بہ حیثیت انسان مشکلات کا ایک سیلاب ہمارے خلاف اُمڈا چلا آرہا ہے۔ یہ کرئہ ارضی پر مسلط ہوئی تپش اور گرمی کے حوالے سے ’انٹر گورنمنٹل پینل آن کلائمیٹ چینج‘ (IPCC) کی تازہ ترین رپورٹ میں ہے جو حالت ِ خطرے کی لکیر کو چھو رہی ہے۔ یاد رہے، اس موضوع پر یہ اب تک کی سب سے جامع سائنسی رپورٹ ہے۔ ایک بار پھر ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ۲۰۳۰ء خطرناک طور پر زندگی گزارنے کا سال ہے — جب انسانیت کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی مقدار کو نصف حد تک کم کرنا چاہیے، اور پھر ۲۰۵۰ء تک اسے مکمل طور پر روکنے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔
وگرنہ دوسری صورت میں کرۂ ارض کو آب و ہوا کی ان تمام تباہیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جو ہم پہلے ہی تباہ ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ’’موسمیاتی ٹائم بم ٹک ٹک کر رہا ہے‘‘۔ پچھلی نصف صدی میں درجۂ حرارت میں اضافے کی شرح۲ہزار برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی تیاری اور پورے ماحول میں اس کے پھیلائو کی مقدار گذشتہ ۲۰ لاکھ برسوں میں سب سے زیادہ ہے۔
سائنس دان ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ اس نظر آتی تباہی سے بچنے یا گلوبل وارمنگ کو ایک عشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک رکھنے کے امکانات بھی بہت کم اثر پیدا کریں گے۔زمین پر مشتمل سیارہ پہلے ہی ایک اعشاریہ ایک ڈگری سینٹی گریڈ تک گرم ہو چکا ہے، اور ہر سال ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا بھر میں گرمی کے ریکارڈ قائم ہوتے چلے آرہے ہیں۔
مسئلے کا ایک اور بڑا حصہ مختلف قوموں کے قومی مفادات پر مشتمل ہے۔ ہم یہ صاف دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی ان کی معیشتوں کو ترقی کی ضرورت ہوتی ہے، یا مستقبل میں ہوگی، تو یہ حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کریں گی۔ جیسے چین کا کوئلے سے چلنے والے ۱۶۸ نئے پاور پلانٹس کی تعمیر کی اجازت دینے کا فیصلہ ہے، یا امریکا کی جانب سے الاسکا میں ولو آئل ڈرلنگ پروجیکٹ پر پیش قدمی کرنے کا اعلان۔
پھر اپنی روش بدلنے سے ملکوں کا عدم تعاون اور انکار ہے، خاص طور پر امیر ترین ممالک کا منفی رویہ۔ وہ ہم سے چاہتے ہیں کہ ہم پلاسٹک کی پیکیجنگ پر مبنی زیادہ ایئر کنڈیشنگ کریں، دُوردراز سے خوراک تک رسائی حاصل کریں۔ زیادہ تیل اور گیس استعمال کریں، پرانے جنگلات سے زیادہ لکڑی نکالیں، مزید ایسی ایسی جگہوں پر گھر چاہتے ہیں جہاں انھیں تعمیر نہیں ہونا چاہیے۔ اور جب معاملات غلط ہو جاتے ہیں تو مزید حکومتی بیل آؤٹ مدد کو آجاتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ وہ تبدیلیاں کیا ہوں گی، کیونکہ یہ الم ناک خبریں باقاعدگی سے اَپ ڈیٹ ہوتی رہتی ہیں، ہمیشہ کی طرح پہلے سے بھی بدتر خبروں کے ساتھ۔ مثال کے طور پر اُوپر مذکورہ IPCC رپورٹ کے الفاظ میں:
مگر دوسری طرف یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ تیل اور گیس کمپنی کا منافع اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ مثال کے طور پر، بی پی آئل کمپنی نے ۲۰۲۲ء میں۲۸ بلین ڈالر منافع کی اطلاع دی، اور تیل کمپنی ایکسن موبائل نے ۵۶ بلین ڈالر منافع کی اطلاع دی۔ ان کمپنیوں نے بغیر کسی شرمندگی کے اعلان کیا ہے کہ وہ قابل تجدید توانائی کی طرف بڑھنے کے وعدوں کو پیچھے چھوڑ دیں گی۔
فرانس کی حکومت نے گہرے سمندر میں کان کنی پر پابندی کی حمایت کرنے کا اعلان کیا ہے، اور اس سمت میں وہ پہلی حکومت ہے۔ کیا کوئی دوسرا بھی اس طرف قدم بڑھائے گا؟
