ڈاکٹر انیس احمد کی تحریر ’اسلامی نظام: سیاسی ذرائع سے قیام ممکن ہے؟‘ (اپریل ۲۰۱۴ء) نے بہت متاثر کیا۔ اس وقت ، جب کہ مصر اور بنگلہ دیش کی صورت حال پر دنیا بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں، حالاتِ حاضرہ کی صحیح منظرکشی اور تجزیہ نگاری کی اشد ضرورت ہے۔ڈاکٹر صاحب نے ’’تبدیلی صرف جہاد سے آئے گی‘‘ کے نعرے کی شرعی حیثیت کے بارے میں بصیرت افروز مواد فراہم کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے مطابق اجتہاد، قیاس، اجماع اور باہم مشاورت، صبرواستقامت اور قربانی کے ساتھ دعوتی کام کرتے رہنا، یہی وہ ذرائع ہیں جو اسوئہ نبویؐ کے مطابق تبدیلی کا سبب بن سکتے ہیں، اور تمام دعوتی مراحل سے گزرنے کے بعد جب یہ یقین ہوجائے کہ یہاں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، تو پھر وہاں سے ہجرت (لیکن عجلت والی ہجرت نہ ہو) کی جائے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ مصر اور بنگلہ دیش کی ہنگامی صورت حال میں، جب کہ خانہ جنگی چھڑ چکی ہے اور ہزاروں جانی قربانیوں کے بعد واپسی کے رستے بند ہوچکے ہیں، کیا ایسی صورت حال میں دعوتی و تبلیغی طریق کار ، اور اجتہاد کے راستے کھلے رہ سکتے ہیں؟ کیا طاغوتی طاقتیں محض دعوت و تبلیغ اور گفت و شنید سے اقتدار چھوڑ کر جاسکتی ہیں؟ یا بصورتِ دیگر ہجرت ایسے مسئلے کا حل ہوسکتی ہے؟
’بچوں کی تربیت محبت سے‘ (اپریل ۲۰۱۴ء) میں ڈاکٹر سمیریونس نے خوب صورت انداز میں اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آج کے نونہال ہی کل کے اچھے مسلمان اور پاکستانی بن سکتے ہیں۔ یہ تحریر تحریکی ساتھیوں کے لیے بالخصوص اور عمومی قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ اللہ رب العزت مولاناعبدالمالک مدظلہٗ العالی کو جنھوں نے ہمارے قلوب و اذہان کو کلامِ نبویؐ کی کرنوں سے منور کیا، جزاے خیر دے۔
’بچوں کی تربیت محبت سے‘(اپریل ۲۰۱۴ء) مفید مضمون ہے اور عملی پہلو سامنے آئے ہیں۔ تاہم ڈاکٹرسمیر یونس نے بچھو کے بار بار کاٹنے پر اسے بچانے کی جو حکایت بیان کی ہے وہ اسلامی نقطۂ نظر سے درست نہیں۔ شریعت میں موذی جانوروں کو مارنے کا حکم ہے۔
ڈاکٹر انیس احمد کا مضمون: ’مطالعے کی عادت__ ایک تحریکی زاویہ‘ (مارچ ۲۰۱۴ء) بہت اہم اور بروقت ہے جس کی طرف سے اکثر لوگ غافل ہیں۔ خاص طور پر نئی نسل میں مطالعے کے شوق کا فقدان ہے۔ ان کی تمام معلومات کا مخزن انٹرنیٹ ہے۔ عام طور پر لوگ علم کے بجاے معلومات ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں، یا پھر وڈیو اور آڈیو دیکھ اور سن کر سمجھتے ہیںکہ انھوں نے علم حاصل کرلیا۔ مذکورہ مضمون میں اہم مسئلے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔
پروفیسر شہزاد الحسن چشتی کا گراں قدر مضمون : ’ہگز بوسن یا خدائی ذرّہ‘ (فروری ۲۰۱۴ء) نظر سے گزرا۔ اس میں موصوف نے اہم معلومات پیش کی ہیں، البتہ ان کی ایک فروگزاشت کی تصحیح کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ سرن(cern) کو انھوں نے تجربہ گاہ کا جاے وقوع بتایا ہے حالانکہ CERN اس تحقیقی ادارے کے نام کا مخفف ہے جو فرانسیسی میں یہ ہے: Conseil Europeen Pour la Rechard Nucleaire ۔ اس کا انگریزی نام ہے: European Council for Nuclear Research ۔یہ جنیوا کے قریب فرانس، سوئٹزرلینڈ کی سرحد میں واقع ہے، جو ۱۹۵۴ء میں ۲۱ممالک کے تعاون سے قائم ہوا تھا۔ قارئین کے لیے یہ جاننا باعث دل چسپی ہوگا کہ بوسن کا لفظ جو اس ذرے کا نام ہے ،مشہور ہندستانی ماہر طبیعات ستیندرا ناتھ بوسن کے اعزاز میں پال ڈارک ( Paul Dirac) نے رکھا تھا۔
