مضامین کی فہرست


جنوری ۲۰۰۹

حافظ عمر فاروق بزمی ، وہاڑی

’آیئے! مل کر عہد کریں!‘ (دسمبر ۲۰۰۸ء) ایک مؤثر تحریر ہے جسے پڑھ کر تحریک پیدا ہوئی۔ ڈاکٹر رخسانہ جبیں کے ایمان افروز خطاب نے فکرونظر اور قلب و ذہن کو نئے ولولے اور جوش و جذبے سے ہم کنارکیا۔ بالخصوص اسلام کے موجودہ حالات کا چودہ سو سال قبل کے دینِغریب سے موازنہ کرکے عالمی منظرنامہ پیش کیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی دعوت تعلق باللہ اور توجہ الی اللہ کے ساتھ ساتھ صبغۃ اللّٰہ میں رنگ کر پیش کریں اور اللہ سے اپنے عہد کو ایک نئے عزم اور ولولے سے وفا کریں۔

شفیق الاسلام فاروقی ‘لاہور

دنیا کے کسی حصے میں انتہاپسندی اور تشدد کا کوئی معمولی واقعہ پیش آجائے تو عالمی میڈیا اُس کا ذمہ دار طالبان کو گردانتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری سیاسی و دینی جماعتیں امریکا کی دہشت گردی اور  عالمی امن دشمنی کو بے نقاب کریں کہ لاکھوں انسانوں کی اُس کے ہاتھوں ہلاکت سے اُس پر قابض صہیونی لابی کے اصل عزائم کیا ہیں؟

عتیق الرحمٰن صدیقی ‘ ہری پور

ترجمان القرآن منفرد نوعیت کا ایک معیاری جریدہ ہے۔ اس کی تحریریں جان دار، فکرافروز اور معلومات افزا ہوتی ہیں۔ اس میں املا کی غلطی ہو یا عبارت میں ذرا سا جھول، یا زبان میں معمولی سی لغزش تو اچنبھا ہوتا ہے۔ اس پہلو پر مزید توجہ کی ضرورت ہے۔ دسمبر ۲۰۰۸ء کے شمارے میں پروف کی چند اغلاط یہ ہیں: ’استعانت کی طلب‘ (ص ۲۳) اس لیے محل نظر ہے کہ استعانت میں طلب کا مفہوم شامل ہے۔ ’خودداری‘ کو خوداری (ص۲۲) لکھا گیا ہے۔ براہیمیت کو براہمیت (ص ۲۵) تحریر کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ سے نسبت کا اقتضا یہ ہے کہ براہیمیت لکھا جائے۔ ’یومِ عرفہ کا پیغام‘ سوز و گداز میں گندھی ہوئی تحریر ہے مگر اس میں تکرار گراں گزرتی ہے۔ ’تزکیہ و تدبر‘ خوب مضمون ہے۔ اگر اسے زیادہ سہل اور قابلِ فہم بنایا جاسکتا تو بہتر ہوتا۔

حافظ نصیر عثمانی ‘کراچی

’تفہیم القرآن سے فائدہ اٹھایئے‘ (ستمبر ۲۰۰۸ء) ایک قابلِ قدر مضمون ہے جس میں ایسی عملی تدابیر تجویز کی گئی ہیں جن پر عمل کر کے پوری فضا کو قرآن کی دعوت سے منور کیا جاسکتا ہے، اور اس طرح سیدمودودی کی اس نصیحت پر کہ ’’قرآن و سنت کی دعوت لے کر اٹھو اور پوری دنیا پر چھا جائو‘‘ عمل کیا جاسکتا ہے۔

ثمینہ شفیع  ‘ اوکاڑہ

اس وقت دنیا معاشی بحران سے دوچار ہے۔ مبصرین کی راے کے مطابق شاید عالمی حالات میں تبدیلی آنے والی ہے، اور ایک ہم ہیں کہ ہماری نظریں خدا کی بجاے امریکا پر ہیں۔ اپنے ملک کے سربراہوں سے میری گزارش ہے کہ خدارا اپنی بنیادوں پر خود کھڑا ہوکر اپنے رب پر کامل بھروسا کریں اور زمینی خدائوں کی پوجا چھوڑ دیں۔ یاد رکھیے زمین و آسمان کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے، نہ کہ امریکا۔

محمد عبدالرشید ‘کلکتہ

اگر ملک و ملّت کو امریکی استعمار واستبداد کے چنگل سے نجات دلانا ہے، تو پہلے قدم کے طور پر پیپلزپارٹی کی کاسہ لیس حکومت سے گلوخلاصی حاصل کرنا اور ساتھ ہی دوبارہ انتخابات کرانا ازبس ضروری ہے۔ ظاہر ہے کہ اس مقصدِعظیم کے لیے جنرل پرویز مشرف کے آخری ایام میں چلائی جانے والی عوامی تحریک سے بھی بڑھ چڑھ کر زیادہ فقیدالمثال عوامی تحریک کی ضرورت ہوگی۔ بے شک یہ کارعظیم علماے کرام ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ اس لیے کہ بے کردار سیاسی بازی گروں اور عیار ملحدین کے مقابلے میں آج بھی عوام الناس علماے کرام ہی پر اعتمادِ کُلّی رکھتے ہیں۔ امید ہے کہ امریکا جیسے بدترین دشمنِ اسلام سے نبٹنے کی خاطر آپس کے مسلکی اختلافات کو بھلا کر اور ملحدین کے عیارانہ ہتھکنڈوں سے چوکنا رہ کر، علما قرآن و سنت کی عطاکردہ  اخوت اسلامی کے تحت آپس میں مخلصانہ روابط پیدا کریں گے اور اس ملّی فریضے کو بہ احسن انجام دیں گے۔

