مضامین کی فہرست


اپریل ۲۰۱۹

عبداللہ ، پشاور

’سیرتِ نبویؐ کا ایک گوشہ، مدینہ مارکیٹ‘ایک حیرت انگیز، سبق آموز اور روح پرور مضمون ہے۔ عبدالرقیب صاحب اگر سیرتِ پاکؐ سے اس نوعیت کی عملی معاشی تفصیلات کو یک جا کردیں تو یہ بہت بڑی خدمت ہوگی۔


انیلا حسین ، کراچی/ رحیم اللہ ، ڈیرہ اسماعیل خاں/ محمد بشیر چغتائی  ، واہ کینٹ

سیرتِ نبویؐ پر متعدد مقالات پڑھنے کی سعادت نصیب ہوئی، لیکن جس انداز سے جناب ایچ عبدالرقیب نے ’مدینہ مارکیٹ‘ (مارچ ۲۰۱۹ء)کو لکھا ہے، اس سے نہ صرف انصاف، معاش اور ترقی کے راستوں کا علم ہوتا ہے، بلکہ ہم آج کے ماحول میں، رسولِ پاکؐ سے اپنی معاشی زندگی کی تنظیم کے لیے سبق حاصل کرتے ہیں۔


ہمایوں اختر ، ملتان

’سیرتِ نبویؐ کا ایک گوشہ، مدینہ مارکیٹ‘ عام طور پر ہماری نظروں سے اوجھل رہا ہے۔ یہ مضمون تمام تاجروں، صنعت کاروں اور معاشی تنظیم وتعلیم کے ذمہ داروں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد نے ’اسلامی ریاست کی بنیاد‘ (مارچ ۲۰۱۹ء) میں کمال حد تک بتایا ہے کہ انسانی زندگی میں ’حاکمیت ِ الٰہی‘ کی اہمیت اور سبق کیا ہے۔


نویرہ عمیر ، اسلام آباد / شوکت رفیق ، سیالکوٹ

تحریک ِ پاکستان ۱۴؍اگست ۱۹۴۷ء کو ختم ہونے والے باب کا نام نہیں، بلکہ ہرآنے والے دن میں تحریک ِ پاکستان کا مطالعہ اہمیت کا حامل رہے گا۔ جناب جاوید اقبال خواجہ نے ’دو قومی نظریے کی فتح اور پاکستان‘ (مارچ ۲۰۱۹ء)لکھ کر ، تحریک ِ آزادی کے علمی و تاریخی ورثے کو اتنی خوب صورتی اور عام فہم انداز سے مرتب کردیا ہے کہ ہمیں گاندھی اور قائد کی شکل میں دو کردار، دورویےاور دو تحریکیں اپنا پیغام دیتی نظر آتی ہیں۔ 


حیدر عثمان ، کوئٹہ

عبدالغفار عزیز صاحب نے ’خطیب اقصیٰ کی رحلت…‘ (مارچ ۲۰۱۹ء) کو ایک زندہ تحریک کی صورت میں پیش کرکے ہم زندوں کے لیے،جو مُردنی کے شکار ہیں، زندگی کا پیغام دیا ہے۔


حیدر کمال ، لاہور/ معصومہ فاطمہ، ملتان

حضرت مولانا محمود حسنؒ اسیرِمالٹا کا زندگی میں آخری خطاب جس شان سے ملّت کے سامنے ہوا، اور اس میں جو پیغام عطا کیا گیا، وہ ۱۹۲۰ء کا نہیں بلکہ زندگی بھر کا پیغام ہے۔ قدیم اور جدید کی بے جا کش مکش کی نفی ہے اور مقصد پر نظر رکھنے کی تلقین ہے۔ علماے کرام دینی بصیرت سے قوم کی رہنمائی کرتے آئے ہیں، لیکن بُرا ہو جدیدیت کا، کہ جس نے علما کو غیرمتعلق قرار دینے کی کوشش کی۔ ترجمان نے اسے شائع کرکے بہترین خدمت انجام دی۔


عاقل خاں جدون  ، ایبٹ آباد

’نریندرا مودی کی قید میں‘ (مارچ ۲۰۱۹ء)، مفتی عبدالقیوم منصوری نے وہ ہولناک منظر قارئین کو دکھایا ہے کہ جس میں خود ان کے وہ اکابرین، جو متحدہ قومیت کے علَم بردار تھے، کے لیے عبرت کا سامان موجود ہے۔


احمد علی محمودی  ، لاہور

’گم شدہ متاع کی تلاش میں‘(مارچ  ۲۰۱۹ء)کے مطابق شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ اجنبی زبان کے سیکھنے یا دوسری قوموں کے علم وفنون حاصل کرنے کے حامی تھے۔ وہ ایسی تعلیم کے حامی تھے کہ جو مسلمانوں کے ہاتھوں میںہو اور اس پر اغیار کا اثر نہ ہو ۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے دو تاریخی مقامات ’دیوبند اور علی گڑھ ‘ کا رشتہ جوڑنے کے لیے مرض الموت کے باوجود علی گڑھ کا سفر کیا اور وہاں پہنچ کر ’جامعہ ملیہ اسلامیہ‘کا سنگ بنیا د رکھا۔


راجا محمد عاصم  ، کھاریاں

مولانا مودودیؒ کی تحریر ’گھریلو زندگی کی بنیاد‘ (مارچ ۲۰۱۹ء) پر عمل کرکے کامیاب معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر انیس احمد نے اسلامی ریاست کے قیام کے خواہاں حکمرانوں کے لیے بہترین طریقے سے رہنمائی کی ہے۔ ’سیرتِ نبویؐ کا ایک گوشہ، مدینہ مارکیٹ‘ایچ عبدالرقیب نے حضوؐر کی سیرت کے ذریعے ایک مسلمان تاجر کی بھرپور رہنمائی کی ہے، جب کہ ’نریندرا مودی کی قید میں‘ کے عنوان سے مفتی عبدالقیوم منصوری نے اپنی رُوداد میں بھارتی حکمرانوں کے ظالمانہ اور مکروہ چہرے کی تصویر کشی کرکے پوری فلم دکھا دی ہے۔ 


