۱۹۴۵ء میں اخوان المسلمون اُردن کا آغازمصر کی ایک رفاہی تنظیم کےطور پر رجسٹریشن سے ہوا ۔ اُردن میں اس کے بانی شیخ عبداللہ لطیف ابو قورہ تھے۔ ۱۹۴۸ء میں اسرائیل کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ۱۹۵۳ء میں جماعت کی سرگرمیاں اس وقت مزید بڑھ گئیں جب بطور دینی جماعت اس کو باقاعدہ رجسٹر ڈکر لیا گیا۔ اس کے بعد پارٹی نے رفاہی کاموں اور سیاست میں باقاعدہ حصہ لینا شروع کی۔ شاہ عبداللہ اوّل اور اس کے بعد اُردن کے فرماں روا شاہ حسین بن طلال کے دور میں اخوان المسلمون اور حکومت کے باہمی تعلقات بہتر ہوئے اور بائیں بازو اور عرب قوم پرستوں کے خلاف ایک غیرعلانیہ اتحاد وجود میں آگیا۔
حکومت کے ساتھ اخوان المسلمون کا تعلق نشیب و فراز کا حامل رہا ہے۔ ابتدائی چار عشروں میں باہم اس قدر ہم آہنگی رہی کہ اسے غیر علانیہ اتحاد قرار دیا گیا، اور آخری چار دہائیوں میں تعلقات بحرانوں کا شکار ہوتے ہوتے اس قدر خراب ہوئے کہ مارچ ۲۰۲۵ء میں آخرکار حکومت نے اخوان المسلمون پر پابندی عائد کر دی۔ درحقیقت تعلقات میں بگاڑ اس وقت شروع ہوا جب حکومتِ اُردن نے ۱۹۹۱ء میں اسرائیلی قابض ریاست کے ساتھ امن مذاکرات کا آغاز کیا، اور ربع صدی کے بعد اختلاف اس وقت عروج پر پہنچ گیا جب اخوان المسلمون نے دستور میں ترمیم اور بعض شاہی اختیارات پر قدغن لگانے کا مطالبہ کیا۔ دوسری طرف اردنی حکومت نے اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا۔ جماعت کے اندر باہمی اختلافات کو ہوا دی گئی۔
اخوان المسلمون نے ۵۰ کے عشرے کے اوائل سے ہی سیاسی عمل میں حصہ لینا شروع کردیا تھا۔ ۵۴-۱۹۵۱ء کے انتخابات میں اس کے بعض ارکان نے آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا۔ ۱۹۵۶ءمیں بطور جماعت پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا ،پھر ایک عرصے تک انتخابی میدان سے باہر رہے۔ ۱۹۸۴ءمیں پھر انتخابات میں حصہ لیا اور آٹھ میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ غرض اب تک کے سیاسی سفر میں جماعت کے کئی ذمہ داران اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز رہے ہیں۔
۱۹۸۹ء میں جماعت نے ’’اسلام ہی حل ہے‘‘ کے نعرے پر انتخاب لڑا اور تاریخی کامیابی حاصل کی۔ ۸۰ میں سے ۲۲نشستیں حاصل کر کے پارلیمنٹ میں نمایاں کردار ادا کرنا شروع کیا، اور جوں جوں اپوزیشن کا لہجہ سخت ہوتا گیا تو اس سے حکومتی شاہی حلقوں میں ایک بار پھر خوف کی لہر دوڑ گئی۔۱۹۸۶ء میں یرموک یونی ورسٹی میں احتجاج ہوئے اور حکومت نے اخوان کے طلبہ قائدین کو گرفتار کر لیا۔ جماعت کے بہت سے اراکین کو ان کی ملازمتوں سے برطرف کر دیا گیا۔ یہ گویا حکومت اور اخوان المسلمون کا پہلا ٹکراؤ تھا۔
۹۰ کے عشرے میں ’اسرائیل - اُردن امن مذاکرات‘ شروع ہوئے تو یہ اخوان اور حکومت کے درمیان اختلافات کا مرکزی نکتہ بن گئے۔ اخوان المسلمون اُردن نے شدت کے ساتھ ان مذاکرات کی مخالفت کی اور انھیں حرام تک قرار دیا۔ اُردنی عوام کی آواز بنتے ہوئے اخوان المسلمون نے اسرائیل اُردن امن مذاکرات کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے منظم کیے ۔ یوں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سڑکوں پر،اخوان المسلمون حکومت کی ایسی اپوزیشن بن چکے تھے، جن کا اثر و نفوذ یونینز میں، یونی ورسٹیوں اور مساجد میں ہر جگہ نمایاں تھا۔ریاستی اسٹیبلشمنٹ نے جماعت کے اس اثر و نفوذ سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے اسے محدود کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کیے۔
