موجودہ دور میں ’انتہا پسندی‘ اور’ دہشت گردی‘ کے فروغ کے اصل اسباب کیا ہیں؟ اس کا کوئی معروضی اور غیر جانب دار تجزیہ کرنے کے بجاے، اسلامی فکر میں ’جدت پسندی‘ یا ’تجدد پسندی‘ کے نقیب چند لکھاری دور کی کوڑی یہ لائے ہیں کہ: ’’داعش اورالقاعدہ ہوں یا جماعت التکفیراور خودکش طالبانی فکر، یہ سب اسلامی احیائی تحریکوں کے ہاں اقامت دین کے تصور کا نتیجۂ فکر اور شاخسانہ ہیں‘‘۔ کہیں اس الزام کی تکرار ملفوف انداز میں ہے تو کہیں سید ابوالاعلیٰ مودودی، حسن البنا شہید اور سید قطب شہید کا نام لے کر کہا جا رہا ہے کہ: ’’انھوں نے حکمرانوں کو طاغوت قرار دے کر نوجوانوں کو مسلم حکمرانوں کے خلاف جذباتی بنا دیا ہے اور انھی کی بوئی ہوئی فصل کاٹ رہے ہیں‘‘۔ مقصد یہ ہے کہ: ’’اگر انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا ہے تو لازم ہے کہ اقامت دین کے تصور پر قائم جماعت اسلامی، اخوان المسلمون، النہضہ، حماس جیسی تحریکوںاور ان کے لٹریچر کا سدباب کیا جائے جو نوجوانوں میں سامراجیت اور اس کے طرف دار حاکموں کی حاکمیت کے خلاف بولنے کا جذبہ پیدا کر رہے ہیں‘‘۔
جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون کی سیاسی پالیسیوں سے اختلاف کرنا کوئی اَنہونی بات نہیں، لیکن ہر صاحب ِ علم اس بات کا شاہد ہے کہ ان تحریکوں کے بانی اور پھر بعدازاں قائدین بھی اس بارے میں ہمیشہ واضح رہے ہیں کہ: وہ کسی غیر آئینی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں گے۔ اگر ان تحریکوں میں کبھی کسی فرد نے انفرادی سطح پر انحراف کیا بھی تو ان تحریکوں نے فوراً اس پر گرفت کی ہے۔ خفیہ سرگرمیوں اور انقلاب کے بارے میں سید مودودی کا موقف واضح اور دو ٹوک رہا ہے۔ عرب ممالک میں جب بھی انھیں خطاب کا موقع ملا، انھوں نے نوجوانوں کو یہی نصیحت کی کہ وہ خفیہ کارروائیوں کا حصہ نہ بنیں۔ اپنے مطالعے، تجزیے اور بصیرت کے نتیجے میں انھیں اپنے اس موقف پر تیقن حاصل تھا کہ خفیہ انقلاب اس مقصد اور حصولِ منزل کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ وہ کھلے عام دعوت پھیلانے اور راے عامہ کی تیاری اور ذہنوں کو مسخر کرنے کی بات کرتے ہیں۔ انھیں اس طرز عمل کی پاداش میں قیدوبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ حکومت نے ان کی جماعت پر پابندی بھی لگائی، لیکن انھوں نے قانونی جنگ لڑ کر تنظیم بحال کروائی۔ ۱۹۵۳ء میں تحریکِ ختم نبوت کے دوران میں ’ڈائرکٹ ایکشن پالیسی‘ کے خلاف ان کا بڑا واضحموقف تھا، جس کے باعث علما کے ایک حلقے نے انھیں مطعون بھی کیا اور آج تک نہیں بخشا۔ اسی مسئلے پر حکومت نے جب سمری کورٹ سے انھیں سزاے موت دلوائی تو جماعت اسلامی کی قیادت نے کوئی تشدد کا طریقہ اختیار نہ کیا۔ آئینی احتجاج کا حق استعمال کیا اور بس۔
یہی حال مصر اور دیگر عرب ممالک کی بڑی تنظیم اخوان المسلمون کا ہے۔ اس کے بانی حسن البنّا نے بار بار اس بات کا اعادہ کیا کہ ہمارا ایک لگا بندھا راستہ ہے جن کی مخالفت نہ میں خود کروں گا او رنہ دوسرے کریں۔ مردانگی محض جوش اور جلد بازی کا نام نہیں بلکہ حقیقی جوانمردی تو صبرواستقامت، سنجیدگی اور مستقل مزاجی کا نام ہے۔ جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے کاشوق رکھتے ہیں اور پکنے سے پہلے پھل توڑنا چاہتے ہیں، یہ تحریک ان کا میدان نہیں۔ حسن البنا کے مطابق پہلے بیج بویا جاتا ہے پھر وہ نشوونما پاتا ہے۔ مدت مقررہ اور مطلوبہ محنت کے نتیجے میں پھول اور پھل لگتے ہیں، پھر انتظار کے بعد پھل پکتا ہے ، تب توڑنے کی نوبت آتی ہے۔
اسی فکری تربیت کا نتیجہ تھا کہ حسن البنا کو ۱۹۴۹ء میں حکومتی کارندوں نے قاہرہ کی اہم شاہراہ پر واقع اخوان المسلمون کے دفتر کے عین سامنے فائرنگ کرکے موت و زندگی کی کش مکش میں مبتلا کیا۔ ستم کی بات یہ ہے کہ قصر العینی ہسپتال میں ڈاکٹروں کو ان کی طبی امداد سے بھی روک دیاگیا۔مسلسل خون بہنے سے بالآخر وہ شہید ہو گئے ۔ان کے جنازے کو کندھا دینے کے لیے صرف بوڑھے باپ اور گھر کی خواتین کو اجازت دی گئی۔ اس کے باوجود اخوان نے حکومتی جماعت کے کسی لیڈر کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ انھی دکھی کارکنوں کو جیلوں میں بند کر دیا گیا۔ ہزاروں مردوں اور خواتین کو جیلوں میں مختلف ادوار میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
۶۰ کے عشرے میں مصر کے جدید فرعون جمال عبدالناصر نے سید قطب جیسے مفکر و مفسر قرآن کو تختۂ دار پر چڑھا دیا۔ انھوں نے پھانسی کے پھندے کو چوم لیا لیکن پھانسی دینے والے ’طاغوت‘ کے خلاف کسی قتل عام اور خروج کی وصیت نہ کی، اور نہ اخوان نے کبھی قانون کو ہاتھ میں لینے کے عمل کی حوصلہ افزائی کی۔
آخر یہ کیسے ممکن ہوا کہ سید قطب شہید اور سید مودودی کی ’طاغوت‘ کی تشریح پڑھنے کے باوجود جماعت اسلامی اور اخوان المسلمون سے وابستہ افراد کی عظیم اکثریت اور نمایندہ تنظیمیں تو ان حکمرانوں کے خلاف آمادہ قتال نہ ہوئے، مگر اتہام و الزام لگانے والوں کے بقول طالبان اور داعش ، القاعدہ کے ان مظلوم لیڈروں کی تحریروں سے متاثر ہو کر اس راہ پر چل نکلے۔یہاں پر دل چسپ لطیفہ یہ ہے کہ داعش اور طالبان قسم کی تنظیموں کے نزدیک سید مودودی اور قطب شہید گمراہ تھے اور جن کا لٹریچر پڑھنا ان کے ہاں شجر ممنوعہ ہے۔
اسی طرح اس حقیقت سے کوئی اندھا بھی انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں خودکش حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے والی ان سب تنظیموں کا تعلق جس مکتب فکر سے ہے ،اس کے نزدیک تو جماعت اسلامی کا لٹریچر ’گمراہ کن‘ ہے اور ان کے مدارس میں سید مودودی کی کتب کا داخلہ ممنوع ہے۔ افغانستان میں جب اس مکتب فکر کے پروردگان کو اقتدار ملا تو انھوں نے جن منکرات کو مٹانے کا حکم جاری کیا، ان میں سے ایک منکر مولانا مودودی کا لٹریچر بھی تھا، جب کہ جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے متعدد کارکن خود کش حملوںکی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ حتیٰ کہ رحلت سے چند ماہ پہلے قبل امیر جماعت اسلامی قاضی حسین پر بھی خود کش حملہ کیا گیا۔
ہمارے ’تجدد پسند‘ حلقے کے ترجمان رسائل و جرائد میں کبھی اُن سازشوں کے خلاف لب کشائی نہیں کرتے جو یورپ اور امریکا مسلمانوں کے خلاف کررہا ہے۔ ان کی تہذیب و ثقافت مٹانے کے لیے جو حربے امریکا کی زیرقیادت مغرب و مشرق کی سامراجی قوتیں اختیار کررہی ہیں، ان کو کبھی ان ’اصلاح پسندوں‘ نے بے نقاب نہیں کیا ، مگر ہر آن مسلمانوں کی تحریکیں ہی ان کی نظر میں معتوب ٹھیرتی ہیں۔
جہاں تک جہاد کے لیے حکومت و امارت کی اجازت کا تعلق ہے تو پاکستان جیسے منضبط ملک میں تو اس فکر کو وزن حاصل ہے لیکن کشمیر کی مسلم ریاست پر غاصبانہ قبضہ کرنے والے سامراج اور تمام بین الاقوامی فورمز پر وعدے کے باوجود ان کی کسی قرار داد کو پرکاہ کے برابر اہمیت نہ دینے والے ملک کے بارے میں بھی کیا یہی اصول لاگو ہوگا؟ اس کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا۔ عراق اور افغانستان پر امریکی قبضے کا کیا اخلاقی و بین الاقوامی جواز ہے؟ ان ملکوں میں اگر روس نے قبضہ کیا اور افغان عوام اپنی آزادی اور عزت و مال کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تو ایک زمانے میں ان کے نزدیک یہ جہاد درست تھا۔ لیکن اگر اب وہ اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑیں تو اس لیے غلط قرار پائے کہ اس وقت صرف ایک امریکا کو دنیا پر کنٹرول حاصل ہے اور اسے چیلنج کرنا فساد کے سوا کچھ نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کہیں صحیح وغلط کا معیار امریکا تو نہیں بن گیا کہ جب تک وہ جہاد افغانستان کا پشتی بان رہا ،جہاد درست اور جب مسند ِامریکا سے جہاد کے خلاف فتویٰ صادر ہوا تو جہاد یک قلم موقوف۔
فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے۔ جو عزت و ناموس کی حفاظت میں اور اپنی جان کی حفاظت میںمارا گیا ،وہ شہید ہے۔ کیا جن کے گھر برباد ہوں، عصمتیں پامال ہوں، وہ بھی اس وقت تک انتظار کریں کہ مسلمان حکمران بیدار ہوں، یاان کے حکومت میں آنے کا انتظار کریں اور پھر جہاد کریں۔ یہ تو گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنے والی بات ہوئی۔ ساحل پر بیٹھ کر دریا کا نظارہ کرنا اور تجویز اور اصول سمجھانا آسان ہے لیکن بھنور میں پھنسے ہوئے لوگوں کے حالات کا ادراک اُن کے بس میں نہیں جو مغربی حکومتی عطیات پر زندگی پانے والی این جی اوز سے رزق پاتے اور ان کی پشت پناہی پر نازاں رہتے ہیں۔
مصر میں باقاعدہ عوامی راے دہندگان کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنے والے اخوان نے ایک سال حکومت کی۔ متجددین کی محبوب جمہوریت کے سارے تقاضے پورے کیے۔ انھوں نے لبرل لوگوں کو بھی باوجود اقلیتی گردہ ہونے کے، حکومت میں شامل رکھا۔ ان کے ناز نخرے برداشت کیے۔ لیکن عالمی قوتوں نے ایک فوجی حکمران کے ذریعے انھیں حکومت سے بے دخل کرکے منتخب صدر مرسی کو جیل میں بند کر دیا اور تحریر چوک میں پُرامن احتجاج کرنے والے روزہ دار شہریوں کو ٹینکوں تلے کچل دیا یا گولیوں کی بوچھاڑ میں بھون دیا، حتیٰ کہ روزہ دار خواتین کے ناموس تک کو پامال کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ متجددین کے ’حلقہ اصلاح پسنداں‘ نے اس شہید جمہوریت کے لیے کتنی آواز بلند کی؟
راشد الغنوشی کی جماعت النہضہ حکومت میں آئی۔ وہ جمہوریت کے استحکام کے لیے تمام بنیادی اسلامی مطالبات سے بھی دستبردار ہو گئے۔ لیکن یہ روشن خیال لبرلز انھیں معاف کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ترکی میں طیب اردگان کی معمولی سی اسلام پسندی بھی گوارا نہیں۔ جس جماعت اسلامی کو انتہاپسندی کے حوالے سے مطعون کیا جا رہا ہے، اس کی اعتدال پسندانہ سوچ کا تو حال یہ ہے کہ وزیراعظم بھٹو کی تمام زیادتیوں کے باوجود مولانا مودودی نے آخری دم تک کوشش کی تھی کہ بھٹوصاحب پُرامن،جمہوری راستہ اختیار کرلیں اور مارشل سے بچا جاسکے۔ اسی طرح انھوں نے بھٹوصاحب کے ہر مثبت کام کی تائید بھی کی اور تعارف بھی کیا۔
اخوان المسلمون کے بانی مرشد جب پہلی مرتبہ الیکشن میں اُمیدوار بنے تو عین اس موقعے پر جب ان کی کامیابی کے واضح امکانات تھے، انھوں نے اپنی حب الوطنی کے باعث محض اس بنا پر الیکشن سے دست برداری اختیار کر لی کہ انھیں ملک کی معتبر شخصیات نے پیغام دیا تھا کہ: ’’حسن البنا کی کامیابی کی صورت میں بیرونی طاقتوں کی طرف سے ملک کو بہت سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا‘‘۔
