مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) آج کل ہماری گفتگو کا ایک اہم موضوع ہوتا ہے۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی پر اس کے اثرات اکثر زیر بحث آتے ہیں۔ گھریلو محفل ہو یا دفتری ماحول یا معاشرتی روابط کی دیگر سرگرمیاں، یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ’اے آئی‘ ٹکنالوجی کے اثرات کو ہم لوگ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ ہماری زندگی پر ’مصنوعی ذہانت‘ کے اثر کا ایک فطری رد عمل ہے۔ کیونکہ جس انداز میں یہ ٹکنالوجی ہماری زندگیوں کو متاثر کر رہی ہے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی کا کوئی شعبہ اس کے اثر سے خالی نہ رہے گا۔ ’اے آئی‘ کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے اور اب نجی زندگی سے لے کر بین الاقوامی معاملات تک میں اس کا عمل دخل یقینی ہو گیا ہے۔ اب ہم اپنے گھر کے کمروں کی آرائش کے لیے بھی ’اے آئی‘ سے مدد لیتے ہیں اور ملکوں کے درمیان جنگیں بھی اس کی مدد سے لڑی جا رہی ہیں۔
انٹرنیٹ نے برقی مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ مل کر ایک انقلاب برپا کر دیا ہے۔ پھر موبائل فون کے سمارٹ ہو جانے سے اس انقلاب میں اور شدت آگئی۔ اس انقلاب کی زد میں شہری اوردیہی، گویا ساری دنیا آگئی۔
مصنوعی ذہانت یا ’اے آئی‘ کے بارے میں ہم میں سے بہت سوں کے لیے یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ اس ٹکنالوجی کے فروغ سے بے روزگاری میں اضافہ ہو گا، انسانوں کی جگہ روبوٹ اور کمپیوٹر کام کریں گے۔ دراصل انسانی ترقی و تمدن کے سفر میں اکثر یہ ہوا ہے کہ کئی لوگ جدید دریافتوں کو اور ان کے استعمال کو ابتدا میں نقصان دہ، غیر فطری، غیر انسانی اور یہاں تک کہ غیر شرعی بھی سمجھتے رہے ہیں۔
یہ بھی ہوتا آیا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کو دیکھ کر بہت سے لوگ مستقبل میں پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں نہ صرف فکر مند ہوتے رہے، بلکہ انسانیت کے لیے بھیانک مستقبل کی پیش گوئیاں بھی سامنے لاتے رہے ہیں۔ تاہم، ایسی پیش گوئیاں اکثرغلط ثابت ہوئی ہیں۔
ہمارا خیال ہے کہ ’اے آئی‘ کے بارے میں پیدا ہونے والی تشویش کا بھی کچھ یہی انجام ہو گا۔ انسان اپنے لیے کچھ اور مشاغل دھونڈ نکالیں گے، ایک نئی دنیا بسا لیں گے، جس کو چلانے میں انسان کے عمل دخل کی ضرورت رہے گی۔
’ اے آئی‘ کے پھیلاؤ سے کسی خوف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، جیسا کہ ہر ٹکنالوجی کے اچھے اور برے استعمالات ہو سکتے ہیں، انٹرنیٹ اور ’اے آئی‘ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ تاہم، اس ٹکنالوجی کے بعض ایسے نقصانات ہو سکتے ہیں جو ابھی پوری طرح واضح نہیں ہوئے، ان کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہم ان کا کچھ ذکر کرتے ہیں:
سائنسی پبلشنگ گروپس بھی اس مسئلے سے آگاہ ہیں اور جعلی تحقیق کی نشاندہی کرنے اور اسے واپس لینے کے لیے نئے طریقے بنانے پر کام کر رہے ہیں۔ ایک بڑے پبلشر، اسپرنگر نیچر نے ۲۰۲۴ء میں اپنی اشاعتوں سے ۲ہزار ۹سو مضامین کو واپس لے لیا تھا۔ لیکن ان جعلی دستاویزات کو واپس لینے کا مطلب یہ ہے کہ اسی دوران غیرمعیاری سائنسی مضامین کی اشاعت ہو چکی ہے۔
