سید قطب


یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَم بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَo (المائدہ ۵:۵۱)

اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو--- یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں--- تم میں سے جو کوئی اُن کو اپنا رفیق بناتا ہے‘وہ انھی میں سے ہے--- یقینا اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

بہتر ہے کہ ہم پہلے یہ واضح کر دیں کہ اہل ایمان کو یہود و نصاریٰ سے جس ’’ولایت‘‘ کی، اللہ نے ممانعت کی ہے‘ اس کا مفہوم کیا ہے۔ ] وَلِیٌّ ،جس کی جمع اولیاء ہے‘ ولایہٗ سے بناہے۔ ولی کے معنی ہیں‘ دوست‘ محبت کرنے والا‘ مددگار‘ رفیق‘ حلیف‘ سرپرست‘ مطیع‘ذمہ دار‘ صاحب ِ امر۔ اور ولایت کے معنی ہیں‘ دوستی‘ محبت‘ رفاقت‘ سرپرستی‘ مدد‘ تحالف‘ اطاعت۔ مترجم[

اس آیت میں ’’ولایت‘‘سے مراد یہود و نصاریٰ کی مدد‘ اُن کے ساتھ عہدوپیمان اور تحالف ہے۔ اِس لفظ کا یہاں یہ مفہوم نہیں ہے کہ اُن کے دین کے سلسلے میں اُن کی پیروی نہ کی جائے‘ کیونکہ یہ بات بالکل بعید از قیاس ہے کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ بھی ہوں‘ جو دین کے معاملے میں یہود و نصاریٰ کی پیروی کرتے ہوں۔ یہ صرف تحالف اور تعاون اور نصرت کی دوستی ہے‘ جس کا معاملہ مسلمانوں پر مشتبہ تھا۔ اُن کا خیال تھا کہ یہ جائز ہے کیونکہ مفادات اور تعلقات کے یہ رشتے عملاً پہلے سے موجود تھے۔ اسلام سے قبل عربوں اوریہود کے مابین تحالف و تعاون کے روابط قائم تھے اور مدینہ میں اسلامی نظام کے قائم ہونے کے ابتدائی دور میں بھی اِس طرح کے معاہدے موجود تھے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں ممنوع قرار دیا اور انھیں توڑنے کا حکم دیا--- یہ اُس وقت‘ جب کہ یہ واضح ہوگیا کہ مدینہ کے مسلمانوں اور یہود کے مابین اِس طرح کے روابط کا برقرار رہنا عملاً ناممکن ہے۔ ]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ آتے ہی اسلامی ریاست قائم کی اور یہود کے مختلف قبیلوں کو‘ جو مدینہ میں پہلے سے رہ رہے تھے ‘ مسلمانوں کا حلیف بنایا۔ یہ اس لیے کہ صلح و جنگ اور امنِ عامہ جیسے امور میں اُن کے اور مسلمانوں کے مابین تعاون ہو اور وہ اسلام کے قریب آسکیں‘ لیکن یہود ان معاہدوں کو مسلسل توڑتے رہے اور مشرکینِ مکہ اور مشرکینِ عرب کو مسلمانوں کے خلاف ابھار کر مسلمانوں کو جنگ کی آگ میں جھونکتے رہے‘ یہاں تک کہ جب اُن کی اسلام دشمنی حد سے بڑھ گئی اور وہ مسلمانوں کے لیے شدید ترین خطرہ بن گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تحالف کے یہ رشتے --- جن کا برقرار رکھنا یہود نے ناممکن بنا دیا تھا--- توڑ  دیے اور انھیں مدینہ سے نکال دیا۔مترجم[

ولایت کا یہ مفہوم قرآنی تعبیرات میں معروف و متعین ہے۔ مدینہ کے مسلمانوں اور اُن مسلمانوں کے مابین جو ہجرت کر کے دارالاسلام نہیں آئے تھے‘ تعلقات کی نوعیت پر گفتگو کرتے ہوئے اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِھِمْ مِّنْ شَیْ ئٍ (الانفال ۸:۷۲) ’’تمھارا اُن سے ولایت کا کوئی تعلق نہیں‘‘۔

اسلامی نظام کا قیام ‘ اسلام کا مقصود

اہل کتاب کے ساتھ اسلام کی نرمی و فراخ دلی ایک شے ہے اور انھیں ’’ولی‘‘ (رفیق اور دوست) بنانا بالکل دوسری شے‘ لیکن یہ دونوں باتیں بعض مسلمانوں کے ذہن میں گڈمڈ ہوجاتی ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں‘ جن کے نفوس پر اس دین کی حقیقت اور دنیا میں اس کا کردار پوری طرح واضح نہیں ہو سکا۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اسلام ایک عملی نظام کو برپا کرنے کی تحریک ہے‘ تاکہ اسلامی فکر کے مطابق ایک نظام عملاً وجود میں آکر قائم و غالب ہوسکے۔ یہ اسلامی فکر اپنی فطرت و طبیعت کی رو سے اُن تمام افکار و تصورات سے مختلف ہے‘ جن سے نوعِ انسانی واقف ہے‘ اور اسی لیے مخالف افکار اور طریقہ ہاے زندگی سے اُس کا تصادم ہوتا ہے ‘ جس طرح کہ اس کا تصادم لوگوں کی خواہشاتِ نفس اور خدائی نظامِ زندگی سے انحراف و بغاوت اور فسق و فجور سے ہوتا ہے۔ وہ ان سب سے ایک ایسی جنگ میں مصروف ہوجاتا ہے‘ جس سے بچنے کی کوئی تدبیر اور جس سے کوئی مفرنہیں--- یہ تصادم اور یہ جنگ اس لیے ہے کہ (غلط افکار اور نظام ہاے زندگی کی جگہ) وہ جدید عملی نظام وجود میں آجائے‘ جسے اسلام برپا کرنا چاہتا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ مؤثر ایجابی تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے۔

جن مسلمانوں کے فکرونظر میں یہ دونوں باتیں گڈمڈ ہوگئی ہیں‘ وہ درحقیقت اسلام اور اسلامی عقیدے کا واضح اور نکھرا ہوا تصور نہیں رکھتے۔ انھیں حق و باطل کی فطرت اور اِس جنگ میں اہل کتاب کے موقف کی فطرت کا صحیح ادراک نہیں۔ وہ قرآن کی اُن واضح و صریح نصوص سے بھی غافل ہیں‘ جو اس سلسلے میں وارد ہیں--- اہل کتاب کے معاملے میں نرمی و فراخ دلی برتی جائے اور جس مسلم معاشرے میں وہ رہتے ہیں‘ وہاں اُن کے ساتھ حسنِ سلوک اور اُن کے حقوق کی ضمانت اور تحفظ ہو‘ اسلام کی اِس دعوت و تعلیم کو وہ اہل کتاب سے دوستی و رفاقت رکھنے کے ساتھ گڈمڈ کرتے ہیں‘ حالانکہ مومن کی دوستی اللہ کے لیے‘ اُس کے رسولؐ کے لیے اور مسلم جماعت کے لیے مخصوص ہے۔وہ قرآن کریم کے اس بیان کو بھی بھولے ہوئے ہیں کہ مسلم جماعت سے جنگ کرنے کے معاملے میں اہل کتاب ایک دوسرے کے رفیق و مددگار ہوتے ہیں۔ یہ اُن کی مستقل اور دائمی صفت ہے۔ وہ مسلمان سے اس کے اسلام کی بنا پر بُغض و عناد رکھتے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے صرف اُس وقت راضی ہو سکتے ہیں جب وہ اپنے دین کو چھوڑ کر اُن کے دین کے پیروہوجائیں۔ ] وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتیّٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْ (البقرہ ۲:۱۲۰) ’’یہودی اور عیسائی تم سے راضی نہیں ہو سکتے‘ جب تک کہ تم اُن کے دین کے پیرو نہ بن جائو‘‘[۔ وہ اسلام اور مسلم جماعت سے جنگ کرنے پر تلے رہتے ہیں:  قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآئُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ ج وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُھُمْ اَکْبَرُط (اٰل عمران۳:۱۱۸) ’’بُغض اُن کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ شدید تر ہے‘‘۔

بلاشبہہ مسلمانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اہلِ کتاب کے ساتھ نرمی و فراخ دلی سے پیش آئیں لیکن اِس کے ساتھ مسلمانوں کو اِس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ اہلِ کتاب کے ساتھ تحالف اور دوستی کا معاملہ کریں۔ مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے دین کو غالب کرنے اور اپنے منفرد و یکتا نظام کو قائم کرنے کے لیے جو راستہ اختیار کریں گے‘ وہ اہلِ کتاب کے راستے کے ساتھ کبھی یکجا نہ ہوگا۔ وہ اہلِ کتاب کے ساتھ کتنی ہی فراخ دلی اور دوستی کا مظاہرہ کریں‘ اس کا یہ نتیجہ کبھی نہیں نکل سکتا کہ وہ اِس بات کو راضی و خوشی برداشت کرلیں کہ مسلمان اپنے دین پر برقرار رہیں اور اپنے نظام کو دنیا میں غالب کریں۔ ان کے ساتھ فیاضانہ رویے کا یہ نتیجہ بھی برآمد نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں سے جنگ کرنے اور ان کے خلاف سازشیں کرنے میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار نہ ہوں۔

مسلمانوں کی سادہ لوحی

کتنی بڑی سادہ لوحی اور کتنی بڑی غفلت کی ہے یہ بات کہ ہم یہ خیال کرنے لگیں کہ کفار و ملحدین کے مقابلے میں دین کو غالب کرنے میں ہمارا اور اہلِ کتاب کا راستہ ایک ہوسکتا ہے ‘ جس پر دونوں گامزن ہوں‘ حالانکہ جب بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کا معاملہ ہوتا ہے‘ وہ ہمیشہ کفار و ملحدین کے ساتھ ہوتے ہیں۔