ویسے تو لبرلز اور متجددین عناصر، علما و عوام کو فضائل جمہوریت کے ساتھ آداب جمہوریت کا سبق دیتے نہیں تھکتے۔ لیکن اگر یہی علما اور دینی جماعتیں اسی جمہوریت کے دیے ہوئے حقِ احتجاج کو اختیار کریں اور عوام کو سڑکوں پر لائیںتو یہ بات انھیں علماے کرام کے شایان شان دکھائی نہیں دیتی۔ لکھتے ہیں کہ اسلامی تاریخ کے بڑ ے علماے کرام نے حکمرانوں کے خلاف کوئی انقلابی تحریک نہیں اٹھائی۔ عامۃ الناس کو سڑکوں پر نہیں لائے۔ گویا جمہوریت کی چوکھٹ پر سرنیاز رکھ کر بھی اگر علما، حاکمیت الٰہی کے قیام کا مطالبہ کریں یا حکمرانوں کے ظلم کی چکّی میں پسے ہوئے عوام کے جذبات کے جمہوری اظہار کی نمایندگی کریں، تو انھیں یہ بھی گوارا نہیں۔گویا ان کا مقصد یہ ہے کہ عوامی جذبات کی نکیل بھی دنیا دار سیاست دانوں کے ہاتھ میں رہے تو یہی جمہوری حسن کہلائے گا۔
تجدد پسندوں کے نزدیک حکمرانوں کے خلاف مسلح خروج درست نہیں، لیکن نہتے عوام کا سڑکوں پر آکر اپنے مطالبات پہنچانے کے لیے پر امن احتجاج بھی ان ’دانش مندوں‘ کے نزدیک خروج کا قائم مقام قرار پاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ’’ہم جمہوری عہد میں زندہ ہیں۔ سیاسی جدوجہد کا حق سب کو حاصل ہے اور علما کو بھی ابلاغ کے سب ذرائع میسر ہیں، انھیں ان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف کلمۂ حق کہنا چاہیے‘‘۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کتنے مسلم ممالک میں یہ جمہوریت موجود ہے؟ یہی بس گنتی کے چند ممالک۔ اور جن ممالک میں اس جمہوریت کے ذریعے علما کی کچھ تعداد یا دین کے طرف دار حکومت میں آگئے، انھیں بین الاقوامی سامراج اور ان کے مقامی کاسہ لیسوں نے کتنی وسعتِ ظرف سے برداشت کیا۔ الجزائر، مصر، اور فلسطین اتھارٹی اس کی مثالیں ہیں۔
متجددین کا مخمصہ یہ ہے کہ وہ جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے والے ابوحنیفہ، مالک وابن حنبل کی تعریف تو کرتے ہیں، لیکن یہ بات نہیں بتاتے کہ حکمران، اہل حق کو بدنام کرنے کے لیے ابلاغی ہتھکنڈے استعمال کریں تو کیا ا ن کے پراپیگنڈے کو بطور حقیقت قبول کر لیا جائے؟ اخوان المسلمون کے خلاف مصروشام میں ظلم و تشدد ہی نہیں کیا گیا بلکہ پراپیگنڈے کا طوفان برپا کیا گیا کہ وہ جنونی ہیں، متشدد ہیں، انتہا پسندہیں‘‘۔
البتہ اسلامی تحریکوں کی اولین قیادت کا یہی جرم کافی بڑا ہے کہ وہ حکمرانوں کے ظلم و تشدد کے باوجود انھی ملکوں میں موت کے سامنے بھی عزیمت کے ساتھ کلمۂ حق کہتے رہے۔ ہمارے ہم عصر پاکستانی متجددین کے استاد صاحب چند گم نام دھمکیوں سے ڈرکر اور عزیمت کا راستہ چھوڑ کر دوسرے ملک میں پناہ گزیں ہوگئے۔ ہم دھمکی دینے والوں کی مذمت کرتے ہیں اور دلیل سے بات کرنے اور سننے کی دعوت دیتے ہیں۔ بہرحال، اس ’دانش مند‘ حلقے میں اس بات کا وعظ بہت ہوتا ہے کہ اہل حق کو سخت ترین حالات میں صبرواستقامت اور تحمل سے انذار کرتے رہنا چاہیے۔ کاش! اور نہیں تو ان کے زعیم اول تو کم از کم اہل حق کی عزیمت اور صبر کا عملی نمونہ اپنے چاہنے والوں کے لیے چھوڑ جاتے، تاکہ آج کے جذباتی نوجوانوں کو صبر و تحمل کی حقیقت اور اہمیت کے سارے پہلو سمجھ آجاتے۔ اگر سقراط حق کے لیے زہر کا پیالہ پی سکتا ہے تو ایک تجدد پسند مذہبی اسکالر کو اپنے حق پر جمے رہنا چاہیے تھا۔
سیّد مودودی، حسن البنا شہید اور سیّد قطب شہید تک، پھر آج بنگلہ دیش کی اسلامی تحریک کے رہنمائوں نے جس عزیمت کے ساتھ پھانسی کے پھندوں کو چوما ہے، اور وہ بھی قطاراندرقطار، سوال یہ ہے کہ ابوحنیفہ و ابن حنبل کی استقامت کے جانشین وہ ہیں یا، ’جلیل القدر متجددین‘ جو چند دھمکیوں سے خوف زدہ ہو کر خاموشی سے دوسرے ملک میں جا بیٹھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ لوگ اس پر داد کے طلب گار ہیں اور اس کو یہ کہتے ہیں کہ کلمۂ حق کی پاداش میں انھیں ’ہجرت‘ کرنا پڑی۔ کیا واقعی ان کے لیے کلمۂ حق کہنا اور اسلام پر عمل کرنا اس ملک میں اتنا مشکل ہو گیا تھا کہ وہ ہجرت جیسی دینی اصطلاح کا سہارا لے رہے ہیں۔
کیا آج الجزائر، مصر، شام، خلیجی ریاستوں اور بنگلہ دیش کے حکمرانوں کے سامنے کلمۂ حق کہنا آسان ہے؟ کلمۂ حق کی پاداش میں اس وحشیانہ ظلم و تشدد کا سامنا کرنے کے باوجود، جماعت اسلامی پاک و ہند ہو یا بنگلہ دیش یاعرب اخوان المسلمون، ان پر کسی حکمران جماعت کے معمولی لیڈر تک پر قاتلانہ حملے کی کوئی قابل ذکر مثال موجود نہیں۔ مگر اس کے ساتھ یہی متجددین لوگ ان تحریکوں کے کارکنوں سے ایسی اطاعت شعاری کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جس میں وہ تڑپ کر آہ بھی نہ کرسکیں۔ بس لاشیںاُٹھائیں، اور پھر اگلی لاش کا انتظار کریں۔ مگر اپنے من پسند غاصب اور ظالم کے لیے پھولوں کے ہاروں کے طلب گار ہیں۔ اگر وہ بے چارے، ان استعماری عزائم کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں تو یہ دانش ور ان کے پشتی بان بننے کے بجاے انھی پر گولہ باری شروع کردیتے ہیں جن کوامریکی تھنک ٹینک ’رینڈکارپوریشن‘ پولیٹیکل اسلام کے نام سے خطرناک قرار دیتا ہے۔ عجیب حسن اتفاق ہے کہ جس ’پولیٹیکل اسلام ‘سے امریکا خوف زدہ ہے۔ وہی’ پولٹیکل اسلام‘ ان متجددین کی چاند ماری کے نشانے پر ہے۔
ان دانش وروں کی دانست میں موجودہ ’انتہا پسندی‘ کی اصل ذمہ دار یہ اسلامی تحریکیں ہیں، حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ اسلامی تحریکیں ہی تھیںجنھوں نے پون صدی کے عرصے تک اس امت کے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف جانے سے روکے رکھا۔
مصر کے اندر جماعت التکفیر اس وقت پیدا ہوئی، جب نصف صدی تک اس امت کے صالح اور بے قصور نوجوانوں کو جیلوں میں گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ شام میں ۱۹۸۲ء میں اخوان کے اکثریتی شہر حماۃ کو حافظ الاسد نے ملیامیٹ کردیا۔ الجزائر کے اسلامک فرنٹ کی ۸۰ فی صد اکثریتی جمہوری کامیابی کو تسلیم نہ کیا گیا،تو نوجوانوں میں اضطراب پیدا ہوا۔ اس پر مستزاد یہ کہ سامراج کی ایجنسیوں نے ان مضطرب لوگوں کو اسلامی تحریکوں کو کاؤنٹر کرنے کے لیے آگے کیا۔ کیا اس میں اب کوئی ابہام رہ گیا ہے کہ طالبان کی ابتدائی ساخت پرداخت کب ہوئی؟ اس وقت بے نظیر بھٹوصاحبہ کی حکومت نے اسے منظم کیا۔ داعش کے پھلنے پھولنے اور اس کے غبارے میں ہوا بھرنے کے لیے عراق میں خود امریکا نے کتنے ہی اپنے اڈے آسانی سے اس کے حوالے کیے۔ داعش نے امریکا کے بجاے ان اعتدال پسند مظلوم اخوانیوں کو ہی قتل کیا جو امریکا کو گوارا نہ تھے۔
ہماری درخواست ہے کہ جدت پسند اپنا سارا زور اپنے تجزیے کو درست ثابت کرنے پر لگانے کے بجاے حکمرانوں کے آئینی انحرافات پر لکھیں، جن کے رد عمل میں نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ آئین کی شرعی دفعات محض نمایشی ہیں۔ بین الاقوامی سامراجی قوتوں کے عزائم پر بھی لکھیں، جنھوںنے مسلمانوں کے معاشی وسائل کو ہی نہیں لوٹا، ان کی تہذیب و ثقافت پر بھی حملے شروع کر رکھے ہیں۔ مگر اس متجدد قبیلے کے لیے یہ بات سمجھنا بہت مشکل ہے کہ اُمت مسلمہ کے ظالم حکمرانوں نے نوجوانوں کو کتنا ذہنی ونفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ ایسے نام نہاد اصلاح پسندوں نے حکمرانوں کے سامنے کلمۂ خیر کہنے اور پُرامن احتجاج کو بھی خروج کے برابر تصور قرار دے رکھا ہے۔
ایک اور اچنبھے کی بات یہ ہے کہ ان جدت پسندوں کے ’استاد مکرم‘ ایک طرف تو تصوف کو دین کے متوازی دین قرار دیتے ہیں،دوسری طرف خود دین کا مقصد محض انفرادی تزکیہ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح وہ دوسرے انداز میں، انفرادیت پسندی کے اسی تصور پر مبنی شخصیت کو آئیڈیل قرار دے رہے ہیں جو تصوف تیار کرتا ہے۔ کیا اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ تہذیب مغرب کے مفتی کے نزدیک انفرادیت پسندی (Individulism) ایک بنیادی قدر ہے اورا س کا فروغ سامراجی طاقتوں کی ضرورت ہے جو کہ تصوف سے پورا ہونے کی انھیں اُمید ہے۔
بنیاد پرستی، شدت پسندی اور دہشت گردی کے الفاظ کی معنویت کو جس طرح آج مغرب نے دھندلا دیا ہے، ایسے ہی مکالمہ بین المذاہب، انسان دوستی (humanism)، اعتدال پسندی، امن اور رواداری (tolerance) کے خوش کن الفاظ کو وہ اپنے مفہوم کا لبادہ اُوڑھانے پر مُصر ہے۔ اس طرح اُس نے اہلِ دین کو دفاعی پوزیشن پر کھڑا کر دیا ہے۔ مغالطے کی اس دُھول میں شرک کا رد، حاکمیت الٰہی کا مطالبہ، اپنی تہذیب و ثقافت کے احیا پر مسلمانوں کا اصرار اور یہود و نصاریٰ کی دوستی کے بارے میں ان کی احتیاط کی روش، بدامنی اور شدت پسندی میں اضافے کا سبب قرار پاتے ہیں، جب کہ ہیروشیما اور ناگاساکی کے لاکھوں انسانوں کو اپاہج، عراق میں ۵لاکھ بچوں کو ادویات کی عدم دستیابی کا شکار کرنے والا امریکا اور فکری آزادی کے نام پر فرانسیسی شاتمِ رسولؐ جریدے کی پشت پر کھڑا یورپ اور دیگر ممالک کے ۴۰حکمران رواداری کے ’معلّم‘ قرار پاتے ہیں۔
قرآن اور اسوئہ رسولؐ میں اپنے عقائد و افکار پر غیرمتزلزل یقین اور دوسروں کے جذبات کا لحاظ رکھنے کا جو حسین امتزاج ملتا ہے، اس سے رواداری کے حقیقی مفہوم سے آشنائی حاصل ہوتی ہے اور عصرِحاضر میں اس کے فروغ کی راہیں بھی نظر آتی ہیں۔ اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں رواداری کے تصور کی وسعت اور گہرائی کا بھی اندازہ ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یورپ آج جس رواداری کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے، وہ محض خیالات کی لیپاپوتی سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اسوئہ رسولؐ کی روشنی سے مغرب کی طرف سے رواداری کے فروغ کے نام پر برپا تحریک کے مکروہ عزائم بھی نظر آئیں گے اور یہ بھی کہ مغرب اور ہمارے تصورِ رواداری میں کیا فرق ہے اور اگر اس فرق کو ہم نے نظرانداز کردیا تو پھر ہم خود اپنی روایات و اقدار سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔
مغرب جو لبرلزم اور رواداری کے نام پر ہم سے ہماری اقدار چھیننا چاہتا ہے، خود کس قدر متشدد ہے اس کا اندازہ یورپ میں مسلمان خاتون کے سر پر اسکارف اور مساجد کے میناروں پر عائد ہونے والی پابندی سے لگایا جاسکتا ہے۔ محض اسکارف کی پابندی کرنے والی خاتون کو مقدمے کی سماعت کے دوران عین کمرۂ عدالت میں پولیس کی موجودگی میں قتل کرنا بقول اقبال مغرب کے ’اندروں چنگیز سے تاریک تر‘ کا منظر دکھاتا ہے۔ اس لیے ہمیں مغرب سے متاثر ہوئے بغیر رواداری کی ان بنیادوں کو تلاش کرنا ہے جو امنِ عالم کے قیام میں انسانیت کے کام آسکیں اور تمام اقوام کو اُن کی تہذیب وثقافت کے تحفظ کا احساس دلا سکیں، نہ کہ رواداری کے نام پر ان کی اقدار پر ڈاکا مارنے اور کمزور اقوام کی خودداری چھیننے کا سنہری جال ہوں۔
کیا رواداری کا فروغ دو مخالف اور متصادم نظریات کی محض لیپاپوتی سے ممکن ہے؟ اس کا جواب اگر نفی میں ہے تو پھر مخالف نظریات کی موجودگی میں دیگر اقوام کا مل جل کر رہنے کا کیا طریقۂ کار ہو؟یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں جواب تلاش کرنا ہے۔ اہلِ مغرب کے ہاں غلط اور صحیح کی بنیادیں اور ہیں اور اہلِ اسلام کے ہاں اور۔ بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ایک کے ہاں درست ہیں اور دوسرے کے ہاں غلط۔ اگر کچھ باتوں میں اشتراک پایا بھی جاتا ہے، تو بہت سی باتوں میں ٹکرائو بھی ہے۔ ٹکرائوکی صورت میں دونوں سے سازگاری ممکن نہیں۔
