۷؍اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ کے خلاف جاری جنگ عالمی رائے عامہ کی تشکیلِ نو کے باب میں تبدیلی کا ایک اہم موڑ بن گئی ہے۔ نہ صرف فلسطینی مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر نسل کشی بلکہ اس سے عالمی نظام کی ہیئت و ساخت اور اس کے اخلاقی وجود،معیار اور مفہوم پر بھی سوالات پیدا ہوچکے ہیں۔
غزہ میں جاری اہل فلسطین کا ’ہولوکاسٹ‘ اور اس کے براہِ راست مشاہدے نے صہیونی بیانیے کی کمزوری اور کھوکھلے پن کو پوری دنیا پر آشکارا کردیا ہے ، ساتھ ہی ساتھ اس نےمغرب کے دوہرے معیار کا پردہ بھی چاک کردیا ہے۔ بڑی عالمی طاقتیں اُس ادنیٰ ترین اخلاقی توازن کو قائم رکھنے میں بھی بُری طرح ناکام رہی ہیں، جس کا وہ دعویٰ کرتی چلی آئی ہیں ۔
اس کے برعکس، فلسطین اور اس کا مسئلہ ایک ایسے اخلاقی پیمانے کی حیثیت سے اُبھر کر عالم انسانیت کے سامنے آیا ہے جو خواص اور عوام کے موقف کو یکساں طور پر، روایتی سیاسی صف بندیوں سے بلند ہوکر اَزسر نو مرتب کررہا ہے۔ غزہ نے اپنے آپ کو ایک ایسے محرک اور عامل کی حیثیت سے منوایا ہے، جو پوری انسانیت کو بین البر اعظمی اور عالمی، ہر دو سطح پر نئی صف بندی پر مجبور کررہا ہے،تا کہ قومی اور سماجی سطح پر ایک ایسا بندوبست تشکیل پائے، جس سے ممکنہ طور پر نئی اسٹرے ٹیجک تبدیلیوں کا دروازہ کھل سکے ،اسرائیل کے ساتھ نارملائزیشن کی گمراہ کن راہیں مسدود ہوں، عرب حکومتوں پر دباؤ بڑھے اور اسرائیلی قبضہ گیروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے کے لیے ضروری قانونی چارہ جوئی کی کوششوں میں وسعت آئے ۔غزہ میں جاری معرکہ ہر گز ایک علاقائی ایشو اور محض فلسطینیوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عالم گیر قضیہ ہے جوموجودہ عالمی نظام کے لیے ایک اخلاقی امتحان کی حیثیت رکھتا ہے ۔
حال ہی میں خطے نے براہِ راست تصادم کو بھی دیکھا ہے۔ ایران اور ’صہیونی- امریکی محور‘ کے درمیان ہونے والے اس تصادم نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کی کمزوری کو تو آشکارا کیا ہی، تاہم ساتھ ہی ساتھ ایران کی یہ صلاحیت بھی نمایاں تر ہوکر سامنے آئی ہے کہ وہ صہیونی ریاست ِ اسرائیل کے اندر دُور تک، اور اس کے جدید ترین فوجی اڈوں اور دیگر دفاعی اور حساس تنصیبات کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے کی قدرت رکھتا ہے۔
۱۲ روزہ جنگ کا یہ زمانہ محض ایک عارضی اوروقتی تصادم نہ تھا، بلکہ خطے میں جاری کش مکش میں ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے دونوں برسرپیکار طاقتوں کے درمیان قائم توازن اور اس میں موجود خامیوں کو بھی آشکارا کردیا ۔ تصادم کا غیر فیصلہ کن ہونا اشارہ کررہا ہے کہ ٹکراؤ کے آئندہ مرحلے خطرناک اور شدید تر ہوسکتے ہیں اور کوئی غلط اندازہ یا کسی فریق کی طرف سے غیر مدبرانہ فیصلہ امکانی طور پر کش مکش اور تصادم کے دائرے کو وسیع تر بھی کرسکتا ہے۔
اگرچہ بظاہر اب مشرق وسطیٰ کے منظرنامے پر ایک خاموشی چھائی ہوئی ہے، مگر ہر فریق اپنی اپنی تلواریں تیز کر رہا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران، عوامی جمہوریہ چین کی حمایت اور اس کی بے مثال اقتصادی پشت پناہی سے انتہائی خاموشی کے ساتھ اپنی اسٹرے ٹیجک پوزیشن کو پھر سے ترتیب دے رہا ہے، اور اس کے اتحادی لبنان، یمن اور عراق بھی متحرک ہیں۔ اسی تناظر میں واشنگٹن حالات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور مداخلت کے لیے ہمہ دم تیار بیٹھا ہے کہ دباؤ کے کسی لمحے میں مداخلت کر ڈالے۔ اس صورتِ حال میں اسرائیل میں وہ سیاسی و عدالتی دھماکے رُونما ہو رہے ہیں، جو نیتن یاہو حکومت پر شدید دبائو کا باعث ہیں۔
سبھی فریق محتاط تیاری کی حالت میں ہیں، گویا ایک دھماکا ہے جو عنقریب ہوکر رہے گا۔ آئندہ ہونے والا معرکہ محض گولہ باری اور سپرسانک میزائل باری کا تبادلہ نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایک اسٹرے ٹیجک، ابلاغی، اور قانونی تصادم بھی ہوگا۔
ایران اور ’صہیونی - امریکی محور‘ کے درمیان جنگ بندی کا عالمی سطح پر محتاط خیرمقدم ہوا ہے، جب کہ حالات کی نزاکت اور قائدین کے متضاد بیانات نے اصل صورتِ حال کو مبہم بنا دیا ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا، تو دوسری جانب نیتن یاہو نے 'ایرانی جوہری پروگرام کی تباہی کا اعلان کیا، حالانکہ انٹیلی جنس رپورٹیں اس دعوے کی تردید کرتی ہیں۔
مغربی ذرائع ابلاغ — جیسے نیویارک ٹائمز اور دی اکانومسٹ وغیرہ — نے اس جنگ بندی کو غزہ میں تنازع کے خاتمے کی ممکنہ صورت قرار دیا تھا۔ تاہم، دیگر تجزیہ نگاروں نے بجا طور پر خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے مسئلہ فلسطین کے حقیقی حل سے گریز کیا تو خطہ میں تشدد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
فناشنل ٹائمز نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ موجودہ جنگ بندی محض ایک ناپائیدار عبوری مرحلہ ہے، جب کہ اصل فیصلے کا اس بات پر انحصار ہے کہ کیا اسرائیل ایک منصفانہ تصفیے میں شامل ہونے پر آمادہ ہے، جو بالآخر ایک مکمل خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام پر منتج ہو، —یا اس کا مقصد صرف تنازع کے دوران بگڑتی ہوئی صورت حال کو سنبھالا دینا ہے؟
اس سارے منظرنامے کے بیچوں بیچ گریٹر اسرائیل ' کا مذموم منصوبہ ایک نمایاں خطرے کے طور پر موجود ہے،اور اب [نیتن یاہو کے بیان کے بعد] بالکل واضح اور حقیقی خطرے کے طور پر اُبھر کر سامنے بھی آچکا ہے ۔ تل ابیب ، نیل سے فرات تک مکمل بالادستی قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ گویا —اسرائیل اپنی تاخت و تاراج کو فلسطینی سرزمین تک محدود نہیں رکھنا چاہتا، بلکہ عرب ممالک کی خودمختاری کو روندتے ہوئے انھیں تابع مہمل باج گزار ریاستوں میں تبدیل کرنے کے اپنے عزائم آشکارا کرچکا ہے۔
