مضامین کی فہرست


مارچ ۲۰۲۶

مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات اکثر زیر بحث آتے ہیں۔ گھریلو محفل ہو یا دفتری ماحول یا معاشرتی روابط کی دیگر سرگرمیاں، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ’اے آئی‘ ٹکنالوجی کے اثرات کو ہم لوگ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ہماری زندگی پر ’مصنوعی ذہانت‘ کے اثر کا ایک فطری رد عمل ہے۔ کیونکہ جس انداز میں یہ ٹکنالوجی ہماری زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس کے اثر سے خالی نہ رہے گا۔ ’اے آئی‘ کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے اور اب نجی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک میں اس کا عمل دخل یقینی ہو گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر کے کمروں کی آرائش کے لیے بھی ’اے آئی‘ سے مدد لیتے ہیں اور ملکوں کے درمیان جنگیں بھی اس کی مدد سے لڑی جا رہی ہیں۔ 

انٹرنیٹ نے برقی مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ مل کر ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ پھر موبائل فون کے سمارٹ ہو جانے سے اس انقلاب میں اور شدت آگئی۔ اس انقلاب کی زد میں شہری اوردیہی، گویا ساری دنیا آگئی۔ 

مصنوعی ذہانت یا ’اے آئی‘ کے بارے میں ہم میں سے بہت سوں کے لیے یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ اس ٹکنالوجی کے فروغ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا، انسانوں کی جگہ روبوٹ اور کمپیوٹر کام کریں گے۔ دراصل انسانی ترقی و تمدن کے سفر میں اکثر یہ ہوا ہے کہ کئی لوگ جدید دریافتوں کو اور ان کے استعمال کو ابتدا میں نقصان دہ، غیر فطری، غیر انسانی اور یہاں تک کہ غیر شرعی بھی سمجھتے رہے ہیں۔  

یہ بھی ہوتا آیا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر بہت سے لوگ مستقبل میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں نہ صرف فکر مند ہوتے رہے، بلکہ انسانیت کے لیے بھیانک مستقبل کی پیش گوئیاں بھی سامنے لاتے رہے ہیں۔ تاہم، ایسی پیش گوئیاں اکثرغلط ثابت ہوئی ہیں۔  

 ہمارا خیال ہے کہ ’اے آئی‘ کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کا بھی کچھ یہی انجام ہو گا۔ انسان اپنے لیے کچھ اور مشاغل دھونڈ نکالیں گے، ایک نئی دنیا بسا لیں گے، جس کو چلانے میں انسان کے عمل دخل کی ضرورت رہے گی۔ 

مصنوعی ذہانت: منفی پہلو اور نقصانات 

’ اے آئی‘ کے پھیلاؤ سے کسی خوف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہر ٹکنالوجی کے اچھے اور برے استعمالات ہو سکتے ہیں، انٹرنیٹ اور ’اے آئی‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم، اس ٹکنالوجی کے بعض ایسے نقصانات ہو سکتے ہیں جو ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے، ان کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم ان کا کچھ ذکر کرتے ہیں: 

