخرو نظر آئے۔ اگر رویہ یہی ہے اور یقینا ایسا ہی ہے، تو پھر ’یومِ آزادی‘ کو بطور ’یومِ تجدید ِ عہدو احتساب‘ منانا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ کہ پاکستان کی ’نظریہ ساز‘ سیکولر اقلیت کے نزدیک قائداعظمؒ کی ذات، کلام، فکر میں کوئی اور بات قابلِ ذکر نہیں۔ ظاہر ہے کہ قائداعظمؒ ۱۱؍اگست سے پہلے بھی زندہ، پوری تحریکِ آزادی چلا رہے تھے اور اس کے بعد بھی ایک برس زندہ رہے۔ انھوں نے تحریکِ پاکستان کے دوران بہت کچھ کہا اور قیامِ پاکستان کے بعد بھی فکری راہ نمائی دی۔ ایک سوچار مرتبہ ’اسلامی شریعت‘ سے وابستگی کو بطورِ دلیل اور بطورِ عہد دُہرایا۔ ان کی وہ تمام تقاریر ہر خاص و عام کی دسترس میں ہیں مگر مجال ہے کہ ہماری یہ ’فکری مقتدرہ‘ ان باتوں کو کچھ وزن دے۔
قائد نے مذکورہ تقریر قیامِ پاکستان سے تین روز پہلے کی تھی اور اسی قائد کی آخری تقریر یکم جولائی ۱۹۴۸ء کو ہوئی، جس میں انھوں نے کراچی میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:
معاشرتی اور معاشی زندگی کے اسلامی تصورات سے بنکاری کے نظام کو ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں آپ جو کام کریں گے، میں دلچسپی سے اس کا انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی معاشی نظام نے تقریباً ناقابلِ حل مسائل پیدا کر دیئے ہیں، اور شاید کوئی کرشمہ ہی دُنیا کو اس بربادی سے بچاسکے، جس کا اسے اس وقت سامنا ہے۔ یہ نظام افراد کے اور قوموں کے درمیان ناچاقی دُور کرنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ مغربی دُنیا اس وقت میکانکی اور صنعتی اہلیت کے باوصف جس بدترین ابتری کا شکار ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔مغربی اقدار، نظریئے اور طریقے، خوش و خرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کرسکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا، اور دُنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہوگا، جس کی اساس و بنیاد انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے سچّے اسلامی تصور پر کھڑی ہو۔ اس طرح ہم مسلمان کی حیثیت سے اپنا مقصد پورا کرسکیں گے، اور بنی نوع انسان تک امن کا پیغام پہنچا سکیں گے۔ صرف یہی راستہ انسانیت کو فلاح و بہبود اور مسرت و شادمانی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔
یہ تقریر درحقیقت قوم کے نام قائد کی آخری وصیت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد دل پر ہاتھ رکھ کر گواہی دیجیے کہ قائد کا ایک ایک لفظ کیا پیغام دے رہا ہے؟ کیا یہ تقریر کوئی انتخابی خطبہ ہے؟ یا پھر یہ تقریر ایک معاشی لائحہ عمل پر چلنے کی پکار، دعوت اور حکم ہے؟ اور یہ بھی گواہی دیجیے کہ کیا اس تقریر کا منشا پاکستانی معیشت کو سود اور معاشی استحصال سے پاک اسلامی اصولوں پر استوار کرنے کا پیغام نہیں؟
درحقیقت قائد کی ۱۱؍اگست کی تقریراسلامی ریاست کے ذمہ دار کی حیثیت سے بیان کی گئی ریاستی پالیسی تھی، جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق تھی اور اس کا آخری حصہ اسلامی ریاست کے غیرمسلم شہریوں کے تحفظ اور مذہبی اور سماجی حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات ہی کا اعادہ ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضع کردہ ’میثاقِ مدینہ‘ میں موجود ہیں۔
۱۱؍اگست کو دستور ساز اسمبلی میں قائد کی صدارتی تقریر تھی، جب کہ تین روز بعد ۱۴؍اگست کودستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائدمحترم نے اپنے موقف کی مزید وضاحت فرما دی، جس میں وائسرائے ہند ماؤنٹ بیٹن نے قائد کو مغل بادشاہ اکبر کی مثال دے کر ’رواداری کا درس‘ دینے کی کوشش کی۔
قائداعظم نے دستور ساز اسمبلی کے اس باقاعدہ افتتاحی اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن کی تقریرکا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
شہنشاہ اکبر نے تمام غیرمسلموں کے ساتھ رواداری اور حُسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ اس کی ابتدا آج سے تیرہ سو سال پہلے ہمارے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کردی تھی۔ آپؐ نے زبان سے ہی نہیں، بلکہ عمل سے یہودیوں اور مسیحیوں پرفتح پانے کے بعد نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کے ساتھ رواداری برتی اور ان کے عقائد کا احترام کیا۔ مسلمان جہاں بھی حکمران رہے، ایسے ہی رہے۔ ان کی تاریخ دیکھی جائے تو وہ ایسی انسانیت نواز اور عظیم المرتبت اصولوں کی مثالوں سے بھری پڑی ہے، جن کی ہم سب کو تقلید کرنا چاہیے۔ (بحوالہ اسٹار آف انڈیا، ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ء، قائداعظم: تقریر و بیانات، چہارم، مرتبہ: اقبال احمد صدیقی، بزمِ اقبال، لاہور، ۱۹۹۸ء، ص ۳۶۳، ۳۶۴)
قائداعظم نے اس خطاب میں اپنا موقف بالکل واضح فرما دیاکہ یہ بات مَیں کوئی آج نہیں کہہ رہا، اور نہ وائسرائے کی مثال کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، بلکہ یہ بات میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی براہِ راست سنت سے اخذ کرکے کہہ رہا ہوں۔ قائد محترم کا یہ خطاب نوآموز سیکولر ’دانش‘ کی طرف سے ۱۱؍اگست کی تقریر کے اس حصے کو بنیاد بناکر پھیلائے جانے والے ابہام کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔
قائدمحترم نے زندگی بھر فتوے کی زبان استعمال نہیں کی۔ وہ مشورے، راہ نمائی اور دعوتِ فکر دیتے تھے، ان سب چیزوں کا مرکز اپنی ذات کے بجائے ہمیشہ اسلام، قرآن، سیرتِ پاکؐ، اسلامی تہذیب، اسلامی شریعت اور قانون کو ہی قرار دیتے تھے۔
بلاشبہ اسلام اور اسلامی شریعت کی تعبیر و تشریح کے لیے، شریعت کے مآخذ قرآن و سنت ہی ہمارے عمل کی بنیاد ہوں گے۔ علّامہ محمد اقبال ؒ ہوں یا قائداعظم محمد علی جناح ؒ، دونوں میں سے کسی نے اپنے آپ کو کبھی دین و شریعت سے بالاتر نہیں قرار دیا۔ ہمیں بھی یہی راستہ اختیار کرتے ہوئے اسلام اور تعمیرِ پاکستان کی منزل کے حصول کے لیے انھی مآخذ کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔(س م خ(
اسلام اپنی صداقت پر ایمان لانے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کرتا، بلکہ دلائل و براہین کی روشنی میں ہدایت کی راہ کو ضلالت کی راہ سے ممتاز کر کے دکھا دینے کے بعد، ہرشخص کو اختیار دیتا ہے کہ چاہے غلط راستے پر چل کر نامرادی کے گڑھے میں جاگرے، اور چاہے سیدھے راستے پر لگ کر حقیقی اور دائمی فلاح و کامرانی سے بہرہ اندوز ہو۔ لیکن… ہم یہ بتادینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کو تلوار سے ایک گونہ تعلق ضرور ہے۔ اِس میں شک نہیں کہ جہاں تک تبلیغِ دینِ الٰہی کی حد ہے ، اس میں تلوار کا کوئی کام نہیں ہے۔ لیکن اس تبلیغ کے ساتھ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جن کے تعاون سے دنیا میں اسلام کی اشاعت ہوئی ہے۔
عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ جب انسان بے قیدی کی زندگی بسر کرتا ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی میں کسی اخلاقی ضابطے کا پابند نہیں ہوتا، تو اسے اپنی اِس پُرالم، مگر بظاہر پُرلطف زندگی میں ایک مزا آنے لگتا ہے، اور اس مزے کو چھوڑنے کے لیے وہ برضاورغبت آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔ وعظ و نصیحت اور دلیل و بُرہان کی قوت سے اس کو اخلاقی حدود کی پابندی، حلال و حرام کی تمیز، اور نیک و بد کے امتیاز کی خواہ کتنی ہی تلقین کی جائے، وہ بہرحال سیدھا ہونے پر راضی نہیں ہوتا۔
اوّل تو اس کی عقل و وجدان پر مسلسل بدکاریاں کرتے رہنے کے باعث ایسا پردہ پڑجاتاہے کہ اس قسم کی اخلاقی تعلیم کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا، اور اگر اس کے ضمیر میں کچھ زندگی باقی ہوتی بھی ہے تو وہ اس کے نفس پر اتنی حاوی نہیں ہوتی کہ اس کے اثر سے وہ حق کو محض اس بنا پر کہ وہ حق ہے، بطَوع و رغبت قبول کرلے، اور ان لذتوں سے دست بردار ہوجائے جو بے قیدی کی زندگی میں اسے حاصل ہوتی ہیں۔
بخلاف اس کے جب کسی اخلاقی تعلیم کی پشت پر وعظ و تذکیر کے ساتھ سیاست و تعزیر بھی ہوتی ہے اور بد کو بدکرکے دکھا دینے کے ساتھ بدی کو روک دینے والی قوت سے بھی کام لیا جاتا ہے، تو رفتہ رفتہ طبیعت میں نیک بننے کی صلاحیت پیدا ہونے لگتی ہے۔ حدودکی پابندی اور بُرے بھلے کی تمیز آہستہ آہستہ ترقی کرتی ہے ، اور آخرکار وہی انسان اس نیکی کی تعلیم کو دل میں جگہ دینے لگتا ہے جو بے قیدی کی زندگی میں اس کو سننے کا بھی روادار نہ تھا۔
تھوڑی دیر کے لیے کسی ایسی سوسائٹی کا تصور کیجیے، جس میں کوئی قانون نافذالعمل نہیں ہے، اس کا ہرفرد اخلاقی حدود کی پابندی سے مبرا ہے، جس پر بس چلتا ہے اسے لوٹ لیتا ہے، جس سے عداوت ہوتی ہے اسے مار ڈالتا ہے، جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے اسے چُرا کر یا چھین کر حاصل کرلیتا ہے، جو خواہش دل میں پیدا ہوتی ہے اسے جس طریقے سے چاہتا ہے پورا کرلیتا ہے، حلت و حُرمت کی اسے تمیز نہیں ہوتی، جائز و ناجائز کے فرق سے وہ ناواقف ہوتا ہے، حقوق و فرائض کے تخیل سے اس کا دماغ خالی ہوتا ہے، اس کے سامنے بس اپنی خواہشات ہوتی ہیں اور انھیں پورا کرنے کے امکانی وسائل ہوتے ہیں۔
ایسی حالت میں اگر کوئی اخلاقی مصلح کھڑا ہو اور لوگوں کو حلال و حرام کی تمیز سکھائے، جائز و ناجائز کی حدبندی کرے، مقاصد میں حُسن و قبح اور طریقوں میں نیک و بدکا فرق قائم کرے، چوری سے، حرام خوری سے، خونِ ناحق سے، زنا اور فواحش سے روکے، افراد کے لیے حقوق اور فرائض متعین کرے، اور ایک مکمل ضابطۂ قوانینِ اخلاق مرتب کر کے رکھ دے، مگر اس قانون کی تنفیذ کے لیے اس کے پاس وعظ و پند اور دلیل و حجت کے سوا کوئی قوت نہ ہو، تو:
ہرشخص جو انسانی فطرت کا رازداں ہے، اس سوال کا جواب صرف نفی میں دے گا۔ کیوںکہ دنیا میں ایسے پاک نفسوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے جو نیکی کو محض نیکی سمجھ کر اختیار کرتے ہیں، اور بدی کو صرف اس لیے چھوڑ دیتے ہیں کہ اس کا بد ہونا انھیں معلوم ہوچکا ہے۔
لیکن اگر یہی سوال اس صورت میں کیا جائے، جب کہ وہ معلّم محض اخلاقی واعظ ہی نہیں بلکہ حاکم اور صاحب ِ امر بھی ہو اور ملک میں ایک باضابطہ حکومت قائم کردے، جس کی قوت سے وہ تمام بُرائیاں یک لخت دُور ہوجائیں جو حیوانی آزادی سے پیدا ہوتی ہیں، تو یقینا یہ نفی، اثبات سے بدل جائے گی اور ہرشخص اس اصلاحی تعلیم کی کامیابی کا فتویٰ لگا دے گا۔
اسلام کی اشاعت کا بھی تقریباً یہی حال ہے۔
اگر اسلام صرف چند عقائد کا مجموعہ ہوتا اور اللہ کو ایک کہنے، رسالت کو برحق ماننے، یومِ آخر اور ملائکہ پر ایمان کے سوا انسان سے وہ کوئی اور مطالبہ نہ کرتا، تو شاید شیطانی طاقتوں سے اس کو کچھ زیادہ جھگڑنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون بھی ہے۔ ایسا قانون جو انسان کی عملی زندگی کو اوامرونواہی کی بندشوں میں کسنا چاہتا ہے، اس لیے اس کا کام صرف پندوموعظت ہی سے نہیں چل سکتا بلکہ اسے نوکِ زبان کے ساتھ نوکِ سنان [نیزہ]سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔
اس کے عقائد سے، سرکش انسان کو اتنا بُعد نہیں ہے جتنا اس کے قوانین کی پابندی سے انکار ہے۔ وہ چوری کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دیتا ہے۔ وہ زنا کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے کوڑوں کی مار کا حکم سناتا ہے۔ وہ سود کھانا چاہتا ہے اور اسلام اس کو فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ (البقرہ ۲:۲۷۹،’’آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے تمھارے خلاف اعلانِ جنگ ہے‘‘) کا چیلنج دیتا ہے۔ وہ حرام و حلال کی قیود سے نکل کر نفس کے مطالبات پورے کرنا چاہتا ہے اور اسلام ان قیود سے باہر نفس کے کسی حکم کی پیروی نہیں کرنے دیتا۔ اس لیے نفس پرست انسان کی طبیعت اس سے متنفر ہوتی ہے اور اس کے آئینۂ قلب پر گناہ گاری کا ایسا زنگ چڑھ جاتا ہے کہ اس میں صداقت ِاسلام کے نُور کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔
یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۱۳برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ وعظ و تلقین کا جو مؤثر سے مؤثر انداز ہوسکتا تھا اسے اختیار کیا۔ مضبوط دلائل دیے، واضح حجتیں پیش کیں، فصاحت و بلاغت اور زورِ خطابت سے دلوں کو گرمایا۔ اللہ کی جانب سے محیرالعقول معجزے دکھائے۔ اپنے اخلاق اور اپنی پاک زندگی سے نیکی کا بہترین نمونہ پیش کیا، اور کوئی ذریعہ ایسا نہ چھوڑا جو حق کے اظہارواثبات کے لیے مفید ہوسکتا تھا۔
لیکن آپؐ کی قوم نے آفتاب کی طرح آپؐ کی صداقت کے روشن ہوجانے کے باوجود آپؐ کی دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ حق ان کے سامنے خوب ظاہر ہوچکا تھا۔ انھوں نے برأي العین دیکھ لیا تھا کہ جس راہ کی طرف ان کا ہادی انھیں بلا رہا ہے، وہ سیدھی راہ ہے۔ اس کے باوجود صرف یہ چیز انھیں اس راہ کو اختیار کرنے سے روک رہی تھی کہ اُن لذتوں کو چھوڑنا انھیں ناگوار تھا جو کافرانہ بے قیدی کی زندگی میں انھیں حاصل تھیں۔
جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعیِ اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی اور اَلَا کُلَّ مَأْثُرَۃٍ أَوْ دَمٍ أَوْ مَالٍ یُدْعٰی فَھُوَ تَحْتَ قَدَمَیَّ ھَاتَیْنِ{ FR 644 } [السیرۃ النبویۃ، ابن ہشام، ۳/۴۱۳] کا اعلان کرکے تمام موروثی امتیازات کا خاتمہ کر دیا، عزت و اقتدار کے تمام رسمی بتوں کو توڑ دیا، ملک میں ایک منظم اور منضبط حکومت قائم کردی، اخلاقی قوانین کو بزور نافذ کرکے اُس بدکاری و گناہ گاری کی آزادی کو سلب کرلیا جس کی لذتیں ان کو مدہوش کیے ہوئے تھیں، اور وہ پُرامن فضا پیدا کردی جو اخلاقی فضائل اور انسانی محاسن کے نشوونما کے لیے ہمیشہ ضروری ہوا کرتی ہے، تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا، طبیعتوں سے فاسد مادے خودبخود نکل گئے، روحوں کی کثافتیں دُور ہوگئیں اور یہی نہیں کہ آنکھوں سے پردہ ہٹ کر حق کا نور صاف عیاں ہوگیا، بلکہ گردنوں میں وہ سختی اور سروں میں وہ نخوت باقی نہیں رہی، جو ظہورِ حق کے بعد انسان کو اس کے آگے جھکنے سے باز رکھتی ہے۔