اپنے مضمون میں فاضل مقالہ نگار نے اللہ کے عرش کے پانی پر ہونے کی یہ تاویل کی ہے کہ پانی سے مراد توانائی ہے۔ میرے خیال میں قرآن کے الفاظ کو ان کے اُسی مفہوم میں رکھنا چاہیے۔ یہ زیادہ بہتر ہے۔
عالمی ترجمان القرآن کے مطالعے سے تزکیہ و تربیت کا سامان ہوتا ہے اور ملکی و عالمی حالات سے آگہی ملتی رہتی ہے۔ دیہات میں دعوتی کام کے لیے رہنمائی اور لائحہ عمل پیش کرنے کی بھی ضرورت ہے، نیز زرعی مسائل کو بھی زیربحث لانا مفید ہوگا۔ دیہی پس منظر کے پیش نظر بعض مضامین مشکل محسوس ہوتے ہیں۔
احادیث کی صحت اور سند کے حوالے سے اعتراضات اُٹھانے کی کوشش کی جاتی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حدیث محفوظ ہے اور جتنی بھی احادیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں ان سب کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے کہ کون سی احادیث صحیح ہیں اور کون سی حسن کے درجے میں ہیں، اور کون سی ضعیف اور کون سی موضوع ہیں۔ وہ جن اسانید اور راویوں کے ذریعے روایت کی گئی ہیں ان سب کے حالات کی تحقیق اور تفتیش ہوچکی ہے۔ ان سب کے بارے میں معلوم کرلیا گیا ہے کہ ان میں سے کون عادل، ثقہ اور معتبر ہے اور کون غیرعادل، غیرثقہ اور غیرمعتبر۔ ہرراوی کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ سچا ہے یا جھوٹا، وہ حافظہ رکھتا تھا یا نہیں۔ اس نے کون سی احادیث روایت کی ہیں اور ان کی حیثیت کیا ہے۔
اس کے لیے محدثین کرام نے بڑی محنت کی ہے۔ بڑی مشقتیں اُٹھائی ہیں، دُوردراز کے سفر کیے ہیں اور اُمت مسلمہ کی ایک بے نظیر و بے مثال تاریخ مرتب ہوگئی ہے۔ لاکھوں انسان جنھوں نے احادیث روایت کی ہیں، ان کی زندگیاں بھی محفوظ ہوگئی ہیں اور علم اسماء الرجال وجود میں آگیا ہے۔ علم اسماء الرجال میں راویوں کے حالات بیان کردیے گئے ہیں اور ان کا عادل اور مجروح ہونا بھی پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے علم جرح و تعدیل وجود میں آگیا ہے۔
زیرنظرکتاب اس موضوع پر ایک جامع دستاویز ہے۔ اس میں حدیث اور اس کی سند کی تعریف، حدیث کی اقسام، اسناد اور علم جرح و تعدیل کی اہمیت، علم حدیث روایت و درایت، طلب ِحدیث کے لیے علمی اسفار، جرح و تعدیل کی شرعی حیثیت، جرح و تعدیل راوی، ضبط راوی، طبقات راویان حدیث، احکام جرح و تعدیل ، جرح و تعدیل کے مشہور نقاد کرام، جرح و تعدیل کے بارے میں تصنیفات، صحاح ستہ اور دیگر راویوں کے بارے میں تصنیفات ، ثقہ راویوں کے بارے میں تصانیف، ضعیف راویوں کے بارے میں تصانیف، سب موضوعات پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر سہیل حسن صاحب، جیسی علمی شخصیت نے جو علومِ حدیث میں مہارت تامہ رکھتے ہیں، اس موضوع پر بحث کا حق ادا کردیا ہے اور علمِ حدیث کے طالب علم کے لیے ایک مستند راہنما کی حیثیت رکھنے والی عظیم کتاب مرتب کردی ہے اور علمِ حدیث سے شغف رکھنے والوں کو بڑی بڑی کتب سے بے نیاز کردیا ہے۔ بے شک علمِ حدیث جو قرآن پاک کی تفسیر اور تشریح بھی ہے، اس کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام فرما دیا ہے کہ قیامت تک کے لیے احادیث رسولؐ سے استفادہ ہوتا رہے۔ قرآن و سنت فقہ اسلامی کا بنیادی مآخذ ہیں اور فقہاے اسلام نے ان کی روشنی میں فقہ اسلامی کا عظیم الشان ذخیرہ مستنبط کیا ہے کہ قانون کی دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہے۔ اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن و سنت کو اپنا دائمی معجزہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں وحی ہیں اور دونوں اپنے اندر معجزانہ شان رکھتے ہیں اور قیامت تک کے لیے لوگوں کو دائرۂ اسلام میں داخل کرنے کا ذریعہ بنتے رہیں گے، اور انھی دونوں کے سبب قیامت کے روز میرے پیروکار زیادہ ہوں گے۔
مبارک باد کی مستحق ہیں وہ شخصیات جنھوں نے کسی بھی درجے میں قرآن و حدیث کے کسی شعبے کی خدمت کی ہے۔ڈاکٹر سہیل حسن صاحب ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور علمِ حدیث کی خدمت میں زندگی کا طویل عرصہ کھپا دیا ہے۔وہ اس پر اہلِ علم کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں۔ یہ کتاب علما اور طلبہ کے لیے ان کی طرف سے ایک نادر تحفہ ہے۔
ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اور اس کے سابق مدیر ڈاکٹر ظفراسحاق انصاری نے اس کتاب کی ترتیب و اشاعت میں بڑی دل چسپی لی ہے۔ اس پر وہ اور ان کا ادارہ بھی مبارک باد کا مستحق ہے۔(مولانا عبدالمالک)
آج کی دنیا میں خواتین اور ان کے حقوق کا تذکرہ تو بہت ہے، تاہم مشرق ہو یا مغرب، خواتین کو وہ حقوق یقینا حاصل نہیں ہیں جن کی وہ حق دار ہیں۔ جہاں تک قانون، پارلیمنٹ اور آئینی و دستوری تحفظ کا معاملہ ہے ، صورت حال اس سے بھی زیادہ گمبھیر ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ڈائرکٹر جنرل خالد رحمن اور ریسرچ اسکالر ندیم فرحت نے پاکستانی خاتون، قانون سازی اور موجود طرزِفکر کو سمجھنے کے لیے اصحاب علم و دانش کو اکٹھا کیا۔ ۲۰۰۸ء-۲۰۱۳ء تک کام کرنے والی قومی اسمبلی میں خواتین اور خاندان کے حوالے سے جو بل پیش کیے گئے اُن کا تجزیہ ایک نئے انداز سے کیا، اور ہر بل کے حوالے سے مختصر سفارشات اِس پہلو سے مرتب کیں کہ آیا، بل مؤثر تھے یا غیرمؤثر، ان پر عمل درآمد ہوسکا یا نہیں، آیندہ بہتری کے کیا امکانات ہیں۔ اِس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سائنٹی فک اپروچ کی حامل کتاب منظرعام پر آئی ہے۔
کتاب کے پیش لفظ میں مرتبین تحریر کرتے ہیں: پاکستان میں خواتین کے حقوق کا جائزہ لیا جائے تو بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی سے اقتصادی میدان میں کارکردگی تک کتنے ہی چیلنج سامنے آتے ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ بیداری کی مہمات چلائی جائیں، تعلیم، ملازمت اور ترقی کے اقدامات کیے جائیں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قانون سازی کی جائے تاکہ معاشرے میں تبدیلی پیدا ہو۔(ص ۱۱)