  • یہ تو سب جانتے ہیں کہ ’اے آئی‘ کا ایک نہایت غلط استعمال اس کے ذریعے کسی شخص کی آواز اور شکل کو استعمال کرتے ہوئے اس سے ایسے بیانات یا ایسی حرکات کو منسوب کر دینا ممکن ہوگیا ہے، جو نہ تو اس کے اپنے الفاظ و افکار ہوں اور نہ اس کی اپنی حرکات وسکنات ہوں۔ اس کے ایسے ہی استعمال کو ایڈوانس امیجنگ کے ذریعے ترقی دی جارہی ہے، اور اس میں ’میٹا اے آئی‘ سر فہرست ہے۔ یہ کسی انسان کی شکل کے تاثرات کو تبدیل کرنے کا معاملہ ہے، جس کی بنا پر دیکھنے والے کی اصل شخصیت کا کوئی پہلو چھپا دینا اور کوئی دوسرا پہلو اُبھار دینا یا کوئی اور پہلو شامل کر دینا ممکن ہو جاتا ہے۔ مثلاً، مارک زیکربرگ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’میری مسکراہٹ بہت زیادہ جاذب نظر نہیں، لیکن ’میٹا اے آئی‘ کی مدد سے میں اسے ابھار کر جاذبِ نظر بناسکتا ہوں۔ اس طرح کی ٹکنالوجی کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس سے لوگوں کو کسی شخصیت کے بارے میں  اصل حقائق سے اندھیرے میں رکھا جاسکے گا۔  
  • انٹرنیٹ پر، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غیرمعیاری اور گمراہ کن مواد کی بہتات ہوگئی ہے اوراب یہ پہچاننے کے لیے خاصی مہارت درکار ہوتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط؟   
  • ’اے آئی‘ اب اس دھوکا دہی کو مزید بلندی پر لے جا رہا ہے۔ اس شعبےکے ایک ماہر ڈاکٹر زاہد محسن نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ عین ممکن ہے، کہ کسی معروف شخصیت کی شکل اور آواز میں ’اے آئی‘ کی تیار کردہ جعلی شخصیت کو استعمال کر کے ایسا مواد انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنا شروع کر دیا جائے جس میں اس کی فکر کو ہی نہیں بلکہ تعلیمات ہی کو مسخ کر کے گمراہی کا ایک ذریعہ بنا دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اس شخصیت سے عقیدت و احترام کا رشتہ رکھنے والے اس سب کچھ کو اسی کی آواز اور اسی کا پیغام سمجھ کر گمراہ ہوتے رہیں گے۔ 
  • انٹرنیٹ پر اسلام دشمن حلقوں نے قرآن کے تحریف شدہ نسخے جاری کیے، جن کی خاصی حد تک کامیابی سے نشاندہی کر لی گئی۔ تاہم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے گھڑی ہوئی روایات کواحادیث کے طور پر عام کرنے کے کام کو مکمل طور پر روکا نہ جا سکا اور اچھے خاصے صاحبِ علم لوگ بھی ایسے من گھڑت اقوال کو حدیث سمجھ کر بلا تحقیق ان کا پرچار کرتے اور آگے پھیلاتے چلے جاتے ہیں۔ ’اے آئی‘ کے دستیاب ہو جانے سے یہ جنگ اب اور مشکل ہوجائے گی اوراسی لحاظ سے حقائق کی مدافعت کو بھی مضبوط بنانا ہوگا۔ 
  • مدافعت کی ایک صورت تو مسلسل انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے مواد پر نظر رکھنے کی صورت ہے اور اس سلسلے میں ہمارے اداروں کو مستعدی سے کام کرنا ہوگا۔ حکومتی سطح پر جہاں ملک مخالف اور فوج مخالف سرگرمیوں اور مواد کی نشاندہی اور اس کے سدباب کے لیے کام کیا جارہا ہے، وہاں دین کے بارے میں گمراہ کن اور اخلاقی طور پر مضر مواد کی روک تھام کے لیے بھی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ 
  • بعض اندازوں کے مطابق سائنس میں تحقیق کا حال یہ ہے کہ سات میں سے ایک اشاعت میں ڈیٹا جعلی ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعےہونے والی اس کرپشن کو کیسے ختم کیا جائے؟ اس موضوع پر امریکا میں نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی آف الینوائے میں ایک تحقیق ہوئی۔ جس کے بارے میں درج ذیل بیان ڈی ڈبلیو نیوز (ایجیئس میتھیو وارڈ) سے ماخوذ ہے۔ 

سائنسی پبلشنگ گروپس بھی اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور جعلی تحقیق کی نشاندہی کرنے اور اسے واپس لینے کے لیے نئے طریقے بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک بڑے پبلشر، اسپرنگر نیچر نے ۲۰۲۴ء میں اپنی اشاعتوں سے ۲ہزار ۹سو مضامین کو واپس لے لیا تھا۔ لیکن ان جعلی دستاویزات کو واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ اسی دوران غیرمعیاری سائنسی مضامین کی اشاعت ہو چکی ہے۔ 

ابالکینا اور رچرڈسن جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل بالآخر اس بات سے آتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کی قدر کیسے کی جاتی ہے؟ سائنسی ملازمتیں اور فنڈنگ سائنسی اشاعت پر منحصر ہیں۔ 

رچرڈسن نے کہا: ’’وسائل کی (کمی) کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جب آپ پر سائنسی (اشاعتوں) کو شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو آپ کے پاس حقیقت میں دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو آپ سائنسی فریب سے کام لیتے ہیں، یا پھر سائنس پر کام ترک کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں دسیوں ہزار سائنس دان مبتلا ہیں‘‘۔ اسی لیے رچرڈسن نے کہا کہ ’’فریب پر مبنی ایسی اشاعتوں کی روک تھام کا بہترین حل یہ ہے کہ اشاعتوں کی تعداد اور اس طرح کے حوالہ جات جیسے تحقیقی تشخیص کے تمام پیمانوں (میٹرکس) کو ختم کر دیا جائے‘‘۔ 

  • اس صورتِ حال سے ہم یہ اخذ کر سکتے ہیں کہ تصورسازی (پرسیپشن مینجمنٹ) جس نے پہلے ہی ہماری سوچ اور فکر کو جدید طریقوں کے ذریعے محدود و مقید کر دیا ہے، ’اے آئی‘ کے اس قسم کے استعمالات سے ہماری فکرمزید پا بہ زنجیر ہو جائے گی۔ اس سے ’تخلیقی سوچ‘ متاثر ہوگی۔ یہ بھی ’برین راٹ‘  (Brainrot)کے عمل کا ایک جز ہے۔ ’برین راٹ‘ پچھلے برس کے دوران سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے اور ۲۰۲۵ءمیں اسے اوکسفرڈ ڈکشنری میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ’برین راٹ‘ ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے، جس کا بالواسطہ ایک گہرا تعلق ’اے آئی‘ کے استعمال میں اضافے سے ہے۔ ’اے آئی‘ معلومات کا ایک خزانہ پیش کرتا ہے، جو آپ سے چند کلک کے فاصلے پر موجود ہے، تاہم معلومات سے علم تک پہنچنے کے سفر میں ’اے آئی‘ آپ کا معاون ہو سکتا ہے بشرطیکہ آپ ذہانت کی اس سطح پر ہوں، جہاں آپ ’اے آئی ٹولز‘، مثلاً چیٹ جی پی ٹی یا ڈیپ سیک کو استعمال کر سکتے ہوں۔ ورنہ ’اے آئی ٹول‘ دراصل اپنے علم میں اضافے کے لیے آپ کو استعمال کریں گے اور آپ کے لیے کم ہی مفید ثابت ہوں گے۔ 