ابالکینا اور رچرڈسن جیسے ماہرین کا کہنا ہے کہ مسائل بالآخر اس بات سے آتے ہیں کہ سائنسی تحقیق کی قدر کیسے کی جاتی ہے؟ سائنسی ملازمتیں اور فنڈنگ سائنسی اشاعت پر منحصر ہیں۔
رچرڈسن نے کہا: ’’وسائل کی (کمی) کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ جب آپ پر سائنسی (اشاعتوں) کو شائع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، تو آپ کے پاس حقیقت میں دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: یا تو آپ سائنسی فریب سے کام لیتے ہیں، یا پھر سائنس پر کام ترک کر دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں دسیوں ہزار سائنس دان مبتلا ہیں‘‘۔ اسی لیے رچرڈسن نے کہا کہ ’’فریب پر مبنی ایسی اشاعتوں کی روک تھام کا بہترین حل یہ ہے کہ اشاعتوں کی تعداد اور اس طرح کے حوالہ جات جیسے تحقیقی تشخیص کے تمام پیمانوں (میٹرکس) کو ختم کر دیا جائے‘‘۔
ہمارا اندازہ ہے کہ ’جنریشن زی‘ کے مقابلے میں ’جنریشن وائی‘ علم کی وسعت، گہرائی اور آئی کیو میں زیادہ بہتر سطح پرہیں۔ غالباً، ’جنریشن ایکس‘ اور کسی حد تک بے بی بومر جنریشن بھی ایک بہتر مقام پر ہیں۔ کیونکہ ان نسلوں نے علم کے دیگر ذرائع سے بھی استفادہ کیا اور دورِ حاضر کی سائبرسپیس اور ’اے آئی‘ سے بھی مستفید ہوئے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ پچھلی صدی تک آئی کیو کی سطح ہرنسل میں دو سے تین پوائنٹ بڑھتی رہی، جب کہ پچھلے تقریباً بیس برسوں سے آئی کیو کا بڑھاؤ یا تواپنی سطح مرتفع پر پہنچ کر رُک گیا ہے یا کئی ممالک میں اس نسبت سے تنزلی آئی ہے، جن میں مغربی ممالک بھی شامل ہیں۔ اس تحقیق کے روح رواں فلین کے نام پراسے ’فلین ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔
سوال : مجھے کاغذی کرنسی، تجارتی سامان، کمپنی کے حصص، اور اسی طرح کی چیزوں کے لیے سونے کو نصاب سمجھنے کے بارے میں کئی استفسارات اور سوالات موصول ہوئے ہیں کہ کیا اب بھی سونے کا نصاب قابل اعتبار ہے ،جب کہ سونے کی قیمتیں بلند سطح پر پہنچ گئی ہیں؟ اور کیا چاندی کو یا اس جیسی کسی اور چیز کو نصاب بنایا جا سکتا ہے؟
جواب : اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے دو عظیم اور جامع مقاصد مقرر کیے ہیں:
پہلا مقصد: اللہ تعالیٰ کے لیے خالص عبادت کا حصول۔ اور وہ اس طرح کہ مالداروں کے دلوں کو لالچ اور حرص سے پاک کیا جائے، اور غریبوں کے دلوں کو حسد اور سماجی بغض سے صاف کیا جائے، تاکہ باہمی کفالت کی ضامن اسلامی اخوت حاصل ہو سکے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوۃَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ۰ۭ وَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ۱۱ (التوبہ ۹:۱۱) پس اگر یہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں۔
دوسرا مقصد: حاجت مندوں، مسکینوں اور غریبوں کی ضروریات پوری کرنا، ان کو ترقی دینا، انھیں شدید غربت سے نکالنا، پھر وہاں سے کفایت اور مکمل کفایت کی طرف لانا، اور اس سماجی پہلو میں وہ سب کچھ شامل ہے جو دعوت الی اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق ہے۔