مشرق وسطیٰ پر بالادستی کا اسرائیلی منصوبہ، عالم عرب پر اس کے عسکری غلبے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ معیشت، سلامتی کے امور، ثقافتی تعلقات، نارملائزیشن، اور عرب ممالک کے حکومتی اداروں میں خفیہ اثر و رسوخ کا جال بچھانےتک وسیع ہے۔
اگرچہ ’صہیونی-امریکی محور‘ کو خفیہ معلومات کاری اور عسکری میدان میں بظاہر کامیابیاں حاصل ہورہی ہیں، تاہم 'نئے مشرقِ وسطیٰ کی قیادت سنبھالنے کے اس کے خواب کو متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے: عرب اقوام کی طرف سے انکار، مزاحمتی قوتوں کا باہم اتحاد، اسرائیل کے داخلی بحرانوں کی شدت، اور ایک جامع علاقائی پروگرام کی عدم موجودگی جس پر سبھی متفق ہوں۔یہ وہ عوامل ہیں جو دیرپا تسلط کی اسرائیلی و امریکی خواہش اور صلاحیت کو کمزور کرتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ پر غلبہ پانے کے اسرائیلی منصوبے کا مکمل طور پر امریکی مدد پر انحصار بھی اسے ایک اسٹرے ٹیجک مخمصے میں ڈال رہاہے، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن کا اپنا اثر و رسوخ اندرونی بحرانوں اور یوکرین و چین کے دُہرے دباؤ کے باعث زوال پذیر ہے —اور خطے کے معاملات پر اس کی یک طرفہ گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔
بظاہر یہ جغرافیائی،سیاسی خلا اب بتدریج چین اور روس کے ذریعے پُر ہو رہا ہے، جو نئی اقتصادی و عسکری حکمتِ عملیوں کے ذریعے ایک کثیرقطبی عالمی نظام کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ —ایسا نظام جو واحد امریکی بالادستی کے دور کا اختتام ثابت ہو سکتا ہے۔
خلیجی ممالک چاہنے یا نہ چاہنے کے باوجود قومی سلامتی کی ایسی شراکتوں کے نفاذ کی کوششیں ان کی خود مختارانہ فیصلہ سازی کی صلاحیت اور آزادی کو متاثر کررہی ہیں۔ عراق، شام، لبنان اور اُردن میں ’صہیونی-امریکی محور‘، ایک ایسا نفسیاتی اور فضائی غلبہ قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے جو ان کے خودمختار کردار کو بحالی اور اختیار سے محروم رکھ سکے۔
دوسری طرف ایران کا کردار ایک ایسے مزاحمتی محور کے طور پر نمایاں ہوا ہے، جو غزہ سے صنعا تک پھیلی اسٹرے ٹیجک وسعت کا حامل ہے، اور آزادی کے اس مفہوم پر مشتمل موقف کی تشکیل کررہا ہے، کہ امت کی بقا فلسطین کی آزادی سے جڑی ہوئی ہے۔
مزاحمتی جماعتیں، جن میں سرِفہرست حماس ہے، اب محض دباؤ کا پریشر گروپ نہیں رہی، بلکہ ایسی مؤثر قوت بن چکی ہے، جو عسکری، ابلاغی، اور سیاسی سطح پر خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
غزہ، مسلسل محاصرے ،فوج کشی اور تباہی کے باوجود، ایک ایسے اخلاقی مرکزومحور میں تبدیل ہوچکا ہے، جو مزاحمت کے قانونی و اخلاقی جوازکی تشکیلِ نو کر رہا ہے، اور عالمی رائے عامہ کے سامنے، ’صہیونی-امریکی محور‘ کے چہرے پر پڑا باقی ماندہ اخلاقی پردہ بے نقاب کررہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اہم ہے کہ مشرقِ وسطیٰ پر غلبے کی اس کش مکش میں روایتی جنگی ذرائع اب فیصلہ کن حیثیت نہیں رکھتے، بلکہ شعور اور فہم کا محاذ بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔
مزاحمتی ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، تعلیم، دین، ثقافت، معیشت، اور مصنوعی ذہانت، —یہ سب آزادی کی جنگ کے مرکزی میدان بن گئے ہیں، جو اقوام عالم کے شعورو ادراک کی اَزسرِنو تشکیل کررہے ہیں، اور اسرائیلی قبضہ گیروں کے مسلط کردہ جھوٹے موقف کی اجارہ داری کو توڑ کر مزاحمت و انصاف کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔
ان ذرائع کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور فیصلہ کن حیثیت نے فلسطین کی آزادی کے منصوبے کو نہ صرف نفسیاتی، ثقافتی اور اقتصادی وسعت فراہم کی ہے،بلکہ اسے محدود فوجی مزاحمت کے عمل سے نکال کر ایک ایسے جامع تہذیبی احیائی منصوبے میں بھی تبدیل کیا ہے جو زور زبردستی کے موجودہ مسلط شدہ نظام کو متاثر کر رہا ہے، اور خطے میں طاقت کے توازن کو نہ صرف فوجی نقطۂ نظر سے بلکہ علمی،شعوری اور اخلاقی زاویے سے بھی دوبارہ متعین کر رہا ہے۔
ہماری دانست میں اصل معرکہ، جو خطے کی حتمی سمت کا تعین کرے گا، سیاست یا جغرافیہ کے میدانوں میں نہیں، بلکہ شعور اور جواز کے میدان میں ہوگا۔ مشرقِ وسطیٰ کا آئندہ قائد وہی ہوگا، جو گہری تہذیبی بصیرت رکھتا ہو، اور آزادی و قیادت کے حقیقی تصور پر مبنی توازن قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ —ایسا توازن جو اُمت کو اس کی خودمختاری واپس دلائے، اور اس خطہ کی اقوام کو نئے عالمی نظام میں آزادی اور وقار عطا کرے۔کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کسی نئے استعمار کا منتظر نہیں، بلکہ ایک انقلابی رہنما کا خواہاں ہے جو قیادت کے مفہوم کو اَزسرِنو تشکیل دے اور صفوں کو متحد کرے۔
پنجاب و سندھ کے بعد اسلام آباد میں ’کم سنی کی شادی کے امتناع کے قانون ۲۰۲۵ء‘ نے مسلمانانِ پاکستان کے لیے ایک بار پھر یہ سوال لا کھڑا کیا ہے کہ وہ اپنے نکاح و طلاق کے معاملات اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے مطابق طے کریں یا ان عائلی قوانین کے مطابق جو حکمران اپنی خواہشات، مفادات، بیرونی دباؤ اور شریعت کی من مانی تشریح کے ذریعے ان کے لیے وضع کریں؟ ٹرانس جینڈر ایکٹ کے نفاذ سے لے کر فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) کی شرائط و نگرانی میں پے در پے ہونے والی قانون سازی کے بعد یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں ہونے والی اکثرو بیش تر قانون سازی عالمی اداروں کے دباؤ، مطالبات اور پالیسی پر عمل درآمد کا نتیجہ ہے۔ حکومت نے مذکورہ بالا قانون کی منظوری کے لیے بھی اقوام متحدہ کے ۲۰۳۰ءمنصوبہ کا ہدف نمبر ۵ یعنی کم عمر شادیوں کے تدارک کے ہدف اور بین الاقوامی معاہدات کی پاسداری کو وجۂ جواز بتایا ہے۔
