مضامین کی فہرست


اگست ۲۰۲۵

غزہ میں انسانی تاریخ کے ایک المیہ، بدترین صورتِ حال میں ڈھل چکا ہے۔ ہم یہاں برطانیہ کے اخبارات کی رپورٹنگ سے کچھ حصے پیش کر رہے ہیں۔ 

غزہ میں اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی کے سربراہ نے گذشتہ دنوں کہا: ’’ہمارے فرنٹ لائن عملے کے ارکان بھوک سے بے ہوش ہو رہے ہیں، کیونکہ غزہ میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے‘‘۔ 

اقوام متحدہ کی ’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘ (UNRWA: ’انروا‘) کے سربراہ فلپ لازارینی نے کہا: ’’یہ سنگین ہوتی صورت حال ہر کسی کو متاثر کر رہی ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کو بھی جو جنگ زدہ علاقے میں زندگیاں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب دیکھ بھال کرنے والے خود کھانے کو ترس رہے ہوں تو پورا انسانی امدادی نظام تباہ ہو جاتا ہے‘‘۔ 

لازارینی کے بقول: ’’میرے ایک ساتھی نے بتایا ہے کہ ’’غزہ کے لوگ نہ زندہ ہیں، نہ مُردہ، وہ چلتی پھرتی لاشیں ہیں‘‘۔ 

مزید یہ کہ: ’انروا‘ کے پاس اردن اور مصر میں خوراک اور طبی امداد سے لدے تقریباً ۶ہزار ٹرک موجود ہیں، مگر اسرائیلی حکام امداد غزہ پہنچنے نہیں دے رہے!‘‘ 

صحافیوں اور خدمتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے ذریعے ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ لوگ بھوک سے زمین پر گر کر مر رہے ہیں۔ سول ڈیفنس کے کارکنوں نے ایسے کمزور جسموں کی تصاویر بنائی ہیں، جن پر محض کھال باقی ہے۔ طبّی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز دو اور افراد بھوک سے مر گئے۔ دونوں بیمار تھے اور کئی دنوں سے کچھ نہیں کھایا تھا‘‘۔ 

بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک سے مرنے والے فلسطینیوں کی تصاویر اسرائیلی ناکہ بندی پر عالمی سطح پر مذمت کا باعث بن رہی ہیں۔۲۳جولائی کو فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے کہا: ’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ فرانس فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کرلے گا‘‘۔ 

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اس بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ دہشت گردی کو انعام دینا ہے‘‘۔ اس سے قبل، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا: ’’غزہ میں جو تکلیف اور بھوک کا عالم ہے، وہ ناقابلِ بیان اور ناقابلِ دفاع ہے۔ اگرچہ یہ صورتِ حال کافی عرصے سے سنگین ہے، لیکن اب اس نے ایک نیا اندوہناک موڑ لیا ہے اور بدستور بگڑتی جا رہی ہے۔ ہم ایک انسانی المیے کا مشاہدہ کر رہے ہیں‘‘۔ 

—— سی کے مطابق: ’’غزہ میں اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ قحط اب بدترین شکل اختیار کرچکا ہے۔ عالمی ادارے ہر روز غزہ کی صورتِ حال پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔ اب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی اس صورتِ حال پر عالمی ضمیر سے اپیل کی ہے‘‘۔ 

اخبار گارڈین، لندن (۲۵ جولائی) کے مطابق: ایک طبی امدادی ادارے کا کہنا ہے: ’’غزہ شہر میں ہمارے کلینک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح پچھلے دو ہفتوں میں تین گنا بڑھ گئی ہے کیونکہ اسرائیلی محاصرے کے باعث فاقہ کشی کی صورتِ حال مزید بگڑ رہی ہے‘‘۔ 

عالمی امدادی ادارے برابر خبردار کر رہے ہیں: غزہ بڑے پیمانے پر قحط کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں روزانہ فاقہ کشی سے اموات ہو رہی ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل صرف معمولی مقدار میں امداد داخل ہونے دے رہا ہے۔ 

مئی سے اب تک غزہ شہر کے مرکز میں غذائی قلت کے مریضوں کی تعداد چار گنا بڑھ چکی ہے۔موجودہ فاقہ کشی کی صورتِ حال کی ذمہ داری اسرائیل کی ’قحط میں مبتلاء کرنے کی پالیسی‘ پر عائد ہوتی ہے، جب کہ ۱۰۰ سے زائد امدادی اداروں کو اسرائیل نے غزہ میں امداد کی فراہمی سے روک رکھا ہے۔اسرائیلی حکام کی جانب سے غزہ میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی حکمت عملی انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، بلکہ اب تو طبی عملہ خود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ 

عالمی ادارہ خوراک (WFP) کے مطابق: ’’غزہ کی ایک تہائی آبادی کئی دنوں سے کچھ نہیں کھا سکی، اور بحران ناقابلِ یقین سطح تک پہنچ چکا ہے۔’’ہر تین میں سے تقریباً ایک شخص کئی دنوں سے بھوکا ہے۔ غذائی قلت میں اضافہ ہو رہا ہے،۹۰ہزار خواتین اور بچے فوری علاج کے محتاج ہیں‘‘۔ 

غزہ میں ایک ماہر امراضِ نسواں ڈاکٹر ناجی القراشلی نے بتایا ہے: ’’دستیاب اعداد و شمار مسئلے کی اصل شدت کو کم ظاہر کر رہے ہیں۔یہ صورتِ حال ناقابل تصور ہے۔ میرے پورے طبی کیریئر میں، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ انسان ظلم اور حیوانیت کی اس حد تک گر جائے گا۔ مریضوں میں اسقاط حمل کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ مائیں اپنے لیے خوراک تلاش نہیں کر پاتیں۔ جو بچے زندہ پیدا ہوتے ہیں، وہ انتہائی کم وزن کے حامل، قبل از وقت یا بگڑے ہوئے اعضا کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں‘‘۔ 

ڈاکٹر القراشلی نے بڑے دُکھ اور کرب میں بتایا: ’’ہمارے پاس غذائی قلت کی شکار خواتین کے علاج کے لیے درکار طبی سامان نہیں ہے۔ ہم مجبور ہیں کہ دیگر ڈاکٹروں کے استعمال شدہ گندے دستانے استعمال کریں اور تاریخِ استعمال ختم ہونے والی دوائیں تجویز کرنا ہماری مجبوری ہے۔ بطور ایک بےبس ڈاکٹر یہ انتہائی تکلیف دہ احساس ہے۔ کئی بار میں ہسپتال سے بھاگ کر نکل جاتی ہوں کیونکہ میں یہ حقیقت برداشت نہیں کر سکتی کہ میں ان خواتین کی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتی‘‘۔(گارڈین، ۲۶ جولائی ۲۰۲۵ء) 

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی پابندیوں کے تحت جہاں ممکن ہو رہا ہے کام کر رہا ہے۔ ان پابندیوں نے امدادی نظام کو پہلے سے موجود ۴۰۰ مراکز کے استعمال سے روک دیا ہے۔ 

اسی دوران برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے: ’’غزہ میں انسانی تباہی کا خاتمہ اب ہونا چاہیے اور اسرائیلی حکومت کو امدادی پابندیاں ختم کرنی چاہئیں‘‘۔ 

اسرائیلی فوج نے ۲۵؍جولائی کو اعلان کیا: ’’ہم نے اردن اور متحدہ عرب امارات کو فضائی طور پر غزہ میں امداد پہنچانے کی اجازت دے دی ہے‘‘۔ یاد رہے ایک پرواز مہنگی پڑتی ہے اور امدادی سامان کی مقدار ٹرکوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ حماس نے اس اقدام کو ایک ’سیاسی ڈراما‘ قرار دیا۔ 

حماس حکومت کے میڈیا دفتر کے ڈائریکٹر، اسماعیل الثوابتہ نے رائٹرز کو بتایا: ’’غزہ کو فضائی امداد کے کرتب نہیں، بلکہ ایک کھلی انسانی راہداری اور روزانہ امدادی ٹرکوں کی مسلسل آمد درکار ہے، تاکہ باقی ماندہ محصور اور بھوکے شہریوں کی زندگی بچائی جا سکے‘‘۔ 

کتنے ہی فلسطینی افراد نے بتایا ہے کہ ’’امدادی مراکز سے نہایت معمولی امداد کے حصول کے لیے ہم گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں، مگر امداد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں، یا پھر اسرائیلی فوجیوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہیں‘‘۔ یہ امر واقعہ ہے کہ ان مراکز سے امداد کے حصول کے لیے کھڑے افراد میں سے ایک ہزار سے زیادہ مستحقین کو اسرائیلیوں نے گولی مار کر شہید کر دیا ہے۔ 

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش نے عالمی برادری پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ’’وہ غزہ میں سسک سسک کر مرنے والے فلسطینیوں کی بھوک پر ریت میں سر چھپائے ہوئے ہے۔ یہ المیہ صرف ایک انسانی بحران نہیں ہے، بلکہ عصرحاضر میں ایک خوفناک اخلاقی بحران بھی ہے، جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہا ہے، مگر صدافسوس کہ بڑی طاقتیں ٹس سے مَس نہیں ہورہی ہیں‘‘۔ 

عالمی منظرنامے پر امریکا کی جانب سے ایک بار پھر نام نہاد جنگ بندی ایک بے فیض سرگرمی دکھائی جارہی ہے۔ یاد رہے پہلی جنگ بندی بھی دراصل اسرائیل کے قیدی رہا کرانے کے لیے تھی اور موجودہ نام نہاد جنگ بندی کا بھی یہی مقصد ہے۔اسرائیلی قیادت کھلے عام کہہ رہی ہے کہ مزاحمت کے مکمل خاتمے تک وہ غزہ پر حملے جاری رکھیں گے۔ گویا عارضی جنگ بندی کا اب بھی مقصد صرف اپنے قیدیوں کی رہائی ہے۔ غزہ سے فلسطینیوں کے انخلا پر امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم میں مکمل اتفاق ہے۔ دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کا معاہدہ 'معقولیت ' کی بنیاد پر ہوگا۔ 

اسرائیلی قیدیوں کے لواحقین کے سخت دباؤ کے باعث نیتن یاہو کچھ لچک دکھا رہے ہیں، لیکن یہ بھی محض وقت گزاری نظر آتی ہے۔ قطر میں جاری مذاکرات کے دوران ۱۰ جولائی کو اسرائیل نے جو نقشہ پیش کیا اس کے مطابق مصر کی سرحد پر واقع رفح اسرائیل کے قبضے میں دکھایا گیا ہے۔ علاقے پر گرفت مضبوط رکھنے کے لیے رفح سے خان یونس کو علیحدہ کرنے والے موراغ راستے (Morag Corridor) تک اسرائیلی فوج تعینات رہے گی۔ اسی نقشے میں غزہ کی تمام جانب تین سے چارکلومیٹر کی پٹی پر بفر زون دکھایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ شمالی غزہ کے شہر بیت لاہیا اور بیت حانون میں بھی اسرائیلی فوج موجود رہے گی۔ غزہ شہر کے محلوں التفاح، الشجاعیہ، الزیتون، دیر البلح اور القرارۃ سمیت ۶۰ فی صد غزہ اسرائیلی عسکری شکنجے میں رہے گا اور یہاں کے بے گھر فلسطینیوں کو رفح میں قائم کیے گئے عارضی کیمپوں میں ٹھونس دیا جائے گا تاکہ موقع ملتے ہی انھیں رفح پھاٹک کے ذریعے مصر کی جانب دھکیل دیا جائے۔ 

