مضامین کی فہرست


مئی ۲۰۰۹

انبیا کا طریقۂ تبلیغ کوئی جامد طریقہ نہیں ہے بلکہ انسان کی علمی و ذہنی ترقیوں کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی اور ترقی ہوتی رہی ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ سائنس اور تمدن کی ترقی سے انسان کے وسائل کار اور ذرائع معلومات میں جو اضافے ہوئے ہیں ان سے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا حق داعیانِ حق کو ہے۔ مثلاً آج پریس اور ریڈیو وغیرہ نے انسان کی قوتِ ابلاغ کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا ہے۔ ایک بڑی سے بڑی تقریر چند منٹوں کے اندر دنیا کے ایک گوشے سے لے کر دوسرے گوشے تک پہنچائی جاسکتی ہے، کسی وسیع سے وسیع تحریک سے چند دنوں کے اندر اندر دنیا کے تمام پڑھے لکھے انسانوں کو آشنا کیا جاسکتا ہے، مشکل سے مشکل باتیں بہت معمولی محنت سے عوام اور خواص سب کے ذہن نشین کی جاسکتی ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ آج حق کی تبلیغ کے لیے ان ذرائع پر قبضہ کیا جائے۔

اگر اہلِ حق یہ خیال کر کے ان چیزوں کو نظرانداز کردیں کہ انبیا نے تبلیغ دین کے کام میں ان چیزوں کو استعمال نہیں کیا ہے بلکہ دروازے دروازے پر پہنچ کر ایک ایک شخص پر تبلیغ کی ہے، اس وجہ سے ہمارے لیے بھی اولیٰ یہی ہے کہ ہم ان چیزوں کو ہاتھ نہ لگائیں بلکہ گھر گھر پہنچ کر لوگوں کو تبلیغ کریں، تو یہ انبیا کے طریقے کی پیروی نہیں ہے بلکہ شیطان کا ایک بہت بڑا دھوکا ہے، جو وہ اس لیے دے رہا ہے تاکہ جب تک آپ اپنے ’دین دارانہ‘ طریقے پر چل کر دو آدمیوں سے کوئی بات کہیں، اس وقت تک وہ ان سائنٹی فک وسائل سے کام لے کر ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں تک اپنی دعوتِ باطل نہایت مؤثر طریقہ پر پہنچا دے۔ شیطان نے یہی دھوکا دے کر اکثر اہلِ حق کی کوششوں اور قابلیتوں کو نقصان پہنچا دیا ہے اور ان کے مقابل میں خود اپنا پلّہ بھاری رکھا ہے۔ یہاں تک آہستہ آہستہ اب زندگی کے ہرمیدان میں یہ پیچھے ہیں اور وہ آگے ہے اور دونوں کی کوششوں کے نتائج میں سرے سے کوئی نسبت ہی باقی نہیں رہ گئی ہے، اور یہی صورت حال اس وقت تک باقی رہے گی جب تک اہلِ حق ان زبردست قوتوں کو حق کی خدمت میں استعمال کرنے کا ڈھنگ نہ سیکھ جائیں جو آج ۱۰۰ فی صد شیطان کے تصرف میں ہونے کی وجہ سے باطل کی خدمت میں صرف ہو رہی ہیں۔ (’دعوت کے طریقے‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن، جلد ۳۰، عدد ۵،جمادی الثانی ۱۳۶۶ھ، اپریل ۱۹۴۷ء، ص ۱۹-۲۰)

 

احمد علی محمودی ،حاصل پور

کتاب ’مفاہمت‘ کا موضوع (مارچ-اپریل ۲۰۰۹ء) بظاہر مغرب اور مسلم دنیا کے درمیان مفاہمت کا پُل باندھنا ہے مگر تحریر کا انداز متعصبانہ، جارحانہ اور تنگ نظرانہ ہے۔ کتاب میں بغیر کسی حوالے کے قائدین تحریکاتِ اسلامی کے خلاف جس انداز سے کیچڑ اُچھالا گیا ہے یہ تاریخ سے انتہائی زیادتی ہے۔ فاضل تجزیہ نگار نے مدلل انداز میں جس طرح سے تحریکِ اسلامی کی وکالت کی، یہ وقت کی ایک اہم ضرورت تھی اور ریکارڈ کی درستی کا تقاضا بھی۔

محترمہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد جس جلدبازی سے کتاب کا دیباچہ اور اختتامیہ قلم بند کیا گیا ہے، اس سے بھی شکوک و شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ اس کتاب کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ جو حقیقت  محترمہ کے وصیت نامے کی ہے وہی حقیقت غالباً اس تصنیف کی بھی ہے۔

محمد شکیل ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ

’مفاہمت کے نام پر‘ تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش کا بروقت اور برمحل محاکمہ ہے۔  پی آئی اے کے جہاز کو اغوا کرنے کے بعد کابل ایئرپورٹ پر میجر طارق رحیم کو محض فوجی ہونے کی بنا پر ’الذوالفقار‘ نے قتل کردیا، اس کا ذکر کرنا مبصرصاحب غالباً بھول گئے۔ پروفائل آف انٹیلی جنس کے مصنف بعد میں بریگیڈیئر کے عہدے پر فائز رہے اور بھٹو صاحب کے حامی اور ہم مسلک بھی ہیں، ان کے بیان کے مطابق ۱۹۷۷ء میں تحریکِ نظامِ مصطفیؐ کے دوران لاہور اور گوجرانوالہ میں صرف ایک دن میں ۳۵ افراد پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنے جس کے بعد ان شہروں میں مارشل لا لگانا پڑا۔ بھٹو کھر کش مکش کے زمانے میں لاہور کے حلقہ ۶ کا الیکشن بھی لوگوں کو نہیں بھولا جس میں درجن بھر لوگ قتل ہوئے۔

اسد احمد ،کراچی

’مفاہمت کے نام پر‘ـ (مارچ ،اپریل۲۰۰۹ء) ایک عمدہ پیش کش ہے بالخصوص دور حاضر میں، جب کہ دانش وری کے نام پر حقائق کو توڑ مروڑ کے پیش کرنے میں کوئی بھی شخصیت خواہ اس کا قد کتناہی بلند کیوں نہ ہو کوئی عار نہیں سمجھتی۔ محض عارضی سیاسی فوائد کے لیے یا کسی شخصیت کے قد اور اس کے معاشرتی اثرات سے  متاثر ہوکر اس کے حقیقی خیالات کو منظر عام پر لانے کے بجاے چھپائے رکھنے کی سوچ کسی اوسط درجے کے سیاسی کارکن ہی کی ہوسکتی ہے۔

غلام مصطفٰی مغل ، قصور

’چین میں سات دن‘ (مارچ ۲۰۰۹ء) میں یہ امر وضاحت طلب ہے کہ چین کی ترقی پذیر معیشت کا اصل راز کیا ہے جو ہمارے ہاں نہیں۔ اس پہلو کو نمایاں کرنے کی ضرورت تھی، یہ تشنہ رہا۔

عافیہ رحمت، کراچی

اب اس رسالے میں وہ خامیاں (ہماری ناقص راے کے مطابق) جو قارئین بتاتے تھے ختم ہوگئی ہیں، مثلاً ثقیل اُردو اب سلیس ہوگئی ہے۔ ’اشارات‘ اور ’شذرات‘ اب عام فہم اور زودہضم ہوگئے ہیں۔ ’تذکیر‘ ، ’اسوۂ حسنہ‘ ، ’تزکیہ و تربیت‘ اور ’نظامِ حیات‘ مفید سلسلے ہیں اور آپ نے اب جو مضامین مارچ کے شمارے میں شائع کیے ہیں وہ زبانِ حال سے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو واقعی عام آدمی کے مسائل کا بھی بخوبی اندازہ ہے۔ ویسے تو عالمی مسائل پر بھی اسلامی نقطۂ نگاہ سے آپ لوگوں کا تجزیہ زبردست ہوتا ہے، مگر آج کل کا مہنگائی کا مارا اور پریشان حال فرد اسے کم ہی جاننا پسند کرتا ہے۔ ’مدیر کے نام‘ میں قارئین کے خطوط میں وضاحت طلب امور کا جواب ضرور دیا جائے۔ کچھ تفصیلی خطوط بھی دیں۔ اس سے قارئین کی دل چسپی بھی بڑھے گی، نیز صفحات بھی بڑھائیں۔