ڈاکٹر انیس احمد ’عورت، معاشرہ اور قانون سازی‘ کے تحت لکھتے ہیں کہ اسلام نے مسلمان خواتین کو تمام مناسب اور ضروری حقوق دیے ہیں۔ اگرچہ ہرمعاشرے میں اس پر عمل درآمد کی کیفیت مختلف رہی۔ اُنھوں نے حقوقِ نسواں کی تحریک پر بھی روشنی ڈالی ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’’پاکستان میں موجود قوانین، بلکہ دنیا بھر میں موجود قوانین کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے--- نیز مغرب نے صنف کی بنیاد پر کش مکش کا جو نظریہ دیا ہے، اُس کے مقابلے میں اخلاقیات پر مبنی، اسلام کے نظام براے خواتین و حضرات کو تمام عالم کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے‘‘۔ (مقدمہ)
کتاب میں ۲۰۰۲ء-۲۰۰۷ء کے دوران خواتین و خاندان کے حوالے سے پرائیویٹ بل، حکومتی بل اور عمل درآمد نیز قانون سازی کا بھی جامع انداز میں مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔ اُس وقت متحدہ مجلس عمل ایک اہم سیاسی گروپ کے طور پر پارلیمنٹ میں موجود تھی، اگر اس کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جاتا تو مفید ہوتا۔ پاکستان میں جو اقلیتیں ہیں اُن کی خواتین کس حالت میں ہیں، اس کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
شادی اور خاندان خصوصاً تعدد ازواج کے حوالے سے پیش کیے جانے والے بلوں کا متن شاملِ اشاعت ہے اور اس حوالے سے پیچیدگیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ’قرآن سے شادی‘ جیسی ناقابلِ فہم رسم کے خلاف پیش کیے جانے والے بل، بچوں کے نان نفقے کے بل کی تفصیلات پیش کرنے کے بعد اُمید ظاہر کی گئی ہے کہ آیندہ پارلیمنٹ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔ انسانی اسمگلنگ کے حوالے سے پیش کیے گئے بل (ص ۱۲۹)، وراثت کے قوانین کے ساتھ ساتھ ، غیرسرکاری طور پر بزرگوں کے ذریعے خاندانوں کے باہمی اور مسلسل میل ملاپ کے ذریعے طلاق کی شرح کم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔مسلم معاشرے میں خواتین کے لیے مہمات کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔
مرتبین یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان میں حکمران کوئی بھی جماعت ہو، خواتین کو حقوق صرف ایک حد تک دینے پر ہی اتفاق پایا جاتاہے۔ اپنے موضوع پر یہ جامع کتاب خواتین کے مسائل پر غوروفکر اور تحقیق کے کئی نئے پہلو سامنے لاتی ہے۔ (محمد ایوب منیر)
مولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی نے تحریر، تقریر اور تربیت کے ذریعے دین اسلام کا پیغام پھیلانے کے لیے زندگی بھر جدوجہد کی۔ بیسویں اور اب اکیسویں صدی میں متلاشیانِ حق ان کے چشمۂ فیض سے حیات آفرین پیغام حاصل کر رہے ہیں۔
زیرنظر کتاب درحقیقت، مذکورہ بالا موضوع پر ڈاکٹریٹ کے لیے لکھا گیاتحقیقی مقالہ ہے۔ ڈاکٹریٹ کے مقالوں کے بارے میں آج کل اچھا تاثر نہیں پایا جاتا کیوں کہ زیادہ تر فارمولا قسم کے غیرمعیاری مقالے سامنے آرہے ہیں۔ لیکن امرِواقعہ ہے کہ اس کتاب کا درجہ ہمارے بھیڑچال ڈاکٹریٹ یا ایم فل مقالات سے بہت بلند ہے۔ فاضل محقق نے بڑی لگن سے یہ کوشش کی ہے کہ وہ موضوع کا حق اداکرنے کے لیے اپنی توانائیاں لگادیں۔ اقتباسات سے بقدر ضرورت ہی استفادہ کیا ہے، اور باقی معاملہ تجزیاتی اور تخلیقی سطح پر پہنچ کر کیا ہے۔
مولانا مودودی کی تقریر سننے والے چند لاکھ ہوں گے اور وہ بھی ان کے معاصرین، مگر ان کی نثر: رنگوں کی بوقلمونی، استدلال کی گرفت، منطق کی عظمت، اسلام کے سرمدی پیغام کی خوشبو سے، ہر زمانے کے قاری کو صراطِ مستقیم سے جوڑتی ہے کہ پڑھتے ہوئے حق سے وابستہ ہونے پر دل لبیک کہہ اُٹھتا ہے۔