۱۹۹۲ء میں بیرونی تعلقات رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا۔ اس موقع پر اور اس بحران سےبچنے کے لیے اخوان المسلمون نے ایک سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی جس کا نام جبهۃ العمل الاسلامی تھا۔۱۹۹۳ء میں حکومت نے الیکشن قوانین میں مزید ترامیم کیں، جن کا واضح مقصد اخوان المسلمون کے اثر و نفوذ اور پارلیمنٹ میں اس کے وجود کو محدود ترکرنا تھا۔ ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں حکومت نے دھاندلی کی اور اخوان کو صرف ۱۷ نشستیں حاصل ہوئیں۔ اس سے اخوان کی صفوں میں حکومت کے خلاف مزید شدت پیدا ہوگئی۔۱۹۹۴ء میں اسرائیل -اُردن امن معاہدہ (معاہدۂ وادی عربہ)وجود میں آیا۔اخوان المسلمون نے پارلیمنٹ میں اس معاہدے کے خلاف ووٹ دیا۔ حکومت کی طرف سے پابندیوں کے باعث اخوان المسلمون نے ۱۹۹۷ء کے الیکشن کا بائیکاٹ کردیا۔
۱۹۹۹ء میں حالیہ شاہِ اردن، شاہ عبداللہ ثا نی برسرِ اقتدار آئے۔ ان کے دور میں اخوان اور حکومت کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات، گویا دائمی اختلاف کی صورت اختیار کرتے چلے گئے۔ اُردن کی حکومت نے حماس کو اپنے دفاتر بند کرنے اور اُردن سے نکل جانے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ اُردن کی آبادی کا بڑا حصہ فلسطینیوں پر مشتمل ہے۔حماس کی جلاوطنی سے اخوان المسلمون کے اندر داخلی طور پر بھی اختلافات پیدا ہوئے۔
۲۰۰۱ء سے ۲۰۰۳ءتک حکومت نے پارلیمنٹ برخواست کیے رکھی۔ اس دوران ۲۰۰کے قریب مختلف ایسےآرڈی ننس جاری کیے، جن سے سیاسی عمل اور سیاسی آزادیوں پر قدغن لگی۔ ۲۰۰۴ء میں اخوان المسلمون نے یونینز پر لگنے والی پابندیوں کے جواب میں مظاہروں کی قیادت کی۔
۲۰۰۶ءمیں حکومت نے اخوان المسلمون کے عوامی بہبود کے سب سے بڑے ادارے جمعیۃ المرکز الاسلامی پر پابندی عائد کردی۔ ۲۰۰۷ء کے بلدیاتی انتخابات میں اخوان نے حصہ لیا، لیکن پولنگ کے آغاز کے دو ہی گھنٹے بعد دھاندلی کا الزام لگا کر بائیکاٹ کر دیا۔ ۲۰۰۷ء کے قومی انتخابات میں بھی اخوان نے حصہ لیا، لیکن صرف چھ نشستیں حاصل ہوئیں۔اس کے بعد اخوان نے سیاسی اصلاحات، دستوری ترامیم اور پارلیمنٹ کے اختیارات میں اضافے پر اپنی پوری سیاسی توجہ مرکوز کر لی، اور ان مقاصد کے حصول کے لیے بائیں بازو کی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں سے بھی گفت و شنید کی۔ ۲۰۱۰ء کے انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا گیا کہ پابندیاں برقرار تھیں ۔
۲۰۱۱ء میں ربیعِ عربی (عرب بہار) کا آغاز ہوا۔ حکومت نے عوامی احتجاج سے بچنے کے لیے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی قائم کر دی، تاہم اخوان المسلمون نے کمیٹی میں شرکت کرنے سے انکار کرتے ہوئے دیگر اپوزیشن پارٹیوں اور قبائلی قوتوں کے ساتھ مل کر ایک اتحاد بنایا، اور دستور میں وسیع ترترامیم اور ملک میں سیاسی و اقتصادی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ اتحاد کے اہم مطالبات درج ذیل تھے: پارلیمنٹ کی تشکیل و برخاست کے شاہی اختیارات کو دستوری ترمیم کے ذریعے ختم کیا جائے، پارلیمنٹ کو حکومت کے چناؤ میں زیادہ اختیار حاصل ہو، سینیٹ میں نامزدگی کے بجائے اس کابھی انتخاب ہو ، اینٹی کرپشن قوانین بہتر بنائے جائیں، اور انتخابی قانون کو یکسربدلا جائے۔
پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر حکومت کے خلاف احتجاج ہوا جو پورے ملک میں پھیل گیا ۔ شدید احتجاج کے جواب میں شاہ عبداللہ دوم نے انتخابی قوانین میں ترمیم اور دیگر اصلاحات متعارف کرائیں۔ اخوان المسلمون نے انتخابی قوانین میں ترمیم کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ۲۰۱۳ء کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔
۲۰۱۴ء میں اخوان المسلمون نے اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے ایک احتجاج منظم کیا جو پُرتشدد ہوگیا اور پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں اور گرفتاریاں ہوئیں۔ حکومت کے ساتھ تعلقات میں اس وقت بدترین موڑ آیا جب ۳۱؍ افراد کو اُن انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا جو اسرائیل نے فراہم کی تھیں۔ علاوہ اَزیں نائب مرشدِ عام زکی ارشید کو ڈیڑھ سال تک جیل میں رکھا گیا کہ انھوں نے متحدہ عرب امارات کے خلاف بیان دیا ہے۔
اس سارے سفر میں اخوان المسلمون اختلافات کا شکار بھی ہوئی ۔ دو رائے کے حاملین تو ہمیشہ سے ہی اخوان المسلمون کا حصہ رہے ہیں، جنھیں کبھی عقاب (یعنی سخت موقف والے) اور فاختاؤں (نرم موقف والے)سے تشبیہ دی جاتی رہی۔ فاختائی دھڑے کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے اور مقامی مسائل کی سیاست کو اولیت دی جائے، جب کہ عقابی دھڑے کے زیادہ تر افراد کا تعلق چونکہ فلسطین سے تھا، اس لیے ان کا اصرار تھا کہ فلسطین ایشو کو اخوان المسلمون کی سیاست میں اوّلیت دی جائے کہ اُردن کی بڑی آبادی فلسطینی نژاد ہے۔
۲۰۱۲ء میں فاختائی دھڑے کا مطالبہ سامنے آیا کہ اخوان المسلمون (مصر) سے قطع تعلق کر لیا جائے، اور پھر ۲۰۱۴ء میں اسی گروپ نے اخوان المسلمون کی تنظیمی قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اختلاف بڑھا تو ۲۰۱۵ء میں جماعت کو اپنے ۱۰؍ اراکین کی رکنیت منسوخ کرنی پڑی، جن میں ایک نمایاں ترین نام عبدالمجید ذنیبات کا بھی تھا۔ایک ماہ کے اندر اندر علیحدہ کیے جانے والے اراکین نے جمعیت اخوان المسلمون کے نام سے الگ جماعت کی بنیاد رکھی، جس کی سربراہی عبدالمجید ذنیبات کر رہے تھے۔ حکومت ِ اُردن نے ان باہمی اختلاف کو اور ہوا دی۔ اور نئی قائم ہونے والی ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کو اُردن میں اخوان المسلمون کا قانونی وارث قرار دیتے ہوئے باقاعدہ رجسٹر کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اخوان المسلمون کی ملٹی ملین ڈالر مالیت کی سات املاک پر قبضہ کر لیا اور انھیں ’جمعیت اخوان المسلمون‘ کے نام کر دیا۔ اور باقاعدہ اعلان کردیا کہ جماعت اخوان المسلمون کو عوامی سطح پر کوئی سرگرمی نہیں کرنے دی جائے گی۔
۲۰۱۵ءکے آخر میں جماعت میں ایک اور اختلاف در آیا جب ’جبھۃ العمل الاسلامی‘ کے ۴۰۰؍ اراکان نے استعفا دے دیا، ان میں اخوان المسلمون کے چند نمایاں رہنما بھی شامل تھے۔ علیحدہ ہونے والے اراکین نے ۲۰۱۶ء میں نہ صرف نئی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھی بلکہ علی الاعلان اخوان المسلمون کے نظریات سے لاتعلقی کا بیان بھی دیا۔