امدادی مراکز میں موت کا کھیل 

 امن بات چیت کے ساتھ غزہ میں امدادی مراکز پر موت کی تقسیم جاری ہے۔ بہت سے فلسطینی امداد تک رسائی کی کوشش میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی انھی امدادی قافلوں کے راستے میں اسرائیلی فائرنگ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنے جنھیں اقوامِ متحدہ اور دیگر ادارے چلا رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایک اسرائیلی ریزرو فوجی نے بتایا کہ غزہ میں تعینات فوجیوں کو حکم ہے کہ جو بھی ’نو-گو زون‘ میں داخل ہو، چاہے وہ نہتا شہری ہی کیوں نہ ہو، اسے فوراً گولی مار دی جائے۔ ’جو بھی ہمارے علاقے میں داخل ہو، اسے مرنا چاہیے، چاہے وہ سائیکل چلاتا کوئی نوجوان ہی کیوں نہ ہو‘۔ اس سے پہلے اسرائیلی جریدے ھآریٹز  کو دسمبر اور جنوری میں کئی سپاہیوں نے بتایا تھا کہ سویلین فلسطینیوں پر بلاجواز فائرنگ کے احکامات ڈویژن کمانڈر بریگیڈیئر جنرل یہودا واش نے خود دئیے تھے۔ 

اقوامِ متحدہ کی نمائندہ پر امریکا کی تادیبی پابندیاں 

نسل کشی کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کے لیے امریکا بدستور پُرعزم ہے۔ غزہ میں اسرائیلی مظالم کو ’نسل کشی‘ کہنے اور بڑی امریکی کمپنیوں کو اس میں شریک ٹھیرانے کے 'جرم میں اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانچیسکا البانیز پر امریکی حکومت نے پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ 'اسرائیل اور امریکا، دونوں، البانیز کے الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ ' البانیز نے عالمی عدالتِ انصاف (ICC)کے اسرائیلی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ 

البانیز کی رپورٹ میں گوگل، مائیکروسوفٹ اور ایمیزون پر اسرائیل کے غزہ آپریشن کو کلاؤڈ اور مصنوعی ذہانت کی خدمات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں گوگل کے شریک بانی، سرگئی برن (Sergey Brin) نے رپورٹ کو ’کھلی اور فاش یہود دشمنی‘ قرار دے کر سخت تنقید کی۔  

ہسپانوی موسیقی میلے میں فری فلسطین کی دُھن 

دوسری طرف نسل کشی کےخلاف عوامی جذبات میں بھی شدت آرہی ہے۔ جون کے آخری ہفتے میں ہونے والا انگلستان کا کلاسٹونبری موسیقی میلہ، ’اسرائیلی فوج مُردہ باد‘ کے نعروں سے گونج اُٹھا تھا۔ اسی طرح گذشتہ ہفتے ہسپانوی شہر فالنسیا کے موسیقی میلے میں اس وقت ایسی ہی صورتِ حال پیدا ہوئی جب لاطینی گلوکار ریزیڈینتے فلسطین کا پرچم تھامےاسٹیج پر آئے۔ میلے کے ہزاروں شائقین نے فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے ’فری فری فلسطین‘ کی دُھن پر ناچنا شروع کردیا بلکہ یوں کہیے کہ سازوں کی دُھن کو اہل غزہ کے حق میں تبدیل کر دیا۔ 

حنظلہ نامی امدادی کشتی کی روانگی 

دنیا کے انصاف پسند لوگ اہل غزہ کو تنہا چھوڑنے پر راضی نہیں اور ۱۳ جولائی کو اٹلی کے شہر سیراکوس کی بندرگاہ سے انسانی امداد سے لدی ایک اور کشتی غزہ کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس مشن کا مقصد اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنا اور محصور فلسطینیوں تک امداد پہنچانا ہے۔’حنظلہ‘ نامی یہ کشتی، ماضی میں روانہ کی جانے والی ’فریڈم فلوٹیلا‘ جیسی عالمی کاوشوں کی طرز پر نکالی گئی ہے، جس کا مقصد دنیا کی توجہ غزہ کی ظالمانہ ناکہ بندی کی طرف مبذول کروانا اور اسرائیلی پابندیوں کو توڑنا ہے۔ 

غربِ اُردن لہو لہو 

غرب اُردن میں اسرائیلی قبضہ گردوں کی وحشیانہ کارروائی جاری ہے۔ ۱۱ جولائی کو رام اللہ کے شمال میں امریکی شہریت کے حامل ۲۳ سالہ فلسطینی نوجوان سیف الدین مسلت کو درجنوں اسرائیلی آبادکاروں نے بہیمانہ تشدد کرکے شہید کر دیا۔ فلسطینی شہری غرب اردن میں خربت التل کی طرف پُرامن احتجاج کے لیے جا رہے تھے، جہاں ایک نئی غیرقانونی اسرائیلی چوکی تعمیر کی گئی ہے۔ راستے میں یہودی دہشت گردوں نے انھیں روک کر حملہ کر دیا۔ کم از کم ۱۰ فلسطینیوں کو گاڑیوں تلے کچل دیا اور دہشت گردوں نے زیتون کے باغ کو بھی آگ لگا دی۔ جب اس واقعے کی رپورٹنگ کرنے CNNکے سینئر صحافی جیرمی ڈائمنڈ وہاں پہنچے تو یہودی قبضہ گردوں نے ان پر حملہ کردیا۔ان کی گاڑی کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ اسرائیل کے پرجوش حامی ڈائمنڈ نے بلبلاتے ہوئے کہا: ’’یہ صرف ایک جھلک ہے اس حقیقت، یعنی قبضہ گردوں کی جارحیت کی، جس کا سامنا مغربی کنارے پر آباد فلسطینیوں کو ہر روز کرنا پڑتا ہے‘‘۔ 

غرب اُردن میں قابضین نے جہاں فلسطینیوں کا جینا حرام کر رکھا ہے، وہیں اب مسلمانوں کی قبریں بھی محفوظ نہیں رہیں۔ یروشلم کے یوسفیہ قبرستان میں کئی قبروں کی لوحِ مزار اکھاڑ دی گئی ہیں۔معاملہ مسلمانوں تک محدود نہیں۔ دہشت گردوں نے اسی دن یروشلم کے مضافاتی علاقے طیبہ کے قدیم کلیسائے سینٹ جارج قبرستان کے ایک حصے کو آگ لگادی۔پانچویں صدی کا یہ کلیسا ایک تاریخی ورثہ ہے، اس قبرستان میں حضرت مسیح کے خلفا اور بہت سے بزرگ مدفون ہیں۔ 

اس صورتِ حال پر فیلیپ لازارینی کا ٹویٹ پڑھیے:’’غزہ فاقہ کشی کا قبرستان بن چکا ہے۔ خاموشی اور بے عملی درحقیقت شراکتِ جرم ہے۔ اہلِ غزہ کے پاس یا تو بھوک سے مرنے یا گولی کھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ یہ بے رحم اور شیطانی منصوبہ ہے، قتل کا ایک ایسا نظام جس پر کوئی گرفت نہیں۔ اصول، اقدار اور انسانیت کو دفن کیا جا رہا ہے۔ جو لوگ خاموش ہیں، وہ مزید تباہی کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ عمل کا وقت گزر چکا، اب بھی نہ جاگے تو ہم سب اس المیے کے شریکِ جرم ہوں گے!‘‘ 

غزہ میں نسل کشی اور اسرائیل کی بے لگام نوآبادیاتی اور سامراجی تکبر اس مقام تک پہنچ گئے ہیں، جہاں سے بظاہر نجات ممکن نہیں۔ نیتن یاہو کی لامتناہی جنگیں اب ملک ِشام تک پھیل گئی ہیں، جو دمشق کے مرکزی حصے پر مکمل بے خوفی سے حملے کی صورت میں سامنے آرہی ہیں۔دریں اثنا، امریکا، جو مبینہ طور پر دنیا کی ایک بڑی سپر پاور کہلاتا ہے، بدقسمتی سے لگاتار اسرائیلی حکومتوں کی غلامی میں ڈوبا ہوا ہے، جو اکثر بنیادی انسانی اقدار اور بین الاقوامی قانون کو قربان کر دیتا ہے۔ 

اس صورتِ حال کا سب سے واضح مظہر گذشتہ ۲۱ ماہ سے غزہ میں دیکھا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر جوبائیڈن اور ان کے اسرائیل کو ترجیح دینے والے وزیر خارجہ، انٹونی بلنکن نے بارہا نیتن یاہو کے بدترین شدت پسندانہ اور نسل پرستانہ رجحانات کا دفاع کیا۔ اس مضحکہ خیزی کا ایک نمایاں مظہر وہ امریکی اسرائیلی تعلقات ہیں، جن کا ہدف غزہ ہے، ایسا ہدف کہ جس میں تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ دُنیا کی نام نہاد مہذب ریاست امریکا نے اہل غزہ کو بھوک سے مارنے کے لیے ناکہ بندی کو مضبوط تر کیا۔ 

بائیڈن حکومت نے نیتن یاہو کی مدد کرتے ہوئے امریکی ٹیکس دہندگان کے سیکڑوں ملین ڈالر خرچ کیے۔ یہ انسانیت دشمنی پر مبنی منصوبہ تھا: ایک ۳۲۰ ملین ڈالر کا منصوبہ جو امریکی اسرائیلی گٹھ جوڑ سے فوجی ہم آہنگی کے لیے بنایا گیا۔ اس کے ساتھ ایک اور مذاق ’غزہ ہیومنٹیرین فائونڈیشن‘ (GHF) کے نام سے کھیلا گیا جو انسانی قدروں کو بحیرئہ روم میں غرق کرنے کے مترادف ہے۔ 

امریکا کی بائیڈن حکومت ہو یا ٹرمپ کا راج، انھوں نے اسرائیل کو پورا حق دیا کہ وہ بے بس اہل غزہ کو بھوک سے مارنے کے لیے ناکہ بندی جاری رکھیں، اور دوسری جانب عالمی ضمیر کو گونگا ، بہرہ اور اندھا بنا کر رکھ دیا کہ سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی، کوئی بڑی طاقت بامعنی رکاوٹ پیدا کرتی نظرنہیں آرہی۔ یہ ایک خونیں تھیٹر ہے، جس میں مظلوم بچوں کی لاشیں اور بے بس مائوں کی چیخیں شامل ہیں۔ 

موت کے اس کھیل میں اردن کے بادشاہ نے ایک نمائشی ایئر ڈراپ کا مظاہرہ کیا۔ تباہ کن قیامت کے ساتھ یہ خوراک ایئر ڈراپ کا تماشا، اسرائیل اور بے ہمت عرب شراکت داروں کے درمیان بات چیت بحال کرنے کا پُل بنایا جا رہا ہے، جو اسرائیل کو شیطانی زمینی ناکہ بندی ہٹانے سے بچنے کے لیے ایک اور بہانہ فراہم کرتا ہے۔ دریں اثنا، روزانہ سیکڑوں افراد کی بھوک سے اموات کی تصدیق ہورہی ہے، مگر UNRWA رپورٹ کرتا ہے کہ اس کے پاس غزہ کی پوری آبادی کو تین ماہ تک کھانا کھلانے کے لیے کافی خوراک موجود ہے۔ پھر بھی، امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے، اسرائیل بھوک سے مرنے والے بچوں تک کوئی امداد نہیں پہنچنے دیتا۔ 