رواداری کا مفھوم
رواداری سے مراد کسی انسانی اجتماعیت کا ان باتوں کو جنھیں وہ نظریاتی طور پر اپنے دائرے میں غلط اور ناپسندیدہ سمجھتی ہے، دوسرے انسانوں کو جو انھیں پسند کرتے ہیں، ان کے جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے انھیں اختیار کرنے کا حق دینا اور ناپسندیدگی کے باوجود برداشت کرنا ہے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ جب تک انسانوں کو ارادہ و عمل کی آزادی ہے، وہ ایک ہی نظامِ فکر کے پابند نہیں ہوسکتے اور جزوی تفصیلات میں تو ان کے درمیان اختلاف کا ہونا ان کے مزاج اور ذوق کے تنوع کے باعث ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرضِ منصبی دعوت و تذکیر ہی قرار دیا ہے: فَذَکِّرْ ط اِِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ o (الغاشیہ ۸۸:۲۱)، اور ساتھ ہی آپ کو بتایا کہ آپ ان پر داروغہ نہیں ہیں: لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍo (الغاشیہ ۸۸:۲۲) ۔ لہٰذا اس فرمان کی روشنی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت و تذکیر اور یاد دہانی میں انتہائی نرمی اختیار کی۔ ایک طرف اہلِ کفر کو لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ(الکافرون۱۰۹:۶)کہہ کر ان کے مشرکانہ عقائد سے براء ت و بے زاری کا اعلان کیا تو دوسری طرف لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرہ۲:۲۵۶) فرما کر انسانیت کے اس حق کو بھی باو رکرایا گیا کہ اللہ تعالیٰ قبولِ ہدایت کے لیے کسی قسم کے جبر کو پسند نہیں کرتا۔
حق و باطل کے معرکے میں نظریاتی جنگ بہرحال انسانی اذہان کے میدان میں لڑی جائے گی۔ اس لیے باطل کو ختم کرنا اور انسان کو آخری حد تک باطل سے نتھی رہنے سے بچانے کی کوشش کرنا مسلمانوں پر لازم ہے۔ جیساکہ فرمایا: اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ ط (النحل۱۶:۱۲۵) ’’اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔ یہ اسی لیے فرمایاکہ جذباتِ انسانی کو کم سے کم ٹھیس پہنچا کر ان کے دل جیت لیے جائیں۔ حق اور باطل کا مقابلہ بھی ناگزیر ہے لیکن یہ مقابلہ انسان کی تکریم کے لیے ہے نہ کہ اس کی تذلیل کے لیے۔ انسانوں پر حق کو بہ جبر مسلط کرنے میں انسان کی تکریم ہے اور نہ حق کی، بلکہ ان دونوں کی تکریم اس میں ہے کہ انسان آزادانہ مرضی سے حق کو قبول کرے: فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ لا (الکھف۱۸:۲۹) ’’اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے‘‘۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے ایک ایک مظہر پر ضرب لگائی۔ اہلِ شرک کی کٹ حجتیوں کا مدلل جواب دیا۔ اہلِ کفر کی ایک ایک خامی کو نمایاں کیا لیکن سواے ایک مقام کے اہلِ کفر کو بھی ٰٓیاََیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ کہہ کر مخاطب نہیں کیا گیا۔ بتوں کی کمزوریوں کو نمایاں کیا لیکن آپؐ نے بتوں کی تضحیک و استہزا کو اپنا شعار نہ بنایا، کیونکہ اللہ کا حکم تھا: وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوً م ا بِغَیْرِ عِلْمٍ ط (الانعام۶:۱۰۸)’’اور جن کو یہ کافر اللہ کے مقابلے میں پکارتے ہیں تم انھیں گالیاں مت دو ورنہ وہ بھی اللہ کو بغیر علم کے دشنام دیں گے‘‘۔
تمام انبیا ؑ اپنی قوموں کے شرک اور غلط کاریوں پر جب تنقید کرتے ہیں تو بار بار وہ مخاطبین کو یٰقُوْمِ (اے میری قوم) کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں۔ قرآن نے منافقین کے رذائل کو کھول کھول کر سورئہ بقرہ، سورئہ منافقون، سورئہ احزاب اور دیگر سورتوں میں بیان کیا ہے لیکن ایک مقام پر بھی یاایھاا لمنافقون کے الفاظ سے خطاب نہیں کیا گیا۔ انھیں اہلِ ایمان کے صیغۂ خطاب میں ہی یاایھا الذین امنوا کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا گیا ہے، بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کی وفات پر اس کے کفن کے لیے اپنی قمیص بھی پیش کردی(بخاری، رقم الحدیث ۵۷۹۵)۔ آپؐ نے ایک یہودی کا جنازہ گزرتے ہوئے دیکھا تو آپؐ مجلس میں اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔ (بخاری، رقم الحدیث، ۱۳۱۲)
قریش کے ایک سردار عتبہ بن ربیعہ نے آپؐ سے سمجھوتا کرنے کے لیے دولت، عورت اور حکومت کی جو پیش کش کی وہ آپؐ کی بلندیِ کردار اور مقاصد ِ جلیلہ کے مقابلے میں انتہائی گھٹیاتھی، لیکن آپؐ نے اپنے مقام و مرتبہ سے فروتر ان باتوں کو نہ صرف صبروتحمل سے سنا بلکہ اپنی بات شروع کرنے سے قبل آپؐ نے اس سے استفسار کیا کہ اے ابوالولید! کیا تم نے اپنی بات مکمل کرلی؟ گویا اس کی بات کو مکمل سننا ضروری سمجھا گیا۔ مزید یہ کہ عتبہ کو اس کی کنیت ابوالولیدسے پکار کر آپؐ نے گویا اُمت کو یہ سبق دیا کہ کافر خواہ کتنی ہی گھٹیا بات کرے، اس کا ادب و احترام تر ک نہیں کیا جائے گا۔
میثاقِ مدینہ کی شرائط میں یہود و مشرکین کی مذہبی آزادیوں کے تحفظ کا شامل کرنا، حقوقِ انسانی اور بین الاقوامی معاہدات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ واضح طور پر ملتا ہے۔ اس معاہدے کی ایک شق کے الفاظ یہ ہیں: لِلْیَھُودِ دِیْنُھُمْ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ دِیْنُھُمْ (یہود کے لیے ان کا دین اور مسلمانوں کے لیے ان کا دین)۔ (ڈاکٹر محمد حمیداللہ، The First Written Constitution in the World، ص ۲۴)
مذہبی اختلاف جسے قریش نے ذاتی عناد میں تبدیل کرلیا تھا، جنگ ِ بدر میں قیدیوں سے حُسنِ سلوک کا مظاہرہ اور مخالفین اسلام سے مسلمان بچوں کی تعلیم کی خدمت لینا، رواداری کی عظیم مثال ہے۔ جس جہاد کو آج رواداری کا دشمن باور کرایا جاتا ہے، اللہ کے نزدیک وہی جہاد درحقیقت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے تحفظ کا ذریعہ ہے: وَ لَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا ط (الحج۲۲:۴۰) ’’اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کرڈالی جائیں‘‘۔
نجرانی عیسائیوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو معاہدہ کیا تھا اس کی ایک شق یہ تھی: اَنْ لَا تُھَدَمَ لَھُمْ بِیْعَۃٌ ، وَلَا یُخْرَجَ لَھُمْ قِسٌّ ، وَلَا یُفْتَنُوا عَنْ دِیْنِھِمْ ، مَا لَمْ یُحْدِثُوا حَدَثًا اَوْ یَأکُلُوا الرِّبٰوا ،’’ان کے کسی معبد کو منہدم نہیں کیا جائے گا نہ کسی پادری کو نکالا جائے گا۔ تبدیلی مذہب کے لیے انھیں مجبور نہیں کیا جائے گا۔ جب تک وہ کوئی نئی بات نہ نکالیں یا سود نہ کھائیں، معاہدہ برقرار رہے گا‘‘۔(سنن ابوداؤد، رقم الحدیث: ۲۶۴۴)
حضرت ابوبکر صدیقؓ کے عہد میں اہلِ حیرہ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک شق امام ابویوسفؒ نے یہ بیان کی ہے: وَلَا یُمْنَعُوا مِنْ ضَرْبِ النَّوَاقِیْسِ، وَلَا مِنْ اِخْرَاجِ الصُّلْبَانِ فِیْ یَوْمِ عِیْدِھِمْ ، ’’ان کو کلیسا کی گھنٹیاں بجانے یا اپنی عید کے دن صلیب نکالنے سے منع نہیں کیا جائے گا‘‘۔ (ابویوسف، کتاب الخراج، ص ۱۵۴)
عہدفاروقی میں عیسائیوں کو ناقوس بجانے کی کتنی فراخ دلانہ آزادی دی گئی، اس کا کچھ اندازہ ان الفاظ سے ہوتا ہے: اَنْ یَضْرِبُوْا نَوَاقِیْسَھُمْ فِیْ أَیِّ سَاعَۃٍ شَآؤُوْا مِنْ لَیْلٍ وَنَھَارٍ اِلَّا فِیْ اَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ ’’کہ وہ نمازوں کے اوقات کے ماسوا دن اور رات کے جس پہر میں بھی چاہیں، اپنی گھنٹیاں بجا سکیں گے‘‘۔ (ایضاً، ص ۱۵۸)
امنِ عالم کا قیام اور روے زمین پر آباد افراد و اقوام کو اس قابل بنانا کہ وہ آزادانہ تبادلۂ خیال کی فضا میں سانس لے سکیں، جس میں ہرفرد کو اپنی راے رکھنے کا حق حاصل ہو اور باہمی افہام و تفہیم کا موقع ملے، وقت کی ضرورت ہے تاکہ باہمی میل جول (interaction) کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور حکمت اہلِ کفر پر واضح ہوسکے۔ باہمی میل جول کا فائدہ ہمیشہ اس نظریاتی تحریک کو ہوتا ہے جس کا نظریہ ذہنوں کو مسخر کرنے اور دلوں کو موہ لینے کی صلاحیت (potential) رکھتا ہو۔
نجران کے عیسائیوں کا وفد (۹ہجری) مدینہ حاضر ہوا اور آپؐ نے مسجد نبویؐ میں انھیں اپنی رسوم و عبادات ادا کرنے کی اجازت دی (شبلی نعمانی، سیرۃ النبیؐ، ج۲،ص ۵۱) ،اور ایک ایسا منصفانہ اور ہمدردانہ معاہدہ کیا کہ ولیم میور جیسا متعصب مستشرق بھی اس کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ لکھتا ہے:
محمد[صلی اللہ علیہ وسلم] نے بشپوں، پادریوں اور راہبوں کو یہ تحریر دی کہ ان کے گرجاگھروں اور خانقاہوں کی ہر چیز ویسے ہی برقرار رہے گی۔ کوئی بشپ اپنے عہدہ، کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی پادری اپنے منصب سے معزول نہیں کیا جائے گا اور ان کے اختیارات، حقوق میں کسی قسم کا تغیر نہ کیا جائے گا اور جبر وتعدی سے کام نہیں لیا جائے گا۔ (ولیم میور، Life of Mohammad ،ص ۱۵۸)
فاضل ہندو محقق شری سندر لال جی اپنے مضمون ’آنحضرت کی زندگی‘ میں لکھتا ہے: ’’حکمران کی حیثیت سے محمدصاحب نے غیرمسلموں کو یہاں تک کہ بت پرستوں کو بھی اپنی ریاست کے اندر رہتے ہوئے، اپنے مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری پوری آزادی بخشی اور ان کی عبادت گاہوں کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کا فریضہ قرار دیا۔ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ مدنی آیت ہے اور محمدصاحب کی پوری زندگی اس آیت کی جیتی جاگتی تصویر ہے‘‘۔
محمد [صلی اللہ علیہ وسلم] نے ایک ایسے مذہب اور روایت کی بنیاد ڈالی جو مغربی تصور کے باوجود تلوار کی ثقافت پر مبنی نہیں تھی،اور جس کا نام اسلام ، امن و سلامتی کی علامت ہے۔(آرم اسٹرانگ ، Muhammad a Western Attempt to Understand Islam،ص ۲۶۶)
برٹرینڈرسل لکھتا ہے: ’’عیسائیت اور ان کے علَم برداروں نے ہمیشہ اسلام اور حضرت محمدؐ کے خلاف باطل پروپیگنڈا جاری رکھا ہے، جب کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ محمدؐ ایک عظیم انسان اور فقیدالمثال مذہبی رہنما تھے۔ وہ ایک ایسے دین کے بانی تھے جو بُردباری، مساوات اور انصاف کی بنیادوں پر کھڑا ہے‘‘۔(برٹرینڈرسل، Why I am not Christian، ص ۵۲)
