اقبالیات پر بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر اقبال کی نظم و نثر میں اتنی گہرائی ہے اور ان کی شخصیت کے اتنے پہلو ہیں کہ لکھنے والے ذخیرئہ اقبالیات میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ مصنف نے چار تحقیقی مقالات پر مشتمل زیرنظر مجموعہ شائع کیا ہے۔ عنوانات: صوفی عبدالمجید پروین رقم، کلامِ اقبال کے ایک خطاط۔ اقبال شکنی کی روایت۔ لفظ پاکستان کا خالق: اقبال۔اقبال کا نقدوآہنگ اور ارمغانِ حجاز۔ زیربحث موضوعات پر ماقبل جو کچھ لکھا گیا، مصنف اس سے باخبر ہیں۔ مباحث کے مختلف پہلوئوں کو ان مضامین میں سمیٹ لیا ہے۔ اقبال شکنی کی روایت ایک سو صفحات پر مشتمل ہے۔ غالباً اس لیے کہ اس موضوع پر ڈاکٹر محمد ایوب صابربھی بہت کچھ لکھ چکے ہیں۔
اب تک یہی سمجھا جاتا رہا ہے کہ لفظ ’’پاکستان‘‘ کے خالق چودھری رحمت علی تھے، مگر مصنف نے قرار دیا ہے کہ لفظ ’’پاکستان‘‘ اقبال ہی کی عطا ہے (ایوب صابر صاحب نے بھی اس موضوع پر تحقیق کی ہے)۔ مصنف نے اپنی محنت کا ثمر بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے۔ ذخیرئہ اقبالیات میں یہ ایک عمدہ اضافہ ہے۔ طباعت و اشاعت معیاری ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
مؤلف نے تقریباً ۶۵ چھوٹے بڑے مضامین اور کالموں کو چار عنوانات کے تحت مرتب کیا ہے: ’’تعارف اسلام، مسلمان، تاریخ اسلام، مسلم معاشرہ‘‘۔ دیباچہ میں وہ کہتے ہیں: ’’تفہیم القرآن کا مستقل طالب علم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری تفاسیر کا تقابلی مطالعہ بھی کیا۔ قرآن کے مضامین جو میری سمجھ میں آئے، انھیں تحریری شکل دے دی‘‘۔
بلاشبہہ یہ کتاب کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی معلومات افزا ہے۔ چند عنوانات: کائنات کی حقیقت، انسان اشرف المخلوقات، زکوٰۃ، ذریعہ، روزے، حج بیت اللہ،جہاد، سود، عیدالفطر، جمعہ، قادیانیت، ختم نبوت، یہودیت، میڈیا، ویلنٹائن ڈے وغیرہ۔(رفیع الدین ہاشمی)
سرسیّداحمد خاں (م: ۱۸۹۸ء) کا اسمِ گرامی برعظیم پاک و ہند میں مسلمانوں کے ایک قومی رہنما کی حیثیت سے معروف ہے۔ مزید یہ کہ انھیں مسلمانوں میں جدید تعلیم کے داعی اور رہنما کی حیثیت سے بلند مرتبہ بھی حاصل ہے۔ شاہ نواز فاروقی صاحب نے سرسیّد کی قومی یا ماہر تعلیم کی حیثیت سے خدمات کو جزوی طور پر، لیکن اُن کے فکری ہیکل کو بنیادی طور پر اپنی توجہ اور فکرمندی کا موضوع بنایا ہے۔ ہمارے ہاں سیکولرزم اور فکری و تہذیبی دو رنگی کے جس مرض کی چھوت چھات عام ہے، بقول شاہ نواز صاحب، اس کا سرچشمہ جناب سرسیّد احمد خاں ہی ہیں۔
محترم مصنف نے مذکورہ مقدمے کو پرکھتے ہوئے سرسیّداحمد کے فکری اور تحریری اثاثے کا مطالعہ کیا، بیانات کا تجزیہ کیا اور قائم کردہ مفروضات کی تہہ میں چھپے ہوئے لاوے کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی علمی و تجزیاتی مطالعے کو انھوں نے زیرتبصرہ کتاب میں پیش کیا ہے اور نئی نسلوں کو یہ بتایا ہے کہ سرسیّداحمد خاں کو ایک شخصیت کے طور پر دیکھنے کے بجائے انھیں ایک فکر، ایک علامت اور ایک فکری روایت، سیاسی عمل اور تجددّ و تحریف فی الدین کے انجن کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ انھی نکات کی وضاحت کے لیے مدلل انداز سے مباحث کو تحریر کیا گیا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کی فکری زندگی میں آزاد روی، بے مقصدیت، لادینیت، دو رنگی اور مداہنت پسندی کے جو پھریرے لہرا رہے ہیں، انھیں سمجھنے کے لیے انکارِ حدیث سے منسوب سرسیّد کی مذہبی سوچ کو یہ کتاب پیش کرتی ہے۔ اگرچہ یہ مضامین کالموں کی صورت میں لکھے گئے تھے، لیکن جتنے بڑے موضوع کو زیربحث لایا گیاہے، وہ کالموں کا موضوع نہیں ہے۔ اگر اس کتاب کو نظرثانی کرکے اور کالموں کی پہچان ختم کرکے، مربوط کتاب بنادیا جائے تو اس کی افادیت کہیں زیادہ بڑھ جائے گی۔ (س م خ )