قاتلوں کے غیرمقدس اتحاد نے اسرائیلی قیادت میں ’غزہ انسانی امداد فائونڈیشن‘ کا چالاک منصوبہ محض دُنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بنایا اور اس کے لیے ایک بار پھر امریکا نے ادائیگی کی، جس کا مقصد بھوک ختم کرنا نہیں، بلکہ بین الاقوامی دباؤ کو غیر مؤثر کرنا تھا۔ ٹرمپ نے بھی، بائیڈن کی طرح اس ڈرامے کے ساتھ، اسرائیل کی اسی غلامی کے سامنے سر جھکایا۔ 

یہ امداد فراہم کرنے کا بہانہ ایک اور اسرائیلی مہلک دھوکا ثابت ہوا۔ زندگی کی ڈور کے بجائے، موت کے کھیل میں تبدیل ہوگیا۔ بھوک ان کا انتظار کر رہی ہے، اسرائیلی قاتل گولیاں انھیں تقسیم کے مراکز سے ملتی ہیں۔ وہی فوج جو قحط کی انجینئر ہے، وہی بظاہر نام نہاد نجات دہندہ بن کر دروازوں پر متاثرین کو گولی مار دیتی ہے۔ 

امریکی امداد سے ’غزہ فائونڈیشن‘ (GHF) نے اسرائیل کو خوراک کی امداد پر کنٹرول دے دیا —اور اب، پانی کے جمع کرنے کے مقامات پر چھوٹی چھوٹی بچیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہربنیادی ضرورت، —خوراک، پانی، دوائی —ان مظلوموں کا حق نہیں، بلکہ ایک اسرائیلی ہتھیار ہے۔ بھوک دینے، پانی سے محروم کرنے، اور دوا روکنے کا ہتھیار —جو فلسطینیوں کی نسلی تطہیر کے لیے بنایا گیا ہے۔ 

’غزہ فائونڈیشن‘ کے متضاد نام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، اسرائیل نے ایک ’انسانی امدادی شہر ‘ (Humanitarian City)کے نام سے پیش کیا ہے، جہاں شمالی غزہ سے۶ لاکھ فلسطینیوں کو جنوب میں محصور رکھا جائے گا، —جہاں لوگ داخل تو ہو سکتے ہیں، لیکن باہر نہیں نکل سکتے۔ اسرائیلی نیا حراستی کیمپ، جو غزہ کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی کو محدود کرنے کا تصور پیش کرتا ہے، دوسری عالمی جنگ کے بہت سے نازی کیمپوں سے بڑا ہے۔ 

حراستی کیمپ کو ’انسانی امدادی شہر‘ کہنا اسرائیل کی شیطانی اور دھوکے باز جنگ کا حصہ ہے۔ اس تناظر میں، اسرائیل نے پراپیگنڈے کو ہتھیار بنانے میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ اسرائیل، فلسطینیوں کو بھوکا نہیں مارتا، یہ ’کیلوری پابندیاں‘ عائد کرتا ہے۔ یہ نسلی تطہیر ہی نہیں کرتا بلکہ جبری ہجرت کا شکار کرتا ہے۔ اور اب، یہ بڑے پیمانے پر نقل مکانی نہیں کرتا، یہ ایک ’انسانی امدادی شہر‘ تجویز کرتا ہے۔ 

اسرائیل اس قسم کے ہتھکنڈوں سے صرف اس لیے بچ نکلتا ہے کیونکہ عالمی طاقتیں نسل کشی کا محض ڈھونگ رچاتی ہیں۔ یورپی یونین سیاسی نتائج کی ہلکی پھلکی وارننگ جاری کرتی ہے۔ برطانیہ، ہمیشہ کی طرح دوغلے پن کی منافقانہ روش کا ماہر، صرف اسرائیل کو اپنے ’انسانی حق‘ کے لیے لڑنے اور مغربی کنارے میں آباد ہجوم کو’لگام‘ دینے کا مشورہ دیتا ہے۔ یہ سارے ڈھونگ اسرائیل کو احتساب سے بچاتے ہیں۔ 

عرب دنیا عجیب طور پر خاموش___  شریکِ جرم ہی نہیں، شرمناک طور پر تین غلام کیمپوں میں تقسیم دُنیا۔ مغرب میں مصر، عملاً غزہ کی ناکہ بندی میں فعال شریکِ کار ہے۔ مشرق میں، اردن اور خلیجی ریاستیں کھلے عام تجارت کرتی ہیں اور اسرائیل کی حفاظت کے لیے فوجی ڈھال کا کردار ادا کرتی ہیں۔ اور پھر وہ ہیں جنھوں نے ٹرمپ پر اپنی دولت لٹائی، جب کہ غزہ جل رہا ہے اور مغربی کنارہ یہودیوں کے لیے مخصوص کالونیوں کی زد میں ہے۔ 

یہ اجتماعی خاموشی سفاکانہ ملی بھگت ہے۔ یہ نازی نظریے کی بحالی ہے، جو مختلف جھنڈے اور وردی میں ملبوس ہے۔ ایک فلسطینی کے طور پر، میں غصے میں ہوں۔ لیکن اس سے زیادہ، ایک امریکی شہری اور ایک انسان کے طور پر مجھے حددرجہ صدمہ ہے۔ دنیا میں محض اعتراض کا ڈرامہ پیش کرنا نہایت توہین آمیز فعل ہے، جب کہ ایک حراستی کیمپ کو ’انسانی امدادی شہر‘ کے خوش نما نام کے تحت بنتے دیکھا جا رہا ہے۔ میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ دنیا —خاص طور پر یہودی —کیا ردعمل ظاہر کرتے اگر کوئی نازی اپنے ہاں قائم کردہ یہودی باڑے کو ’یہودی تفریح گاہ‘ کہتا! 

یہ معاہدات کا ایک سلسلہ ہے ، جس کا مقصد اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان تعلقات کو امریکا و اسرائیل کے تصور کے تحت ’معمول پر لانا‘ اور عرب ملکوں کی طرف سے اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کرانا ہے۔ جن عرب ملکوں نے یہ معاہدے کیے ہیں ان میں متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، اور سوڈان شامل ہیں۔ ابراہیمی معاہدے ۲۰۲۰ء کے دوسرے نصف میں طے پائے۔ انھیں ۲۱ویں صدی میں عرب-اسرائیل تعلقات کی بحالی کی طرف پہلا علانیہ قدم مانا جاتا ہے۔ 

ان معاہدات کو’ابراہیمی معاہدات‘ کا نام دینے سے یہ تاثر دینا پیش نظر ہے کہ یہودیوں اور عربوں کے درمیان تاریخی و مذہبی طور پر گہرا تعلق ہے کیونکہ دونوں اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا جدِ امجد مانتے ہیں۔نیز تینوں الہامی مذاہب: —اسلام، عیسائیت اور یہودیت — حضرت ابراہیمؑ کو اپنا روحانی پیشوا بھی مانتے ہیں۔ 

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے بات چیت کا آغاز کیا اور ۱۳؍ اگست ۲۰۲۰ء کو دونوں ملکوں کے مابین معاہدہ طے پانے کا اعلان ہوگیا۔ اس کے بعد ۱۱ ستمبر ۲۰۲۰ء کو بحرین نے بھی اسی نوعیت کے معاہدے پر رضامندی ظاہر کی اور ۱۵ستمبر ۲۰۲۰ء کو وائٹ ہاؤس میں، امریکی پشت پناہی سے امارات، اسرائیل اور امریکا کے نمائندوں کی موجودگی میں ابراہیمی معاہدے پر دستخط کردیے۔ 

عرب اسرائیل تعلقات کا تاریخی پس منظر 

اقوام متحدہ کی جانب سے فلسطین کی تقسیم کے فیصلے اور ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے قیام کے اعلان کے بعد،احتجاجاً عرب حکومتوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھااور اگلے چند عشروں میں عرب،اسرائیل جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔۱۹۶۷ء کی ’چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ‘ اور۱۹۷۳ء کی اکتوبر کی جنگیں مشہور ہیں۔ تاہم، ۱۹۷۹ء میں انور سادات کی صدارت میں مصرنے اسرائیل کے ساتھ ایک امن معاہدہ کرلیا، جسے ’کیمپ ڈیوڈ معاہدہ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یوں مصر وہ پہلا عرب ملک بن گیا جس نے اسرائیل کے وجود کوباقاعدہ تسلیم کرلیا۔ 

۱۹۹۴ء میں اردن نے بھی ’وادی عربہ معاہدہ‘ کے نام سے اسرائیل کےساتھ امن کی پینگ بڑھالی۔اردن نے یہ اقدام ۱۹۹۳ء میں اسرائیل اور تنظیم آزادیِ فلسطین (PLO) کے درمیان ’دوریاستی حل معاہدہ‘ کی منظوری کے بعد اٹھایا تھا ۔حالیہ ابراہیمی معاہدے بھی گویا مصر اور اُردن کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کیے جانے والے معاہدوں ہی کے سلسلے کی کڑی ہیں ۔ 

اس معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا خلیجی ملک ،متحدہ عرب امارات ہے۔امریکا نے معاہدے پر دستخط کے اعلان سے پہلے ایف-۳۵ طرز کے ۵۰ جدید ترین جنگی طیارے امارات کو فروخت کرنے کی پیش کش کی۔ حالانکہ امریکا اپنے نیٹو حلیف ترکی کو یہ طیارے دینے سے ابھی تک انکاری ہے ، جب کہ اسرائیل کے لیے وہ پہلے سے میسر ہیں۔ 

سوڈان - اسرائیل تعلقات کی بحالی 

۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۰ءکو وائٹ ہاؤس کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا کہ سوڈان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار کرنے اورمعمول پر لانے پر اتفاق کرلیا ہے۔ اس اعلان سے کچھ دن قبل، امریکی صدر ٹرمپ نے سوڈان کا نام دہشت گردی کے حامی ممالک کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کیا تھا ۔ انھی دنوں فروری ۲۰۲۰ء کے آغاز میں یوگنڈا میں ہونے والی ایک ملاقات بہت اہم تھی،جو اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے والے سوڈانی مقتدرہ کونسل کے سربراہ برہان نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ کی۔ اس ملاقات کے بعد ہی سوڈان کی غیر منتخب اور کمزور ترین حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور ابراہیمی معاہدات کی گاڑی پر سوار ہونےکا اعلان کیا۔ 

مراکش -اسرائیل معاہدہ اور امریکی کردار 

۱۰ دسمبر ۲۰۲۰ء کو امریکی تائید و حمایت سے مراکش اور اسرائیل کے درمیان بھی ایک ابراہیمی معاہدہ طے پایا۔مراکش کی طرف سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن نے باضابطہ طور پر مغربی صحارا پر مراکش کی سیادت کو تسلیم کر لیا۔ مراکش کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کا اعلان ہوتے ہی امریکا نے اسے بڑے پیمانے پر اسلحے کی فروخت اور بھاری سرمایہ کاری کی یقین دہانی کرائی۔  

ابراہیمی معاہدوں کے نتائج اور اثرات 

• اسرائیل نے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش، اور سوڈان میں اپنے سفارت خانے قائم کرلیے ہیں ۔ 

• تل ابیب کو ابوظبی، دبئی، منامہ، دارالبیضاء مراکش سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے جوڑ دیا گیا ہے۔ 

