مضامین کی فہرست


فروری ۲۰۰۹

ارشد علی آفریدی ،خیبر ایجنسی

’پالیسی بدلنے کی ضرورت‘ (جنوری ۲۰۰۹ء) سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مغرب سے مرعوب بزدل حکمران طبقہ ہر محاذ پر مسلسل پسپائی اختیار کر رہا ہے۔ اس لیے موجودہ قیادت سے پالیسی میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ موجودہ صورت حال کی خرابی کے ذمہ دار یہ نام نہاد قائدین، اعلیٰ فوجی افسران اور مراعات یافتہ طبقہ ہے جس نے محض اپنے اقتدار کے لیے عوام کو بدحالی سے دوچار کردیا ہے، اور پوری قوم کو ذلت و پستی کا سامنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام ملکی معاملات سے بے خبر اور الگ تھلگ رہنے کے بجاے اپنی    ذمہ داریاں پہچان کر ملک و ملّت کے مفاد میں تبدیلی کے لائحہ عمل پر ایک نئے عزم سے جدوجہد کریں۔

سیدزادہ ‘باجوڑ

’کراچی کا مسئلہ: پس منظر و پیش منظر‘ (جنوری ۲۰۰۹ء) کے تحت پروفیسر عبدالغفور احمد نے اس حسّاس مسئلے کا معتدل انداز میں تجزیہ پیش کیا ہے، اور ایم کیو ایم کو بجاتوجہ دلائی ہے کہ وہ قومی جماعت ہونے کی   دعوے دار ہے تو پھر اپنے طرزِعمل پر نظرثانی کرے، ان وعدوں کی تکمیل کرے جو اس نے ابتدائی دور میں کیے تھے اور قومی دھارے میں شامل ہو۔ یہی بات ملک و قوم کے مفاد میں بھی ہے۔

نصیرالدین ہاشمی ‘کراچی

’کراچی کامسئلہ: پس منظر و پیش منظر‘ میں ایم کیو ایم کی جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ حقائق کے مطابق نہیں ہے۔ ایم کیو ایم ایک معمول کی سیاسی پارٹی نہیں ہے کہ آپ اس سے اپیلیں اور توقعات کریں۔ اس کا پورا ریکارڈ (جرائم پیشہ ہونا، بھتہ خور ہونا اور بلیک میلنگ مزاج) جس کی طرف معلوم نہیں کیوں شذرہ نگار نے توجہ نہیں دلوائی، فاشسٹ ریکارڈ ہے۔ اسے ضیاء الحق کے زمانے میں غوث علی شاہ نے جماعت اسلامی کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیا اور اب بھی فوج کی اشیرباد اور یقینا بیرونی طاقتوں کی سرپرستی میں یہ اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔

احمد علی محمودی ،حاصل پور

’افواج میں خواتین کی بھرتی‘ (جنوری ۲۰۰۹ء) ایک مغربی خاتون اسکالر کا مؤثر اور فکرانگیز تحقیقی تجزیہ ہے، اور اس میں ہمارے لیے سبق ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مغرب کی اندھی اور بے ہودہ نقالی تو کی جاتی ہے مگر حقیقی موضوعات پر تحقیق کے معاملے میں ہم مغرب سے کافی پیچھے ہیں۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے۔پھر ہم رونا روتے ہیں مغرب کی ترقی اور اپنی تنزلی کا۔ بہت سے ایسے موضوعات ہیں جن پر ہمارے ہاں پردہ پڑا رہتا ہے، جب کہ مغرب انھیں آشکارا کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیقاتی اداروں سے منسلک ماہرین علومِ عمرانی افواج پاکستان میں   خاص طور پر لڑاکا شعبوں میں خواتین کی بھرتی، خاتون خلاباز، خاتون پائلٹ، ٹریفک وارڈن، کھیلوں (ہاکی، کرکٹ، فٹ بال، سائیکلنگ، تیراکی، پیراشوٹ اور دوڑ) کے مقابلوں، مقابلہ حسن، مخلوط محافل میں شرکت اور تحفظ حقوقِ نسواں آرڈی ننس پر عمل جیسے تجربات کا مؤثر تحقیقی و واقعاتی تجزیہ پیش کریں۔

افضال احمد چشتی ‘کراچی

’افواج میں خواتین کی بھرتی‘ پڑھ کر افسوس ہوا کہ ایسا حیاسوز مضمون اس پاکیزہ رسالے کے صفحات پر چھاپ دیا گیا، اور حیرت اس بنا پر ہوئی کہ دینی ضروریات کے برخلاف قارئین کے روبرو بے حجابی کا وہ مظاہرہ کردیا گیا جو عام طور پر تجارتی و فلمی رسالوں میں ہوتا ہے۔ کیا مجبوری تھی کہ اسے ترجمان میں شائع کیا گیا؟

