’’پروپیگنڈا اور ذرائع ابلاغ‘‘ (اگست ۲۰۰۱ء) حبیب الرحمن چترالی صاحب نے ایک اچھوتے موضوع پر قلم اُٹھایا ہے اور حق ادا کر دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ ایسے موضوعات پر تحقیقی کام ہوتا رہے (صفحہ ۴۱‘ سطر ۴ میں آیت چھٹی نہیں‘ ۶۰ ہے)۔
’’خدمت خلق‘‘ (اگست ۲۰۰۱ء) خرم مراد صاحب کی تحریر بہت پسند آئی۔ اس ایمان پرور تحریر سے خدمت خلق کے بہت سے گوشے وا ہوئے۔ حقوق العباد کی ادایگی اسی کو کہتے ہیں۔
’’کتاب نما‘‘ (اگست ۲۰۰۱ء) میں سیرت بانی دارالعلوم پر تبصرہ شائع ہوا۔ سیرت کا لفظ عام طور پر سیرت رسولؐ اور سیرت صحابہؓ کے لیے مخصوص ہے۔ معروف شخصیات کے حالات زندگی پر مبنی کتب کے لیے سوانح کا لفظ مروج ہے۔ اس لحاظ سے کتاب کا نام غور طلب ہے۔
’’قومی بیداری --- وقت کا تقاضا‘‘ (جولائی ۲۰۰۱ء) میں مولانا روم کے شعر ؎
زیں ہمرہان سست عناصر دلم گرفت
شیرخدا و رستم دستانم آرزوست
کا ترجمہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے کہ ’’ان درماندہ سست رفتار ہمراہیوں سے بھی میرا دل اُچاٹ ہو گیا ہے۔ کسی شیرخدا اور کسی رستم کی داستان کی آرزو میں نکل کھڑا ہوں‘‘۔ معلوم نہیں کس اصول کے تحت دستاں کے لفظ کو داستان کے معنی پہنائے گئے ہیں۔ فارسی زبان کا ذوق رکھنے والے حضرات سے یہ امر مخفی نہیں ہے کہ رستم دستاں میں اضافت ابنی ہے‘ یعنی دستان کا بیٹا رستم--- دستان رستم کے باپ کا لقب ہے۔
ترجمان القرآن کا انتظار ہر مہینے کی آخری تاریخوں سے شروع کر دیتا ہوں کیونکہ اگلے مہینے کی منصوبہ بندی میں اس کے لیے وقت مختص کرنا ہوتا ہے۔ اہم مضامین کے نوٹس تیار کرتا ہوں جو بعد میں بہت کام آتے ہیں۔ اس کے سب ہی سلسلے بہت مفید ہیں لیکن میں سب سے زیادہ اہمیت اشارات‘ تزکیہ و تربیت اور تہذیب جدید کو دیتا ہوں۔ سنابل العلم کے اشتہارات خوب صورت کتابچے کی شکل میں شائع کروائے جائیں تو بہت مفید ہوں گے کیونکہ آج کل management sciences کا بڑا چرچا ہے۔
’’حقوق انسانی کی سیاست‘‘ (جون ۲۰۰۱ء) میں جس طرح دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد‘ ظالم اور لٹیرے ملک امریکہ کا پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے (اگرچہ اس میں کچھ تشنگی سی محسوس ہوتی ہے) وہ پوری دنیا‘ خصوصاً عالم اسلام کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ اس مضمون میں امریکہ پر یورپی اقوام کے قبضے‘ مقامی آبادی کا قتل عام اور غلاموں کی تجارت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ اس پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانی قوم کو معلوم ہو کہ امریکہ کے اس نقلی چہرے کے پیچھے ایک بھیانک اور خوںآشام چہرہ چھپا ہوا ہے۔
قاضی حسین احمد کے چشم کشا اشارات ’’قومی بیداری --- وقت کا تقاضا‘‘ (جولائی ۲۰۰۱ء) اگر بچشم دل پڑھ لیے جائیں تو صراط مستقیم کی طرف پیش رفت ممکن ہو جائے۔ کاش ترجمان القرآن کروڑوں کی تعداد میں شائع ہو کر ہر گھر کے ہرقاری کے درِدل پر دستک دے سکے!