ان صاف اور واضح حقائق کو ہم میں سے کچھ سادہ لوح اِس زمانے اور ہرزمانے میں نظرانداز کرتے ہیں۔ وہ اِس خیالِ خام میں مبتلا ہیں کہ مادّیت و الحاد کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم زمین میں اہل کتاب کے ساتھ ہاتھ ملا سکتے ہیں‘ کیونکہ ہم سب مذہب کے ماننے والے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں قرآن کی تصریحات اور تاریخ کے سبق‘ سب کو فراموش کیے ہوئے ہیں۔ آخر وہ اہل کتاب ہی تو تھے جنھوں نے مدینہ کے مسلمانوں کے خلاف مشرکینِ عرب کو اُبھارا اور متحد کیا تھا اور اُن کے معاون و ناصر بنے تھے‘ وہ اہلِ کتاب ہی تو تھے جنھوں نے ۲۰۰ سال تک مسلمانوں کے خلاف شدید صلیبی جنگیںکی تھیں‘ وہ اہل کتاب ہی تو تھے جنھوں نے اُندلس میں مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھا کر بیخ و بُن سے اُن کا صفایا کر دیا تھا‘ وہ اہل کتاب ہی تھے جنھوں نے فلسطین سے مسلمان عربوں کو مار مار کر نکالا تھا اور اُن کی جگہ یہود کو لابسایا تھا اور اس معاملے میں انھوں نے الحاد اور مادیت کے ساتھ پورا تعاون کیا تھا‘ یہ اہلِ کتاب ہی ہیں‘ جو حبشہ‘ صومالیہ‘ اریٹیریا اورالجزائر‘ ہر جگہ مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیںاور اُن کی جمعیت کو منتشرکر رہے ہیں۔ اور ہاں‘ یہ اہل کتاب ہی تو ہیں جو یوگوسلاویہ‘ چین‘ ترکستان‘ ہندستان اور ہر جگہ مسلمانوں کی جمعیت کو منتشر کرنے اور اُن پر مظالم ڈھانے میں الحاد‘ مادّیت اور بت پرستی کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ]اور اب یہ فہرست طویل تر ہوتی جا رہی ہے[ ۔

اِس سب کے باوجود ہم میں ایسے لوگ اُبھر کر سامنے آتے ہیں‘ جو قرآن کی قطعی تصریحات و تعلیمات سے مکمل ناواقفیت و دُوری کے باعث یہ خیال کرتے ہیں کہ اِلحادی مادّیت کے خلاف جنگ کرنے میں ہمارے اور اہلِ کتاب کے مابین دوستی اور نصرت و تعاون کے روابط قائم ہوسکتے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں‘ جو قرآن کو نہیں پڑھتے‘ اور پڑھتے ہیں تو اسلام کی‘ فراخ دلی اور نرمی کی تعلیم--- جو اسلام کی خصوصیت و فطرت ہے--- اُن کے ذہن میں اہل کتاب سے دوستی کی بات کے ساتھ خلط ملط ہوجاتی ہے‘ جب کہ اہلِ کتاب کی دوستی سے اسلام نے مسلمانوں کو روکا ہے۔

اسلام اُن کے احساسات وجذبات میں پیوست نہیں ہے‘ نہ اس پہلو سے کہ وہ واحد عقیدہ اور دین ہے‘ جو اللہ کے یہاں مقبول ہے اور جس کے سوا کوئی دین اللہ کے یہاں مقبول نہیں‘ اور نہ اِس پہلو سے کہ وہ ایک ایجابی تحریک ہے‘ جس کا ہدف زمین میں ایک نیا عملی نظام--- اسلامی نظام--- قائم کرنا ہے۔ یہ مقصدآج بھی اہلِ کتاب کی عداوتوں اور مخالفتوں کا نشانہ بنا ہوا ہے‘ جس طرح کہ کل بنا تھا۔ یہ ایک ایسا موقف ہے‘ جس میں تبدیلی ممکن نہیں‘ یہی اس سلسلے میں ان کا واحد فطری و طبیعی موقف ہے۔

ہم اِن لوگوں کو قرآنی ہدایت سے اِس غفلت یا اُسے نظرانداز کرنے کی حالت میں رہنے دیتے ہیں اور آگے بڑھ کر خود قرآن کی اِس صریح ہدایت پر غوروخوض کرتے ہیں:

یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَ م بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْط اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَo (المائدہ ۵:۵۱)

اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا ’’ولی‘‘ (رفیق اور دوست) نہ بنائو۔ وہ ایک دوسرے کے رفیق اور دوست ہیں--- تم میں سے جو کوئی اُن کو اپنا دوست بناتا ہے‘وہ انھی میں سے ہے‘ یقینا اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت میں ندا کا رخ ابتداً مدینہ کی اولین مسلم جماعت کی طرف ہے لیکن اسی کے ساتھ اُسی دم اُس کا رخ ہر مسلم جماعت کی طرف ہے‘ جو تاقیامت زمین کے کسی بھی حصے میں رہتی ہو۔      فی الحقیقت اِس ندا کا رخ ہر اُس شخص کی طرف ہے‘ جس پر الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کی صفت منطبق ہوتی ہو۔

اہلِ ایمان کو اِس بات کی ندا اور دعوت دینے کی اُس وقت ضرورت یہ تھی کہ مدینہ کے کچھ مسلمانوں اور کچھ اہل کتاب --- خصوصاً یہود--- کے مابین قطعِ تعلق پوری طرح اور قطعی طور پر نہ تھا‘ ان کے مابین دوستی‘ تحالف اور معاش اور معاملات کے ‘ نیز پڑوس اور صحبت و رفاقت کے تعلقات پہلے سے موجود تھے۔

اسلام سے قبل عربوں میں سے اہلِ مدینہ اور اہلِ یہود کے مابین خصوصیت سے جو تاریخی‘اقتصادی اور اجتماعی صورتِ حال تھی‘ اس میں یہ سب کچھ ہونا ایک فطری بات تھی۔ اس صورتِ حال کی موجودگی میں یہود کو اِس دین اور اِس دین کے ماننے والوں کے خلاف ہر طرح کی سازشوں کے سلسلے میں اپنا ناپاک رول ادا کرنے کے بہت زیادہ مواقع حاصل تھے۔یہود کی اِن سازشوں کو قرآن کی بہت سی آیات میں گنایا اور بے نقاب کیاگیا ہے۔

قرآن اس لیے آیا کہ وہ مسلمان کو اُس جنگ کے سلسلے میں‘ جو اُسے اپنے عقیدے اور دین کے تحت لازماً لڑنی ہے‘ ضروری معرفت اور فہم بخشے تاکہ عملی و واقعاتی زندگی میں اُس کا جدید نظام ظہور پذیر ہو سکے‘ اور اس لیے بھی کہ مسلمان کے قلب وضمیر میں اُن لوگوں سے‘ جن کا تعلق مسلم جماعت سے نہیں اور جو اُس کے مخصوص پرچم کے تحت نہیں‘ قطع تعلق اور کامل جدائی کے جذبات پروان چڑھیں۔ اس قطعِ تعلق کے نتیجے میں وہ اخلاقی فیاضی و بردباری‘ جو مسلمان کی دائمی صفت ہے‘ ممنوع قرار نہیں پاتی‘ البتہ وہ دوستی و رفاقت ممنوع ہوجاتی ہے جو مسلمان کے دل میں صرف اللہ‘ اُس کے رسولؐ اور اہل ایمان کے لیے ہونی چاہیے۔ جنگ کی حقیقت کا یہ ضروری فہم اور (اہل کتاب سے) یہ قطعِ تعلق‘ دونوں‘ ہر ملک اور ہر دور میں مسلمان کے لیے لازمی و ناگزیر ہیں۔

ایک دوسرے کے مددگار

بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ، ’’وہ ایک دوسرے کے رفیق اور دوست ہیں‘‘۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے‘ جس کا وقت اور زمانے سے کوئی تعلق نہیں۔ اہلِ کتاب کسی بھی ملک اور کسی بھی تاریخ میں اُمت مسلمہ کے رفیق اور دوست نہیں تھے۔ صدیوں پر صدیاں گزر کر اِس قولِ صادق کی سچائی کو ثابت کرتی رہیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کی رفاقت و نصرت اختیار کی‘ انھوں نے پوری تاریخ میں‘ زمین کے ہرگوشے میں‘ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔ یہ قاعدہ ایک بار بھی نہیں ٹوٹا‘ زمین پر وہی کچھ واقع ہوتا رہا‘ جسے قرآن نے منفرد واقعے کے طور پر نہیں‘ دائمی صفت کے طور پر بیان کیا تھا۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں:  بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ، ’’وہ ایک دوسرے کے رفیق اور دوست ہیں‘‘۔ یہ جملہ اسمیہ ہے‘یہ محض ایک اندازِ بیان نہیں ہے۔ یہ پیرایۂ بیان اِس لیے اختیار کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ یہ اہلِ کتاب کا دائمی اور بنیادی وصف ہے۔

اِس کے بعد اِس بنیادی حقیقت پر قرآن اُس کے لازمی نتیجے کو مرتب کرتا ہے۔ یہود و نصاریٰ جب (مسلمانوں کے خلاف) ایک دوسرے کے دوست ہیں تو جو شخص اُن سے رفاقت و نصرت کا تعلق رکھتا ہے‘ وہ انھی میں کا ایک فرد ہے۔ مسلم صف کا جو فرد اُن سے دوستی و رفاقت اختیار کرتا ہے‘ وہ فی الحقیقت اپنے آپ کو مسلم صف سے سے منقطع کر لیتا ہے اوراِس صف کا‘ جو بنیادی وصف ہے‘ یعنی اسلام‘ اس کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار پھینکتا ہے اور دوسری صف میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہی اِس بنیادی حقیقت کاطبیعی و واقعاتی نتیجہ ہے: وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْ،(۵:۵۱) ’’تم میں سے جو کوئی اُن کو اپنا دوست بناتا ہے‘ وہ انھی میں سے ہے‘‘۔

وہ اپنے اوپر‘ اللہ کے دین پر‘ اور مسلم جماعت پر ظلم کرنے والا ہے۔ اُس کے اِس ظلم کے باعث اللہ تعالیٰ اُسے یہود و نصاریٰ کے--- جنھیں اُس نے اپنی دوستی و رفاقت سے نوازا--- زمرے میں داخل فرمائے گا۔ اُس کی راہ نمائی حق کی طرف نہ فرمائے گا اور اُسے مسلمان صف میں واپس نہ لائے گا:  اِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَo (۵:۵۱) ’’یقینا اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔

مدینہ کی مسلم جماعت کے لیے یقینا یہ شدید تحذیروتنبیہہ تھی‘ لیکن اس میں کوئی مبالغہ نہیں‘ بلاشبہہ یہ شدید تحذیر و تنبیہہ ہے‘ مگر واقعاتی حقیقت کی مکمل آئینہ دار ہے۔ ممکن نہیں کہ کوئی مسلمان یہود و نصاریٰ سے دوستی اور نصرت و تعاون کی پینگیں بڑھائے--- جب کہ یہود و نصاریٰ (مسلمانوں کے خلاف) باہم رفیق اور ایک دوسرے کے حامی و ناصر ہیں--- اور اس کا ایمان و اسلام برقرار ہے‘ اور وہ اُس مسلم صف کا ایک فرد بنا رہے جس کی دوستی صرف اللہ‘ اُس کے رسولؐ اور اہلِ ایمان سے ہوتی ہے۔ یہ متضاد سمتوں میں جانے والے دو راستے ہیں۔

مسلمان کا فیصلہ کُن موقف کامل یقین کے ساتھ یہ ہے کہ اُس کے ‘اور اُن لوگوں کے مابین‘ جو اسلام کے ماسوا دوسرے نظام ہاے زندگی کو اختیار کیے ہوئے ہیں اور اسلامی پرچم کے ماسوا دوسرے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں‘ کامل دُوری ہونی چاہیے۔ اگر اِس موقف میں کمزوری رونما ہوتی ہے تو پھر مسلمان کی وسعت و طاقت میں یہ بات نہیں رہے گی کہ وہ اُس عظیم اسلامی تحریک کا کوئی بیش قیمت کام انجام دے سکے‘ جس کا اولین ہدف یہ ہے کہ زمین پر ایک منفرد و یکتا نظام قائم ہو‘ جو دوسرے تمام نظاموں سے یکسرمختلف ہے اور ایسے تصورات پر مبنی ہے جو دوسرے افکار و تصورات سے یکسر مختلف ہیں۔

اسلامی نظام کا قیام ناگزیر ہے

مسلمان کا پختہ یقین کے ساتھ یہ فیصلہ کُن موقف ہی اسے اِس امر کے لیے آمادہ و مجبور کرتا ہے کہ وہ پُرمشقت گھاٹیوں‘ کمرتوڑ تکالیف‘ شدید مخالفتوں‘ پریشان کُن سازشوں اور بدترین شدائد و آلام کا مقابلہ کرتے ہوئے انسانوںکے لیے اللہ کے پسند کردہ نظامِ زندگی کو قائم و غالب کرنے کا بارِگراں اٹھائے۔ ان مصائب و شدائد کے ساتھ اِس بارگراں کو اٹھانا اتنا دشوار ہوتا ہے کہ بسااوقات انسان کی وسعت و طاقت اور اُس کی قوتِ برداشت جواب دینے لگتی ہے۔ اگر اِس نظام کو قائم کیے بغیر دوسرے جاہلی نظاموں سے ‘ جو زمین میں قائم ہیں--- خواہ وہ شرک و بت پرستی کے نمایندے ہوں یا اہلِ کتاب کی کج روی و انحراف کے کھلے کھلے الحاد کے--- کام چل سکتا ہو تو اسلامی نظام کے سلسلے میں اتنی مشقتیں جھیلنے سے کیا فائدہ؟ بلکہ اسلامی نظام کو قائم کرنے کی کیا ضرورت؟ جب کہ اہلِ کتاب اور دوسرے کفار و مشرکین کے نظام ہاے حیات اور اسلامی نظام کے مابین تھوڑا سا فرق ہو‘ جس پر مصالحت اور صلح و آشتی کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہو۔

جو لوگ آسمانی مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان قرب پیدا کرنے اور اُن کے ساتھ فراخ دلی و رواداری اختیار کرنے کے نام پر اِن مذاہب کے ماننے والوں سے مسلمانوں کے قطعِ موالات و نصرت کے رویے‘ اور دونوں کے درمیان قطعی جدائی کی روش کو ختم یا کمزور کرنا چاہتے ہیں‘ وہ رواداری کے مفہوم کو سمجھنے میں غلطی کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول دین بس یہی آخری دین ہے۔ رواداری ذاتی و شخصی امور و معاملات میں ہوتی ہے‘ اعتقادی تصورات اور اجتماعی نظام میں نہیں۔ یہ لوگ مسلمان کے قلب و ضمیر میں پیوست اس یقین کو کمزور کرنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اسلام کے سوا کوئی دین مقبول نہیں۔ مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ اسلام کی شکل میں موجود خدائی نظامِ حیات کو دنیا میں قائم و غالب کرے‘ اِس نظام کے بدل کے طور پر کسی نظام کو قبول نہ کرے‘ اور نہ اس میں کسی ترمیم کا--- خواہ وہ معمولی سی کیوں نہ ہو--- روادار ہو۔ مسلمان کا یہ یقین خود قرآن کا پیدا کردہ ہے‘ قرآن کہتا ہے:

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمُقف(اٰل عمران۳:۱۹) دین اللہ کے نزدیک بس اسلام ہی ہے!

وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَالْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنہُ ج (اٰل عمران۳:۸۵) اور جو کوئی اسلام کے سوا اور کوئی دین اختیار کرنا چاہے‘ اس کا یہ دین ہرگز قبول نہیں ہوگا۔

وَاحْذَرْھُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَیْکَط (المائدہ ۵:۴۹) اور اُن سے ہوشیار رہو‘ مبادا وہ تمھیں کسی حکم سے‘ جو اللہ نے نازل کیا ہے‘ پھسلا دیں۔

یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصٰرٰٓی اَوْلِیَآئَم بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍط وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْھُمْط (المائدہ ۵:۵۱)  اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائو--- یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں--- تم میں سے جو کوئی اُن کو اپنا رفیق بناتا ہے‘وہ انھی میں سے ہے۔

قرآن کی بات فیصلہ کُن ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ اُسی کو اپنائے‘ اُسے ڈھلمل یقین رکھنے والوں کی بے یقینی اور یقین و ایمان کو کمزور کرنے کی اُن کی روش سے متاثر نہ ہونا چاہیے۔ (فی ظلال القرآن، ترجمہ: سید حامد علیؒ، ج ۴‘ ص ۴۵۵-۴۶۲)

]غزوہ احد کے موقع پر مسلمان[ جس صدمے سے دوچار ہوئے اس کا کوئی اندیشہ انھیں غزوئہ بدر کی عجیب و غریب فتح کے بعد نہ تھا۔ جب مسلمانوں پر یہ مصیبتیں ٹوٹیں تو وہ چیخ اُٹھے: اَنّٰی ھٰذا ، ’’یہ کیونکر ہوا؟‘‘ آخر ہمارے مسلمان ہوتے ہوئے یہ سب کچھ کیسے ہوا؟ قرآن کریم ]سورہ آل عمران کی ان آیات میں[ مسلمانوں کو اللہ کی سنتوں کی طرف‘ جو اُس کی زمین میں جاری و ساری ہیں‘ متوجہ کرتا ہے۔ وہ اُن اصولوں کو واضح کرتا ہے جن کے مطابق معاملات انجام پاتے ہیں۔ آخر وہ زندگی سے الگ اور نئی کوئی شے تو نہیں ہیں‘ جو قوانین زندگی پر حاکم ہیں‘ وہ بلاتوقف جاری و ساری رہتے ہیں۔ امور ومعاملات اَلل ٹپ رونما نہیں ہوتے‘ وہ اِن قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔ قرآنِ کریم کی اِس توضیح کے نتیجے میں مسلمانوں کو اِن قوانین کا علم ہوا‘وہ ان کے مقاصد سے واقف ہوگئے‘ واقعات و حوادث کے پیچھے اللہ کی حکمت اُن پر منکشف ہو گئی‘ واقعات کے پیچھے جو مقاصد اور اہداف ہوتے ہیں‘ وہ اُن پر واضح ہو گئے‘ جس نظام کے تحت واقعات رونما ہوتے ہیں‘ اس کے ثبوت اور اس نظام کے پیچھے جو حکمت ِ خداوندی ہے‘ اس کے وجود پر انھیں اطمینان ہوگیا۔ اور اِس راہ کے ماضی میں جو کچھ ہوا تھا‘ اُس کی روشنی میں وہ اپنے سفرکے راستے کو بخوبی دیکھنے لگے۔ وہ یہ بات جان گئے کہ فتح و نصرت اور غلبہ و سربلندی حاصل کرنے کے لیے فتح و نصرت کے اسباب مہیا کیے بغیر--- جن میں اوّلین سبب اطاعت ِ خدا اور رسولؐ ہے--- صرف اپنے مسلمان ہونے پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔

اللہ کی سنتیں‘ جن کی طرف آیات اشارہ کرتی اور مسلمانوں کی نظروں کو ان کی طرف ملتفت کراتی ہیں‘ یہ ہیں: تاریخ کے دوران مکذبین کا انجام‘ اچھے اور بُرے دنوں کی لوگوں میں گردش‘ دلوں کی کیفیات کو کھوٹ سے پاک کرنے کے لیے ابتلا و آزمایش‘ مصائب و شدائد پر صبرواستقامت کی قوت کا امتحان اور ارباب صبرواستقامت کے لیے فتح و نصرت اور مکذبین کے لیے ہلاکت و مغلوبیت کا استحقاق۔

اِن سنتوں کو پیش کرنے کے دوران آیات مشکلات و مصائب کو برداشت کرنے پر اُبھارتی ہیں‘ شدائد و آلام میں مواساۃ و غم خواری کی تلقین کرتی ہیں اور اُن زخموں پر‘ جو صرف انھیں نہیں‘ اُن کے دشمنوں کو بھی پہنچے‘ اُن کے ساتھ ہمدردی و غم خواری کرتی اور انھیں تسلی دیتی ہیں اور انھیں سمجھاتی ہیں کہ وہ اپنے عقیدے اور مقصد کے لحاظ سے اپنے دشمنوں سے بلند و برتر ہیں‘ راہِ عمل اور طریق زندگی کے پہلو سے اُن سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں اور پھر کامیابی بالآخر اُن کے لیے ہے اور اہل کفر کے لیے مغلوبیت اور ذلّت و خواری ہے۔

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سُنَنٌلا فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ o ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ o        (آل عمران ۳:۱۳۷-۱۳۸)

تم سے پہلے سنت ِ (الٰہی) کی بہت سی مثالیں گزر چکی ہیں توزمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ یہ لوگوں کے لیے بیانِ (حقیقت) ہے اور متقیوں کے لیے ہدایت و نصیحت۔