اخوان المسلمون نے اس عرصے میں عوامی امنگوں کے قریب تر رہتے ہوئے اور مقتدر حلقوں کے ساتھ افہام و تفہیم کا آغاز کیا۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ اخوان المسلمون مصر کے ساتھ لاتعلقی کا اعلان کیا، لیکن حکومت نے جماعت پر لگائی ہوئی پابندی نہیں ہٹائی، نیز حکومت نے جماعت کو اس کے اندرونی تنظیمی انتخابات کے انعقاد سے روک دیا اور اس کے مرکزی دفتر کو بھی سیل کر دیا۔ جماعت نے حکومتی پابندی کے باوجود اپنی دعوتی اور سماجی سرگرمیاں جاری رکھیں اور اس طرح جبھۃ العمل الاسلامی کے پلیٹ فارم سے سیاسی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔جبھۃ العمل الاسلامی نے ریاستی کارفرماؤں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کی، نیز علاقائی اور داخلی چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مستعدی دکھائی۔سیاسی موقف اور اپنے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کی۔ اب اس کا سیاسی موقف ’اسلام ہی حل ہے‘ کے بجائے سویلین اداروں کی ترقی اور شہریوں کے عزت و وقار کی بحالی بن گیا۔ نیز اس جبھۃ نے اپنے انتخابی پروگرام میں اندرونی ملکی مسائل کو موضوع بنایا۔ ممبرشپ عیسائیوں اور خواتین کے لیے بھی کھول دی گئی اور نوجوانوں کا کردار مؤثر بنایا گیا۔
۲۰۱۶ء کے انتخابات میں اخوان المسلمون کے بنائے ہوئے اتحاد ’نیشنل الائنس برائے اصلاح‘ نے ۱۵ نشستیں جیت لیں، جب کہ حکومت کی حمایت یافتہ جمعیۃ الاخوان کے حصے میں صرف ایک نشست آئی، اور وہ بھی اس لیے کہ انھوں نے نیشنل کانفرنس کی فہرست پر الیکشن لڑا تھا۔
۲۰۱۹ء میں ایک بار پھر تعلقات میں اس وقت دراڑ آئی جب حکومت نے اساتذہ کے احتجاج کا الزام اخوان پر لگایا۔ ۲۰۲۰ء میں عدالتی حکم کے ذریعے اخوان المسلمون کو تحلیل کرنے اور اس کے تمام اثاثہ جات ضبط کرنے کا فیصلہ صادر ہوا، البتہ جبھۃ العمل الاسلامی، جو جماعت کا سیاسی ونگ تھا، کو کام کرنے کی آزادی حاصل رہی۔
۲۰۲۲ء کے انتخابات میں جبھۃ العمل الاسلامی نے آٹھ نشستیں جیت لیں، البتہ انتخابی دھاندلی کی بنا پر بلدیاتی اور یونین انتخابات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ ۲۰۲۳ء میں طوفان الاقصیٰ کے بعد جماعت اخوان المسلمون نے اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی سفارت خانے کے سامنے دھرنا دیا، اور الیکشن میں جبھۃ العمل الاسلامی ۳۱ پارلیمانی نشستیں جیت کر موجودہ پارلیمنٹ کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی حیثیت سے اُبھری۔
دوسری طرف اپریل ۲۰۲۵ء میں حکومت نے ۱۶؍ افراد کو میزائل اور ڈرون تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا اور کہا کہ ’یہ لوگ اُردن کے اندر سیکیورٹی تنصیبات پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے‘۔ ۲۰؍اپریل ۲۰۲۵ء کو حکومت نے اخوان المسلمون کو کالعدم قرار دے دیا، اور اخوان کے افکار و نظریات کی ترویج و اشاعت کو غیر قانونی قرار دے دیا۔
ایک مسلمان کو اپنے مسلم معاشرے اور اجتماعیت کے ساتھ مربوط رہنے کے لیے ہروقت ایسی سرگرمیوں کی ضرورت ہے جو اس کے اس تعلق کی تشکیل اور نشو و نما میں بھرپور کردار ادا کریں ۔ اس مقصد کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ مساجد کے ساتھ ربط و تعلق ہے ۔ اس کے لیے دنیا کے ہجوم سے تھوڑا دُور ہونا ضروری ہے۔ ہم اپنی مصروفیات کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے گھر میں قیام کی برکتوں سے روح کو زندہ ، تروتازہ اور نشو و نما دینے والے ماحول میں مساجد سے جڑنے کی بہت ضرورت ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمھیں وہ چیزیں نہ بتاؤں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور درجات بلند فرماتا ہے؟ وہ چیزیں: ناگواری کے وقت مکمل وضو کرنا، زیادہ چل کر مساجد کی طرف جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا‘‘۔پھر ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: ’’یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے، یہی مسجد کے ساتھ تعلق ہے‘‘۔ (موطا ، امام مالک)