ڈاکٹر طاہر سراج ‘ساہیوال

گذشتہ دنوں ترجمان القرآن کی اشاعت میں اضافے کی مہم (ستمبر تا نومبر ۲۰۰۸ء) چلی اور پرچہ تحفہ دینے کے لیے رعایتی قیمت پر فراہم کیا گیا۔ میں نے کوشش کی کہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھائوں اور ہر ماہ  ۱۰۰ پرچے لے کر تقسیم کیے، الحمدللہ! ترجمان کا تعارف کرانے اور اس کی مقبولیت بڑھانے کے لیے میں اکثر دوایک صفحات اپنی قرآن کلاس کے شرکا کو سناتا ہوں۔ لوگ بے حد توجہ سے سنتے ہیں۔

میں ایک بنیادی مرکز صحت میں بطور میڈیکل آفیسر کام کرتا ہوں۔ دیہاتی علاقے میں میرے پاس دو سنٹر ہیں۔ میں نے توسیع اشاعت مہم کے دوران قریباً ۲۰، ۲۰ شمارے ہرسنٹر پر مختلف افراد کو دیے جن میں دفتر کا عملہ، قریب کے ہائی اسکولوںکے اساتذہ، گائوں کی مساجد کے خطیب اور سماجی اور سیاسی کارکنان شامل ہیں۔ ان سب سے مؤثر رابطے کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ آج دیہات میں بھی تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں، اس لیے ترجمان ہر جگہ پہنچایا جاسکتا ہے۔

  •   بہت سے لوگوں نے اسی طرح جذبے سے کیا، لیکن جو کرسکتے تھے، اور نہیں کیا، انھیں توجہ کرنا چاہیے۔

 

شریعت ِ اسلامی کی یہ ایک مستقل اسپرٹ ہے کہ وہ زندگی میں اپنا پورا غلبہ بلاشرکت غیرے چاہتی ہے اور اگر غیراللہ کا کوئی اقتدار انسانوں پر اپنا دامن پھیلانا چاہتا ہے تو وہ اپنے متبعین کو اس کا باغی دیکھنا چاہتی ہے، نہ کہ مطیع و وفاشعار۔ جس نظامِ حق کو گائے کی قربانی جیسے معمولی مسئلے میں غیراللہ کی مداخلت گوارا نہیں ہے، وہ آخر اسے کیسے برداشت کرسکتا ہے کہ سیاست اور معیشت اور معاشرت کے اہم مسائل میں خدا سے سرکشی کرنے والی کوئی قوت اپنی مرضی کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرے۔

شریعت ِ اسلامی کی یہی اسپرٹ ہمیشہ نظام کفروجاہلیت کے خلاف اربابِ حق کو صف آرا کرتی رہی ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشین گوئی پوری ہوتی رہی ہے کہ میری اُمت میں جہاد قیامت تک جاری رہے گا، اور نہ کسی عادل کا عدل اسے ختم کرسکے گا نہ کسی ظالم کا ظلم۔ یہی اسپرٹ ہمیشہ تجدیدِ اسلام کی تحریکوں کی محرک رہی ہے اور اسی نے صالحین کو ماحول کی خوفناکیوں کے آگے جھک جانے سے روکا ہے۔

مگر جہاں یہ اسپرٹ مسلمانوں میں کمزور ہوگئی ہے وہاںانھوں نے اپنی اسلامیت میں کتربیونت کرکے ہر قسم کے نظام ہاے طاغوت کو نہ صرف یہ کہ گوارا کرلیا ہے، بلکہ حد یہ کہ اسے چلانے اور مستحکم رکھنے اور اس کا تحفظ کرنے کی خدمات تک سرانجام دینے کے لیے تاویلیں کرلی ہیں۔

یہ بات اچھی طرح سمجھ لینے کی ہے کہ گائوکشی اگر طاغوت کی روک سے مباح کے بجاے واجب ہوجاتی ہے تو پھر امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے نظام کا قائم کرنا جو پہلے ہی فرض اور بہت بڑا فرض ہے، باطل کی طرف سے کسی مزاحمت کے پیدا ہوجانے پر دین کے ہرفرض سے بڑا فرض ہوجاتا ہے اور اس سے چشم پوشی کرکے اگر مسلمان ہزار نفلی عبادتیں بھی کرے تو وہ بے معنی ہیں۔

درحقیقت کسی غیرالٰہی طاقت کی مداخلت فی الدین چاہے کتنے ہی چھوٹے معاملے میں ہو، مسلمان کے عقیدۂ توحید پر براہِ راست ضرب لگاتی ہے ... ظاہر ہے کہ اس اعلان پر مسلمان کا امن و سکون سے بیٹھے رہنا تک اس کے ایمان کو مشتبہ کردیتا ہے، کجا یہ حال کہ اس اعلان کے اعلانچی خود مسلمان ہوں بلکہ دوسروں سے بالجبر اسے منوانے کے لیے اپنی قوتیں باطل کے ہاتھ فروخت کریں۔ پس اصلی مسئلہ قربانیِ گائو کا نہیں ہے، بلکہ عقیدۂ توحید کی حفاظت کا سوال ہے، اور اس کی حفاظت میں کوتاہی کر کے ہم کس اخروی بہبود کی امیدیںقائم کرسکتے ہیں! (’رسائل و مسائل‘، مولانا مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۲۹، عدد ۵، ذی القعدہ   ۱۳۶۵ھ، اکتوبر  ۱۹۴۶ء، ص۵۹-۶۰)