اللہ کے یہ قوانین و سنن زندگی پر حکمراں ہیں اور یہ قوانین اللہ کی مشیت ِ مطلقہ کے وضع کردہ ہیں۔ اس لیے جو کچھ کسی اور زمانے میں رونما ہوا‘ ویسا ہی اللہ کی مشیت کے تحت تمھارے زمانے میں بھی واقع ہوگا اور جو کچھ تمھارے جیسے حالات پر منطبق ہوا‘ وہ تمھارے حالات پر بھی منطبق ہوگا۔  فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ (۳: ۱۳۷) ’’تو زمین میں چل پھر کر دیکھو‘‘۔ زمین پوری کی پوری ایک وحدت ہے۔ زمین پوری کی پوری انسانی زندگی کی آماج گاہ ہے۔ اور زمین اور اُس میں موجود زندگی ایک کھلی کتاب ہے جس میں نگاہوں اور بصیرتوں کے لیے بہت کچھ سامانِ عبرت ہے۔ فَانْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (۳: ۱۳۷) ’’تو دیکھو کہ مکذبین کا انجام کیا ہوا؟‘‘

اِس انجام کی شہادت زمین میں اُن کے پھیلے ہوئے آثار دیتے ہیں--- یہاں قرآن اِس انجام کی طرف مجمل اشارہ کر رہا ہے تاکہ ایک مجمل فتح تک پہنچا جاسکے۔ اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ مکذبین پر کل گزرا‘ ایسے ہی انجام سے آج اور کل مکذبین دوچار ہوں گے۔ یہ اس لیے کہ اُمت مسلمہ کے دل انجام کی طرف سے مطمئن ہوں‘ نیز وہ پھسل کر مکذبین کی طرف جانے سے  بچ سکیں--- اس سنت کے ذکر کے بعدنصیحت و عبرت کا بیان ہے:

ھٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَھُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ o  (۳: ۱۳۸)

یہ بیانِ (حقیقت) ہے لوگوں کے لیے اور ہدایت اور نصیحت ہے متقین کے لیے۔

یہ سب انسانوں کے لیے بیان ہے--- اس کے ذریعے ]لیکن ایک ہی گروہ[ ہدایت سے سرفراز ہوگا اور وہ ’’متقین‘‘ کا گروہ ہے۔

صرف ایمان رکھنے والا دل‘ جو ہدایت کے لیے کھلا ہوتا ہے‘ ہدایت دینے والی بات کو قبول کرتا ہے اور نصیحت و موعظت سے خدا ترس دل ہی کو‘ جو اُس کو سُن کر ہل جاتا ہے‘ نفع ہوتا ہے… مجرد علم اور معرفت کچھ نہیں! کتنے ہی لوگ ہیں جو حق کا علم رکھتے اور اس کی معرفت کے حامل ہیں لیکن وہ باطل کے کیچڑ میں لوٹتے رہتے ہیں‘ اپنی خواہشات کی بندگی کی وجہ سے ‘ جس کے ساتھ علم بے سود ہوتا ہے‘ یا ان مصائب و شدائد کے خوف سے جو حق کے علم برداروں اور اربابِ دعوت کا انتظار کرتی ہوتی ہیں۔

غلبہ و سربلندی

اس بیان کے بعد قرآن مسلمانوں کی طرف رخ کرتا ہے اور انھیں تسلی دیتا اور اُن کے لیے ثابت قدمی اور تقویت کا سامان بہم پہنچاتا ہے:

وَلَا تَھِنُوْا وَلَا تَخْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ o  (۳:۱۳۹)

اور تم پست ہمت نہ ہو اور نہ غم کرو --- اور تم ہی غالب و سربلند ہو--- اگر تم مومن ہو!

وَلَا تَھِنُوْا  --- ’’وھن‘‘ سے ہے جس کے معنی ہیں‘ ضعف--- ’’کمزور نہ پڑو‘‘۔  وَلَا تَخْزَنُوْا ’’غم نہ کرو‘‘ یعنی اُن مصیبتوں کے باعث‘ جو تمھیں پہنچیں اور اُن چیزوں کے باعث جو تم نے کھو دیں‘ کمزور نہ پڑو اور غم نہ کرو۔  وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ ’’اور تم ہی غالب و سربلند ہو‘‘۔ غالب و سربلند اس لیے کہ تمھارا عقیدہ بلند و برتر ہے‘ تم صرف ایک خدا کو سجدہ کرتے ہو‘ جب کہ تمھارے مخالفین اُس کی کچھ مخلوقات کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ تم اس لیے بھی بلندوبرتر ہوکہ تمھارا طریق زندگی بلند و برتر ہے‘ تم اللہ کے وضع کردہ نظامِ زندگی کے مطابق زندگی کا سفر طے کرتے ہو‘ اور وہ اُس نظامِ زندگی کو اختیار کرتے ہیں جو اُس کی مخلوق کا وضع کردہ ہے۔ دنیا میں تمھارا رول بھی سب سے اعلیٰ ہے‘ تم ساری انسانیت کی نگرانی و سرپرستی کے لیے اللہ کے منتخب کردہ اور ساری انسانیت کے لیے ہادی و رہنما ہو‘ جب کہ تمھارے اعدا حق سے بہت دُور‘ راہِ حق سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ تم اِس لیے بھی بلندوبرتر ہو کہ زمین کی وراثت--- جس کا اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے--- تمھارے لیے ہے‘ اِس کے برعکس تمھارے اعدا کے لیے فنا اورنسیان مقدر ہے (وہ فنا ہو جائیں گے اور بھلا دیے جائیں گے)۔ اِس لیے اگر تم سچ مچ مومن ہو تو تم ہی غالب و بلند ہو اور اگر تم سچ مچ مومن ہو تو نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ تم بھی مصائب و آلام میں مبتلا ہو اور تمھارے ہاتھوں تمھارے اعدا بھی‘ اور جہاد‘ ابتلا اور کھرے اور کھوٹے کے درمیان امتیاز کے بعد انجامِ کار کامیابی تمھارے ہی لیے ہے۔

اِنْ یَّمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہٗط وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِج وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُھَدَآئَط وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ o وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ o (۳:۱۴۰-۱۴۱)

اگر تمھیں کوئی چوٹ لگتی ہے تو (دیکھو) اِس طرح کی چوٹ تو اُن لوگوں کو بھی لگ چکی ہے اور یہ (اچھے اور بُرے) دن ہیں‘ جنھیں ہم لوگوں کے درمیان اَدلتے بدلتے رہتے ہیں۔ اور اللہ کو یہ معلوم کرنا تھا کہ کون ہیں‘ جو (واقعی) ایمان لائے ہیں اور اُسے تم میں سے (حق کے) گواہ بنانے تھے‘--- اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا--- اور جو لوگ ایمان لائے ہیں‘ اللہ کو انھیں نکھار کر پختہ کرنا اور اہلِ کفر کا زور توڑنا تھا۔

’’اگر تمھیں کوئی چوٹ لگتی ہے تو (دیکھو) اِس طرح کی چوٹ تو اُن لوگوں کو بھی لگ چکی ہے‘‘ اس میں اشارہ غزوئہ بدر کی طرف بھی ہو سکتا ہے جس میں اہلِ کفر پٹ گئے تھے اور مسلمان صحیح و سالم رہے تھے اور غزوئہ احد کی طرف بھی ہو سکتا ہے۔ اِس غزوہ کے آغاز میں مسلمانوں کو فتح اور مشرکین کو شکست ہوئی تھی… یہ درحقیقت اُن کے باہمی اختلاف اور حکمِ رسولؐ کی  خلاف ورزی کی پوری پوری سزا تھی۔ اور یہ سب کچھ اللہ کی سنت کے مطابق ہوا‘ جس میں کبھی تخلف ]وعدہ خلافی[ نہیں ہوتا۔ تیراندازوںکی‘ حکمِ رسولؐ کی خلاف ورزی اور اُن کا باہمی اختلاف مالِ غنیمت کی طمع کا نتیجہ تھا‘ جب کہ اللہ نے جہاد کے معرکوں میں فتح و نصرت اُن لوگوں کے لیے مقدر کی ہے جو اُس کی راہ میں جہاد کریں اور اس حقیردنیا کے سازوسامان کی طرف نظر اُٹھا کر نہ دیکھیں۔

گردشِ ایام

وَتِلْکَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِج وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (۳:۱۴۹)

اور یہ (اچھے اور بُرے) دن ہیں‘ جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش کرتے رہتے ہیں‘ اور اللہ کو یہ معلوم کرنا تھا کہ کون ہیں‘ جو (واقعی) ایمان لائے ہیں۔

یہ بھی اللہ کی سنت ہے کہ اچھے اور بُرے دن لوگوں کے درمیان گردش کرتے ہیں۔ لوگوں کی نیتوں اور ان کے اعمال کے لحاظ سے اس سنت پر عمل ہوتا ہے۔ حالات میں فراخی ونرمی کے بعد شدت اور شدت کے بعد فراخی و نرمی‘ اِنھی سے لوگوں کے جوہر اور دلوں کی طبیعتوں کا علم ہوتا ہے اور انھی سے اِس بات کا انکشاف ہوتاہے کہ دلوں میں کس درجہ کھوٹ یا صفائی ہے‘ بے صبری یا صبر ہے‘ اللہ پر بھروسا یا مایوسی ہے اور خود کو اللہ کی قضا وقدر کے حوالے کر دینے کا جذبہ ہے یا سرکشی و نافرمانی کا۔ اُسی وقت مسلمانوں کی صف میں لوگوں کے مابین امتیاز پیدا ہوتا اور مومنین اور منافقین کا انکشاف ہوتا ہے۔ اُسی وقت اِن دونوں گروہوں کی حقیقت ظاہر ہوتی ہے ‘ دلوں کے اندرونی جذبات لوگوں کی دنیا کے سامنے منکشف ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کی صف سے خرابی اور اُس ڈھیلے پن کا ازالہ ہوتا ہے ‘ جس سے اُس کے اعضا و افراد میں تنظیم کی کمی رونما ہوتی ہے‘ جب کہ منافق اور مومن باہم خلط ملط ہوں اور الگ الگ پہچانے نہ جاتے ہوں…

