ایران اور امریکا نے حالیہ دنوں میں طے پانے والے ایک پیچیدہ معاہدے کے تحت اپنے اپنے ملکوں میں ایک دوسرے کے قیدی شہریوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس معاہدے پر یہ اتفاق رائے دونوں ملکوں کے درمیان بالواسطہ (indirect) مذاکرات کے بعد سامنے آیا۔ جس کے تحت تہران کو امریکی ایما پر منجمد کیے جانے والے چھ ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں تک دوبارہ رسائی ملنے کا امکان بھی پیدا ہوا ہے۔ امریکا اور ایران اپنی سطح پر محدود مقاصد کے حامل’ قیدیوں کے معاہدے‘ کو تبدیلی کے ایک بڑے قدم کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں مصروف ہیں۔
معاہدے کی خبر شائع ہوتے ہی تہران میں قید پانچ امریکی شہریوں کو ’ایون جیل‘ سے نکال کر نامعلوم مقام پر ہوٹل کے الگ الگ کمروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔جیل سے رہائی کے بعد ہوٹل میں نظربند کیے جانے والوں میں تاجر صیامک نمازی، عماد شرجی اور ماہر ماحولیات مرادطہباز شامل ہیں، جو برطانوی شہری بھی ہیں۔ اسی طرح امریکا میں قید ایرانیوں کو بھی رہائی کا پروانہ جلد ملنے والا ہے۔
اس پیش رفت کے باوجود ایران پر امریکی پابندیاں اور فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کی فضا پہلے کی طرح برقرار ہے۔ تاہم، یہ معاہدہ اہم سیاسی پیش رفت ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کار اسے ۲۰۱۵ء میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے پر نظرثانی کے لیے بنیادی کام قرار دے رہے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کے دُور رس نتائج کا حامل کوئی نیا معاہدہ سامنے آنے والا ہے؟ کیا یہ معاہدہ دیرینہ دشمن ملک سے تعلقات میں بہتری کا پیش خیمہ بن سکتا ہے؟
یاد رہے ’قیدیوں کا معاہدہ ‘ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خلیج کے علاقے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں طے پایا۔خلیج میں تجارتی جہازوں کی نقل وحمل کی نگرانی کے لیے امریکا نے اپنے ہزاروں فوجی خطے میں تعینات کر رکھے ہیں، تاکہ ایران کو بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو ہراساں کرنے سے باز رکھا جا سکے۔
ایران کو قطر اور عمان جیسے اہم علاقائی ملکوں کا اعتماد بھی حاصل ہے، جو منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کے لیے بطور چینل استعمال ہوں گے۔ ایران کو روس اور چین جیسی بڑی طاقتوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔سعودی عرب کے ساتھ ایران کے دیرینہ کشیدہ تعلقات، چین کی ثالثی کے بعد کافی حد تک معمول پر آرہے ہیں۔ دونوں ملکوں نے اپنے مستقل سفارتی رابطے کو یقینی بنا لیا ہے۔
تاہم، امریکی وزیرخارجہ اس رائے کا اظہار کر چکے ہیں:’’امریکا میں ایران کے غیر منجمد اثاثوں کو صرف انسانی ضروریات یعنی ادویہ اور خوراک کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے‘‘۔ حالانکہ ادویہ اور خوراک کی خریداری پہلے بھی امریکی پابندیوں سے مستثنیٰ تھی۔
اس صورت حال کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ۲۰۱۵ء میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی بحالی کا امکان پیدا ہوا ہے، تاہم امریکی حکومت ردعمل اور خجالت کے ڈر سے بار بار اس امر کی تردید کرتی بھی دکھائی دیتی ہے۔
امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان جان کربی کے بقول: ’جوہری معاہدے کی طرف واپسی یا اس سے متعلق مذاکرات نہ امریکا کی ترجیح ہیں اور نہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کی شرائط میں یہ بات شامل تھی۔‘
