مضامین کی فہرست


۲۰۱۳ فروری

بشیر بن یسار حضرت انسؓ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ تشریف لائے (شام گئے تھے، وہاں سے واپس آئے تھے)۔ ان سے کہا گیا: آپ نے ہمارے ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے مقابلے میں کیا تبدیلی دیکھی ہے ؟ انھوں نے جواب میں کہا: میں نے کوئی تبدیلی نہیں دیکھی سواے اس کے کہ تم صفیں پوری طرح سیدھی نہیں رکھتے۔ (بخاری، کتاب الاذان،ص ۱۰۰)

صحابہ کرامؓ اور تابعین عظام ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے کہ ہماری دینی حالت ٹھیک اسی طرح ہو    جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھی۔ اسی واسطے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے اور اپنے زمانے کے حالات کا موازنہ کرتے رہتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے حالات کے علم کو تازہ رکھتے تھے تاکہ اسی طرح خطوطِ مستقیم پر گام زن رہیں جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھے۔ اسی فکرمندی کی نشان دہی وہ سوال کرتا ہے جو اہلِ مدینہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خادمِ خاص حضرت انسؓ سے اس وقت کیا جب وہ شام سے واپس آئے تھے۔ آپ نے بظاہر ایک معمولی بات کی طرف توجہ دلائی لیکن اس میں ہمارے لیے یہ سبق ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دم ضرور بھریں، سیرت کے جلسے بھی کریں اور جلوس بھی نکالیں لیکن یہ بھی سوچیں کہ نبی اکرمؐ کے زمانے میں آپؐ نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اس میں نمازوں کی پوری پابندی ہوتی تھی، روزے بھی  تمام مسلمان رکھتے تھے، اسلامی نظام پوری طرح قائم تھا، عدل و انصاف کا دور دورہ تھا، اس سے ہم کتنا قریب ہیں۔ ہماری کوشش ہونا چاہیے کہ وہی معاشرہ قائم کیا جائے ، اور اس دور کو واپس لایا جائے۔


حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ ایک عورت ایک بنُی ہوئی چادر جس کے کنارے اس کے ساتھ بُنے ہوئے تھے (اسے کسی کپڑے سے کاٹا نہ گیا تھا بلکہ مکمل چادر بنی ہوئی تھی)   پیش کرتے ہوئے عرض کیا: میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بُنا ہے تاکہ آپؐ اسے پہنیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر لے لی۔ اس بات کے اظہار کے ساتھ کہ آپؐ کو اس کی حاجت تھی (گویا خاتون کے ہدیے کا شکریہ ادا کیا کہ بروقت اس نے ہدیہ پیش کیا ہے)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے گھر سے پہن کر واپس تشریف لائے تو ایک آدمی نے اس کی تعریف کرتے ہوئے کہا: کس قدر خوب صورت چادر ہے یارسولؐ اللہ! مجھے عطا فرما دیجیے۔ اس پر لوگوں نے اس شخص سے کہا: آپ نے اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو لیتے ہوئے اظہار فرمایا کہ آپؐ  کو    اس کی حاجت تھی اور تمھیں معلوم ہے کہ آپؐ سوال کو رد نہیں فرماتے۔ اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میں نے اسے پہننے کے لیے نہیں مانگا بلکہ اس لیے مانگا ہے کہ یہ میرا کفن بنے۔ حضرت سہلؓ کہتے ہیں وہ چادر ان کا کفن بنی تھی۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ  سے منسوب ہر چیز سے محبت ایمان کا تقاضا ہے۔ آپؐ  کی ذات، آپؐ  کا لباس، آپؐ  کا غُسالہ (وضو کا پانی)، آپؐ  کے صحابہ ؓ، آپؐ کے اہلِ بیتؓ، سب کی محبت مومن کی صفت ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اپنے والدین، اپنی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائوں‘‘ (بخاری)۔ اسی طرح فرمایا: ’’تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کی خواہش اس دین کے تابع نہ ہوجائے جسے مَیں لے کر آیا ہوں (مشکوٰۃ المصابیح)۔صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ  کے لباس، آپؐ  کی نشست و برخاست، آپؐ  کے چال چلن، آپؐ  کی سیرت اور آپؐ  کے دین کے ساتھ عشق و محبت پوری طرح دکھائی دیتی محسوس ہوتی اور مشاہدے میں آتی ہے جیسے برف کے قریب بیٹھ کر ٹھنڈک اور آگ کے قریب بیٹھ کر حرارت محسوس ہوتی ہے۔   اسی طرح صحابہ کرامؓ کی زندگیوں کے مطالعے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت برستی نظر آتی ہے۔