ان دونوں مقاصد کا ذکر قرآن کریم نے اپنے اس فرمان میں کیا ہے:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَـۃً تُطَہِّرُھُمْ وَتُزَكِّيْہِمْ بِہَا وَصَلِّ عَلَيْہِمْ۰ۭ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّھُمْ۰ۭ وَاللہُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۱۰۳(التوبہ ۹:۱۰۳) اے نبیؐ، تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انھیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انھیں بڑھاؤ، اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمھاری دعا ان کے لیے وجۂ تسکین ہو گی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کوئی ٹیکس نہیں ہے جو ریاست کی طرف سے یا طاقت وروں کی طرف سے ان کے اپنے فائدے کے لیے لگایا جاتا ہے، بلکہ زکوٰۃ ایک مکمل باہمی مالی کفالت کا نظام ہے، جس میں امیروں کے حقوق کے ساتھ حاجت مندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا جاتا ہے، اور یہ دنیا اور آخرت میں سب کے مفاد میں ہے، اسی طرح یہ معاشرے اور ریاست کے فائدے میں بھی ہے۔
واضح رہے کہ زکوٰۃ کے اکثر اموال کا نصاب ثابت شدہ احادیث سے متعین ہے، جیسے زرعی اور حیوانی دولت کا نصاب، اور خود سونا اور چاندی کا نصاب، جب کہ ہماری گفتگو تجارتی سامان، اور اس دور کے نئے مسائل جیسے کاغذی کرنسی وغیرہ کے بارے میں ہے۔
تجارتی سامان میں زکوٰۃ واجب ہونے پر اتفاق ہے، بلکہ اس پر سلف کا اجماع ہے۔
ابن المنذر کہتے ہیں: ’’اہل علم کا اجماع ہے کہ تجارتی سامان میں زکوٰۃ ہے، جب اس پر ایک سال گزر جائے‘‘۔اس بنیاد پر ہم تجارتی سامان کے نصاب کے بارے میں فقہاء کی آراء ذکر کرتے ہیں، کہ کیا ان کا نصاب سونا کے نصاب کی بنیاد پر طے کیا جائے گا یا چاندی کے نصاب کی بنیاد پر یا کسی اور چیز کے نصاب کو بنیاد بنا کر اسے مقرر کیا جائے گا؟
اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں:تجارتی سامان کی قیمت کا اندازہ سال پورا ہونے کے دن کیا جائے گا، اور اس پر اتفاق ہے، البتہ اختلاف اس میں ہے کہ:اس کی قیمت سونا سے طے کی جائے یا چاندی سے یا کسی اور چیز سے ؟ اس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہے اور یہ اختلاف کئی آراء پر مشتمل ہے جن میں مشہور ترین یہ ہیں:
بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے یہ واضح کیا اور فرمایا: ’’صدقہ صرف زائد مال پر ہوتا ہے:’’ اور صدقہ سے مراد وہ صدقہ ہے جو زکوٰۃ اور اس کے علاوہ کو شامل ہے۔ امام بخاریؒ نے اسی عنوان سے باب قائم کیا ہے: باب لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًی پھر اپنی سند سے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے روایت کیا کہ آپ نے فرمایا: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو زائد مال پر ہو‘‘… اور مرفوعاً بھی جزم کے صیغے کے ساتھ معلقاً بلفظ لَاصَدَقَةَ إلَّا عَنْ ظَہرِ غِنًیروایت کیا۔
یہ احادیث بوضاحت دلالت کرتی ہیں کہ واجب صدقہ (زکوٰۃ) غِنی (تونگری) کے ساتھ شروع ہوتا ہے، اور جو شخص پورے ایک سال تک نصاب کا مالک رہا وہ اس دائرے میں داخل ہوچکا ہے۔اور اس بنیاد پر، جمہور معاصر علماء نے سونے کے نصاب پر اعتماد کیا ہے جو ۲۰مثقال (دینار) ہے اور یہ عصری اوزان کے مطابق ۸۵ گرام خالص سونے یعنی ۲۴ کیرٹ یعنی ۹۹۹ فی صد سونے کے برابر ہے۔