گردشِ ایام اور حالات کی شدت و فراخی کا یکے بعد دیگرے آنا ایک ایسی کسوٹی ہے جو کبھی خطا نہیں کرتی اور ایک ایسی میزان ہے جو کبھی زیادتی نہیں کرتی اور اس معاملے میں حالات کی فراخی حالات کی شدت کی طرح ہے۔ کیونکہ کتنے ہی نفوس ہیں جو شدید حالات میں صابر و ثابت قدم رہتے اور اپنے آپ کو تھامتے رہتے ہیں لیکن خوش گوار اور نرم حالات میں وہ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ مومن وہ ہے جو مصیبت میں صبر کا رویہ اختیار کرتا ہے اور خوش حالی و فراخی سے وہ سبک سراور غافل نہیں ہوتا۔ دونوں حالتوں میں وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اسے اِس بات کا یقین ہوتا ہے کہ خیراور شر‘ جس سے بھی اُسے سابقہ پیش آتا ہے‘ سب اللہ ہی کے اِذن سے ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اِس اُمت کی تربیت فرما رہا تھا اور ابھی یہ اُمت انسانیت کی قیادت کے لیے تیاری کے اوّلین مرحلے ہی میں تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فراخی و نرمی سے آزمانے کے بعد شدید حالات سے اُس کی آزمایش کی اور عجیب و غریب فتح و نصرت کے بعد تلخ شکست کی آزمایش میں ڈالا۔ اگرچہ یہ سب اپنے اسباب کے تحت اور فتح و شکست کے سلسلے میں اللہ کی  سنت ِ جاریہ کے مطابق ہوا لیکن یہ اس لیے ہوا کہ یہ اُمت فتح و شکست کے اسباب سے آگاہ ہوجائے۔ اللہ کی اطاعت ‘ اس پر توکل اور اس کے سہارے کو مضبوطی سے پکڑنے میں آگے بڑھے اور اِس نظام کی طبیعت اور اس کی ذمہ داریوں اور گراں باریوں کو پورے یقین کے ساتھ جان لے۔

حق کی گواہی

سلسلۂ کلام اُمت مسلمہ کے لیے اِس معرکے کے واقعات کے سلسلے میں اللہ کی حکمت کے پہلوؤں اور گردشِ ایام اوراُس کے نتیجے میں مسلمانوں کی صفوں میں کھوٹے اور کھرے کے درمیان فرق و امتیاز اور سچّے اہل ایمان کی معرفت جیسے امور کو بیان کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے:

وَیَتَّخِذَ مِنْکُم شُھَدَآئَ ط (۳:۱۴۰)

اور تاکہ اللہ تم میں سے (حق کے) گواہ بنائے!

یہ ایک عجیب اندازِ بیان ہے ‘ جس کا مفہوم بہت عمیق ہے۔ شہدا‘ اللہ کے برگزیدہ ہیں‘ اللہ تعالیٰ مجاہدین کے درمیان میں سے انھیں منتخب فرماتا ہے اور اپنے لیے خاص کر لیتا ہے۔ اس لیے جو لوگ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوتے ہیں‘ان کی شہادت سرے سے کوئی مصیبت اورکوئی خسارے کا سودا نہیں‘ یہ تو اللہ کا انتخاب و اختصاص اور اعزاز و اکرام ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے مختص کیا اور انھیں شہادت سے سرفراز فرمایا‘ یہ اس لیے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ انھیں خالصتاً اپنا بنا لے اور اپنے قرب کے لیے انھیں مخصوص فرما لے…

جو شخص زبان سے لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کی شہادت دیتا ہے‘ اُس کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے شہادت دے دی‘ اِلا یہ کہ وہ اُس کے مفہوم اور اس کے تقاضوں کا حق ادا کرے۔ اُس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو ’’الٰہ‘‘ نہ بنائے اور اِس لیے اللہ کے سوا کسی سے شریعت حاصل نہ کرے۔ کیونکہ اُلوہیت کی سب سے بڑی خصوصیت بندوں کے لیے تشریع و قانون سازی ہے‘ اور عبودیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ تمام ہدایات اللہ ہی سے حاصل کی جائیں۔ اِسی طرح اِس کلمے کا مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ سے ہدایات محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے ہی سے اخذ کی جائیں کیونکہ وہ اللہ کے رسولؐ ہیں‘ اور اللہ سے ہدایات حاصل کرنے کے لیے اس واسطے کے علاوہ کسی اور واسطے اور ذریعے پر اعتماد نہ کیا جائے۔

اس شہادت کا تقاضا ہے کہ مومن اِس بات کی جدوجہد کرے کہ زمین میں اُلوہیت صرف اللہ کے لیے ہو‘ جیساکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلّم نے اُسے پہنچایا اور جس نظام کو اللہ نے انسانوں کے لیے پسند کیا اور چاہا اور جسے اللہ کی جانب سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تک پہنچایا‘ وہی دنیا میں غالب اور چھایا ہوا نظام ہو‘ اور لوگ اُسی کی اطاعت کرتے ہوں۔اور بلااستثنا یہی نظام انسانوں کی پوری زندگی میں متصرف ہو۔

جب اس شہادت کا تقاضا یہ ہو کہ مومن اُس کی راہ میں جان دے دے اور وہ جان دے دے تو وہ ’’شہید‘‘ ہے‘ یعنی ایسا گواہ‘ جس سے اللہ نے شہادت طلب کی تو اس نے یہ شہادت ادا کر دی‘ اللہ نے اُسے ’’شہید‘‘ بنایا اور اسے یہ مقامِ بلند عطا فرمایا! یہی لا الٰہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ کی شہادت کا مفہوم و مقتضا ہے‘ نہ یہ کہ رخصتوں‘ ناکارہ پن اور بے عملی کا راستہ اختیار کیا جائے (اور صرف زبان سے کلمے کی شہادت ادا کی جائے)۔

وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ o (۳: ۱۴۰)

اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔

… یہ اُسی انجام کا تاکیدی بیان ہے جو ظالم مکذبین کا‘ جو اللہ کے مبغوض ہیں‘ انتظار کررہا ہے۔…

تربیت کا عمل

سلسلۂ کلام آگے بڑھتا ہے اور وہ واقعات کے پیچھے چھپی ہوئی اللہ کی حکمت پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ حکمت کیا ہے؟ اُمت مسلمہ کی تربیت۔ کھوٹ سے پاک کر کے اُسے کھرا اور مضبوط بنانا‘ بلند ترین رول کے لیے‘ جو اُس کا ہے اسے تیار کرنا‘ نیز یہ امر کہ اُمت کفار کا زور توڑنے اور انھیں مغلوب کرنے کے لیے خدا کی قضا و قدر کا آلہ بنے اور مکذبین کی ہلاکت کے لیے اُس کی قدرت کا پردہ بنے۔

وَلِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ o  (۳:۱۴۱)

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں‘ اللہ کو انھیں نکھار کر پختہ کرنا اور اہل کفر کا زور توڑ دینا تھا۔

’’تمحیص‘‘ (نکھارکر پختہ کرنا) کا درجہ کھوٹ کو دُور کرنے اور کھرے اور کھوٹے کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے بعد کا ہے۔ یہ ایک عمل ہے‘ جو دل اور ضمیر کی گہرائیوں میں تکمیل پاتا ہے۔ یہ شخصیت کے پوشیدہ گوشوں کو بے نقاب کرنے اور ان پر روشنی ڈالنے کا عمل ہے تاکہ وہ ہر طرح کی ملاوٹ اور کھوٹ اور عیب سے پاک صاف ہو کر حق پر قائم ہو سکے۔

انسان بسااوقات اپنے آپ کو نہیں جانتا۔ وہ اپنے پوشیدہ گوشوں‘ اپنے شگافوں اور اپنی کجیوں سے آگاہ نہیں ہوتا۔ وہ بسااوقات اپنی کمزوری اور قوت کی حقیقت سے باخبر نہیں ہوتا اور اس کی شخصیت کے اندرون میں جو چیزیں تہ نشین اور مخفی ہیں‘ اُن کا اُسے علم نہیں ہوتا۔ یہ سب چیزیں کسی اُبھارنے والے واقعے ہی سے اُبھر کر سامنے آتی ہیں۔

شدید اور نرم حالات کی اُلٹ پھیر اور گردشِ ایام کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمحیص (نکھارنے) کا جو عمل اختیار فرماتا ہے‘ اس کے نتیجے میں اہل ایمان اپنی ذات کے مخفی پہلوئوں کو اچھی طرح جان لیتے ہیں جنھیں وہ اِس تلخ کسوٹی--- حوادث‘ تجربات اور عملی مواقف کی کسوٹی پر پرکھے جانے سے قبل جانتے نہیں ہوتے۔

انسان اپنے بارے میں خیال کرتا ہے کہ وہ قوت وشجاعت کا پیکر ہے اور حرص و بخل سے بالکلیہ پاک ہے۔ لیکن عملی تجربے اور عملی واقعات و حوادث سے دوبدو ہونے کی روشنی میں اُسے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے نفس میں ابھی ایسے نقائص موجود ہیں‘ جن کا ازالہ نہیں ہوا اور وہ اِس سطح کی شدتِ حالات کو برداشت کرنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہے‘ اور بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے نفس کی اِن سب کمزوریوں کو جان لے تاکہ ازسرنو وہ اُسے تیار کرنے اور ڈھالنے کی جدوجہد کرے۔ اِس حد تک کہ وہ اس سطح کی شدتِ حالات کو انگیزکرسکے‘ جو اِس دعوت کی فطرت کا مقتضا ہے اور ان ذمہ داریوں کو حسن و خوبی کے ساتھ ادا کر سکے جن کا تقاضا یہ عقیدہ کرتاہے۔

اللہ سبحانہ وتعالیٰ انسانیت کی قیادت کے لیے اِس اُمت کی تربیت کر رہا تھا اور اُس سے زمین میں ایک خاص کام لینا چاہتا تھا‘ اسی لیے اللہ نے غزوئہ احد کے واقعات و حوادث کے ذریعے اُسے اس حد تک نکھارا اور پختہ کیا تاکہ وہ اُس رول کی--- جو اللہ نے اُس کے لیے مقدر کیا ہے--- سطح تک بلند ہوسکے اور اس کے ہاتھوں اللہ کا منصوبہ--- جو اُس نے اِس اُمت سے وابستہ کیا ہے--- انجام پذیر ہوسکے۔

وَیَمْحَقَ الْکٰفِرِیْنَ o  (۳:۱۴۱)