 ہمارا اندازہ ہے کہ ’جنریشن زی‘ کے مقابلے میں ’جنریشن وائی‘ علم کی وسعت، گہرائی اور آئی کیو میں زیادہ بہتر سطح پرہیں۔ غالباً، ’جنریشن ایکس‘ اور کسی حد تک بے بی بومر جنریشن بھی ایک بہتر مقام پر ہیں۔ کیونکہ ان نسلوں نے علم کے دیگر ذرائع سے بھی استفادہ کیا اور دورِ حاضر کی سائبرسپیس اور ’اے آئی‘ سے بھی مستفید ہوئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پچھلی صدی تک آئی کیو کی سطح ہرنسل میں دو سے تین پوائنٹ بڑھتی رہی، جب کہ پچھلے تقریباً بیس برسوں سے آئی کیو کا بڑھاؤ یا تواپنی سطح مرتفع پر پہنچ کر رُک گیا ہے یا کئی ممالک میں اس نسبت سے تنزلی آئی ہے، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس تحقیق کے روح رواں فلین کے نام پراسے ’فلین ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ 

 مصنوعی ذہانت: مفید استعمال کے لیے تجاویز 

  • علم سے آگے اس کا مفید استعمال ہے جو حکمت کا مرہونِ منت ہے۔ علم سے حکمت تک کا سفر تو آپ کو اپنے بل بوتے پر ہی طے کرنا ہے۔ اس سفر میں دیگر ذرائع سے حاصل کردہ علم کام آئے گا جو آپ کے اپنے ذہن کے میموری سسٹم میں محفوظ ہے۔ ’اے آئی‘ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی اس دنیا میں، ہم میں سے اکثر اور بالخصوص نئی نسل کی ایک بہت بڑی اکثریت نے دیگر ذرائع سے علم حاصل کرنے کو غیر ضروری سمجھ لیا ہے، جو کہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔ اس رجحان کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس میں بہتری لانے کا ایک طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ دیگر ذرائع علم کو بھی اسی انداز میں مہیا کر دیا جائے جس کے ہم عادی ہوتے جا رہے ہیں، اور بالخصوص نئی نسل اس تساہل پسندی میں زیادہ آگے نکل گئی ہے۔ وہ نسلیں جن کا جس حد تک بھی تعلق متفرق ذرائع علم سے رہا ہے، وہ ’اے آئی‘ کے مفید استعمال میں اتنی ہی زیادہ آگے رہیں گی۔ مزید یہ کہ ایسے ہی لوگوں میں ’اے آئی ٹولز‘ کی غلطیاں اور جھکاؤ کو پہچان لینے کی صلاحیت بھی زیادہ ہوگی۔ 
  • اسلامی تعلیمات کو ’اے آئی‘ کے پیرائے میں مہیا کرنا آج کے دور کی نہایت اہم ضرورت ہے۔ ’چیٹ بوٹس‘ کی صورت میں یہ تعلیمات فوری طور پردستیاب ہوں، تو ان سے آج کے دور میں زیادہ استفادہ کیا جائے گا۔ قرآن وحدیث سے لے کر کلاسیکی لٹریچر اور دور جدید کی تحقیق وتصنیف اسی اندازسے مہیا کی جائیں۔ جماعت اسلامی نے اس صورتِ حال کا ادراک کرتے ہوئےاس سلسلےمیں ایک پروجیکٹ پر کام شروع کیا ہے، اور اس طرح کے بعض چیٹ بوٹس پر کام مکمل بھی ہوچکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس بڑے کام کو سرانجام دینے کے لیے مزید افراد اور ادارے آگے آئیں اور اس کام کے لیے ایک دوسرے سے تعاون کریں، تاکہ کام کی تکرار سے بھی بچا جا سکے اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ بھی اٹھایا جا سکے۔  
  • دورِ حاضر میں جہاں حصول علم کے انداز بدل گئے ہیں، وہاں تنقیدی سوچ بچار (کریٹیکل تھنکنگ) بھی متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیادہ زور معلومات پر، ان کے حصول میں تیزی اور مستعدی پر ہے، جب کہ تنقیدی فکر ایک مربوط ذہنی ورزش کی متقاضی ہے اور اس بناپر وقت طلب عمل ہے۔ اس مسئلے کو فکری میدان میں باہمی تعاون کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ یعنی، یہ قابل عمل طریقہ ہو سکتا ہے کہ کئی لوگ اپنے پاس موجود علم کو جو بہت وسیع و عمیق نہ بھی ہو، مشترکہ طور پر علم کے ایک وسیع ذخیرے کی شکل دے دیں اور اس کی بنیاد پر تنقیدی سوچ بچار کو بھی ایک مشترکہ صورت میں فروغ دیا جائے۔ اس صورتِ حال کے تناظر میں ’اے آئی ٹکنالوجی‘ ’فکری تعاون‘ (کلیبریٹیو تھنکنگ) کے لیے ایک اچھی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ کارپوریٹ دنیا میں بھی ’کلیبریٹیو لیڈرشپ‘ کا ماڈل مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ اسے زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی رائج کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی اور تحقیقی ادارے بھی اس ماڈل کو اپنا سکتے ہیں۔  
  • سوشل میڈیا نے معلومات کے حصول کے ایک اچھے ذریعے کی حیثیت سے اڑان بھری تھی، لیکن اب یہ مخاصمت اور اپنے زاویۂ نظرکے مقابلے میں کسی بھی دوسری رائے کوسرنگوں کرنے کی کوششوں کا ایک مرکز بن گیا ہے۔ اوپر تجویز کردہ ’فکری تعاون‘ کو فروغ دے کر سوشل میڈیا کی افادیت کو بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ گو کہ بہت سے پروفیشنل فورمز پر بہت اعلیٰ درجے کی بحث اور تبادلۂ خیال دیکھنے کو ملتا ہے، تاہم عام طور پر لا حاصل بحثوں اور اپنے اپنے مورچوں میں بند افراد کا شور زیادہ ہے۔ یہ رجحان بھی عام ہے کہ ایسی پوسٹ جس کے ’لائک‘ زیادہ ہوں اسے ہم مفید یا اہم سمجھتے ہیں، اور اسی پس منظر میں بہت سے کاروباری ادارے اور سیاسی قوتیں رجحان سازی کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ فکر کو ایک خاص انداز میں آگے بڑھایا جا رہا ہے، جب کہ انفرادی فکر جلا نہیں پا رہی۔ یقیناً ’اے آئی‘ کے ٹولز اس میں مدد گار ہو رہے ہیں اور ان کا مقابلہ انھی کے میدان میں کرنے کی ضرورت ہے۔  
  • اس سلسلے میں متعلقہ میدان کے صاحب الرائے افراد کے فورم تشکیل دیے جائیں، جو نئے دور کے تقاضوں کا جائزہ لیتے رہیں اور حسب ضرورت مناسب راہِ عمل تجویز کرتے رہیں۔  اسی طرح ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ادارے کمربستہ ہوں اور مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔

کاغذی کرنسی اور تجارتی سامان کا نصابِ زکوٰۃ 

سوال :  مجھے کاغذی کرنسی، تجارتی سامان، کمپنی کے حصص، اور اسی طرح کی چیزوں کے لیے سونے کو نصاب سمجھنے کے بارے میں کئی استفسارات اور سوالات موصول ہوئے ہیں کہ کیا اب بھی سونے کا نصاب قابل اعتبار ہے ،جب کہ سونے کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں؟ اور کیا چاندی کو یا اس جیسی کسی اور چیز کو نصاب بنایا جا سکتا ہے؟  

جواب : اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے دو عظیم اور جامع مقاصد مقرر کیے ہیں: 

پہلا مقصد: اللہ تعالیٰ کے لیے خالص عبادت کا حصول۔ اور وہ اس طرح کہ مالداروں کے دلوں کو لالچ اور حرص سے پاک کیا جائے، اور غریبوں کے دلوں کو حسد اور سماجی بغض سے صاف کیا جائے، تاکہ باہمی کفالت کی ضامن اسلامی اخوت حاصل ہو سکے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۝۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۝۱۱  (التوبہ ۹:۱۱) پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔ 

دوسرا مقصد: حاجت مندوں، مسکینوں اور غریبوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کو ترقی دینا، انھیں شدید غربت سے نکالنا، پھر وہاں سے کفایت اور مکمل کفایت کی طرف لانا، اور اس سماجی پہلو میں وہ سب کچھ شامل ہے جو دعوت الی اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق ہے۔ 

ان دونوں مقاصد کا ذکر قرآن کریم نے اپنے اس فرمان میں کیا ہے: 

خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۝۰ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ۝۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۝۱۰۳(التوبہ ۹:۱۰۳) اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھاؤ، اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمھاری دعا ان کے لیے وجۂ تسکین ہو گی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔  

اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کوئی ٹیکس نہیں ہے جو ریاست کی طرف سے یا طاقت وروں کی طرف سے ان کے اپنے فائدے کے لیے لگایا جاتا ہے، بلکہ زکوٰۃ ایک مکمل باہمی مالی کفالت کا نظام ہے، جس میں امیروں کے حقوق کے ساتھ حاجت مندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، اور یہ دنیا اور آخرت میں سب کے مفاد میں ہے، اسی طرح یہ معاشرے اور ریاست کے فائدے میں بھی ہے۔ 