فقہاء نے اس چیز کو پیش نظر رکھا کہ ۱۹۹۹ء کے آغاز میں (۸۵) گرام خالص سونے کی قیمت تقریباً ۲ہزار ڈالر تھی، پھر ۲۰۰۰ء-۲۰۲۳ء کے آغاز میں ۳ہزار ڈالر سے ۵ہزار، یا ۶ہزارڈالر کے درمیان رہی تو یہ معاملہ بہت معقول ہے، اور اس میں فقرا اور اغنیاء کے حق میں عدل ہے۔
یہ معلوم ہے کہ چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم ہے جو (۵۹۵) گرام خالص چاندی کے برابر ہے۔ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۲۲ء تک چاندی کی قیمت ۵ء۵۰ ڈالر سے۶ء۰ امریکی ڈالر فی اونس کے درمیان رہی، یعنی خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۱۸ سے ۱۹ امریکی سینٹ کے درمیان رہی۔ اگر ہم چاندی کے نصاب(۵۹۵) گرام کو ۱۹ سینٹ سے ضرب دیں تو نتیجہ ۰۵ٌٌء۱۱۳ یعنی ۱۱۳ ؍ڈالر اور پانچ سینٹ ہوگا، جو کہ ایک بہت معمولی رقم ہے جس سے نہ تو غنی ہوا جا سکتا ہے اور نہ یہ فقر اور تونگری کے درمیان حد فاصل بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس دور میں تجارتی سامان اور کاغذی کرنسی میں چاندی کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔
اس موقف کو اختیار کرنے کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاندی کی قیمت سونے کی قیمت کا تقریباً دسواں حصہ تھی۔ اسی لیے سونے کا نصاب ۲۰ مثقال (دینار) اور چاندی کا نصاب (۲۰۰) درہم تھا، یعنی ہر دس درہم ایک دینار کے برابر تھے۔ یہ مساوات بہت گہری تھی، اور اس کی وجہ یہ تھی کہ دیت ایک ہزار دینار (سونے کے) اور دس ہزار درہم (چاندی کے) تھی۔ ہاں، ایک مدت میں اس میں ۲۰ فی صد کا اضافہ ہوا تو یہ (۱۲ہزار) درہم تک پہنچ گئی اور اسی تناسب سے کمی بھی ہوئی تو (۸ ہزار) درہم رہ گئی، اور یہ معقول اور قابلِ برداشت تناسب تھے۔ لیکن جب ان کے درمیان فرق کئی گنا بڑھ جائے تو چاندی معیار اور مساوات سے خارج ہو جاتی ہے، اسی لیے حالیہ عشروں میں اس کے نصاب پر انحصار نہیں کیا گیا۔
آج ۲۸ جنوری ۲۰۲۶ء کو خالص چاندی کے ایک گرام کی قیمت ۲ء۵۷ ڈالر تھی، اگر ہم اسے (۵۹۵) گرام سے ضرب دیں تو (۱۵۲۹) ڈالر بنتے ہیں جو (۵۵۸۰) قطری ریال کے برابر ہے۔ یہ رقم اونٹوں میں نصاب کی قیمت سے کم ہے (پانچ اونٹ جن کی قیمت تقریباً ۲۰ہزار ریال ہے) اور (۴۰) بکریوں کی قیمت (تقریباً ۴۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے اور (۳۰) گایوں کی قیمت (تقریباً ایک لاکھ ۸۰ ہزار ریال) سے بھی کم ہے ۔ لیکن خوش قسمتی سے یہ گندم کے نصاب کی قیمت سے زیادہ ہے جو کہ اکثر مسلم ممالک بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں غالب (خوراک) ہے۔ ہم نے ۲۰۲۵ء کے دوران قطر میں ۶۷۰ کلو گندم کی اوسط قیمت کا حساب لگایا جو صرف (۲ہزار) ریال بنتی ہے، اور یہ چاندی کے نصاب کی قیمت سے کم ہے، اور یہ چیز چاندی کے نصاب کی طرف رجحان کی حمایت کرتی ہے۔
اسی لیے ہم اس تفصیلی بحث کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ اس ہجری سال (۱۴۴۷ھ) اور اس کے بعد سے قابلِ اعتماد نصاب چاندی کا نصاب۵ہزار ۵سو۸۰ قطری ریال اور اس کے مساوی۱۵۲۹؍ امریکی ڈالر ہے۔