اگرچہ بین الاقوامی معاہدات اور ’آئین پاکستان‘ کے باہمی تعامل کے اصولوں کا تفصیلی جائزہ اس مضمون کے دائرۂ کار سے باہر ہے لیکن اتنا عرض کرنا ضروری ہے کہ دونوں متعلقہ بین الاقوامی معاہدات یعنی اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال (UNCRC) اور عورتوں کے خلاف امتیاز کے خاتمہ کے معاہدہ (CEDAW) میں کہیں بھی نکاح و شادی کے لیے اٹھارہ برس کی مخصوص عمر مقرر کرنے کی لازمی ہدایت نہیں ہے۔ اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال کی شق 1 کے مطابق: ’’بچہ وہ ہے جو اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہو، اِلا یہ کہ اس پر لاگو قومی قانون کے تحت سنِ بلوغ اس سے پہلے حاصل ہوجائے‘‘۔ اس شق سے واضح ہوتا ہے کہ قومی قوانین، بلوغت یا نکاح کی عمر کو ۱۸ سال سے کم بھی مقرر کر سکتے ہیں۔ لہٰذا ۱۸سال سے کم عمر کا نکاح بذاتِ خود اس بین الاقوامی کنونشن کی خلاف ورزی نہیں، بشرطیکہ وہ متعلقہ ملکی قانون یا شرعی روایت کے مطابق ہو۔ اسی طرح عورتوں کے خلاف امتیاز کے خاتمے کے معاہدہ (CEDAW) کی شق ۱۶ میں عمر کے تعین کے حوالے سے براہِ راست کسی مخصوص عمر کا ذکر نہیں ہے۔ شق ۱۶(۲) شادی کی کم سے کم عمر صرف مقرر کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس شق میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی شادی (Child Marriage) کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور شادی کے لیے کم سے کم عمر مقرر کرنے کے لیے مناسب قانون سازی کی جانی چاہیے۔اس لیے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں بنیادی معاہدات میں شادی کی کم سے کم عمر متعین نہیں کی گئی بلکہ اسے ملکی قانون پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ شادی کی عمر اور پیدائش کے اندراج پر قانون سازی کرے۔
چونکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لیے قانون سازی ملک کی پارلیمان کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے، اس لیے حالیہ قانون اطلاق کے اعتبار سے تو محض ایک علاقائی ضابطہ ہے لیکن فی الواقع پاکستان کی مرکزی حکومت اور مقننہ کے قانونی و فکری عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس قانون کے ابتدائی مطالعے سے ہی ایک سلیم الفطرت انسان پر یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ یہ محض انتظامی ضابطہ نہیں بلکہ گہرے سماجی و معاشرتی اثرات کا حامل قانون ہے، جو براہِ راست ہمارے خاندانی نظام، فقہی روایت اور معاشرتی اقدار پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
۱- دفعہ ۲ (اے) کی رو سے ہر وہ مرد یا عورت جو اٹھارہ سال سے کم عمر ہو، ’بچہ‘ یا ’بچی‘ قرار دیا گیا ہے۔
۲- دفعہ ۲ (بی) کے مطابق، دو ایسے افراد کا نکاح جن میں دونوں یا کوئی ایک اٹھارہ برس سے کم عمر ہو، ’بچوں کے ساتھ زیادتی‘ (Child Abuse)کے زمرے میں شمار کیا گیا ہے۔
۳- دفعہ ۲ (سی) اور (ڈی) کی رو سے ایسے نکاح کے فریقین کو ’کم سن دُلہا‘ اور ’کم سن دُلہن‘ کہا جائے گا۔
۴- دفعہ ۳ کے تحت ایسے کسی نکاح کی رجسٹریشن پر قانونی پابندی عائد کی گئی ہے جس میں کوئی بھی فریق اٹھارہ سال سے کم عمر ہو۔ مزید یہ کہ نادرا کا شناختی کارڈ بطور ثبوتِ عمر لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس دفعہ کی خلاف ورزی کی صورت میں نکاح خواں/ نکاح رجسٹرار کو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا دی جا سکتی ہے۔
۵- دفعہ ۴ کے مطابق، اگر کوئی اٹھارہ برس سے زائد عمر کا مرد اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی سے نکاح کرے، تو اسے کم از کم دو سال اور زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
۶- دفعہ ۵کی رُو سے، اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل بچوں کی شادی کے نتیجے میں اگر کسی بھی نوع کی ہم زیستی (Cohabitation) واقع ہو، خواہ وہ رضامندی سے ہو یا بلارضامندی تو ایسی ہم زیستی بچوں پر ظلم قرار پائے گی۔اس جرم میں اعانت، اکسانے یا خاموش رضامندی دینے والے تمام افراد کم از کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور کم از کم ۱۰ لاکھ روپے جرمانے کی سزا کے مستحق ہوں گے۔
۷- دفعہ ۶ کے مطابق: اگر کوئی شخص ایسے نکاح کے لیے بچے کو اسلام آباد کی حدود سے باہر لے جائے تو یہ چائلڈ ٹریفکنگ (بچوں کی غیر قانونی نقل و حرکت) شمار ہو گا، جس کی سزا پانچ سے سات سال قید اور جرمانہ ہے۔
۸- دفعہ ۷ کی رُو سے اگر کسی نابالغ کے والدین یا سرپرست نے نکاح کی اجازت دی، اسے فروغ دیا یا اس کے انعقاد کو روکنے میں غفلت یا مداہنت برتی، تو وہ قانوناً مجرم تصور کیے جائیں گے۔ انھیں تین سال قید اور جرمانے کی سزا ہو گی، جب تک وہ عدالت میں اپنی بے گناہی ثابت نہ کردیں۔
۹-تمام جرائم کو ناقابلِ ضمانت، ناقابلِ راضی نامہ، اور قابلِ دست اندازی پولیس قرار دیا گیا ہے۔ عدالت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ محض اطلاع کی بنیاد پر، اطلاع کنندہ کا نام صیغۂ راز میں رکھتے ہوئے، ایسے کسی نکاح پر حکمِ امتناعی (injunction) جاری کر سکتی ہے۔
۱- اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے مابین یا ان میں سے کسی ایک فریق کے ساتھ نکاح کو سنگین مجرمانہ فعل قرار دے دیا گیا ہے۔
۲-ایسے نکاح کی رجسٹریشن کو بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے، خواہ نکاح شرعی شرائط کے اعتبار سے صحیح ہو۔