مصنف نے تنقید کے مسلّمہ ضابطوں سے مولانا مودودی کی نثر کو پرکھا اور وسیع بنیادوں پر اس کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ خود کتاب کی نثر اور احتیاط نگاری میں فاضل محقق کے استادگرامی ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی کا رنگ جابجا گواہی دیے بغیر نہیں رہتا۔ اس موضوع پر بھارت میں بھی ڈاکٹریٹ کا ایک مقالہ لکھا جاچکا ہے، اس پر ترجمان کے زیرنظر صفحات میں تبصرہ بھی ہوا تھا مگر محمد جاوید اصغر کی یہ کاوش اس سے کہیں زیادہ بلندپایہ اور معیاری ہے۔(سلیم منصور خالد)
لالہ صحرائی (اصل نام: چودھری محمد صادق، ۱۹۲۰ء-۲۰۰۰ء) افسانہ و ڈراما نگار اور ادیب تھے۔ آخری عمر میں ان کے دل میں نعت گوئی کی تمنّا بیدار ہوئی، دعاگو رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے لطف ِ خاص سے انھیں حرمین شریفین میں حاضر ہونے کا شرف بخشا۔ وہاں مبارک لمحوں میں، دوسری دعائوں کے علاوہ وہ یہ دعا بھی کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے نعت کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے فضل و کرم کا کرشمہ ملاحظہ ہو کہ جولائی ۱۹۹۱ء کی ایک چمکتی صبح کو ان پر یکایک نعتوں کا نزول شروع ہوگیا۔
زیرنظر کتاب انھی نعت گو لالہ صحرائی کی شخصیت، سوانح اور نعت گوئی پر مضامین اور تاثرات کا مجموعہ ہے، جسے معروف محقق، نقاد اوراقبال شناس ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی نے مرتب کیا ہے۔کتاب کو ۱۰ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس میں لالہ صحرائی کے ساتھ مصاحبے(انٹرویو)، ان کی شخصیت اور فکروفن، اہلِ علم و ادب کے مضامین ، ان کے اہلِ خانہ کے تاثرات، ان کی وفات پر ان کے احباب اور مداحوں کے تاثرات، ان کی کتب پر تبصرے اور دیباچے، ان کی خدمت میں منظوم خراجِ تحسین اور ان کی وفات پر تعزیت نامے شامل ہیں۔ یوں ہاشمی صاحب نے سارے دستیاب لوازمے کو مختلف عنوانات کے تحت تقسیم کر کے ایک گل دستہ مرتب کیا ہے۔ اس میں لالہ صحرائی کے متعلق پروفیسر خورشیداحمد، الطاف حسن قریشی، مجیب الرحمن شامی، مشفق خواجہ، احمدندیم قاسمی، حفیظ تائب، اسلم انصاری، عاصی کرنالی، خورشید رضوی اور حفیظ الرحمن احسن جیسے اکابر علم و ادب کے مضامین شامل ہیں۔مرحوم کے اہلِ خانہ اور بعض اعزہ کی تحریروں سے ان کے ایسے معمولات اور عادات و خصائل کا پتا چلتا ہے جو کسی اور ذریعے سے معلوم نہ ہوسکتی تھیں۔
یہ کتاب درحقیقت لالہ صحرائی کی متواضع، سادہ، منکسرالمزاج اور محبت ِ رسولؐ میں ڈوبی ہوئی شخصیت کو ہمارے سامنے لاتی ہے۔ اس موضوع پر کام کرنے والے محققین کے لیے یہ ایک مستند مآخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اتنی خوب صورت، عمدہ اور معلومات افزا کتاب کی اشاعت کا سہرا فرزند ِ لالہ صحرائی، ڈاکٹر جاوید احمد صادق کے سر ہے۔(قاسم محموداحمد)