ڈاکٹر عبدالرزاق ، کالاگوجراں، جہلم

ترجمان القرآن (ماہ فروری ۲۰۱۹ء) ماشا ءاللہ ماضی، حال اور مستقبل کے حالات و واقعات پر مشتمل اپنے اندر ایک خزینہ لیے ہوئے ہے۔ ہرمضمون پر اپنے جذبات کا اظہار کرنا کماحقہٗ ممکن تو نہیں ، تاہم جی چاہتا ہے کہ مختصر ترین الفاظ میں، چند سطور پیش خدمت کردوں: محترم سیّد منورحسن صاحب کا فرمان: ’اس سفر کو وہیں سے شروع کرنا ہوگا، جہاں سے بظاہر ختم ہوگیا تھا‘، ایک مشورہ ہی نہیں بلکہ ایک حکم کی حیثیت رکھتا ہے۔ چودھری رحمت الٰہی مرحوم کی زندگی کا جو نقشہ محترم پروفیسر خورشیداحمد صاحب نے کھینچا ہے، وہ قابلِ رشک ہے۔جماعت سے وابستہ ہرکارکن تک اس تحریر کو پہنچنا چاہیے۔ پہلے فوجی آمر کی مولانا مودودیؒ پر تنقید، جاوید اقبال صاحب کا ایک بڑا قیمتی مضمون ہے۔مرزا محمد الیاس صاحب کے اُٹھائے گئے سوالات کی روشنی میں ہر کارکن کو اپنا جائزہ لینا چاہیے۔ عالمی اُفق پر منڈلاتے معاشی بحران پر ڈاکٹروقار مسعود خاں نے مؤثر رہنمائی دی ہے، اور عابدہ فرحین نے خواتین پر تہذیبی حملے کی وضاحت کرتے ہوئے رہنمائی کی ہے۔

ترجمان القرآن کے صفحات ہمیشہ خدا اور اس کے رسولؐ کے پیغام کے لیے وقف رہے ہیں اور ان میں کبھی مدیرترجمان یا اُن کے کسی رفیق کے ذاتی حالات کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ [قارئین] بار بار یہ دریافت کرتے ہیں کہ اگر مولانا [مودودی] آج کل تفہیم القرآن نہیں لکھ رہے تو پھر کیا کر رہے ہیں؟ ان استفسارات میں تشویش اور پریشانی نظر آتی ہے۔ سب رفقا کی خدمت میں ہم یہ گزارش کریں گے کہ مولانا خوداس بات کے شدید آرزومند ہیں کہ وہ اس عظیم الشان کام کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچائیں، لیکن بعض ناگزیر مجبوریاں اس راہ میںحائل ہیں۔
ان میں سب سے بڑی مجبوری مولانا کی علالت ہے۔ مولانا ایک عرصۂ دراز سے گُردے کی تکلیف میں مبتلا ہیں۔ آج سے چند سال قبل اس کا آپریشن کردیا گیا، جس سے پتھری کی تکلیف عارضی طور پر رفع ہوگئی، لیکن تھوڑی مدت کے بعد گردے میں پھر ذرّات جمع ہونے شروع ہوگئے اور انھوں نے بہت جلد سنگ ریزوں کی صورت اختیار کرلی۔ دینِ حق کا یہ سپاہی اس تکلیف کے باوجود مختلف کاموں میں منہمک رہا اور اُس نے علالت کے سامنے کبھی ہتھیار ڈالنے گوارا نہ کیے۔ لیکن اب کچھ عرصہ سے یہ تکلیف مزید بڑھ گئی ہے اور اس نے اُن کے دائیں شانے اور گھٹنےکو شدید طور پر متاثر کیا ہے…جس سے ان کے قویٰ اور بھی مضمحل ہوگئے[ہیں]۔
خطوط اور استفسارات کی بھرمار مولانا کا بہت سارا وقت لے جاتی ہے۔لیکن ان سب مجبوریوں کے ہوتے ہوئے بھی مولانا اس کام سے غافل نہیں۔وہ اس کی اہمیت کو اچھی طرح جانتے ہیں اور اس کو پورا کرنے کے لیے سخت بے تاب ہیں۔ خود ہم بھی اُن سے بار بار اس کے لیے اصرار کرتے ہیں اور بعض اوقات ہمیں اُن کی صحت کے پیش نظر یوں محسوس ہونے لگتا ہے کہ ہم مولانا سے تقاضا نہیں کررہے بلکہ اُنھیں ستارہے ہیں۔ ہمارے مطالبات کی طویل فہرست سن کر جس میں تفہیم القرآن، ’اشارات‘، ’رسائل و مسائل‘ اور مضامین، الغرض سبھی قسم کے تقاضے شامل ہیں، مولانا اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اچھابھائی دُعا کریں‘‘۔
ہم قارئین کی خدمت میں درخواست کرتے ہیں کہ وہ خداوند تعالیٰ کے حضور میں مولانا کی صحت ِ کاملہ اور عاجلہ کے لیے دُعا فرمائیں، تاکہ وہ پوری یکسوئی اورانہماک کے ساتھ ان ضروری کاموں کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ (پروفیسر عبدالحمید صدیقی ’اشارات‘، ترجمان القرآن ، جلد۵۲، عدد۱، اپریل ۱۹۵۹ء، ص۲-۳)