تہران نے ’مشترکہ جامع منصوبۂ عمل معاہدے‘ کے تحت اس شرط پر جوہری پروگرام میں کمی لانے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ ’’اگر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ختم کر دی جائیں‘‘۔ مگر ۲۰۱۸ء میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جوہری معاہدے سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا اور نتیجتاً ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ اگرچہ اُن کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی بحالی میں دلچسپی تو ظاہر کی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کی صورت میں دونوں فریقوں کو نئے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کو عملی جامہ پہنانے سے متعلق لائحہ عمل میں کچھ دوسرے ملک بھی ملوث ہیں۔ معاہدے کے لیے کئی برسوں سے دونوں ملکوں کے درمیان گفتگو جاری تھی، لیکن اسی دوران میں تہران نے ایک اور امریکی شہری کو یرغمال بنا کر واشنگٹن کا اعتماد مجروح کیا۔
اس پیش رفت نے امریکا کو تذبدب کا شکار کر دیا کہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق معاہدے کے ذریعے تہران کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ واشنگٹن کو خدشہ تھا کہ تہران منجمد اثاثے واپس ملنے کے بعد انھیں ’سپاہ پاسداران انقلاب‘ کے لیے ہتھیار خریدنے میں استعمال کرے گا، جس سے خطے میں تہران کے خفیہ پروگراموں کو قوت ملے گی۔
دوسری جانب امریکا کو اس بات کا بھی ادراک تھا کہ اگر یہ مذاکرات ناکام ہوئے تو جوہری معاہدے سے متعلق گفتگو کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔ قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ دراصل علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی فضا کو کم کرنا تھا تاکہ مشرق وسطیٰ کسی بڑی جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہے۔ایران کو اپنی معیشت بچانا تھی اور امریکا کو جنگ سے گریز کی پالیسی میں عافیت دکھائی دیتی تھی۔ ایران نے چین کی ثالثی میں سعودی عرب سے مذاکرات کا ڈول ڈالا، تو اس کے بعد تہران کے پاس امریکا کے ساتھ مذکرات سے انکار کا کوئی جواز باقی نہیں تھا۔
امریکی جاسوس دنیا کے کئی ملکوں میں کام کر رہے ہیں۔ واشنگٹن کی ایران دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ اس وقت ایرانی ہوٹل میں نظر بند امریکی شہریوں میں کتنے جاسوس ہیں یا نہیں؟ اس بحث میں اُلجھے بغیر یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ امریکی سی آئی اے نے روس، ایران اور چین کو کئی برسوں سے اپنی خارجہ پالیسی کا محور بنا رکھا ہے۔
ماضی میں بھی حکومتی تبدیلی کی امریکی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے تہران مشتبہ غیرملکیوں کو ’یرغمال‘ بنانے کی پالیسی پر عمل کرتا چلا آیا ہے۔ ایران کے پانچ شہری بھی امریکی جیلوں میں قید ہیں۔ سی آئی اے کا الزام ہے کہ ان گرفتار ایرانیوں نے امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔
ایران سے ’جوہری معاہدے‘ کو معطل کر کے امریکا نے ایران پر جن پابندیوں کا دوبارہ احیا کروایا، امریکی فہم کے مطابق آج تک ان کا کوئی مثبت نتیجہ دُنیا کے سامنے نہیں آیا ہے۔ تہران کی پالیسیاں جوں کی توں برقرار ہیں اور ان پابندیوں نے ساڑھے آٹھ کروڑ ایرانیوں کو گوناگوں مسائل سے دوچار کیا ہے۔
قیدیوں کی رہائی اور ’جوہری معاہدے‘ سے متعلق مذاکرات کا آغاز حالیہ دنوں میں طے پانے والے ’قیدیوں کی رہائی کا معاہدہ‘ کا ایک انتہائی چھوٹا حصہ ہے، جس پر اذیت پسند امریکا نے تہران پر اپنی اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھنے کا اعلان کر کے ایران کی خوش گمانی کو ایک مرتبہ پھر گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔
نائیجر چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ملک ہے اور سرکاری طور پر اس کا نام جمہوریہ نائیجر ہے۔ مغربی افریقہ میں واقع اس ملک کا نام اسی سرزمین پر بہنے والے دریائے نائیجر کی نسبت سے رکھا گیاہے ۔ملک کے جنوب میں نائجیریا اور بنین ،مغرب میں بورکینا فاسو اور مالی، شمال میں الجزائر اور لیبیا، جب کہ اس کی مشرقی سرحد پر چاڈ واقع ہے ۔
نائیجر کا کُل رقبہ ۱۲ لاکھ ۷۰ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ مغربی افریقہ کا یہ سب سے بڑا ملک ہے۔۲۰۲۱ء کی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی ۲ کروڑ ۵۰لاکھ سے کچھ زیادہ ہے اور بیش تر آبادی ملک کے انتہائی جنوبی اور مغربی علاقوں میں آباد ہے۔ دارالحکومت نیامی ہی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے اور یہ دریائے نائیجر کے مشرقی کنارے پر ملک کے جنوب مغرب میں واقع ہے ۔آبادی کی غالب ترین اکثریت مسلمان ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملکی آبادی کے ۹۹ء۳ فی صد کا مذہب اسلام ہے ۔
نائیجر میں اسلام کب آیا؟ اس کے بارے میں مؤرخین کی رائے مختلف ہے ۔کچھ مؤرخین کے نزدیک اس علاقے میں اسلام بالکل ابتدائی دور میں جلیل القدر صحابی حضرت عقبہ بن عامرؓ کے ہاتھوں پہنچا تھا ، اور مؤرخ عبد اللہ بن فودیو کی کتاب بھی اسی رائے کی تائید کرتی ہے ۔ بعض مؤرخین اس کی نسبت حضرت عقبہ بن نافعؓ کی طرف کرتے ہیں، جو ۶۶۶ء میں اس علاقے میں تشریف لائے تھے۔ روایات میں ملتا ہے کہ حضرت عقبہ بن نافعؓ براعظم افریقہ کے اس گریٹ صحارا ریگستان میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے اور جنوب کی طرف فتوحات کرتے شہر’ کعوار‘ تک جاپہنچے اور اسے بھی فتح کیا۔ انھوں نے ریگستان کے جنوب میں واقع تقریباً تمام قابلِ ذکر شہر فتح کرلیے تھے۔ آج کل ’کعوار‘ کا علاقہ نائیجر اور لیبیا کی سرحد پر ملک کی شمال مشرقی سمت میں واقع ہے ۔اس روایت کے مطابق اسلام نائیجر اور اس کے اطراف میں واقع دیگر علاقوں میں اپنی تاریخ کے بالکل ابتدائی زمانے یعنی پہلی صدی ہجری میں ہی پہنچ چکا تھا ۔
بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بحیرۂ چاڈ کے کنارے اور ملک کے مشرق میں رہنے والوں نے پہلے پہل اسلام قبول کیا ۔اور ان میں دین حق کی روشنی پہنچانے کا شرف ان مسلمان عرب تاجروں کو حاصل ہے جو نائیجر کے ساتھ تجارتی تعلقات اوربندھنوں میں جڑے ہوئے تھے اور انھی کے توسط سے علاقے میں عربی زبان بھی عام ہوئی۔ بعد ازاں مملکت غانا کے خاتمے کے بعد یہاں مرابطین کی حکمرانی رہی۔ غربی نائیجر کا علاقہ مالی کی اسلامی مملکت کے تابع بھی رہا اور اس کے بعد یہ علاقہ سنغی حکومت کے تابع تھا جو شمالی نائیجر میں اجادیس (شہر) تک پھیلی ہوئی تھی۔
نائیجر کا مغربی سامراجیوں سے ۱۸۹۹ء میں اس وقت واسطہ پڑا، جب فرانس نے اس علاقے پر فوجی حملہ کیا۔ اس حملے میں فرانسیسی فوجوں کو مقامی مجاہدین کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا رہا اور وہ علاقے میں قدم نہ جماسکیں۔ پے درپے حملوں کے بعد فرانس کو ان افریقی ممالک میں اسی وقت قدم جمانے میں کامیابی حاصل ہوئی جب ۱۹۲۲ء میں علاقے میں شدید قحط اور خشک سالی کا دور آیا اور صحرا نشین لوگوں کی مزاحمت اس کے آگے بے بس ہوگئی ۔یوں نائیجر بھی مغربی افریقہ کے دیگر ممالک کی طرح فرانسیسی مقبوضات کا حصہ بن گیا ۔