مذکورہ حدیث میں جس صحابیؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چادر مانگ لی یہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ یا عبدالرحمن بن عوفؓ ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چادر کو تھوڑی دیر پہنا تو انھیں اس چادر سے محبت ہوگئی، اس لیے کہ وہ چادر آپؐ  کے جسمِ اطہر کو چھو گئی اور متبرک ہوگئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو کسی عام صحابی کے سوال بلکہ کسی بھی شخص کے سوال کو رد نہ کرتے تھے تو اپنے قریبی ساتھی کی دلی خواہش اور طلب کو کیسے رد فرما دیتے۔ آپؐ  نے وہ چادر اُتار کر انھیں پیش کردی۔ انھوں نے اسے دنیا میں اپنا لباس بنانے کے بجاے اُخروی زندگی کا لباس بنایا کہ آپؐ  کی یہ متبرک چادر قبر میں ان کی شناخت ہو کہ یہ ہے وہ شخص جس نے نبیؐ کے لباس کو اپنا لباس بنا لیا اور اس وجہ سے وہ محترم ہے۔ اس حدیث سے نبیؐ کی سخاوت کی نرالی شان ظاہر ہوتی ہے۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں: رسو لؐ اللہ تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ کیوں نہ ہوں کہ اللہ کے رسولؐ تھے اور اللہ نے انھیں انسانیت کو نوازنے اور ان پر سخاوت کرنے ہی کے لیے بھیجا تھا۔ آپؐ  رحمت للعالمین تھے، آپؐ  کی سب سے بڑی سخاوت قرآن و سنت کا نظام ہے۔ کاش! ہم اس کا شعور پیدا کریں اور قرآن و سنت کے نظام کو تمام نظاموں کے مقابلے میں محبوب جان کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت اور رحمت للعالمینؐ کا عظیم، بے نظیر و بے مثال تحفہ جان کر اسے محبوب بنالیں، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و تعلق کا حق ادا کردیں۔


حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا جس کے پاس ایک عورت بیٹھی رو رہی تھی۔ آپؐ  نے اسے دیکھا تو فرمایا: اللہ کی بندی، اللہ سے تقویٰ اختیار کر اور صبر کر۔ اس نے کہا: اے آدمی! اپنا کام کر، میری مصیبت تجھ پر نہیں آئی۔ وہ آپؐ  کو پہچان نہ سکی تھی۔ اس لیے یہ جملہ اس کی زبان سے نکل گیا۔ کوئی شخص اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔ اس نے اس عورت سے کہا: تجھے پتا بھی ہے یہ شخصیت کون تھی؟ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ وہ پریشان ہوکر آپؐ  کے گھر کی طرف دوڑی کہ معذرت کرے۔ دروازے پر پہنچی تو دیکھا کہ یہاں کوئی محافظ نہیں ہے، اندر چلی گئی۔ عرض کیا: یارسولؐ اللہ! غلطی ہوگئی آپؐ  کو پہچان نہ سکی۔ اس پر آپؐ  نے فرمایا: صبر تو اس وقت معتبر ہوتا ہے جب صدمہ تازہ ہو (بعد میں تو خود بخود صبر آجاتا ہے)۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اصلاح، تزکیہ و تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ خاتون کو قبر کے پاس روتے ہوئے دیکھا تو موقعے پر نصیحت کا کلمہ کہہ دیا۔ اس نے ناگوار بات کی تو آپؐ  نے اس کا کوئی جواب نہ دیا، اپنا تعارف بھی نہ کرایا، نہ اسے ڈانٹ ڈپٹ ہی کی۔ اس میں دعوت و تربیت اور وعظ و نصیحت کے لیے بڑا عمدہ نمونہ ہے۔ آج واعظین لوگوں سے ناراض ہوجاتے ہیں اور انھیں طعن و تشنیع کا نشانہ بناتے ہیں، خصوصاً مخالفین کو۔ نبی کریمؐ کی سیرت کا یہ روشن پہلو دعوتی خطوط کو نمایاں کر رہا ہے کہ ناگوار بات سن کر اسے پی جانا چاہیے۔ ایسا کیا جائے تو زیادہ وقت نہیں گزرے گا کہ بھٹکنے والا سیدھی راہ پر چلتا دکھائی دے گا۔ واعظ کے لیے ضروری ہے کہ وہ  صبر سے کام لے۔ صبر سے اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے اور معاشرے میں خوش گوار اور اُلفت و محبت کی فضا پیدا ہوتی ہے۔


حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوبکرؓ کے پاس گئی (جب کہ وہ مرض الموت میں تھے)، تو انھوں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: تین سحولی (یمن کے بنے ہوئے) سفید کپڑوں میں جس میں قمیص اور پگڑی نہ تھی۔ پھر پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے تھے؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: سوموار کے دن۔ پھر پوچھا: آج کون سا دن ہے؟ حضرت عائشہؓ نے جواب دیا: سوموار کا دن۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے کہا: مجھے اُمید ہے کہ شام تک میری روح قبض ہوجائے گی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ سوموار کا دن ختم ہوا، منگل کی رات شروع ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ کی روح قبض ہوگئی۔ حضرت ابوبکرؓ نے ایک کپڑا جو انھوں نے بیماری کے دوران پہنا ہوا تھا اور اس پر زعفران کا داغ تھا، کو دیکھا تو فرمایا: اسے دھو ڈالنا، دو اور کپڑے ملا کر مجھے ان میں کفن دے دینا۔ حضر ت عائشہؓ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: یہ کپڑا تو پرانا ہے۔ آپؓ نے فرمایا: زندہ لوگ نئے کپڑے کے زیادہ حق دار ہیں۔ پرانا کپڑا قبر میں جسم سے نکلنے والی پیپ کے لیے ہے۔ چنانچہ ایک پرانے کپڑے اور دو نئے کپڑوں میں حضرت ابوبکرؓ کو کفنایا گیا اور منگل کی رات کو ان کا جنازہ ہوا اور رات ہی کو تدفین بھی ہوئی۔ (بخاری، کتاب الجنائز)

 حضرت ابوبکرصدیقؓ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ انھوں نے اپنی بیماری میں اگر کچھ پوچھا تو یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفنایا گیا اور یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس دن فوت ہوئے۔ انھیں طلب اور تڑپ تھی کہ انھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق کفن دیا جائے اور یہ شوق اور ولولہ تھا کہ اسی دن آپؓ کی وفات ہو جس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ ان کی یہ طلب اور تڑپ اللہ تعالیٰ نے پوری کردی بلکہ اس سے بھی زیادہ آپؓ کو دنیوی زندگی اور موت دونوں حالتوں میں آپؐ کے ’صاحب‘ ہونے کے مقام پر فائز کردیا، اور حضرت عائشہؓ کے حجرۂ مبارکہ میں  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں قبر عطا فرمائی۔کتنی اُونچی شان ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکرؓ کو عطافرمائی  ع  یہ رُتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا!