ارشد علی آفریدی ‘خیبرایجنسی

’اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنج اور ہماری ذمہ داری‘(فروری ۲۰۰۹ء) پڑھ کر اُمت مسلمہ کے خلاف مکروفریب اور سازشوں کا علم ہوا۔ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج مغرب کی تہذیبی یلغار ہے جس کا سب سے اوّلین ہدف ہمارا خاندانی نظام ہے جس میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی اقدار سیکھنے اور سکھانے والوں،  یعنی بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے تعلیمی نصاب میں تبدیلی، آغا خان تعلیمی بورڈ اور  امریکی سفارت خانے کی طرف سے یوتھ ایکسچینج اینڈ اسٹڈی پروگرام (YES) جاری ہے جس کے تحت ہمارے نوجوان طلبہ اور طالبات کو ایک سال کے لیے امریکا لے جاکر ایک خاندان میں رہنے کا انتظام کیا جاتا ہے تاکہ اُن کے ذہنوں میں مغربی تصورات کو راسخ کیا جاسکے۔ ہماری خواتین کو مختلف بہانوں سے خوش نما نعروں کے ذریعے ان کے اصل مقام سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے، جب کہ والدین نہایت سادہ دلی سے اپنی نئی نسل کو مغرب کی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ تہذیبی یلغار کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

قیوم نظامی ، لاہور

پاکستان کے قیام کو ۶۰ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا مگر آج بھی پاکستان کے ۴۹ فی صد شہری    خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ غربت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صورتِ حال اس حد تک تشویش ناک ہوچکی ہے کہ خاندان اجتماعی خودکشیاں کر رہے ہیں۔ مفلس اور نادار لوگ اپنے بچوں کو فروخت کررہے ہیں یا انھیں ایدھی سینٹر کے حوالے کر رہے ہیں۔ غریب عوام قرض اُتارنے کے لیے اپنے گردے بیچ رہے ہیں۔ پاکستان کے ۷۰ فی صد شہری روٹی، روزگار، صاف پانی، بجلی، تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ ۱۹۷۳ء کا آئین محض دکھاوے کے لیے ہے۔ اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ اختیارات کی مرکزیت کی وجہ سے صوبے خودمختاری سے محروم ہیں۔ پاکستان عالمی سازشوں کی زد میں ہے۔ اس پر دنیا کی ناکام ریاست ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے۔

درحقیقت ملک کا سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ استحصالی ریاستی نظام ہی تمام سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کا سبب ہے۔ اس نظام کی بنیاد ہی ظلم، ناانصافی اور کرپشن پر قائم ہے۔ اس نظام میں وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن نہیں ہے۔ یہ نظام ناکارہ، ناکام اور فرسودہ ہوچکا ہے۔ اس کی بنیاد پر کبھی اچھی حکومت قائم نہیں ہوسکتی۔ یہ ایک غیراسلامی، غیر اخلاقی اور غیرانسانی نظام ہے۔جب تک پاکستان میں جاگیردارانہ استحصالی اور جابرانہ ریاستی نظام موجود ہے اور جب تک معاشی، تعلیمی، حکومتی، انتخابی، عدالتی اور پولیس کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں ملک میں اسلامی فلاحی ریاست اور عوامی جمہوریت کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ جب ریاستی کلچر کرپشن کا شکار ہوجائے اور سیاسی ذہنیت مفاد پرستی اور موقع پرستی میں ڈھل جائے تو ایسی ملک دشمن ذہنیت اور ایسے عوام دشمن کلچر کو تبدیل کرنا پڑتا ہے۔ انقلابی تبدیلی کے بعد ہی ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام شہریوں کو بلاتفریق اور بلاامتیاز ترقی کے مساوی مواقع ملتے ہیں اور انھیں عزت سے جینے کا حق ملتا ہے۔ چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے۔ اگر یہی نظام چلتا رہا تو شاید پاکستان کے اگلے ۶۰ سال گذشتہ ۶۰سالوں سے بھی بدتر ہوں۔ اس سوچ کو عوام میں آگے بڑھانے سے ہی انقلابی شعور عام ہوگا اور تبدیلی کی راہ ہموار ہوگی۔