یہ حدیث اس ایمانی و روحانی قوت کی وضاحت کرتی ہے جو ایک مسلمان کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مسجد سے جڑ جاتا ہے، وہاں جا کر بیٹھتا ہے ، اور اللہ کے گھر میں فرشتوں کے ماحول میں کچھ وقت گزارتا ہے ۔ یوں مسجد مسلمان کے لیے ایک روحانی کلینک بن جاتی ہے جس سے وہ بے نیاز نہیں رہ سکتا، لہٰذا یہاں حاضری اور زیارت ضروری ہے، ایسی حاضری نہیں جو سرسری، رسمی اور نہایت مختصر ہو، جو صرف فرض ادا کرنے کی حد تک ہو، بلکہ یہ محبت کرنے والے کی حاضری ہو ، جس شخص کا دل اپنے رب کے گھر کی طرف کھنچا رہتا ہے، وہ وہاں مہمان بننا پسند کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اس کے شدید تعلق اور محبت کی بنا پر اسے رب کے گھر میں زیادہ دیر ٹھہرتے اور وقت گزارتے دیکھیں گے۔ وہ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے، اور یہ 'مسجد کے ساتھ ’تعلق‘ کے ان مفاہیم میں سے ایک ہے جس کی طرف حدیث میں اشارہ کیا گیا ہے۔
مساجد کے ساتھ تعلق کے بارے میں ملاء اعلیٰ (فرشتے) جھگڑتے ہیں کہ اس کے عظیم ثواب کی وجہ سے،اسے کیسے لکھا جائے؟جو شخص اس تعلق کی حفاظت کرتا ہے وہ خیر کے ساتھ جیتا ہے اور خیر کے ساتھ مرتا ہے، جیسا کہ حدیث نبویؐ میں آیا ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے پوچھا: ’اے محمدؐ،، میں نے عرض کیا: ’میں حاضر ہوں اے میرے ربّ، اور تیری سعادت چاہتا ہوں‘، اللہ نے فرمایا: ’ملاء اعلیٰ کس بارے میں جھگڑتے ہیں؟‘ میں نے عرض کیا: ’اے رب، کفارات کے بارے میں، جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے پیدل چل کر جانے کے بارے میں۔ اور ناگواریوں کے باوجود مکمل وضو کرنے کے بارے میں، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنے کے بارے میں۔ جو شخص ان کاموں کی اہتمام کے ساتھ ادائیگی کرے گا، وہ خیر کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا‘ ۔( کتاب التوحید ، ابن خزیمہ)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو مساجد سے تعلق قائم رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ ایک حدیث میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہےجس میں دوسرے انعامات کی خوش خبری بھی سنائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ فرشتے اس بندے کو اللہ کے گھر میں بیٹھنے کے دوران گھیر لیتے ہیں، اور اس کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں، پھر وہ نماز کا ثواب حاصل کرتا رہتا ہے(جو کہ سب سے بڑی عبادت ہے) جب تک وہ اپنی جائے نماز پر رہتا ہے، چاہے وہ نماز پڑھ چکا ہو۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ’’جب تم میں سے کوئی نماز پڑھ لے پھر اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے تو فرشتے اس پر مسلسل درود بھیجتے رہتے ہیں: اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اور اگر وہ اپنی جائے نماز سے اُٹھ کر نماز کا انتظار کرتے ہوئے مسجد میں ہی بیٹھ جائے تو وہ نماز میں ہی شمار ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اگلی نماز پڑھ لے‘‘۔
مسجد کے ساتھ تعلق ہی کو اُمت مسلمہ کی رہبانیت قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ روایت ہے: کہا گیا: یارسولؐ اللہ! ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دیجیے، تو آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت کی رہبانیت مسجدوں میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنا ہے‘‘۔ (کتاب الزھد ، ابن المبارک)