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حضوؐر نہ تو مردم بیزار اور گوشہ نشین ہستی تھے اور نہ شدت پسندی آپؐ کے مزاج کا حصہ تھی۔ آپؐ کی گوشہ نشینی کی زیادہ سے زیادہ مدت وہی ہے جو نزولِ وحی سے قبل آپؐ نے غارِحرامیں اختیار کی۔ نزولِ وحی کے بعد آپؐ کبھی غارِحرا میں زاویہ نشین نہ ہوئے۔اس کے بعد آپ انسانوں کے اندر ان کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے۔ قبل از بعثت آپؐ ایک بھرپور کاروباری زندگی گزار رہے تھے جس کا ثبوت یہ ہے کہ مکہ کی مال دار اور کاروباری خاتون حضرت خدیجہؓ آپؐ سے متاثر ہوئیں۔ بعثت سے قبل آپؐ ایک سرگرم سماجی زندگی گزارتے تھے جس کا ثبوت معاہدہ ’حلف الفضول‘ میں آپؐ کی شرکت اور حجراسود کی تنصیب میں آپؐ کی فہم و فراست اور اہلِ مکہ کاآپؐ پر اعتمادہے۔ ایک ایسا شخص جس کی جوانی ایک بھرپور عملی زندگی کا تاثر رکھتی ہے، جب وہ الہامی ہدایت کی روشنی میں لوگوں کو اصلاح و ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے تو یہ بات قابلِ فہم ہے کہ اس کی شخصیت کے سابقہ عمل اور تجربات اس کی دعوتی زندگی میں نظر آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسوئہ رسولؐ میں ہمیں اس بات کا اظہار ملتا ہے کہ آپ جہاں ایک طرف ٹھیٹھ عقیدہ و نظریہ کی بنیاد پر ایک اجتماعیت کی بنیادیں اُٹھا رہے تھے وہاں آپؐ معاشرے میں انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں ایک عملی انسان تھے۔ ایک عملی انسان میں جہاں اپنے نظریات و عقائد اور زندگی کے تصورات پر کاربند ہونے اور اس کے ابلاغ کی تڑپ ہوتی ہے، وہاں دوسروں کے جذبات کا لحاظ کرنا بھی اس کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔
بظاہر تو رواداری کی صدا اس طبقے کی طرف سے بلند ہونی چاہیے جو کمزور اور اقلیت میں ہو لیکن امرواقع یہ ہے کہ اس کا پُرزور مطالبہ بالعموم status quo کی حامی قوتوں کی طرف سے ہوتا ہے، جیساکہ اہلِ مکہ نے حضوؐر کے پیغام کی قوتِ تاثیر سے ڈر کر آپ کو سمجھوتے کی میز پر لانے کی کوشش یہ کہہ کر کی: اِئْتِ بِقُرْآنٍ غَیْرِ ھَذَا اَوْ بَدِّلْـہٗ ، اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آئو یا اسے تبدیل کردو، تو اللہ نے حضوؐر سے کہلوایا کہ:قُلْ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اُبَدِّ لَہٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ ج اِنْ اَتَّبِــعُ اِلَّا مَا یُوْحٰٓی اِلَیَّ ج (یونس ۱۰:۱۵)’’کہو کہ میرا یہ کام نہیں کہ میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں، میں تو اس وحی کا پابند ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے‘‘۔ غیروں کی خوش نودی کے لیے اگر مسلمان اپنے دین کے اصولوں میں کتربیونت کرتے ہیں تو اللہ کے نزدیک اس سے بڑھ کر ظلم کوئی نہیں۔ وہ اللہ کے ہاں مجرم قرار پائیں گے اور انھیں دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل نہ ہوگی: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ o (یونس ۱۰:۱۷) ’’پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے‘‘۔ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کے معاملے میں کسی لاگ لپیٹ اور مفاہمت خواہانہ رویے (compromising attitude) سے اللہ نے اپنے رسولؐ اور ان کے صحابہؓ کو منع فرمایا: وَدُّوْا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُوْنَ o (القلم۶۸:۹) ’’یہ کافر تو چاہتے ہیں کہ تم کچھ مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں‘‘۔
مداہنت جس کا ذکر یہاں اللہ نے ناپسندیدگی کے ساتھ کیا ہے، کیا ہوتی ہے؟ اس کی وضاحت مفسرین کی آرا کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امام ابن جریر طبری اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: لَوْ تُرَخِّصْ لَہُمْ فَیُرَخِّصُوْنَ اَوْتَلِیْنُ فِیْ دِیْنِکَ فَیَلِیْنُوْنَ فِیْ دِیْنِھِمْ ’’کچھ تم ان کے لیے ڈھیل نکالو تو پھر یہ تمھارے لیے ڈھیل پیدا کریں یا یہ کہ تم اپنے دین میں نرمی لے آئو تو یہ بھی اپنے دین میں نرمی لے آئیں‘‘۔(تفسیر ابن جریر ،ج ۱۹، ص ۲۸)
امام قرطبیؒ کے مطابق: فَاِنَّ الْاِدِّھَانَ: اَللِّیْنُ وَالْمُصَانِعُ، وَقِیْلَ: مُجَامَلَۃُ الْعَدُوِّ مُمَایَلَتُـہٗ ، وَقِیْلَ: مُقَارَبَۃٌ فِی الْکَلَامِ وَالتَّلْیِیْنُ فِیْ الْقَوْلِ ’’ادھان کا مطلب ہے ڈھیل پیدا کرلینا اور سازگاری چاہنا۔ ایک قول کے مطابق اس سے مراد ہے مخالف کے ساتھ لحاظ کا رویہ اختیار کرلینا اور میلان باہمی چاہنا۔ دوسرے قول کے مطابق: اس سے مراد کلام میں ایک دوسرے سے قربت پیدا کرنا اور بات میں ملائمت لے آنا‘‘۔ (تفسیر قرطبی، ج ۹، ص ۲۳۰)
امام ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: حضرت عبداللہؓ بن عباس سے مروی ہے کہ ’’اللہ کے اس فرمان سے مراد ہے کہ تم ان کے لیے معاملہ کچھ ڈھیلا کرو تو پھر یہ بھی تمھارے لیے ڈھیل پیدا کرلیں گے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر،ج ۴، ص ۴۰۳)
قرآن کے نزدیک کسی بھی عقیدے یا نظریے کو قبول کرنے یا رد کرنے، صحیح کہنے یا غلط کہنے کا اختیار تو انسانوں کو حاصل ہے لیکن یہ اختیار نہ اس عقیدے کے مخالفین کو حاصل ہے اور نہ اس کے ماننے والوں کو کہ وہ اس عقیدہ کی تشریح و تعبیر اس کے اصل مراجع سے ہٹ کر کریں۔ جذبات انسانی کا احترام بجا مگر حق کا احترام اس سے بڑی چیز ہے اور حق کے احترام کی بات کرنا، باطل کے خلاف دعوت و تبلیغ کرنا، رواداری کے خلاف نہیں۔ البتہ یہ رواداری کے خلاف ہے کہ تلوار کے زور پر لوگوں سے کلمہ پڑھوایا جائے۔
اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ حسنِ سلوک، نرمی اور رواداری انسانوں کے ساتھ کرنے کا ہمیں حکم ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرہ۲:۸۳) ’’لوگوں سے بھلی بات کہنا‘‘، چاہے و ہ باطل پر ہی کیوں نہ ہوں لیکن خود باطل نظریات کسی رواداری کا استحقاق نہیں رکھتے کیونکہ ان سے رواداری حق کی بھینٹ دیے بغیر ممکن نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مقابلہ تو حق و باطل پر مبنی نظریات و رجحانات کے درمیان ہوگا لیکن اس کو بہرحال انسانی قلوب و اذہان میں برپا ہونا ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ حق و باطل کی اس مڈبھیڑ میں اس سرزمین کا نقصان کم سے کم ہو، اور انسانی جذبات کم سے کم برانگیختہ ہوں۔ جیسے ایک ڈاکٹر کی اصل جنگ مرض کے خلاف ہوتی ہے۔ یہ جنگ اسے مریض کے جسم کے حساس اعضا کے درمیان لڑنا ہوتی ہے۔ وہ کم سے کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ محض کسی اذیت کے خوف سے مریض کا علاج ترک نہیں کردیتا۔ گویا کوئی معاملہ بھی، جس میں اللہ اور رسولؐ نے کسی بات کا فیصلہ کردیا ہو، اس میں کسی گروہ کی پسندوناپسند کا خیال رکھنا اسلام کے نزدیک رواداری نہیں۔ البتہ ایسی بات یا موضوع جسے دین نے مباح رکھا ہو یا جس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہو، اس میں لوگوں کے رجحانِ طبع، آسانی اور پسند کا لحاظ کرنا اور شدت و غلو اور انتہاپسندی سے بچنا ہی اسوئہ رسولؐ ہے۔
اس موقف کی تائید ایک روایت کرتی ہے جو مداہنت اور رواداری کے درمیان حضوؐر کے متوازن اسوئہ کو نمایاں کرتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا: اِنِّیْ لَمْ اُبْعَثْ بِالْیَھُوْدِّیَّۃِ وَلَا بِالنَّصْرَانِیَّۃِ وَلٰکِنِّیْ بُعِثْتُ بِالْحَنِیْفِـیَّۃِ الْسُّمْحَۃِ ’’مجھے نہ تو یہود کے اندازِ دین داری کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور نہ نصرانی مذہبیت کے ساتھ، مجھے اس موحدانہ طرزِ بندگی کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہے جس میں وسعت و آسایش ہے‘‘۔(مسند احمد، رقم ۲۱۶۲۰)
اَحَبُّ الدِّیْنِ اِلَی اللّٰہِ الْحَنِیْفِیَّۃُ الْسُّمْحَۃُ’’دین داری کا انداز اللہ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، وہ ٹھیٹھ موحدانہ طرز کی بندگی، جس میں خوب نرمی و میانہ روی ہو‘‘ (بخاری، رقم الحدیث ۳۷، طبرانی، رقم ۷۵۶۲)۔ یہ الفاظ اس طویل حدیث کا حصہ ہیں جس میں حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ کچھ حبشی لوگ عید کے روز آئے اور انھوں نے مسجد میں ایک رقص نما کھیل پیش کیا۔ تب نبیؐ نے مجھے بھی بلا لیا۔ میں آپ کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر ان کا کھیل دیکھتی رہی یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کی طرف سے توجہ پھیر لی۔(مسند احمد، مسلم)
حضرت عروہؓ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہؓ نے کہا: اس روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: لِتَعْلَمَ الیَھُوْدُ اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ اِنِّیْ اُرْسِلْتُ بِحَنِیْفِیَّۃٍ سُمْحَۃٍ (مسنداحمد، رقم ۲۳۷۱۰)۔ علامہ البانی نے خُذُوْا یَابَنِی رَفْدَۃ! حَتّٰی تَعْلَمَ الْیَھُوْدُ وَالنَّصَارٰی اَنَّ فِیْ دِیْنِنَا فُسْحَۃٌ ’’شاباش حبش کے جوانو! تاکہ عیسائی و یہود جان لیں کہ ہمارے دین میں بڑی وسعت ہے‘‘ کے الفاظ کے ساتھ اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔(ناصرالدین البانی: السلسلۃ الصحیحہ)
زمانۂ جاہلیت میں شرک و بت پرستی کو غلط جاننے اور عام بُرائیوں سے دامن کش رہنے والے صاحب ِ عزم انسانوں کو ’حنیف‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے قرآن نے حَنِیْفًا مُّسْلِمًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حنف یحنف کا مطلب مڑا ہونا بھی ہے اور سیدھا ہونا بھی۔ میلان ختم کرلینا بھی ہے اور میلان پیدا کرلینا بھی۔ ایک طرف سے ٹوٹنا دوسرے سے جڑنا۔ گویا حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی طرف سے بالکل ہٹ کر کسی اور طرف کا ہو لے۔ چنانچہ حنیفیت کا معروف معنی ہے سب معبودوں سے ناتا توڑ کر ایک ہی معبود کا ہو رہنا۔ سمحہ کے معنی ہیں میانہ روی، معقولیت، اعلیٰ ظرفی، وسعت نظر کے ساتھ آسانی و نرمی، رواداری و رحم دلی۔ گویا اسلام مذہبی جکڑبندیوں کا نام نہیں۔ اسلام میں جائز خواہشات کو دبا دینا اور جذبات و احساسات کا قتل جائز نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں ہمیں حنیفیہ اور سمحہ کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ایک طرف ایسے اصول ہیں جن پر کوئی مفاہمت نہیں، یعنی باطل سے کوئی مفاہمت نہیں، یکسو ہوکر ایک رب کا ہورہنا ہے۔ دوسری طرف دعوت و تربیت، ابلاغ اور قائل کرنے میں کوئی جبر نہیں۔ دعوتی عمل میں معقولیت، مخاطبین کی سہولت کا خیال ، نہ ماننے والوں سے کسی الجھائو کا شائبہ تک نہ ہونا، لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ کے شرک بے زار اعلان کے ساتھ ہر ایک کو بَشِّرُوْا وَلَا تُنَفِّرُوْا یَسِّرُوْا وَلَا تُعَسِّرُوْا کی نوید جاںفزا ۔ (مسلم ، رقم ۳۲۶۲ )
اصولی مسائل میں جب خاندان میں آپؐ کے واحد پشتی بان چچا ابوطالب نے بھی سردارانِ قریش کے دبائو اور اپنی مجبوریوں کا احساس دلا کر ایک موقعے پر آپؐ کو کچھ مفاہمت کی راہ دکھانا چاہی، تو آپؐ کا یہ فرمانا کہ واللہ !اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لاکر رکھ دیں تو بھی میں اس دعوت سے باز نہیں آئوں گا۔ آپؐ کے اس اسوہ میں ہمارے لیے یہ رہنمائی موجود ہے کہ دینی اصولوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جاسکتا۔ عتبہ بن ربیعہ کی طرف سے کلمہ کی دعوت چھوڑنے کے نتیجے میں حکومت و دولت کی پیش کش کو آپؐ کی طرف سے ٹھکرا یا جانا معمولی بات نہیں۔ کوئی دانش ور کہہ سکتا ہے کہ آپؐ پہلے حکومت بنالیتے اور پھر حکومت کی طاقت سے توحید کی دعوت کی ترویج کرتے لیکن آپ نے اصولِ توحید کی تنفیذ کے لیے مشرکانہ سیادت کا بار ِاحسان ہونا گوارا نہ کیا۔
اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں ایک مسلمان کا کام دین کو بلاکم و کاست انسانوں تک پہنچا دینا ہے۔ اب کوئی اللہ کے نازل کردہ دین کو نہیںمانتا تو اس زندگی میں اسے اس کی پوری آزادی حاصل ہے۔ اس کا فیصلہ روزِ محشر اللہ نے کرنا ہے، ہم نے نہیں۔ البتہ دنیا میں باطل کے پرستاروں پر ان کی غلطی واضح کرنا اور انھیں عذابِ الٰہی سے ڈرانا ہماری ذمہ داری ہے۔
مسلم مکاتبِِ فکر کے درمیان رواداری
اب تک ہم نے دیگر اقوام و مذاہب کے معاملے میں رواداری کے مفہوم کے تعین کی کوشش کی ہے۔ اب خود مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مختلف مکاتب ِ فکر کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے جس رواداری کی ضرورت ہے، اسے سیرتِ رسولؐ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں گے۔
اس میں شک نہیں کہ آج مسلمانوں میں بہت سے مکاتب فکر ہیں جن میں ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیاں پائی جاتی ہیں۔ کسی کو کسی کی توحید مشکوک نظر آتی ہے تو کوئی کسی دوسرے کو منکرِ رسولؐ قراردیتا ہے۔ عقائد اور معاملات میں کہیں کہیں بڑے انحرافات بھی نظر آتے ہیں۔ ان پر تنقید نہ کرنا بھی اُمت کے مفاد میں نہیں۔ اُمت کو اصل دین پر قائم رکھنے کے لیے اصل دین کا اُجاگر کرتے رہنا ضروری ہے۔ لیکن اس تنقیدوتحقیق کو ایسے اصولوں کا پابند رکھنا ضروری ہے جو ہمیں اسوۂ رسولؐ سے حاصل ہوتے ہیں۔
لوگوں پر کفروشرک کے فتوے لگانا، جب کہ وہ کلمہ گو ہوں، یہ نبویؐ دعوت کا اسلوب نہیں ہے، خصوصاً جب ان پر کوئی دعوتی حجت بھی قائم نہ ہوئی ہو۔ حضوؐر پر تو منافقین کا نفاق واضح تھا، آپؐ نے کبھی کسی منافق کو بھی منافق کہہ کر مخاطب نہیں فرمایا۔ قرآن میں کسی ایک جگہ بھی یایھا المنافقون کا لفظ استعمال نہیں ہوا ہے حالانکہ قرآن میں جگہ جگہ منافقین کے رذائل بیان ہوئے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان یا مسلمانوں کے کسی گروہ کی خامی حضوؐر کے علم میں آتی تو آپؐ برسرِ منبر اس خرابی پر توجہ ضرور دلاتے لیکن ان افراد کا نام کبھی نہ لیتے تھے۔
اگر کسی امر پر دلیل ملتی ہو اور اُمت کے معتبر اہلِ علم کی گواہی بھی موجود ہو تو اس کی روشنی میں یہ کہنا کہ یہ کام شرک ہے، یا یہ رویّہ کفر ہے، یہ گناہ ہے یا فسق ہے، اس کے کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ کسی متعین فرد یا گروہ کا نام لے کر اُسے کافرومشرک، بدعتی یا منافق کہنا بہت سے پہلوئوں سے تحقیق و تفتیش کا متقاضی ہے۔ لوگوں کو خدا کا حق بتانے میں پُرحکمت اور مؤثر انداز اختیار کرنا ضروری ہے۔
جہاں حق بات کے اظہار کی استطاعت و اہلیت نہ ہو یا جہاں باطل کو رد کرنے کی حالات اجازت نہ دیتے ہوں، وہاں وقتی طور پر خاموش رہنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ حضرت موسٰی ؑ جب ۴۰روز بعد بنی اسرائیل کی طرف واپس آئے اور انھیں گئوپرستی میں مبتلا پایا تو انھوں نے اپنے بھائی حضرت ہارون ؑ سے پوچھا: مَا مَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَھُمْ ضَلُّوْٓا o اَلَّا تَتَّبِعَنِط (طٰہٰ۲۰:۹۲-۹۳) ’’تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمھارا ہاتھ پکڑا تھا کہ تم میرے طریقے پر عمل نہ کرو‘‘۔ تو حضرت ہارون ؑ نے جواب میں کہا: اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ وَ لَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ (طٰہٰ۲۰:۹۴) ’’مجھے اس بات کا ڈر تھا کہ تو آکر کہے گا کہ تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔
حضرت موسٰی ؑ کے بعد قوم نے جو بت پرستی اور سرکشی کی راہ اختیار کی، سورئہ اعراف کے مطابق حضرت ہارون ؑ کو اپنی جان کی ہلاکت اور اس کے نتیجے میں قوم کے انتشار کا خطرہ محسوس ہوا تو انھوں نے حضرت موسٰی ؑ کی واپسی کے انتظار تک جو مصلحت اختیار کی، قرآن نے اسے ناپسندیدہ قرار نہیں دیا۔
دین کے اجتہادی و فروعی معاملات میں حضوؐر نے مسلمانوں کو باہم ایک دوسرے کے نقطۂ نظر کو نہ صرف برداشت کرنے کی تربیت دی بلکہ اس عمل کو حصولِ فضیلت کا ذریعہ قرار دیا۔ فرمایا: اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ رَبَضِ الْجَنَّۃِ لِمَنْ تَرَکَ الْمِرَائَ وَ اِنْ کَانَ مُحِقًّا ’’میں اس شخص کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے‘‘۔(ابی داؤد، رقم ۴۸۰۰)
قوم کے فتنہ و ہیجان میں مبتلا ہونے کے خطرے کے پیش نظر آپ نے اپنے پسندیدہ عمل کو بھی ترک کردیا۔ خانہ کعبہ کی عمارت ادبارِ زمانہ کے باعث ان بنیادوں پر موجود نہ تھی جن پر اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا، حضوؐر ایسا کرنا چاہتے تھے لیکن فتنہ پیدا ہوجانے کے اندیشے سے ایسا نہ کیا۔ ایک دن حضرت عائشہؓ کو مخاطب کرکے فرمایا: ’’میرا دل چاہتا ہے کہ خانہ کعبہ کی عمارت انھی بنیادوں پر تعمیرکروں جہاں اسے حضرت ابراہیم ؑ نے تعمیر کیا تھا لیکن اس وجہ سے رُک جاتا ہوں کہ تیری قوم نئی نئی مسلمان ہوئی ہے‘‘۔ (بخاری، رقم ۱۴۸۳)
اللہ کے رسولؐ جنھوں نے دعوتِ حق کے بیان میں کبھی سختیوں اور مخالفتوں کی پروا نہ کی اور نہ کسی ملامت کا خوف کھایا، وہ اس بات سے کیوں محتاط ہیں کہ خانہ کعبہ کی نئی تعمیر سے قوم بگڑ جائے گی۔ اس لیے کہ یہ مسئلہ دین کا اساسی مسئلہ نہ تھا کہ جسے پایۂ تکمیل تک پہنچانا ضروری ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کسی بھی ملامت کا خوف نہ کھاتے۔ چونکہ یہ مسئلہ فروعی نوعیت کا تھا اس لیے آپؐ نے لوگوں کے جذبات کا لحاظ کرکے کعبہ کی تعمیرنوپر ترجیح دی۔ گویا مسلمانوں کو یہ راہ دکھائی کہ وہ فروعی معاملات میں آپس میں اُلجھنے سے زیادہ اُمت کے اتحاد کو اہمیت دیں اور باہمی رواداری کا رویّہ اپنائیں۔
اسوئہ رسولؐ میں ہمیں احکامِ شریعت کے فہم و استنباط میں توسّع اور تنوع کی اتنی گنجایش نظر آتی ہے کہ اس میں تعدّد مسالک کا قبول کیا جانا، ہمارے اَسلاف کی شان دار علمی روایت کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ اس ذریعے سے انسان کو اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھانے کے مواقع حاصل ہوتے ہیں اور تعمیری و تحقیقی عمل کے لیے ایک سازگار ماحول بنانے میں بے حد متوازن آداب و حدود رہنمائی کا کام دے سکتے ہیں۔
بخاری میں ہے کہ حضوؐر نے بنی قریظہ کی طرف ایک دستے کو روانہ کرتے ہوئے نصیحت کی: لَایُصَلِّیَنَّ اَحَدٌ الْعَصْرَ اِلَّا فِیْ بَنِی قُرَیْظَۃَ ’’کوئی بھی شخص بنی قریظہ کی بستی کے سوا نمازِعصر نہ پڑھے‘‘۔ صحابہ کرامؓ ابھی راستے میں تھے کہ انھیں محسوس ہوا کہ وہ نمازِ مغرب سے پہلے کسی طرح بھی بنی قریظہ کی بستی میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس لیے ایک گروہ نے نماز قضا ہونے کے اندیشے کے پیش نظر کہا کہ نمازِ عصر یہیں ادا کرلینی چاہیے۔ دوسروں نے کہا کہ آپؐ کا حکم بنی قریظہ میں پہنچ کر نمازِ عصر ادا کرنے کا ہے۔
پہلے گروہ نے اس کی تاویل کی کہ آپؐ کا مقصد تھا کہ ہم جلد از جلد وہاں پہنچیں لیکن اب ایسا ممکن نہیں، جب ہم نمازِعصر کے دورانیے میں وہاں نہیں پہنچ سکتے تو نماز قضا نہ کریں۔ لہٰذا ایک گروہ نے عصر کی نماز راستے میں پڑھی، جب کہ دوسرے گروہ نے منزل پر پہنچنا ضروری سمجھا لیکن ان کی نماز قضا ہوگئی۔ آپ سے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو آپؐ نے کسی کی بھی سرزنش نہ فرمائی: فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْھُمْ (بخاری، رقم ۴۱۱۹)
ایک اور حدیث جس کے راوی حضرت ابوسعید خدریؓ اور عطائؓ بن یسار ہیں، کے مطابق دوصحابی سفر پر تھے کہ پانی کی عدم دستیابی کے باعث تیمم کرکے نماز ادا کرلی اور پھر مزید سفر پر روانہ ہوگئے۔ ادا کی گئی نماز کا وقت ابھی باقی تھا کہ پانی میسر آگیا۔ ایک صحابی نے کہا کہ اب ہمارا عذر ختم ہوگیا ہے اور نماز کا وقت بھی باقی ہے، لہٰذا ہمیں وضو کرکے نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے۔دوسرے نے کہا کہ میں تو نہیں دہرائوں گا کیونکہ جس وقت ہم نے تیمم سے نماز پڑھی تھی اس وقت ہمارا عذر موجود تھا۔ جب بارگاہِ رسالتؐ میں رہنمائی کے طلب گار ہوئے تو جس نے نماز نہیں دُہرائی تھی آپؐ نے اس سے کہا کہ تو سنت کو پاگیا اور تیرے لیے تیری نماز کافی ہوگئی، جب کہ نماز دہرانے والے سے فرمایا کہ تمھارے لیے دہرا اجر ہے۔ (ابوداؤد) گویا آپؐ نے دونوں کی حوصلہ افزائی فرمائی۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صحابہؓ میں بھی مختلف علمی ذوق و مزاج اور علمی سطح کے افراد موجود تھے اور حضوؐر نے قرآن و حدیث کے فہم و تعبیر میں ان کے اختلاف کو جائز قرار دیا۔ اس لیے کہ دونوں آرا رکھنے والوں کو قولِ رسولؐ کی حجیت اور اہمیت سے انکار نہیں تھا لیکن پیش آمدہ نئی صورت حال میں آپؐ کے الفاظ کی تفہیم و تعبیر میں اختلاف ہوا۔ اس لیے آپؐ نے کسی پر گرفت نہیں کی۔
اسوئہ رسولؐ کے اسی پہلو کے پیش نظر اَسلاف میں وہ روادارانہ طرزِعمل دکھائی دیتا ہے جس کا تذکرہ شاہ ولی اللہ کی کتاب الانصاف میں ملتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے کہا کہ آپ کے مجموعہ احادیث موطا کی فقہی آرا کا کیوں نہ تمام اُمت کو سرکاری طور پر اس کا پابند کردیا جائے، تو امام مالکؒ نے انھیں یہ کہہ کر منع فرما دیا کہ امیرالمومنین ایسا نہ کریں۔ مختلف دیار میں محدثین و فقہا پہنچ چکے ہیں جن کے علم و تقویٰ پر وہاں کے لوگوں کا اعتماد قائم ہے۔ آپ زبردستی کرکے ان پر زیادتی کریں گے۔ اسی طرح امام شافعیؒجو نماز ِ فجر میں دعاے قنوت پڑھنے کے قائل تھے۔ جب انھوں نے کوفہ میں امام ابوحنیفہؒ کے مدرسے میں نمازِ فجر پڑھائی اور دعاے قنوت نہ پڑھی، تو لوگوں نے پوچھا کہ آج آپ نے دعاے قنوت نہیں پڑھی، تو آپ نے فرمایا کہ آج میں ان کے شہر میں ہوں جو ایسا نہیں کرتے۔ لہٰذا میں نے اس کے خلاف کرنا مناسب نہ جانا۔ ( الانصاف فی بیان سبب الاختلاف، ص ۴۱)
آج کے عالمی گائوں (Global Village) ،نئی دنیا میں جس تہذیبی اور ثقافتی کش مکش سے ہمیں واسطہ ہے اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جہاں ایک طرف دین کے ٹھیٹھ اور واضح تصور کو اپنانے کی ضرورت ہے، وہاں داعیانِ دین کے لیے زمانہ شناس ہونا بھی ضروری ہے۔ اپنے زمانے کو سمجھے بغیر اگر ہم نے کوئی اقدام کیا تو اس کمزوری کا فائدہ کفر ہی کو ہوگا۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ جن موضوعات پر آج بین الاقوامی سطح پر بحث ہورہی ہے، ان کے بارے میں کسی ردعمل کی نفسیات کا شکار ہوئے بغیر اسوئہ رسولؐ کی روشنی میں ٹھیک ٹھیک رہنما خطوط متعین کیے جائیں، تاکہ ایک طرف ہم اپنی اقدار و روایات کا تحفظ کرسکیں تو دوسری طرف دیگر اقوام کے سامنے اسلام کا تشخص پیش کرسکیں۔