۳- اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کے نکاح کے عمل میں شرکت یا اعانت کرنے والے، حتیٰ کہ والدین اور سرپرست بھی، جب تک وہ اپنی بے گناہی عدالت میں ثابت نہ کرلیں، قانوناً مجرم سمجھے جائیں گے۔ ان کی گرفتاری وارنٹ کے بغیر ممکن ہو گی، اور وہ ضمانت یا صلح کے حق دار نہیں ہوں گے۔ اس قانون میں بارِ ثبوت استغاثہ پر نہیں بلکہ ملزم پر ڈال دیا گیا ہے، جو فوجداری قانون کے مسلّمہ اصولوں سے صریحاً انحراف ہے۔
۴- اگر اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کا نکاح بالفعل ہو جائے تو زوجین کے مابین کسی قسم کی ہم زیستی (Cohabitation) [ محض اکٹھے رہنے یا ازدواجی تعلق قائم کرنے] کو بچوں پر ظلم (Child Abuse)اور قانوناً جرم قرار دے دیا گیا ہے، اور اس جرم میں اعانت یا خاموشی اختیار کرنے والے تمام افراد کے لیے سخت سزائیں لازمی قرار دے دی گئیں ہیں۔
درج بالا نکات سے بالکل واضح ہے کہ یہ قانون نکاح کے لیے صرف ایک عمر کی حد مقرر کرنے کا معاملہ نہیں بلکہ اس کے ذریعے اسلامی شریعت کے مسلّمہ اصولوں، نکاح کے تصور، ولی و سرپرست کے حقوق، اور عدالتی اصولِ انصاف (مثلاً بارِ ثبوت) کو بنیادی طور پر متاثر کیا گیا ہے۔ اس کا اطلاق نہ صرف شرعی، بلکہ آئینی، عدالتی اور سماجی حوالوں سے بھی نہایت دُور رس مضر اثرات مرتب کرے گا۔
۱- کیا شریعت میں نابالغ لڑکا یا لڑکی کا نکاح جائز ہے، اور اس کا اختیار کسے حاصل ہے؟
۲- بلوغ کی شرعی تعریف، علامات اور کم از کم عمر کیا ہے؟
۳- نکاح میں ولی کا تصور اور اس کے اختیارات کیا ہیں؟
۴- کیا نکاح محض ایک مباح امر ہے کہ ریاست نکاح پر پابندیاں عائد کرنے کی مجاز ہے؟
۵- اگر ریاست کسی نکاح کو تسلیم نہ کرے تو شرعی و قانونی سطح پر اس کے نتائج کیا ہوں گے؟
شریعت کی رُو سے لڑکی اگر نو سال سے کم عمر ہے اور لڑکا اگر بارہ سال سے کم عمر ہے تو وہ ہر صورت نابالغ تصور کیے جائیں گے کیونکہ اس سے قبل وہ بالغ ہو نہیں سکتے۔ لڑکی نو سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد اور لڑکا بارہ برس کا ہونے کے بعد بھی اگر بالغ نہ ہوئے ہوں تو وہ صغیرہ اور صغیر ہی تصور کیے جائیں گے۔
لڑکااور لڑکی کے بالغ ہونے کامعیاراصلی علاماتِ بلوغ (احتلام، حیض، احبال یا دیگر جسمانی علامات) کااظہار ہے۔ لیکن اگر بلوغ کی علامات ظاہر نہ ہوں تو صرف اسی صورت میں عمر کے ذریعے بلوغت کا تعین کیا جائے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ۱۵ سال سے کم عمرعبداللہ بن عمرؓ کو غزوئہ اُحد میں شمولیت کے لیے قبول نہ کرنا اور ۱۵سال کی عمر پر غزوئہ اَحزاب میں شرکت کے لیے قبول کرنے (صحیح بخاری)سے استدلال کی بنا پر جمہورفقہاء کے مطابق بلوغ کی بالائی عمر لڑکا و لڑکی دونوں کے لیے ۱۵ سال ہے۔ اگرچہ امام ابوحنیفہ سے ایک روایت بلوغ کی بالائی عمر لڑکی کے لیے ۱۷ اور لڑکے کے لیے ۱۸سال کی بھی ہے، لیکن امام ابوحنیفہؒ سے دوسری روایت اور صاحبین یعنی امام ابویوسفؒ اور امام محمد بن حسن الشیبانی ؒکے مطابق علامات بلوغ ظاہر نہ ہونے کی صورت میں لڑکے اور لڑکی دونوں کے لیے بلوغ کی بالائی عمر ۱۵سال ہی ہے، لہٰذا ابن عمرؓ کی روایت کی بناپر بلوغ کی بالائی عمر ۱۵سال ہونے پر فقہاء کا اجماع ہے (تکملۃ البحر الرائق شرح کنزالدقائق، فصل فی حد البلوغ)۔لہٰذا شرعاً ۱۵ سال کی عمر کے بعد اگر علاماتِ بلوغ ظاہر نہ ہوں تب بھی لڑکا لڑکی بالغ شمار کیے جائیں گے۔
۱- فقہاء کے نزدیک نابالغ لڑکا یا لڑکی خود نکاح کا اختیار نہیں رکھتے، البتہ اولیاء کو ان کا نکاح کرنے کا یہ اختیار حاصل ہے۔ ابنِ منذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے (الاجماع لابن منذر، کتاب النکاح)۔ قرآنِ مجید نے عدت کے احکام بیان کرتے ہوئے ان خواتین کا ذکر صراحتاً فرمایا ہے جنھیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو: وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ (الطلاق۶۵: ۴)’’اور (وہ عورتیں) جنھیں حیض نہ آیا ہو ‘‘۔ اگرچہ اس آیت کے ضمن میں وہ بالغ عورتیں بھی آجاتی ہیں جنھیں رحم کی کسی پیچیدہ بیماری کی وجہ سے حیض آتا ہی نہیں مگر جمہور فقہا نے اس آیت کو نابالغہ لڑکی کے نکاح اور اس کے بعد طلاق کے تصور کوشریعت میں ممکن اور معقول ہونے پر واضح دلیل قرار دیا ہے، کیونکہ عدت کا حکم اسی صورت میں دیا جاتا ہے جب نکاح ہو چکا ہو۔ اگر نکاح ہی ممنوع ہوتا تو عدت کا حکم دینا غیر متعلق اور لغو ٹھیرتا۔ امام سرخسیؒ (المتوفی ۴۸۳ھ) نے صراحت سے لکھا: بین اللہ تعالٰی عدۃ الصغیرۃ وسبب العدّۃ النكاح وذٰلك دليل تصوّر نكاح الصغيرة (المبسوط، نکاح الصغیر و الصغیرہ،ج۴) یعنی ’’نکاح ہی عدت کا سبب ہے، اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ نابالغہ لڑکی کا نکاح شریعت میں متصور ہے۔ امام جصاصؒ (المتوفی ۳۷۰ھ) نے أحكام القرآن میں لکھا کہ نابالغ لڑکی سے نکاح نہ صرف جائز ہے بلکہ اس پر امت کا اتفاق ہے۔ علامہ ابن کثیرؒ (المتوفی ۷۷۴ھ) نے بھی اس سے مراد وہ صغیرہ لیا ہے جو ابھی حیض کی عمر کو نہ پہنچی ہوں (الصغار اللآئی لم یبلغن سن الحیض)۔ سیدابوالاعلی مودودیؒ نے تفہیم القرآن میں لکھاہے: ’’یہ آیت اس بات کی صریح دلیل ہے کہ شرعاً کم عمر لڑکیوں سے نکاح اور نکاح میں آنے پر خلوت دونوں جائز ہیں‘‘۔
ان تمام دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ جمہور فقہاء نابالغہ لڑکی سے نکاح اور نکاح میں آنے پر خلوت دونوں کا جواز براہِ راست قرآنِ مجید سے ثابت کرتے ہیں، اور جس فعل کو قرآن کریم جائز قرار دے رہا ہو، اسے ’غیر قانونی‘ یا ’حرام‘ کہنا کسی صورت درست نہیں۔