• معاہدے کے شریک ملکوں اور اسرائیل کے مابین سیاست، معیشت، دفاع اور انتظامی اُمور میں باہمی تعاون کے اُمور طے پائے ہیں اور ان ملکوں کے وزرا، افسران، اور کاروباری شخصیات کے باہم دورے جاری ہیں ۔ 

• ان معاہدوں پر دستخط کرنے والے ملکوں نے عبرانی زبان سیکھنی اور سکھانی شروع کردی ہے ۔کئی اماراتی و مراکشی طلبہ نے اسرائیل کی یونی ورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں داخلہ لے لیا ہے اور تعلیمی و تربیتی کورسز کا آغاز کیاہے۔ثقافتی تبادلے کے طور پر اسرائیلی سیاح بڑی تعداد میں امارات اور مراکش کا رُخ کر رہے ہیں۔ 

• اسرائیل اور امارات کے درمیان تجارتی تبادلے کی مالیت پہلے ہی سال ۵۰۰ ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ 

• دونوں ملکوں کے مابین سکیورٹی اور دفاع کے شعبے میں تعاون شروع ہوگیا ہے، خصوصاً سائبر سکیورٹی، انٹیلی جنس، اور تکنیکی شراکت داری کے شعبوں میں تعاون روزافزوں ہے۔ 

• دو سال کے اندر، اماراتی وفد نے پہلی مرتبہ اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا، اور معیشت، سرمایہ کاری، ہوا بازی، ویزا سے استثنا جیسے شعبہ جات میں کئی معاہدے طے پائے۔ 

• دسمبر ۲۰۲۱ء میں اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے ابو ظبی کا علانیہ سرکاری دورہ کیا تھا،  یہ کسی اسرائیلی وزیرِ اعظم کی طرف سےامارات کا پہلا دورہ تھا۔ 

• فروری ۲۰۲۲ء میں اسرائیلی وزیرِ دفاع بینی گینٹز نے بحرین کا غیر علانیہ دورہ کیا۔ اسی وقت دونوں ملکوں کے مابین  ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کی خبر بھی سامنے آئی۔ 

۹ فروری ۲۰۲۲ء کو’اسرائیل ڈیفنس‘ ویب سائٹ نے انکشاف کیا کہ بحرین نے اسرائیلی کمپنی سے ڈرون مخالف ریڈار نظام خریداہے۔ 

یہ تمام پیش رفت نہ صرف سیاسی بلکہ دفاعی، اقتصادی اور ثقافتی شعبوں میں بھی دونوں جانب گہرے روابط کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ 

•  ۲۲ مارچ ۲۰۲۲ء کو مصر کے شہر شرم الشیخ میں اسرائیل، مصر، اور متحدہ عرب امارات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایران کے اثر و نفوذ پر قدغن لگانے پرغور کیا گیا۔ 

• l ۲۸مارچ ۲۰۲۲ء کو جنوبی اسرائیل میں واقع صحرائے نقب میں ہونے والے اجلاس میں مصر، امارات، مراکش، بحرین، اور امریکا کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ یہ اجلاس مذکورہ معاہدات کے تناظر میں مشترکہ علاقائی تعاون کا گویامظہر تھا۔ 

•  مراکش نے اسرائیل کے ساتھ متعدد شعبوں میں معاہدے کیے جس میں معیشت، تعلیم، سیاحت، اور دفاع کے شعبے شامل ہیں۔ 

•  اسرائیلی وزیرِ دفاع بینی گینٹز اور وزیر صنعت اورنا باربیفائی نے مراکش کے شہر رباط کا دورہ کیا۔ 

•  مراکش کے وزیر صنعت حفیظ علمی اور اسرائیلی ہم منصب عمیر پیریٹس کے درمیان صنعتی تعاون پر مذاکرات ہوئے۔ 

•  وزرائے تعلیم —سعید امزازی (مراکش) اور یوآف گالانت (اسرائیل)نے طلبہ کے تبادلے اور دونوں ملکوں کے ثانوی اسکولوں کی یکجہتی کے ’باہم تعاون منصوبے‘ پر پیش رفت کی۔ 

•  مراکش اور اسرائیل نے سکیورٹی اور دفاعی شعبے میں تعاون کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے، جو وزیر دفاع گینٹز کی سرکاری طور پر رباط آمد کے موقع پر ہوئے۔ 

اسرائیلی آبادکاری منصوبوں میں تیزی 

عرب ملکوں کی طرف سے اپنے عوام کے سامنے شرمندگی سے بچنےکے لیے ابراہیمی معاہدات پر دستخط کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی تھی کہ ہم اسرائیل سے ابراہیمی معاہدے اس شرط پر کررہے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے میں نوآبادکاری کی اپنی سرگرمیاں یکسر ترک کردے گا ۔  

 ان معاہدوں پر دستخطوں کے بعد، اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر اسرائیلی آباد کاروں کی کونسل کی قیادت کو ایک پیغام بھیجا، جس میں یہ واضح کیا گیا کہ ’’اعلیٰ منصوبہ بندی کونسل برائے مغربی کنارے کی تعمیرات‘،۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۰ء، یعنی(یہود کی ) ’عید العرش‘ کی تعطیلات کے بعد، ایک اجلاس منعقد کرے گی تاکہ مغربی کنارے میں ۵۴۰۰ نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کی منظوری دی جا سکے۔اس کے علاوہ، اسرائیل نے’بیتر علیت‘ نامی پہلے سے قائم یہودیوں کی نوآباد بڑی بستی کو وسعت دینے اور وہاں ۳ہزار نئے رہائشی یونٹس بنانے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ اب یہ توسیعی منصوبہ مغربی کنارے میں اور گرین لائن کے قرب و جوار میں واقع کئی متنازع بستیوں تک پھیل چکا ہے اور مغربی کنارے کے فلسطینی علاقے میں غیرقانونی تعمیرات کا یہ سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔ 

تحریک ِ آزادیٔ کشمیر کا ’بیس کیمپ‘ یا اقتدار کا ’ریس کیمپ‘؟ 

تحریکِ آزادی کشمیر کی لہو میں ڈوبی زخم زخم داستان اور اقوامِ متحدہ کے قبرستان میں دفن قراردادوں کے ساتھ، کیا عالمی ضمیر بھی انڈین سفارتکاری خرید چکی ہے؟ انڈیا کی فلمی مکاری اور عالمی میڈیا کی مجرمانہ خاموشی کے پردے میں کشمیر کی سچائی کو کیسے دفن کیا گیا؟ تہاڑ جیل کی زنجیروں سے بلند حریت کی صدائیں، شہیدسیّد علی گیلانیؒ، یاسین ملک اور قافلۂ قربانی کی داستان کشمیر سے جڑی نسل کُشی جسے دنیا تماشا سمجھ بیٹھی۔مگر یہ صرف زمینی تنازعہ نہیں، انسانیت کا جنازہ ہے۔ ہماری خاموشی اور کشمیریوں کا ماتم ہے۔ یوم آزادی پر ہر مظلوم کشمیری پوچھتا ہے: میرا جشن کب ہو گا؟  

رات کے پچھلے پہر کا سناٹا ہر طرف چھایا ہوا تھا۔ برف کی تہہ سے ڈھکی وادی میں کہیں دور اذان کی صدا کسی مقفل مسجد کی ٹوٹی ہوئی چھت سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں سے اذان ہو رہی ہو، مگر کوئی دروازہ کھلنے کا نام نہ لے۔ دریائے جہلم کا پانی خاموشی سے بہہ رہا تھا، جیسے اس کے سینے میں ہزاروں لاشیں دفن ہوں، اور ہر موج کوئی بے نشان جنازہ ہو۔  

ایسے جان لیوا سناٹے میں ایک بوڑھی ماں، اپنی چادر میں لپٹا ہوا خون میں لت پت قرآن تھامے بیٹھی تھی۔ کبھی اس پر بوسہ دیتی، کبھی روتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھتی اور پھر وہی سوال دُہراتی، جو برسوں سے ہر کشمیری کے لبوں پر ہے: ’’کیا ہمارے سجدے ادھورے ہی رہیں گے؟ اور کیا پاکستان صرف ایک نعرہ تھا؟‘‘ 

چند قدم دُور، ایک چھوٹا بچہ ملبے میں وہ گڑیا تلاش کر رہا تھا، جو اُس کی بہن کی آخری نشانی تھی، جو پچھلے ہفتے ایک بھارتی فوجی کی فائرنگ سے شہید ہو گئی تھی۔ بچہ بار بار مٹی ہٹاتا، آنکھیں مَلتا۔ اس کی بے زبانی میں یہ سوال کلبلا رہا تھا: ’’جب پاکستان آزاد ہوا تھا، تو کیا کشمیر کا بھی وعدہ کیا گیا تھا؟‘‘ 

یہ سوال محض معصوم بچوں کے نہیں رہے۔ یہ سوال اب قبریں بھی پوچھتی ہیں، پتّے اور ہوائیں بھی۔ یہ وہ سوالات ہیں جو ’بیس کیمپ‘ کے ایوانوں تک تو پہنچتے ہیں، مگر وہاں ان کی گونج نعروں، حکومت کے حامی اور حکومت کے مخالف لوگوں کی تقریروں اور ہوٹلوں کی میزوں کے نیچے دفن ہو جاتی ہے۔ یہاں وادی میں آزادی کے چراغ خون سے جلتے ہیں، مگر وہاں کرسی کے چراغ سیاست سے۔ یہاں کشمیر لہو میں نہا رہا ہے، اور وہاں ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کا نعرہ اگلے الیکشن کے پوسٹر پر چھپ رہا ہے۔ اور اس المیے کا سب سے کربناک پہلو یہ ہے کہ یہ افسانہ نہیں، بلکہ یہ حقیقت ہے۔ ایک ایسی حقیقت جس نے ہزاروں زندگیاں نگل لی ہیں، سیکڑوں خواب روند ڈالے ہیں، لاکھوں بین، صدائیں، اذیتیں، صبر، اور سوالات پیدا کیے ہیں ، مگر جن کے جواب ابھی تک نہ اقوامِ متحدہ نے دیے، نہ مسلم دُنیا کی قیادتوں نے، اور نہ ’بیس کیمپ‘ نے۔  

وادی کی گلیوں میں قدم رکھتے ہوئے تہاڑ جیل کی کوٹھریوں سے آتی سسکیاں سناؤں گا، اُن کانفرنس ہالوں کا حساب لوں گا جہاں کشمیر صرف ایک سائیڈ ایشو سمجھا گیا، اور اُن چہروں سے پردہ اُٹھاؤں گا جنھوں نے ’بیس کیمپ‘ کو اقتدار اور کرسی نشینی کے ’ریس کیمپ‘ میں بدل دیا۔ اس تحریر میں روشنائی کی جگہ وہ سرخ خون بہتا ہے جو عشروں سے وادیٔ کشمیر کے چشموں، دریاؤں، گلیوں، گھاٹیوں اور ماؤں کی آنکھوں سے بہتا چلا آیا ہے۔ یہ ایک تاریخی فردِ جرم ہے، جو نہ صرف انڈیا کے ظالم نظام پر عائد ہوتی ہے، بلکہ ان سب پر بھی جو اس ظلم کو صرف بیانات میں لپیٹ کر، تعزیتوں میں چھپا کر، اور سفارتی ملفوظات میں گم کر کے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو گئے۔ وادیٔ کشمیر اس وقت بھی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ بھارتی قابض افواج کے بوٹوں تلے نہ صرف آزادی کچلی جا رہی ہے بلکہ انسانیت کا منہ چڑایا جا رہا ہے۔ ہر صبح بندوقوں کی آواز سے آنکھ کھلتی ہے اور ہررات کسی جنازے کی آہ و بکا کے بعد چپ ہوتی ہے۔  

۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو انڈیا نے وہ گھنائونا جرم کیا جس نے کشمیریوں سے ان کی شناخت، ان کی حیثیت، ان کا جغرافیہ اور ان کی آئینی پہچان چھین لی۔ وہ خطہ جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع ہے، یک طرفہ طور پر انڈیا میں ضم کرنے کی جسارت کی گئی۔ مگر یہ محض آئینی یا قانونی حملہ نہ تھا، یہ کشمیریوں کے وجود پر وار تھا، ان کے خوابوں، تاریخ، عقیدے اور تشخص پر خنجر کاوار۔ قابض انڈین افواج کی موجودگی صرف فوجی چوکیوں تک محدود نہیں، اب وہ کشمیریوں کی سوچ، سانس، نیند، اور حتیٰ کہ ان کے سجدوں میں بھی گھس چکی ہے۔ ہزاروں نوجوانوں کو لاپتہ کردیا گیا، اجتماعی قبریں اب کسی افسانے کا حصہ نہیں بلکہ زمین کے کربناک سچ بن چکی ہیں۔ پیلٹ گنز کے ذریعے آنکھوں سے بینائی چھینی گئی، مگر انڈیا یہ نہیں جانتا کہ جس قوم کے دل میں بینائی ہو، اس کی آنکھیں چھین لینے سے آزادی کا خواب ختم نہیں ہوتا۔ وہ مائیں جو اپنے بچوں کی لاشیں دفناتی ہیں، ان کے ہاتھ میں صرف کفن نہیں بلکہ ایک سوال ہوتا ہے: ’ہم کب آزاد ہوں گے؟‘ حُریت قائدین کی جدوجہد انسانی تاریخ کے ان ابواب میں لکھی جائے گی، جہاں قربانی کو روشن حرف مانا جاتا ہے۔  

سیّد علی گیلانیؒ کی نصف صدی پر محیط جدوجہد، ان کی تنہائی میں گزری جوانی، جیلوں میں گزاری عمر، اور سب کچھ کھو دینے کے باوجود آزادی کے بیانیے سے وابستگی، ان کی زندگی کا ہر لمحہ کشمیری غیرت کا استعارہ ہے۔ ان کی موت بھی انڈیا کے ظلم کی نشان دہی ہے، ان کا جنازہ بھی قید میں ہوا، ان کی قبر بھی پہرہ داروں کی نگرانی میں بنی۔ یاسین ملک، جس نے اس تحریک کے لیے سب کچھ قربان کیا، آج تہاڑ جیل کی دیواروں کے پیچھے عمر قید کاٹ رہا ہے۔ اس کی خاموش چیخیں سننے والاکوئی نہیں، اور نہ ’بیس کیمپ‘ کے ایوانوں میں اس کے حق میں کوئی آواز بلند ہوتی ہے۔ ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنا ہو گا۔  

’بیس کیمپ‘، یعنی آزاد کشمیر، وہ خطہ جو تحریک آزادیٔ کشمیر کا مرکز ہونا چاہیے تھا، آج محض اقتدار کے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ حکمران طبقات نے اس خطے کو ’ریس کیمپ‘ میں تبدیل کر دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں وہ قیادت ہونی چاہیے تھی، جو یہاں سے عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ لڑتی، مگر وہ اقتدار کے ایوانوں میں ذاتی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔ جلسے، جلوس، بیانات، تعزیتی قراردادیں، بس اتنا ہی کردار ہے اس ’بیس کیمپ‘ کا۔ نہ کوئی طویل مدتی پالیسی، نہ کوئی انسٹی ٹیوشنل فریم ورک، نہ میڈیا پر تسلسل سے کشمیر کا مقدمہ، اور نہ عالمی اداروں میں مربوط سفارتی جدوجہد۔ یہ تلخ حقیقت تاریخ کے اوراق پر سیاہ ترین لفظوں میں لکھی جائے گی کہ جس خطے کو اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ ’تحریکِ آزادیٔ کشمیر کا بیس کیمپ‘ قرار دیا، وہ خطہ وقت کے ساتھ محض اقتدار کا ’ریس کیمپ‘ بن کر رہ گیا۔ وہ خطہ جہاں سے مظلوم کشمیریوں کے حق میں ناقوس بجنا تھا، وہاں صرف اقتدار کی گھنٹیاں بجتی رہیں۔ جس چبوترے پر شہیدوں کے نام کندہ ہونے تھے، وہاں رنگ برنگے پارٹی جھنڈوں اور گمراہ کن چہروں کی تصویروں سے لتھڑے بینروں نے ڈیرے ڈال لیے۔ آزاد کشمیر کی قیادت، چاہے وہ وزیراعظم ہو، اپوزیشن لیڈر ہو، وزرا یا ممبران اسمبلی ہوں، سب کے سب ایک مشترکہ ناکامی کا استعارہ بن چکے ہیں۔ 

وہ ناکامیاں کیا ہیں؟ ان کی انتخابی دوڑ اور سیاسی ترجیحات میں آزادی کا نام تک نہیں ہوتا۔ ان کے انتخابی منشور میں آزادی کشمیر ایک رسمی سطر کے طور پر شامل کی جاتی ہے، جس کے پیچھے کوئی حکمتِ عملی، کوئی سفارتی ڈھانچا، کوئی روڈ میپ نہیں ہوتا۔ یہاں امیدوار کشمیر کا نام لے کر ووٹ لیتے ہیں، اور جیت کر صرف مظفرآباد یا اسلام آباد تک محدود ہو جاتے ہیں۔ سفارتی سطح پر مکمل نالائقی کس سے ڈھکی چھپی ہے؟ ۷۸ سال گزر گئے، ’بیس کیمپ‘ کی قیادت عالمی سطح پر ایک بھی مستقل لابنگ گروپ قائم نہ کر سکی، جو انڈیا کے مظالم کو اقوامِ عالم کے سامنے رکھ سکے۔ کوئی کشمیر ڈیسک، کوئی تھنک ٹینک، کوئی ریسرچ ادارہ، کوئی مضبوط میڈیا سیل تک نہ بنایا جا سکا۔ اس خاموشی نے قاتل انڈیا کو بولنے کا موقع دیا اور ہمیں دنیا بھر میں تماشائی بنا دیا۔  

اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر خاموشی سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اگرچہ قراردادیں موجود ہیں، لیکن آج تک آزاد کشمیر کا کوئی رہنما اقوامِ متحدہ کے دروازے پر مستقل موجودگی کے لیے مقام نہ بنا سکا۔ وہ ریاست جو حقِ خودارادیت کے لیے علامتی قیادت بن سکتی تھی، ایک ضلعی طرز کی بلدیاتی حکومت میں تبدیل ہو گئی۔ بے مقصد اور نام نہاد پُرتعیش کشمیر کانفرنسیں تو عروج پر ہیں، ہر سال مختلف ہوٹلوں اور کانفرنس ہالوں میں کشمیر کانفرنسوں کے نام پر فوٹو سیشن ہوتے ہیں۔ اسٹیج پر نعرے، لنچ پر دعوے، مگر عملی نتیجہ صفر۔ وہی مقبوضہ کشمیر، وہی شہادتیں، وہی آہیں! آج تک آزاد کشمیر کے قائدین مکمل طور پر ، پوری دُنیا کے سامنے انڈین شاطرانہ بیانیے کا توڑ نہیں کر سکے۔ 

انڈیا، سوشل میڈیا، قومی و عالمی میڈیا، فلم، تھنک ٹینک اور سفارت کاری کے ذریعے کشمیر پر اپنے بیانیے کو مضبوط کرتا رہا، اور ’بیس کیمپ‘ میں ایک بھی ایسا ادارہ نہ بن سکا جو اس زہریلے پراپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکتا ہو۔ اکثر تاریخی موقعوں پر مجرمانہ خاموشی تو روایت بنتی جارہی ہے۔ جب ۵؍ اگست ۲۰۱۹ء کو انڈیا نے انڈین آئین کی دفعہ ۳۷۰ اور ۳۵-اے میں ترمیم کرکے کشمیر کی نام نہاد آئینی طور پر خصوصی حیثیت (Special Status) کو ختم کیا، تو ’بیس کیمپ‘ نے صرف ایک دن کا احتجاج کیا ، وہ بھی سیاسی تقاریر، کالی پٹیاں اور مشروط غصے کے ساتھ۔ اس کے بعد وہی اقتدار کی رسہ کشی، وہی وزارتوں کی تقسیم، وہی مفادات کی سیاست۔ تحریکِ حُریت کے نام کا صرف جذباتی استعمال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان قربانیوں کو پالیسی میں نہیں ڈھالاگیا، بلکہ جذباتی استحصال کے ذریعے انھیں ووٹ بینک بنایا گیا۔ جو قیادت اقوامِ متحدہ کی قراردادیں پڑھنے کی زحمت تک نہ کرے، وہ کس حق سے کشمیر کا نام لے سکتی ہے؟ جو حکمران اپنی وزارت کی کرسی بچانے کے لیے ’بیس کیمپ‘ کو خاموش رکھیں، وہ کیونکر کشمیریوں کے خون کے وارث ہو سکتے ہیں؟ جن کے پاس سفارتی، میڈیا، تھنک ٹینک، قانونی، انسانی حقوق کا کوئی عملی ادارہ نہ ہو، وہ کشمیر کو آزاد کرانے کا سفارتی خواب کس منہ سے دیکھتے ہیں؟  

حکمرانوں کے ضمیر زندہ ہوں تو یقینا شہیدوں کی لاشوں سے بہنے والا خون اُن کے خوابوں میں آئے گا، مگر یہ توقع ہی غلط ہے ان ’بندگانِ وزارت‘ سے۔ 

دوسری طرف انڈیا نے اپنی چالاکی اور سفارت کاری کو بخوبی استعمال کیا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظر انداز کیا۔ انڈیا نے امریکا، اسرائیل، فرانس اور کئی مغربی ممالک سے دفاعی اور معاشی تعلقات کو اتنا مضبوط کر لیا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے لیے محض ایک اخباری بیان کا معاملہ بن کر رہ گیا ہے۔ پھر مغرب کو تجارت کا لالچ دیا، میڈیا کو کنٹرول کیا، اور عالمی بیانیے کو اپنی مرضی سے موڑنے میں کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کی طرف سے کوششیں ضرور ہوئیں مگر غیر منظم، وقتی اور ردعمل پر مبنی۔ اقوام متحدہ میں تقریریں کی گئیں، مگر پالیسی سازی اور عالمی سطح پر مقدمہ لڑنے کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوئیں۔ مسئلہ کشمیر پر کوئی ایسا تھنک ٹینک فعال نہیں ہو سکا جو جدید سفارت کاری، ڈیجیٹل میڈیا، اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی روشنی میں یہ مقدمہ تیار کرتا۔ ہمارا میڈیا بھی وقتی جوش دکھاتا ہے، مگر مسلسل بیانیہ نہیں اپناتا۔  