واضح رہے کہ زکوٰۃ کے اکثر اموال کا نصاب ثابت شدہ احادیث سے متعین ہے، جیسے زرعی اور حیوانی دولت کا نصاب، اور خود سونا اور چاندی کا نصاب، جب کہ ہماری گفتگو تجارتی سامان، اور اس دور کے نئے مسائل جیسے کاغذی کرنسی وغیرہ کے بارے میں ہے۔ 

تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہونے پر اتفاق ہے، بلکہ اس پر سلف کا اجماع ہے۔ 

ابن المنذر کہتے ہیں: ’’اہل علم کا اجماع ہے کہ تجارتی سامان میں زکوٰۃ ہے، جب اس پر ایک سال گزر جائے‘‘۔اس بنیاد پر ہم تجارتی سامان کے نصاب کے بارے میں فقہاء کی آراء ذکر کرتے ہیں، کہ کیا ان کا نصاب سونا کے نصاب کی بنیاد پر طے کیا جائے گا یا چاندی کے نصاب کی بنیاد پر یا کسی اور چیز کے نصاب کو بنیاد بنا کر اسے مقرر کیا جائے گا؟ 

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں:تجارتی سامان کی قیمت کا اندازہ سال پورا ہونے کے دن کیا جائے گا، اور اس پر اتفاق ہے، البتہ اختلاف اس میں ہے کہ:اس کی قیمت سونا سے طے کی جائے یا چاندی سے یا کسی اور چیز سے ؟ اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے اور یہ اختلاف کئی آراء پر مشتمل ہے جن میں مشہور ترین یہ ہیں: 

  • پہلی رائے: اس کا نصاب سونے یا چاندی میں سے اس چیز کے نصاب کی بنیاد پر مقرر کیا جائے، جس چیز کی قیمت فقرا ءکے لیے زیادہ نفع بخش ہو، چاہے وہ سونا ہو یا چاندی یا کوئی اور چیز، اور یہ امام ابو حنیفہؒ سے ایک قوی روایت ہے۔ التجريد للقدوري (ت ۴۲۸ھ) میں آیا ہے: ’’کیونکہ ہم سامان کا نصاب اس چیز کی بنیاد پر مقرر کرتے ہیں جو مساکین کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، اور بعض اوقات نفع بخش چیز خود مال بھی ہو سکتی ہے‘‘___اور المرغینانی نے اس کی تائید اس قول سے کی ہے: ’’تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہے اگر اس کی قیمت سونے یا چاندی کے نصاب تک پہنچ جائے___ اس کا نصاب اُس چیز کی قیمت سے طے کیا جائے، جو چیز مساکین کے لیے زیادہ نفع بخش ہو، فقراء کے حق میں احتیاط کرتے ہوئے۔ یہ امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک ہے‘‘۔ اور حنابلہ کی رائے بھی رہے، کہ فقرا ءکے لیے زیادہ فائدہ مند چیز کو اس کا نصاب بنایا جائے گا چاہے وہ سونا ہو یا چاندی۔ 
  • دوسری رائے: ہر حال میں ملک میں رائج کرنسی سے اس کی قیمت لگائی جائے، اور یہ امام محمد (امام ابو حنیفہ کے شاگرد) رحمہم اللہ کی رائے ہے اور شافعیہ کا بھی ایک قول ہے، اور یہی ابواسحاق کا قول ہے۔ 
  • تیسری رائے: اس کی قیمت اس چیز سے لگائی جائے جس سے اسے نقد خریدا گیا تھا، ورنہ ملک میں رائج کرنسی سے اس کی قیمت لگائی جائے، اور یہ امام ابو یوسفؒ کی رائے ہے۔ 
  • چوتھی رائے: اس کی قیمت مُطلقاً اس نقد چیز [وہ چیز جس کے بدلے یا عوض میں خریدوفروخت ہوتی ہو] سے لگائی جائے جس سے اسے خریدا گیا ہو، چاہے وہ ملک کا غالب نقد ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور نقد، اور یہ امام شافعیؒ کا مذہب ہے۔ 
  • پانچویں رائے: اعتبار فروخت کا ہے، قرافی نے کہا:’’جب ہم قیمت لگانے کے قائل ہیں تو جو چیز غالباً سونے کے بدلے بیچی جاتی ہے اس کی قیمت سونے سے لگائی جائے، اور جو غالباً چاندی کے بدلے بیچی جاتی ہے اس کی قیمت چاندی سے لگائی جائے، کیونکہ یہ استعمال کی قیمت ہے، پس جب وہ دونوں کے بدلے بیچی جاتی ہو، اور وہ زکوٰۃ کے اعتبار سے برابر ہوں تو اختیار دیا جائے گا، ورنہ وہ ذمہ دار ہوگا‘‘۔ انھوں (یعنی ابن القاسم) نے کہا: ’’زکوٰۃ میں چاندی اصل ہے، اسی سے قیمت لگائی جائے، اور اگر ہم کہیں کہ وہ دونوں اصل ہیں، تو ابو حنیفہؒ اور ابن حنبلؒ نے کہا: مساکین کے لیے جو افضل ہو اس کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ قیمت ان کے حق کی خاطر لگائی جاتی ہے۔ 
  • مضبوط ترجیحی رائے: میزان کا تقاضا یہ قول ہے کہ تجارتی سامان کا نصاب، اور اسی طرح ہماری کاغذی کرنسی کا نصاب اس چیز سے طےکیا جائے، جو فقراء کے لیے زیادہ فائدہ مند، زیادہ بہتر اور زیادہ نفع بخش ہو۔ لیکن اس میں ایک شرط کو ملحوظ رکھنا ہوگا، اور وہ یہ کہ یہ نصاب شریعت کے نصاب مقرر کرنے کے مقصد سے خارج نہ ہو، کیونکہ اس کا مقصد ’فقیرمحتاج‘ اور اس شخص کے درمیان فرق کرنا ہے جو حاجت کے دائرے سے نکل کر غِنٰی کے دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔ اور یہ شرط اغنیاء اور فقراء کے لیے اسلام میں عدلِ کامل کے حصول کے لیے ہے، اور چھوٹے اموال کو زکوٰۃ جیسے مالی بوجھ اٹھانے سے بچانے کے لیے ہے، تاکہ وہ بڑے ہوں، اور نصاب کی حد تک پہنچ جائیں۔ شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے ہر جنس میں نصاب کے واجب ہونے کی حکمت پر شاندار کلام ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک سال تک نصاب کا مالک رہنا فقر کی حد سے نکل جانے کا باعث بنتا ہے، اور اسے تقریباً ایک سال تک خود کفیل بنا دیتا ہے۔ 

بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ واضح کیا اور فرمایا: ’’صدقہ صرف زائد مال پر ہوتا ہے:’’ اور صدقہ سے مراد وہ صدقہ ہے جو زکوٰۃ اور اس کے علاوہ کو شامل ہے۔ امام بخاریؒ نے اسی عنوان سے باب قائم کیا ہے: باب لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًی پھر اپنی سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو زائد مال پر ہو‘‘… اور مرفوعاً بھی جزم کے صیغے کے ساتھ معلقاً بلفظ لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًیروایت کیا۔ 

یہ احادیث بوضاحت دلالت کرتی ہیں کہ واجب صدقہ (زکوٰۃ) غِنی (تونگری) کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اور جو شخص پورے ایک سال تک نصاب کا مالک رہا وہ اس دائرے میں داخل ہوچکا ہے۔اور اس بنیاد پر، جمہور معاصر علماء نے سونے کے نصاب پر اعتماد کیا ہے جو ۲۰مثقال (دینار) ہے اور یہ عصری اوزان کے مطابق ۸۵ گرام خالص سونے یعنی ۲۴ کیرٹ یعنی ۹۹۹ فی صد سونے کے برابر ہے۔ 

فقہاء نے اس چیز کو پیش نظر رکھا کہ ۱۹۹۹ء کے آغاز میں (۸۵) گرام خالص سونے کی قیمت تقریباً ۲ہزار ڈالر تھی، پھر ۲۰۰۰ء-۲۰۲۳ء کے آغاز میں ۳ہزار ڈالر سے ۵ہزار، یا ۶ہزارڈالر کے درمیان رہی تو یہ معاملہ بہت معقول ہے، اور اس میں فقرا اور اغنیاء کے حق میں عدل ہے۔ 

یہ معلوم ہے کہ چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم ہے جو (۵۹۵) گرام خالص چاندی کے برابر ہے۔ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۲۲ء تک چاندی کی قیمت ۵ء۵۰  ڈالر سے۶ء۰ امریکی ڈالر فی اونس کے درمیان رہی، یعنی خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۱۸ سے ۱۹ امریکی سینٹ کے درمیان رہی۔ اگر ہم چاندی کے نصاب(۵۹۵) گرام کو ۱۹ سینٹ سے ضرب دیں تو نتیجہ ۰۵ٌٌء۱۱۳ یعنی ۱۱۳ ؍ڈالر اور پانچ سینٹ ہوگا، جو کہ ایک بہت معمولی رقم ہے جس سے نہ تو غنی ہوا جا سکتا ہے اور نہ یہ فقر اور تونگری کے درمیان حد فاصل بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس دور میں تجارتی سامان اور کاغذی کرنسی میں چاندی کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 

اس موقف کو اختیار کرنے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاندی کی قیمت سونے کی قیمت کا تقریباً دسواں حصہ تھی۔ اسی لیے سونے کا نصاب ۲۰ مثقال (دینار) اور چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم تھا، یعنی ہر دس درہم ایک دینار کے برابر تھے۔ یہ مساوات بہت گہری تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دیت ایک ہزار دینار (سونے کے) اور دس ہزار درہم (چاندی کے) تھی۔ ہاں، ایک مدت میں اس میں ۲۰ فی صد کا اضافہ ہوا تو یہ (۱۲ہزار) درہم تک پہنچ گئی اور اسی تناسب سے کمی بھی ہوئی تو (۸ ہزار) درہم رہ گئی، اور یہ معقول اور قابلِ برداشت تناسب تھے۔ لیکن جب ان کے درمیان فرق کئی گنا بڑھ جائے تو چاندی معیار اور مساوات سے خارج ہو جاتی ہے، اسی لیے حالیہ عشروں میں اس کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔ 