۱۹۴۶ءمیں نائیجر کو فرانس کا حصہ بناکر یہاں کے لوگوں کو فرانسیسی شہریت دی گئی۔ان کے لیے مقامی پارلیمنٹ بنائی گئی جس کے نمایندوں کو ایک خاص تناسب کے مطابق فرانسیسی پارلیمنٹ میں بھی نمایندگی دی گئی تھی ۔۱۹۵۶ء میں جب فرانس نے اپنے بعض قوانین میں تبدیلی و ترمیم کی تو افریقی مقبوضات میں سے کچھ علاقوں کو فرانسیسی قوانین کے اندر رہتے ہوئے داخلی خود مختاری حاصل ہوگئی۔
۱۹۵۸ء میں نائیجر نام کی حد تک رسمی طور پر فرانس سے علیحدہ ہوگیا، تاہم ۱۹۶۰ء میں مکمل طور پر اس کی آزادی کو تسلیم کرلیا گیا ۔تحریک آزادی کے رہنما حمانی دیوری یہاں کے پہلے سربراہ بنے۔ تاہم، ان کے عہد حکومت کو بےتحاشا کرپشن کی وجہ سے یاد کیا جاتا ہے ۔
۱۹۷۴ء میں ایک فوجی انقلاب کے نتیجے میں حمانی حکومت کا خاتمہ ہوا اور انقلابی جرنیل سانی کونتشیہ نے ملک کی باگ ڈور سنبھال لی۔ وہ ۱۹۸۷ء میں اپنی وفات تک ملک کی سربراہی کرتے رہے ۔ ان کی وفات کے بعد علی سیبو نے نائیجر کی سربراہی سنبھالی اور نائیجر کی دوسری جمہوریہ کے قیام کا اعلان کیا۔اپنے دور میں ان کی کوشش رہی کہ ملک کو ایک پارٹی سسٹم کے تحت چلایا جائے۔ لیکن انھیں عوامی مطالبات کے آگے جھکنا پڑا اور ملک میں نئے سرے سے جمہوری دور کا آغاز ہوا ۔
۱۹۹۳ء میں پہلے کثیر جماعتی انتخابات میں ماھمان عثمان ملک کے پہلے صدر منتخب ہوگئے۔ ان کا عرصۂ اقتدار زیادہ عرصہ نہیں رہا اور ۱۹۹۶ء میں ایک فوجی بغاوت کے نتیجے میں ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوگیا اور ابراہیم مناصرہ نئے فوجی صدر بنے۔ تاہم، ان کی حکومت کو ملک کے سیاسی حلقوں میں پذیرائی نہ مل سکی۔
۱۹۹۹ء میں ایک اور فوجی بغاوت میں ابراہیم مناصرہ قتل کردئیے گئے اور نئی عبوری حکومت تشکیل دی گئی ۔ملک میں یہ تیسرا فوجی انقلاب تھا، جسے خونی انقلاب کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس انقلاب کے نتیجے میں فوجی سربراۂ مملکت ابراہیم مناصرۃ قتل کردئیے گئے تھے۔حالانکہ اس سے قبل کسی فوجی انقلاب کے نتیجے میں کوئی خون خرابہ نہیں ہوا تھا ۔
اسی سال ملک کا نیا دستور منظور ہوا اور نئی جمہوری حکومت مامادو تانجا کی زیر قیادت تشکیل پائی۔ اس دور میں سیاست دانوں کے درمیان اختلاف رہا کہ شریعت اسلامیہ کو ملکی دستور اور قانون کی اساس ہونا چاہیے یا نہیں ؟
۲۰۰۴ء میں ملک میں نئے انتخابات ہوئے جن میں ایک بار پھر مامادو تانجا دوسری مدت صدارت کے لیے منتخب ہوئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا دسمبر۲۰۰۹ء میں آئینی طور پراپنی مدت صدارت کی تکمیل پر وہ عہدۂ صدارت چھوڑ دیتے لیکن ان کا مطالبہ تھا کہ ان کی تیسری مدت صدارت کے لیے بھی دستور میں گنجایش نکالی جائے۔ لیکن فروری ۲۰۱۰ء میں ان کی حکومت ملک کے چوتھے فوجی انقلاب کے نتیجے میں ڈھیر ہوگئی ۔
نئی فوجی حکومت نے عبوری فوجی کونسل بنائی ،دستور پر عمل درآمد کو معطل کیا، مملکت کے تمام آئینی ادارے تحلیل کردئیے گئے اور نعرہ یہ لگایا کہ ہم حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں ۔عملاً ایک نیا دستور وضع کیاگیا جس میں صدر کے بہت سے اختیارات کو سلب کرلیا گیا۔ نئے دستور کی روشنی میں ۳۱جنوری ۲۰۱۱ء کو ملک میں نئے صدارتی انتخابات ہوئے اور دوسری بار کے انتخاب میں محمدایسوفو کامیاب ہوکر ملک کے نئے صدر بنے۔
۲۰ مارچ ۲۰۱۶ء کو محمد ایسوفو دوسری مدت صدارت کے لیے پھر منتخب ہوگئے اگرچہ ملک اس وقت شدید سیاسی اختلافات کا شکار تھا اور کئی سیاسی پارٹیاں الیکشن کا بائیکاٹ بھی کرچکی تھیں۔ ملک بدامنی کا بھی شکار ہوچکا تھا اور مسلح حملوں کا سامنا کررہا تھا ۔تاہم، ان کی دوسری مدت صدارت اس لحاظ سے کچھ کامیاب کہلاسکتی ہے کہ ان کے اس عہد ِحکومت میں خط ِغربت سے نیچے رہنے والی آبادی کی شرح ۵۰٪ فی صد سے گھٹ کر ۴۱ فی صد رہ گئی تھی ۔