مقالہ نگار شعبہ علومِ اسلامیہ، گورنمنٹ کالج، ٹاؤن شپ لاہور میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ برقی پتا: drakhtarazmi27@gmail.com
ممالک اسلامیہ میں احیاے دین کے لیے اس وقت حکمت عملی کے اعتبار سے دو طریقے اسلام پسند عنصر کی بڑی تعداد میں مقبول و معروف نظر آتے ہیں۔ ایک نظری تبلیغ و تعلیم کا طریقہ ہے اور دوسرا عملی جہاد کا طریقہ۔
نظری تبلیغ و تعلیم کے نتیجے میں کہا جاتا ہے کہ جب معاشرے کے افراد کی اکثریت سدھرے گی تو اس کے نتیجے میں خود بخود ایک صالح انقلاب برپا ہو گا جو مقتدر طبقات میں بھی اپنے حامی افراد تلاش کر لے گا۔ لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں کہ جب باطل نظریات محض علمی و نظری صورت میں ہی نہیں بلکہ ایک جیتے جاگتے معاشرے اور زندہ و متحرک اجتماعیت کی صورت میں موجود ہوں‘ اور باطل نظام نہ صرف عملی دنیا پر قابض ہو بلکہ اس کی پشت پناہی کے لیے فعال سماجی و سیاسی اور اقتصادی ادارے موجود ہوں‘ تو ایسی صورت میں اسلام کو محض علمی و نظری حیثیت سے پیش کرنے والی تحریک اس کا مقابلہ کیسے کر سکتی ہے ؟ بالخصوص‘ جب کہ مقصد ایک بالفعل قائم نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ ایک ایسے نظام کو عملاً برپا کرناہو جو اپنے مزاج، اصول حیات اور ہرکلّی و جزئی معاملے میں موجود غالب نظام سے مختلف ہو۔ نظریہ و نظام کی حیثیت سے اسلام کی خوبیوں کو زبان و قلم سے خواہ کتنا ہی واضح کیا جائے، یہ جدوجہد کبھی بھی اسلام کے غلبے کی تحریک برپا نہیں کرسکتی۔
محض ’نظری‘ مسلمان بالفعل قائم شدہ نظام اور متحرک وفعال فاسد معاشرے کی مشین کے ایک پرزے کی حیثیت سے اس کے تمام تنظیمی تقاضوں کو لبیک کہنے پر مجبور ہوں گے۔ فاسد اجتماعیت کو اکھیڑنا تو کجا ،وہ الٹے اسی بوسیدہ نظام کو اپنے سرمایۂ ایمان و اخلاق سے مستحکم کرنے کا باعث بنیں گے جس کی وہ نظری و علمی لحاظ سے مخالفت کر رہے ہوتے ہیں۔سید قطب شہیدؒ کے الفاظ میں: یہ لوگ اس نظام کے نسبتاً جان دار خلیے (cells) ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے لیے عناصر بقا اور اسباب حیات فراہم کرتے ہیں۔ اپنی قابلیتیں، اپنے تجربات اور اپنی تازہ دم قوتیں اس کی خدمت میں صرف کرتے ہیں تا کہ اسے عمرِ دراز اور قوتِ مزید حاصل ہو۔ اس لیے کہ ’کُل‘ جب اپنے تمام فرائض انجام دے گا تو ’جز‘ کو لازماً انھی فرائض کی ادایگی کے لیے ’کُل‘ کے مطابق ہی حرکت کرنا ہوگی۔ (معالم فی الطریق)
انسانوں کی حاکمیت کے بجاے حاکمیت الہٰیہ کا قیام، زمام کار کو غاصبین و فاسدین سے چھین کر قوانین انسانی کی تنسیخ اور شریعت الٰہی کی تنفیذ ایک ایسی کٹھن مہم ہے جو محض دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے نتیجے میں کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ خلق خدا کی گردنوں پر سوار غاصبانہ تسلّط رکھنے والوں نے تاریخ میں پہلے کبھی محض تعلیم و تبلیغ اور اپیل کے نتیجے میں سماجی و سیاسی قیادت سے دست برداری اختیار کی نہ آیندہ ایسا ممکن ہے، کیونکہ اللہ کے سوا ہر قسم کے اقتدار کی نفی کے ساتھ ساتھ خدا کے شرعی نظام کے قیام کا مثبت کام اس دعوت کا مغز ہے۔ اتنے اہم مشن کی انجام دہی کے لیے دعوت و تبلیغ کے ساتھ ساتھ ایک ہمہ جہت تحریکِ جہاد کا برپا ہونا بھی اس مشن کا فطری تقاضا ہے۔ اسلامی نظریے کا ایک ایسی منظم تحریک کا قالب اختیار کر لینا جو باطل سے باغی اور بالکل جداگانہ طرز کی قیادت کے تابع ہو ، دین کا اس شکل میں دنیا سے اپنا تعارف کرانا ہی اس امر کے لیے کافی ہے کہ ارد گرد کے تمام باطل و فاسد معاشرے اور طبقے اس کو مٹانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے وجود کے تحفظ کے لیے باہر نکل آئیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نئی اسلامی اجتماعیت کو بھی اپنے تحفظ کا انتظام کرنا ہوگا۔ اس کش مکش کو چھیڑنے میں اسلام کی پسند و ناپسند کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ کش مکش تو اسلام پر ٹھونسی جاتی ہے جو دو ایسے نظاموں کے مابین چھڑ کر رہتی ہے جو زیادہ عرصے تک بقاے باہم کے اصول پر ساتھ نہیں رہ سکتے۔ اسلامی تحریک پر مسلط کردہ یہ جنگ لڑے بغیر چارہ نہیں۔
فساد فی الارض کفر کی فطرت اور اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکنا (یصدون عن سبیل اللّٰہ) اس کی فطرت کا لازمی تقاضاہے۔ لیکن اگر مسلم ممالک کے حکمران بھی اسی روش پر گامزن ہوں تو ان کے بارے میں کیا رویہ اختیار کیاجائے؟ یہ آج کی مسلم دنیا کا اہم سوال ہے۔ غیروں کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے یہ حکمران بھی اگر اسلامی بنیاد پرستی کے نام سے ہوّا کھڑا کریں تو پوچھا جا سکتا ہے کہ آخر ان بنیاد پرستوں کا مطالبہ کیا ہے؟ ’اسلام‘ ۔۔۔ صرف اور صرف ’اسلام‘، وہ اسلام جو ان ممالک کی اکثریت کا عقیدہ و مذہب ہے۔ کیا کسی اجتماعیت کا اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی کے نظام کو اپنے عقیدے کے مطابق چلانے کا مطالبہ کرنا کوئی ایسا جرم ہے جس کی پاداش میں انھیں دہشت گرد، بنیاد پرست‘ جنونی‘ رجعت پسند قرار دیا جائے ،ان کے لیے درِزندان کھولے جائیں او ر صلیبیں گاڑی جائیں۔
ترکی و الجزائر میں انتخابی کامیابیوں کے باوجود اسلامی تحریکوں کو اقتدار سے محروم رکھنے کی سازش، پاکستان اور مصر میں جمہوریت کے ادھورے تجربات کے نتیجے میں غلبۂ اسلام کی منزل سے دُوری ، عوام کی سیاسی و معاشی بدحالی کی ذمہ دار امریکا کی آلۂ کار مقامی قوتوں کی کاسہ لیسی اور بین الاقوامی اداروں کی سیاسی و معاشی دھونس نے مسلمان نوجوانوں میں اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف جنگ آزمائی کا ایک مزاج پیدا کیا جسے افغانستان و کشمیر اور چیچنیا میں مجاہدینِ آزادی کی معرکہ آرائیوں اور افغانستان میں اس کے ذریعے طالبان کی اسلام پسند حکومت کے قیام نے ان کے جذبے کو مہمیز دی ہے۔ غیر ملکی تسلط کے خلاف برسرپیکار جہادی قوتیں ، جن کے زیر اثر افراد کی اکثریت جمہوریت سے بیزار اور سیاست سے نابلد ہے، اس احساس کو فزوں تر کر رہی ہے کہ پاکستان میں غلبۂ اسلام کی صورت صرف جہاد ہے ۔ تاہم‘ یہ سوال غور طلب ہیں: ایک مسلم اکثریتی ریاست میں یہ جہاد کیسے ہوگا، مسلح یا غیرمسلح؟ اگر مسلح ہوگا تو اس کا نشانہ کون سے طبقات اور افراد ہوں گے‘ اور اگر غیرمسلح ہو گا تو اس کا طریق کار کیا ہو گا؟ نیزاس جہاد کو فساد اور خانہ جنگی بننے سے کیسے روکا جائے گا؟
تمام تر خلوص اور جذبۂ قربانی کے باوجود یہ جہادی عنصر داخلی جہاد کے بارے میں ایک ابہام کا شکار ہے۔ یہ حضرات نہ تو زمینی حقائق سے آنکھیں چار کرنے کے لیے تیار ہیں اور نہ سیاسی و تمدنی ارتقا اور جغرافیائی اسٹرے ٹیجک تبدیلیوں کے تناظر میں قرآن و سیرت نبویؐ سے اجتہادی بصیرت کے ساتھ رہنمائی کے حصول کی صلاحیت سے ہی متصف ہیں ۔ عصر حاضر کے انقلابی مفکر راشد الغنوشی کے نزدیک جب تک صورت حال یا امر واقعہ کے اساسی اور فیصلہ کن توازن کا بغور جائزہ نہ لیا جائے، معروضی حالات کو سمجھ نہ لیاجائے، حالات کی نبض پر ہاتھ نہ ہو، تغیر و تبدل کے مواقع کابڑی باریک بینی سے جائزہ نہ لیا جائے‘ اور پھر اس نتیجے پر نہ پہنچا جائے کہ ہمیں جدوجہد کس سطح پر کرنی ہے؟ ہماری استطاعت کیا ہے اور امکانات کیا ہیں؟ کبھی اقدام درست نہیں ہوسکتا۔
تغیر احوال کو صحیح طر ح سے نہ سمجھ سکنے کی ایک وجہ ریاست کے جدید ادارے اور اس کے تقاضوں کا عدام ادراک ہے‘ اور یہ کمزوری نتیجہ ہے اجتہاد سے گریز کرنے کا۔ اپنے موضوع کو صرف پاکستان تک محدود رکھتے ہوئے پہلے ہمیں ملک کے معروضی حالات اور آئینی پوزیشن کا تعین کرناہوگا۔
(ا)دستوری لحاظ سے: (۱)پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے جس میں اقتدار اعلیٰ کا مالک اللہ تعالیٰ کو تسلیم کیا گیا ہے۔ (۲) ملکی پارلیمنٹ کے لیے قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی ممانعت ہے۔(۳) حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے ایسا سازگار ماحول پیدا کرے جس میں وہ صحیح مسلمان بن سکیں۔ (۴) صدر، وزیراعظم اور دیگر کلیدی عہدوں پر تقرر کے لیے مسلمان ہونا ضروری ہے۔ (۵) ہر شہری کو بنیادی انسانی حقوق بشمول عقیدہ و عبادت کی آزادی، ظلم کے خلاف احتجاج ، تنقید و محاسبے کی آزادی ، انتخاب حکومت کے لیے حق راے دہی، تنظیم سازی و تبلیغ و تربیت جیسے حقوق حاصل ہیں۔
(ب) انتظامی اعتبار سے: ریاستی نظام کو چلانے اور کسی قسم کی مسلح بغاوت سے نبٹنے کے لیے ایک منظم اور جدید ترین حکومتی مشینری، فوج، پولیس اور دیگر عدالتی و انتظامی اداروں کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔
(ج) عملی اعتبار سے: (۱) ارباب اختیار کا رویہّ مجموعی طور پر اسلام سے منافقانہ رہا ہے۔ (۲) اسلامی قانون و دستور پر عمل در آمد بحیثیت مجموعی تعطل کا شکار رہاہے۔ (۳) بالادست طبقے بالعموم آئینی و جمہوری حقوق کو غصب کرتے آ رہے ہیں ۔ (۴) عوام کی اکثریت مسلمان ہے مگر اجتماعی معاملات غیر الٰہی رسوم و قوانین کی گرفت میں ہیں‘ جب کہ انفرادی زندگی بھی مجموعی طور پر کفرو اسلام کا مرکب ہے۔
ان تینوں پہلوئوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں دیکھنا ہو گا کہ آغاز دعوت میں حضوؐر کی جدوجہد کا اسلوب کیا تھا ۔ امام مالکؒ کے مطابق امت کے آخری دور کی اصلاح بھی اسی طریقے پر ہو گی جس طورسے آغازِ دعوت کے دور میں ہوئی۔ دیکھنا یہ ہے کہ مکی و مدنی ادوار جدوجہد کے کون سے راستے کی طرف ہماری رہنمائی کرتے ہیں ۔
مکی دور میں نازل شدہ ذیل کی دو آیات جہاد کے مفہوم کے باے میں واضح ہیں:
(۱) ثُمَّ اِنَّ رَبَّکَ لِلَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا مِنْم بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰھَدُوْا وَ صَبَرُوْٓا لا اِنَّ رَبَّکَ مِنْم بَعْدِھَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ o (النحل ۱۶:۱۱۰) بخلاف اس کے جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب (ایمان لانے کی وجہ سے) وہ ستائے گئے تو انھوں نے گھربار چھوڑ دیے‘ ہجرت کی‘ راہِ خدا میں سختیاں جھیلیں اور صبر سے کام لیا‘اُن کے لیے یقینا تیرا رب غفورو رحیم ہے۔
(۲) فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا (الفرقان ۲۵: ۵۲) پس اے نبیؐ، کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔
پہلی آیت میں ہجرت کرنے والوں سے مراد مہاجرین حبشہ ہیں‘ اور اس کے بعد جس جہاد کا ذ کرہے وہ مکہ کے پورے دور میں تلوار کے ذریعے نہیں کیا گیا۔ اس دور میں جس طریقے سے جہاد کیا گیا، اس کا بیان دوسری آیت میں ہے جس میں جہاد کا حکم بھی دیا گیا ہے اور ساتھ جہاد کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے‘ جس کے مطابق ایک تو کافروں کی کسی نوعیت کی اطاعت نہیں کرنا‘ اور دوسرے اس قرآن کے ذریعے جہادکبیر کرنے کا حکم ہے۔ ظاہرہے کہ قرآن کوئی ہتھیار نہیں جس سے کسی پر ضرب لگائی جائے۔ قرآن کے ذریعے جہاد کا مطلب اس کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے کہ اس کے استدلال کے ذریعے نظام شرک کا باطل اور اسلام کا حق ہونا واضح کیا جائے۔ حضوؐر نے پورے مکی دور میں کفار کے تمام تر ظلم و استبداد کے باوجود کوئی ہتھیار نہ اٹھایا ۔ امام ابن قیم ؒ فرماتے ہیں: ’’آپؐ اپنی بعثت کے بعد تقریباً ۱۳سال تک دعوت و تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو اللہ کا خوف دلاتے رہے۔ اس عرصے میں نہ جنگ کی اور نہ جزیہ لیا بلکہ آپؐ کو یہی حکم ملتا رہا کہ ہاتھ روکے رکھیں، صبر سے کام لیں۔ (زاد المعاد)
گویا کہ مکی زندگی میں بھی جہاد کا عمل جاری تھا مگر قتال پر پابندی تھی۔ ایسا کیوں تھا؟ سیدقطب شہید ؒکے مطابق: مکی زندگی میں جہاد بالسیف سے دست کش رہنا قابل فہم ہے۔ اس لیے کہ مکہ میں حضوؐر کے لیے بنو ہاشم کی تلواروں کی حمایت کی وجہ سے حریت تبلیغ کا انتظام موجود تھا، آپؐ فرداً فرداً ہر شخص کو مخاطب کر سکتے تھے۔ مکہ میں کوئی ایسی منظم سیاسی قوت موجود نہ تھی جو دعوت و تبلیغ کی آواز کے سامنے ایسی دیواریں کھڑی کر سکتی کہ لوگ اسے سننے سے بالکل محروم ہوجاتے۔ (فی ظلال القرآن)
سیدقطب شہید ؒ کُفُّوْا أَیْدِیَکُمْ (اپنے ہاتھ روکے رکھو) کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت کسی باضابطہ حکومت کا کوئی وجود نہ تھا، جو اہل ایمان کو ایذا رسانی کا نشانہ بناتی‘ بلکہ تعذیب و تادیب کا عمل ہر مومن کے اپنے ہی رشتہ داروں اور سرپرستوں کے ہاتھوں جاری تھا۔ اس طرح کی فضا میں اِذن قتال کے صاف معنی تھے کہ گھر گھر میں معرکہ برپا ہو جاتا اور خانہ جنگی کا طویل اور لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا۔ (فی ظلال القرآن)
مکی دور میںاگر جہاد بالسیف فرض کر دیاجاتا تو یہ محدودجنگ مسلمانوں کی اس قلیل جماعت کے کلّی خاتمے پر منتج ہوتی۔ خواہ مسلمان اپنے سے کئی گناز یادہ لوگوں کو مار ڈالتے لیکن نظام شرک و ظلم کی عمل داری جوں کی توں قائم رہ جاتی۔
اس صورت حال کے پیش نظر اگر ہمیں پاکستان میں آزادی تقریر و تحریر اور آزادی اجتماع و تنظیم حاصل ہے تو ابلاغ کے آئینی راستے کو چھوڑ کر جہاد کے لیے بندوق اٹھا کر کھڑے ہو جانا کہاں کی دانش مندی ہے‘ جب کہ ابھی دعوت و تبلیغ کا حق بھی ادا نہ کیا گیا ہو۔ آج‘ جب کہ ملک وملّت کو دشمن کے خلاف یک جہتی و اتحاد کی ضرورت ہے، مسلح جدوجہد کے نتائج سواے خانہ جنگی وانارکی کے، اسلام کے حق میں کچھ بھی بہتر نہ ہوں گے۔
موجودہ دور میں جب سبک رفتار ذرائع رسل و رسائل کے ذریعے حکومتی مشینری حرکت میں آتی ہے تو اپنے مضبوط نیٹ ورک کے ذریعے کسی بھی گروہ کی بڑی سے بڑی جدوجہد کو سختی سے سے کچل بھی سکتی ہے اور عوام الناس کو اپنے سریع الاثر ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کے ذریعے اسلامی تحریک کو یکہ وتنہا کر سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں آئینی و جمہوری خطوط پر استوار تحریک عوام میں اپنا ایک اخلاقی جواز اور عدالت میں قانونی تحفظ رکھتی ہے، جس کی وجہ سے ایک لمبے عرصے تک تحریک کو جاری رکھنا ممکن ہے ۔
مکی دور کی اس تحریک جہاد کاایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ تحریک اپنی دعوت کے آفاقی ہونے کے باوجود زندگی کے روز مرہ معاملات اور مقامی مسائل سے بھی پوری طرح مربوط تھی اور ان کے حل کے لیے مروجہ متوازی و سائل سے کام لے رہی تھی۔ اس تحریک نے جہاں عقیدہ و اخلاق کی اصلاح کے لیے آواز بلند کی وہاں ظلم کے خاتمے کی جدوجہد کو دعوت کی کامیابی تک ملتوی نہیں کیا‘ بلکہ قولی دعوت کا عملی اظہار اسی صورت میں تھا کہ ہر داعی مظلوم کا ساتھی اور پشتیبان بن گیا۔
ایک مظلوم کا حق دلوانے کے لیے حضوؐر کا ابو جہل جیسے دشمن کا دروازہ کھٹکھٹانا (ابن ہشام)، مظلوموں کی حمایت کے لیے دور ِ جوانی میں کئے گئے معاہدہ حِلف الفضول کی دورِنبوت میں بھی تصویب و تائید (طبقات، مستدرک) ، پہلی وحی کی گھبراہٹ کے موقع پر حضرت خدیجہؓ کی طرف سے تسلی کے الفاظ: ’’آپ درماندوں کا بوجھ اٹھاتے ، محتاجوں کو کما کر دیتے اور راہِ حق میں پیش آمدہ مصائب پر لوگوں کی مدد کرتے ہیں‘ ‘ (بخاری)، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو ان کی زمین سے بے دخلی کرنے والوں کو فرمانا: اگر میرے آنے کے بعد بھی کمزوروں پر ظلم ہو تو مجھے پھر اللہ نے رسول بناکر کیوں بھیجا ہے (انتخاب حدیث)‘ فرمان نبویؐ:’’بے شک اللہ ایسی امت کو پاکیزگی نہیں بخشتا جس کے ماحول میں کمزوروں کو ان کا حق نہ دلوایا جائے‘‘(مشکوٰۃ)___ سیرت نبویؐ کا یہ پہلو نہ صرف عام مسلمانوں نے نظر انداز کر دیا ہے بلکہ وہ لوگ جو افغانستان و کشمیر میں ہونے والے ظلم پر تڑپ اٹھتے ہیں اور جان کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘ وہ اپنے ملک میں اپنے ارد گرد ہونے والے ظلم سے بالکل آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ ظالم جاگیرداروں او بدعنوان حکمرانوں اور افسران کے ہاتھوں کتنی ہی عصمتیں، عزتیں اور محنت کی کمائیاں برباد ہو رہی ہیں اور ان مظلوموں کی جنگ لڑنے والا کوئی نہیں۔ جذبات میں آکر گولی کھا لینا اتنا مشکل کام نہیں ہے جتنا ظلم اور گھٹن کے شکار معاشرے میں کسی مظلوم کے ساتھ کھڑے ہو کر خوف و دہشت اور مایوسی کی فضا میںکسی ظالم کے سامنے مسلسل آوازۂ حق بلند کرنا مشکل ہے۔
مدنی زندگی کے اوائل میں‘ جب کہ مدینہ و اطراف مدینہ کے قبائل کی اکثریت ابھی تک شرک پر قائم تھی، عدم جنگ کے معاہدے کے مطابق وہاں تبلیغ و دعوت کے کھلے مواقع حاصل ہوگئے تھے اور کوئی سیاسی قوت اس پر قدغن لگانے والی اور لوگوں کو اس سے روکنے والی نہ تھی، حضوؐر نے منافقین کے خلاف تلوار نہ اٹھائی۔ اللہ کے عطا کردہ علم کی بنیاد پر حضوؐر کو منافقوں کی منافقت کا حال بھی معلوم تھا اور بعض مواقع پر تو ان کی مخالفت واضح شکل میں سامنے بھی آگئی اور مسلمانوں کو ان کی وجہ سے کئی مواقع پر نقصان بھی اٹھانا پڑا لیکن جب انھوں نے کوئی عذر بیان کیا تو آپؐ نے ان کے عذر کو قبول کیا۔ حتیٰ کہ غزوئہ بنو مصطلق کے موقع پر عبداللہ بن ابی نے حضوؐر اور مہاجر صحابہ کے بارے میں ہرزہ سرائی کی۔ حضرت عمرؓ نے آپ سے اس کے قتل کی اجازت طلب کی تو آپؐ نے فرمایا : ’میں نہیں چاہتا کہ لوگ کہیں کہ محمد اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرنے لگا ہے۔ (تفہیم القرآن)
مسلم معاشرے میں موجود منافقین کے خلاف جہاد بالسیف کے لیے سورۂ توبہ کی آیت یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاَغْلُظْ عَلَیْھِمْط (۹:۷۳) سے استدلال کیا جاتا ہے۔ اس آیت کا حقیقی مفہوم کیاہے‘ اور منافقین کے خلاف جہاد کی نوعیت کیا ہوگی؟ امام ابن قیمؒ کے مطابق : کفار اور منافقین کے بارے میں اس آیت میں کہا گیا ہے کہ ان کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان سے سخت برتائو کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے کفار کے ساتھ شمشیروسناں سے جہاد کیا اور منافقین کے ساتھ دلیل و زبان سے___ رہا منافقین کے بارے میں آپؐ کا اسوہ توآپ ؐ کو حکم دیا گیا کہ آپؐ ان کے ظاہر کو قبول کر یں اور ان کے باطن کے حالات کو اللہ پر چھوڑ دیں‘ اور علم اور دلیل سے ان کے ساتھ جہاد کریں۔ ان سے شدت کا برتائو کریں۔ان کا جنازہ پڑھنے اور ان کی قبروں پر قیام کرنے سے منع کر دیا گیا ۔ (زاد المعاد)
مولانا مودودیؒ کے مطابق: منافقین کے خلاف جہاد اور سخت برتائو سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان سے جنگ کی جائے۔ دراصل اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی منافقانہ روش سے جو چشم پوشی اب تک برتی گئی ہے، جس کی وجہ سے ان کو جماعت کے معاملات میں دخل دینے اور سوسائٹی میںاپنے نفاق کا زہر پھیلانے کا موقع ملتا رہا، اس کو آیندہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ اب جو شخص بھی مسلمانوں میں شامل رہ کر منافقانہ روش اختیار کرے ، اسے کھلم کھلا بے نقاب کیا جائے، علانیہ اس کو ملامت کی جائے، سوسائٹی میں اس کے لیے عزت و اعتبار کا کوئی مقام باقی نہ رہنے دیا جائے، معاشرت میں اس سے قطع تعلق ہو، جماعتی مشوروں سے وہ الگ رکھاجائے، عدالتوں میں اس کی شہادت غیر معتبر ہو، عہدوں اور مناصب کا دروازہ اس کے لیے بند رہے۔ (تفہیم القرآن)
جہاں تک معاملہ ہے ایک مسلم ریاست میں ظالمانہ و غاصبانہ تسلط رکھنے والے مسلم حکمرانوں کا تو اس بارے میں مسلح جدوجہد(خروج) جمہور علما کے نزدیک ناپسندیدہ عمل رہاہے۔ یہ موقف مثالی نہ ہونے کے باوجود عملی طور پر امت کے لیے نسبتاً کم نقصان دہ ثابت ہوا ہے‘ جب کہ مسلح جدوجہد میں کامیابی کے بعد بھی ایک صالح انقلاب کی منزل ایک خواب ہی رہی۔ ابتدائی دور میںخوارج اور بنو عباس اور دور حاضر میں جنرل نجیب و ناصر کی حکومتیںاس کی واضح مثالیں ہیں۔ خوارج اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں کی خون ریز معرکہ آرائیوں کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کو ظلم سے نجات حاصل نہیں ہوئی بلکہ معصوموں کی جان تلفی کے ساتھ ساتھ دشمنان ملّت کی امت میں مداخلت کے لیے انتشار کے کئی دروازے کھل گئے ۔سید مودودی نے بھی اس تاریخی تجربے کی روشنی میں دعوت و تحریک کے آئینی اور علانیہ ذرائع اختیار کرنے پر زور دیا۔ان کے نزدیک سازشی اور خفیہ طریقے سے آنے والے انقلابات انھی ذرائع سے ختم کر دیے جاتے ہیں اور کبھی پایدار نہیں ہوتے۔
راشد الغنوشی کے نزدیک فتنہ و فساد اور انارکیت سے بچنے کاواحدراستہ یہی ہے کہ ’اسلامی جہاد‘ کا اصول اپنایا جائے اور اس میں سب سے افضل جہاد ’کلمۂ حق‘ ہے۔حضوؐر نے ظالم سلطان کے سامنے کلمۂ حق بلند کرنے کو سب سے بڑا جہاد قرار دیا ہے (ترمذی)۔ ارشاد نبویؐ ہے کہ جو کوئی تم میں سے کوئی منکردیکھے اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر ے۔ اگر اس کی استطاعت نہیں تو پھر زبان سے، اور اگر اس کی استطاعت نہیں تو اپنے دل میں بُرا جانے(مسلم)۔ اس ارشاد کے ذریعے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ازالہ منکر اور ظالم و ناپسندیدہ عناصر کا قلع قمع کرنے کے لیے مسلمانوں کے سامنے کئی راستے کھول دیے ہیں تا کہ وہ خود پیش آمدہ حالات کا اچھی طرح جائزہ لے کر، حالات و امکانات سامنے رکھ کر مناسب اور موزوں قدم اٹھائیں۔ شارع نے اسے مسلمانوں کی صوابدید پر چھوڑ دیا اور امربالمعروف و نہی عن المنکر جیسے تنظیمی و وجوبی حکم کی کوئی خاص شکل متعین نہیں فرمائی جس کی بناپر علما کہتے ہیں: ’’قرآن میں کیفیت کی تحدید نہیں ہے کہ کس طرح اس واجب کی ادایگی کی جائے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ محض مسلمانوں کی مصلحت اور ان کے حالات وظروف کی رعایت سے کیفیت کے بیان کو چھوڑ دیاگیا ہے‘‘۔ (الدستور القرآنی)