مسجدوں کے ساتھ تعلق اصحابِ رسولؐ کی سنت تھی جس کی وہ پابندی کرتے تھے، اور ایک دوسرے کو اس کی ترغیب دیتے تھے، بلکہ اس میں تعاون کرتے تھے، اور اپنی مسجدوں میں اس کا اہتمام کرتے تھے، یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایسا کرتے دیکھا، تو ان کے اس عمل کی قدر افزائی فرمائی، اور انھیں خبر دی کہ اللہ ان کے اس عظیم فعل سے راضی ہے۔
روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن اپنے کسی حجرے سے باہر تشریف لائے، تو اپنی مسجد میں سات صحابہ کو دیکھا جو عرب اور موالی ( آزاد کردہ غلاموں) میں سے تھے۔ آپؐ نے ان سے ان کے بیٹھنے کا سبب پوچھا، تو انھوں نے کہا: ہم نماز کا انتظار کر رہے ہیں، تو آپؐ نے اپنی انگلی زمین پر ماری، پھر تھوڑی دیر سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر فرمایا: ’’کیا تم جانتے ہو کہ تمھارے رب عزوجل نے کیا فرمایا ہے؟‘‘ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: ’’وہ فرماتا ہے: جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا کیا، اور اس کی حدود کو قائم رکھا، تو اس کے لیے میرے ذمے ایک عہد ہے کہ میں اسے اس کے ذریعے جنت میں داخل کروں گا، اور جس نے نماز کو اس کے وقت پر ادا نہیں کیا، اور اس کی حدود قائم نہیں رکھیں، تو اس کے لیے میرے پاس کوئی عہد نہیں، اگر میں چاہوں تو اسے آگ میں داخل کروں، اور اگر میں چاہوں تو اسے جنت میں داخل کروں‘‘۔(مسند ابن ابی شیبہ)
کئی صحابہ کرامؓ روایت کرتے ہیں کہ انتظارِ صلوٰۃ کے بارے میں قرآن نازل ہوا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت تَـتَجَافٰى جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ (السجدہ۳۲: ۱۶) ’’اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں‘‘، اُس نماز کے انتظار کے بارے میں نازل ہوئی جسے عتمہ (عشاء) کہا جاتا ہے۔ (العلل الکبیر للترمذی)
ایک اور آیت کے نازل ہونے کا سبب بھی انتظارِ صلوٰۃ ہے، جیسا کہ داؤد بن صالح سے روایت ہے، انھوں نے کہا، مجھ سے ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے کہا: اے میرے بھتیجے! کیا تم جانتے ہو کہ آیت:اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْا ۰ۣ (اٰل عمرٰن۳:۲۰۰) کس بارے میں نازل ہوئی؟ میں نے کہا: نہیں، تو انھوں نے کہا: اے بھتیجے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کسی غزوہ کا انتظار نہیں کیا جاتا تھا، بلکہ یہ نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ہے۔ (تفسیر الطبری)
جو شخص مساجد کے ساتھ تعلق اور اس کی ترغیب دینے والی آیات و احادیث پر غور کرتا ہے، وہ یہ جانتا ہے کہ یہ محض ایک عام عبادت نہیں، یا محض ایک پُرسکون جگہ پر ٹھہرنا نہیں، بلکہ یہ روح کی غذا ہے، تاکہ وہ زندگی کی تھکاوٹوں اور مصروفیتوں کے مقابلے میں مضبوط و مستحکم ہو، اور روح پر حملہ کرنے والی منفی قوتوں پر قابو پایا جائے، تاکہ روح بوڑھی نہ ہو، بلکہ جوان رہے اور مشکلات پر قابو پانے کی اپنے اندر صلاحیت رکھے۔
اسی طرح مساجد کے ساتھ تعلق اللہ تعالیٰ کے گھر میں اس کی پناہ حاصل کرنا ہے، اور رحمٰن کی میزبانی میں رہنا ہے، جس سے نفس کو سکون اور اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور اس کا مومن کے نفس پر مثبت اثر پڑتا ہے۔