عرب کی طرح دوسرے ممالک نے بھی جو اسلام کو اس سُرعت سے قبول کیا کہ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہوگئی، تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پردوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے، اُس فضا کو صاف کر دیا جس کے اندر کوئی اخلاقی تعلیم پنپ نہیں سکتی، اِن حکومتوں کے تخت اُلٹ دیے جو حق کی دشمن اور باطل کی پشت پناہ تھیں، ان بدکاریوں کا استیصال کردیا جو دلوں کو نیکی و پرہیزگاری سے دُور رکھتی ہیں، ان عادلانہ اخلاقی قوانین کو نافذ کیا جو آدمی کو حیوانیت کے درجے سے نکال کر انسان بنا دیتے ہیں، اور پھر اسلام کو عملی پیکر میں پیش کرکے دنیا پر ثابت کردیا کہ انسان کی اخلاقی و مادی اور روحانی ترقی کے لیے اس سے بہتر کوئی اور دستورِ عمل نہیں ہوسکتا۔
[لہٰذا] جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلا م کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے، اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے، جس طرح ہرتہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ تبلیغ کا کام تخم ریزی ہےاور تلوار کا کام قلبہ رانی [ہل چلانے کا کام]۔ پہلے تلوار زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ اس میں بیج کو پرورش کرنے کی قابلیت پیدا ہوجائے، پھر تبلیغ بیج ڈال کر آبپاشی کرتی ہے تاکہ وہ پھل حاصل ہو جو اس باغبانی کا مقصودِ حقیقی ہے۔
ہم کو دنیا کی پوری تاریخ میں کسی ایسی تہذیب کا نشان نہیں ملتا، جس کے قیام میں ان دونوں عناصر کا حصہ نہ ہو۔ تہذیب کی کسی خاص شکل کا کیا ذکر ہے، خود تہذیب کا قیام ہی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک قلبہ رانی اور تخم پاشی کے یہ دونوں عمل اپنا اپنا حصہ ادا نہ کریں۔ کوئی شخص جو انسانی فطرت کا رمزشناس ہے، اس حقیقت سے ناآشنا نہیں ہے کہ جماعتوں کی ذہنی و اخلاقی اصلاح کے سلسلے میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے، جب کہ قلب و روح کو خطاب کرنے سے پہلے جسم و جان کو خطاب کرنا پڑتا ہے۔(الجہاد فی الاسلام، ص ۱۷۰-۱۷۵)
جماعت اسلامی کی دعوت کے تین بنیادی نکات میں سے تیسرا نکتہ قیادت کی تبدیلی ہے۔
ہماری دعو ت تمام اہل ارض (تمام انسانیت) کو یہ ہے کہ وہ عصر حاضر کے اصولِ حکمرانی میں ایک عمومی انقلاب برپا کریں، جس کی بنیاد پر اللہ کے باغیوں اور سرکشوں نے حکومتوں پر قبضہ جما رکھا ہے اور زمین کو فساد سے بھر رکھا ہے۔ لازم ہے کہ حکومت و سلطنت کی اس عملی و فکری قیادت کو اللہ سے پھرے ہوئے ان ظالموں کے ہاتھوں سے لے کر اللہ ورسولؐ پر حقیقی ایمان رکھنے اور ان کی حقیقی فرماںبرداری کرنے والے اُن لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل کردی جائے جو غلط اور باطل نظریات و افکار کو اپنا دین نہیں مانتے، بلکہ اللہ کے نازل کردہ دین حق کو اپنا طریق زندگی قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ زمین پرظلم و ستم اور فتنہ و فساد نہیں چاہتے بلکہ اس کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
کامل بندگی، دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے اور اپنی زندگی کو نفاق اور عمل کو تضاد سے پاک کرنے کے مفہوم کا فطری تقاضا یہی ہے۔ یہ بات کسی سمجھ دار سے مخفی نہیں کہ یہ کام موجودہ نظامِ حیات میں تغیر اور انقلاب کے بغیر ممکن نہیں جو کفر و الحاد، فسق و فجور اور ظلم وستم پرمبنی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو اللہ ورسولؐ سے برگشتہ، اللہ کی بندگی سے بے نیاز اور اللہ کی زمین میں ناحق غرور و تکبر میں مبتلا ہیں۔
دنیا کی قیادت و سیادت اور حکومت و سلطنت کی باگیں، علوم و آداب، سائنس اور آرٹ، قانون سازی اور نفاذ قانون، ملی و بین الاقوامی تعلقات اور تجارت و صنعت کے مسائل جب تک ان لوگوں کے اشاروں اور ہدایات سے چلتے رہیں گے، کسی مسلمان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک سچے مسلمان کی طرح ،اسلام کے اصولوں کو اختیار کر کے، شریعت الٰہیہ کے قوانین کے مطابق اپنی عملی زندگی گزار سکے۔ ناممکن ہے کہ کوئی مسلمان ایسے ملک میں رہتا ہو جہاں شریعت کے برعکس قانون رائج ہو، اللہ کا پسندیدہ طریقہ رائج نہ ہو، تو وہ مسلمان کامل دین الٰہی کی کماحقہٗ پیروی کر سکے، جو اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے۔ بلکہ یہ بھی ممکن نظر نہیں آتا کہ وہ اپنی اولاد کو دینِ الٰہی کے اصولوں اور تعلیمات کے مطابق تعلیم وتربیت دے سکے اور اسلامی آدابِ زندگی اور اخلاقِ حسنہ کے مطابق اُن کی پرورش کر سکے ___ اس لیے کہ کفر والحاد کے جس نظام اور ماحول میں وہ جی رہا ہے، وہ اس پر اسلامی تربیت کے دروازے بند کر دیتا ہے۔ یہ نظام تو یہی چاہتا اور اسی کی اجازت دیتا اور ماحول فراہم کرتا ہے کہ مسلمان بھی وہی باطل اخلاق اپنالے اور اپنے دین واخلاق کے تمام اصولوں اور تعلیمات سے رفتہ رفتہ لاتعلق اور بیگانہ ہوجائے۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ایک مسلمان جو اپنے دین (پورے طریق زندگی) کو اللہ کے لیے خالص رکھنا چاہتا ہے، اس کی ذمہ داری اتنی ہی نہیں ہے کہ وہ صرف عبادت کی چند رسوم ادا کرلے، بلکہ ایک مسلمان کی ذمہ داری اور فرض یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی زمین کو فتنہ و فساد اور بغاوت و سرکشی سے پاک کرے، اور اس کی جگہ اصلاح و فلاح پر مبنی عادلانہ نظام قائم کرے___ظاہر ہے کہ یہ اعلیٰ مقصد اور بلند ہدف سرکشوں، باغیوں اور مفسدین کے برسرِاقتدار رہتے حاصل نہیں ہو سکتا۔
تجربے اور مشاہدے سے یہ بات ثابت ہے کہ زمین پر تکبر کا ناحق مظاہرہ کرنے والے اور اپنے قول و فعل میں ظلم و سرکشی دکھانے والے ہی نظام عدل و صلاح کے قیام کی راہ میں اصل رکاوٹ ہیں۔ پھر یقین، دلیل اور مشاہدے سے یہ بھی ثابت ہے کہ جب تک اللہ کے یہ باغی اور سرکش اُمورِ مملکت اپنے ہاتھوں میں لیے رہیں گے، چھوٹے بڑے معاملات حکمرانی پر انھی کا حکم چلتا رہے گا، تو ایسی حکمرانی میں دنیا کی صلاح وفلاح کی اُمید نہیں کی جا سکتی۔ لہٰذا، اسلام اور اللہ کی خالص بندگی کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ ہم ائمہ کفر و ضلال کی سیادت و قیادت اور امامت و حکمرانی اور باطل نظام کو جڑوں سے اکھاڑ دینے کے لیے اپنی صلاحیت کی آخری حد تک مسلسل اور بھرپور جدوجہد کریں۔
حکومت و امامت کی یہ تبدیلی کس طرح ممکن ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ تبدیلی اور انقلاب محض چاہنے، خواہش کرنے اور خواب دیکھنے سے نہیں آئے گی۔ انسانوں پر حکمرانی کے لیے کچھ بنیادی قوانینِ قدرت ہیں، جن میں ایک یہ بھی ہے کہ زندگی کا نظام چلانے کے لیے بہرحال کچھ مردانِ سیاست ضروری ہیںاور اس سیاست و تدبیر کے لیے کچھ صفات و اخلاق درکار ہیں۔ ان اوصاف سے آراستہ ہونا ہر اس فرد اور گروہ کے لیے ناگزیر ہے جو دنیا کے امور کا نظم و انتظام سنبھالنا چاہے۔ یہ بات بھی قوانینِ فطرت میں شامل ہے کہ اگر زمین پر ان صفات و اخلاق سے آراستہ کوئی مومن و صالح گروہ موجود نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کا انتظام غیر مومن و غیر صالح لوگوں میں سے جن کو چاہے سپرد کردے لیکن جب امور مملکت اور مسائل حیات کو چلانے کے لیے ان لازمی اوصاف و اخلاق سے آراستہ کوئی مومن و صالح گروہ نہ صرف موجود ہو، بلکہ ان ظالموں اور متکبروں سے فائق تر ہو تومشیت ربانی اور قانونِ الٰہی ایسا ظلم پسند نہیں کرتا کہ پھر بھی امور حکمرانی ظالموں اور مفسدوں کے ہاتھ میں رہیں، اور وہ جیسے چاہیں اس کو چلاتے رہیں۔
ہماری یہ دعوت صرف امید، تمنا اور دعا تک محدود نہیں ہے کہ ہم اللہ سے گریہ و زاری کرتے رہیں کہ اللہ ظلم وجور اور فتنہ و فساد کو جڑ بنیاد سے ختم کر کے امور دنیا صالح مومنوں کے ہاتھوں میں دے دے۔ بلکہ ہماری دعوت پوری دنیا اور انسانیت کے لیے ہے کہ ایک اجتماعیت کو منظم کریں جو اللہ ورسولؐ پر ایمان رکھنے والے، اخلاق فاضلہ سے آراستہ ہوں۔ بلند عادات و خصائل سے متصف اوران قابلیتوں اور اہلیتوں سے نہ صرف آراستہ ہوں، بلکہ کفر و ضلال اور اُن کے حمایتیوں اور مددگاروں سے کہیں بڑھ کر اپنے اندر یہ صفات رکھتے ہوں، جو اُمورِ دنیا کو چلانے والوں کے اندر لازمی موجود ہونی چاہییں اور حکومت و سلطنت کی بھاری ذمہ داری کواٹھانے اور ادا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
یہ ہے وہ خالص دینی دعوت جو مائل بہ انحراف و انتہا پسند مسلح قومی تحریک اور انڈین نیشنل کانگریس کے درمیان میں ظہور پذیر ہوئی۔
اس دینی دعوت کا ظہور چودھویں صدی ہجری کے چھٹے عشرے (۱۳۶۰ھ) کے پہلے دوبرس میں ہوا۔ یعنی بیسویں صدی عیسوی کے چوتھے عشرے (۱۹۴۱ء )میں۔ اس کی ابتدا ماہنامہ ترجمان القرآن کے اجرا سے ہوئی، جس کے مدیر ه سیّد ابوالا علیٰ مودودی تھے۔ وہ ایک نوخیز نوجوان تھے جن کی عمر ۳۰ برس سے زیادہ نہ تھی۔ انھوں نے یہ ماہ نامہ اس مقصد کے حصول اور اسلام کے نظریہ و فکر کو میدان عمل میں لانے اور لوگوں کے سامنے واضح اور مستند شکل میں پیش کرنے کی غرض سے جاری کیا۔ افکار و آراء کو تقلید وجمود کی گرد سے صاف کرنا اور الحادواباحیت کی آلائشوں سے پاک صاف کرنا بھی اُن کے پیش نظر تھا۔
اپنی تحریروں اور کتابوں میں صاحبِ ترجمان القرآن نے سب سے پہلے جس چیزپر توجہ مرکوز کی وہ افکار و نظریات کی تنقیح اور پختہ و صحیح آراء کی غذا فراہم کرنا تھا۔ وہ کئی برس تک پوری یکسوئی کے ساتھ اسی طرز پر کام کرتے رہے۔ وہ افکار و نظریات اور حالات و واقعات کے بھرپور مطالعے کے بعد اپنی رائے قائم کرتے اور پھر اپنی معروضات کو شائع کرتے۔
اس مدت میں انھوں نے اپنی پوری توجہ اسلام کے اصلی و صافی مصادر کے مطالعے پر مرکوز رکھی۔ وہ اسلام کی تعلیمات کو ایسے عصری اسلوب میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے رہے جو اہل زمانہ کے ذوق اور طبائع سے ہم آہنگ تھا۔ اسی طرح انھوں نے خاص طور پر اُن زندیقوں اور ملحدوں کو بے نقاب کیا،جن کو مغرب کی محبت گھٹی میں ملی تھی اور وہ اسی کے عشق میں پلے بڑھے تھے۔ سید ابوالاعلیٰ مودودی کا متحرک قلم، منکرین حدیث و منحرفین سنت عناصر کے محاکمے کے لیے بھی وقف رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں میں جمود کے خوگر علماء، فروع میں اُلجھے فقہاء اور بے سروپا مسائل میں پھنسے جہلاء کی لغزشوں اور کج فہمیوں کے محاکمے سے بھی صرفِ نظر نہ کیا گیا۔
مختصر یہ کہ ماہ نامہ ترجمان القرآن کے ابتدائی چند برس تصورِ دین کی اشاعت اور دعوت کے اصول و مبادی کو ذہن نشین کرانے کا دور تھا۔ صاحبِ تحریر نے اس کے لیے زمین اور راستہ ہموار کیا اور اُس کامل دینی تحریک کے لیے اسباب مہیا کیے جس کو وہ شروع کرنا چاہتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان برسوں میں اُن کی تمام تر جدوجہد اس خالص اسلامی تحریک کا بیج بونے کے مترادف تھیں، جو تحریک ماہ نامہ ترجمان القرآن کے اجرا کے نوبرس بعد ظہور میں آئی۔
عین اسی دوران جب صاحبِ ترجمان القرآن اپنے اصول وافکار کی نشرو اشاعت میں مصروف تھے، اور قرآن و سنت سے ما خوذ ومستنبط آدابِ معاشرت، اصولِ مملکت اور مبادیاتِ معیشت کو کھول کھول کر اور نکھار نکھار کر پیش کررہے تھے، قریب تھا کہ لوگ ان کے گرد جمع ہونے لگتے، اُن کی تحریروں سے متاثر ہو کر ان کی آراء و افکار سے فیض یاب ہوتے کہ، اچانک ۱۹۳۷ء/۱۳۵۶ھ کے سال ہندستان کی سیاست میں ایک نہایت اہم انقلاب رُونما ہو گیا۔ اور صوبوں میں حکومت چلانے کا جزوی اختیار مقامی باشندوں کے پاس چلاگیا اور سات صوبوں میں وزارت و حکومت کے مناصب پر مقامی نمایندے مسند نشین ہوگئے۔ میں اس واقعے کو آتش فشانی کے واقعے کا نام دیتا ہوں، کیونکہ صوبوں میں مقامی باشندوں کو انتقالِ اقتداراور اُن کے نمائندوں اور لیڈروں کا حکومتی مناصب پر فائز ہو جانا حقیقتاً ایک لاوے کا پھٹ جانا تھا۔ یہی چیز قوم پرست اور وطنیت پسند ہندوئوں کے چہروں سے نقاب ہٹانے اور ان کا اصلی چہرہ دکھانے کا باعث بنی۔ اُن کے ناپاک عزائم سامنے آگئے، اور وہ سب طشت اَزبام ہو گیا، جو مسلمانوں کے خلاف وہ اپنے دلوں میں چھپائے پھرتے تھے۔
مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی نے اسی لمحے اس لاوے کے خطرناک نتائج اور خوں ریز حادثات سے خبردار کیا۔ مسلمانوں کو ان کی تباہ کن غفلت سے بیدار کرنے کے لیے اپنے قلم کو متحرک کیا اور تسلسل کے ساتھ اُس درست راستے کی طرف مسلمانوں کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا، جوانھیں اس دنیا میں مہلک حالات سے بچا سکتا تھا اور روزِ قیامت اللہ کے سامنے سرخرو کر سکتا ہے۔
مولانا مودودی نے ایک کے بعد دوسرا مضمون اس موضوع پر لکھا اور مضامین کا ایک طویل سلسلہ اس ضمن میں قلم بند کیا۔ ان مضامین میں ہندستان میں مسلمانوں کے ماضی و حال پر گفتگو کی گئی۔ خالص دین کی دعوت کے لیے جدوجہد اور شہادتِ حق کے فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی۔ مسلمانوں کو وطنیت و قومیت دونوں طرح کی غلط سیاست سے بچنے کی تاکید کی گئی۔ ان مضامین کی تحریرواشاعت میں مسلسل تین برس صرف ہوئے۔ اس دوران کوئی دوسری شے انھیں اپنی طرف متوجہ نہ کر سکی، نہ کسی کی مخالفت اور دشمنی اس کام سے روک سکی۔
مولانا مودودی کا یہ علمی کام تین اَدوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