وفاقی شرعی عدالت نے اس قرآنی دلیل سے، جو اس مسئلے میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اپنے فیصلے میں تعرض ہی نہیں کیا اور یہی اس فیصلے کا سب سے بنیادی علمی و اصولی سقم ہے، کیونکہ عدالت نے اس معاملہ میں قرآن حکیم کی ایسی صریح آیت کو نظر انداز کر دیا ہے، جس سے فقہائے سلف نے اس معاملے میں ہمیشہ استدلال کیا ہے۔ عدالتی فیصلے میں قرآن کے اس اہم مقام کا عدم ذکر، علمی غیرت و فقہی دیانت کے معیار میں ایک قابلِ توجہ خلا ہے۔
دوسری آیت جس سے کم سنی کے نکاح کا جواز ثابت ہوتا ہے وہ سورۃالنساء کی آیت (۳) ہے، جس میں نکاح کے عمومی حکم میں الیتامى سے مراد امام جصاصؒ کے بقول نابالغ لڑکیاں ہیں، اور فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ کا اطلاق بالغ و نابالغ دونوں پر ہوتا ہے (أحکام القرآن للجصاص)۔ سنت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، اُم المومنین عائشہؓ کا نکاح ۶ سال کی عمر میں اور رخصتی ۹ سال کی عمر میں ہوئی (صحیح بخاری)، جس پر فقہاء کا اجماع ہے۔ امام نوویؒ نے واضح کیا کہ باپ یا دادا صغیرہ کا نکاح کر سکتے ہیں، اور خلوت کا وقت اس کی جسمانی اہلیت سے مشروط ہے، کسی خاص عمر سے نہیں۔ (شرح مسلم، نووی)
۲- بالغ عاقل مرد کو بلا اختلاف نکاح کا مکمل اختیار حاصل ہے، اس پر شرعاً ولی کی پابندی نہیں۔
۳- بالغہ لڑکی کے نکاح کے اختیار میں فقہاء کا اختلاف ہے: امام ابو حنیفہؒ کے مطابق اگر کفو (دین، نسب، خاندان، وجاہت میں برابری) کا لحاظ رکھا جائے تو باکرہ بالغہ خود نکاح کر سکتی ہے، جب کہ جمہور کے نزدیک حدیث(لا نکاح الا بولی) اور اس باب میں مذکور دیگر احادیث کی رُو سے باکرہ بالغہ کا نکاح ولی کی اجازت سے مشروط ہے (المبسوط للسرخسی، الموسوعہ الفقیہ، الکویت)۔ سیّد مودودیؒ نے دونوں آراء کے تقابل سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ نکاح میں اصل فریق مرد اور عورت ہیں، لیکن شارع نے عورت کے لیے ولی کی مشاورت کو ضروری رکھا ہے تاکہ معاشرتی نظم برقرار رہے، لہٰذا نہ ولی، عورت کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح کر سکتا ہے، نہ عورت ولی کی مخالفت میں غیر مناسب نکاح کر سکتی ہے، اور اختلاف کی صورت میں کرے گی(’رسائل و مسائل‘، ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۵۲ء)۔ بہرحال، فقہاء کے مابین اس اختلاف کے باوجود کہ ولی کی اجازت کے بغیر بالغہ باکرہ کا نکاح منعقد ہوتا ہے یا نہیں، اس امر پر سب کا اتفاق ہے کہ اسلامی خاندانی نظام میں ’ادارۂ ولایت‘ کو ایک بنیادی اور ناگزیر حیثیت حاصل ہے۔ ولی کے وجود اور اس کے شرعی مقام کو تمام فقہی مکاتب ِ فکر نے تسلیم کیا ہے، جس سے اس ادارے کی اہمیت اور اسلامی معاشرت میں اس کے توازن ساز کردار کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔
۴- ثیبہ عورت (مطلقہ یا بیوہ) کوجمہور فقہاء کے مطابق اپنا نکاح خود کرنے کا اختیارہے، اس میں ولی کی اجازت شرط نہیں۔(بدایۃ المجتہد و نہایۃ المقتصد، کتاب النکاح)
۵- رہی نابالغہ مطلقہ یا بیوہ تو جن فقہاء کے نزدیک وہ عقد کی اہل نہیں ہے، ان کے نزدیک ولی کو ہی اس کا دوبارہ نکاح کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
چنانچہ مندرجہ بالا فقہی دلائل سے تصویر یہ اُبھرتی ہے کہ اسلام نے نکاح کے لیے کوئی کم از کم عمر متعین نہیں کی؛ صغیر/صغیرہ کا نکاح ولی ہی کرا سکتا ہے، اور بالغ/بالغہ (ولی کی رضامندی سے یا بعض آراء میں اس کے بغیر) نکاح کا اختیار رکھتے ہیں۔
۱- صغیر و صغیرہ کے نکاح میں ولی کا شرعی اختیار ختم کر کے اسے قابلِ تعزیر جرم بنا دیا گیا ہے۔
۲- بلوغت کے باوجود نکاح کا شرعی حق ۱۸ سال کی عمر سے مشروط کر دیا گیا ہے، اور اس سے قبل نکاح کی ہر کوشش اور اس کوشش میں ہرقسم کی معاونت کو بھیکو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے ، خواہ اس کی زد میں والدین یا دیگر اولیاء ہی کیوں نہ آتے ہوں۔
لیکن یہ استدلال کئی وجوہ سے محلِ نظر ہے: اولاً، آیت کا سیاق و سباق مالی معاملات سے متعلق ہے، نہ کہ نکاح سے۔ قرآن کا خطاب یتیموں کے بارے میں ہے جن کے حقیقی اولیاء موجود نہیں ہوتے، اس لیے مال ان کے حوالے کرنے سے قبل ان کی مالی معاملات میں اہلیت (رشد) کا امتحان ضروری ہے۔ برخلاف اس کے، نکاح کے وقت اکثر نوجوانوں کے شرعی اولیاء موجود ہوتے ہیں، اور فقہی اصول کے مطابق، جب ولی موجود ہو تو نکاح میں اس کی نگرانی ’رُشد‘ کا متبادل ہوتی ہے۔ ثانیاً، فقہاء نے اس آیت سے صرف مالی معاملات میں رشد کی شرط اخذ کی ہے، نہ کہ نکاح، طلاق، یا دیگر ذاتی معاملات میں۔ جیسا کہ دکتور وہبہ الزحیلی لکھتے ہیں: ’’اگر کوئی شخص عقل و فہم کی سطح کو پہنچ جائے تو ہی اس کی مالی ولایت ختم ہوتی ہے، لیکن تعلیم، تربیت اور نکاح جیسے معاملات میں ولایت صرف نابالغی تک محدود ہے، رُشد شرط نہیں‘‘ (الفقہ الاسلامی و أدلتہٗ، بحث نظریۃ العقد ج ۴)۔ ثالثاً، اگر نکاح کو رُشد سے مشروط کیا بھی جائے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رشد کی عمر کیا ہوگی؟ اٹھارہ سال؟ بیس یا پچیس سال؟ یہ سوال یقینا قابلِ غور ہے کہ اگر نکاح و شادی کے لیے ’رُشد‘ شرط ہو، تو یہ کیسے فرض کر لیا گیا ہے کہ ہرفرد ۱۸ سال کی عمر میں لازماً باشعور ہو جاتا ہے؟ کیونکہ نہ تو ہر شخص ۱۸سال میں لازماً سمجھ دار ہو جاتا ہے، اور نہ ہر نابالغ غیرذمہ دار ہی ہوتا ہے۔ قرآنی آیت (النساء۴: ۶) سے کم عمری کی شادی پر پابندی کے حق میں استدلال نہایت کمزور ہے کیوں کہ جب قرآن نے اس آیت میں واضح طور پر خود بلوغ کو ’نکاح کی عمر‘ سے تعبیر کیا ہے، تو پھر شادی کی عمر کو بلوغ سے آگے بڑھانے کے لیے کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔
امام جصاصؒ، امام ابوحنیفہؒ کے موقف کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: ’’آیت: حتی اذا بلغوا النکاح سے واضح ہوتا ہے کہ بلوغ کا مرحلہ ابتلا (آزمائش) کے بعد آتا ہے، کیونکہ ’حتی‘ غایت کے لیے آتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نابالغ لڑکے کی آزمائش بلوغ سے قبل ہوگی‘‘۔ (احکام القرآن للجصاص)۔آزمائش کا مطلب یہی ہے کہ اسے کاروبار یا تجارت کی اجازت دی جائے تاکہ اس کی استعداد کا اندازہ ہو۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس آیت سے ’رشد‘ کو نکاح کے لیے شرط قرار دیا جائے، تو پھر کیا نابالغ، مگر سمجھدار لڑکے یا لڑکی کو خود ’نکاح‘ کرنے کی اجازت بھی دی جاسکتی ہے؟ کیونکہ امام ابو حنیفہؒ کے مطابق تو رشد کی آزمائش بلوغ سے پہلے ہوتی ہے۔ یہ استدلال ان تمام اجتہادات کو الٹ دیتا ہے جو نکاح کو ’رشد‘ سے مشروط کرکے صرف ’بالغ اور سمجھ دار‘ افراد تک محدود کرنا چاہتے ہیں، جب کہ امام جصاصؒ کے فہم کے مطابق اگر نابالغ بھی سمجھدار ہو تو وہ مالی تصرفات بلکہ تجارت کا اہل بن سکتا ہے، تو پھر نکاح کے باب میں اس کا مکمل اختیار خارج از امکان کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ اسی طرح بالغ یتیم کے نکاح پر فقہاء کا اتفاق ہے۔ امام قرطبیؒ نے مالکیہ کا موقف بیان کیا ہے کہ نابالغ لڑکی کے رشد کی آزمائش اس وقت ممکن ہے جب وہ بالغ ہوجائے اور اس کا شوہر اس سے دخول کرلے، کیونکہ لڑکی عام طور پر معاشی و سماجی معاملات سے الگ رہتی ہے، اس لیے اس کی صلاحیتیں نکاح کے بعد ہی ظاہر ہوتی ہیں۔ برخلاف لڑکے کے، جو شروع سے سماجی و مالی معاملات سے وابستہ ہوتا ہے، اس لیے اس کی آزمائش بلوغ سے پہلے ممکن ہے (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی)۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ رشد کا تعلق صرف مالی معاملات سے ہے، نہ کہ نکاح سے۔
شریعت میں باپ کو فطری ولی قرار دیا گیا ہے کیونکہ اولاد کے لیے سب سے زیادہ محبت، شفقت اور خیرخواہی اسی سے متوقع ہے۔ جب قانون سازی کے ذریعے اس ولایت کو سلب کیا جاتا ہے اور باپ کو محض چند استثنائی واقعات کی بنیاد پر ظالم یا مجرم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تو اس کا نتیجہ صرف ایک فرد کی محرومی نہیں بلکہ خاندانی نظام کی جڑوں کو کھوکھلا کرنا ہے۔اسلامی تصورِ نکاح میں ’ولی‘ صرف ایک قانونی کردار نہیں بلکہ خاندانی شوریٰ کی علامت ہے (پروفیسر خورشید احمد، اشارات، ترجمان القرآن فروری ۲۰۲۵ء)۔ نکاح کا فیصلہ صرف لڑکے لڑکی کا انفرادی انتخاب نہیں بلکہ خاندان کی مشاورت، تجربہ، اور اخلاقی اقدار پر مبنی ہوتا ہے۔ جب اس عمل کو قانون کے ذریعے کمزور کیا جاتا ہے تو نوجوان نسل کو ایک ایسے معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے جو نہ ان کا محافظ ہے اور نہ خیرخواہ۔ اس قانون میں ولی کو مشتبہ بنا دیا گیا ہے، اور جو رشتہ اعتماد اور محبت پر قائم تھا، اسے شک اور جبر کے آئینے میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ صرف فقہی اصول کی نفی نہیں بلکہ اسلامی تمدن پر حملہ ہے، جس کا انجام خاندانی ادارے کی تباہی اور افراد کی بے سمتی کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔
بعض اہلِ علم نے ریاست کو ’مباح‘ پر عارضی پابندی لگانے کا جو اختیار دیا ہے، وہ بھی متعدد شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے فقہ الاسرۃ و قضایا المرأۃ میں وضاحت کی ہے کہ مباح پر ریاستی پابندی کا جواز صرف اس وقت ہے جب مصلحت غالب ہو؛ یہ پابندی صرف عارضی، موقع و محل کے لحاظ سے اور مخصوص افراد پر ہی ہو سکتی ہے۔ ایسی کوئی بھی پابندی عام، مطلق اور دائمی نہیں ہو سکتی، کیونکہ ایسی پابندی تحریم کے مشابہ ہے، جو صرف اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی حلال چیز — جیسے نکاح، طلاق یا تعدد ازواج — کو عام، مستقل اور مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا جائے، یا شرعی شرائط سے ماوراء شرائط سے مشروط کردیا جائے تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اہلِ کتاب نے اپنے علماء و راہبوں کو حلال و حرام کا اختیار دے دیا تھا، جس پر قرآن کریم نے سخت نکیر فرمائی: اِتَّخَذُوْٓا اَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللہِ (التوبہ۹:۳۱)
ایک دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ پاکستان میں فرد کی قانونی اہلیت کی عمر اکثر معاملات میں اٹھارہ سال مقرر ہے، —جیسے ووٹ ڈالنا، ڈرائیونگ لائسنس، شناختی کارڈ، بیرون ملک سفر، حضانت اور فوجداری قوانین میں بچوں کی تعریف۔ جب دیگر تمام قوانین اٹھارہ سال کی حد تسلیم کرتے ہیں تو نکاح جیسے حساس اور خاندانی نظام سے متعلق معاملے میں یہ شرط کیوں نہ ہو؟ تاہم مذکورہ قوانین کسی صریح شرعی نص پر مبنی نہیں، اس لیے ان کا تقابل نکاح جیسے معاملے سے کہ جس کے لیے نصوص شریعت میں واضح احکام موجود ہیں، قیاس مع الفارق ہے جو قطعاً درست نہیں۔
۲- اس قانون کے نتیجے میں ’نکاح کے لیے درکار رضامندی‘ (marital consent) اور ’جنسی عمل کے لیے رضامندی‘ (sexual consent) کی عمر کے درمیان بھی واضح تضاد سامنے آتا ہے، جہاں جنسی عمل کے لیے رضامندی کی عمر ۱۶ سال مقرر ہے، جب کہ اس قانون میں نکاح کے لیے کم از کم عمر ۱۸ سال رکھی گئی ہے، جس کی عمارت اس مفروضے پر کھڑی ہے کہ اٹھارہ سال سے کم عمر فرد ناسمجھ، کم فہم اور فیصلہ سازی کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے، اور اس بنا پر اس کی شادی کو ایک جبر، زیادتی اور ظلم تصور کیا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف، پاکستان کے فوجداری قانون (تعزیراتِ پاکستان) میں جنسی عمل کے لیے رضامندی کی عمر ۱۶ سال مقرر کی گئی ہے۔ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۳۷۵ کے مطابق ۱۶سال سے کم عمر بچے یا بچی کے ساتھ کسی قسم کا جنسی تعلق، خواہ وہ رضامندی سے ہو یا زبردستی، ’ریپ‘ (زنابالجبر) شمار ہوتا ہے، جس کی سزا موت، عمر قید یا کم از کم ۲۵سال قیدِ بامشقت ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون یہ تسلیم کرتا ہے کہ۱۶ سال عمر کا فرد جنسی عمل کے لیے ’رضامند‘ ہوسکتا ہے اور اس کی رضامندی قانونی طور پر معتبر ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ اسی عمر کے فرد کو نکاح جیسے پاکیزہ، محفوظ اور قانونی بندھن کے لیے نااہل قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ ’رُشد‘ یا ’سمجھ داری‘ کے مزعومہ معیار پر پورا نہیں اُترتا۔ یہ تضاد صرف منطقی یا قانونی نوعیت کا نہیں، بلکہ ایک عمیق تہذیبی اور اخلاقی بحران کو جنم دیتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت نے ’رُشد‘ کو اہلیت نکاح کی شرط قرار دیتےہوئے اس تضاد کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ۱۶ سالہ نوجوان لڑکا یا لڑکی جنسی عمل کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کر سکتا ہے، تو نکاح کے لیے وہ رضامندی ظاہر کرنے کا اہل کیوں نہیں؟
اگر قانون اس عمر میں لڑکی کی رضامندی کو ’جنسی تعلق‘ کے لیے تو تسلیم کرتا ہے لیکن نکاح جیسے مہذب ادارے کے لیے تسلیم نہیں کرتا، تو یہ قانون سازی تہذیبی انحراف، اور مغربی ماڈل کی تقلید کا واضح ثبوت ہے۔ یہی عمر ہے جب بچے بلوغت کے بعد جنسی کشش، جذباتی وابستگی اور نفسیاتی ہیجان کے مرحلے میں ہوتے ہیں۔ اور یہی وہ عمر ہے جہاں دنیا بھر کے اعداد و شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ جنسی جرائم، بدکاری، ناجائز تعلقات، مانع حمل ادویات کا استعمال، اسقاط حمل، اور عارضی تعلقات کی شرح سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ پاکستانی ’قانون ساز طبقہ‘ ایک طرف جنسی آزادی کو ’رضامندی‘ کے پردے میں جائز قرار دے رہا ہے، اور دوسری طرف نکاح جیسے محفوظ اور ذمہ دار رشتے پر ۱۸سال کی عمر اور ’رشد‘ کی شرط لگا کر اسے محدود کر رہا ہے۔یہی مغربی تہذیب کا ماڈل ہے، اور کیا یہی خطرناک ایجنڈا پاکستان میں نافذ کیا جا رہا ہے؟
قانون میں نکاح کو باقاعدہ ’منسوخ‘ یا ’باطل‘ قرار دینے کے بجائے اس کے اندراج اور عمل کو جرم قرار دیا گیا ہے، تا کہ نہ صرف نکاح کے امکان کو عملی طور پر مسدود کر دیا جائے، بلکہ ایسے نکاح کو ریکارڈ کا حصہ بنانا ہی مجرمانہ فعل قرار پائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قانونی ابہام محض غفلت کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک دانستہ اختیار کردہ پالیسی ہے۔ قانون سازی کے ذریعے ایک اُلجھاؤ کی فضا پیدا کی گئی ہے تا کہ نکاح جیسے شرعی اور فطری ادارے کو مشکل بنا کر لوگوں کو اس سے دور کرکے انھیں تجرد کی زندگی، جنسی بے راہ روی اور زنا کی طرف دھکیلا جائے۔
یہ ابہام کئی اور انتہائی بنیادی قانونی ابہامات کو جنم دیتا ہے۔ اگر ایسے نکاح میں بندھی ہوئی لڑکی اس نکاح کو ’غیرقانونی‘ یا ’ممنوع‘ تسلیم کر بھی لے، تو وہ اس سے طلاق یا فسخ کے بغیر کس بنیاد پر نجات حاصل کرسکے گی؟ اگر نکاح کا کوئی وجود ہی نہیں، تو کیا اس لڑکی پر عدت کے احکام لاگو ہوں گے یا نہیں؟ اگر اس نکاح کے نتیجے میں حمل ٹھہرے یا بچہ پیدا ہو جائے، تو اس بچے کا نسب، وراثت اور ولدیت کا شرعی اور قانونی مقام کیا ہو گا؟ ایسے نکاح کے نتیجے میں نان و نفقہ، حق مہر، رہائش، اور دیگر معاشی حقوق کی قانونی حیثیت کیا ہو گی؟ یہ تمام سوالات محض نظری یا تجریدی نہیں، بلکہ عملی اور بنیادی ہیں۔
یہاں یہ نکتہ بھی نہایت اہم ہے کہ قانون سازی میںمبہم/ کثیرالمعانی الفاظ کا استعمال، مثلاً دفعہ۵ میں ’ہم زیستی‘ (Cohabitation) کو بغیر کسی مخصوص قانونی تعریف و تحدید کے شامل کر کے بچوں پر ظلم اور قانوناً جرم قرار دینا اور اس جرم میں کسی بھی قسم کی معاونت یا خاموشی پر سخت سزائیں مقرر کرنا، نہ صرف قانونی سقم ہے بلکہ یہ آئینی طور پر بھی محلِ اعتراض ہے۔ کیونکہ اس سے عدالت اور پولیس کے لیے بے جا وسعتِ تعبیر کے دروازے کھل جاتے ہیں اور شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوسکتے ہیں۔
فوجداری قانون میں مبہم اور غیرواضح اصطلاحات کا استعمال بذاتِ خود خلافِ اصول ہے۔ فوجداری قانون کا مسلّمہ قاعدہ یہ ہے کہ جرم کی تعریف، اس کے عناصر اور اس کی حدود نہایت صراحت اور وضاحت کے ساتھ بیان کیے جائیں تاکہ شہری کو یہ یقینی علم ہو کہ کون سا فعل ممنوع اور قابلِ تعزیر ہے۔
اس سلسلہ میں بین الاقوامی سیکولر ایجنڈے کو پاکستانی لیگل فریم ورک میں داخل کرنے اور سماج میں قابلِ قبول بنانے کے لیے سرگرم این جی اوز نے اگلے قدم کے طور پر مؤثر لابنگ کے ذریعے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت سے ’تولیدی صحت کی جامع تعلیم‘ (Comprehensive Reproductive Health Education) کو ۱۴سال کی عمر کے بچوں کے لیے اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کا بل منظور کروا لیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ بیرونی دبائو پر ریاست نوجوانوں کو نکاح سے دُور اور آزاد جنسی تعلقات کی طرف دھکیل رہی ہے۔
خاندان کے ادارے اور خاندانی نظام کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے آج خاندان کے ادارے کو سب سے بڑا خطرہ ریاست اور ریاستی اداروں کی سوشل انجینئرنگ سے ہے۔ جس کے ذریعے سیکولر مغربی طرزِ زندگی کو پوری قوم پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ یہ ریاستی طاقت کا مجرمانہ استعمال ہے جس کا تدارک ایک شرعی فریضہ ہے۔
سوال: زندگی مسلسل متحرک ہے۔ یہ بڑھتی، گھٹتی اور پھیلتی رہتی ہے۔ اس کے خول میں بے پناہ لچک ہے۔ اگر اسلام ایک نظامِ زندگی ہے تو کیا اس میں بھی لچک موجود ہے؟