انسانی زندگی سے وابستہ مختلف روزمرہ مسائل پر مبنی سوالات و استفسارات کے شافی جوابات پر مبنی ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی کا یہ دوسرا مجموعہ ہے۔ یہ سوالات و جوابات جماعت اسلامی ہند کے ترجمان زندگی نو میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ اب ان کو کتابی شکل میں شائع کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پہلا مجموعہ شائع کیا گیا تھا۔ اس مجموعے میں کُل ۶۱موضوعات ہیں جن میں زندگی کے عام فقہی مسائل بالخصوص بے وضو قرآن کو چھونا، قرآن کے بوسیدہ اَوراق کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ چُھوٹی ہوئی نمازوں کا کفّارہ، مساجد میں عورتوں کی حاضری، تعمیر مسجد میں غیرمسلم کا مالی تعاون، زکوٰۃ سے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادایگی، حج، حجِ بدل، قربانی، شادی کی رسمیں، مصنوعی استقرارِ حمل، بگڑے ہوئے شوہر کی اصلاح کا طریقہ، تحریکی خواتین کا دائرۂ عمل، چہرے اور آواز کا پردہ، سودی کاروبار، کالے خضاب کی شرعی حیثیت وغیرہ شاملِ اشاعت ہیں۔
اسی طرح بعض علمی مسائل جن میں آیاتِ قرآنی، حدیث نبویؐ سے متعلق اشکالات، سیرتِ رسولؐ، سیرتِ صحابہؓ ، تاریخِ اسلام جیسے موضوعات بالخصوص سورئہ توبہ کے شروع میں بسم اللہ نہ پڑھنے کی وجہ، قرآنی بیانات میں اختلاف و تضاد؟ علمِ غیب کی کنجیاں، کیا رسولؐ اللہ کا مشن لوگوں کو بہ جبر مسلمان بنانا تھا؟ضعیف اور موضوع احادیث، گمراہ فرقے اور سزاے جہنم، صحابہ کرام کے کرداروں پر مبنی اداکاری،طبی اخلاقیات جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
بنیادی طور پر مسائل کو قرآن و سنت کی روشنی میں حل کرنے کا رجحان غالب ہے، جب کہ اس دوران علماے سلف اور فقہاے کرام کی آرا بھی نظرانداز نہیں کی گئیں، نیز مسائل سے متعلق جدیدمعلومات اور سائنسی علوم و اعدا و شمار کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ مسائل پر اختلافی نقطۂ نظر کے ساتھ ساتھ اعتدال کے پہلو کو بھی اُجاگر کیا گیا ہے۔ روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل اور الجھنوں کے شافی اور اطمینان بخش جواب دیے گئے ہیں۔(عمران ظہور غازی)
زیرتبصرہ کتاب میں مصنف نے ایسے سچے واقعات جمع کیے ہیں جو خلافت ِ راشدہ کے دور میں وقوع پذیر ہوئے۔ ا ن واقعات میں سماجی بہبود، عدل و انصاف اور فلاح انسانیت کے ایسے نقوش نمایاں ہیں جو آج بھی ہمارے لیے لائق تقلید ہیں، اور آج کے حکمرانوں کے لیے چراغِ راہ ہیں۔
کتاب کی ابتدا میں حضور اکرمؐ کے اسوئہ حسنہ سے کی گئی ہے اور آپؐ کے حُسنِ سلوک اور سادگی کے واقعات لکھے گئے ہیں۔ انعقادِ خلافت کی ضرورت بیان کرنے کے بعد خلفاے راشدین کے عہد میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات، ان کی سادہ زندگی، امانت و دیانت، رعایا کی جان و مال کی حفاظت، ان کی عادلانہ زندگی، سخاوت اور بیت المال میں پوری رعایا کے استحقاق کا خیال، حُسنِ سلوک، کنبہ پروری سے پرہیز اور مستحق لوگوں کے وظائف مقرر کرنے کے واقعات نہایت سلیس انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ رفاہِ عامہ کے کاموں میں دل چسپی، مفتوحہ زمینوں پر لگان اور جزیے کی وصولی میں نرمی کے واقعات بھی خلفاے راشدین کی رعایاپروری کی دلیل ہیں۔ کتاب دل چسپ واقعات کا مجموعہ ہے۔ یہ واقعات تاریخ و سیرت کی متعدد کتابوں سے ماخوذ ہیں۔(ظفرحجازی)
خواتین کے لیے دینی حدود و قیود میں رہتے ہوئے، اجتماعی جدوجہد کرنا کتنا مشکل کام ہے، اس کا اندازہ شاید عام خواتین نہ لگاسکیں، اور اُن خواتین کے لیے بھی اس بات کا اِدراک کرنا مشکل ہے جو خواتین سے متعلقہ شعبہ جات سے منسلک ہیں کہ جماعت اسلامی کی اجتماعی جدوجہد سے وابستہ خواتین کن مشکل حالات میں کام کررہی ہیں۔