محسن اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی دنیا کے ہر گوشے میں ربیع الاوّل کے مہینے میں آپؐ کی حیاتِ مبارکہ کے مختلف پہلوئوں پر غور کرتے اور اپنا ایمان تازہ کرتے ہیں اور جس طرح رمضان الکریم میں گھر گھر قرآن کی تلاوت کی مبارک آواز فضائوں کو گرما دیتی ہے، اسی طرح اس مہینے میں اسکول ہوں یا بازار، ایوانِ حکومت ہو یا ہمہ وقت منکر (لغویات اور لہوولعب) میں مصروف ٹی وی چینل، کم از کم ایک دن کے لیے درود و سلام ہر لہوالحدیث پر غالب آجاتے ہیں۔

خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم سے مسلمان کا تعلق ہی کچھ ایسی نوعیت کا ہے کہ چاہے وہ سال بھر دین کی ہرتعلیم سے کتنا ہی غافل رہا ہو، اس مہینے میں وہ رسولؐ اللہ سے اپنی نسبت کو کسی نہ کسی شکل میں تازہ کرلیتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو چراغاں کر کے اپنے دل کی تاریکی میں روشنی کی کچھ رمق پیدا کرلیتا ہے۔ صدیوں کی غلامی اور آزادی کے بعد کی بے راہ روی بھی اسے اس راکھ میں دبی ہوئی چنگاری سے محروم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وہ خاص ترکیب ایمانی ہے جو ایک بظاہر ’سیکولر مسلمان‘ کو بھی شاتمین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مظاہروں، دھرنوں اور پُرجوش بیانات پر آمادہ کرتی ہے اور مغرب و مشرق کے اصحابِ دانش کے لیے ایک معمّہ کی شکل اختیار کرگئی ہے۔ مغرب اپنی تمام تر مادیت، مغربیت اور لادینیت کے باوجود مسلمانوں کو اس نعمت سے محروم نہیں کرسکا۔

سوال یہ ہے کہ کیا حُب ِ رسولؐ کا بہترین اظہار صرف جلسوں، جلوسوں، بجلی کے قمقموں اور رنگارنگ محفلوں میں بہترین ترنم کے ساتھ مدحِ رسولؐ کرنے سے ہوسکتا ہے یا قرآن کریم انسانیت کی اس عظیم ہستیؐ سے محبت کے اظہار کا کوئی اور طریقہ تجویز کرتا ہے؟ قرآن کریم نے اس مسئلے کو محض دو آیات میں آسان بناکر قیامت تک کے لیے حل کردیا ہے۔ فرمایا گیا:  قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ (اٰل عمرٰن ۳:۳۱)’’اے نبیؐ،لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو‘‘، اور مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ (النساء ۴:۸۰)’’جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی‘‘۔ گویا اللہ سے محبت کا حق ادا کرنا ہو تو اللہ کے محبوب کی تعریف و توصیف کے ساتھ ان پر ایمان اور ان سے محبت کے اظہار کا اصل طریقہ ان کی اطاعت کو اختیار کرنا ہے، اور اس اطاعت کادائرہ پوری زندگی اور  اس کے ہرعمل سے ہے، خواہ وہ ہاتھ ملانے کا طریقہ ہو یا مسکراتے ہوئے رُخِ مبارک کے ساتھ ہراہلِ ایمان کا استقبال کرنا ہو۔ وہ بازار میں فروخت ہونے والے مال کی کوالٹی کا جانچنا ہو یا پڑوس میں رہنے والی کسی غیرمسلم ضعیف خاتون کی تیمارداری۔ یہی آپؐ  کا خلق عظیم ہے اور یہ اس کی پیروی کا کرشمہ ہے کہ دوست ہو یا دشمن آپؐ  کا ہرسچا پیرو ہرکسی کے لیے رحمت بن کر دل و نگاہ میں مقام پیدا کرلیتا ہے۔

قرآنِ کریم نے آپؐ  کی صفاتِ حمیدہ کے حوالے سے جہاں اخلاق [خلق] کی اصطلاح استعمال کی ہے، وہیں رحمت للعالمینؐ کے لقب سے بھی نواز ا ہے۔ اس رحمت کے یوں تو بے شمار پہلو ہیں لیکن موجودہ حالات کی روشنی میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم چار پہلوئوں پر خصوصی توجہ دی جائے:

اوّلاً: اس رحمت کا تعلق اس نور اور ہدایت کے ساتھ ہے جو خود اپنے لیے فرقان، ذکریٰ اور قرآن جیسے نام استعمال کرتا ہے۔ آپؐ اس لیے رحمت للعالمینؐ ہیں کہ آپؐ  تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے کتابِ ہدایت اور سامانِ رحمت لانے والے ہیں۔ یہ وہ کلام ہے جو انسانوں کے لیے سرتاسر رحمت ہی رحمت ہے۔ اس کی ہرہرآیت انھیں گھٹاٹوپ اندھیرے سے نکال کر نور کی پاکیزہ کرنوں سے منور کردیتی ہے۔ اس کلامِ رحمت میں وہ ہستی جو الرحمن اور الرحیم ہے، اپنے بندوں کی نادانیوں اور بھول ہی نہیں، جان بوجھ کر غلطیوں کا ارتکاب کرنے پر بھی رحمت و مغفرت کی اُمید جگاتا اور اپنے کمالِ کرم و رحمت سے ان کے بڑے بڑے گناہوں کو اظہارِندامت پر معاف فرمانے کا وعدہ فرماتا ہے، اور کس کا وعدہ اُس سے زیادہ سچا ہوسکتا ہے جو مکمل طور پر صدق اور حق ہے، جو اپنے بندوں پر ایک ماں سے بھی زیادہ شفقت و رحمت فرمانے والا ہے۔ ایسا کلام رحمت لانے والا انسانوں کے لیے رحمت نہ ہوگا تو اور کیا ہوگا؟ اسے اور کس نام سے پکارا جاسکتا ہے؟

دوسرا اہم پہلو جو مطالبہ کرتا ہے کہ مقامِ محمود پر فائز علم اور رہنمائی کے اس سرچشمے اور تمام انسانوں کو علم سے مالا مال کردینے والی اس ہستی کو رحمت للعالمینؐ کہہ کر پکارا جائے۔ آپؐ  ہی کا عمل وہ اسوہ ہے جس میں ہرہرقدم پر رحمت کا اظہار ہوتا ہے۔ اُم المومنین سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رحمت عالم کے سامنے جب دو کاموں میں انتخاب کا معاملہ ہوتا تو اپنی اُمت کو یُسر فراہم کرنے اور عُسر سے نکالنے کے لیے آپؐ  جو عمل زیادہ آسان ہوتا، اسے پسند فرماتے۔ چند اصحابِ رسولؐ جب اُمہات المومنینؓ سے دریافت کرتے ہیں کہ آپؐ  کے شب و روز کس طرح گزرتے ہیں اور انھیں بتایا جاتا ہے کہ آپؐ  عبادات و معاملات کے درمیان کیا حسین توازن قائم کرتے ہیں، تو واپسی پر راستے میں وہ سوچتے ہیں کہ ایسا معاملہ آپؐ  کے ساتھ خاص ہو، عام انسانوں کے لیے یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے آپؐ  کو خصوصی رخصت دے دی ہو، اور اس بنا پر  آپؐ اُس شدت سے عبادت نہ کرتے ہوں جس کی اُمید میں وہ اُمہات المومنینؓ سے معلومات کرنے گئے تھے۔ ان میں سے ایک ارادہ کرتا ہے کہ وہ تمام رات قیام کرے گا۔ دوسرا طے کرتا ہے کہ وہ ہردن روزے سے ہوگا، اور تیسرا قصد کرتا ہے کہ وہ بیوی کے پاس نہیں جائے گا۔     رحمت للعالمینؐ کو جب اس کی اطلاع ملتی ہے تو آپؐ  ان کو طلب فرماتے ہیں اور جن دو کلمات سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ آپؐ  اللہ کے رسولؐ اور ان سے زیادہ اللہ کی خشیت اور تقویٰ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود رات کے کچھ حصے میں عبادت، اور کچھ میں آرام فرماتے ہیں، بعض دنوں میں روزہ رکھتے اور بعض میں نہیں رکھتے، اور پھر یہ بات فرمائی کہ نکاح آپؐ  کی سنت ہے جس سے معلوم ہوا کہ جو اللہ کے رسولؐ کی سنت سے رغبت نہیں رکھتا اس کا آپؐ  سے کوئی تعلق نہیں [فلیس منّی]۔