جواب: اسلام میں وہ فطری لچک موجود ہے جس کا تقاضا زندگی کرتی ہے۔’اجتہاد‘ اسی لچک کا دوسرا نام ہے۔ اجتہاد کے ذریعے سے اسلام زندگی کے ہرگلِ تازہ کی آبیاری کرتا ہے اور ہرنئے اُبھرتے گوشے کو روشنی فراہم کرتا ہے۔ اسی بناء پر اسلام میں ’اجتہاد‘ کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے اور ہر زمانے میں اس کی ضرورت رہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ’اجتہاد‘ کو متضاد مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے۔
سوال : وہ متضاد مقاصد کیا ہیں؟
جواب :’اجتہاد‘ کا ایک مقصد تو یہ ہوسکتا ہے کہ جو نئے حالات پیش آئیں، ان پر اسلام کے اصول اور احکام منطبق کیے جائیں۔ دوسرا مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے جو کچھ مخصوص نظریات اور خواہشات ذہن میں پہلے سے موجود ہوں، ان کے مطابق اسلام کو ڈھالا جائے۔ پہلی قسم کا ’اجتہاد‘ صحیح معنوں میں ’اجتہاد‘ ہے اور ہر دور میں علما اس ’اجتہاد‘ کے قائل رہے ہیں۔ لیکن مؤخرالذکر ’اجتہاد‘ نہ تو اسلامی اصطلاح کے مطابق ’اجتہاد‘ ہے، اور نہ کوئی مسلمان اس ’اجتہاد‘ کا قائل ہے۔ غرض یہ ہے کہ ’اجتہاد‘ کا نازک کام آج کل وہ لوگ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتے ہیں، جو اس کام کے سرے سے اہل ہی نہیں۔ ’اجتہاد‘ کے لیے خاص قسم کی صلاحیتوں اور اہلیتوں کی ضرورت ہے۔
سوال: ’اجتہاد‘ کے لیے کس نوعیت کی صلاحیتیں درکار ہیں؟ آخر ہرشخص ’اجتہاد‘ کیوں نہیں کرسکتا؟
جواب: ’اس کام کے لیے بہت سی بنیادی اور ضروری صلاحیتیں درکار ہیں۔ لیکن کچھ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ ’اجتہاد‘ کے لیے مغربی قوانین، معاشیات وغیرہ کا علم کافی ہے اور انگریزی ترجموں سے قرآن پڑھ کر اور حدیث و فقہ کو بالائے طاق رکھ کر، بڑی کامیابی سے ’اجتہاد‘ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا اجتہاد کوئی ایسا شخص نہیں کرسکتا، جس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا کچھ خوف ہو یا، جو اخلاص کے ساتھ مسلمان رہنے کا خواہش مند ہو۔ صحیح معنوں میں اجتہاد کا اہل وہی شخص ہوسکتا ہے، جو عربی میں مہارت رکھتا ہو، زبان کی نزاکتوں کو سمجھ سکتا ہو، قرآن کو اس کی اصل زبان میں نہ صرف سمجھنے کے قابل ہو، بلکہ اپنی عمر کاغالب حصہ اس نے فہم قرآنی کی نزاکتوں کے سمجھنے میں صرف کیا ہو۔ حدیث پر وسیع نگاہ رکھتا ہو، فقہ اسلامی کی تاریخ اور اس کے اصولوں اور مختلف اَدوار کے فقہا کے کام سے واقف ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وقت کے مسائلِ زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہو۔
سوال: اگر ایک گروہ دوسرے قسم کا ’اجتہاد‘ کرنے لگے اور اسے ملک میں نافذ کرنے پر بھی مُصر ہو تو پھر قوم کو کیا کرنا چاہیے؟
جواب: پوری قوت سے مزاحمت کرنی چاہیے، کیونکہ ایسے گروہ کا طرزِ عمل لازمی طور پر ملک کو انتشار اور تباہی کے گرداب میں پھینک دے گا۔ یہ مختصر سا مغرب زدہ گروہ جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے ایک نیا دین قوم پر زبردستی ٹھونسنے کی کوشش کرتا رہے گا اور قوم اس کو دفع کرنے کے لیے زور لگاتی رہے گی۔ اس کشاکش میں ترقی کے راستے پر ہمارا قدم ایک انچ بھی آگے نہ بڑھ سکے گا۔
سوال: کیا ان حالات میں علما پر بھاری ذمہ داری عائد نہیں ہوتی؟
جواب: مجھے آپ کے جذبات کی شدت کا احساس ہے، مگر یہ تو سوچیے کہ علما اس سوسائٹی ہی کے تو فرد ہیں، جس کی اخلاقی حِس قریباً مرچکی ہے۔ ایسے معاشرے میں حق گو، جرأت مند، باضمیر اور ایثارکیش علما کہاں سے آئیں؟ اگرچہ علما کا طبقہ ، دوسرے طبقوں کی نسبت اب بھی کئی اعتبار سے بلندتر ہے، لیکن دین کے لیے جان کی بازی لگانے کا جذبہ بڑی حد تک سرد پڑچکا ہے، کم ہمت معاشرے میں یہ جذبہ زندہ رہ نہیں سکتا۔(سوال و جواب کی مجلس سے(
اسلام جس بنیاد پر دُنیا میں اپنی ریاست قائم کرتا ہے وہ یہ ہے کہ شریعت سب پر بالا ہے۔ حکومت اور حکمران، راعی اور رعیّت، بڑے اور چھوٹے، عوام اور خواص، سب اُس کے تابع ہیں۔ کوئی اُس سے آزاد یا مستثنیٰ نہیں اور کسی کو اس سے ہٹ کر کام کرنے کا حق نہیں۔ دوست ہو یا دشمن، حربی کافر ہو یا معاہد، مسلم رعیّت ہو یا ذمّی، مسلمان وفادار ہو یا باغی یا برسرِجنگ، غرض جو بھی ہو شریعت میں اُس سے برتائو کرنے کا ایک طریقہ مقرر ہے، جس سے کسی حال میں تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔
خلافت ِ راشدہ اپنے پورے دور میں اِس قاعدے کی سختی کے ساتھ پابند رہی، حتیٰ کہ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے انتہائی نازک اور سخت اشتعال انگیز حالات میں بھی حدودِ شرع سے قدم باہر نہ رکھا۔ ان راست رو خلفاء کی حکومت کا امتیازی وصف یہ تھا کہ وہ ایک حدود آشنا حکومت تھی، نہ کہ مطلق العنان حکومت۔
مگر جب ملوکیت کا دور آیا تو بادشاہوں نے اپنے مفاد ، اپنی سیاسی اغراض، اور خصوصاً اپنی حکومت کے قیام و بقا کے معاملے میں شریعت کی عائد کی ہوئی کسی پابندی کو توڑ ڈالنے اور اس کی باندھی ہوئی کسی حد کو پھاند جانے میں تامّل نہ کیا۔ اگرچہ ان کے عہد میں بھی مملکت کا قانون اسلامی قانون ہی رہا۔ کتاب اللہ و سنت ِ رسولؐ اللہ کی آئینی حیثیت کا اُن میں سے کسی نے کبھی انکار نہیں کیا۔ عدالتیں اِسی قانون پر فیصلے کرتی تھیں، اور عام حالات میں سارے معاملات، شرعی احکام ہی کے مطابق انجام دیئے جاتے تھے۔ لیکن ان بادشاہوں کی سیاست دین کی تابع نہ تھی۔ اُس کے تقاضے وہ ہرجائزو ناجائز طریقے سے پورے کرتے تھے، اور اس معاملے میں حلال و حرام کی کوئی تمیز روا نہ رکھتے تھے۔ یہ پالیسی بھی حضرت معاویہ ؓ کے عہد ہی سے شروع ہوگئی تھی۔(’خلافت اور ملوکیت کا فرق‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ستمبر ۱۹۶۵ء، ص۳۶-۳۷)