ہم نے مظلوم مقبوضہ وادی کے کشمیریوں کے ساتھ جذباتی وابستگی ضرور رکھی، مگر عملی میدان میں ہم بار بار پیچھے ہٹے۔ ہماری اپنی بے عملی نے عالمی ضمیر کو بے حس اور کشمیر کو تنہا کر دیا۔ کشمیر کا المیہ صرف انڈیا کے ہاتھوں لہو لہان نہیں ہوا، بلکہ ہماری غفلت کی وجہ سے پیداہونے والی عالمی طاقتوں کی مجرمانہ خاموشی نے بھی اس سرزمین پر خون کی ندیاں بہانے میں برابر کا کردار ادا کیا ہے۔ یہ وہی دنیا ہے جو یوکرین میں انسانی حقوق کے خلاف چیخ اٹھتی ہے، لیکن کشمیر میں جب پوری بستی کو جلایا جاتا ہے، لڑکیوں کی چوٹیاں کاٹ دی جاتی ہیں، عصمت دری کی جاتی ہے اور بچوں کی آنکھوں میں چھرّے مارے جاتے ہیں، تو دنیا کی زبانیں گنگ، آنکھیں اندھی اور دل مُردہ رہتے ہیں۔  

اقوامِ متحدہ، جیسا ادارہ جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد انسانیت کی فلاح کے لیے بنایا گیا تھا، آج کشمیر کے معاملے میں بس قراردادوں کا قبرستان بن چکا ہے۔۱۹۴۸ء کی قراردادیں، ۱۹۵۱ء، ۱۹۵۷ء اور ۱۹۶۵ء کی قرار دادیں، سب اس بات کا اقرار کرتی ہیں کہ کشمیریوں کو استصوابِ رائے (Plebiscite) کا حق حاصل ہے، اور انڈیا کو یہ حق دینا ہوگا۔ مگر کیا کبھی اقوامِ متحدہ اس پر عمل درآمد کروانے کے لیے تیار ہوگی؟ نہیں۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ صرف ایک ہے: انڈین معاشی قوت، سفارتی لابنگ اور بڑی طاقتوں کی مفاداتی مجبوری۔  

انڈیا نے ۱۹۹۰ء کے عشرے سے ایک ہمہ جہت پالیسی اپنائی۔ اس نے سب سے پہلے اسلامی تحریک کو نام نہاد ’دہشت گردی‘ سے جوڑنے کی کوشش کی اور حُریت کی خالص اور عوامی تحریک کو ’دہشت گردی‘ کا لبادہ پہنا دیا۔ دنیا کے سامنے یہ بیانیہ پیش کیا کہ ’کشمیر میں جاری مزاحمت پاکستان کی سرحد سے پار مداخلت کا نتیجہ ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تھے۔ اس کے بعد انڈیا نے سفارتی لابنگ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی۔ امریکا، برطانیہ، فرانس، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں مستقل لابنگ گروپ بنائے۔ صحافیوں، تجزیہ کاروں، تھنک ٹینک اسکالرز کو خرید کر انڈین موقف دنیا کے ہر فورم پر پیش کیا۔ یوں ایک زہریلے بیانیے کو مہذب الفاظ میں لپیٹ کر دنیا کے سامنے رکھ دیا گیا۔  

اس کے بعد انڈیا نے فلموں، میڈیا اور ثقافت کے ذریعے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا۔ بالی وُڈ کے ذریعے کشمیر کو ایک حساس مگر ’داخلی معاملہ‘ ثابت کیا گیا۔حیدر، شنکارا، ہمّت والا، اوڑی دی سرجیکل سٹرائیک ، فنا ، مشن کشمیر سمیت درجنوں بالی وڈ فلموں کے ذریعے انڈین فوج کو ’ہیرو‘ اور کشمیری مزاحمت کو ’دہشت گردی‘ کے طور پر پیش کیا اور ایک پوری نسل کو ذہنی طور پر کنفیوز اور گمراہ کر دیا۔  

۵۷ مسلم ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)نے کشمیر پر درجنوں قراردادیں اور بیانات تو جاری کیے، لیکن کیا کبھی کسی عرب ریاست نے انڈیا سے سفارتی تعلقات منقطع کیے؟ کیا کسی مسلم ریاست نے انڈیا کے ساتھ تجارتی معاہدے ختم کیے؟ ہرگز نہیں۔ تیل، تجارت اور بھارت کی مارکیٹ نے ان کے مفادات کو خرید کر مسلم احساس کو ختم کردیا۔  

یورپی یونین، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، اور دیگر ادارے متعدد بار رپورٹس جاری کر چکے ہیں۔ ان رپورٹس میں پیلٹ گنز، اجتماعی قبروں، ماورائے عدالت قتل، اور آزادیٔ اظہار کی بندش پر تشویش ظاہر کی گئی، لیکن کیا کسی یورپی ملک نے انڈیا پر سفارتی یا تجارتی پابندی لگائی؟ کیا انڈیا کو کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سزا ملی؟ نہیں۔ یہ سب ادارے صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہزاروں نوجوان شہید ہو گئے، سیکڑوں معصوم لڑکیوں کی عصمت دری ہوئی، پیلٹ گنز سے بچوں کی آنکھیں ضائع ہوئیں، اجتماعی قبریں بنیں، آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوجی ہر گلی، ہر چوک، ہر مسجد میں زہر اگلتے رہے، تہاڑ جیل میں کشمیری قیادت قید رہی، اور اقوامِ متحدہ کی قراردادیں کتابوں میں دفن ہوتی رہیں۔ نمازِ جمعہ پر پابندی لگ گئی، مساجد پر قفل ڈال دیے گئے، قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کیے گئے، اور اب سب سے بڑھ کر، کشمیریوں کی نسل کشی (Genocide) کی ایک منظم مہم شروع ہو چکی ہے، جسے اگر دنیا نے نہ روکا تو وہ دن دُور نہیں جب کشمیر دوسرا روانڈا، دوسرا بوسنیا اور دوسرا غزہ بن جائے گا۔  

اب وقت آ چکا ہے کہ محض تقاریر اور قراردادوں سے آگے بڑھا جائے۔ ’بیس کیمپ‘ کو حقیقی معنوں میں ’بیس کیمپ‘ بنایا جائے۔ حقائق پر مبنی ایک مضبوط بیانیہ تشکیل دیا جائے اور کشمیر پر اس بیانیے کو ماڈیولز کی صورت میں ہر ادارے میں پیش کیا جائے۔ نوجوانوں کو عالمی میڈیا پر اس کشمیری بیانیے کو بیان کرنے کی تربیت دی جائے۔ سفارت خانوں کو مخصوص اہداف دیے جائیں، اور عالمی عدالتوں میں مقدمات داخل کیے جائیں۔  

یوم آزادی کشمیریوں کے لیے ہر سال مزید زخم لے کر آتا ہے۔ ۷۸ سال سے وہ ایک ایسے وعدے کی تکمیل کا انتظار کر رہے ہیں جو ان کے ساتھ پاکستان نے کیا تھا ، کہ ہم تمھیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کشمیری شہید ہو رہے ہیں، اور ’بیس کیمپ‘ میں جشن ہو رہے ہیں۔ یہ تحریر سوال ہے ان تمام ذمہ داروں سے جنھوں نے ’بیس کیمپ‘ کو ایک مضبوط ادارہ بنانے کے بجائے اسے سیاست کی شکار گاہ بنا دیا۔ کشمیر پکار رہا ہے: ’’ہم نے لہو دیا، تم نے کیا کیا؟‘‘اب بھی وقت ہے، ’بیس کیمپ‘ کو ’ریس کیمپ‘ سے آزاد کیا جائے۔ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ہمیں کشمیر کے ۷۸ سالہ دکھ، قربانیاں، آنسو، جنازے، اجتماعی قبریں، بند گلیاں، تہاڑ کی سلاخیں، اور جلتی بستیوں کے حقائق پر مبنی مضبوط بیانیہ تشکیل دینے، عزم، حکمت، اور جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ یہی تحریک کی بقا ہے، یہی کشمیریوں کے خون کا کفّارہ بھی ہے۔  

آزاد فضاؤں میں آزادی کا جشن منانے والو! ذرا سوچو! یومِ آزادی جب ہر سال پاکستان اور ’بیس کیمپ‘ میں ملّی نغموں، سبز پرچموں، آتش بازیوں، ترانوں اور جشن کی صورت میں آتا ہے، تو کشمیر کی وادی میں یہ دن ایک کرب میں ڈوبی شام کی مانند گزر جاتا ہے۔ وہاں نہ چراغ جلتے ہیں، نہ پرچم لہراتے ہیں، نہ نغمے گونجتے ہیں، بلکہ ہر گھر میں ایک شہید کی تصویر، ہر گلی میں ایک ماں کی چیخ، اور ہر بچی کے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، جن کی بینائی چھرّوں نے چھین لی۔  

ذرا سوچو! کشمیر کی لہو رنگ وادی کو کب وہی آزادی نصیب ہوگی جو تمھیں نصیب ہے؟  

۸ جولائی ۲۰۲۵ءکو، انڈین چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے نئی دہلی میں ’آبزرور ریسرچ فاونڈیشن‘ میں تقریر کرتے ہوئے چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تزویراتی مفادات کے بڑھتے ہوئے اتحاد پر تشویش کا اظہار کیا۔ انھوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ سہ فریقی اتحاد زور پکڑتا ہے تو انڈیا کی سلامتی کے لیے اس میں سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور یہ علاقائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے‘‘۔ 

اس تبصرے کے تناظر میں چین کے صوبے یونان کے دارالحکومت کنمنگ سے گردش کرنے والی ایک تصویر سامنے آئی، جس میں تینوں ممالک کے سفارت کاروں کو علاقائی اقتصادی تعاون کی غرض سے منعقدہ پہلی سہ فریقی بات چیت کے دوران ملاقات کرتے دکھایا گیا۔ اگرچہ اس ملاقات کو باضابطہ طور پر محض سفارتی مصروفیت کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن اس تصویر نے انڈیا کی تزویراتی صورتِ حال میں ہلچل مچا دی۔ 

بنگلہ دیش، جو اس معاملے کی حساسیت سے واضح طور پر آگاہ ہے، اس نے بیانیہ کو قابو کرنے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے۔ ڈھاکہ کی عبوری حکومت کے مشیر اُمورِخارجہ توحید حسین نے کسی بلاک میں یا کسی مخالفانہ اتحاد میں شامل ہونے کے کسی بھی ارادے سے انکار کیا۔ ڈھاکہ نے دُہرایا کہ اس کی خارجہ پالیسی غیر جانبدار اور خودمختاری پر مبنی ہے۔ 

ان یقین دہانیوں کے باوجود، انڈیا کی تزویراتی ترجیحات تبدیل ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ نئی دہلی میں اب یہ خیال گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کی عبوری قیادت میں بنگلہ دیش اپنی خارجہ پالیسی کو نئی بنیادوں پر ترتیب دے رہا ہے، جو سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے دور میں اختیار کردہ خارجہ پالیسی سے واضح طور پر مختلف ہے۔ حسینہ واجد کے دور میں، انڈیا اور بنگلہ دیش نے غیرمعمولی گرم جوش تعلقات استوار کیے تھے، جن کی خصوصیات گہرے سکیورٹی تعاون، سرحد پار رابطہ منصوبوں اور مشترکہ علاقائی مقاصد تھے۔ ڈھاکہ نے انڈیا مخالف باغیوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ انڈیا کو بنگلہ دیشی سرزمین کے ذریعے سات مشرقی انڈین ریاستوں تک ٹرانزٹ کے ذریعے رسائی دی گئی، اور عمومی طور پر نئی دہلی کی تزویراتی ترجیحات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کیا۔ 