یوں انھوں نے مسلمانوں کو غلط راستے اور بُرے انجام سے بچانے کی سعی کی، جس سے وہ انڈین نیشنل کانگرس کی ٹیڑھی سیاست کو قبول کرنے کی صورت میں دو چار ہو سکتے تھے۔
اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس معاملے میں کیوں لوگ نے اُن کے افکار و نظریات کا رَد نہ کرسکے؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ لوگوں کی یہ خاموشی گویا اُن کا مولانا مودودی کے لہجے کی صداقت، دلیل کی قوت اور منہج کی وضاحت کا کھلا اعتراف تھا۔ اس بات کی شہادت افکارِ مودودی کے معتقدین اور ناقدین سب دیتے ہیں کہ مولانا کے یہ مضامین ہی تھے، جنھوں نے ہندی قومیت کے تصور کی کمرتوڑی اور اُس کے اوپر تمام دروازے اور راستے بند کر دیے، جہاں سے وہ لوگوں کے دل و دماغ میں داخل ہو سکتا تھا۔ اگر مولانا کا یہ قلمی و فکری جہاد نہ ہوتا تو مسلم قومی تنظیموں کے بس کی بات نہیں تھی کہ وہ ہندی قومیت کے اس سیلاب کو روک سکتے یا اس دیو کو قابو کر سکتے۔ تحریرِ مضامین کے اس دورثانی میں انڈین نیشنل کانگرس کے فریب میں آنے والے وطنیت پرست مسلمانوں اور مولانا مودودی کے درمیان معرکہ جاری تھا کہ دوسری طرف مسلم رابطہ عوام تحریک نے مسلم قومیت اور جغرافیائی اسلام کے پرچار کا راستہ اپنا لیا۔
مولانا مودودی نے جب دیکھا کہ دین کے نام پر نسلی قومیت کو بطورِ متبادل پیش کیا جارہا ہے تو ان کا محاکمہ کرتے ہوئے خبردار کیا اور محض نعروں سے حصولِ منزل کے دھندلے نقوش واضح کیے۔
یہ سلسلۂ مضامین تین برسوں (۱۳۵۶ھ- ۱۳۵۹ھ) میں لکھا گیا اور ترجمان القرآن میں شائع ہوا۔ بعد ازاں مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش اور مسئلہ قومیت کے عنوان سے چار جلدوں میں ہزاروں کی تعداد میں مسلسل شائع ہوتا رہا۔ اس کتاب کے مشمولات روزنامہ اخبارات اور ہفت روزہ رسائل میں بھی طبع مکرر کی صورت میں شائع ہوتے رہے۔ ہندستان میں کوئی پڑھا لکھا گھرانہ ایسا نہ تھا، جہاں اس سلسلۂ مضامین کا کوئی نہ کوئی حصہ پہنچا اور پڑھا نہ گیا ہو۔
ان مضامین اور اس فکری انقلاب کا جو بیج نوجوان طلبہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کے دل ودماغ میں ڈال دیا گیا تھا، اس کا نتیجہ یہی ہو سکتا تھا کہ لوگ اس مصنف کے گرد جمع ہونے لگتے اوراس کی فکر سے مستفید ہوتے۔ لہٰذا انھوں نے مصنف سے کہنا شروع کر دیا اور اصرار کرنے لگے کہ وہ اس دعوت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کر لیں اور اس راستے کی جدوجہد میں ان کی قیادت کریں۔
تاہم، مولانا مودودی نے کسی جلد بازی سے کام نہ لیا بلکہ پہلے تو مسلمان جماعتوں اور تنظیموں کو دعوت دی کہ وہ اس دعوت پر لبیک کہیں، اس کو قبول کریں اور باطل نظریات کے مقابل اس کو پیش کریں۔ نسلی و علاقائی نعروں کے بجائے اقامت دین اور شہادت حق کی جدوجہد اور کوشش میں اپنی طاقتوں اور صلاحیتوں کو صرف کریں۔ سید مودودی نے ملک کے طول و عرض میں ایسے تمام لوگوں کو اس طرف بلایا اور انھیں دعوت دی کہ وہ ہر قسم کی عصبیت کو چھوڑ کر اللہ بزرگ وبرتر کے سامنے جھک جائیں اور اپنی تمام قوتوں اور صلاحیتوں کو اسلام کی دعوت اور اس کو اَزسرنو زندہ کرنےمیں صرف کردیں۔
اس طرح سیّد مودودی نے مسلمان زعماء، تنظیموں اور جماعتوں کے سربراہوں اور سیاسی تحریکوں کے لیڈروں کو اس دعوت سے صرفِ نظر کرتے اور فریضہ اقامت دین اور شہادتِ حق کی ادائیگی سے غافل دیکھا، تو اس ذمہ داری کو نبھانے کا عزم کیا۔ اس دعوت کو قائم کرنے کی ٹھان لی اور اس کی راہ میں جان لڑا دینے کا عہد کر لیا۔
پھر سیّد مودودی نے اس بنیادی نکتے سے اتفاق کرنے والوں اور اپنے دل و دماغ میں اس کی استعداد وقدرت رکھنے والوں کو اس اہم ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے اور اس کی راہ میں جدوجہد کرنے کی دعوت دی۔ انھیں اس راہ میں پیش آنے والے خطرات اور تکلیفوں سے آگاہ کیا۔ اس طرح کی دعوتی تحریکیں شخصیت پرستی سے انکار اور طاغوت و سرکش لوگوں کو نہ ماننے کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں، لہٰذا تکلیفوں، مصیبتوں اور آزمائشوں کا سامنا ناگزیر ہے۔ ایسی تحریکیں طاقت و اختیار اور جبروجبروت کے حقیقی حق دار خدائے واحد اور معبودِ مطلق اللہ کی کامل اطاعت و بندگی اور اس کے احکام و قوانین کے سامنے سر جھکانے کی بنیاد پر وجود میں آتی اور قائم ہوتی ہیں۔
سیّد مودودی کی اس دعوت پر یکم شعبان ۱۳۶۰ھ/۲۵؍اگست۱۹۴۱ء کو ۴۲کروڑ آبادی پر مشتمل ہندستان کے طول و عرض سے صرف ۷۵آدمی لاہور میں جمع ہوئے، جنھوں نے اس معاملے پر باہمی غوروخوض اور صلاح مشورہ کیا۔ گہرے غوروخوض اور ہر پہلو سے بحث و تمحیص کے بعد شرکاء اس رائے پر متفق ہوئے کہ ایک جماعت قائم کی جائے، جو اس دعوت کی انجام دہی کا فریضہ ادا کرے ___ یعنی اقامتِ دین کی دعوت اور اس کے لوازمات و تقاضوں میں سے زمین پر قانونِ الٰہی کی تنفیذ، حکومت و معاشرت اور اقتصادیات و اجتماعیت کا نظام، عدلِ اجتماعی اور خوفِ خدا کی بنیادوں پر استوار کرنے کی جدوجہد اور اس کی دعوت ___یعنی وہ نظام جو اسلام نے پیش کیا اور پوری دنیا کو اس کی پیروی کی دعوت دی۔ یوں ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء کو ’جماعت اسلامی‘ کا قیام عمل میں آیا اور اس روز تک اس دعوت کے تنہا داعی سیّدمودودی اس جماعت کے متفقہ طور پر امیر منتخب کیے گئے۔
حاضرین نے دستور جماعت کی منظوری دی، جس میں یہ بنیادی شرائط درج کیں کہ جماعت اپنا پروگرام، قواعد و ضوابط، اپنا طریق کار اور سرگرمیاں خالص اسلام کی بنیادوں کے مطابق تشکیل دے گی اور اسی کے مطابق چلائے گی۔ موجودہ جمہوریت یا آمریت، یا موروثی و شخصی مسلمان بادشاہتوں کا شائبہ تک اس میں نہ تھا۔ جماعت کے تاسیسی حاضرین اجتماع کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی نظام کے قیام اور خالص اسلامی قانون کے نفاذ کی داعی جماعت اپنے داخلی ڈھانچے اور سرگرمیوں میں پہلے ہی دن سے خالص اسلامی طریق کار پر چل پڑے۔
جماعت نے اپنی سرگرمیوں کا آغاز شعبان ۱۳۶۰ھ ہی میں کر دیا اور اسلام کی دعوت اور اس کے خالص اور شفاف اصولوں کی نشرو تبلیغ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں شروع کر دی۔ جماعت دین کو اللہ کے لیے خالص کرنے اور حق کی شہادت قولی و فعلی طور پر ادا کرنے کی عام لوگوں کو دعوت دیتی۔ دین کے احکام کو زندگی کے تمام شعبوں میں اپنانے اور لازم کرنے کی تلقین کرتی۔ اس دعوت کولے کر غیرت و حمیت سے سرشار مخلص مسلمانوں کی جو جماعت اٹھی تھی، ان لوگوں نے اپنے ضمیروں کو نفاق اور اعمال و افعال کو تناقض سے پاک صاف کر لیا۔ انھوں نے مکمل طور پر اسلام میں داخل ہونے اور رہنے کے عزم کا اعلان کیا۔ جونہی یہ دعوت، دین کے ساتھ مخلص نوجوانوں میں پھیلی تو وہ کافر حکومت کے مناصب و ملازمتوں سے مستعفی ہونے لگے۔ انھوں نے ظلم و زیادتی کی بنیادوں پر قائم عدالتوں میں کام کرنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے غلط اور ظالمانہ کاروباری معاہدوں کو ختم کر دیا۔ سودی معاملات سے ہاتھ کھینچ لیے۔
اس میں سب سے بڑا فیصلہ تو اقامت دین کی راہ میں پیش آنے والے خطرات اور سختیوں کو خوش دلی سے برداشت کرنے کا عزم تھا۔ اس دعوت کے ظہور پذیر ہوتے ہی ان لوگوں نے اپنے قیمتی کاروباروں، مناصب و ملازمتوں اور مالی مفادات کی عظیم قربانی پیش کی۔ پھر ہر جگہ دعوت کا بول بالا ہونے لگا، تو وطنیت و قومیت پسند مسلمانوں پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اپنے حجروں اور گوشوں میں بیٹھے مشائخ بھڑک اٹھے۔ دینی مدارس اور عصری جامعات میں تدریس و تصنیف پر اکتفا کرنے والے علماء کے اندر ایک بھونچال آگیا۔ انھوں نے اس دعوت کو لے کر اٹھنے والوں اور ان کی آواز پر لبیک کہنے والوں پر ہلاکت و نفرت سے لتھڑے فتوے لگانے شروع کر دیے اور بعض نے ان کو خارجی تک کہنے سے بھی گریز نہ کیا۔
اُن ناقدین کے خیال میں اسلام بہت نرم اور سادہ ہے۔ وہ اپنے پیروکاروں کو بے دین اور ظالم حکمرانوں کے سامنے سرجھکانے سے منع نہیں کرتا۔ بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ سیدنا یوسفؑ نے بھی تو کافر حکومت کا منصبِ وزارت قبول کیا تھا___ تاہم ادھر کچھ ایسے بھی تھے، جنھوں نے اس دعوت کی صداقت کا اعتراف کیا۔ البتہ اُن کا یہ کہنا تھا کہ اب وقت بدل چکا ہے، لہٰذا اس بات کا امکان و اُمید نہیں ہے کہ خلافتِ راشدہ کی روح کا حامل دور واپس آ سکے۔کچھ ایسے بھی تھے جو کافرانہ عدالتوں، سرکاری ملازمتوں، اور نظام باطل میں بڑے بڑے عہدوں سے استعفا دینے والے مخلص نوجوانوں کے معاشی مستقبل پر رو رہے تھے کہ فقروفاقہ اور تنگ دستی سے ان کا بُرا حال ہو جائے گا۔
یہاں تک کہ ایسے بعض نوجوانوں کے والدین نے بیٹوں پر سختی شروع کر دی کہ انھوں نے اللہ و رسولؐ کی اس دعوت پر لبیک کیوں کہا ہے اور جماعت میں شامل کیوں ہو گئے ہیں؟ ان کو گھروں سے نکال دیا گیا، تاکہ وہ کلمۂ حق کہنے اور اس کی دعوت دینے سے باز آجائیں اور اسی جاہلانہ اور غفلت بھری زندگی کی طرف واپس لوٹ جائیں جو وہ پہلے گزار رہے تھے۔
کئی سال تک صورت حال اسی طرح رہی، لیکن دعوت روز بروز نشوونما پاتی رہی۔ ارکانِ جماعت اپنے دین کے باعث آزمائے جاتے رہے۔ اس دعوت سے وابستہ افراد کو ابتلا و آزمائش سے گزارا جاتا رہا۔ انھیں مختلف طرح کی تکلیفوں اور مصیبتوں سے دوچار کیا جاتا رہا___ لیکن یہ آزمائش و ابتلا اور آلام و مصائب توان کارکنانِ دعوت کے لیے اللہ کی رحمت تھے۔ اس کے ذریعے ان کے دلوں کا آئینہ شفاف تر ہوتا جا رہا تھا اور ان کے قلب و ضمیر میں ایمان کی چنگاری شعلہ بنتی جا رہی تھی۔
مختصر یہ کہ جماعت نے اپنی تاریخ کے ابتدائی برسوں میں دعوت کی نشرواشاعت اور اپنی آواز کوملک کے کونے کونے میں پھیلایا اور شہادت حق کو قولی طور پر احسن طریقے سے انجام دیا۔ اسی طرح جماعت نے اس بات کا خاص طور پر اہتمام کیا کہ شہادتِ حق عملی طور پر بھی ادا ہو۔ جماعت نے اپنے ارکان کے لیے لازم کیا کہ وہ اپنے اخلاق و معاملات اور تمام اعمال وافعال میں باوقار اور روشن کردار کا مظاہرہ کریں، جو لوگوں کے سامنے اسلام کی بولتی دلیل قرار پائے۔ انھیں جب ان کی دکانوںاور بازاروں میں دیکھا جائے، ان سے کوئی معاملہ کیا جائے، یا مدارس و مجالس میں ان کو آزمایا اور پرکھا جائے، تو ان کا کردار نکھر کر سامنے آجائے۔ انھیں دیکھنے والے کہہ اٹھیں کہ دین جب اپنا پھل دیتا ہے تو اپنے معاملات میں ان جیسے صادقین و صالحین وجود میں آتے ہیں۔ یقینا اس طرح کے کردار پیدا کرنے والا اور ہر دور میں اس طرح کا معاشرہ قائم کرنے والا اللہ کا دین ہی ہو سکتا ہے۔
اسی لیے جماعت نے اپنے ارکان کی تربیت اور اسلامی آداب و اخلاق فاضلہ پر ان کو تیار کرنے کا بہت زیادہ اہتمام کیا۔ اس کے لیے مختلف اور مفید طریقے اور سرگرمیاں اختیار کی گئیں۔ ان میں سے ایک سرگرمی یہ تھی کہ جماعت نے انسانی آبادی اور شہری ہنگامے سے دُور ایک مقام پٹھان کوٹ، مشرقی پنجاب میں اپنا مرکز قائم کیا۔ جماعت نے یہاں ایک چھوٹی سی بستی بھی بسائی جہاں اس کے دفتری ارکان و کارکنان اور قائدین و ذمہ داران قیام پذیر تھے۔ اس بستی کا نام ’دارالاسلام‘ رکھا گیا۔
ارکان جماعت، اس کے معاونین اور اس دعوت کے متاثرین ملک کے ہر کونے گوشے سے آتے اور ایک عرصہ یہاں گزارتے۔ وہ یہاں امیر جماعت اوران کے دیگر ساتھیوں سے علم و عمل کا درس لیتے، دعوت و ارشاد کے طریقوں کی تربیت پاتے۔ یہاں تک کہ جب اپنے اپنے علاقوں میں واپس جاتے تو علم و تقویٰ کی دولت سے لیس ہوتے، علم و فکر سے سرشار ہوتے اور اللہ کی راہ میں دعوت و جہاد کی راہوں کے متلاشی رہتے۔
یوں جماعت اپنے اس طریق کار پر گامزن رہی، جو اس نے اپنے لیے طے کیا تھا۔ تسلسل کے ساتھ اس پر قائم رہی، نہایت وقار کے ساتھ اپنی جدوجہد جاری رکھی کہ کوئی روکنے والا اس کو روک سکتا تھا، اور نہ یہ اظہارِ حق میں کسی ملامت کی پروا کرتے تھے ___ دعوت و تحریک کے اُمور ومسائل اسی طرح جاری و ساری تھے کہ اگست ۱۹۴۷ء میں ملک تقسیم ہو گیا اور مشرقی پنجاب میں مذہبی تقسیم کی بنیاد پر بڑا قتل عام شروع ہو گیا۔ جماعت کا مرکز چونکہ مشرقی پنجاب میں تھا،لہٰذا اس کے ارکان بھی یہاں بُری طرح اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے تھے۔ ہر جگہ سے آکر لوگ ان کے پاس پناہ لے رہے تھے۔ لیکن یہاں کے ارکان جماعت سچے مجاہدین کی طرح کھڑے رہے۔ انھوں نے کوئی کمزوری دکھائی اور نہ اپنی جگہ سے ہلے۔ اللہ تعالیٰ نے حالات کو پلٹا اور امن وسلامتی کے ساتھ لاہور پہنچنے کے لیے سبیل پیدا کی۔
یہ تھی قیامِ پاکستان تک جماعت اسلامی کی مختصر تاریخ ___ اسلام کی خالص، کامل اور جامع دعوت لے کر اُٹھنے والی جماعت کی تاریخ۔ (جاری(
مولانا مودودیؒ سے تعارف ان کی تحریروں کے ذریعے ۱۹۳۴ء میںحاصل ہوا، تب میں مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر (۱۹۲۹ء تا ۱۹۳۷ء) میں تھا۔ ان دنوں مجھے اپینڈکس کا مرض ہوا، اور دورانِ علالت پہلی مرتبہ ماہنامہ ترجمان القرآن دیکھنے کا موقع ملا۔یہ اس زمانے میں حیدرآباد، دکن سے شائع ہوتا تھا۔ مجھے یہ رسالہ بے حد پسند آیا۔ اس سے قبل مجھے لکھنے کا ذوق تھا۔ مدرسۃ الاصلاح کا قلمی پرچہ مَیں لکھا کرتا تھا۔ چنانچہ میں نے ’نکاح کے اسلامی قوانین‘ پر ایک چھوٹا سا مضمون لکھ کر مدیر ترجمان القرآن مولانا سیّد ابوالاعلیٰ مودودی کو بھیج دیا۔ انھوں نے یہ مضمون شائع کردیا۔ اس کے بعد میرا ایک طویل مضمون ’مسلمان اور امامت کبریٰ‘ تین قسطوں میں ۱۹۳۷ء کے پرچوں میں چھپ گیا۔ دراصل یہی مضمون میری تحریکی زندگی کا نقطۂ آغاز تھا۔