۲۱فروری ۲۰۲۱ء کے صدارتی الیکشن میں اقلیتی عرب قبائل سے تعلق رکھنے والے محمد بازوم ملک کے نئے صدر منتخب ہوگئے ۔ایک ایسے ملک میں جہاں قبائلی عصبیتیں عروج پر ہوں ایک اقلیتی قبیلے کے فرد کا صدر منتخب ہوجانا انہونی بات ہے۔ تاہم، خوشی کا یہ عالم زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا اور ۲۶ جولائی ۲۰۲۳ء کو ایک نیا فوجی انقلاب صدارتی محل کے دروازے پر دستک دے رہا تھا ۔ صدارتی محافظوں نے اپنے ہی صدر کو یرغمال بناکر ایک بار پھر پورے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا۔ حالیہ فوجی بغاوت کا آغاز اگرچہ صدارتی محل کے گارڈز نے کیا تھا، تاہم اب ملک کی بَری اور فضائی اور ساری فوج ایک ہی پیج پر آچکی ہے۔
مغربی ممالک نے اس فوجی بغاوت کو یکسر مسترد کر ہوئے نظر بند صدرمحمد با زوم کی فوری رہائی اور دستور کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایکواس ممالک (اکنامک گروپ برائے مغربی افریقی ممالک) نے جس کی سربراہی اس وقت پڑوسی ملک نائجیریا کے پاس ہے ،یورپین یونین اور فرانس اس کے اقدامات کی حمایت کررہے ہیں ،نئی فوجی قیادت کو بیرکوں میں واپسی کے لیے ۱۵ دن کی مہلت دی ہے۔ نائیجر کےہمسایہ ایکواس ممالک نے گذشتہ اتوار کو اپنے سربراہی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ نائیجر میں جمہوریت کی بحالی اور فوجی انقلاب کی پسپائی اور منتخب مگر تاحال نظر بند صدر محمد بازوم کے اقتدار کی اَز سر نو بحالی کو بہرصورت ممکن بنایا جائے گا، خواہ اس مقصد کے حصول کے لیے انھیں فوجی مداخلت ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ مغربی ممالک نے نئی انتظامیہ پر اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ دوسری طرف ایکواس ممالک کی سربراہی کرنے والے ہمسایہ ملک نائجیریا نے بجلی کی سپلائی بند کردی ہے ۔
مغرب کی نائیجر میں دلچسپی کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ یہ غریب مسلم ملک کسی وقت فرانسیسی کالونی رہا ہے ۔دوسرے، یہ علاقہ قیمتی معدنیات سے مالامال ہے۔نائیجر افریقہ کا یورینیم برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ملک کا ۳۵ فی صد یورینیم فرانس کو برآمد کیا جاتا ہے، جس سے فرانس اپنی توانائی کی ۷۵ فی صد ضروریات کی تکمیل کرتا ہے ۔بدلے میں فرانس اس غریب افریقی ملک کو کیا دیتا ہے ؟محض ۱۵۰ ملین یورو سالانہ۔قیمتی معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود اس ملک کا شمار براعظم افریقہ کے غریب ترین ممالک میں ہوتا ہے۔
بحر اطلس پر واقع یورپی ممالک کے لیے نائیجیر کی اہمیت اس لیے بھی دوچند ہوجاتی ہے کہ اس کے ہمسایہ ملک نائیجیریا سے نکلنے والی زیر تعمیر گیس پائپ لائن، نائجیر سے گزر کر ہی شمالی افریقہ اور پھر یورپی ممالک تک گیس کی سپلائی یقینی بنائے گی۔
اپنے مذکورہ مفادات کے تحفظ کے لیے اور علاقے میں بوکو حرام اور دیگر مسلح گروپس کے مقابلے کے لیے مغربی ممالک نے نائیجر میں اپنے فوجی اڈے قائم کررکھے ہیں ۔اس وقت نائیجر میں فرانسیسی فوجی اڈوں کی تعداد چار ہے، جن میں ہزاروں فوجی تعینات ہیں ۔ علاقے میں نیٹو افواج کا ہیڈ کوارٹر بھی نائیجر ہی میں واقع ہے ۔ علاوہ ازیں امریکا سے باہر امریکی ڈرونز کا سب سے بڑا اڈا بھی نائیجر ہی میں واقع ہے اور اس کی منتخب فوج کی اسپیشل یونٹ بھی نائیجر کے شہر اکا دیش میں تعینات ہے ۔نائیجر کے علاوہ ہمسایہ ممالک، مالی، چاڈ، موریطانیہ، برکینا فاسو میں بھی جگہ جگہ امریکی، فرانسیسی اور جرمن فوجی اڈے قائم ہیں۔ اسی بنا پر کہا جاتاہے کہ نائیجر سمیت پورا غربی افریقہ ایک بار پھر مغربی سامراجی قبضے کا شکار ہوچکا ہے ۔