جنرل چوہان نے ایک وسیع اور پریشان کن رجحان کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی: بیرونی طاقتیں – خاص طور پر چین – بحر ہند کے خطے میں اقتصادی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک کے چینی سرمایہ کاری اور امداد کے تابع ہونے سے یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ بیجنگ نرم طاقت کے ذریعے انڈیا کو منظم طریقے سے گھیر رہا ہے۔ 

تاہم، بنگلہ دیش کا معاملہ کچھ منفرد ہے۔ اس کی معیشت، اگرچہ دباؤ میں ہے، مگر نسبتاً مستحکم ہے، اور ڈھاکہ نظریاتی ہم آہنگی کے بجائے عملی، مفاد پر مبنی سفارت کاری پر زور دیتا ہے۔ کنمنگ اجلاس، علامتی طور پر اہم اجلاس اور سہ فریقی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ شکل رابطہ کاری کا ایک نیا پہلو متعارف کراتی ہے جو غیر متوقع طریقوں سے ترقی کر سکتی ہے۔ 

تاریخ کی گونج کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں، چین اور پاکستان نے ایک مضبوط تزویراتی محور برقرار رکھا تھا جو مشرقی پاکستان – جو اَب بنگلہ دیش ہے – کو خاموشی سے شامل کرتا تھا۔ یہ ترتیب ۱۹۷۱ء میں بنگلہ دیش کی آزادی کے ساتھ ختم ہوئی۔ تاہم، آج کل، لطیف اشارے بتاتے ہیں کہ اس تزویراتی سہ فریقی اتحاد کا کچھ حصہ دوبارہ اُبھر رہا ہے، اور وہ بھی ایک زیادہ پیچیدہ جیو پولیٹیکل میدان میں۔ 

بیجنگ کے لیے، پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں کے ساتھ تعلقات کو گہرا کرنا جنوبی ایشیا اور بحر ہند کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ مستحکم کرنے کے وسیع تر مقصد کے لیے اہم ترین قدم ہے۔ اسلام آباد کے لیے، یہ پیش قدمی سفارتی تحفظ اور تزویراتی فائدہ فراہم کرتی ہے۔ ڈھاکہ کے لیے، یہ تعلق ایک مؤثر حکمت عملی پر مبنی ہے۔ خاص طور پر اُس وقت، جب کہ نئی دہلی کے ساتھ اس کے مستحکم تعلقات میں تیزی سے اُبھرتی ہوئی غیریقینی صورتِ حال دکھائی دیتی ہے۔ 

بنگلہ دیش کا محتاط رویہ بھی غیر مستحکم ملکی سیاست سے متاثر ہے۔ جولائی ۲۰۲۴ء کے احتجاج اور ۵؍اگست ۲۰۲۴ء کو عبوری انتظامیہ کے قیام کے بعد سے، اندرونی یکجہتی میں ایک انداز سے رخنہ پڑا ہے۔ پولرائزیشن دوبارہ ابھر رہی ہے، اور ۲۰۲۶ء کے اوائل میں قومی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ، حکومت کی ترجیح استحکام ہے، نہ کہ کوئی دُور رس حکمت عملی۔ اس ماحول میں خارجہ پالیسی ردعمل پر مبنی ہے – نہ کہ تبدیلی پر۔ 

ڈھاکہ کسی بھی سمت میں زیادہ جھکاؤ کے خطرات کو سمجھتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تاریخی ناراضیاں سیاسی طور پر حساس ہیں، جب کہ چین پر زیادہ انحصار مغرب، خاص طور پر امریکا کے ساتھ اہم تجارتی اور سفارتی تعلقات کو دباؤ میں ڈال سکتا ہے، جہاں جمہوری پسپائی اور انسانی حقوق پر تشویش بڑھ گئی ہے۔ 

اس تناظر میں، کوئی واضح تزویراتی قدم کسی شدید ردعمل کو دعوت دے سکتا ہے۔ کنمنگ اجلاس بنیادی طور پر اقتصادی نوعیت کا تھا – جس میں تجارت، رابطہ کاری، بنیادی ڈھانچے اور ثقافتی تعاون پر بات ہوئی۔ تاہم، جب چین اور پاکستان نے مشترکہ ورکنگ گروپ کے ذریعے سہ فریقی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی تجویز پیش کی، تو بنگلہ دیش نے اس سے سفارتی تناظر میں گریز کیا۔ 

ڈھاکہ کی خارجہ پالیسی طویل عرصے سے اس اصول پر مبنی رہی ہے کہ تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ کھلے رابطوں کو برقرار رکھا جائے اور بلاک سیاست کے جال سے بچاجائے۔ تاہم، اس کے باوجود گذشتہ پندرہ برسوں میں بنگلہ دیش خاصا انڈیا کے زیراثر ہی رہا ہے۔ 

انڈیا کے حوالے سے بنگلہ دیش کے اقدامات کی تشریح کے لیے باریک بینی کی ضرورت ہے، جب کہ ڈھاکہ اپنے بین الاقوامی شراکت داریوں کو وسعت دے رہا ہے۔۲۰۰۰ء اور ۲۰۱۰ء کے عشروں کے دوران، شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے بھارتی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے ساتھ، باغی خطرات کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔تاہم، مجوزہ سہ فریقی ورکنگ گروپ سے بنگلہ دیش کے پیچھے ہٹنے کے باوجود انڈیا چین اور پاکستان دونوں کے ساتھ بنگلہ دیش کے تعلقات کے حوالے سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔  

مختلف حلقوں میں یہ بحث سننے کو ملتی ہے کہ پاکستان میں کچھ نہیں رکھا ،اس ملک سے نکل جاؤ، یہاں تباہی مقدر ہے ، روزگار نہیں ہے، اس ملک میں حلال کمائی کا کوئی امکان نہیں ہے ،وغیرہ وغیرہ۔ لیکن دوسری طرف بھی بہت مضبوط دلائل اور ٹھوس وجوہات ہیں کہ اس ملک میں بہت کچھ ہی نہیں سب کچھ ہے۔یہاں قدرت بھی مہربان ہے اور جغرافیہ بھی محفوظ ہے ،آبادی کی قوت بھی ہے اور جوانوں کی طاقت بھی،غرض ہر طرح کا ٹیلنٹ موجود ہے!! 

گویا یہاں سب کچھ ہے اور سب کے لیے ہے، حتیٰ کہ ’یہاں کچھ نہیں‘ ہے کہنے والے جب بیرون ملک کی پرتعیش زندگی میں شادیاں کرتے ہیں، تو سامان خریدنے پاکستان آتے ہیں ، دانت نکلوانے یا بنوانے ہوں تو پاکستان آتے ہیں ، کوئی آپریشن کرانا ہوتو پاکستان کا رخ کرتے ہیں ،بلکہ مرکر دفن بھی پاکستان میں ہونا چاہتے ہیں، لیکن کہتے یہ ہیں کہ یہاں کچھ نہیں رکھا!! 

ہاں!! ناانصافیاں، ناہمواریاں، نااہلیاں ،کرپشن،طاقت ور کی حکمرانی اور کمزور کے نصیب میں محرومیاں، مصیبتیں اور تکلیفیں ضرور ہیں۔اور یہ سارے ظلم کرنے والے بھی لوٹ مار کے لیے اسی ملک کو منتخب کرتے ہیں ، ذرا امریکا ، کینیڈا ، برطانیہ یا کسی یورپی، حتیٰ کہ عرب ملک میں پاکستان جیسے فراڈ کرکے تو دیکھیں۔ نہ سفارش چلے گی نہ دھونس ، جو قانون کی گرفت میں آیا وہ سزا پاکر رہے گا۔ 

ان دونوں پہلوؤں کے علاوہ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ حکومتی اداروں میں صرف نااہلی نہیں ہے، ان کے اہلکار، افسر اور کل پُرزے سب اپنے کام میں بڑے ماہر ہیں ۔بس ان کا رُخ اس جانب نہیں جس طرف ان کو متعین کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سرکاری اداروں میں سب سے نچلی سطح پر بلدیات ہیں۔بلدیات کا بنیادی کام بنیادی سہولیات پانی وغیرہ کی فراہمی،صفائی ستھرائی وغیرہ ہے لیکن اس کے اہلکار سڑکوں پر تجاوزات کی اجازت دے کر لوگوں سے اس کے عوض رقم اینٹھ لیتے ہیں۔اگر وہ تجاوزات کا موقع ہی نہ دیں اور رشوت نہ لیں تو راستے کشادہ رہ سکتے ہیں۔ یہاں صرف ان کی صلاحیت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ پوری مشینری بہت باصلاحیت ہے بس رُخ اُلٹ ہے۔ان کا کام یہ ہے کہ تلاش کریں کہ کہاں کہاں رکاوٹ ،تجاوزات اور خرابیاں ہیں ،لیکن وہ اتنی ہی محنت سے بلکہ اس سے زیادہ صلاحیت لگا کر وہ مقامات تلاش کرتے ہیں جہاں تجاوزات قائم کی جاسکتی ہیں۔اسی طرح ٹیکس وصولی کی صلاحیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ ناجائز بھتا باقاعدگی سے بروقت وصول کرکے اس کےتمام ’حق داروں‘تک پہنچاتے ہیں۔ 

پھر ان اداروں کی نگرانی پر مامور ادارے ہیں جو اتنی ہی محنت کرتے ہیں جتنی کرنی چاہیے لیکن اپنا حصہ وصول کرنے کے لیے اور کامیابی سے حصہ وصول کرتے ہیں۔ پھر منتخب نمائندے ہیں: کونسلرز، چیئرمین وغیرہ اور مزید اوپر مئیر، ڈپٹی مئیر وغیرہ ہیں ، اور پھر سرکاری مشینری اشرافیہ، وزرا وغیرہ جتنے بھی نچلے اہلکار ہیں وہ سب بتاتے ہیں کہ ہم تو کارندے ہیں جو کچھ ملتا ہے، یعنی لوگوں سے جو بھتے لیتے ہیں وہ سب اوپر پہنچاتے ہیں۔ بہر حال یہ اہلکار اتنے بھی ایماندار نہیں ہیں کہ سارے پیسے ایمانداری سے اوپر پہنچادیں۔ اتنی محنت کرتے ہیں، کچھ تو ’محنتانہ‘ وصول کرتے ہوںگے۔یقین نہ آئے تو ایم کیو ایم کا چالیس سالہ دور سامنے رکھیں ،پیدل، کروڑ پتی بن گئے، ٹیلی فون آپریٹر، مال دار اور جائیدادوں کے مالک بن گئے۔شادی ہال کا مینیجر بھی مالا مال ہوگیا۔ 

پہلے کہا جاتا تھا کہ مافیا ہرملک میں ہوتی ہے لیکن ہمارے ملک میں مافیا حکومت میں آجاتی ہے، پارلیمان میں آجاتی ہے اور پھر سارے کام ریاستی سطح پر ہوتے ہیں۔ 