فقہ میں یہ معلوم ہے کہ تجارتی اشیاء کی زکوٰۃ کا حساب درج ذیل اقدامات سے شروع ہوتا ہے:
پھر باقی ماندہ رقم اگر نصاب ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ڈالر تک پہنچ جائے اور اس پر ایک سال گزر جائے تو اس میں۲ء۵ فی زکوٰۃ واجب ہے، ورنہ زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔پس تجارتی اشیاء اور کاغذی کرنسی کا نصاب وہ ہے جو ۵ہزار ۵سو۸۰ ریال یا ایک ہزار ۵سو۲۹ ؍ امریکی ڈالر کے برابر ہے۔اہم بات یہ ہے کہ یہ حساب کتاب چاندی کی آج کی قیمت پر مبنی ہے، اگر اس کی قیمت تبدیل ہو جائے تو اس تبدیلی کو ضرور مدنظر رکھا جائے۔
(ڈاکٹر علی محی الدین القرۃ داغی / مترجم: ڈاکٹر ارشاد الرحمٰن)
سوال : میں پرائمری اسکول میں ٹیچر تھا۔ ریٹائر ہوگیا ہوں۔ زندگی بھر تحریک اسلامی سے وابستہ رہا ہوں۔ رفاہی اداروں میں حسب توفیق مالی امداد کرتا رہا ہوں۔ میرے چھ لڑکے ہیں۔ میرے پاس کچھ زمین تھی وہ میں نے ان میں تقسیم کردی ہے۔ اب میرے پاس کچھ باقی نہیں بچا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے میری دائیں ٹانگ کا آپریشن ہوا۔ اسٹیل کا گولا ڈالا گیا۔ لیکن چند ماہ کے بعد دوبارہ معائنہ ہوا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے گھٹنے ناکارہ ہوگئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مصنوعی گھٹنے بھی کام نہیں دے سکتے۔ جون ۲۰۲۵ء سے میں چارپائی پر پڑا ہوں۔ پیشاب ، پاخانہ بھی بستر پر لیٹے ہوئے کرتا ہوں۔ خود سے اُٹھ کر پانی بھی نہیں پی سکتا۔ میرے پوتے سارا کام کرتے ہیں، وضو بھی نہیں کرسکتا۔ نماز بھی نہیں پڑھ سکتا۔
ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ فی نماز دوکلو گندم مرنے کے بعد صدقہ کرنا پڑے گا۔ میں بہت پریشان ہوں۔ میرے مرنے کے بعد کیا میرے بیٹے اتنا صدقہ کرسکیں گے؟ مجھے اُمید نہیں، میں نے نہ کبھی روزہ چھوڑا نہ نمازِ تہجد کا ناغہ کیا۔ غریبوں کی مدد اور مخلوقِ خدا کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ اب میری ایسی حالت ہوگئی ہے۔ براہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں میں کیا کروں؟
جواب : اس دُنیا میں ہرانسان آزمائش کی حالت میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کچھانسانوں کو دے کر آزماتا ہے اور کچھ کو محروم کرکے۔ کچھ کو مال و دولت سے نوازتا ہے تو کچھ کو غریب رکھتا ہے۔ کچھ کو صحت مند رکھتا ہے تو کچھ کو امراض میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ نعمتیں پاکر وہ شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں اور مال و دولت اور صحت سے محروم ہونے پر وہ صبر کرتے ہیں یا نہیں۔ کامیاب انسان وہ ہیں جو کوئی نعمت پاکر شکر بجا لائیں اور کسی پریشانی کا شکار ہوں تو صبر کریں۔ کوئی شخص روزہ نہ رکھ سکے تو ایک روزے کا فدیہ دو وقت کا کھانا کھلانا، یا اس کے برابر رقم صدقہ کرنا ہے۔ تاہم بعض افراد نے یہی ہر نماز کا فدیہ بھی قرار دیا ہے، جو درست نہیں ہے۔