آج ۲۸ جنوری ۲۰۲۶ء کو خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۲ء۵۷  ڈالر تھی، اگر ہم اسے (۵۹۵) گرام سے ضرب دیں تو (۱۵۲۹) ڈالر بنتے ہیں جو (۵۵۸۰) قطری ریال کے برابر ہے۔ یہ رقم اونٹوں میں نصاب کی قیمت سے کم ہے (پانچ اونٹ جن کی قیمت تقریباً  ۲۰ہزار ریال ہے) اور (۴۰) بکریوں کی قیمت (تقریباً ۴۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے اور (۳۰) گایوں کی قیمت (تقریباً  ایک لاکھ ۸۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے ۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ گندم کے نصاب کی قیمت سے زیادہ ہے جو کہ اکثر مسلم ممالک بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں غالب (خوراک) ہے۔ ہم نے ۲۰۲۵ء کے دوران قطر میں ۶۷۰ کلو گندم کی اوسط قیمت کا حساب لگایا جو صرف (۲ہزار) ریال بنتی ہے، اور یہ چاندی کے نصاب کی قیمت سے کم ہے، اور یہ چیز چاندی کے نصاب کی طرف رجحان کی حمایت کرتی ہے۔ 

اسی لیے ہم اس تفصیلی بحث کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ اس ہجری سال (۱۴۴۷ھ) اور اس کے بعد سے قابلِ اعتماد نصاب چاندی کا نصاب۵ہزار ۵سو۸۰ قطری ریال اور اس کے مساوی۱۵۲۹؍ امریکی ڈالر ہے۔ 

فقہ میں یہ معلوم ہے کہ تجارتی اشیاء کی زکوٰۃ کا حساب درج ذیل اقدامات سے شروع ہوتا ہے: 

  • اوّل: تمام نقدی، سونا اور چاندی کا ان کی قدر کے مطابق اس دن حساب لگایا جائے جس دن سال مکمل ہو۔ ابن قدامہ نے فرمایا: ’’سونا اور چاندی ایک دوسرے میں ضم کر دیے جائیں گے، اور اس سے نصاب پورا کیا جائے گا‘‘۔ 
  • ثانیاً: فروخت کے لیے پیش کردہ تمام اشیاء کا ان کی بازاری قیمت پر حساب لگایا جائے، اگر وہ ہول سیل میں بیچی جاتی ہیں تو ہول سیل قیمت، ورنہ ریٹیل قیمت۔ 
  • ثالثا ً: تاجر کو امید کے ساتھ ادا کیے جانے والے تمام قرضوں کا حساب کتاب۔ 
  • رابعاً: تجارتی اشیاء سے متعلق تمام خاص قرضوں کو منہا کرنا۔ 

پھر باقی ماندہ رقم اگر نصاب ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ڈالر تک پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں۲ء۵ فی زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔پس تجارتی اشیاء اور کاغذی کرنسی کا نصاب وہ ہے جو ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ؍ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ حساب کتاب چاندی کی آج کی قیمت پر مبنی ہے، اگر اس کی قیمت تبدیل ہو جائے تو اس تبدیلی کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔ 

(ڈاکٹر علی محی الدین القرۃ داغی /  مترجم: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن) 


 

عُذر کی وجہ سے نماز میں کوتاہی کا تدارک 

سوال :  میں پرائمری اسکول میں ٹیچر تھا۔ ریٹائر ہوگیا ہوں۔ زندگی بھر تحریک اسلامی سے وابستہ رہا ہوں۔ رفاہی اداروں میں حسب توفیق مالی امداد کرتا رہا ہوں۔ میرے چھ لڑکے ہیں۔ میرے پاس کچھ زمین تھی وہ میں نے ان میں تقسیم کردی ہے۔ اب میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے میری دائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا۔ اسٹیل کا گولا ڈالا گیا۔ لیکن چند ماہ کے بعد دوبارہ معائنہ ہوا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے گھٹنے ناکارہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مصنوعی گھٹنے بھی کام نہیں دے سکتے۔ جون ۲۰۲۵ء سے میں چارپائی پر پڑا ہوں۔ پیشاب ، پاخانہ بھی بستر پر لیٹے ہوئے کرتا ہوں۔ خود سے اُٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتا۔ میرے پوتے سارا کام کرتے ہیں، وضو بھی نہیں کرسکتا۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔ 

ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ فی نماز دوکلو گندم مرنے کے بعد صدقہ کرنا پڑے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد کیا میرے بیٹے اتنا صدقہ کرسکیں گے؟ مجھے اُمید نہیں، میں نے نہ کبھی روزہ چھوڑا نہ نمازِ تہجد کا ناغہ کیا۔ غریبوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اب میری ایسی حالت ہوگئی ہے۔ براہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں؟ 