ماہنامہ ترجمان القرآن سے قلمی معاونت قائم ہونے کے بعد ۱۹۳۷ء میں مولانامودودی نے دعوت دی کہ ترجمان القرآن کے کاموں میں ہاتھ بٹانے کے لیے ادارہ ترجمان القرآن پہنچ جائوں۔ ساتھ ہی انھوں نے مجھے یہ اطلاع دی کہ ترجمان القرآن حیدرآباد، دکن سے پنجاب کی بستی جمال پور، ضلع گورداسپور منتقل ہورہا ہے اور یہ علامہ اقبال کی تحریک اور خواہش پر ہورہاہے اور طے پاچکا ہے کہ مارچ ۱۹۳۸ء میں وہاں ایک ’ادارہ‘ قائم کیا جائے، جس کے ذریعے دُنیا میںاسلامی نظام کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کیا جائے۔ دراصل وہاں پر ایک زمیندار بزرگ چودھری نیاز علی صاحب نے ایک قطعۂ زمین (۶۰؍ایکڑ) دینی کاموں کے لیے وقف کیا تھا اور وہ اپنی وقف املاک میں ایسا ادارہ قائم کرنا چاہتے تھے، جو مسلمانوں کی علمی،فکری اور عملی اصلاح کے کام میں ممدومعاون ہو۔ چودھری نیاز علی خاں صاحب، علّامہ محمد اقبال سے مشورے حاصل کرتے رہے اور انھی کے مشورے سے ہی ادارے کی تشکیل کا خاکہ حاصل کرنے کے لیے مختلف حضرات سے خط کتابت بھی کرتے رہے۔ مولانا مودودی سے بھی ۳۷- ۱۹۳۶ء کے دوران ان کی مراسلت ہوئی۔
بلاشبہ مولانا مودودی کی تحریروں سے مجھے تحریک ملی، لیکن یہ فکر دراصل میرے اندر بحمدللہ پہلے ہی سے موجود تھی اور یہ سب علامہ حمیدالدین فراہیؒ کا فیض تھا۔ علامہ مرحوم کی مطبوعہ اور غیرمطبوعہ تمام تحریروں کو پڑھا کرتا تھا، جو سرائے میر کی الماریوں میں محفوظ تھیں۔ ان تحریروں نے میرے ذہن کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے میں بڑا اہم کردارادا کیا۔ مولانا مودودی کہا کرتے تھے کہ ’’علامہ فراہیؒ نے اپنے افکار و خیالات کے ذریعے لوگوں کو انقلاب کے دروازے پر لاکر کھڑا کر دیا ہے۔ اگر ان کو پڑھا جائے تو یقینی طور پر ایک انسان وہی سب کچھ کرتا چلا جائے گا جو جماعت اسلامی کررہی ہے‘‘۔
میری رکنیت کہیے یا پھر تحریک سے عملی وابستگی، فی الواقع ’قبل اَز تاریخ‘ تاسیسِ جماعت اسلامی سے شروع ہوتی ہے، یعنی ۱۹۳۹ء کے اوائل میں۔جماعت اسلامی کے قیام سے دو اڑھائی برس پہلے اسی کام کے لیے، جس کی خاطر جماعت اسلامی ۲۶؍اگست ۱۹۴۱ء میں قائم کی گئی، دارالاسلام کے نام سے تحریک کا قیام بمقام جمال پور نزد پٹھان کوٹ پانچ افراد کی تجدیدِ شہادت کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔ ان پانچ ارکان میں سے ایک یہ عاجز بھی تھا۔ بعد میں جب اسی تحریک کا نقش ثانی ’جماعت اسلامی‘ کے نام سے قائم ہوا، تو ان دنوں میں رنگون میں تھا، جس کے باعث میں جماعت کے تاسیسی اجتماع میں شرکت نہیں کرسکا تھا۔ لیکن مولانا مودودی مرحوم و مغفور نے مجھے اس کی اطلاع دیتے ہوئے میری اسی رکنیت ِ تحریک دارالاسلام کو جماعت اسلامی کی رکنیت قرار دے دیا۔
میں اپنی سوچ پراثرانداز ہونے والی جس واحد چیز کا نام لے سکتا ہوں وہ صرف قرآن کریم ہے۔ دوسری چیزوں کا اگر ذکر کروں تو وہ بالکل ضمنی اور ثانوی درجے ہی میں کرسکتا ہوں۔ ان دوسری چیزوں میں سیّدقطب کا واقعۂ شہادت سرفہرست ہے۔ اس سانحے نے مجھ پر بہت اثر ڈالا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ کہیں عرشِ الٰہی نہ تھرا اُٹھا ہو۔
ساری زندگی یہی آرزو رہی ہے کہ وہ جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے، ساتھیوں کو نیتوں کا اخلاص، ارادوں کی مضبوطی، اپنے کیے ہوئے عہد کا پاس اور نصب العین سے گہری شعوری اور عملی وابستگی عطا کرے۔ تحریک کے ساتھیوں کو دُنیا کی شادابی اور شیرینی اپنا گرویدہ نہ بنانے پائے۔ راہ کے کانٹے اور پتھر انھیں سُست گام نہ بناسکیں، مخالفت کی بے معنی غوغاآرائیاں انھیں اُلجھائو میں نہ ڈال سکیں۔ ایک فکر ، فکر ِ آخرت کے سوا اور کوئی چیز ان کی اصل فکر نہ بننے پائے۔ ایک رضائے مولیٰ کی طلب کے سوا اور کسی رضا کی انھیں حقیقی طلب نہ ہونے پائے۔ ان کے ذہنوں کو فہم اور حکمت، ان کی عقلوں کو دُوربینی اور تدبر، ان کے دلوں کو صبر اور استقامت، ان کے بازوئوں کو قوت اور ان کے قدموں کو برابر صراطِ مستقیم پر حرکت عطا ہوتی رہے۔ یہاں تک کہ اس حسین خواب کی تعبیر نظر آجائے۔ وَاللہُ يُـؤَيِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ يَّشَاۗءُ۰ۭ (اٰل عمرٰن ۳:۱۳)
آپ کے سامنے اس زمانے کی بات پیش کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا مودودیؒ کی پکار پر جب جماعت کے ساتھ ہم منسلک ہوئے تو کیا پایا؟ مولانا محترم تحریک کے لیے کس قسم کے کارکن تیار کرنا چاہتے تھے؟ جو لوگ تحریک کے دورِ اوّل سے وابستہ ہوئے تھے، وہ گزر گئے۔ اب نئی پود کا زمانہ ہے۔ ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان ربط رہے، کوئی خلا نہ پیدا ہو۔ تحریک کی عمارت بلند ہورہی ہے تو اُوپر لگنے والی اینٹیں پہلی اینٹوں کے مطابق رہیں۔
اب میں پہلی اینٹ اور پہلے ردّے کی داستان سنانا چاہتا ہوں:
ہم لٹریچر کا اس شغف و انہماک سے مطالعہ کرتے اور دوسروں کو سناتے تھے کہ اس کے بعض پورے کے پورے حصے اَزبرہوجاتے۔ ہروقت یہ احساس دامن گیر رہتا کہ لٹریچر ہماری تحریک کی روح ہے، اس کا دامن اگر چھوڑ دیا تو ہم اپنی روح سے کٹ کر رہ جائیں گے۔ پھر ماضی اور حال میں کوئی ربط باقی نہ رہے گا۔ آج مجھے ڈر ہے کہ اگر ہم نے لٹریچر کے مطالعے میں کوتاہی برتی تو وہ وقت آئے گا کہ ہمارے ذمہ دارانہ مناصب پر ایسے لوگ آجائیں گے، جو ہماری دعوت اور ہمارے لٹریچر سے بے بہرہ ہوں۔
پھر گھر سے باہر نکلتے تو دعوت کی کوئی نہ کوئی چیز ہمارے پاس ضرور ہوتی۔ ہم لوگوں کے پاس چل کر جاتے اور یہ توقع نہ رکھتے کہ وہ چل کر ہمارے پاس آئیں گے۔ جماعت اور اجتماعیت کا ہر کام خود کرتے، اس سے ہمارے تحریکی جذبے کو تقویت ملتی۔ اپنے ہاتھوں سے گلیوں میں اور دیواروں پہ پوسٹر لگانے سے جو جذبہ اُبھرتا ہے، وہ کرائےپر لگوانے سے نہیں اُبھرسکتا۔ دارالاسلام کے قریبی دیہات میں ہم دعوت لے کر گھومے پھرے، خود میاں طفیل محمد صاحب دعوتی گشت کرتے رہتے تھے۔ اسی طرح پاکستان پہنچے تو اچھرہ کی ایک ایک گلی چھان ماری۔ ہم کو اس کی پروا نہ تھی کہ کوئی ہماری دعوت قبول کرے گا یا نہیں، ہمارے ذہن میں فقط ایک بات بیٹھی ہوئی تھی کہ ان لوگوں تک ہمیں اپنی بات پہنچانا ہے۔
اس بیان سے مقصود یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کے بناکردہ کام اور تیارکردہ کارکن کا معیار ہمارے سامنے رہے۔ اس سے ایسا آئینہ تیار ہوجائے جس سے ہم اپنے داغ دھبے وقتاًفوقتاً دیکھ لیا کریں۔ ہمیں ہروقت اپنا موازنہ پہلی اینٹ اور پہلے ردّے سے کرتے رہنا چاہیے۔
یاد رکھیے انحطاط کبھی اعلان کرکے نہیں آتا، یہ دبے پائوں آتا ہے۔ ایک ایک ذرہ سرکتا ہے اور پھر دیوار گرتی ہے۔ اس کی پہلے خبر نہیں ہوتی، پھر اچانک وقت آتا ہے کہ عملِ انحطاط اپنی خوفناک تصویر پیش کرتا ہے۔ ہم لوگ جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لیوا اور ان کا دامن تھامے ہوئے ہیں، ہمیں ہروقت اپنا احتساب کرتے رہنا چاہیے۔ دُعا کرتے رہنا چاہیے کہ ہم میں جذبۂ اصلاح ہو، اخلاصِ نیت ہو، اپنا اخلاقی معیار اور داعیانہ کردار ہرحال میں برقرار رہے۔آمین!
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہےّ
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات
ایمان باللہ، انسان کو پستی و ذلّت سے اُٹھا کر خودداری وعزّتِ نفس کے بلند ترین مدارج پر پہنچا دیتا ہے۔ جب تک اس نے خدا کو نہ پہچانا تھا، دُنیا کی ہرطاقت ور چیز، ہرنفع یا ضرر پہنچانے والی چیز ، ہر شان دار اور بزرگ چیز کے سامنے جھکتا تھا، اس سے خوف کھاتا تھا، اس کے آگے ہاتھ پھیلاتا تھا، اس سے اُمیدیں وابستہ کرتا تھا۔ مگر جب اس نے خدا کو پہچانا تو معلوم ہوا کہ جن کے آگے وہ ہاتھ پھیلا رہا تھا وہ خود محتاج ہیں۔ یہ علم حاصل ہونے کے بعد وہ تمام دُنیا کی قوتوں سے بے نیاز اور بے خوف ہوجاتا ہے۔ خدا کے سوا اس کی گردن کسی کے آگے نہیں جھکتی۔ خدا کے سوا اس کا ہاتھ کسی کے آگے نہیں پھیلتا۔ خدا کے سوا کسی کی عظمت اس کے دل میں نہیں رہتی۔ خدا کو چھوڑ کر وہ کسی دوسرے سے اُمیدیں وابستہ نہیں کرتا۔ (اسلامی تہذیب اور اس کے اصول ومبادی، ص ۱۲۶،۱۲۸(
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ’کُن فَیَکُون‘
قدرتِ الٰہی کم تر درجے کی چیزوں سے تخلیق کی ابتدا کر کے بتدریج بلند تر درجے کی چیزیں پیدا کرتی رہی ہے۔ مثلاً جمادات پہلے پیدا کیے گئے۔ اس کے بعد نباتات، پھر حیوانات اور حیوانات میں بھی کم تر درجے کے حیوانات پہلے پیدا کیے گئے اور پھر بتدریج اعلیٰ قسم کے حیوانات پیدا کیے جاتے رہے۔ یہاں تک کہ بلند ترین نوع یعنی انسان کو پیدا کیا گیا۔ قدرت کا یہی قاعدہ اس عالم پر بہ حیثیت مجموعی بھی جاری ہونا چاہیے، یعنی موجودہ نظامِ عالم بہ حیثیت مجموعی ناقص ہے۔ لہٰذا، اس کے بعد ایک دوسرا نظامِ عالم ہونا چاہیے، جو اس سے کامل تر ہو، اور اسی نظام کا نام عالمِ آخرت ہے۔ گویا موجودہ نظامِ عالم کے بعد عالمِ آخرت کا آنا قدرت کے قانون ارتقا کا ایک لازمی تقاضا ہے۔(رسائل و مسائل، اوّل، ص ۲۹۱، ۲۹۲(
یہی مقصودِ فطرت ہے ، یہی رمزِ مسلمانی
اُخوت کی جہانگیری ، محبت کی فراوانی
خدا کی راہ میں کام کرنے والے لوگوں کو عالی ظرف اور فراخ حوصلہ ہونا چاہیے، ہمدردِ خلائق اور خیرخواہِ انسانیت ہونا چاہیے۔ کریم النفس اور شریف الطبع ہونا چاہیے۔ خوددار اور خُوگر قناعت ہونا چاہیے۔ متواضع اور منکسرمزاج ہونا چاہیے۔ شیریں کلام اور نرم خُو ہونا چاہیے۔ وہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں، جن سے کسی کو شر کا اندیشہ نہ ہو اور ہر ایک ان سے خیرخواہی کا متوقع ہو۔ جو اپنے حق سے کم پر راضی ہوں اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے پر تیار رہیں۔ بُرائی کا جواب بھلائی سے دیں، یا کم از کم بُرائی سے نہ دیں۔ جو اپنے محبوب کے معترف اور دوسروں کی بھلائیوں کے قدردان ہوں، جو اتنا بڑا دل رکھتے ہوں کہ لوگوں کی کمزوریوں سے چشم پوشی کرسکیں، قصوروں کو معاف کرسکیں، زیادتیوں سے درگزر کرسکیں اور اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہ لیں، جو خدمت لے کر نہیں، خدمت کرکے خوش ہوتے ہوں۔ اپنی غرض کے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کی بھلائی کے لیے کام کریں۔ ہرتعریف سے بے نیاز اور ہرخدمت سے بے پروا ہوکر اپنا فرض انجام دیں اور خدا کے سوا کسی کے اجر پر نگاہ نہ رکھیں۔ جوطاقت سے دبائے نہ جاسکیں، دولت سے خریدے نہ جاسکیں، مگر حق اور راستی کے آگے بے تامّل سر جھکا دیں۔ جن کے دشمن بھی ان پر بھروسا رکھتے ہوں کہ کسی حال میں ان سے شرافت و دیانت اور انصاف کے خلاف کوئی حرکت سرزد نہیں ہوسکتی۔
یہ دلوں کو موہ لینے والے اخلاق ہیں۔ ان کی کاٹ تلوار کی کاٹ سے بڑھ کر اور ان کا سرمایہ، سیم و زر کی دولت سے گراں تر ہے۔ کسی فرد کو یہ اخلاق میسر ہوں تو وہ اپنے گردوپیش کی آبادی کو مسخرکرلیتا ہے،لیکن اگر کوئی جماعت کی جماعت ان اوصاف سے متصف ہوجائے، تو پھر دُنیا کی کوئی طاقت اُسے شکست دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ (اسلامی تزکیۂ نفس، ص ۲۸-۲۹(
یہ دستورِ زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
دورِ ملوکیت کے تغیرات میں سے ایک اہم تغیر یہ تھا کہ مسلمانوں سے امربالمعروف اور نہی عن المنکر کی آزادی سلب کرلی گئی۔ حالانکہ اسلام نے اُسے مسلمانوں کا صرف حق ہی نہیں بلکہ فرض قرار دیا ہے۔ اسلامی معاشرہ و ریاست کا صحیح راستے پر چلنا اس پر منحصر تھا کہ قوم کا ضمیر زندہ اور اس کے افراد کی زبانیں آزاد ہوں۔ ہرغلط کام پر وہ بڑے سے بڑے آدمی کو ٹوک سکیں اور حق بات برملا کہہ سکیں۔ خلافت راشدہؓ میں لوگوں کی یہ آزادی پوری طرح محفوظ تھی۔
خلفائے راشدینؓ اس کی نہ صرف اجازت دیتے تھے بلکہ اس پر لوگوں کی ہمت افزائی کرتے تھے۔ ان کے زمانے میں حق بات کہنے والے ڈانٹ اور دھمکی سے نہیں، تعریف اور تحسین سے نوازے جاتے تھے۔ اور تنقید کرنے والوں کو دبایا نہیں جاتا تھا بلکہ ان کو معقول جواب دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ لیکن دورِملوکیت میں ضمیروں پر قفل چڑھا دیئے گئے اور زبانیں بندکردی گئیں۔ اب قاعدہ یہ ہوگیا کہ منہ کھولو تو تعریف کے لیے کھولو، ورنہ چپ رہو، اور اگر تمھارا ضمیر ایسا ہی زوردار ہے کہ تم حق گوئی سے باز نہیں رہ سکتے، تو قید اور قتل اور کوڑوں کی مار کے لیے تیار ہوجائو۔ چنانچہ جو لوگ بھی اس دور میں حق بولنے اور غلط کاریوں پر ٹوکنے سے باز نہ آئے، ان کو بدترین سزائیں دی گئیں، تاکہ پوری قوم دہشت زدہ ہوجائے۔(خلافت و ملوکیت، ص ۱۶۳-۱۶۴(
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و مُلّا ملوکیت کے ہیں بندے تمام
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے علمائے کرام کی اکثریت یا تو قلّت ِفہم کے باعث یا کم ہمتی کے سبب سے، یا پھر اپنی نااہلی کے اندرونی احساس کی وجہ سے دین و دُنیا کی اس تقسیم پر راضی ہوچکی ہے، جس کا تخیل اب سے مدتوں پہلے عیسائیوں سے مسلمانوں کے ہاں درآمد ہوا تھا۔ انھوں نے چاہے نظری طور پر اُسے پوری طرح نہ مانا ہو، مگر عملاً وہ اُسے تسلیم کرچکے ہیں کہ سیاسی اقتدار اور دُنیوی ریاست و قیادت غیراہل دین کے ہاتھ میں رہے، چاہے یہ محدود دُنیا بے دین سیاست و قیادت کی مسلسل تاخت سے روز بروز سکڑ کر کتنی ہی محدود ہوتی چلی جائے۔ اس تقسیم کو قبول کرلینے کے بعد یہ حضرات اپنی تمام تر قوت دو باتوں پر صرف کر رہے ہیں:
سادگی اس فطری ذوق کا عنوان ہے، جس کے نتیجے میں انسان کسی قدر اطمینان اور اعتماد کے ساتھ وہ دکھائی دیتا ہے جو وہ واقعتاً ہوتا ہے۔ سادگی کسی انسان کی شخصیت کا وہ پہلو ہے جو کبر، حرص اور نمائش سے خود کو بچانے کی جدوجہد سے حاصل ہوتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’سادگی ایمان کی دلیل ہے‘۔ اس کی برکت سے انسان تصنع، بناوٹ اور تکلفات سے خود کو پاک رکھتے ہوئے اپنے احساسِ جمال کی بہ آسانی تسکین کرتا ہے۔