سوال : کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی روزانہ پانچ نمازیں بجا لاتے تھے اور اتنی ہی رکعتیں پڑھتے تھے جتنی ہم پڑھتے ہیں؟ اس سوال کی قدرے میں نے تحقیق کی لیکن کوئی مستند حوالہ فی الحال ایسا نہیں ملا کہ اس سوال کا جواب ہوتا۔ بخلاف اس کے بخاری شریف میں یہ حدیث نظر آئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی دو دو رکعتیں پڑھیں۔ اسی طرح مؤطا، کتاب الصلوٰۃ میں یہ لکھا دیکھا کہ رات دن کی نماز دو دو رکعت ہے۔ یہ دونوں حدیثیں دو دو رکعت نماز ثابت کرتی ہیں۔ ان خیالات و شکوک نے ذہن کو پراگندہ کررکھا ہے اور اکثر مجھے یقین سا ہونے لگتا ہے کہ ہماری موجودہ نماز وہ نہیں جو آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہوگی۔ خدارا میری اُلجھن کو دُور فرمایئے اور مجھے گمراہ ہونے سے بچایئے۔ مجھے نماز چھوٹ جانے کا خطرہ ہے۔
جواب :جن احادیث کا آپ نے حوالہ دیا ہے وہ ابتدائی دور کی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل، جب کہ نماز کے احکام بتدریج مکمل ہوچکے تھے، یہی تھا کہ آپؐ پانچوں وقت وہی رکعتیں پڑھتے تھے جو اب تمام مسلمانوں میں رائج ہیں۔ یہ چیز دوسری متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ حضرت عمرؓ کا جو قول آپ نے نقل کیا ہے وہ نوافل سے متعلق ہے۔ (فروری ۱۹۶۱ء)
سوال : کیا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی آج کل کے صوفیہ کی طرح تزکیۂ نفس کیا کرتے تھے اور انھیں عالم بالا کے مشاہدات ہوتے رہتے تھے؟
جواب :صحابۂ کرامؓ نے تو عالمِ بالا کے معاملے میں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعتماد پر غیب کی ساری حقیقتوں کو مان لیا تھا، اس لیے مشاہدے کی نہ ان کو طلب تھی اور نہ اس کے لیے انھوں نے کوئی سعی کی۔ وہ بجائے اس کے کہ پردئہ غیب کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کرتے، اپنی ساری قوتیں اس جدوجہد میں صرف کرتے تھے کہ پہلے اپنے آپ کو اور پھر ساری دُنیا کو خدائے واحد کا مطیع بنائیں اور دُنیا میں عملاً وہ نظامِ حق قائم کردیں، جو بُرائیوں کو دبانے اور بھلائیوں کو نشوونما دینے والا ہو۔( جولائی-اگست ۱۹۴۵ء)
سوال : قرآن پاک کی مختلف تفسیریں کیوں ہیں؟ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تفسیر بیان کی ہے، وہ ہوبہو کیوں نہ لکھ لی گئی؟ کیا ضرورت ہے کہ لوگ اپنے اپنے علم کے اعتبار سے مختلف تفسیریں بیان کریں اور باہمی اختلافات کا ہنگامہ برپا رہے؟
جواب :قرآن پاک کا جو فہم، دین کے حقائق اور اس کے احکام جاننے کے لیے ضروری تھا، اس کی حد تک تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ارشادات اور اپنے عمل سے اس کی تفسیر فرما گئے ہیں۔ لیکن ایک حصہ لوگوں کے غوروخوض اور فکروفہم کے لیے بھی چھوڑا گیا ہے تاکہ وہ خود بھی تدبر کریں۔ اس حصے میں اختلافات کا واقع ہونا ایک فطری امر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا منشا اگر یہ ہوتا کہ دُنیا میں سرے سے کوئی اختلاف ہو ہی نہیں تو وہ تمام انسانوں کو خودہی یکساں فہم عطا فرماتا، بلکہ عقل و فہم اور اختیار کی قوتیں عطا کرنے کی ضرورت نہ تھی، اور اس صورت میں آدمی کے لیے نہ کوشش کا کوئی میدان ہوتا، اور نہ ترقی و تنزل کا کوئی امکان۔(اگست۱۹۵۹ء)
سوال : کیا انسان کو سیکولرزم یا دہریت روحانی ما دّی ترقی کی معراج نصیب کراسکتی ہے؟
جواب :سیکولرزم یا دہریت درحقیقت نہ کسی روحانی ترقی میں مددگار ہیں اور نہ مادی ترقی میں۔ معراج نصیب کرنے کا ذکر ہی کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانے کے اہل مغرب نے جو ترقی مادی حیثیت سے کی ہے ، وہ سیکولرزم یا مادہ پرستی یا دہریت کے ذریعے سے نہیں کی، بلکہ اس کے باوجود کی ہے۔ مختصراً میری اس رائے کی دلیل یہ ہے کہ انسان کوئی ترقی اس کے بغیر نہیں کرسکتا کہ وہ کسی بلند مقصد کے لیے اپنی جان و مال کی، اپنے اوقات اور محنتوں کی اور اپنے ذاتی مفاد کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو۔ لیکن سیکولرزم اور دہریت ایسی کوئی بنیاد فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کی بناپر انسان یہ قربانی دینے کو تیار ہوسکے۔ اسی طرح کوئی انسانی ترقی اجتماعی کوشش کے بغیر نہیں ہوسکتی، اور اجتماعی کوشش لازماً انسانوں کے درمیان ایسی رفاقت چاہتی ہے، جس میں ایک دوسرے کے لیے محبت اور ایثار ہو۔ لیکن سیکولرزم اور دہریت میں محبت و ایثار کے لیے کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اب یہ ساری چیزیں مغربی قوموں نے مسیحیت سے بغاوت کرنے کے باوجود ان مسیحی اخلاقیات ہی سے لی ہیں، جو ان کی سوسائٹی میں روایتاً باقی رہ گئی تھیں۔ ان چیزوں کو سیکولرزم یا دہریت کے حساب میں درج کرنا غلط ہے۔ سیکولرزم اور دہریت نے جو کام کیا ہے، وہ یہ کہ مغربی قوموں کو خدا اور آخرت سے بے فکر کرکے خالص مادہ پرستی کا عاشق اور مادی لذائذ و فوائد کا طالب بنادیا ہے۔ مگر ان قوموں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے جن اخلاقی اوصاف سے کام لیا ، وہ ان کو سیکولرزم یا دہریت سے نہیں ملے بلکہ اس مذہب ہی سے ملے جس سے وہ بغاوت پر آمادہ ہوگئے تھے۔ اس لیے یہ خیال کرنا سرے سے غلط ہے کہ سیکولرزم یا دہریت ترقی کی موجب ہیں۔ وہ تو اس کے برعکس انسان کے اندر خودغرضی، ایک دوسرے کے خلاف کش مکش اور جرائم پیشگی کے اوصاف پیدا کرتی ہیں،جو انسان کی ترقی میں مددگار نہیں بلکہ مانع ہیں۔ (اکتوبر ۱۹۶۱ء)
سوال : نماز کے آخر میں جو سلام ہم پھیرتے ہیں، اس کا مقصداورمخاطب کون ہے؟
جواب :کسی عمل کو ختم کرنے کے لیے آخر اس کی کوئی صورت ہونی چاہیے۔ نماز ختم کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ جو قبلہ رو بیٹھ کر عبادت کر رہے تھے، اب دونوں طرف منہ پھیرکر اس عمل کو ختم کردیں۔ اب منہ پھیرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ چپکے سے منہ پھیر دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آپ خدا سے تمام خلق کے لیے سلامتی کی دُعا کرتے ہوئے منہ پھیریں۔ آپ کو ان میں سے کون سی صورت پسند ہے؟(فروری ۱۹۶۱ء)
یہ انسانی تاریخ کا ایک حیرت انگیز واقعہ بلکہ معجزہ ہے کہ آٹھ برس کی مختصر سی مدت میں ایک قصبے کی چھوٹی سی ریاست، جو چند مربع میل اور چند ہزار انسانوں پر مشتمل تھی، پورے عرب پر چھا گئی۔ صرف آٹھ برس کے اندر۱۰، ۱۲ لاکھ مربع میل کا پورا ملک مسخر ہوگیا، اور مسخر بھی اس طرح ہواکہ لوگ محض ایک سیاسی نظام ہی کے تابع نہیں ہوگئےبلکہ ان کے نظریات تبدیل ہوگئے، ان کی قدریں بدل گئیں، ان کے اخلاق بدل گئے، ان کے معاشرتی طورطریقوں میں عظیم الشان اصولی تغیر رُونما ہوگیا۔ ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی روح اور شکل دونوں میں ایک ایسی انقلابی تبدیلی واقع ہوئی، جس نے عرب ہی کی نہیں بلکہ دُنیا کی تاریخ کا رُخ بدل ڈالا۔ ان کے افرادنے فرداً فرداً اور ان کی قوم نے بحیثیت مجموعی سوچنے کا ایک نیا انداز، برتائو کا ایک نیا طریقہ اور زندگی کا ایک نیا مقصد اختیار کرلیا، جس سے وہ اپنی صدہابرس کی تاریخ میں کبھی آشنا نہ ہوئے تھے۔
اگرچہ صدیوں کی طوائف الملوکی ختم کرکے اس ملک کوایک سیاسی نظام کے تحت لے آنا بھی کوئی چھوٹا کارنامہ نہ تھا، مگر اس سے ہزاروں درجہ زیادہ بڑا کارنامہ یہ فکری و اخلاقی اور تہذیبی و تمدنی انقلاب تھا۔
افسوس ہے کہ تاریخ نگاری کے ایک غلط طریقے نے اس عظیم تغیر کو محض غزوات کے نتیجے کی حیثیت سے پیش کر دیا ، اور فرنگی مستشرقین نے اس پر خوب ڈھول پیٹا کہ ’اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے‘، حالانکہ وہ تمام لڑائیاں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوئیں، ان میں مجموعی طور پر دونوں طرف کے بمشکل ۱۴سو آدمی مارے گئے تھے۔ کسی کے پاس عقل ہو تو وہ خود غور کرے کہ اتنی کم خوںریزی کے ساتھ اتنا بڑا انقلاب کہیں تلوار کے بل پر بھی ہوسکتا ہے؟ (’اسلام عصرِحاضر میں‘ ، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، ج ۶۰، عدد۲، مئی ۱۹۶۳ء، ص۳۵