تقویٰ اور خشیت کی تعریف اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اُمت پر رحمت بن کر بیان فرماتے ہیں کہ رات کے کچھ حصے میں قیام، صرف بعض دنوں میں روزہ، اور خاندان کی زندگی سنتِ رسولؐ سمجھتے ہوئے گزارنا۔ یہاں بھی رحمت اور یُسر کا پہلو غالب ہے ، جب کہ دنیا کے دیگر مذاہب میں تقویٰ اور بندگی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان گھربار کو چھوڑ کر  جنگل بیابان میں، کسی پہاڑی کے دامن میں، کسی غار میں جاکر بیٹھ جائے اور اس طریقے سے چنددنوں میں مرجع خلائق بن جائے! کیا یہ عمل ایسے فرد کو رحمت للعالمینؐ سے جوڑنے والا ہوگا یا توڑنے والا؟ گویا عبادات ہوں یا معاشرت توازن و اعتدال کی عملی مثال، وہ رحمت ہے جو آپؐ  کی حیاتِ مبارکہ میں ہمارے لیے مثال بن کر نظر آتی ہے۔

تیسرا اہم پہلو یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ  نہ صرف انسانوں بلکہ تمام موجودات کے لیے رحمت و شفقت کا مظہر و مرکز ہیں۔ انسانوں کے ساتھ تو آپؐ  کا تعلقِ رحمت کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ جب آپؐ  ایک صحابیؓ سے وہ واقعہ سماعت فرماتے ہیں جس میں اُس صحابیؓ نے قبلِ اسلام اپنی بیٹی کو ایک غیرآباد کنویں میں ڈال کر مارنا چاہا اور وہ کنویں میں گرائے جانے کے باوجود اپنے  شقی القلب باپ کو پیار سے پکارتی رہی، تو رحمت للعالمینؐ آبدیدہ ہوجاتے ہیں۔ بات انسانوں تک محدود نہیں، جب ایک باغ میں تشریف لے جاتے ہیں اور ایک اُونٹ کو تکلیف سے ہنکارتے ہوئے دیکھتے ہیں تو رحمت للعالمینؐ اس کے لیے بھی رحیم و کریم ہونے کے سبب اس کے مالک کو نصیحت کرتے ہیں کہ اسے مناسب غذا دی جائے اور اس پر زیادہ بوجھ نہ لادا جائے۔ پرندوں پر آپؐ  کی شفقت و رحمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یوم الحساب آپؐ  اُس چڑیا کے بھی وکیل ہوں گے جسے بغیر ضرورت ناحق نشانہ بنایا گیا۔ یہ آپؐ  کی محبت و شفقت تھی جس نے خادمِ حدیث و سنت کو ابوہریرہؓ (بلّی کے باپ)کی کنیت دلوائی۔