سادگی بامعنی زندگی کی بہت اہم قدر ہے، جس کا مقصد اس مستقل ذمہ داری کو نبھاتے رہنا ہے کہ اپنی ضروریات کو مختصر اور محدود رکھا جائے اور خواہشات کی اندھی تقلید کے بجائے ان کو پرکھتے رہا جائے۔ سادگی کا تعلق انسان کے مزاج سے بھی ہے اور اس کے طرزِ زندگی سے بھی۔ جب انسان سادگی اختیار کرتا ہے تو وہ نہ تو اپنے نام کے ساتھ القابات سننا چاہتا ہے، اور نہ اپنی تعریف ہی قبول کرتا ہے۔ ایسا انسان نہ تو کسی سے مرعوب ہوتا ہے اور نہ کسی کو مرعوب کرنا چاہتا ہے۔ کسی انسان کی نفاست اور وقار جب مادی سہاروں کے محتاج نہ رہیں تو سادگی جنم لیتی ہے۔ سادگی زندگی کا ایک ایسا خوب صورت رکھائو اور رچائو ہے، جو انسان میں انکسار اور وضع داری کو فروغ دیتا ہے۔
سادگی کے راستے کی دیواریں اسراف، نمود، تصنع اور تکلّف ہیں:
اس وقت مسلم معاشرے میں اسراف، نمود، تصنع اور تکلف سے مساجد اور مذہبی اداروں سے لے کر تعلیم یافتہ گھرانوں تک کوئی محفوظ نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان میں سے کسی ایک بھی خرابی کا شکار ہوجائے تو وہ آہستہ آہستہ باقی خرابیوں میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے۔ پھر ایک ایسا وقت آجاتا ہے کہ اسے اپنا یہ خراب عمل بھی اچھا لگنے لگتا ہے اور وہ اس کے حق میں جواز بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ اسراف میں مبتلا لوگوں کے بارے میں قرآن نے خبردار کر دیا کہ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں، انھیں اپنے کرتُوت اسی طرح خوش نما معلوم ہوتے ہیں۔(یونس۱۰:۱۲)
سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مال کے حوالے سے مسلمان کی ذمہ داری صرف جائز کمانا ہی نہیں بلکہ اسے جائز خرچ کرنا بھی ہے۔ غور کیجیے کہ ربّ کریم نے اپنے کلامِ پاک میں انسانوں کو ان کا حق دینے اور فضول خرچی سے بچنے کا حکم ایک ساتھ دیا ہے۔ ان قرآنی آیات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جب ہم اپنا مال درست جگہ اور درست مقصد میں خرچ کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو معاشرے میں دوسروں کی حق تلفی ہوتی ہے:
وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّہٗ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا۲۶ اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيٰطِيْنِ۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِرَبِّہٖ كَفُوْرًا۲۷ (بنی اسرائیل ۱۷: ۲۶-۲۷) رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین او ر مسافر کو اس کا حق۔ فضول خرچی نہ کرو۔ فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے ربّ کا ناشکرا ہے۔
’اسراف‘ کی ایک شکل یہ ہے کہ انسان کی زندگی میں آرام اور سہولت اپنی جائز حد سے تجاوز کرجائے اور زندگی پُرتعیش ہوجائے۔ قرآن نے اس حوالے سے واضح احکام دیے ہیں کہ حرام کیا ہے اور اس کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن ’اسراف‘ سے بچنے کا معاملہ انسان کے شعور پر چھوڑا گیا ہے کہ وہ سیرتِ رسولؐ سے اصول اخذ کرتا رہے اور اپنے معاملات کا خود ہی جائزہ لیتے ہوئے خود کو حد کے اندر رکھنے کے لیے ان اصولوں کا انطباق کرے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ’نازونعم کی زندگی سے بچنا، کیونکہ اللہ کے بندے نازونعم کی زندگی نہیں گزارا کرتے‘ (مسنداحمد، رقم:۲۲۱۰۵)۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ حضرت معاذؓ، رسول ؐ اللہ کے تربیت یافتہ اور قریبی صحابی تھے اور ایک اہم سرکاری منصب پروہاں تعینات کیے گئے تھے۔ تعیشات جس طرح کسی عام انسان کو بگاڑنے کا باعث بن سکتی ہیں، توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ایسے جلیل القدر صحابی پراثرانداز نہیں ہوسکتی تھیں۔ پھر اعلیٰ منصب کے شایانِ شان وسائلِ تعیش کا مہیا ہوجانا اور ان سے تمتع معاشرے کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ بلکہ بہت سے عام لوگوں کے لیے بلاشبہ توقع کے عین مطابق ہوتی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ تعیش اگر حرام نہ بھی ہو تو بھی روحِ بندگی کو محفوظ رکھنے کے لیے اس سے خود کو بچانے کی کوشش کی جائے۔ اس حدیث کی شرح میں مُلّا علی قاریؒ فرماتے ہیں: خواہشات کی تکمیل میں حد سے بڑھ کر کوشش کرنے اور لذتوں کا حریص و مشتاق رہنے سے منع کیا گیا ہے‘۔(مرقاۃ المفاتیح، ج۸، ص ۳۲۹۵)
شیخ زین الدین مناویؒ فرماتے ہیں: ’’عیش و عشرت اگرچہ مباح چیزوں میں جائز ہے، لیکن یہ صفت، تعیش کے ساتھ انسان میں انسیت پیدا کرتی اور غفلت کی طرف مائل کردیتی ہے۔ اسی طرح ایک دفعہ رسولؐ اللہ کو ایک قیمتی لباس تحفے میں پیش کیا گیا، جو ۳۳؍اُونٹ اور ایک اُونٹنی کے عوض خریدا گیا تھا، اور آپؐ نے اسے ایک بار پہنا۔ لیکن رسول ؐ اللہ چونکہ معصوم ہیں اور مباح کی حدود سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے آپؐ پر ایسی چیزیں اثرانداز نہ ہوتی تھیں جن کے نتیجے میں غرور، تکبر، خوشامد یا ناپسندیدہ چیزوں کی طرف تجاوز کا احتمال ہو، جب کہ عام انسان اس قسم کے خطرات سے محفوظ نہیں رہ سکتا‘‘۔
اس واقعے میں غور کرنے کے کئی پہلو ہیں: پہلا یہ کہ اتنا بیش قیمت لباس آپؐ نے خود نہیں خریدا تھا بلکہ آپؐ کو تحفے میں پیش کیا گیا تھا۔ دوسرا یہ کہ رسول ؐ اللہ لوگوں کی دل جوئی کی خاطر تحفہ قبول فرما لیا کرتے تھے، لہٰذا ایسا قیمتی لباس بھی قبول کرلیا۔ تیسرا یہ کہ رسولؐ اللہ نے اپنے عمل سے یہ واضح کردیا کہ قیمتی لباس پہننا حرام نہیں ہے۔ چوتھا یہ کہ آپؐ نے اس لباس کو دوبارہ پہننا گوارا نہیں کیا۔
جب انسان دوسروں سے اپنے تعلق کو خوب صورت بنانے کے بجائے ان پر اپنی دھاک بٹھانے کے لیے بے چین رہے، تو اسراف اور نمود کا رجحان پروان چڑھتا ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے اندر اخلاص کو زندہ رکھنے کے بجائے دوسروں پر اپنی ساکھ قائم کرنے کے لیے متفکر ہوجائے تو تصنع اور تکلف پیدا ہوتا ہے۔ ساکھ بہت اہم اور قیمتی چیز ہے، لیکن اسے ہمارے طرزِزندگی کا مقصود نہیں بننا چاہیے۔ حقیقی ساکھ ظاہری اور مادی سازوسامان سے نہیں بلکہ انسان کے ایمان، اخلاق اور کھرے معاملات کے نتیجے میں خود بخود قائم ہوتی ہے۔
خود کو حد سے اندر رکھنے یعنی ’اسراف‘ سے بچنے اور سادگی اختیار کرنے کی ذمہ داری مسلمان پر زندگی کے ہرمعاملے میں ہے۔ ’اسراف‘ صرف خرچ کرنے کے معاملے میں نہیں ہوتا بلکہ کھانے، سونے اور بولنے کے معاملے میں بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی انسان کھانے کے معاملے میں اس سے زیادہ کھاتا (یا بناتا) رہے جتنی کہ اس کی ضرورت ہے۔ سونے کے معاملے میں اپنی نیند کی جائز ضرورت سے تجاوز کرے۔ بولنے میں غیرضروری طور پر اپنی بات کو طول دے یا ہرمسئلے پر ہرگھڑی کچھ نہ کچھ بولنے کی ضرور کوشش میں رہے، اور کسی مجلس میں بلاوجہ بولنے اور ہربات پر رائے زنی کی کوشش کرے تو یہ سب اسراف ہی کی صورتیں ہیں۔
مسلم معاشرے میں پائے جانے والے ’اسراف‘ کے دو عمومی اسباب ہیں:
صحابہ کرامؓ ’اسراف‘ کے حوالے سے کس قدر حساس اور محتاط تھے، اس کا اندازہ اس واقعے سے ہوتا ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ ایک دفعہ اپنے بیٹے کے پاس آئے۔ ان کے سامنے پکا ہوا گوشت سجا ہوا تھا۔ انھوں نے یہ دیکھ کر سوال کیا: ’یہ کیا ہے؟‘ بیٹے نے جواب دیا: ’’مجھے گوشت کھانے کی خواہش تھی تو میں نے خرید لیا‘‘۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ’’تمھارا جس چیز کو دل چاہے گا تو کیا تم اسے ضرور کھائو گے؟ انسان کے اسراف کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ ہروہ چیز کھائے جس کی اس کو چاہت ہو‘‘۔(کنزالعمال، رقم: ۳۵۹۱۹)
’اسراف‘ نمود، تصنع اور تکلف کا شکار ہونے کے باعث سادگی لوگوں کے لیے ایک ناگوار معاملہ بن گیا ہے۔ ’انفاق فی سبیل اللہ‘ کا جذبہ اور روح پامال ہورہی ہے۔ انسانی تعلق کی پاکیزگی متاثر ہورہی ہے اور اپنائیت کا احساس دشوار تر ہوتاجارہا ہے۔ مسلمانوں کی توانائیاں، وقت، مال اور صلاحیتیں، اسراف، نمود، تصنع اور تکلف میں ضائع ہورہی ہیں اور زندگی پیچیدہ اور بے معنی بنتی چلی جارہی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ معاملات ریاکاری، حرص، طمع اور حسد کو فروغ دینے کا باعث بنے ہیں اور جس کا نتیجہ مسلمانوں کی اخلاقی، نفسیاتی اور ایمانی صحت کی خرابی کی شکل میں قدم قدم پر ظاہر ہورہا ہے۔ حالانکہ قرآن کریم میں اس حوالے سے مسلمانوں کو بہت واضح تنبیہ کی گئی ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى۰ۙ كَالَّذِيْ يُنْفِقُ مَا لَہٗ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْيَـوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ فَمَثَلُہٗ كَمَثَلِ صَفْوَانٍ عَلَيْہِ تُرَابٌ فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَكَہٗ صَلْدًا۰ۭ لَا يَـقْدِرُوْنَ عَلٰي شَيْءٍ مِّـمَّاكَسَبُوْا۰ۭ وَاللہُ لَا يَہْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْنَ۲۶۴ (البقرہ ۲:۲۶۴)اے ایمان لانے والو! اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دُکھ دے کر اُس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت پر۔ اُس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔ ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔
’اسراف‘ کا شکار ہونے والے انسان کو حُب ِ مال ، حُب ِ جاہ ، ریاکاری میں مبتلا ہونے اور اخلاص سے محروم ہوجانے کا بھی خطرہ لاحق رہتا ہے اور پھر اسے اپنے ’اَسراف‘ پر دوسروں سے تعریفیں سننے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے۔ ریاکاری سے مراد وہ نیکی ہے، جو لوگوں کو دکھانے کے لیے کی جائے۔ حُب ِ مال اور ریاکاری کوئی چھوٹے مسئلے نہیں ہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق:’’مومن کے ایمان کو برباد کرنے اور اس کی تمام نیکیوں کو کھا جانے والے مسائل ہیں‘‘۔ (سنن ترمذی، رقم: ۲۳۷۶، صحیح مسلم، رقم: ۴۹۷۲)
’اسراف‘ کے نتیجے میں اخلاص سے محرومی کیا نقصان کرسکتی ہے، اس کا اندازہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمانِ مبارک سے ہوتا ہے جس کا مفہوم ہے: جو شخص اس علم کو، جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کی جاتی ہے، اس لیے سیکھتا ہے کہ اس سے دُنیا کا سازوسامان حاصل کرے، تو وہ قیامت کے دن جنّت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا (سنن ابی داؤد، رقم: ۳۶۶۴، صحیح بخاری، رقم: ۶۴۹۹)
ایک اور موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص دکھلاوے کے لیے کوئی عمل کرتا ہے، تو اللہ قیامت کے دن اسے رُسوا کر دے گا اور جو کوئی نیک عمل لوگوں کی نظروں میں بڑا بننے کے لیے کرتا ہے تو اللہ اس کے چھپے عیبوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کردے گا‘‘۔
وَالَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْيَـوْمِ الْاٰخِرِ۰ۭ وَمَنْ يَّكُنِ الشَّيْطٰنُ لَہٗ قَرِيْنًا فَسَاۗءَ قَرِيْنًا۳۸ (النساء۴:۳۸) اور (وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں) جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روزِ آخر پر۔ سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اُسے بہت ہی بُری رفاقت میسر آئی۔
سادگی بے بسی اور مجبوری کا سودا یا سمجھوتہ نہیں ہے بلکہ یہ اپنی رضا اور شعور کے ساتھ اختیار کی جاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی اصحابؓ ایسے تھے، جنھیں اللہ نے بہت مال و دولت سے نوازا تھا، لیکن مال دار ہونے کے باوجود ان کا طرزِ زندگی پُرتعیش نہیں تھا۔ ان کا رہن سہن، خوراک اور لباس وغیرہ بہت سادہ تھے۔ صحابہ کرامؓ نے اپنے مال کے ذریعے آسائشوں کا حصول نہیں کیا بلکہ اس کے ذریعے اپنی زندگی میں انفاق فی سبیل اللہ کو بڑھایا۔ ان کے مال کا ایک قلیل حصہ ان کی جائز ضروریات پر صرف ہوا،اور بڑا حصہ خیر کے کاموں میں لگا۔
سادگی چونکہ انسان کا ایک فطری وصف ہے، لہٰذا اس کو اختیار کرنے کی صلاحیت صرف اللہ کے ماننے والوں تک موقوف نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سادگی کی یہ جھلک ہمیں بعض فطرت پسند غیرمسلموں میں نظر آتی ہے۔ البتہ ایمان کے نتیجے میں جو سادگی کا حُسن و معیار قائم ہوسکتا ہے، وہ کچھ اور ہی ہوتا ہے۔ عہد ِ حاضر کے معاشرے اس وقت اپنے طرزِ زندگی سے سادگی کا مظاہرہ کرنے سے نہ صرف قاصر ہیں بلکہ اختیاری سادگی کا کوئی تصور بھی نہیں رکھتے۔
ایک مسلمان جو کچھ بھی اپناتا اور اپنے لیے پسند کرتا ہے، اس کے لیے اس کے پاس کوئی ایسی توجیہ ہونی چاہیے کہ وہ خدا کے لیے قابلِ قبول ہو۔ اگر مسلمانوں میں اپنے عمل کی جواب دہی کا یہ احساس پیدا ہوجائے تو سادگی اس کے فطری نتیجے کے طور پر رواج پائے گی۔ جواب دہی کے احساس سے عاری ہوجانے کا نتیجہ نفاق کی صورت میں نکلتا ہے اور انسان کو اللہ کی یاد سے غافل کردیتا ہے۔ اس کے طرزِ زندگی سے لے کر مراسمِ عبودیت تک سب کچھ دکھاوے کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں:
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ يُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَھُوَخَادِعُھُمْ۰ۚ وَاِذَا قَامُوْٓا اِلَى الصَّلٰوۃِ قَامُوْا كُسَالٰى۰ۙ يُرَاۗءُوْنَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُوْنَ اللہَ اِلَّا قَلِيْلًا۱۴۲ۡۙ (النساء۴:۱۴۲) یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکا بازی کر رہے ہیں، حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انھیں دھوکا میں ڈال رکھا ہے۔ جب نماز کے لیے اُٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اُٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے احکام اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ نمائی پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین!