دیکھیے نائیجر کے تازہ ترین فوجی انقلاب کے بعد علاقے کے حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، اور بدلتے حالات میں کیا غریب نائیجر مسلمانوں کے لیے بھی خوشی اور راحت کا کوئی پیغام پوشیدہ ہےیا نہیں ؟
پارلیمنٹ بنیادی طور پر قوم کا ایک امانت دار فورم ہے، جو حکمرانوں کو اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اختیارات ادا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہماری پارلیمنٹ ان احساسات سے عاری دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ قانون سازی اس کی تازہ مثال ہے۔ ’قرارداد مقاصد‘ کے مرکزی اصولوں میں پہلے تین نکات یہ ہیں: ۱- حاکمیت اعلیٰ، اللہ کی ہوگی، ۲-اقتدار ایک مقدس امانت ہے، جسے اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہ کر استعمال کیا جائے گا، ۳- اقتدار کا جواز، آزادانہ رائے کے ذریعے منتخب نمایندوں کو حاصل ہوگا___ لیکن اس وقت ’حاکمیت اعلیٰ‘ عملاً عالمی ساہوکاروں،عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بنک، مقتدر اداروں اور ایجنسیوں کی ہے ۔ اقتدار ’مقدس امانت‘ کے بجائے مراعات یافتہ طبقوں اور اشرافیہ کی خدمت کے لیے استعمال ہورہا ہے جس کی سب سے بڑی تکلیف دہ مثال یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے آخری سیشن میں۱۲۰ قوانین متعارف کرائے گئے۔ ۷۵قوانین منظور کیے گئے۔ ان منظور کردہ قوانین کا انسانی فلاح سے ذرہ برابر تعلق نہیں ہے، بلکہ محض طاقت ور اور دولت مند طبقوں کی چاکری اور عوام کی غلامی کے لیے قانونی تحفظ کا حصول ہے۔ ایسی ربرسٹمپ اور انگوٹھا چھاپ پارلیمنٹ کے بارے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا یہ کہنا لمحۂ فکریہ ہے کہ بعض ارکانِ پارلیمنٹ پر مطلوبہ قانون سازی کے لیے تعاون حاصل کرنے پر بڑی رقوم خرچ کی گئی ہیں۔
یہاں مثال کے طور پر چند قوانین کی منظوری کے وقت میں نے جو معروضات پیش کیں، ملاحظے کے لیے پیش ہیں:
آرمی آفیشل سیکرٹ ایکٹ جو بڑی جلدبازی میں پیش کیا گیا، اس میں کچھ اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، جو حددرجہ بودی، سطحی (superficial) اور ناکافی ہیں۔ اگر پارلیمنٹ نے اس کو اسی انداز سے منظور کیا تو نتیجے میں پورا ملک ایک چھائونی کا منظر پیش کرے گا۔
اس مجوزہ ایکٹ کے نتیجے میں غیرمعمولی اندھے اختیارات، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس آجائیں گے، جن سے انسانی حقوق، سیاسی و انسانی آزادیاں اور میڈیاکی آزادی بُری طرح متاثر ہوگی۔ ’فوجی مارشل لا‘ کے وزن پر اگر ’قانونی مارشل لا‘ کی کوئی اصطلاح قانون کی کتابوں میں درج ہے تو یہ ایکٹ اس اصطلاح پر پورا اُترتا ہے، کیونکہ اس قانون سازی کے نتیجے میں وہی سامنے آئے گا۔اس ایکٹ کو دستورِ پاکستان کی روح کے مطابق رکھنے کے لیے مَیں نے ۶ ترامیم جمع کروائی تھیں، مگر ان پر غور تک نہیں کیا گیا۔
اس ایکٹ کے مسودے کے پہلے صفحے پر لکھا ہے: include written and unwritten (’لکھا‘ اور ’نہ لکھا‘ اس میں شامل ہے)۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ unwritten (نہ لکھے)میں تو سادہ کاغذبھی ہوتا ہے، جس پر کچھ نہیں لکھا ہوتا۔ میں کوئی قانون دان نہیں ہوں، لیکن پھر یہاں یہ بھی لکھا ہے: memorandium etc (یادداشت وغیرہ)۔ قانون کی دستاویزات میں تو etc یا وغیرہ وغیرہ کا لفظ نہیں ہوتا۔ آپ نے تو یہ ایک ایسی چیز اس میں رکھ دی ہے کہ اس میں کوئی بھی چیز شامل کی جاسکتی ہے۔ قانون تو سیاہ و سفید میں بالکل واضح ہوتا ہے اور اس میں اس طرح کی چیزیں شامل نہیں ہوتی ہیں۔ اسی طرح صفحہ ۲ پر ہے:
Any place occupied by Armed force for the purpose of war games, exercise, training, research and development.