آپؐ  کے رحمت للعالمینؐ ہونے کا ایک بہت نمایاں پہلو آپؐ  کا دونوں عالموں، یعنی   اس دنیا میں اور آخرت میں واقع ہونے والے دوسرے عالم میں اپنی اُمت کے لیے سراپا رحمت ہونا ہے۔ قرآن کریم شہادت دیتا ہے کہ آپؐ  مشرکینِ مکّہ کو اللہ کے عذاب سے بچانے کے لیے دعوتِ دین میں اتنے مصروف رہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے متوجہ کیا کہ آپؐ  ان کے غم میں خود کو      نہ گھلائیں،آپؐ  ان پر وکیل نہیں ہیں، آپؐ  کاکام صرف ابلاغِ دعوت ہے۔ آپؐ  کی یہی محبت و لگن تھی کہ جب تک آپؐ  اس دنیا میں رہے، ہرہرعمل سے اُمت کے لیے آسانی کی شکل نکالی اور ایسے ہی عالمِ آخرت میں اللہ کے ان بندوں کی اللہ تعالیٰ کے اذن سے شفاعت فرمائیں گے جنھوں نے حق کی خاطر اپنے نفس اور مال کو اللہ کی راہ میں لگایا۔ گویا آپؐ  دونوں عالموں کے لیے رحمت ہی رحمت ہیں۔

قابلِ غور پہلو یہ بھی ہے کہ جو ہستی ہرمعاملے میں انسانوں کے لیے رحمت ہو، کہیں ایسا تو نہیں کہ قرآن کی طرح وہ بھی یومِ حساب فریاد کرے کہ اسے اُس کے ماننے والوں نے تنہا چھوڑ دیا تھا، پسِ پشت ڈال دیا تھا اور محض سال میں ایک دن اس کی یاد میں جشن منا کر اپنے خیال میں اس کی محبت و شفقت کا قرض اُتار دیا تھا؟

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق اور محبت کا اہم ترین تقاضا نظامِ ظلم و کفر کے خلاف جہاد، اور معروف اور بھلائی کے قیام کے لیے اپنے گھر میں، معاشرے میں، اپنی تجارت میں، اپنی سیاست میں، غرض زندگی کے ہرمعاملے میں بندگی و اطاعت کو صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خالص کردینا ہے۔ قرآن نے اس سلسلے میں جو قولِ فیصل ہمیں سنایا ہے وہ ہرلمحے نگاہوں کے سامنے رہنا چاہیے:

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ (اٰل عمرٰن ۳:۳۱) ، اے نبیؐ،لوگوں سے کہہ دو کہ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو۔

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ ط (النساء ۴:۸۰)، جس نے رسولؐ کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔

یاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَکُمْ (محمد ۴۷:۳۳)، اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَھُمْ تَعَالَوْا اِلٰی مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ وَاِلَی الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْکَ صُدُوْدًا o(النساء ۴:۶۱)، اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آئو اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے، اور آئو رسولؐ کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمھاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔

 

تزکیہ نفس کی ضرورت، ہرشخص کے لیے

[ان] مباحث سے تین باتیں واضح ہوئیں:

۱- ایک یہ کہ تزکیہ تمام دین و شریعت کی غایت اور تمام انبیا ؑ کی بعثت کا اصلی مقصود ہے۔ دین میں جو اہمیت اس چیز کو حاصل ہے، وہ اہمیت دوسری کسی چیز کو بھی حاصل نہیں ہے۔ دوسری ساری چیزیں وسائل و ذرائع رکھتی ہیں اور یہ چیز غایت و مقصد کی حیثیت رکھتی ہے۔ انبیا علیہم السلام کی تمام سرگرمیاں، خواہ ظاہر میں کتنے ہی مختلف پہلو کیوں نہ رکھتی ہوں، لیکن باطن میں ان کا ہدف انسان اور انسانی معاشرے کے تزکیے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔

۲-دوسری بات یہ واضح ہوئی کہ تزکیے کا سرچشمہ اور اس کا منبع و مصدر کتاب اللہ ہے۔ اسی کی تعلیم سے تزکیے کا آغاز ہوتا ہے اور پھر اسی کے اسرار و حقائق ہیں جو نبی کے ذریعے سے واضح ہوکر اس تزکیے کی تکمیل کرتے ہیں۔ چنانچہ یہی نکتہ ہے کہ سورئہ بقرہ [۱۲۹، ۱۵۱] اور سورئہ جمعہ [۲] کی جو آیتیں ہم نے اُوپر نقل کی ہیں ان میں تزکیے کو تلاوتِ آیات کے ساتھ اس طرح وابستہ کیا ہے کہ    یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ تزکیہ درحقیقت تلاوتِ آیات ہی کے ثمرات و نتائج میں سے ہے۔ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَکِّیْکُمْ (تم کو ہماری آیتیں سناتا ہے اور تمھارا تزکیہ کرتا ہے)،   یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیْھِمْ (ان کو ہماری آیتیں سناتا ہے اور ان کا تزکیہ کرتا ہے)۔