گزرے زمانے میں معلومات کے تبادلے اور پیغام رسانی کےلیے قاصد روانہ کیے جاتے تھے جو پیدل سفر کرتے تھے۔ اس کے بعد یہی قاصد خچروں اور گھوڑوں پر سفر کرکے پہنچنے لگے۔ بعدازاں پھرکبوتروں کو تربیت دے کر اُن سے یہ کام لیا جانے لگا (بھارت میں یہ کام ۲۰۰۲ء تک لیا جاتا رہا ہے جہاں باقاعدہ ایک کبوتر کورئیر کمپنی موجود تھی جس کے پاس تقریباً ۸۰۰ تربیت یافتہ کبوتر موجود تھے)۔ اس کے بعد کچھ ترقی ہوئی اور ان کاموں کےلیے ڈاک کا باقاعدہ نظام متعارف ہوا۔ پھر اخبارات، ٹیلی فون، ٹیلی گرام، ٹیلیکس، ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر، ٹیلی ویژن، وی سی آر، موبائل فون، برقی ڈاک (Email)، سے ہوتے ہوئے ہم واٹس ایپ، انسٹا گرام، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، اسنیپ چاٹ، ٹک ٹاک اور نہ جانے کہاں کہاں تک پہنچ گئے جسے عصر حاضر میں سوشل میڈیا کا نام دیا گیا ہے۔
دُنیا واقعی ایک بین الاقوامی گاؤں (Globel Village) بن گئی ہے۔ دُنیا کے کسی کونے میں پیش آنے والا واقعہ لمحے بھر میں پوری دُنیا میں رپورٹ ہوجاتا ہے۔ یہاں تک تو بات درست ہے کہ صحیح خبریں اور معلومات فوری طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہیں ، لیکن ہر نئے مواصلاتی رابطے کی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر سوشل میڈیا پر حقائق سے ہٹ کر جھوٹ پر مبنی مواد، ویڈیوز، مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)کی کارگزاریاں اور افواہیں تیزی سے گردش کررہی ہیں ۔ گزرے وقتوں میں انھیں پھیلانے میں وقت لگتا تھا،جب کہ آج من گھڑت اطلاعات چند ہی لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پھیلانا بہت آسان ہے۔ اُردو میں ضرب المثل مشہور ہے کہ’جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے‘ مگر اب سوشل میڈیا کے ذریعے تو اس جھوٹ کے نہ صرف پاؤں ہیں بلکہ جھوٹ کے ایسے ’پَر‘ نکل آئے ہیں، جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گویا جھوٹ کا سیلِ رواں (سیلاب) ہے جو سب کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔
بچّے، بوڑھے، جوان، مزدور، کسان، افسر، سیاستدان، سماجی کارکن، فوجی ادارے، غرض ہرکوئی سوشل میڈیا کے سحر میں گرفتار ہے۔ جو ویڈیو یا پوسٹ بھی نظر سے گزرے اور وہ من بھاتی ہو تو اسے بغیر کسی تحقیق کے من و عن قبول کر لیا جاتا ہے ۔ سوشل میڈیا بے لگام ہے، جہاں خبروں کے نام پر بعض معلومات تو عمومی اخلاقیات کی حدود و قیود سے بھی آزاد ہوتی ہیں۔ ایک خاص ایجنڈے کے تحت ایک من مانی خبر گھڑی جاتی ہے، اور پہلے اسے ایک اکاؤنٹ سے شیئر کیا جاتا ہے، جس کے بعد بہت سے مخصوص اکاؤنٹس اسے مزید شیئر کر دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ پھیلتے پھیلتے یہ خبر عام صارفین تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ تب وہ اسے محض اپنی انگلی کی کھجلی مٹانے کے لیے بغیر کسی تصدیق کے شیئر کرنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ایس ایم ایس، واٹس ایپ، فیس بک، ایکس (ٹوئٹر) ، ٹک ٹاک، یوٹیوب اور میٹا میسنجر کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ کچھ جھوٹی خبریں خوش کن ہوتی ہیں لیکن جب ان کا بھانڈا پھوٹتا ہےتو خوش ہونے والوں کے سارے خواب چکنا چور ہوجاتے ہیں۔ گویا اُسے ایک دھوکے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے، جب کہ کچھ خبریں تجسس پیدا کرنے کے لیے تخلیق کی جاتی ہیں۔ ان خبروں سے لوگ نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں ۔ شوگر و بلڈپریشر، دماغی خلفشار، نفسیاتی مسائل اور نہ جانے کون کون سے مرض بڑھ جاتے ہیں۔ بعض جھوٹی خبریں جذباتیت کو ہوا دینے کے لیے پھیلائی جاتی ہیں جن میں مذہبی بھی ہوتی ہیں اور سیاسی بھی۔ بعض اوقات کسی مخصوص ادارے کو یا شخصیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشادموجود ہے:کَفٰی بِالمرءِ کَذِبًا أَنْ یُحدِّثَ بِکُلّ مَا سَمِعَ، ’’انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات ہی کافی ہے کہ وہ ہر ایسی بات دوسروں کو سنانے لگے جو اس نے کہیں سے بھی سن لی ہو۔ ‘‘(ابوداؤد: ۴۹۹۲)
بلا تحقیق افواہوں کی بنیاد پر کسی انسان کی عزت کو مجروح کرنا صرف جھوٹ ہی نہیں، بہتان بھی ہے، اور حقوق العباد میں سے ہونے کی وجہ سے زیادہ خطرناک اور سنگین جرم ہے، لیکن ہمارے موجودہ ماحول میں کسی شخص پر کوئی الزام عائد کرنا ایک کھیل بن گیا ہے، جس میں کسی تحقیق اور ذمہ داری کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی۔ بالخصوص اگر کسی شخص سے ذاتی، جماعتی، مذہبی، مسلکی یا سیاسی اختلاف ہو تو اس کی غیبت کرنا، اس پر بہتان باندھنا اور اسے طرح طرح سے بے آبرو کرنا بالکل جائز اور حلال سمجھ لیا جاتا ہے۔
بہتان لگانے والے کے بارے میں نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح ارشاد موجود ہے کہ ’’جس نے کسی کے بارے میں ایسی بات کہی (الزام لگایا ، تہمت ، یا جھوٹی بات منسوب کی) جو درحقیقت اس میں تھی ہی نہیں ، تو اللہ اسے (الزام لگانے والے، تہمت لگانے والے ، جھوٹی بات منسوب کرنے والے کو) دوزخ کی پیپ میں ڈالے گا۔ (وہ آخرت میں اِسی کا مستحق رہے گا) یہاں تک کہ اگر وہ اپنی اِس حرکت سے (دنیا میں) باز آجائے (رک جائے ، توبہ کر لے تو پھر نجات ممکن ہے)‘‘ ۔ (مسند أحمد : ۷/۴، سنن أبي داؤد : ۳۵۹۷ ، تخريج مشكوٰة المصابيح :۳ /۴۳۶، ۳۵۴۲)
ایک اور بات قابلِ تشویش ہے کہ احادیث، صحابہؓ و اسلاف کے اقوال اور تاریخی واقعات کی تصدیق کیے بغیراُنھیں آگے بڑھانے سے بھی دریغ نہیں کیا جارہا ، جب کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر مسلمان، معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بن کر زندگی گزارے۔ اس کے منہ سے جو بات نکلے، وہ کھری اور سچی ہو اور وہ اپنے کسی قول و فعل سے غیر ذمہ داری کا ثبوت نہ دے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ ۱۸ (قٓ ۵۰:۱۸) ’’انسان جو بات بھی زبان سے نکالتا ہے، اسے محفوظ رکھنے کے لیے ایک نگہبان ہر وقت تیار ہے‘‘ ۔
اس آیت کی تشریح میں صاحبِ تفہیم القرآن سیّد موودی لکھتے ہیں:
ایک طرف تو اللہ خود براہِ راست انسان کی حرکات و سکنات اور اس کے خیالات کو جانتا ہے، تو دوسری طرف ہرانسان پر دو فرشتے مامور ہیں جو اس کی ایک ایک بات کو نوٹ کررہے ہیں اور اس کا کوئی قول و فعل ان کے ریکارڈ سے نہیں چھوٹتا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں انسان کی پیشی ہوگی اس وقت اللہ کو خود بھی معلوم ہوگا کہ کون کیا کر کے آیا ہے، اور اس پر شہادت دینے کے لیے دو گواہ بھی موجود ہوں گے جو اس کے اعمال کا دستاویزی ثبوت لاکر سامنے رکھ دیں گے۔ یہ دستاویزی ثبوت کس نوعیت کا ہوگا، اس کا ٹھیک ٹھیک تصور کرنا تو ہمارے لیے مشکل ہے۔مگر جو حقائق آج ہمارے سامنے آ رہے ہیں انھیں دیکھ کر یہ بات بالکل یقینی معلوم ہوتی ہے کہ جس فضا میں انسان رہتا اور کام کرتا ہے، اس میں ہر طرف اس کی آوازیں، اس کی تصویریں اور اس کی حرکات و سکنات کے نقوش ذرّے ذرّے پر ثبت ہو رہے ہیں اور ان میں سے ہر چیز کو بعینہٖ انھی شکلوں اور آوازوں میں دوبارہ اس طرح پیش کیا جاسکتا ہے کہ اصل اور نقل میں ذرّہ برابر فرق نہ ہو۔ انسان یہ کام نہایت ہی محدود پیمانے پر آلات کی مدد سے کر رہا ہے۔ لیکن خدا کے فرشتے نہ ان آلات کے محتاج ہیں نہ ان قیود سے مقیّد۔ انسان کا اپنا جسم اور اس کے گردو پیش کی ہر چیز ان کی ٹیپ اور ان کی فلم ہے جس پر وہ ہر آواز اور ہر تصویر کو اس کی نازک ترین تفصیلات کے ساتھ جوں کی توں ثبت کرسکتے ہیں اور قیامت کے روز آدمی کو اس کے اپنے کانوں سے اس کی اپنی آواز میں اس کی وہ باتیں سنوا سکتے ہیں جو وہ دنیا میں کرتا تھا، اور اس کی اپنی آنکھوں سے اس کے اپنے تمام کرتوتوں کی چلتی پھرتی تصویریں دکھا سکتے ہیں جن کی صحت سے انکار کرنا اس کے لیے ممکن نہ رہے۔
اس مقام پر یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آخرت کی عدالت میں کسی شخص کو محض اپنے ذاتی علم کی بنا پر سزا نہ دے گا بلکہ عدل کی تمام شرائط پوری کر کے اس کو سزا دے گا۔ اسی لیے دنیا میں ہر شخص کے اقوال و افعال کا مکمل ریکارڈ تیار کرایا جا رہا ہے تاکہ اس کی کار گزاریوں کا پورا ثبوت ناقابلِ انکار شہادتوں سے فراہم ہوجائے۔(تفہیم القرآن، پنجم،سورۃ قٓ، حاشیہ ۲۱)
گویا یہ ایسی شہادت ہوگی جس پر انسان پکار اُٹھے گا: مَالِ ہٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَۃً وَّلَا كَبِيْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰىہَا۰ۚ (الکہف۱۸:۴۹) ’’یہ کیسی کتاب (ریکارڈ) ہے کہ کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں جو اس میں درج (موجود) نہ ہو‘‘۔
سوشل میڈیا پر پھیلتے جھوٹ کی صورت حال میں ایک انتہائی خطرناک بات یہ بھی ہے کہ غلط الزامات کے سیلاب میں حقیقی مجرموں کو پناہ مل گئی ہے، یعنی جو لوگ واقعی خطا کار اور بد عنوان ہیں، انھیں بدنامی کا زیادہ خطرہ نہیں رہا۔ اس لیے وہ یہ سوچتے ہیں کہ اگر کوئی خبر ہماری بد عنوانی کے حوالے سے عام ہوئی بھی تو وہ اسی طرح مشکوک سمجھی جائے گی، جیسے اور بہت سی بلا تحقیق باتوں کو سنجیدہ افراد مشکوک سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، چنانچہ بد عنوان افراد آرام سے بد عنوانیوں میں ملوث رہتے ہیں اور معاشرے میں بگاڑ عام ہوتا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ غیر محرم لڑکے لڑکیوں کا آوارہ پن، ان کے پوشیدہ رابطے، چوری، ڈاکے، دوسروں کا تمسخر اُڑانا وغیرہ عام ہوگیا ہے۔
لہٰذا مسئلے کی حقیقت معلوم ہوجانے کے بعد محض اس کو بُرا جان لینا یا اس کی مذمت کردینا مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر اسے تبدیل کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اس بات کا عہد کرے کہ آج کے بعد وہ جھوٹ اور مکرو فریب کے سیلاب میں نہ خود بہے گا اور نہ اپنے گھر، محلے ،دفتر، کاروبار اور سماجی رابطے کے لوگوں کو اس غلط کام کا مرتکب ہونے دے گا۔ وہ یہ کام امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سمجھتے ہوئے کرے گا۔ بہتر ہوگا کہ اب تک جس جھوٹ، بہتان وغیرہ جیسی پوسٹوں کے بنانے میں، انھیں شیئر کرنے میں جہاں تک ہم ملوث تھے، اُس پر اپنے ربّ سے سچی توبہ کرلیں اور آئندہ ذیل میں دیے گئے نکات پر عمل کی کوشش کریں، تو اُمید ہے کہ بہت سے گناہوں سے بچا جاسکتا ہے:
تخلیقِ کائنات کے بارے میں قرآنِ مجید میں ارشادِ ربانی ہے:’’ وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اور اُن ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرما ہوا‘‘(السجدہ۳۲:۴)۔ ربِّ کائنات کی صفتِ خلاقی بیان کرنے کے بعد بنی نوعِ انسان کو آگاہ کیا گیا کہ :’’ اُس کے سوا کوئی تمھارا حامی و مدد گارنہیں ہے ‘‘۔ یعنی اپنی ہرروحانی و مادی ضرورت کے لیے اسی خالقِ کائنات سے رجوع کرو کیونکہ وہی ان کو پورا کرتا ہے ۔ کسی اور کے آگے دستِ تعاون دراز نہ کرو کیونکہ وہی مشکل کشا ہے ۔
سورئہ سجدہ کی ابتدائی آیت کے تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے اسے دنیا سے اُخروی فلاح تک پھیلا دیا گیا۔ فرمانِ خداوندی ہے:’’اور کوئی(اپنی مرضی سے) اُس کے آگے سفارش کرنے والا نہیں ہے ‘‘(السجدہ۳۲:۴)۔ اس حقیقت سے آگاہ کرنے کے بعد حضرتِ انسان کو غورو فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: ’’پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے؟‘‘
اس تمہید کے بعد تخلیقِ انسانی کی بابت فرمایا ہے:’’جو چیز بھی اس نے بنائی خوب ہی بنائی۔ اُس نے انسانی تخلیق کی ابتدا گارے سے کی، پھر اُس کی نسل ایک ایسے ست سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے، پھر اس کو نِک سُک سے درست کیا اور اس کے اندر اپنی روح پھونک دی‘‘ (السجدہ۳۲:۷-۹)۔ یہاں نسلِ آدم کی مادی و روحانی تخلیق کی بابت فرمایا کہ اس کی ابتدا گارے سے کی گئی جو تمام انسانوں کی اجزائے ترکیبی ہے اور پھر اس جسدِ خاکی میں خالقِ کائنات نے اپنی روح پھونک کر اسے زندہ کردیا ۔ اس لحاظ سے تمام بندوں کے تخلیقی عمل میں کوئی تفریق و امتیاز نہیں رکھا گیا ۔ تمام انسانوں کا ہارڈ وئیر اور سافٹ ویئر (روح) کا مرجع اور منبع یکساں ہے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ بندوں پر اپنے احسانات کا ذکرکرتے ہوئے آگے انھیں خطاب کرکے فرماتے ہیں :’’ اور تم کو کان دیے، آنکھیں دیں اور دل دیے ‘‘ (السجدہ۳۲:۹)۔ ان بیش بہا نعمتوں سےبھی خالق ِ کائنات نے بلا امتیاز تما م لوگوں کو یکساں طور پر نواز دیا۔ اس بابت گورے یا کالے ، عربی یا عجمی، ملک ، علاقہ اور زبان وغیرہ کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں رکھا گیا لیکن ’’تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو‘‘۔ پھر بندوں نے اَز خود اپنے درمیان اونچ نیچ بنالی۔انسان دو حصوں میں بٹ گئے۔ ایک تو شکرگزار ہوکر مطیع و فرماںبردار بن جانے والے اور دوسرے کفر و انکار کی روش اختیار کرکےربّ کی نافرمانی کرنے والے یا شیطان لعین کی گمراہی کا شکار ہوجانے والے۔ ابتدائے آفرینش میں تخلیقِ انسانی کااعلان ہوا تو اس وقت فرشتوں کے ساتھ جنوں کا سردار ابلیس بھی موجود تھا ۔ارشادِ ربانی ہے :’’ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے‘‘۔ (الحجر ۱۵: ۲۶-۲۷)
کتابِ ہدایت میں اس منظرکو یوں بیان کیا گیاہے کہ:’’ پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمھارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ’’میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا‘‘۔ چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا‘‘ (الحجر۱۵:۲۸-۳۱)۔قرآن کریم کا یہ اعجاز ہے کہ انکارِ ابلیس کا سبب خود اسی کی زبانی بیان کر دیا گیا۔ فرمایا:’’رب نے پوچھا:’’اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟‘‘ اس نے کہا:’’میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘۔ (الحجر ۱۵:۳۲-۳۳)
ابلیس کے تکبراور آدم کی تحقیر کاسبب تقویٰ ، عبودیت یا صلاحیت نہیں بلکہ تخلیق کے اجزائے ترکیبی کا فرق تھا ۔ آگ کےگھمنڈ میں مبتلا ہو کر مٹی سے بنے آدم کے سامنے سجدہ ریز ہونے سے انکار کرنے والا ابلیس بھول گیا کہ وہ اس خالقِ کائنات کی نافرمانی کررہا ہے جس نے اپنی مرضی سے ان کے اجزائے ترکیبی طے کیے۔ اس میں دونوں کا کوئی عمل دخل نہیں تھا،لہٰذا فخروتحقیر بے معنٰی تھی مگر کبرو استکبار سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب کردیتا ہے ۔ اس لیے وہ اپنے خالق و مالک سے بغاوت کرکے یوں راندۂ درگاہ ہوگیا۔ ربّ تعالیٰ نے فرمایا:’’اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تُو مردود ہے، اور اب روزِ جزا تک تجھ پر لعنت ہے‘‘ (الحجر۱۵:۳۴)۔ اس وعید کے بعد بھی اپنی غلطی سے رجوع کرنے کے بجائے وہ اڑ گیا اورپلٹنے کے بجائے بغاوت کی مہلت طلب کرتے ہوئےعرض کیا :’’میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے، جب کہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے‘‘ ۔(الحجر۱۵:۳۶)
ربِّ کائنات نے جواب دیا:’’اچھا، تجھے اُس دن تک مہلت ہے جو ہمیں معلوم ہے‘‘ (الحجر۱۵:۳۷-۳۸)۔ ابلیس اپنی اس کامیابی پر ربِّ کائنات کو الزام دیتے ہوئے بولا:’’اے پروردگار! اس سبب سے جو تو نے مجھے گمراہ کیا میں (بھی) یقیناً ان کے لیے زمین میں (گناہوں اور نافرمانیوں کو) خوب آراستہ و خوش نما بنا دوں گا اور ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا، سوائے تیرے ان برگزیدہ بندوں کے جو (میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہیں‘‘ (الحجر۱۵:۳۹-۴۰)۔ خود پسند شیطانِ لعین کو جہاں یہ گمان تھا کہ وہ بنی نوع آدم کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ساتھ جہنم کا ایندھن بنانے میں کامیاب ہوجائے گا وہیں یہ اعتراف بھی موجود ہے کہ اللہ کی بندگی کے لیے اپنی زندگی وقف کردینے والے مخلص بندے اس سے محفوظ و مامون رہیں گے۔