جس کا مطلب ہے افواج کے تعلیمی ادارے، نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی، ایئر یونی ورسٹی اور باقی اداروں کو بھی آپ نے اس میں شامل کیا ہے۔ اور آگے چلیں تو آپ نے ’دشمن‘ (enemy) کی تعریف (definition) میں ’نان اسٹیٹ ایکٹرز‘ کو بھی شامل کیا ہے۔ ’نان اسٹیٹ ایکٹر‘ کی تعریف کی جائے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اگر اس کی تعریف واضح نہیں کی گئی تو پھر آپ یہاں ANSA /انسا، آرمڈ نان اسٹیٹ ایکٹر کو شامل کریں۔ اس طرح آپ نے تمام این جی اوز کو بھی اس میں ڈال دیا ہے اور تمام خیراتی اداروں کو بھی اس میں شامل کردیا ہے۔ اس لیے نان اسٹیٹ ایکٹر کی وضاحت کے ساتھ باقاعدہ تعریف شامل کریں یا پھر ANSA لکھیں۔
پھر اس میں دفعہ ۲-الف کا اضافہ کرلیا جائے یعنی دستور ِ پاکستان میں جن بنیادی انسانی حقوق کی نشان دہی کی گئی ہے، ان کو اس میں شامل کرلیا جائے۔ دستور کے پہلے باب کے دوسرے حصے میں جو بنیادی انسانی حقوق دیئے گئے ہیں اور بالخصوص آرٹیکل ۹، آرٹیکل ۱۰، آرٹیکلA- ۱۰ اور آرٹیکل ۱۴ کو پیش نظر رکھا جائے۔
ص ۴ پر بھی کئی چیزوں میں ترمیم ہونی چاہیے۔ ان میں ایک چیز unauthorise disclosure of identity ہے، اسی طرح یہ بھی ہے کہ:
a person shall commit an office who intentionally acting in any pre-judicial to public order or safety.
یہاں ’پبلک آرڈر‘ یا ’سیفٹی‘ سے کیا مراد ہے؟ یہ تو ایک ایسی بات ہے جس میں پورے معاشرے کو اس کے اندر لے آیا گیا ہے اور غیرمعمولی اختیارات دے دیئے گئے ہیں۔
اسی طرح یہ شامل کرنا چاہیے کہ اس پر قانونِ شہادت کے مطابق ہی عمل درآمد کیا جائے گا۔
میں پھر خبردار کرتا ہوں کہ اگر آپ نے اس قانون کو اسی طرح منظور کرلیا تو اس کے نتیجے میں انسانی حقوق، انسانی آزادی، جمہوری آزادی، میڈیا اور سیاسی آزادیاں سب خطرے میں پڑجائیں گی اور انٹیلی جنس اداروں کو اندھے اختیارات مل جائیں گے۔
این ایل سی (NLC)کو سویلین حکومت کے تحت کر دینا درست قانون سازی ہے، لیکن یہ نامکمل ہے۔ اس کے آرٹیکل ۱۰ میں لکھا ہے:
Appointment of Director General: the prime minister shall on recmendation of chief of Army Staff appointing a serving major general of the Pakistan Army .....
ہماری دردمندانہ درخواست ہے کہ پاکستان کی قومی فوج کو ان کاموں سے دُور رکھیں۔ فوج پورے وطنِ عزیز کا قابلِ قدر اور غیرمتنازع ادارہ اور اثاثہ ہے۔ فوج کا کام ملک کی سلامتی کا تحفظ اور سرحدوں کا دفاع کرنا ہے۔ جب ان سے بنک، ہسپتال اور یونی ورسٹیاں بنوائیں گے، زمینوں کی خرید و فروخت، کاروباری کاشت کاری اور فارمنگ کروائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ کمپنیاں ان کے حوالے کریں گے، تو وہ اپنا بنیادی اور منصبی کام نہیں کرسکیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قانون سازی کے ذریعے اسے سول انتظامیہ کے تحت لایا جائے۔
پاکستان کی مسلح افواج سے اخلاص اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ سوائے دفاعی اُمور کے انھیں باقی تمام کاموں سے فارغ کردیا جائے تاکہ وہ پوری یکسوئی کے ساتھ ملکی دفاع پر ایک پروفیشنل انداز سے اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ کرسکیں۔ آپ نے ۴۰/۴۵ سال بعد ترمیم کی اور قانون سازی کی اور این ایل سی جو پہلے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت فوج کے پاس تھا، اب اسے پارلیمنٹ کی قانون سازی کے ذریعے فوج کے حوالے کر رہے ہیں، جو بنیادی طور پر ایک غلط اقدام ہے۔