عصر حاضر میں سیاسی اداروں کے ارتقا او ر تمدنی تنظیم کے تغیرات نے مسلح جدوجہد (خروج) اور محض نظری تبلیغ کے درمیان ایک ایسا راستہ ہمارے لیے کھول دیا ہے جو ہمیں بد امنی و انتشار سے بھی بچا سکتا ہے اور کسی بھی منکر کے خلاف اسلامی غیرت و حمیت کے اظہار کا طریقہ بھی ہے۔ یہ ظالموں اور حق کے غاصبوں کے خلاف اہل حق اور مظلوموں کابہترین ہتھیار بھی ہے اور جابر سلطان کے سامنے کلمۂ حق کہنے کا مؤثر ذریعہ بھی___ وہ ہے احتجاج کا حق۔ قرارداد مذمت، ہڑتال، جلسہ جلوس، دھرنا، احتجاج کی مختلف شکلیں ہیں۔ جو لوگ ان ذرائع کے اختیار کرنے کو وقت اور صلاحیت کا ضیاع قرار دیتے ہیں، وہ نہیں جانتے کہ آج احتجاج اور مظاہرے عوامی ہمدردیوں کے حصول اور اپنی بات کو اوپر پہنچانے اور منوانے کا ذریعہ بھی ہیں، اور قومی و بین الاقوامی راے عامہ کے جاننے کا پیمانہ بھی۔ خود پاکستان کی دستوری تاریخ میں قرارداد مقاصد کی منظوری، قادیانیوں کا غیر مسلم قرار پانا، اور سیاسی لحاظ سے پاکستان میں سوشلزم کی پسپائی، جہادافغان و کشمیر کی پشت پناہی، ایٹمی دھماکوں پر حکمرانوں کا مجبور ہونا، توہین رسالتؐ کے معاملے میں یورپ کا زیر دبائو رہنا ،امریکی پشت پناہی کے باوجود شاہ ایران کا ملک سے فرار انھی ذرائع سے ممکن ہوا ہے ۔ اب‘ جب کہ دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور منکرات کے رسیا اپنی عوامی قوت کے اظہار کے ذریعے راے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرکے اپنی بات منوالیتے ہیں تو نیکی کے علَم برداروں کا احتجاج کے آئینی راستے کو مخالفین کے لیے کھلا چھوڑ کراپنے کو حصولِ حق کے ایک جائز ذریعے سے محروم رکھنا کہاں کی دانش مندی ہے۔
مذہب کے روایتی تصور کے مطابق اس بات کو دینی تقاضا سمجھنا بڑا مشکل ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ مذہب قدیم تنظیم و معاشرت کانام نہیں بلکہ ان تعلیمات کا نام ہے جو اس کے اندر حلول کیے ہوئے ہیں۔ جس طرح قدیم کو اسلامی تعلیمات کے ذریعے مذہبی بنایا گیا اور آج ہم اسے مذہبی سمجھتے ہیں‘ اسی طرح جدید کو بھی ہر دور میںدینی تعلیمات کی روشنی میں مذہبی بنایا جا سکتا ہے۔ ادوار کی تبدیلی کے ساتھ تمدن و معاشرت کی تنظیمی ہیئت اورمراکز قوت تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔
حضوؐر نے جب کوہ صفا پر پہلاخطاب عام ارشاد فرمایا تو اس موقع پر آپؐ نے بھی قریش کو عرب کے اسی خاص اسلوب سے پکارا جس سے وہاں کسی خطرے کے نازک لمحے میں قوم کو بلایا جاتا تھا۔ پکارنے والابلندی پر کھڑے ہو کر معاملے کی سنگینی کا احساس دلانے کے لیے اپنا لباس اتار کر اسے فضا میں لہراتا اور واصباحاہ واصباحاہ کی ہانگ لگاتا۔ لازم تھا کہ لوگ دوڑ کر آئیں اور اس کی بات سنیں۔ حضوؐرکی شرم و حیا سے یہ تو بعید تھا کہ آپؐ اپنا لباس اتارتے، البتہ اس کی بجاے آپؐ نے اپنی رداے مبارک فضا میں لہرائی اور وہی واصباحاہ واصباحاہکی آواز بلند کی۔ گویا کہ عرب کے رواج کے غلط پہلو کو چھوڑ دیا اور اس کے ذریعے ابلاغ کے مقصدی پہلو سے استفادہ کیا۔
تمدنی تنظیم کی جدت کو اپنانے کی ایک مثال دیّت اور عاقلہ کے نظام میں ہے۔ زمانۂ جاہلیت کے قبائلی نظام میں عاقلہ (قریبی ورثا) کے ذریعے حادثات و خطرات کی تلافی کے لیے امداد باہمی اور اجتماعی جرمانے کی شکل نکالی گئی تھی، رسولؐ اللہ نے اسے برقرار رکھا۔ ابتدا میں نظام عاقلہ صرف خاندان و قبیلے تک محدود رہا لیکن عہد فاروقی میں حالات کی تبدیلی سے جب معاشرے کی نئی تنظیم وجود پذیر ہوئی تو حضرت عمرؓ نے نظام عاقلہ کو وسعت دیتے ہوئے قانون مقرر کیاکہ اگر قاتل اہل دیوان سے ہے تو عاقلہ اہل دیوان ہوں گے۔ اہل دیوان میں ایک دفتر یا محکمہ کے لوگ شامل ہوتے تھے جن کے نام ایک رجسٹر میں درج ہوتے تھے۔ اس تبدیلی کا سبب علامہ سرخسیؒ کی راے میں یہ ہے کہ: ’’رسولؐ اللہ نے دیّت کی ذمہ خاندان و قبیلے پر اس لیے ڈالی تھی کہ اس وقت قوت و مدد انھی کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ پھر حضرت عمرؓ نے دفاتر کا نظام مرتب کیا تو یہ قوت و مدد اہل قبیلہ سے منتقل ہو کر اہل دفاتر سے وابستہ ہو گئی۔ آج اگر ہم پیشہ افراد کی یونین یا جماعت کے ممبران یا پیرکے مرید ین سے قوت و مدد حاصل ہو تو ان سب کو دیّت کاذمہ دار بنایا جاسکتاہے۔ جیسا کہ ہدایہ میں ہے: اگر آج باہمی مدد ہم پیشہ لوگوںسے ہو سکتی ہے تو عاقلہ ہم پیشہ لوگ ہی قرا ر پائیں گے۔ گویا کہ ناگریز ہے کہ ہر دور کی تنظیمی ہیئت میںقوت کے انتقال کا لحاظ کیا جائے ‘جب کہ اس مرکز قوت میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو۔
اس لحاظ سے دو ر حاضر میں احتجاج بھی ایک شرعی ضرورت ہے اور شرعی اصول کے مطابق ناگریز ضرورت کی صورتوں میں بہت سی ممنوعات بھی مباحات میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ الضرورات تبیح المحظورات(سرخسی،المبسوط)۔ جس طرح جہاد کے مروجہ قدیم طریقوں کو عبادت شمار کیا گیا‘ اسی طرح ان جدید طریقوں کے اختیار کرنے کو بھی قابل اجر و ثواب اور مذہبی امور گردانا جائے گا۔ شریعت میں دنیوی مصالح کو جو درجہ حاصل ہے، اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے: ’’دنیوی زندگی میں جن چیزوںکی ضرورت ہے اور جو ممدومعاون ہیں ان کے بغیر لوگ حق قبول نہیں کرتے۔ اس بنا پر دینوی حظوظ بھی عبادت میں شمار ہو ںگے، کیونکہ عبادات ان کے بغیر پوری نہیں ہوتی ہیں اور جس کے بغیر واجب کی ادایگی نہ ہو ، وہ بھی واجب ہے‘‘۔(الجوامع فی السیاسۃ الالٰہیہ)
اس اعتبار سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حصول حق کے لیے پر امن احتجاج اور مظاہرے کا طریقہ اگر حضوؐر کے زمانے میں مروّج ہوتا تو اقامت دین اور حمایت مظلوم کے لیے آپؐ اس سے ضرور استفادہ فرماتے۔ جو لوگ احتجاج کے اس معروف طریقے کو خلافِ سنت کہہ کر رد کر دیتے ہیں، انھیں اس حدیث پر تدبر کی نگاہ ڈالنی چاہیے جسے بخاری و ابوداؤد نے روایت کیا ہے کہ: ایک صحابی نے رسولؐ اللہ سے اپنے پڑوسی کی طرف سے اذیت کی شکایت کی۔ آپؐ نے اسے صبر کی نصیحت کی۔ کچھ عرصے بعد پھر شکایت کی، آپؐ نے پھر صبر کرنے کو کہا۔ تیسری مرتبہ جب اس نے شکایت کی تو آپؐ نے فرمایا کہ اپنے گھر کاسامان باہر گلی میں ڈال کر بیٹھ جائو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ جب گلی میں سے گزرنے والوں نے اس سے وجہ پوچھی تو اس نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ سب لوگوں نے اس کے پڑوسی کو ملامت کی۔ وہ بہت شرمندہ ہوا۔ اس نے پڑوسی کو منایا اور آیندہ نہ ستانے کا وعدہ کیا۔ ثابت ہوا کہ ناپسندیدہ عمل پر حضوؐر نے مظلوم کو صرف صبر کی تلقین ہی نہیں فرمائی بلکہ اظہار ناراضی اور حصول حق کا پر امن راستہ بھی دکھا دیا۔ اس واقعے سے اس طریقے کی قوت کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
اسلامی جہاد درحقیقت ایک عملی تحریک ہے جو ہر مرحلے میں اپنی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق متوازی اور موزوں وسائل اختیار کرتی ہے۔ دین اسلام عملی زندگی کامقابلہ محض تجریدی نظریات سے نہیں کرتا، نہ وہ زندگی کے مختلف مراحل کو جامد اور ناقابل تغیر ذرائع سے طے کرتا ہے۔ جو لوگ نظام جہاد پر گفتگو کرتے ہوئے قرآنی نصوص سے استدلال کرتے وقت دین کے اس امتیازی وصف کا لحاظ نہیںکرتے اور ان ادوار و مراحل کی فطرت و حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے جن سے تحریک گزری ہے‘ تو اس طرح کے لوگ نظام جہاد کو نہایت بھونڈے انداز سے خلط ملط کر دیتے ہیں۔
اسلامی تحریک مادی اقتدار سے نبر د آزمائی میں محض دعوت و تبلیغ پر اکتفا نہیں کرتی اور نہ عام انسانوں کے افکار کو بدلنے کے لیے محض جبرو اکراہ اور قوت کا استعمال ہی مناسب سمجھتی ہے۔ یہ دونوں اصول اس دین کے طریق کار میں یکساں طور پر اہمیت رکھتے ہیں۔ سید قطب شہیدؒ کے الفاظ میں: ’’اسلام کی برپا کردہ تحریک جہاد کا مقابلہ ایک ایسی جاہلیت سے ہوتا ہے جو ایک طرف خیالات و عقائد پر قابض ہوتی ہے‘ اور دوسری طرف اس کی بنیاد پر زندگی کا عملی نظام قائم ہوتا ہے‘ اور تیسری طرف اسے اور اس کے قائم کردہ نظام زندگی کی پشت پناہی کے لیے سیاسی و مادی اقتدار موجود ہوتاہے۔ اس لیے تحریک کو جاہلیت کا مقابلہ کرنے کے لیے متوازی وسائل و اسباب بروے کار لانا پڑتے ہیں‘‘۔ (معالم فی الطریق )
واضح رہے کہ اسلام کی عمومی تعلیمات تو انقلاب کے لیے پُرامن جدوجہد کی ہیں۔ البتہ جہاں آزادیِ اظہار اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے تبدیلی کی راہیں مسدود ہوجائیں یا غاصب قوتیں ملک پر قبضہ ہی کرلیں‘ جیساکہ فلسطین‘ کشمیر‘ افغانستان اور عراق کی صورت حال ہے‘ تو وہاں پُرامن جدوجہد کے ساتھ ساتھ اگر حق کی سربلندی اور آزادی کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد بھی کرنا پڑے تو اس کا بھی جواز ہے۔
اس پہلو سے دیکھا جائے تو اسلامی تحریک:
(ا) خیالات و عقائد کی اصلاح کے لیے دعوت و تبلیغ اور تعلیم و تربیت کو ذریعہ بناتی ہے ۔
(ب) باطل نظام زندگی کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی تحریک حق کی قولی شہادت اداکرنے والو ں کی ایک ایسی منظم جماعت تشکیل دیتی ہے جو زندہ و فعال ہو۔ افراد کے اندر باہمی تعاون و یک جہتی اور ہم آہنگی و ہم نوائی ہو۔ وہ اپنے جداگانہ تشخص پر حملہ آورایسے عوامل و اسباب کا تدراک کرتی ہے جو اس کے وجود کو مٹانے کے درپے ہوں۔ دوسری طرف اپنے اسلامی تشخص کے استحکام اور توسیع کا انتظام کرتی ہے ۔
(ج) باطل نظام زندگی کے پشت پناہ اقتدار کے ازالے کے لیے اسلامی تحریک حالات و زمانے کی رعایت سے مادی طاقت اور جہاد سے کام لیتی ہے۔ اس لیے کہ قوم کی اصلاح کے لیے اسلام نے بااثر طبقات کی اصلاح کو مقدم رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضوؐر اور تمام انبیا ؑنے اپنی دعوت کا پہلا مخاطب قوم کے بااثر افراد و طبقات کو بنایا۔ اس لیے کہ اللہ حکومت اور اقتدار کے ذریعے ان امور کی تنظیم کرتا ہے جن کی تنظیم صرف قرآن سے نہیں ہوتی: ان اللّٰہ لیزع بالسلطان مالا یزع بالقرآن۔ اگر تبلیغ عقائد و تصورات کی اصلاح کرتی ہے تو تحریک جہاد دوسرے مادی سنگ ہاے راہ کو صاف کرتی ہے۔ جن میں سر فہرست وہ سیاسی قوت ہے جو اجتماعی و اقتصادی سہاروں پر قائم ہوتی ہے اور یہ دونوں مل کر قائم شدہ نظام پر چاروں طرف سے اثر انداز ہوتے ہیں۔
یہی وہ فطری طریق کار ہے جس کی بدولت اسلام کا عملی وجود دنیا میں قائم ہواتھا۔ اس کے آتے ہی اس کی بنیاد پر ٹھوس، جان دار اور متحرک جماعت وجود میں آگئی جس نے نہ صرف باطل معاشرے میں اپنا جداگانہ تشخص قائم کیا بلکہ باطل وجود کو بھی چیلنج کر دیا۔ وہ ہرگز عملی وجود سے عاری محض خیالی نظریے کی صورت میں نہیں اترا‘ اور آیندہ بھی اس کا وجود ایک عملی نظام کے ذریعے ہی منصہ شہود پر آسکتا ہے۔