اس کی تصدیق میں ارشاد ربانی ہے:’’ (اخلاص ہی) وہ راستہ ہے جو سیدھا میرے دَر پر آتا ہے، بے شک میرے (مخلص) بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا سوائے ان بھٹکے ہوؤں کے جنھوں نے تیری راہ اختیار کی، اور بے شک ان سب کے لیے جہنم کی وعید ہے ‘‘۔(الحجر۱۵:۴۱-۴۳)
یقینا یہ شیطان ساختہ عقیدہ ہی ہے کہ مختلف ذات و نسل کی تخلیق معبود حقیقی نے اپنے مختلف اعضا سے کی ہے نعوذ باللہ ۔ برہمن سر سے بنائے گئے اس لیے رُشدو ہدایت اور پوجا پاٹ کی ذمہ داری پر مامور ہیں ۔اس منصب میں کوئی اور ذات کا فرد داخل نہیں ہوسکتا۔ وہ مذہبی اشلوک نہ پڑھ سکتا ہے اور نہ اسے سنانے کا حقدار ہے ۔ کشتریوں کو بازوؤں سے بنایا گیا تاکہ اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں ر ہے ا ور جنگ و جدل بھی وہی کریں۔ کھیتی باڑی اور تجارت کے لیے ویش سماج کو پیٹ سے پیدا کیا گیا۔ اس لیے وہ پیٹ پوجا کی سہولت فراہم کرتے ہیں اور بیچارے شودر چونکہ پیروں سے بنائے گئے، اس لیے ان کا کام مذکورہ بالا تینوں ذات کے لوگوں کی بلا چوں چرا غلاموں کی مانند خدمت بجالانا ہے۔ وہ خود ساختہ اونچی ذاتوں کی خدمت کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کرسکتے۔ ان میں سے کوئی اگر ایسا کرتا ہے توگویا وہ مذہبی تعلیمات کے انحراف کی سزا کا مستحق ہے۔
انڈیا کی آزادی کے ۷۸ برس بعد بھی وہاں چھوت چھات عقیدے کے سبب صدرِ مملکت دروپدی مرمو کو جگن ناتھ مندر کےگربھ گرہ میں جانے سے روک دیا جاتا ہے، بلکہ ان کے پیش رو رام ناتھ کوند کی واپسی کے بعد مندر کو پاک بھی کیا جاتا ہے۔ ’سناتن دھرم‘ کا یہ بنیادی عقیدہ ہندو عوام کے قلب و ذہن میں اس قدر راسخ ہے کہ جب یادو سماج کا مکٹ منی بھاگوت کتھا سناتا ہے تو اس کو رُسوا کرنے کی خاطر اس کی چوٹی کاٹنے کے بعد سر بھی منڈوا دیا جاتا ہے۔ ۲۵ہزار روپے ہرجانہ وصول کرکے اسے پیشاب سے پاک کیا جاتا ہے۔ اس اہانت آمیز سلوک پر شرم کرنے کے بجائے بیش تر دھرم گرو اسے مذہبی صحیفوں کی بنیاد پرجائز ٹھیراتے ہیں ۔ ہندوستانی سماج کی اس برائی کو دُور کرنے میں دس سال کے لیے نافذ کیا جانے والا ریزرویشن ۷۰برس بعد بھی ناکام رہا۔
انڈیا میں ذات پات کے مسئلہ کو عملی اصلاحات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ظاہری طور پر کچھ نمائشی تبدیلیاں تو ہوجاتی ہیں مگر اندر کی خرابی باقی رہتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد میں کارفرما عقائد کو نہیں چھیڑا جاتا۔ یہی معاملہ دوسری شکلوں میں خود بہت سے مسلم معاشروں میں بھی کسی نہ کسی بدنُما صورت میں سر اُٹھاتا دیکھا جاسکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ صلاحیت ، مواقع، معاشی لحاظ سے لوگوں کے درمیان فرق ہے اور مصنوعی طور پر اسے مٹانے کی کوشش میں سوویت یونین خود ختم ہوگیا مگر خودروس کے اندر بھی وہ خلیج مزید وسیع ہوگئی ہے۔ وہاں اس فرق کا بنیادی سبب جاننے کی زحمت کرنے کے بجائے ریاست کی طاقت کے زور سے مصنوعی طور پر مساوات قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اشتراکی نظریے کی ناکامی کا بنیادی سبب ایک غیر حقیقی ہدف تھا جو اسے لے ڈوبا ۔
اس بارے میں قرآنِ مجید یہ کہتا ہے: ’’دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے ربّ کی رحمت (یعنی نبوت)اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو وہ (اِن کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں‘‘ (الزخرف ۴۳:۳۲)۔ اس آیت میں معاشی فرق کی حکمت اور دیگر نعمتوں کی اہمیت کا احساس دلایا گیا ہے۔ یہاں یہ حقیقت اُجاگر کی گئی ہے کہ ان مادی نعمتوں سے افضل رحمت ِالٰہی اس دنیا میں عزت و وقار کے ساتھ اطمینان و سکون کی زندگی اور آخرت کی ابدی کامیابی ہے ۔ اسی آیت میں معاشی فرق کی یہ حکمت بھی بتائی گئی ہے کہ اس کے سبب لوگ ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ خدمت کرنے والا ہی نہیں بلکہ خدمت لینے والا بھی اپنے خادم کا محتاج ہوتا ہے، بلکہ روزمرہ کے کاموں میں خدمت کرنے والے کی دوسروں پر احتیاج نسبتاً کم ہوتی ہے۔
معاشی ناہمواری کو کم سے کم کرنے کی خاطر دین اسلام نہ صرف زکٰوۃ و انفاق کو رواج دیتا ہے بلکہ یہ اہلِ ثروت کی فکر میں وہ انقلاب برپا کرتا ہے جو ازخود انھیں انفاق فی سبیل اللہ پر آمادہ کردیتا ہے۔ دنیوی وسائل کے حامل لوگوں کو قرآن حکیم میں اس حقیقت سے آگاہ کیا گیا ہے کہ: ’’وہی ہے جس نے تم کو زمین میں نائب بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر درجات میں بلند کیا، تاکہ وہ ان (چیزوں) میں تمھیں آزمائے جو اس نے تمھیں (امانتاً) عطا کر رکھی ہیں‘‘ (الانعام۶:۱۶۵)۔ اسلامی عقیدے کے مطابق یہ مادی وسائل امانت و آزمائش ہیں اور اس میں خیانت کرنے والوں کو خبردار کیا گیا کہ : ’’بے شک آپ کا رب جلد سزا دینے والا ہے ‘‘، نیز فرماں برداروں کو بشارت دی گئی ہے کہ :’’ بے شک وہ بڑا بخشنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا بھی ہے‘‘ (الانعام۶:۱۶۵)۔ انسانی معاشرے میں معاشی تفاوت کے مقابلے میں سماجی تفریق و امتیاز زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ اس بارے میں قرآن کی رہنمائی یہ ہے کہ :’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھاری پیدائش (کی ابتداء) ایک جان سے کی پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا، پھر ان دونوں میں سے بکثرت مردوں اور عورتوں (کی تخلیق) کو پھیلا دیا۔ اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور قرابتوں (میں بھی تقویٰ اختیار کرو)، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے‘‘۔(النساء۴:۱)
انسانی مساوات کے اس عالمی پیغام نے دنیا کے سارے انسانوں کو اولادِ آدم کی حیثیت سے ایک خاندان کا فرد بنا دیا ۔ ان کے درمیان پائے جانے والے ظاہری فرق کی بابت بتایا گیا: ’’اے لوگو! ہم نے تمھیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا فرمایا اور ہم نے تمھیں (بڑی بڑی) قوموں اور قبیلوں میں (تقسیم)کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو‘‘ (الحجرات ۴۹:۱۳)۔ گویا یہ فرق تذلیل و تحقیر کے لیے نہیں بلکہ شناخت کے لیے ہے۔ اس کے لیے فضیلت کی یہ کسوٹی فراہم کی گئی کہ :’’ بے شک اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزّت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک اللہ خوب جاننے والااور خبر رکھنے والا ہے‘‘ (الحجرات ۴۹:۱۳)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلمنے بھی حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے میں فرمایا:’’اے لوگو! تمھارا رب ایک ہے، تمھارا باپ ایک ہے۔ سنو کسی عربی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر اور نہ کسی کالے کو کسی گورے پر سوائے تقویٰ کے‘‘(مسنداحمد:حدیث ۲۳۵۳۶)۔ پرہیزگاری و خداخوفی دل کی ایسی کیفیت ہے کہ جسے ناپا اور تولا نہیں جاسکتا ۔ اس کا علم صرف خدا کو ہے کہ کون کتنا متقی ہے؟اس لیے پرہیزگاری کے معاملے میں مسابقت کی سعی تو ہونی چاہیے مگر تقویٰ میں تکبر کی کوئی گنجائش نہیں۔
معاشرے میں تفریق و امتیاز کا سبب ایک دوسرے کی تذلیل ہے مگر دین اسلام میں تضحیک و تذلیل تو کیا، معمولی تمسخر کی بھی گنجائش نہیں ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے:’’اے ایمان والو! نہ تو مرد دُوسرے مردوں کامذاق اُڑائیں، کیا عجب ہے کہ جو لوگ مذاق اُڑارہے ہیں اُن سے وہ لوگ بہتر ہوں جن کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔ اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے، ممکن ہے کہ جو عورتیں ہنسی اُڑانے والی ہیں، اُن سے وہ عورتیں بہتر ہوں جن کی ہنسی اُڑائی جارہی ہے۔آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُرا ہے اور جو توبہ نہ کریں گے تو وہی لوگ ظلم کرنے والے ہوں گے‘‘(الحجرات ۴۹:۱۱)۔ اس طرح دیگر قوموں کی تذلیل و تحقیر کا سدّباب کردیا گیا ہے۔
آج کے ہندوستان میں ذات پات کی لڑائی کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ دین اسلام میں اس کی سخت ممانعت ہے بلکہ افراد یا گروہوں کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کی صورت میں دونوں فریقوں کے درمیان صلح کرانے کاحکم دیا گیاہے۔ ارشادِ خداوندی ہے : ’’ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں، تم اپنے بھائیوں میں صلح کرادیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے‘‘ (الحجرات ۴۹:۹)۔ یہ معاملہ صرف اہل ایمان تک محدود نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے قبل ’حلف الفضول‘ نامی معاہدے میں شرکت کرکے غیر مسلم قبائل کے درمیان صلح صفائی کرائی، تاکہ قبائلی دشمنی کا خاتمہ کرکے قتل و غارتگری پر روک لگائی جاسکے۔ مدینہ منورہ کے اندر بھی آپؐ نے مختلف قبائل کے ساتھ امن و آشتی کا معاہدہ کیا ۔ اس سے مختلف قبائل کے بیچ بھائی چارہ بڑھا اور باہمی اعتماد پیدا ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح صفائی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا :کیامیں تمھیں روزہ، نماز اور صدقہ سے افضل عمل نہ بتاؤں؟ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی: یا رسولؐ اللہ! ضرور بتائیے۔ارشاد فرمایا: وہ عمل آپس میں ناراض لوگوں کے درمیان صلح کرا دینا ہے کیونکہ روٹھنے والوں میں ہونے والا فساد صفائی کرکے رکھ دینے والا ہے۔ بالوں کی صفائی نہیں، بلکہ دین کی صفائی۔ (ابوداؤد: ۴۹۱۹، ترمذی: ۲۵۰۹)
ذات پات کی تفریق کے علاوہ سماج میں جنس کی بنیاد پر بھی معاملات ہوتے ہیں۔ اس کو ختم کرنے کی خاطر قرآن مجید کی ایک بنیادی تعلیم یہ ہے کہ : ’’جو کوئی نیک عمل کرے (خواہ) مرد ہو یا عورت،جب کہ وہ مومن ہو، تو ہم اسے ضرور پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے، اور انھیں ضرور ان کا اجر (بھی) عطا فرمائیں گے ان اچھے اعمال کے عوض جو وہ انجام دیتے تھے‘‘ (النحل۱۶:۹۷)، یعنی اُخروی فلاح کے معاملے میں مردو عورت کے اجر و ثواب میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس حقیقت کو نہایت تفصیل کے ساتھ یوں بیان کیا گیا کہ:’’ بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، اور مومن مَرد اور مومن عورتیں، اور فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں، اور راست باز مرد اور عورتیں، اور صبر والے مرد اور صبر والی عورتیں، اور عاجزی والے مرد اور عاجزی والی عورتیں، اور صدقہ و خیرات کرنے والے مرد اور صدقہ و خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں، اور کثرت سے اللہ کا ذکر کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ نے اِن سب کے لیے بخشش اور عظیم اجر تیار فرما رکھا ہے‘‘۔ (الاحزاب ۳۳:۳۵)
ذات پات کی بنیاد پرغیر انسانی اعمال کا جواز فراہم کرنے کی خاطر توحید کے بجائے شرک کو فروغ دے کر برہمنوں کو پرستش کے قابل بنادیا گیا ۔ اس باطل عقیدے کو مضبوط تر کرنے کی خاطر تناسخ کا عقیدہ گھڑا گیا جس کے مطابق اس جنم میں شودر اپنے پچھلے جنم کے گناہوں کی سزا بھگت رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اس کی مدد کرنا تو دُور ہمدردی کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق ایک مظلوم کے لیے سماج میں اپنی حیثیت بحال کرنے کی خاطر اس جنم میں نام نہاد اعلیٰ ذات کےلوگوں کی خدمت کرکے اسے اپنا اگلا جنم سنوارنے کے سوا کوئی اور سبیل نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مرنے سے قبل کوئی ذات پات کے جنجال سے نکل ہی نہیں سکتا۔ اسی لیے یہ محاورہ بن گیا کہ ’ذات نہیں جاتی‘ یہاں تک کہ انسان اس جہانِ فانی سے رخصت ہوجاتا ہے۔ عقیدۂ آخرت ہی اس بیماری کا علاج ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے:’’اور یہ لوگ کہتے ہیں: ’’جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھر نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟‘‘۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں ۔ اِن سے کہو:’’موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پورا کا پورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رب کی طرف پلٹا لائے جاؤ گے‘‘ (السجدہ ۳۲:۱۰-۱۱)۔ یہ حقیقت ہے کہ توحید و رسالت کے ساتھ آخرت کا عقیدہ اپنائے بغیرکوئی بھی معاشرہ تفریق و امتیاز کے ناسور سے چھٹکارا نہیں پاسکتا ؎
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں
مقام:مصر کے شہر قاہرہ میں، ’بابِ خُلق‘ کے قریب واقع سب سے قدیم جیل۔ اس جیل سےسزائے موت کے قیدیوں کے لیے سزا کے عمل درآمد تک انتظار گاہ کا کام لیا جاتا تھا۔
دن: اتوار، تاریخ : ۲۸؍اگست ۱۹۶۶ء، وقت: صبح صادق۔
منظر:مصر کے شہر قاہرہ کی ایک قدیم مشہور جیل کی عمارت کے اوپر لگے ہوئے ایک بہت بڑے پول پر ایک سیاہ پرچم لہرا رہا ہے۔
ہر شخص اس بات کو جانتا اور سمجھتا تھا کہ اس کالے جھنڈے کو اِس وقت لہرانےکا صرف اور صرف ایک ہی مطلب ہےاور وہ یہ ہےکہ اس صبح کو،تھوڑی ہی دیر بعد ،کسی شخص کی سزائے موت کے حکم پر عمل درآمد ہونے والا ہے۔مگر شاید کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اس مرتبہ پھانسی کایہ حکم مصر کی تاریخ کاایک اہم حصہ بن جائے گا، بلکہ وہ اِس دور کے رازوں میں سے ایک اہم ترین راز ہو گا اور اس کے اثرات آنے والے دور کے ہر ماہ و سال پر پڑیں گے۔
سزائے موت کےاس حکم پر عمل درآمدکے نتائج اوراثرات کا چونکہ مصر کے امن و امان کی صورتِ حال پر اثرانداز ہونے کا خدشہ تھا، اِس لیے حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ سزائے موت کے اِس فیصلے پر عمل درآمد بڑی رازداری سے کیا جائے،تاکہ مصر کی گلیوں، بازاروںاور سڑکوں پر خاص طور پر اور عالمِ عرب کی شاہراہوں پر عام طور پر،ہر جگہ عوامی جذبات نہ بھڑک اُٹھیں۔ اس لیے بھی کہ اس کی خبر ملکی اور بین الاقوامی خبررساں ایجنسیوں اور اداروں تک نہ پہنچنے پائے،جو ہر وقت اس طرح کی خبروں کی تلاش اور ٹوہ میں لگی رہتی ہیں، اور ان خبروں کو تفصیل کے ساتھ دوسرے اداروں تک منتقل کرتی رہتی ہیں۔
اس کے علاوہ ایک اور اہم وجہ یہ بھی تھی کہ حکومت میں موجود بعض بااثر اوربااختیار لوگ ایسے بھی تھے،جو پھانسی کے حکم پر عمل درآمد نہیں چاہتے تھے اور ہر صورت میں اور ہر قیمت پر اس کو رُکوانا چاہتے تھے۔ وہ اس معاملے میں مداخلت کرنے کی کوشش کررہے تھے، تاکہ ان کو بھی اس بات کا پتہ نہ چلے۔
حکومت کی طرف سے اس خبر کوباہر نکلنے سے روکنے کےلیے ذرائع ابلاغ کو بڑے سخت اور دو ٹوک احکام جاری کر دیے گئے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچھ صحافیوں کو اس حکم پر عمل درآمد ہوجانے کے کئی گھنٹے بعد بھی اس بات کا پتہ نہ چل سکا۔
اس سب کے باوجود بعض ’خوش نصیب‘حضرات اس شرط پر اس موقع پر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ جیل کی عمارت سے اس طرح باہر آئیں گے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دیں گے کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں یا جیسے ان کو کسی بات کا کچھ پتہ نہیں، اورنہ کسی سے کوئی بات کریں گے۔
ان میں سے کوئی تو اس بات سے ڈر رہا تھا کہ ’جلاد‘ اس کے عزیزواقارب کو نہ بتا دے کہ وہاں کیا ہوا،اور کہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت ِ وقت کو،اس خبر کو اِفشا کرنے کا جرم کرنے والا ، مجھ صحافی کے علاوہ کوئی اور نہ ملے اور پھر زندگی بھر اسے اِس کی قیمت ادا کرنا پڑے اور اپنے کیے کی سزا بھگتنا پڑے۔ اس لیے وہ اور اس کے علاوہ ہر صحافی یہ چاہتا تھا کہ وہ اس’جلاد‘ کے ساتھ دوستانہ تعلق بنائے،اس کے قریب تر ہو اور وہ’جلاد‘کی رضا اور خوشنودی کا طالب اور خواہش مند تھا۔اس کے ساتھ ہر ملاقات میں وہ اس کو اس بات کی نصیحت کرتا کہ وہ کسی کو اس کے صحافتی پیشہ کے بارے میں کچھ نہ بتائے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ حکومت اس کو بھی پھانسی پر لٹکا دے۔