جواب : اس دُنیا میں ہرانسان آزمائش کی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھانسانوں کو دے کر آزماتا ہے اور کچھ کو محروم کرکے۔ کچھ کو مال و دولت سے نوازتا ہے تو کچھ کو غریب رکھتا ہے۔ کچھ کو صحت مند رکھتا ہے تو کچھ کو امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ نعمتیں پاکر وہ شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور مال و دولت اور صحت سے محروم ہونے پر وہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ کامیاب انسان وہ ہیں جو کوئی نعمت پاکر شکر بجا لائیں اور کسی پریشانی کا شکار ہوں تو صبر کریں۔ کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کے برابر رقم صدقہ کرنا ہے۔ تاہم بعض افراد نے یہی ہر نماز کا فدیہ بھی قرار دیا ہے، جو درست نہیں ہے۔ 

جب تک انسان زندہ اور ہوش و حواس میں ہے، نماز معاف نہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو، نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وضو نہ کرسکتے ہوں تو مٹی کا ڈلا اپنے پاس رکھیں، اس سے تیمّم کرلیا کریں۔ اُٹھ بیٹھ نہ سکتے ہوں تو لیٹے لیٹے نماز ادا کرلیا کریں، کم از کم فرض نماز ضرور ادا کریں، توفیق اذکار و اوراد کا اہتمام کریں۔ جتنا قرآن یاد ہو جب بھی موقع ملے دُہراتے رہیں۔ 

آپ نے پوری زندگی دین داری کے ساتھ گزاری ہے۔ عبادات کا اہتمام کیا ہے۔ صدقہ و خیرات کرتے رہے ہیں۔ اب عُذر کی وجہ سے نہیں کرپا رہے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ حدیث میں ہے کہ عام حالات میں بندہ جو نیک اعمال کرتا رہا ہے، اگر عُذر کی وجہ سے انھیں نہ کرسکے تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر دیتا رہے گا۔(محمد رضی الاسلام ندوی) 

اسلام کے نزدیک معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ یہ بالکل ویسا ہی تعلق ہے جیسا جڑ سے تنے کا، اور تنے سے شاخوں کا اور شاخوں سے پتوں کا ہوتا ہے۔ ایک ہی نظام ہے جو خدا کی توحید اور رسولوں ؑ کی رسالت پر ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے اخلاقی نظام بنتا ہے۔ اسی سے عبادات کا نظام بنتا ہے، جس کو آپ مذہبی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی سے معاشرتی نظام نکلتاہے۔ اسی سے معاشی نظام نکلتا ہے۔اسی سے سیاسی نظام نکلتا ہے۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ خدا اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو آپ کو لامحالہ وہی اخلاقی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے سکھائے ہیں، اور وہی سیاسی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے آپ کو دیئے ہیں۔ اسی کے اصولوں پر آپ کو اپنی معاشرت کی تشکیل کرنی ہوگی اور اسی کے اصولوں پر اپنی معیشت کا سارا کاروبار چلانا ہوگا۔ جس عقیدے کی بنا پرآپ نماز پڑھتے ہیں، اسی عقیدے کی بناپر آپ کو تجارت کرنی پڑے گی۔ جس دین کا ضابطہ آپ کے روزے اور حج کو منضبط کرتا ہے، اسی دین کے ضابطے کی پابندی آپ کو اپنی عدالت میں بھی کرنی ہوگی اور اپنی منڈی میں بھی۔  

اسلام میں مذہبی نظام، سیاسی نظام، معاشی نظام اور معاشرتی نظام الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی نظام کے مختلف شعبے اور اجزا ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ بھی ہیں اور ایک دوسرے سے طاقت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اگر توحید و رسالت کا عقیدہ موجود نہ ہو اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاق موجود نہ ہوں، تو اسلام کا معاشی نظام کبھی قائم نہیں ہوسکتا اور قائم کیا بھی جائے تو چل نہیں سکتا۔ اسی طرح اسلام کا سیاسی نظام بھی نہ قائم ہوسکتا ہے، نہ چل سکتا ہے اگر خدا اور رسولؐ پر عقیدہ اور قرآن پر ایمان نہ ہو، کیونکہ اسلام جو سیاسی نظام دیتا ہے اس کی بناہی اس عقیدے پر رکھی گئی ہے کہ خدا حاکمِ اعلیٰ ہے۔ رسولؐ اس کا نمائندہ ہے اور قرآن اس کا واجب الاطاعت فرمان ہے۔ پس یہ خیال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کہ اسلام میں کوئی سیاسی یا معاشی نظام، مذہبی اور اخلاقی نظام سے الگ اور بے تعلق بھی ہوسکتا ہے۔(’اسلامی نظم معیشت کے اصول اور مقاصد‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵، عدد۱، مارچ ۱۹۶۶ء،ص۴۵-۴۶)