لکھنؤ سے نکلنے والے رسالے ۱۵ روزہ تعمیرحیات (۱۰اگست ۲۰۰۱ء) میں مولانا عبداللہ عباس ندوی نے جو جامعہ ام القریٰ مکہ سے بطور ممتحن ایک وائی وا کے لیے گئے تھے‘ قاہرہ کے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ہوٹل کے کمرے میں ٹی وی لگایا تو مصر کی قومی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا‘ اور یکے بعد دیگرے مقررین حسنی مبارک کی تعریف و توصیف میں قلابے ملا رہے تھے۔ ’’آپ نے اپنے عہد مبارک میں مصریوں کو سر اُٹھا کر چلنے کا موقع دیا‘ حریت کا سبق دیا‘ آپ کی بصیرت ہمارے لیے ہدایت و نجات کا راستہ بنی‘‘۔ ہرچندجملوں کے بعد دوسرے ممبران تائید کا اظہارتالیاں پیٹ پیٹ کر کر رہے تھے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں کہ ان کی نظروں کے سامنے اپنی طالب علمی کازمانہ پھر گیا جب عرب رسائل الرسالہ (احمد حسن زیات) اور الثقافہ (ڈاکٹر احمدامین) میں شاہ فاروق کے یوم پیدایش پر اداریے لکھے جاتے تھے جو ادبی شہ پارے ہوتے تھے۔ ’’فاروق کا تخت قصرشاہی میں نہیں ہر مصری کے قلب میں ہے۔ وہ ہر گھر کی روشنی‘ ہر دل کی دھڑکن‘ ہر آنکھ کی بینائی ہے‘ اے عظیم ابن عظیم!‘‘۔ ملکہ نریمان کو ایک بار نزلہ ہو گیا تو شیخ الازہر نے مزاج پرسی کا تار بھیجا: ’’ہم نے پوری رات بے چینی‘ اضطراب اور دعائوں میںگزاری کہ اللہ ملکہ عالیہ کو شفاکامل و عاجل عطا فرمائے‘‘۔ جب فوجی انقلاب آیا اور نجیب صدر بنے تو حسن زیات نے الرسالہ میں لکھا کہ‘ وہ مردغیب نمودار ہو گیا جس کا قدرت نے وعدہ کیا تھا۔ شریف ترین‘ محبوب دل و جان‘ عالی گہر محمد نجیب نے مصر کو کھلنڈروں سے آزاد کروا دیا‘ جب جمال عبدالناصر نے اقتدار سنبھالا تو انھی حسن زیات نے رسولؐ اللہ اور صلاح الدین ایوبی ؒکے بعد تیسرا انقلاب لانے والا ناصر کو قرار دیا۔ محمد حسین ہیکل نے الاہرام میں لکھا : بڑا مجرم ہے وہ شخص جو سمجھتا ہے کہ جمال عبدالناصر کو مٹی سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ ایک آسمانی مخلوق ہے جو زمین سے پیدا نہیں کی گئی بلکہ زمین پر اتاری گئی ہے‘--- آپ مناسب سمجھیں تو ان گذارشات میں قارئین ترجمان کو بلاتبصرہ شریک کر لیں۔