مصنف نے ابتدا میں لکھا ہے: ’’سقراط کا دیس دیکھنا ایک بڑی تمنا تھی جو سفرِ یونان کی صورت میں پوری ہوئی‘‘۔جس کا سبب یونان میں پاکستان کے سفیر خالد عثمان قیصرصاحب کی جانب سے یونان کے دورے کی دعوت بنی۔ وہ اپنے بیٹے محمد حذیفہ کے ہمراہ یونان پہنچے اور اکتوبر ۲۰۱۸ء میں یونان کی سیاحت کی اور اس کتاب کی صورت میں حالات و خیالات اور تاثرات رقم کیے۔
وہ یونان کے ماضی پر تحقیقی انداز سے نظر ڈالتے ہیں، جس کے نتیجے میں یہ سفرنامہ: یونان اور یونانی اکابر اور فلسفیوںکی مختصر سی تاریخ بھی ہے۔ کہیں کہیں وہ اپنے حالات و خیالات بھی لکھ دیتے ہیں۔ تقریباً نصف آخر کا ایک حصہ ان کی تقریروں پر مشتمل ہے۔آخر میں اُردو دُنیا میں ’سقراط شناسی کا سفر‘‘ اور ’’حالی کا یونان‘‘ کے عنوان سے دو معلومات افزا مضامین شامل ہیں۔
پاکستان میں یونان کے سفیر ایندریاس پاپاس تاورو’پیش لفظ‘ میں لکھتے ہیں: ’’اس کتاب کے ذریعے پاکستانی خود کو یونان اور اہلِ یونان کے قریب محسوس کریں گے‘‘۔ اور جناب خالد عثمان قیصر دیباچے میں کہتے ہیں: ’’یہ رُودادِ سفر جو بہ یک وقت ایک اسکالر، ادیب اور شاعر کا سفرنامہ بھی ہے اور یونان کی قدیم تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا آئینہ بھی‘‘۔
کتاب خوب صورت انداز میں شائع کی گئی ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
اپریل کے ’اشارات‘: ’مسئلہ کشمیر اور سیّد علی گیلانی کا انتباہ‘ میں بہت واضح انداز سے حکومت ِ پاکستان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر پر رواداری میںکسی اقدام سے خبردار رہے۔اور پھر پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط صاحب اور افتخار گیلانی صاحب کے مضامین مسئلہ کشمیر کی حقیقی تصویر کو نمایاں کرنے کے ساتھ سالہا سال سے جدوجہد آزادیٔ کشمیر کے لیے اپنا لہو پیش کرنے والے سرفروشوں کے موقف کو واضح طور پر بیان کرتے ہیں۔ محترم پروفیسر ابوالخیر کشفی اور جناب محمد سعودعالم کے مضامین، قرآنی فکر اور رہنمائی سے بھرپور ہیں۔
اسلامی افغانستان کے حوالے سے محترم حکمت یار کی گفتگو (اپریل ۲۰۲۱ء)بہت ہی مفید اور فکرانگیز ہے۔ البتہ ’مدیر کے نام‘ میں مجھے ڈاکٹر اسحاق منصوری صاحب کے اس تبصرے سے اختلاف ہے جو انھوں نے حبیب الرحمٰن چترالی صاحب کے مارچ میں شائع ہونے والے مضمون پر کیا ہے۔ چترالی صاحب کا مضمون ’اصطلاحات اور تحریف کاجادو‘اپنے اسلوب اور تجزیے کے تحت ایک احسن کوشش اور علمی دلائل سے بھرپور تحریر ہے۔ہمیں جدیدیت اور مابعد جدیدیت پر کھلی آنکھوں سے غور کرنا چاہیے کہ جس کے نقصانات انسانیت بھگت رہی ہے۔
’اصطلاحات اور تحریف کا جادو‘ مضمون میں دلائل سے ایک مضبوط اور متبادل موقف پیش کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ فتنۂ فرعون و نمرود کی طرح یہ نیوورلڈ آرڈر ہےجس نے انسانیت کو موت اور زندگی کی کش مکش سے دوچار کر دیا ہے۔چترالی صاحب نے بہت سے سائنسی دلائل پیش کرتے ہوئے اور تھامس مالتھس کے آبادی کے کنٹرول کرنے کے قدیم فلسفے کو بڑے فتنوں کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔
مارچ کے شمارے میں پروفیسر خورشید احمد صاحب نے سچ کہا کہ ’پاکستان کے نظریاتی وجود ‘ کی بقا اسلامی نظریے، اسلامی تہذیب و تمدن و معاشرت، اسلامی معاشی نظامِ عدل کو خلوص اور ایمان کے ساتھ اختیار کرنے میں ہی ہے۔ یقینا پاکستان کی ترقی و فلاح اور محفوظ مستقبل انھی ابدی اخلاقی قوانین کے تابع ہونے میں ہے۔ لیکن افسوس ،عوام ہوں یا صاحبانِ اقتدار، غالب اکثریت اخلاقی تنزل کا شکارہے۔ اسی شمارے میں ’اصطلاحات اور تحریف کا جادو‘ علم میں اضافے کا باعث بنا۔ سارا شمارہ دل چسپ اور معلومات افزا ہے۔