ڈاکٹر معراج الہدیٰ ‘کراچی

’بہار ہو کہ خزاں لا الٰہ الا اللہ‘ (دسمبر ۲۰۰۸ء) کے ’اشارات‘ میں کراچی میں سیاسی قتل و غارت کے ذکر میں گذشتہ ۹ماہ میں ۵۰ سے زیادہ افراد کے قتل کا ذکر ہوا تھا جو ڈان کراچی کی ایک رپورٹ پر مبنی تھا۔ لیکن ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ۲۰۰۸ء کی رپورٹ کے حوالے سے جو معلومات سامنے آئی ہیں ان سے حالات کی سنگینی کا صحیح تر اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق کراچی میں ۸جنوری ۲۰۰۸ء سے ۸اکتوبر ۲۰۰۸ء تک ۱۴۴۶ افراد قتل کیے گئے ہیں جن میں سیاسی کارکنوں (political activitists) کی تعداد ۱۳۹ تھی، جب کہ مذہبی فرقہ پرستی (sectarianism) کی وجہ سے نشانۂ اجل بننے والوں کی تعداد ۱۸تھی۔ (ملاحظہ ہو ایچ آر سی پی کی رپورٹ مطبوعہ دی نیوز، ۱۶ دسمبر ۲۰۰۸ء)

اُمت الاسلام‘کراچی

’یومِ عرفہ کا پیغام‘ (دسمبر ۲۰۰۸ء) میں وقوف عرفات کا وقت طلوعِ فجر سے پہلے تک سہواً لکھا گیا ہے، درست وقت زوالِ آفتاب کے بعد سے غروب تک ہے۔

 

بسااوقات یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ بہت سے منکرین آخرت ایسے ہیں جن کا فلسفۂ اخلاق اور دستورِ عمل سراسر دہریت و مادہ پرستی پر مبنی ہے، پھر بھی وہ اچھی خاصی پاک سیرت رکھتے ہیں اور ان سے ظلم و فساد اور فسق و فجور کا ظہور نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے معاملات میں نیک اور خلقِ خدا کے خدمت گزار ہوتے ہیں۔ لیکن اس استدلال کی کمزوری بادنیٰ تامل واضح ہوجاتی ہے۔ تمام مادہ پرستانہ لادینی فلسفوں اور نظامات کی فکر کی جانچ پڑتال کرکے دیکھ لیا جائے، کہیں اُن اخلاقی خوبیوں اور عملی نیکیوں کے لیے کوئی بنیاد نہ ملے گی جن کا خراجِ تحسین اِن ’نیکوکار‘ دہریوں کو دیا جاتا ہے۔ کسی منطق سے یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ ان لادینی فلسفوں میں راست بازی، امانت، دیانت، وفاے عہد، عدل، رحم، فیاضی، ایثار، ہمدردی، ضبط ِ نفس، عفت، حق شناسی اور اداے حقوق کے لیے محرکات موجود ہیں۔ خدا اور آخرت کونظرانداز کردینے کے بعد اخلاق کے لیے اگر کوئی قابلِ عمل نظام بن سکتا ہے تو وہ صرف افادیت (utilitarianism) کی بنیادوں پر بن سکتا ہے، باقی تمام اخلاقی فلسفے محض فرضی اور کتابی ہیں نہ کہ عملی۔اور افادیت جو اخلاق پیدا کرتی ہے اسے خواہ کتنی ہی وسعت دی جائے، بہرحال وہ اس سے آگے نہیں جاتا کہ آدمی وہ کام کرے جس کا کوئی فائدہ اِس دنیا میں اُس کی ذات کی طرف، یا اُس معاشرت کی طرف جس سے وہ تعلق رکھتا ہے، پلٹ کر آنے کی توقع ہو۔ یہ وہ چیز ہے جو فائدے کی اُمید اور نقصان کے اندیشے کی بنا پر انسان سے... ہر نیکی اور اس کی ضد کا حسب ِ موقع ارتکاب کراسکتی ہے۔ ان اخلاقیات کا بہترین نمونہ موجودہ زمانے کی انگریز قوم [مغربی اقوام] ہے جس کو اکثر اس امر کی مثال میں پیش کیا جاتا ہے کہ مادہ پرستانہ نظریۂ حیات رکھنے اور آخرت کے تصور سے خالی ہونے کے باوجود اس قوم کے افراد بالعموم دوسروں سے زیادہ سچے، کھرے ، دیانت دار، عہد کے پابند، انصاف پسند اور معاملات میں قابلِ اعتماد ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افادی اخلاقیات کی ناپایداری کا سب سے زیادہ نمایاں عملی ثبوت تو ہم کو اسی قوم کے کردار میں ملتا ہے... آخر یہ کس طرح ممکن تھا کہ ایک ایک انگریز تو اپنے شخصی کردار میں اِن کا حامل ہوتا مگر ساری قوم مل کر جن لوگوں کو اپنا نمایندہ اور اپنے اجتماعی امور کا سربراہ کار بناتی ہے وہ بڑے پیمانے پر اس کی سلطنت اور اس کے بین الاقوامی معاملات کے چلانے میں علانیہ جھوٹ، بدعہدی، ظلم، بے انصافی اور بددیانتی سے کام لیتے اور پوری قوم کا اعتماد ان کو حاصل رہتا؟ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ یہ لوگ مستقل اخلاقی قدروں کے قائل نہیں ہیں بلکہ دنیوی فائدے اور نقصان کے لحاظ سے بیک وقت دو متضاد اخلاقی رویے اختیار کرتے ہیں اور کرسکتے ہیں؟ (تفسیر سورئہ یونس، آیات ۷-۸، سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۲۸، عدد۳، ربیع الاول ۱۳۶۵ھ، فروری ۱۹۴۶ء، ص ۱۴-۱۵)