پاکستان محض بلدیات کا نام تو ہے نہیں۔ ملک میں امن و امان کی ذمہ دار پولیس ہے۔ لوگ پولیس سے شاکی ہیں لیکن کیا پولیس کام نہیں کرتی ؟ نااہل اور ناکارہ ہے، اسے کچھ معلوم نہیں؟ ایسا بھی نہیں ہے۔ اب تو ہر آنے والے دن یہ لطیفہ حقیقت بن کر سامنے آرہا ہے۔ ہم سے چوبیس گھنٹے قبل معلوم کرلیں کہ کہاں کیا واردات ہونے والی ہے؟کئی جرائم میں پولیس ہی ملوث نکلی اور اب تو کئی پولیس والے سزائیں بھی پاچکے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری پولیس بھی نااہل اور نالائق نہیں۔ گذشتہ برسوں میں سندھ پولیس اور خصوصاً کراچی پولیس، رینجرز اور فوج کی رہنمائی کرتی رہی ہے، اور من پسند مجرموں کو بچانے کے لیے ان اداروں کو غلط معلومات بھی فراہم کرتی رہی ہے۔ یہی پولیس بھتوں کے معاملے میں دونمبری میں بھی ید طولیٰ رکھتی ہے۔ پورے ملک میں رشوت اور ناجائز آمدنی کا سارا کاروبار اسی پولیس کے بل پر چل رہا ہے۔ بڑے بڑے افسروں اور اہم اداروں کو بھی یہی ادارہ معاونت فراہم کرتا ہے۔ دنیا بھر میں پولیس کو دیکھ کر اطمینان اور پاکستان میں خوف محسوس ہوتا ہے، کیوں ؟ اس کا جواب سب جانتے ہیں ۔ جھوٹے مقدمے ، مظلوم کو ظالم ،مقتول کے ورثا کو مجرم بنانا، اس پولیس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ پولیس نااہل یا ناکارہ ہے ؟ اور فوج کے تو کیا کہنے! سرحدوں پر بھی نظر ہے اور سیاست پر بھی، کاروبار پر بھی نظر ہے اور حکومت سازی اور حکومت گرانے پر بھی، ایک ایک ایم این اے اور ایم پی اے پر بھی، سیاسی کارکنوں پربھی۔ اگر اس کثیر الجہتی مصروفیت کی وجہ سے دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوجائے تو اس میں اس کی نالائقی کو دخل نہیں، بلکہ اتنے سارے کام تنہا ایک ادارے کو کرنے پڑتے ہیں۔ بس یہی سوال ادارہ بھی اپنے آپ سے، اپنے ذمہ داران سے پوچھے اور پارلیمنٹ ہر ادارے سے پوچھے کہ اپنے دائرے سے باہر نکلنے کی وجہ کیا ہے؟ علیٰ ہذا القیاس ہر ادارہ، ریاستی مشینری کا ہرکل پُرزہ بہت باصلاحیت اور جو کرنا چاہتا ہے کررہا ہے۔ ہر ایک کا اور خصوصاً چند ایک کے کارناموں کے ساتھ ان کا تو نام بھی لکھنا پیکا ایکٹ کی لپیٹ میں لے آئے گا۔بس اس مشینری کا رُخ غلط ہے، اسے درست کرنا بہت مشکل بلکہ ناممکن لگتا ہے لیکن بہت آسان اور ممکن بھی ہے۔ 

آسان یوں کہ آئین اور قانون پر عمل شروع کردیا جائے ،جو رکاوٹ ڈالے اس کا احتساب کیا جائے، اور جو قانون کی پابندی نہ کرے اسے منصب سے ہٹا دیا جائے۔ایک اہم بات یہ ہے کہ نظریے، قدرتی وسائل،افرادی قوت، نوجوانوں، ایٹمی قوت ، مضبوط فوج، ان سب چیزوں کی موجودگی میں پاکستان ایک کامیاب ریاست ہے۔ اسے کامیابی سے چلانا اور ترقی دینا ہمارا کام ہے۔ اگر ہم یہ نہ کرسکیں تو ناکام کون ہوا ،ہم یا پاکستان ؟ 

سوال:  کیا آپ کے نزدیک کم سنی کی شادیوں کو روکنے کے لیے یہ قانون بنانا ضروری ہے کہ شادی کے وقت مرد کی عمر ۱۸ سال سے کم اور عورت کی ۱۵ سال سے کم نہ ہو؟  

جواب: کم سنی کی شادیاں روکنے کے لیے کسی قانون کی حاجت نہیں اور اس کے لیے ۱۸سال اور ۱۵سال کی عمر مقرر کر دینا بالکل غلط ہے۔ ہمارے ملک میں ۱۸سال کی عمر سے بہت پہلے ایک لڑکا جسمانی طور پر بالغ ہوجاتا ہے، اور لڑکیاں بھی ۱۵سال سے پہلے جسمانی بلوغ کو پہنچ جاتی ہیں۔ ان عمروں کو ازروئے قانون نکاح کی کم سے کم عمر قرار دینے کے معنی یہ ہیں کہ ہمیں اس سے کم عمر والے لڑکوں اور لڑکیوں کی صرف شادی پر اعتراض ہے، کسی دوسرے طریقے سے جنسی تعلقات پیدا کرلینے پر کوئی اعتراض نہیں۔ 

 شریعت ِ اسلام نے اس طرح کی مصنوعی حدبندیوں سے اسی لیے احتراز کیا ہے کہ یہ درحقیقت بالکل غیرمعقول ہیں۔ اس کے بجائے یہ بات لوگوں کے اپنے ہی اختیارِ تمیزی پر چھوڑ دینی چاہیے کہ وہ کب نکاح کریں اور کب نہ کریں۔ لوگوں میں تعلیم اور عقلی نشوونما کے ذریعے سے جتنا زیادہ شعور پیدا ہوگا، اسی قدر زیادہ صحیح طریقے سے وہ اپنے اس اختیارِ تمیزی کو استعمال کریں گے، اور کم سنی کے نامناسب نکاحوں کا وقوع، جواَب بھی ہمارے معاشرے میں کچھ بہت زیادہ نہیں ہے، روز بروز کم تر ہوتا چلا جائے گا۔شرعاً ایسے نکاحوں کو جائز صرف اس لیے رکھا گیا ہے کہ بسااوقات کسی خاندان کی حقیقی مصلحتیں اس کی متقاضی ہوتی ہیں۔ اس ضرورت کی خاطر قانوناً اسے جائز ہی رہنا چاہیے، اور اس کے نامناسب رواج کی روک تھام کے لیے قانون کے بجائے تعلیم اور عام بیداری کے وسائل پر اعتماد کرنا چاہیے۔ معاشرے کی ہرخرابی کا علاج قانون کا لٹھ ہی نہیں ہے۔ 

سوال: کیا آپ کے نزدیک نکاح کے لیے عمروں کا یہ تعین اَزروئے قرآن کریم یا اَزروئے حدیثِ صحیح ممنوع ہے؟ 

جواب: نکاح کے لیے عمروں کے تعین کی کوئی صریح ممانعت تو قرآن و حدیث میں نہیں ہے، مگر کم سنی کے نکاح کا جواز سنت سے ثابت ہے اور احادیث ِ صحیحہ میں اس کے عملی نظائر موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو چیز شرعاً جائز ہے اس کو آپ قانوناً حرام کس دلیل سے کرتے ہیں؟ آپ کا ایک عمراَزروئے قانون مقرر کر دینا یہ معنی رکھتا ہے کہ اس عمر سے کم میں اگر کوئی نکاح کیا جائے تو آپ اسے باطل قرار دیں گے اور ملکی عدالتیں اس کو تسلیم نہ کریں گے۔ کیا اسے ناجائز اور باطل ٹھیرانے کے لیے کوئی اجازت قرآن یا حدیث ِ صحیح میں موجود ہے؟  

دراصل یہ طرزِ سوال بہت ہی مغالطہ آمیز ہے۔ تعیینِ عمر صرف ایک ایجابی پہلو ہی نہیں رکھتی بلکہ ساتھ ساتھ ایک سلبی پہلو بھی رکھتی ہے۔ اس کے معنی صرف یہی نہیں ہیں کہ آپ نکاح کے لیے محض ایک عمر مقرر کرنا چاہتے ہیں، بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ اس عمر سے پہلے نکاح کرنے کو آپ حرام بھی کرنا چاہتے ہیں۔اس منفی پہلو کو نظرانداز کرکے صرف یہ پوچھنا کہ کیا اس کا مثبت پہلو ممنوع ہے؟ سوال کو ادھوری شکل میں پیش کرنا ہے۔ سوال کی تکمیل اس وقت ہوگی جب آپ ساتھ ساتھ یہ بھی پوچھیں کہ کیا ایک عمرِ خاص سے پہلے نکاح کو ناجائز ٹھیرانے کے حق میں کوئی دلیل قرآن یا کسی حدیثِ صحیح میں ملتی ہے؟ (ماہ نامہ ترجمان القرآن، لاہور، دسمبر ۱۹۵۵ء(

یہ بات سراسر عقل اور انصاف کے خلاف ہے کہ [آخرت میں] نیک اور بد، فرماں بردار اور نافرمان، ظالم اور مظلوم، آخرکار سب یکساں کر دیئے جائیں، کسی بھلائی کا کوئی اچھا نتیجہ اور کسی بُرائی کا کوئی بُرا نتیجہ نہ نکلے، نہ کسی مظلوم کی داد رسی ہو اور نہ کوئی ظالم اپنے کیے کی سزا پائے، بلکہ سب ایک ہی انجام سے دوچار ہوں۔ 

خدا کی اس کائنات کے متعلق جس نے یہ تصور قائم کیا ہے، اُس نے بڑا ہی غلط تصور قائم کیا ہے۔ اس تصور کو ظالم اور بدکار لوگ تو اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ وہ اپنے افعال کا بُرا نتیجہ نہیں دیکھنا چاہتے ، لیکن خدا کی یہ خدائی اندھیر نگری نہیں ہے، بلکہ یہ ایک برحق نظام ہے جس میں نیک و بد کو بالآخر یکساں کر دینے کا ظلم ہرگز نہیں ہوسکتا۔ 

[اسی طرح] انکارِ آخرت کا عقیدہ اخلاق کے لیے سخت تباہ کن ہے۔ اس کو اختیار وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے نفس کے بندے بنے ہوئے ہیں، اور اس لیے کرتے ہیں کہ انھیں بندگی ٔ نفس کی کھلی چھوٹ مل جائے۔پھر جب وہ اس عقیدے کو اختیار کرلیتے ہیں تو یہ انھیں گمراہ سے گمراہ تر کرتا چلا جاتا ہے، یہاں تک کہ اُن کی اخلاقی حس بالکل مُردہ ہوجاتی ہے اور ہدایت کے تمام دروازے اُن کے لیے بند ہوجاتے ہیں۔ 

یہ دلائل دینے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح تم آپ سے آپ زندہ نہیں ہوگئے ہو، بلکہ ہمارے زندہ کرنے سے زندہ ہوئے ہو، اسی طرح تم آپ سے آپ نہیں مرجاتے، بلکہ ہمارے موت دینے سے مرتے ہو، اور ایک وقت یقینا ایسا آنا ہے جب تم سب بیک وقت جمع کیے جائو گے۔ اس بات کو اگر آج تم اپنی جہالت و نادانی سے نہیں ما نتے تو نہ مانو، جب وہ وقت آجائے گا تو تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اپنے خدا کے حضور پیش ہو اور تمھارا پورا نامۂ اعمال بے کم و کاست تیار ہے، جو تمھارے ایک ایک کرتوت کی شہادت دے رہا ہے۔ اُس وقت تم کو معلوم ہوجائے گا کہ عقیدئہ آخرت کا یہ انکار، اور اس کا یہ مذاق جو تم اُڑا رہے ہو، تمھیں کس قدر مہنگا پڑا ہے۔ 

(’تفہیم القرآن‘ پس منظر سورۃ الجاثیہ، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، اگست ۱۹۶۵ء، ص ۱۹-۲۱)