ہر وہ بات جس سے کہ ہر صحافی ڈرتا تھا ، با لکل اسی بات سے ’جلاد‘ بھی ڈرتا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ صحافی جب بھی اپنے کسی دوست یا عزیز سے ملے گا اور وہ ان کو اس بارے میںکچھ نہیں بتائے گا خواہ وہ اسے کچھ بھی کہتےرہیں۔
حکومت کی خفیہ ایجنسیوں نے خوف و ہراس کی ایسی فضا پیدا کردی تھی کہ ہر کوئی دوسرے شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ بھائی اپنے بھائی کومشکوک نظروں سے دیکھتا تھا اور دوست اپنے دوست پر بھروسا نہیں کرتا تھا۔
نام: سیّد قطب ابراہیم۔ عمر: ۶۰ سال۔ پیشہ: سابق استاداوربہترین اسلامی اسکالروں میں سے ایک ۔ جرم: حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے گھڑی کی سُوئیاں بڑی سُست رفتار سے چل رہی ہوں۔وہ شخص، جس کی سزائے موت کا حکم تھا، خوف اور وحشت کے اس ماحول میں بھی ،سب سے زیادہ بہادر، دلیر اور شجاع دکھائی دے رہا تھا اور اس کی شخصیت کے رُعب اور دبدبےکی وجہ سے، یوں لگ رہاتھا کہ موت، اس سےدُور بھاگ رہی تھی، جب کہ وہ شخص ،شہادت کی آرزو میں، اور اپنے ربّ سے ملاقات کے شوق میں ،اُسی موت کی تلاش اور جستجو میں اس کے پیچھے پیچھے تھا اوراس کو گلے لگانے کے لیے ہر لمحہ آمادہ اورتیار تھا۔
سزائے موت پر عمل درآمد کی تاریخ میں ایسا پہلی بار___ اور شاید آخری بار ہو رہا تھا،کیونکہ ’جلاد‘ جیسا کہ نظر آرہا تھا، اور اس کے سینے میں بھی ایک دھڑکتا ہوا دل تھا، ایسالگ رہا تھا کہ آج اس کو ’پھانسی‘ دینے کے فن اور ہنر کا کچھ پتہ نہیں اور وہ اس پیشے کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، حالانکہ یہ کام وہ اس سے پہلے کئی بار کر چکا تھا۔یُوں لگتا تھا کےآج اس کادِل اس کام کے کرنے کو،یعنی سزائے موت کے اس حکم پر عمل کرنے کو،نہیں چاہ رہاتھا۔
ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ وہ جس شخص کی سزائے موت پر عمل درآمدکرنے والا تھا، اسے یوں لگ رہا تھا کہ وہ اس کو پہلے سے جانتا ہے اوربہت قریب سے جانتا ہے،حالانکہ وہ آج سے پہلے اس سےکبھی نہیں ملا تھا۔البتہ اس نےاپنے قریبی لوگوں سے،اپنے جاننے والوں سے،اور دوستوں سے اس کے بارے میں بہت کچھ سُن رکھا تھاجو اس کی یادوں میں محفوظ تھا۔اس کے لیے اب یہ بڑی مشکل اور نا مناسب بات تھی کے وہ اُس شخص کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے جو اس کے نزدیک انتہائی قابلِ اِحترام ہے۔اِس سے بھی زیادہ نا ممکن اور حیرت ناک بات یہ تھی کہ ’جلاد‘ اس کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالے اور وہ سزائے موت پانے والا شخص اس کو مُسکراتے ہوئے، خندہ پیشانی سے دیکھے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ سید قُطبؒ عین ان لمحات میں بھی ’جلاد‘ کو انھی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
سزائے موت کے حکم، اس کے اسباب اور وجوہ کو پڑھے جانے کے بعد اب ایک اور ’اہم بات‘اور ’کارروائی‘بھی بہت ضروری تھی جو کہ وزارتِ اوقاف نے اپنےایک ’واعظ‘ یعنی ایک سرکاری مولوی صاحب کے ذِمہ لگائی ہوتی ہے کہ سزائے موت سے پہلے وہ ملزم کو ’کلمۂ شہادت‘ پڑھائے،لہٰذا’واعظ‘نے سیّد قطب ؒسے کہا کے وہ کلمۂ شہادت پڑھیں:اشھد ان لا الٰہ اِلَّا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ۔
یہ سن کر،سیّد قطبؒ بڑے خوشگوار انداز میں مسکرائے اور’واعظ‘کے کاندھے پر بڑے شفیقانہ انداز میں تھپکی دےکر فرمانےلگے کہ: تیرا کیا خیال ہے کہ میں اس مقام تک اس ’کلمۂ شہادت‘ کے بجائے کسی اور وجہ سے پہنچاہوں؟اس حکمت اور دانائی کی بات سے،اس انتہائی نازک وقت میں بھی سیّد قطبؒ نے ’کلمۂ شہادت‘ کے اصل پیغام اور تقاضے کو اس ’واعظ‘کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پہنچا دیا۔
سیّد قطب ؒکے یہ الفاظ سننا تھے کہ ’واعظ‘ان کی شخصیت کے رُعب اوردبدبے کی وجہ سے سہم سا گیا۔ اس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔ ندامت اور شرمندگی اس کے چہرے پہ نمایاں تھی اور اس کی زبان لڑکھڑا رہی تھی،لیکن سیّد قطبؒ جیسے عظیم اورشفیق انسان کی محبت اور شفقت بھری نگاہوں نے ’وَاعِظ‘ کواس صورتِ حال میں سہارا دیا۔اس ذمہ داری پر مامور ’واعظ‘ صرف ایک اور روایتی جملہ دُہراتا ہے: ’’کیاآپ کے دل میں کوئی خواہش ہے؟‘‘ یعنی آپ کی کوئی آخری خواہش؟۔
لیکن اس کے جواب میں ،اس عظیم انسان نے اپنی کسی خواہش کا اظہار نہیں کیا،کیونکہ ان لمحات میں سیّد قطب ؒ جیسی شخصیت کے لیے،اپنے خالق حقیقی، مالِک اور رَب سے ملاقات کی تمنا اور خواہش سے زیادہ قیمتی اور بڑی کوئی اورشے کیا ہوسکتی تھی کہ اس کی تمنا اور آرزوکی جائے ؟
اس لیے بھی کہ سیّد قطبؒ ، سورۂ فجر کی آخری چار آیات کی روشنی میں، جلد سے جلد،اپنے ربّ کی اس پکار پر لبیک کہنے کے لیے بے تا ب،آمادہ و تیار تھے کہ ’’اے نفس مطمئنہ، تُو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آ کہ تواس سے راضی ہواور وہ تجھ سے راضی ہو، لہٰذا اب تُومیرے پسندیدہ اور محبوب بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہو جا‘‘۔اور اس موقع پر وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی اور بات، کوئی اور تمنا یا خواہش ان کے اس نصب العین کے راستے میں رکاوٹ بن جائے، اور اس طرح کی کوئی ’سرکاری‘ قسم کی کارروائی ،ان کے لیے تنگ دِلی کا باعث بن رہی تھی۔کیونکہ ایسی کوئی بات ان کے نزدیک،ان کے عظیم ربّ اور سب بادشاہوں کے بادشاہ سے ملاقات کی راہ میں تاخیر کا سبب بن سکتی تھی۔
سیّد قطب ؒ پھراس جگہ کی طرف آگےبڑھے،جہاں پر ان کی موجود ہ عارضی دُنیوی زندگی کی مہلت ختم ہونے والی تھی اوروہ یہ بات اچھی طرح سےجانتے اور سمجھتے تھے کہ جس کوٹھری میں اب وہ جا رہے ہیں، یہ وہ آخری جگہ ہے ،جس کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور پھر اسی کمرے میں سے ان کی رُوح اُن کےاس مادی جِسم سےنکل کر آسمان کی طرف پرواز کر جائے گی اور اس کے بعد اس کمرے سے صرف ان کا بے جان جسم ہی نکلے گا جس میں دِل کی دھڑکن اور سانس نام کی کوئی چیز نہ ہو گی۔
لیکن سیّد قطب ؒ اپنے مقصد کی لگن میں ،بڑےپختہ عزم اورارادے کے حامل تھےاور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ان کا نصب العین بڑا اعلی اورارفع تھا۔ سب سے پہلےاگرچہ ان کی نظر اُس رسّہ پر پڑی جو پھانسی گھاٹ کی چھت سے نیچے لٹک رہاتھا،لیکن ان کی نظروں کا اصل ہدف یہ رسہ نہ تھا، بلکہ ’کلمۂ شہادت‘کی دھیمی آواز سےادائیگی نےان کوذہنی طور پرکسی اور ہی جہان میں پہنچا دیا تھا جواِس جہان سے بہت زیادہ مختلف ہے۔
یہ سب اخبارات اس صبح کو اس سے زیادہ کچھ نہ کر سکے کہ قاہرہ میں موجود فرانسیسی سفارت خانے پر ہونے والے صومالی طلبہ کے ایک حملے کے جواب میں مزاحمت کے نتیجے میں وفات پانے والے ایک سپاہی کی موت کی خبر اپنے اخبار کے پہلے صفحے پر نمایاں طور پر شائع کرسکیں۔ یوں لگتا تھا کہ سپاہی عبدالمنعم کی موت کی خبر،مصری اخبارات پڑھنے والوں کے لیے ،اس دور کےاسلام کے داعی کی پھانسی کے ذریعے شہادت کی خبر سے زیادہ اہم اور ضروری تھی___ یا شاید یہ بات تھی کہ صومالی طلبہ کے حملے کے جواب میں عسکری عبدالمنعم کی مزاحمتی جدوجہد ، افضلیت اور مرتبے کے لحاظ سےاس دورکےعظیم اور مشہور مفکرِ اسلام کی،اسلام کے دشمنوں کے خلاف جہاد اور ان کی دینِ حنیف کے لیے دعوت سے زیادہ اہم تھی۔
ذرا غور فرمایئے اس بات پر کہ روزنامہ کہتا ہے کہ ’’ سزائے موت ۲۹؍ اگست کےدن فجر کے وقت دی گئی، جب کہ یہ کام اس دن کی فجر سے چوبیس گھنٹے پہلے ہو چکا تھااور اس سے بھی زیادہ حیران کن اور عجیب بات یہ تھی کہ اس روزنامہ نے سیدقطب ؒ کی سزائے موت کی خبر کے سامنے والے کالم میں ایک فلم امراۃ من النار کی خبر شائع کی اور سیّد قطب ؒ شہید اور ان کے دونوں ساتھیوں کی شہادت کی خبر کے نیچے ایک فلم الاصدقاء الثلاثہ یعنی تین دوست ، کے بارے میں ایک خبر لگادی ۔خبروں کی اس طرح کی ترتیب سے روزنامے کا یہ مقصد ہر گز نہیں تھا کہ قارئین کی توجہ کو سیّدقطب ؒ اور ان کے دو ساتھیوں کی شہادت کی طرف مبذول کیا جائے۔
روزنامہ الاخبارکے آخری صفحہ پر ایک کالم ’فکرۃ‘ کے عنوان سے شائع ہوتا تھا ،اس روز یہ اخباراس کالم کے بغیر شائع ہوا ۔ یہ کالم اب ایک بڑے صحافی علی امین ؒ لکھتے تھے کیونکہ حکومت نے فکرۃ کے کالم نگار،عظیم صحافی، مصطفےٰ امین کی اس دن سے کچھ ہی دن پہلے گرفتاری کا حکم دے دیا تھا۔اس وجہ سے علی امین اس بات پرمجبور ہو گئے کہ اپنے لندن کے سفر سے واپس نہ آسکیں۔
پھانسی گھاٹ کی چھت کے ساتھ مضبوطی سے بندھا ہوا ایک رسہ نیچے لٹک رہا تھا،اس کا نچلا حصہ گردن کے گرد ڈالنے کے لیے دائرے کی شکل میں ایک گولائی لیے ہوئے تھا اور اس کے ساتھ وہ رسی بھی تھی جس کو کھینچ کر ’جلاد‘ ایک زندہ انسان کی زندگی کی مہلت کو ختم کر دیتا ہے۔
lتب جان بچانا ممکن تھا، لیکن ___: سیّد قطب ، اگر صدر جمال عبد الناصر سے رحم کی اپیل کرتے تو ان کے لیے اپنی جان بچانا ممکن تھا۔ سیّد قطبؒ کے لیےاس طرح کی درخواست اَخوان کے بہت سے احباب نے پیش بھی کی، اور بعض حضرات نے تو اس سزا کوقید بامشقت میں تبدیل کرنے کی درخواست بھی کی، لیکن سیدقطب نے اپنی زندگی کی بھیک ،صدر جمال عبدالناصر سے مانگنے سے انکار کر دیا ،کیونکہ ان کے نزدیک زندگی کا معنی اور مفہوم اس سے بہت مختلف تھا، زندگی کا جو مفہوم جمال عبدالناصر کے نزدیک تھا۔ سیّد قطب ؒکے ان دو اخوانی بھائیوں نے بھی رحم کی اپیل کرنے سے انکار کردیا،جن کو سیّد قطب ؒ کی شہادت کے صرف پانچ منٹ بعدپھانسی دے دی گئی۔ یہ دونوں حضرات محمد یوسف ھواشؒ اور عبدالفتاح اسما عیلؒ تھے۔
یہ تینوںحضرات یہ بھی جانتے تھے کہ جس عدالت نے ایک شخص ’الدّجوی‘ کی سربراہی میں سزائے موت کا یہ فیصلہ سنایا ہے، وہ مصری تاریخ کی ظالم ترین اور بد ترین عدالت ہے۔ یہ عدالت محض ٹیلی فون کالوں کے ذریعے اپنے آمرانہ اورظالمانہ فیصلے سناتی تھی اور عام اجلاسوں میں ان کا اعلان کر دیتی تھی۔
اخوان کے یہ تینوں رہنما ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بھی جانتے تھے کہ ’ظلم ،قیامت کے اندھیرے ہیں‘۔ یہ تینوں رہنما،یہ بھی جانتے تھے کہ مصری قوم ان ظالمانہ فیصلوں کی کبھی بھی تائید اور توثیق نہیں کرےگی۔ بلکہ مصری قوم کو اس بات کا احساس اور شعور بھی اچھی طرح سے ہوتا جارہا تھا کہ جن لوگوں کے مقدمات فوجی عدالت میں چلائے گئے ہیں اور ان کو موت جیسی سزا دی جارہی ہے، وہ بالکل بے گناہ ہیں اور مصری معاشرہ کے نیک اور صالح افراد ہیں۔ خاص طور پہ یہ بات کہ یہ وہ فوجی عدالت ہے جس کاسربراہ ’الدّجوی‘ نام کا ایسا شخص ہے کہ جس کے فیصلے اس کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی لوگوں کی زبانوں پر ہوتے تھے، یعنی عوام کو فیصلوں سے پہلے ہی پتہ ہوتا تھا کہ کیا فیصلہ آنے والاہے؟
مصر کے عوام کو کچھ پتہ نہ چلا کہ کیا ہوا ہے؟،اتنا بڑا حادثہ اورایک خوف ناک سانحہ رُو نما ہوا تھا،مگر کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔
’سزائے موت‘ کے بعد ، سیّد قطب شہیدؒ کا کمزور،نحیف وضعیف اوربے جان جسم اسی جگہ پر لٹک رہا تھا،اورمصر کی حاکم سیاسی قیادت یہ سمجھ رہی تھی کہ اس نے ایک اسلامی فکر کو ’سزائے موت‘ دے دی ہے اوراسے مزید پھیلنے سے روک دیا ہے یا انھوں نے ’اخوان‘ کی فکر کا گلا دبا دیا ہے، یا ان کی عقل و فہم اورغور و فکر کی صلاحیت کا گلا گھونٹ دیا ہے، جب کہ اصل بات ،صرف اور صرف یہ تھی کہ انھوں نے صرف ’سیّد قطب ؒ، اور ان کے دو ’اخوانی‘ بھائیوں کے جسموں کو پھانسی دی تھی اور صرف ان کا گلا گھونٹا تھا۔ وہ اخوان کی اسلامی فکر ، اسلامی سوچ اوران کی عقل و فہم اور غوروفکر کرنے کی صلاحیت کو سلب نہیں کر سکتے تھے، اس لیے نہ کرسکے ۔
اِنّ بطش ربک لشدید، یعنی تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے۔
۔۔۔اور پھر ایک آسمانی آفت اور مصیبت ٹوٹ پڑتی ہے۔
اب ’مکافات عمل‘ یعنی اس کا قدرتی اور فطری ردِّ عمل شروع ہوتا ہے،اورایک آسمانی آفت اور ایک مصیبت،مصر اوراہلِ مصر پر ٹوٹ پڑی۔ اس کائنات ارض و سما وات کا خالق، مالک اور حاکم جواپنے تین نیک ، صالح اور بے گناہ بندوں کی ناحق سزا کا منظر دیکھ رہا تھا، اوروہ یہ جانتا تھا کہ میرے یہ بندے ،ظالموں کے سامنے بے بس اور لاچار ہیں اور ظالموں کو تنبیہ کرنے اور خبردار کرنے کے سارےسامان اور طریقے اس کے پاس ہیں۔ لہٰذا اس نے اپنے غضب اور ناراضگی کے کچھ آثار فوری طور پر نازل فرما دیئے۔آسمان والا زمین والوں کے اس ظلم پر کس قدر غضب ناک تھا، اس کے غیظ و غضب کااظہار کس طرح سےہوا؟
سیّد قطبؒ کی شہادت کے اگلے روز ، سوموار کے دن ،تمام عالم عرب میں سیّد قطب شہیدؒ اور ان کے دونوں ’اخوانی‘ ساتھیوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔اس موقع پر تیونس کے ایک بڑے سیاسی رہنما نے کہا کہ ’’ اللہ تعالیٰ ، اس عظیم عالمِ دین کے خون کا بدلہ مصر کے اس حاکم سے ضرور لے گا‘‘۔
اور پھر ظالم کی ذلّت، رسوائی اور پسپائی کا دور شروع ہوتا ہے۔ سیّد قطبؒ اور ان دونوں ’اخوانی‘ بھائیوں کی شہادت کو ابھی چند ہفتے نہیں گزرے تھے کہ صدر جمال عبد الناصر بیمار پڑ گیا، اس کو کوئی بہت بڑی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔اب مصر پر یکے بعد دیگرے بحرانوں اور مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ادھر مصر کے سیاسی رہنما اور قائدین مصر کے تخت کو ہلارہے تھے، اور لوگوں کو انقلاب اور تبدیلی پر اُکسا رہے تھے، اور گرتی ہوئی دیواروں کو آخری دھکا دے رہے تھے۔وہ عالمی سامراجی قوتوں کو چیلنج کر رہے تھے اور للکار رہے تھے اور اسرائیل کو سمندر میں غرق کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔صدر ناصر علاج کے لیے بڑی خاموشی سے اور خفیہ طور پرروس کی ایک ریاست جارجیامیں واقع، ایک شہر’ تسخالطبو‘چلا گیا۔
مصر کے ذرائع ابلاغ نے صدر ناصر کی بیماری کی حقیقت اور اصلیت کو چھپا کر رکھااور اس بات کو پھیلانےپر زور دیا گیا کہ صدر ناصر کی صحت روز بروز پہلےسے بہتر ہورہی ہے، تاکہ تنقید کرنے والوں کوطعنہ زنی کرنےکا موقع نہ ملے۔قدرتِ خداوندی نے صدر ناصر کو صرف بیماری کا عذاب اور اذیت دینے پر اکتفا نہ کیا بلکہ ۱۹۶۷ءمیں اس کو ایک اورشدید دھچکا لگا۔اسے اقتدار سے الگ ہونے اور روسیوں کے آگے ہتھیار ڈالنے اور سر تسلیم خم کرنےکا اشارہ ملا۔اُسی روز ’علال الفاسی‘ نے،جو کہ مراکش کے ایک مشہور سیاسی راہنما تھے،اپنے ایک پر جوش اورمشہور خطاب میں کہا کہ ’’اللہ سے اس بات کی ہر گز امید نہیں کہ وہ سیّد قطب کے قاتلوں کی مدد کرے گا‘‘۔
مظلوموں کی آہوں اور دعاؤں نے عرشِ الٰہی کو ہلا کےرکھ دیا۔
--- اے اللہ! ان ظالموں کی جمعیت کو پارہ پارہ کردے،اور پھراللہ نے ان کےاس اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔
صدر ناصر اپنی ایک بہت بڑی سیاسی رسوائی سے ا بھی نکل نہیں پائے تھے کہ ان پر ایک نئی مصیبت آن پڑی اور ایک نیا بحران آگیا۔اور یہ بحران ان کے عمر بھر کے ایک گہرے دوست عبد الحکیم عامرکے ساتھ ان کے آپس کے تعلقات خراب ہونے سے پیدا ہوا۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگائے گئے یہاں تک کے ان کا دوست قتل ہو گیا یا اس نے خودکشی کر لی۔اب عبد الناصر ان سب ناگوار حالات کا سامنا کرنے کے لیے تنہا اور اکیلا رہ گیا۔ اس کی تنہائی بھی زیادہ طویل عرصہ تک نہ رہ سکی اور سیّد قطب کی شہادت کے صرف تین سال بعد اس کا انتقال ہو گیا اور تنہائی کے اس عرصے میں اس نے بیماری کے درد،ناکامیوں کی ذلت و رُسوائی ، اپنےایک جگری دوست کی جدائی اور زندگی سے مایوسی کے غم کا سامنا کیا۔اس تمام عرصے میں اس نے ایک دن کے لیے بھی کسی خوشی کا مزہ،کسی خوش بختی اور خوش نصیبی کا ذائقہ نہیں چکھا۔