اور اُسے اہل کفر کا زور توڑنا تھا۔

یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ حق کے ذریعے باطل کا زور توڑ دیتا اور اُسے ختم کر دیتا ہے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے‘ جب کہ حق کھل کر سامنے آجائے اور اللہ تعالیٰ کے عملِ تمحیص کے نتیجے میں وہ ہر طرح کے کھوٹ سے پاک ہو جائے۔

جنت کا راستہ

اب ایک استفہامِ انکاری کے ذریعے اللہ تعالیٰ دعوتِ حق ‘ فتح و شکست اور عمل اور جزا کے بارے میں سنت اللہ کو بیان فرماتا اور اس سلسلے میں اہل ایمان کے تصورات کی تصحیح کرتا ہے۔ وہ واضح فرماتا ہے کہ جنت کاراستہ مصائب و شدائد سے ڈھکا ہوا ہے اور راہِ حق کے مصائب وشدائد پر صبر اختیار کرنا اِس راہ کا توشہ ہے‘ نہ کہ آرزوئیں اور تمنائیں جو مصائب و شدائد اور تمحیص کے عمل کے موقع پر ٹھہر نہ سکیں:

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ o وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہٗص فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ o (۳:۱۴۲-۱۴۳)

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ تم جنت میں یوں ہی پہنچ جائوگے حالانکہ ابھی اللہ نے اُن لوگوں کو دیکھا ہی نہیں تھا‘ جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا--- اور اُسے دیکھنا تھا کہ کون لوگ (ہر حال میں) ثابت قدم رہنے والے ہیں‘ اور تم موت کی --- قبل اِس کے کہ اُس سے دوچار ہو--- تمنا کر رہے تھے تو اب تو تم نے اُسے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔

استفہام انکاری کے صیغے سے مقصود فکرونظر کی غلطی پر شدت کے ساتھ تنبیہ کرنا ہے۔ فکرونظر کی یہ غلطی کہ انسان زبان سے ’’اسلام لایا‘‘ کے الفاظ دُہرا دے اور سمجھے کہ اب میں موت کے لیے تیار ہوں اور محض اِن الفاظ کی ادایگی سے وہ ایمان کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے اور جنت اور اللہ کی رضا تک پہنچنے کا اہل ہو جائے گا۔ نہیں‘ عملی تجربے اور عملی جہاد کی ضرورت ہے۔ جہاد کرنے اور مصائب سے دوچار ہونے اور پھر جہاد کی تکالیف اور مصائب و آلام سے دوچار ہونے پر صبر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

قرآنِ مجید کے یہ الفاظ بہت معنی خیز ہیں: وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ جٰھَدُوْا مِنْکُمْ (۳:۱۴۲) ’’حالانکہ ابھی اللہ نے اُن لوگوں کو دیکھا ہی نہیں تھا جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا‘‘ اور وَیَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ (۳:۱۴۲) ’’اور اُسے دیکھنا تھا کہ کون لوگ (ہر حال میں) ثابت قدم رہنے والے ہیں‘‘ ، یعنی اتنی بات کافی نہیں ہے کہ اہل ایمان جہاد کریں‘ دعوتِ حق کی تکالیف پر صبر بھی ضروری ہے۔مسلسل‘ مستمر اور متنوع تکالیف پر --- جو میدان کے جہاد تک محدود نہیں ہیں۔ صبر!  بسااوقات دعوتِ حق کی تکالیف سے--- جن میں صبر مطلوب ہے اور جن سے ایمان کا امتحان ہوتا ہے--- میدان کا جہاد نسبتاً ہلکی تکلیف کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ تو روزانہ مشقتوں کو جھیلنے کا سلسلہ ہے‘ جو ختم نہیں ہوتا۔ پھر ایمان کے اُفق پر استقامت کی مشقت ہے۔ فکروعمل اور زندگی کے رویے میں ایمان کے مقتضیات پر قائم رہنا ہے‘ اور اِسی دوران اپنی ذات اور دوسرے لوگوں کے سلسلے میں--- جن سے مومن کو روزانہ کی زندگی میں سابقہ پیش آتا ہے--- انسانی کمزوری پر صبر۔ اُن اوقات میں صبر‘ جب کہ وہ غالب و سربلند ہوجاتا ہے اور ایک فاتح کی طرح اپنا زور دکھاتا ہے۔ راہِ حق کی درازی و دشواری اور موانع کی کثرت پر صبر۔ جدوجہد‘ کرب و بلا اور جنگ کی زحمتوں کے مقابلے میں راحت و آرام کی طرف رغبت اور اُس کے لیے نفس کے اشتیاق کے مقابلے میں صبر۔ اِسی طرح اور بہت سے امورکے مقابلے میں--- جن میں میدان کا جہاد صرف ایک امر ہے--- صبر‘ اور یہ صبر اُس راستے پر چلنے کے دوران ہے‘ جو مصائب و شدائد سے ڈھکا ہوا ہے‘ یعنی جنت کا راستہ۔ وہ جنت جو آرزووں اور لفظی جمع خرچ سے حاصل نہیں ہوتی! (جہاد اور صبر سے حاصل ہوتی ہے)۔

وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْہٗص فَقَدْ رَاَیْتُمُوْہُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ o (۳:۱۴۳)

اور تم موت کی --- قبل اس کے کہ اُس سے دوچار ہو--- تمنا کر رہے تھے‘ تو اب تو تم نے اُسے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا۔

اِس طرح قرآن انھیں ایک بار پھر موت کے--- جس سے اُن کا سامنا میدانِ جنگ میں ہوا تھا--- آمنے سامنے لاکر کھڑا کر دیتا ہے۔ اِس سے قبل وہ موت کی تمنا کر رہے تھے۔ یہ اس لیے کہ وہ کلمے کے وزن کے--- جسے زبان ادا کرتی ہے اور عملی حقیقت کے وزن کے--- جو آنکھوں سے نظر آتی ہے--- مابین موازنہ کریں۔ یہ موازنہ انھیں بتائے گا کہ جو بات بھی‘ اُن کی زبان سے نکلے‘ اُس کا خیال رکھیں‘ پھر اُس کے عملی اثرات کا ‘ جو ان کے نفوس پر پڑیں‘ عملی حقیقت کی روشنی میں--- جس سے وہ عملاً دوچار ہوں--- وزن کریں۔ یہ موازنہ انھیں بتائے گا کہ منہ سے نکل کر اُڑ جانے والے الفاظ اور اُونچی اُونچی آرزوئیں انھیں جنت تک پہنچانے والی نہیں ہیں۔ جنت تو حاصل ہوگی کلمے کو قائم کرنے‘ آرزووں کو عمل کے پیکر میں ڈھالنے‘ حقیقتاً جہاد کرنے اور مصائب و آلام پر صبر کرنے سے اور یہ اِس حد تک کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کی دنیا میں عملاً اِن سب امور کو واقع ہوتا دیکھ لے۔

قیادت کے تقاضے

یقینا اللہ سبحانہ وتعالیٰ اِس بات پر قادر تھا کہ اپنے نبی‘ اپنی دعوت‘ اپنے دین اور اپنے نظامِ زندگی کو پہلے ہی لمحے فتح و نصرت سے نواز دیتا‘ بغیر اس کے کہ اہل ایمان کوئی جدوجہد کرتے اور مشقت برداشت کرتے۔ وہ اِس بات پر بھی قادر تھا کہ فرشتے نازل فرما دیتا‘ جو اہل ایمان کے ساتھ مل کر یا اُن کے بغیر جنگ کرتے اور مشرکین کو اسی طرح ہلاک کر دیتے جس طرح کہ انھوں نے قومِ عاد‘ قومِ ثمود اور قومِ لوط کو ہلاک کر دیا تھا۔

مسئلہ فتح و نصرت کا نہیں‘ اُمت ِ مسلمہ کی تربیت کا تھا‘ جو اِس لیے تیار کی جا رہی تھی کہ اسے انسانیت کی قیادت سونپی جائے۔ انسانیت کی ‘ اُس کی تمام کمزوریوں اور نقائص کے ساتھ‘ اس کی تمام خواہشات و جذبات کے ساتھ اور اس کی تمام جاہلیتوں اور کج رویوں کے ساتھ‘ قیادت! اور قیادت بھی‘ حق و رُشد کی قیادت! یہ قیادتِ راشدہ اِس بات کی متقاضی تھی کہ قائدین اعلیٰ استعداد کے حامل ہوں۔ اِس قیادت کا اوّلین تقاضا ہے کردار کی مضبوطی و صلابت‘ حق پر ثبات و استقامت‘ مصائب و مشکلات پر صبر‘ ] نیز[ انسانی نفوس میں ضعف اور قوت کے مواقع کی معرفت اور لغزشوں کے مواقع اور کج روی و انحراف کے محرکات اور اُن کے علاج کے ذرائع و وسائل سے آگاہی۔ پھر شدید حالات پر صبر کی طرح حالات کی فراخی و سہولت پر بھی صبر۔ اسی طرح حالات کی سہولت و فراخی کے بعد شدید حالات پر صبر‘ جب کہ اُن کا مزا حد درجہ تلخ ہو۔

یہ ہے اللہ تعالیٰ کی‘ اِس اُمت کے لیے تربیت۔ اللہ تعالیٰ اِس تربیت کے ساتھ اِس اُمت کا‘ جب کہ وہ اُسے قیادت کی کنجیاں سونپنے کا اِذن دیتا ہے‘ ہاتھ پکڑ کر اُسے آگے بڑھاتا ہے‘ تاکہ اِس تربیت کے ذریعے اُس عظیم اور پُرمشقت رول کی ادایگی کے لیے‘ جو زمین میں اِس اُمت سے متعلق کیا گیا ہے‘ اِس اُمت کو تیار کرے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ یہ رول اُس ’’انسان‘‘ کے حصے میں آئے‘ جسے اللہ تعالیٰ نے اِس وسیع و عریض دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا ہے۔