جب تک انسان زندہ اور ہوش و حواس میں ہے، نماز معاف نہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو، نماز ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ وضو نہ کرسکتے ہوں تو مٹی کا ڈلا اپنے پاس رکھیں، اس سے تیمّم کرلیا کریں۔ اُٹھ بیٹھ نہ سکتے ہوں تو لیٹے لیٹے نماز ادا کرلیا کریں، کم از کم فرض نماز ضرور ادا کریں، توفیق اذکار و اوراد کا اہتمام کریں۔ جتنا قرآن یاد ہو جب بھی موقع ملے دُہراتے رہیں۔
آپ نے پوری زندگی دین داری کے ساتھ گزاری ہے۔ عبادات کا اہتمام کیا ہے۔ صدقہ و خیرات کرتے رہے ہیں۔ اب عُذر کی وجہ سے نہیں کرپا رہے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ حدیث میں ہے کہ عام حالات میں بندہ جو نیک اعمال کرتا رہا ہے، اگر عُذر کی وجہ سے انھیں نہ کرسکے تب بھی اللہ تعالیٰ اسے اجر دیتا رہے گا۔(محمد رضی الاسلام ندوی)
اسلام کے نزدیک معاشی، سیاسی، معاشرتی اور مذہبی نظام کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ یہ بالکل ویسا ہی تعلق ہے جیسا جڑ سے تنے کا، اور تنے سے شاخوں کا اور شاخوں سے پتوں کا ہوتا ہے۔ ایک ہی نظام ہے جو خدا کی توحید اور رسولوں ؑ کی رسالت پر ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔ اسی سے اخلاقی نظام بنتا ہے۔ اسی سے عبادات کا نظام بنتا ہے، جس کو آپ مذہبی نظام سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی سے معاشرتی نظام نکلتاہے۔ اسی سے معاشی نظام نکلتا ہے۔اسی سے سیاسی نظام نکلتا ہے۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں۔ اگر آپ خدا اور اس کے رسولؐ پر ایمان رکھتے ہیں اور قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں تو آپ کو لامحالہ وہی اخلاقی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے سکھائے ہیں، اور وہی سیاسی اصول اختیار کرنے پڑیں گے جو اسلام نے آپ کو دیئے ہیں۔ اسی کے اصولوں پر آپ کو اپنی معاشرت کی تشکیل کرنی ہوگی اور اسی کے اصولوں پر اپنی معیشت کا سارا کاروبار چلانا ہوگا۔ جس عقیدے کی بنا پرآپ نماز پڑھتے ہیں، اسی عقیدے کی بناپر آپ کو تجارت کرنی پڑے گی۔ جس دین کا ضابطہ آپ کے روزے اور حج کو منضبط کرتا ہے، اسی دین کے ضابطے کی پابندی آپ کو اپنی عدالت میں بھی کرنی ہوگی اور اپنی منڈی میں بھی۔
اسلام میں مذہبی نظام، سیاسی نظام، معاشی نظام اور معاشرتی نظام الگ الگ نہیں ہیں، بلکہ ایک ہی نظام کے مختلف شعبے اور اجزا ہیں، جو ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ بھی ہیں اور ایک دوسرے سے طاقت بھی حاصل کرتے ہیں۔ اگر توحید و رسالت کا عقیدہ موجود نہ ہو اور اس سے پیدا ہونے والے اخلاق موجود نہ ہوں، تو اسلام کا معاشی نظام کبھی قائم نہیں ہوسکتا اور قائم کیا بھی جائے تو چل نہیں سکتا۔ اسی طرح اسلام کا سیاسی نظام بھی نہ قائم ہوسکتا ہے، نہ چل سکتا ہے اگر خدا اور رسولؐ پر عقیدہ اور قرآن پر ایمان نہ ہو، کیونکہ اسلام جو سیاسی نظام دیتا ہے اس کی بناہی اس عقیدے پر رکھی گئی ہے کہ خدا حاکمِ اعلیٰ ہے۔ رسولؐ اس کا نمائندہ ہے اور قرآن اس کا واجب الاطاعت فرمان ہے۔ پس یہ خیال کرنا ہی سرے سے غلط ہے کہ اسلام میں کوئی سیاسی یا معاشی نظام، مذہبی اور اخلاقی نظام سے الگ اور بے تعلق بھی ہوسکتا ہے۔(’اسلامی نظم معیشت کے اصول اور مقاصد‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد۶۵، عدد۱، مارچ ۱۹۶۶ء،ص۴۵-۴۶)