’’تحریک‘‘ کا لفظ جس مفہوم کے لیے میں استعمال کرتا ہوں اس کے لیے کوئی دوسرا ایسا لفظ مجھے نہیں ملتا جو آج کل کے عام لوگوں کے ذہن میں اس کی تصویر کھینچ دے۔ ’’مذہب‘‘ ایک مدت سے صرف اس معنی کے لیے مخصوص ہو گیا ہے کہ چند عقائد اور چند عبادتوں اور رسموں کا مجموعہ جن کی پابندی سے آدمی روحانی ترقی یا نجات بعدالموت کا متوقع ہو۔ اسی معنی کے لحاظ سے آج کل کے لوگ کہتے ہیں کہ مذہب ایک انفرادی چیز ہے‘ عابد اور معبود کے درمیان ایک پرائیویٹ تعلّق ہے‘ اس کو اجتماعی معاملات اور ملکی انتظام سے کیا تعلّق؟ اسلام کے لیے لفظ مذہب کا استعمال موجودہ دَور کے لوگوں میں یہ غلط فہمی پیدا کرتا ہے کہ یہ بھی اِسی
جنسِ مذاہب کا ایک فرد ہوگا۔ رہا ’’دین‘‘ تو اسے بھی ایک مدت سے مذہب اور دھرم کا ہم معنی بنا کر رکھ دیا گیا ہے‘تاہم اگر دین کو اس کے وسیع معنی میں بھی استعمال کیا جائے تب بھی سننے والے کے ذہن میں اس سے صرف اتنی بات ہی آتی ہے کہ یہ پوری انسانی زندگی کے لیے ایک جامع اور ہمہ گیر نظام ہے جو عقائدو افکار سے لے کر انفرادی و اجتماعی زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے جزئیات تک کا احاطہ کرتا ہے اور جس کا تعلق دنیا اور اس کے انتظام سے بھی اتنا ہی ہے جتنا حیات بعدالموت سے ہے۔ لیکن یہ بات کہ دین ایک نظام ہونے کی حیثیت سے دنیا کا انتظام خود اپنے زیراقتدار لینے کا متقاضی ہے‘ اور اس کے ایک نظام ہونے کا فطری اقتضا یہی ہے کہ دوسرے نظاموں کو ہٹا کر یہ خود ان کی جگہ قائم ہو‘ اور اس وجہ سے دین کی پیروی قبول کرتے ہی آدمی پر یہ فرض عائد ہو جاتا ہے کہ دوسرے نظاموں کے تسلط کو مٹانے اور اس نظام کو قائم کرنے کے لیے کوشش کرے‘ محض لفظ ’’دین‘‘ سن کر آج کل کسی کے ذہن میں بھی نہیں آتی۔
اس مفہوم کو موجودہ دور میں لفظ ’’تحریک‘‘ اچھی طرح ادا کرتا ہے۔ اس وجہ سے میں اسلام کے لیے ’’دین‘‘ کے ساتھ ’’تحریک‘‘ کا لفظ بھی اکثر استعمال کرتا ہوں۔ نیزاس کوشش اور جدوجہد کے لیے بھی مجھے ’’تحریک‘‘ ہی کی اصطلاح استعمال کرنی پڑتی ہے‘ کیونکہ جہاد اور مجاہدہ کے الفاظ جو قرآن نے اس مفہوم کے لیے اختیار کیے تھے‘ انحطاط کے دور میں ان کے معانی بالکل بدل کر رہ گئے ہیں۔ مجاہدہ کا لفظ سن کر آج لوگوں کا ذہن صوفیانہ ریاضات اور چلہ کشی کی طرف چلا جاتا ہے اور ’’جہاد‘‘ بولیے تو لوگ سمجھتے ہیں کہ بس اب ایک لشکر مرتب ہوگا اور غنیم کے خلاف معرکہ ء قتال شروع ہو جائے گا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ’’تحریک‘‘ کے نام سے جوچیزمیں نے پیش کی ہے آیا وہ دین اور جہاد فی سبیل اللہ ہی ہے یا کوئی اور چیز۔ (’’رفع شبہات‘‘ ، ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ماہنامہ ترجمان القرآن‘ جلد ۱۹‘ عدد ۱‘ ۲‘ ۳‘ رجب‘ شعبان‘ رمضان ۱۳۶۰ھ‘ ستمبر‘ اکتوبر‘نومبر ۱۹۴۱ء‘ ص ۱۹۳-۱۹۴)