انسانیت کی قیادت کے لیے اُمت مسلمہ کی تیاری کا خدائی منصوبہ مختلف اسباب و وسائل اور مختلف حالات و واقعات کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ کبھی یہ منصوبہ اِس طرح    بروے کار آتا ہے کہ اُمت مسلمہ کو قطعی اور فیصلہ کُن فتح ہوتی ہے‘ اِس سے وہ خوش خبری پاتی ہے‘ اور اللہ کی مدد کے زیرسایہ اُس کا‘ اپنی ذات پر اعتماد بڑھتا ہے‘ فتح و نصرت کی لذت کا اُسے تجربہ ہوتا ہے‘ فتح کے نشے کے مقابلے میں وہ صبر کا رویہ اختیار کرتی ہے اور اتراہٹ ‘ خود پسندی اور فخروغرور پر قابو پانے کی‘ اپنی صلاحیت و قوت کا‘ اُسے تجربہ ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ اسے اِس بات کا بھی تجربہ ہوتا ہے کہ وہ کس درجہ اِس نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرتی اور تواضع کے ساتھ اُس کے آگے جھکتی ہے۔ اور کبھی خداے تعالیٰ کا یہ منصوبہ اُمت کی شکست اور مصائب و آلام میں اس کے مبتلا ہونے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس صورت میں وہ اللہ کا دامن پکڑتی اور اس کی پناہ میں آتی ہے۔ اُسے اپنی ذاتی قوت کی حقیقت اور اپنی کمزوری و ناتوانی کا--- جب خدائی نظامِ زندگی سے ادنیٰ انحراف کرتی ہے--- بخوبی علم ہو جاتا ہے اور اسے شکست کی تلخی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس کے باوجود وہ باطل کے مقابلے میں سربلند رہتی ہے‘ کیونکہ اس کے پاس خالص حق ہے اور اُسے اپنے نقائص اور اپنی کمزوریوں اور ان کے مواقع اور اپنی خواہشات کی دراندازی اور اپنے قدموں کی لغزشوں کے مواقع کا علم ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ اِس بات کی پوری کوشش کرتی ہے کہ وہ اِن سب کمزوریوں اور لغزشوں سے خود کو پاک کرکے اگلے حملے میں شریک ہواور فتح و نصرت اور شکست و ہزیمت‘ دونوں سے اپنے لیے زادِ راہ اور سازوسامان حاصل کر کے لوٹے--- اس طرح اللہ کا منصوبہ‘ اُس کی اٹل سنت کے مطابق ‘ جس میں کبھی تخلّف نہیں ہوتا‘ پورا ہوتا ہے۔

’’کتنی عجیب و غریب ہے قرآنِ مجید کی بیان کردہ یہ حقیقت! غزوئہ احد میں مسلمانوں کو شکست ہوئی مگر اُس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اللہ تعالیٰ اہلِ کفر کا زور ختم کر دے گا۔ کیسے؟ اہلِ ایمان کو اپنی کمزوریوں کا علم ہوگا اور وہ اللہ کی توفیق اور رسول کی تربیت کے نتیجے میں پاک صاف اور پختہ تر ہوکرازسرِنو حق کے غلبے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں گے۔ جب ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ     اہل ایمان کے ہاتھوں اہل کفر کا زور توڑ دے گا--- غزوئہ احد کے بعد اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ مسلسل پورا ہوا‘ یہاں تک کہ سات آٹھ سال کے عرصے میں مشرکین کا زور بالکل ٹوٹ گیا‘ پورا عرب اسلام کے زیرنگیں ہوگیا اور اس کے بعد ۲۰‘ ۲۵ سال کے عرصے میں قیصروکسریٰ کی عظیم طاقتیں سرنگوں ہو گئیں اور گردوپیش کے بہت سے ممالک پر انھی اہل ایمان کے ہاتھوں اسلام کا پرچم لہرانے لگا‘‘ (مترجم)۔ (فی ظلال القرآن‘ ترجمہ: سیدحامد علی‘ ج ۲‘ ص ۳۳۱-۳۴۴۔ تدوین:  امجد عباسی)

ترجمہ: مولانا حامد علی ؒ

یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِط وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ (البقرہ ۲:۲۱۵)

وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہو‘ جو مال بھی تم خرچ کرو ‘ وہ ماں باپ‘ عزیزوں‘ یتیموں‘ غریبوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اور تم بھلائی کے جو کام بھی کرو‘ اللہ اُس سے بخوبی واقف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جن حالات و ظروف میں اسلام پروان چڑھا‘ اُن میں انفاق اُمت ِ مسلمہ کے قیام کی ایک بنیادی ضرورت تھی کیونکہ اُمت کو مشکلات و مصائب اور جنگوں کا مسلسل سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ پھر انفاق کو ایک اور پہلو سے بھی ملّت کی ضرورت کی حیثیت حاصل تھی۔ اور وہ ہے ملّت کے افراد کی باہمی کفالت اور ان کے فکری و جذباتی امتیازات و تفرقوں کا ازالہ‘ اِس حد تک کہ ملّت کا ہر فرد یہ محسوس کرے کہ وہ جسدِملّت کا ایک عضو ہے جسے یہ جسد نہ کسی شے سے محروم کرتا ہے اور نہ اُس سے کوئی شے بچا کر رکھتا ہے۔ جماعت کے قیام و بقا کے سلسلے میں فکری و جذباتی طور پر اس چیز کی بہت بڑی قدروقیمت ہے‘ جب کہ افرادِ ملّت کی ضروریات کی تکمیل کی‘ جماعت کے قیام و بقا کے سلسلے میں عملی قدروقیمت ہے۔

سوال یہ تھا کہ کس طرح کا مال خرچ کریں؟ اس سوال کا جو جواب آیا‘ اُس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انفاق کی نوعیت کیا ہو اور یہ بھی کہ اس کے اولیٰ اور قریب ترین مصارف کون کون سے ہیں: قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَیْرٍ ’’کہو! تم جو اچھا مال خرچ کرو‘‘۔

اس اندازِ بیان سے دو پہلو سامنے آتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ وہ جو کچھ خرچ کرتا ہے‘ وہ بہتر ہے۔ بہتر ہے‘ دینے والے کے لیے۔ بہتر ہے‘ لینے والے کے لیے۔ بہتر ہے‘ مسلمانوں کی جماعت کے لیے۔ اور بہتر ہے فی نفسہ۔ کیونکہ وہ ایک پاکیزہ عمل ہے‘ ایک پاکیزہ پیش کش ہے‘ ایک پاکیزہ شے ہے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ خرچ کرنے والا خرچ کرنے کے لیے اپنے مال میں سے اعلیٰ شے کو تلاش کرے اور اپنی بہترین اشیا میں دوسرے افراد کو شریک کرے کیونکہ انفاق سے دل کی تطہیر اور نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اور دوسروں کے لیے وہ منفعت و اعانت ہے۔ اور ڈھونڈ کر اچھے مال کو خرچ کرنے اور دوسروں کے حق میں اُس سے دست بردار ہونے ہی سے دل کی طہارت اور نفس کا تزکیہ حاصل ہوتا اور ایثار و قربانی کا شریفانہ جذبہ پروان چڑھتا ہے۔

لیکن یہ دوسرا پہلو لازمی نہیں ہے۔ لازمی--- جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے--- یہ ہے کہ خرچ کرنے والا اوسط درجے کی شے خرچ کرے‘ نہ سب سے خراب شے اور نہ سب سے زیادہ گراں شے۔ یہاں اِس پہلو کی طرف اشارہ اس لیے ہے کہ نفس خوشی خوشی اس بات کے لیے تیار ہو اور اُس میں اِس بات کا شوق پیدا ہو کہ وہ بہتر سے بہتر شے کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے--- جیسا کہ نفوس کے تزکیے اور دلوں کی تیاری و تربیت کے سلسلے میں قرآن کا طریقہ ہے۔

انفاق کی مدّات

انفاق کا طریقہ اور اُس کی مدّاتِ صرف کیا ہیں؟ اِنفاق کی نوعیت کی وضاحت کے بعد یہ بات بھی واضح کی جاتی ہے:

فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلط

وہ ماں باپ‘ عزیزوں‘ یتیموں‘ غریبوں اور مسافروں کے لیے ہے!

یہ الفاظ لوگوں کی مختلف قسموں کو ایک لڑی میں پرو دیتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جس سے خرچ کرنے والے کا رشتے اور خاندان کا تعلق ہے‘ کچھ وہ ہیں جن پر انسان کو رحم آنا چاہیے‘چنانچہ اُن سے رحم و کرم کا تعلق ہے اور کچھ سے عقیدے کے دائرے میں رہتے ہوئے انسانیت کبریٰ کا تعلق ہے۔ اور یہ سب لوگ--- والدین‘ اعزہ‘ یتامیٰ‘ مساکین‘ مسافر--- ایک ہی آیت (بلکہ ایک ہی جملے) میں آجاتے ہیں۔ یہ سب لوگ اجتماعی کفالت کے اُس مضبوط نظم سے وابستہ ہیں جو بنی نوعِ انسان کو اِس مضبوط عقیدے کے دائرے میں حاصل ہے۔

اِس آیت اور قرآن کی دوسری آیات میں مدّاتِ صَرف کی ایک خاص ترتیب ہے‘ جس کی مزید تشریح و تائید بعض احادیث ِ نبویؐ سے ہوتی ہے‘ مثلاً:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: اپنی ذات سے شروع کرو اور پہلے اپنے اُوپر خرچ کرو۔ جب اُس سے بچ رہے تو اپنے اہل و عیال پر۔ اہل و عیال سے بچ رہے تو اپنے رشتے داروں پر۔ اور رشتہ داروں سے بچ رہے تو اِس طرح اوراِس طرح (غیر رشتہ داروں پر) خرچ کرو۔ (مسلم)

اس ترتیب سے نفسِ انسانی کی تربیت و رہنمائی کے لیے اسلام کے سادہ حکیمانہ نظام پر روشنی پڑتی ہے۔ اسلام انسان کو لیتا ہے جیسا کہ وہ اپنی فطرت‘ اپنے طبعی میلانات اور صلاحیتوں کے ساتھ ہے۔اُسے وہاں سے لے کر چلتا ہے‘ جہاں وہ ہے اور جہاں وہ کھڑا ہے۔ اُسے ایک ایک قدم آگے بڑھاتا ہوا اعلیٰ سے اعلیٰ مقام پر نرمی‘ سہولت اور آہستہ روی کے ساتھ لے جاتا ہے۔ وہ بلندیوں پر چڑھتا ہے‘ مگر راحت و آرام کے ساتھ۔ وہ اپنی فطرت‘ اپنے میلانات اور اپنی صلاحیتوں کی پکار پر لبیک کہتا ہے اور ساتھ ہی وہ زندگی کو پروان چڑھاتا اور ترقی دیتا ہے۔ اُسے زحمت و مشقت کا احساس نہیں ہوتا۔ اُسے طوق وسلاسل پہنا کر بلندیوں پر کھینچا نہیں جاتا‘ اُس کی قوتوں اور فطری میلانات کو کچلا اور ختم نہیں کیا جاتا‘ اُسے راستے پر زبردستی چلایا نہیں جاتا‘ نہ اُسے اُوپر اُوپر اڑا کر ٹیلوں اور پہاڑوں پر لے جایا جاتا ہے۔ اسلام اسے لے کر آہستہ روی اور نرمی و سہولت کے ساتھ بلندیوں پر اِس طرح لے جاتا ہے کہ اُس کے قدم زمین پر ہوتے ہیں‘ نظریں آسمان کی طرف‘ دل بلند ترین اُفق کی طرف متوجہ اور روح بلندیوں میں خدا سے واصل۔

اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ انسان اپنی ذات سے محبت کرتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دوسروں پر خرچ کرنے سے پہلے انسان کو اپنی ضروریات پوری کرنے کا حکم دیا۔ اُس نے اُس کے لیے پاکیزہ رزق حلال کیا اور اُسے اِس بات پر اُبھارا کہ عیش پسندی اور اِتراہٹ اورفخر و غرور سے بچتے ہوئے اُس سے اپنی ذات کو فائدہ پہنچائے۔ حقیقت یہ ہے کہ صدقہ ذاتی ضروریات کی تکمیل کے بعد ہی شروع ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری کے ساتھ ہو۔ اور اُوپر کا ہاتھ (دینے والا ہاتھ) نیچے کے ہاتھ (لینے والے ہاتھ) سے بہتر ہے۔ اور انفاق کی ابتدا اُن لوگوں سے کرو جن کی کفالت کے تم ذمہ دار ہو!‘‘ (بخاری)

ایک اور روایت میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص ایک انڈے کے برابر سونا لایا اور اس نے کہا‘ اے اللہ کے رسولؐ! سونے کے اِس انڈے کو میں نے ایک کان میں پایا ہے‘ آپؐ اِسے لے لیں‘ یہ میری طرف سے صدقہ ہے۔ اور میرے پاس اِس کے سوا کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس سے منہ پھیر لیا تو وہ شخص آپؐ کی داہنی طرف آیا اور اُس نے پھر یہی بات کہی۔ آپؐ نے اُس سے منہ پھیر لیا تو وہ آپؐ کی بائیں طرف آیا اور اس نے یہی بات پھر کہی۔آپؐ نے پھر منہ پھیر لیا تو وہ آپؐ کے پیٹھ پیچھے سے آیا اور اس نے یہی بات دہرائی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس انڈے کو لے لیا اور اُسے اُس پر پھینک دیا‘ اگر وہ اُسے لگتا تواُسے چوٹ لگتی۔ پھر آپ ؐنے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص اپنی تمام مملوکہ اشیا لے کر آجاتا ہے اور کہتا ہے‘ یہ صدقہ ہے! پھر وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے بیٹھ جاتا ہے۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو تونگری کے ساتھ ہو۔ (ابوداؤد)

اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے کہ انسان سب سے زیادہ اپنے خاندان کے قریبی افراد--- اہل و عیال اور والدین سے محبت کرتا ہے۔ اِس لیے اسلام اُسے اُس کی ذات کے بعد ایک قدم آگے بڑھا کر اُن لوگوں کے پاس لے جاتا ہے جن سے وہ محبت رکھتا ہے‘ تاکہ وہ راضی خوشی اُن پر اپنا مال خرچ کرے اور اپنے فطری میلان کی--- جس میں کوئی خرابی نہیں ہے‘ بلکہ حکمت اور خیر ہے--- تکمیل کرسکے۔ اِسی کے ساتھ وہ اس طرح اپنے قریب ترین اعزہ کی کفالت بھی کرتا ہے‘ جو اس کے اعزہ ہونے کے ساتھ امت ِ مسلمہ کے افراد بھی ہیں۔ اگر اُن کو نہ دیا جائے تو وہ محتاج ہوجائیں گے۔ اُن کا اپنے اعزہ سے مدد لینا دُور کے لوگوں سے مدد لینے کے مقابلے میں زیادہ شریفانہ بات ہے۔ علاوہ ازیں اِس عمل سے اولین گھر میں--- جہاں انسان کے اہل و عیال اور والدین رہتے ہیں--- محبت اور سلامتی کا نشوونما ہوگا اور خاندان کے--- جسے اللہ تعالیٰ انسانیت ِ کبریٰ کے لیے پہلی اینٹ بنانا چاہتا ہے--- باہمی روابط میں استحکام ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اس قریب ترین دائرے کے بعد انسان اپنے سب ہی عزیزوں سے--- اُن کے قریب یا دُور کے تعلق کے مطابق--- محبت کرتا اور اُن کے لیے حمیّت رکھتا ہے--- اور اس میں کوئی خرابی بھی نہیں--- کیونکہ یہ لوگ بہرحال اُمت ِ مسلمہ کے جسم اور سماج کے اعضا ہیں۔ اسی لیے اسلام قریبی اعزہ کے بعد ایک قدم آگے بڑھاتا ہے اور انسانیت کے فطری رجحانات و میلانات کے ساتھ اِن رشتہ داروں کی طرف رخ کرتا ہے تاکہ اُن لوگوں کی ضروریات کی تکمیل ہو‘ اِن عزیزوں کے ساتھ بھی روابط مستحکم ہوں اور اُمت ِ مسلمہ کا یہ یونٹ قوی یونٹ بن سکے جس کے باہمی تعلقات قوی اور محکم ہوں۔

قریب اور دُور کے اعزہ پر خرچ کرنے کے بعد انسان کے پاس کچھ بچ رہے تو اسلام اس کا ہاتھ پکڑ کر عام انسانیت کے اُن گروہوں کے پاس لے جاتا ہے جن کی ناتوانی یا حالات کی پریشانی کے باعث انسان کے رحم اور تعاون کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں۔ اِن میں سب سے پہلے کم عمر اور ناتواں یتیم بچے آتے ہیں۔ پھر غربا و مساکین ہیں‘ جو تہی دست ہیں اور اُن کے پاس اُن کے ضروری مصارف کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ اپنی عزت کو بچانے کے لیے خاموش رہتے ہیں اور دستِ سوال دراز نہیں کرتے۔ پھر مسافر ہیں‘ جو اگرچہ گھر پر مال و دولت رکھتے تھے مگر اب اس سے دُور اور محروم ہیں--- ایسے لوگ مسلمانوں میں بہت تھے‘ جو اپنا سب کچھ مکّہ میں چھوڑ کر مدینہ ہجرت کر آئے تھے--- مذکورہ بالا سب گروہ سماج ہی کے اعضا ہیں‘ اس لیے جو لوگ کچھ مال و دولت رکھتے ہیں‘ اسلام انھیں متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان تہی دستوں پر خرچ کریں۔ اس مقصد کے لیے وہ پہلے ان کے جذبات کو اپیل کرتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے اور پھر انھیں انفاق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے تمام اغراض و مقاصد نرمی و سہولت کے ساتھ حاصل کر لیتا ہے۔ اس کا پہلا مقصد یہ تھا کہ خرچ کرنے والے نفوس کا تزکیہ ہو۔ یہ مقصد اس طرح حاصل ہوا کہ انھوں نے جو کچھ دیا اور جو کچھ خرچ کیا‘ راضی خوشی دیا‘ طیب ِ نفس کے ساتھ خرچ کیا ‘کسی تنگی اور کنجوسی کے بغیر خرچ کیا‘ اللہ کی رضا کے لیے‘ اُس کی طرف رخ کرتے ہوئے خرچ کیا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ لوگ اِن ضرورت مندوں کو دیں اور اُن کی ضروریات کی تکمیل اور کفالت کا نظم ہو۔ یہ مقصد بھی حاصل ہوا۔ اسلام کا تیسرا مقصد یہ تھا کہ تمام افراد کو اِس طرح مربوط و منظم کیا جائے کہ کسی پریشانی اور تنگی کے بغیر وہ ایک دوسرے کے ضامن و کفیل ہوں اور یہ مقصد بھی حاصل ہوا--- اسلام کی قیادت کتنی لطیف قیادت ہے جو سہولت کے ساتھ اپنے سب مقاصد کی تکمیل کر لیتی ہے اور جبر و تشدد اور تصنّع کے بغیر خیر کے سارے پہلو حاصل کر لیتی ہے۔

اس کے بعد اسلام اِس پورے عمل کو اعلیٰ اُفق کے ساتھ مربوط کر دیتا ہے۔ انسان جو کچھ دے‘ جو کچھ کرے اور دل میں جو نیت اور ارادہ رکھے‘ اُس سب کے سلسلے میں وہ خدا سے تعلق کو اُس کے دل میں اُبھار دیتا ہے:

وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ o

بھلائی کے جو کام بھی تم کرو گے‘ اللہ اُن سے بخوبی واقف ہے۔

اللہ اُس کے عمل سے واقف ہے‘ عمل کے محرکات سے واقف ہے‘ اس کے پیچھے جو نیت ہے‘ اس سے بھی واقف ہے۔ اس کا عمل ضائع نہ ہوگا! وہ اللہ کے حساب میں ہے جس کے پاس کوئی شے ضائع نہیں ہوتی‘ جو لوگوں پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ اُن کو رتی بھر کم کر کے دیتاہے‘ جس کے یہاں ریا اور ملمع کاری کا گزر نہیں۔

اس طرح اسلام کسی سختی اور تصنّع کے بغیر نرمی و سہولت سے دلوں کو اُفق اعلیٰ سے مربوط کر دیتا ہے اور صفاے قلب اور خدا کے لیے یکسوئی اور خلوص کے بلند مقام تک پہنچا دیتا ہے۔ یہ ہے وہ نظامِ تربیت جو   علیم وخبیر کا وضع کردہ ہے ۔ اسی پر وہ اپنا نظام قائم کرتا ہے جو انسان کو انسان ہونے کی حیثیت سے لیتا ہے  اور جہاں وہ ہے وہیں سے اُسے لے کر چلتا ہے۔ پھر وہ اُسے اُن بلندیوں تک لے جاتا ہے جہاں تک وہ اس کے بغیر نہیں پہنچ سکتا اور نہ کبھی پہنچا ہے مگر صرف اُس وقت‘ جب کہ وہ اِس راستے پر اِسی نظام کے تحت  چلا ہے۔(فی ظلال القرآن‘ ج ۱‘ ص ۵۴۰-۵۴۵)