۳- تیسری حقیقت یہ واضح ہوئی کہ تزکیے کا عمل انسانی معاشرے کے کسی خاص گروہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام افراد اور تمام گروہوں بلکہ پورے معاشرے سے یکساں طور پر ہے۔ کوئی شخص بھی اس کے بغیر آخرت میں نجات اور فلاح نہیں حاصل کرسکتا۔ اِس کی حیثیت دین میں صرف ایک فضیلت کی نہیں ہے بلکہ ہرشخص کے لیے ایک ناگزیر انفرادی ضرورت کی ہے۔      یہ نجات اور فلاحِ آخرت کے لیے ایک ضروری شرط ہے جس کو پورا کیے بغیر کوئی شخص بھی جنت میں نہیں داخل ہوسکتا۔ (’تزکیہ نفس‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن، جلد۳۹، عدد۵، جمادی الاولیٰ، ۱۳۷۲ھ، فروری ۱۹۵۳ء، ص ۴۷)

پہلا ایڈیشن ختم ہوکر دوسرے ایڈیشن کی ترسیل شروع ہوچکی ہے۔ ا س دوسرے ایڈیشن میں     مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے نظرثانی فرما کر کئی مقامات پر ترمیم و اضافے کردیے ہیں۔ فہرست موضوعات بھی دوبارہ نئی ترتیب سے ترمیم و تنسیخ کے بعد شائع کی گئی ہے۔ طبع اوّل کی غلطیوں کی تصحیح بھی کردی گئی ہے۔

متوسط طبقے کی خواہش کے پیش نظر قسم سوم بھی طبع ہوچکی ہے۔

l ہدیہ قسم اوّل، مجلد مع بکس -/۱۲/۲۰                ہدیہ قسم دوم، مجلد مع بکس -/۴/۱۸

 ہدیہ قسم سوم مجلد بغیر بکس               -/۱۱     

محصول ڈاک تقریباً                -/۴/۱      دیگر اخراجات بذمہ خریدار

قسم اوّل و دوم میں حسب ِ سابق خصوصی جلدیں بھی مل سکیں گی جو فرمایش کے مطابق فراہم کی جائیں گی۔

مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان - اچھرہ، لاہور

تحریک اسلامی کو سمجھنے کے لیے

 (جدید) دستور جماعت اسلامی             آٹھ آنے     روداد جماعت اسلامی حصہ اوّل          ایک روپیہ

 روداد جماعت اسلامی حصہ دوم          چودہ آنے  روداد جماعت اسلامی حصہ سوم         دو روپے

 روداد جماعت اسلامی حصہ چہارم      ایک روپیہ بارہ آنے                 روداد جماعت اسلامی حصہ پنجم        دو روپے

روداد جماعت اسلامی حلقہ خواتین       بارہ آنے  دعوت دین اور اس کا طریق کار           دوروپے بارہ آنے

منشور جماعت اسلامی          تین آنے، اور جماعت اسلامی، اس کا مقصد ، تاریخ اور لائحہ عمل  ایک روپیہ

کامطالعہ کیجیے

مرکزی مکتبہ جماعت اسلامی پاکستان، اچھرہ، لاہور، پاکستان

یا ___ اپنے شہر کے کتب فروشوں سے طلب کریں

(ترجمان القرآن، جلد ۳۹، عدد۴، ربیع الثانی ۱۳۷۲ھ ، جنوری۱۹۵۳ء، اشتہار اندرونِ سرورق و پشت)