مساجد کے ساتھ تعلق میں مساجد کو آباد کرنے اور انھیں اس بے رُخی اور نظراندازی سے بچانے کا احیاء ہے جو ہم آج اس غالب مادی تہذیب کے سائے میں دیکھ رہے ہیں، اور یہی وہ مفہوم ہے جس کو قرآن کریم نے اس طرح بیان کیا ہے:
فِيْ بُيُوْتٍ اَذِنَ اللہُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيْہَا اسْمُہٗ۰ۙ يُسَبِّــحُ لَہٗ فِيْہَا بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ۳۶ۙ رِجَالٌ۰ۙ لَّا تُلْہِيْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللہِ وَاِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَاِيْتَاۗءِ الزَّكٰوۃِ ۰۠ۙ يَخَافُوْنَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيْہِ الْقُلُوْبُ وَالْاَبْصَارُ۳۷ (النور۲۴: ۳۶-۳۷)
(اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنھیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اذن دیا ہے۔ اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں جنھیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامت نماز و ادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کر دیتی۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آ جائے گی۔
اُمت کے افراد، جماعتوں اور ذمہ داران پر واجب ہے کہ وہ امت میں مساجد کے ساتھ تعلق کو زندہ کریں۔ اس تعلق کو زندہ کرنےوالے ذرائع میں سے چند نہایت اہم یہاں بیان کیے جاتے ہیں:
مصافحہ محض خوشی کے مواقع پر ہی نہیں بلکہ ہمیشہ ہرملاقات کے موقع پر نہ صرف جائز بلکہ مستحب اور مسنون ہے۔ سنن ابوداؤد میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب دو مسلمان آپس میں مل کر مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ کی حمد اور اس سے استغفار کرتے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرما دیتا ہے‘‘۔
جامع ترمذی میں ارشاد مبارک کے الفاظ یہ ہیں: ’’جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں، اللہ ان کے جدا ہونے سے پہلے ان کی مغفرت فرما دیتا ہے‘‘، یعنی ان کا ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا چونکہ مسلمان سے مسلمان کی محبت اور باہمی اکرام کا اظہار ہے، اس لیے یہ ان کی مغفرت کا موجب ہوتاہے۔ سنن ابوداؤد میں ہے کہ حضرت ابوذرؓ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے وقت آپ لوگوں سے مصافحہ فرمایا کرتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا:’’ کبھی ایسا نہیں ہواکہ میں حضورؐ سے ملا ہوں اور آپ نے مجھ سے مصافحہ نہ کیا ہو‘‘۔ اسی بنا پر مصافحہ کے بارے میں فقہا کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
مگر ’معانقہ‘ کے معاملے میں فقہا کے درمیان اختلاف ہے۔ بعض فقہا (جن میں امام ابویوسفؒ بھی شامل ہیں)اسے بلا کراہت جائز سمجھتے ہیں، بعض صرف سفر سے واپسی پر یا ایسے ہی کسی غیرمعمولی مواقع پر اس کو جائز اورعام حالات میں مکروہ قرار دیتے ہیں ، اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ مطلقاً مکروہ ہے۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہےکہ معانقہ کے بارے میں احادیث مختلف ہیں.... ان روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر صرف مصافحہ پر اکتفا فرمایا کرتے تھے۔ معانقہ آپ کا عام معمول نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی کسی خاص موقع پر آپ نے معانقہ فرمایا ہے۔ (’رسائل و مسائل‘ ،سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، فروری ۱۹۶۶ء، جلد۶۴، عدد۶، ص۶۷-۶۸)