اگرچہ دعوت، تبلیغ، تربیت، خدمت ِ خلق اور قرآن کلاسوں کی سرگرمیاں تو گذشتہ ۶۰برسوں سے حلقہ خواتین کے تجربات کا حصہ ہیں، مگر سیاسی جدوجہد میں، خاص طور پر پارلیمنٹ کے مختلف ایوانوں میں درپیش چیلنجوں سے نمٹنا ایک بالکل نیا امتحان تھا۔ ۲۰۰۲ء میں جب جنرل پرویزمشرف کے مارشل لا نے تمام پارلیمانی ایوانوں میں خواتین کی نشستوں کو بڑھا دیا تو حلقہ خواتین کے لیے ایک نیا چیلنج تھا۔ مگر پارلیمنٹ کی ان رکن خواتین نے دستور سازی، انسانی حقوق کے تحفظ اور قومی و ملّی مسائل پر بڑی فہم و فراست، مہارت اور مستعدی سے نمایندگی کا حق ادا کیا۔ خواتینِ جماعت اسلامی کی اس پارلیمانی کارکردگی کا خود مدِمقابل لابی کی خواتین نے بھی اعتراف کیا ہے۔کتاب کے مطالعے سے قیمتی معلومات سے مستفید ہونے کا موقع ملتا ہے۔
کتاب کا اسلوب ایک جامع رپورٹ کا سا ہے، تاہم اس میں ایک کمی رہ گئی ہے کہ اس سے قبل جماعت کے حلقہ خواتین نے پارلیمنٹ میں جو نمایندگی کی تھی، اس کا تذکرہ بھی شامل ہونا چاہیے تھا۔ اگلے ایڈیشن میں وہ دے دینا چاہیے۔(سلیم منصور خالد)
۱۱؍اگست ۴۷ء کے بعد جو ارشادات قائداعظم کی زبان سے سنے گئے اور ان کے معتمد ترین رفیقوں نے ان کی جو ترجمانی باربار خود ان کی زندگی میں کی اور جس کی کوئی تردید ان کی جانب سے نہ ہوئی، اس کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
پشاور ۱۴جنوری : پاکستان کے وزیراعظم مسٹر لیاقت علی خاں نے اتحاد و یک جہتی کے لیے سرحد کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے قائداعظم کے ان اعلانات کا پھر اعادہ کیا کہ پاکستان ایک مکمل اسلامی ریاست ہوگا… انھوں نے فرمایا کہ پاکستان ہماری ایک تجربہ گاہ ہوگا اور ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ۱۳ سو برس پرانے اسلامی اصول ابھی تک کارآمد ہیں۔ (پاکستان ٹائمز، ۱۵جنوری ۱۹۴۸ء)
کراچی، ۲۶جنوری: قائداعظم محمدعلی جناح گورنر جنرل پاکستان نے ایک اعزازی دعوت میں(جو انھیں کراچی بار ایسوسی ایشن کی طرف سے گذشتہ شام دی گئی) تقریر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میرے لیے وہ گروہ بالکل ناقابلِ فہم ہے جو خواہ مخواہ شرارت پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہ پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کا دستور شریعت کی بنا پر نہیں بنے گا۔(پاکستان ٹائمز، ۲۷جنوری ۱۹۴۸ء)
راولپنڈی، ۵؍اپریل: مسٹر لیاقت علی خاں وزیراعظم پاکستان نے آج راولپنڈی میں اعلان کیا کہ پاکستان کا آیندہ دستور قرآنِ مجید کے احکام پر مبنی ہوگا۔ انھوں نے فرمایا کہ قائداعظم اور ان کے رفقا کی یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان کی نشوونما ایک ایسی مضبوط اور مثالی اسلامی ریاست کی حیثیت سے ہو جو اپنے باشندوں کو عدل و انصاف کی ضمانت دے سکے۔(پاکستان ٹائمز، ۷؍اپریل ۱۹۴۸ء)
ان صاف اور صریح بیانات کی موجودگی میں قائداعظم کی ۱۱؍اگست والی تقریر کا ایک ایسا مفہوم نکالنا جو ان کے تمام اگلے پچھلے ارشادات کے خلاف ہو مرحوم کی یاد کے ساتھ انصاف نہیں ہے۔ (’مولانا مودودی کا تحقیقاتی عدالت میں دوسرا بیان‘، ترجمان القرآن،جلد۴۲، عدد۲، شعبان ۱۳۷۳ھ،مئی ۱۹۵۴ء، ص۲۱-۲۲)