آپ قانون سازی کرنا چاہتے ہیں تو بے شک کریں لیکن قانون سازی سوچ سمجھ کر ہی کریں، بحث و مباحثہ کے بعد کریں، ووٹوں کی قوت کے زور پر نہ کریں۔اینٹی نارکوٹکس قانون کے بارے میں متعلقہ وزیرجناب مرتضیٰ عباسی صاحب سے پوچھیں کہ اس قانون میں کیا تھا اور انھوں نے اسے کیوں پاس کیا؟ تو مجھے یقین ہے کہ ان کو بھی اس کے مندرجات کا علم نہیں ہے۔
اینٹی نارکوٹکس کے قانون میں دفعہ ۶ میں پوزیشن( قبضہ یا ملکیت)، دفعہ۷ میں درآمد و برآمد، دفعہ۸ میں ترسیل یا ٹریفکنگ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’جس کے پاس پانچ کلوگرام اور چھے کلوگرام نارکوٹکس ہوگی، اس کو سزائے موت نہیں دی جائے گی‘‘۔ اس مضحکہ خیز شق سے مَیں اختلاف کرتا ہوں۔
اس وقت اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں ۱۵سال سے لے کر ۳۹سال کی عمر تک ۹۰لاکھ لوگ نشے کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق دُنیا کے ۶۲ممالک کی آبادی سے زیادہ پاکستان میں نشے کے عادی افراد پائے جاتے ہیں۔ پاکستان کو ہائی وے آف دی نارکوٹکس (منشیات فروشی کی شاہراہ)کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں نارکوٹکس کا جو کاروبار ہورہا ہے وہ پاکستان کے دفاع کے بجٹ سے ۸۰گنا زیادہ ہے۔ہمارے بچّے تباہ ہورہے ہیں۔ گلی کوچوں میں نارکوٹکس ہے، کالجوں اور یونی ورسٹیوں میں نارکوٹکس ہے۔ حال ہی میں بہاولپور اسلامیہ یونی ورسٹی کا واقعہ پیش آیا ہے۔اس میں نارکوٹکس برآمد ہوئی ہیں اور سیکس ٹیبلٹس اور ہماری بچیوں کی ہزاروں قابلِ اعتراض تصاویر نکلی ہیں۔ ان حالات میں آپ نے جو لوگ پانچ اور چھ کلوگرام نارکوٹکس رکھتے ہیں، ان کی سزائے موت کو ختم کردیا ہے۔
مرتضیٰ عباسی صاحب یا ن لیگ سے وابستہ اور وفاقی وزیرقانون و عدل سینیٹر نذیر تارڑ صاحب یہ بتائیں کہ اب تک نارکوٹکس کے جرم میں کتنے لوگوں کو سزائے موت ملی ہے؟ کسی ایک فرد کو بھی اس جرم میں پھانسی کی سزا نہیں ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے نارکوٹکس کا کاروبار پوری قوت اور پورے پھیلائو کے ساتھ چل رہا ہے۔ اسی لیے ہمارے نوجو ان نشے کے عادی بن رہے ہیں۔ ہمارے نوجوانوں اور ملک کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ نارکوٹکس ہیں۔ لیکن یہ دیکھ کر مجھے حیرت اور شرمندگی ہورہی ہے کہ آپ منشیات اسمگلروں کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ ڈرگ کا کاروبار کرنے والوں اور اُسے امپورٹ ایکسپورٹ کرنے والوں کو امداد فراہم اور راستہ دینا چاہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نشے کا کاروبار کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔
نگران حکومتوں کے اختیارات میں اضافے کے اس بل کی مَیں حمایت نہیں کرسکتا اور حکومت کے علم میں یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ کیا نگران حکومت خیبرپختونخوا غیر جانب دار ہے؟ وہ قطعاً غیر جانب دار نہیں ہے۔ کیا نگران حکومت پنجاب غیرجانب دار ہے؟ وہ قطعاً غیر جانب دار نہیں ہے۔ یہ تو اب بالکل واضح ہوچکا ہے کہ یہ حکومتیں ایک ایجنڈے کو لے کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ بہت دُکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت ہم آئی ایم ایف کی غلامی میں اس حد تک جکڑ گئے ہیں کہ یہ ہمارے انتخابی قوانین کے اُوپر بھی اثرانداز ہورہا ہے اور ان کی ناراضی اور خوشی کو ہم پیش نظر رکھ رہے ہیں۔
نئی ترامیم آئین کی روح کے خلاف ہیں۔ یہ سب نگران حکومت کے وجود اور فرائض کی روح کے خلاف ہے۔مَیں اس کو ’سافٹ کو‘ کہتا ہوں اور اس کو آیندہ انتخابات کو متنازعہ بنانے کی بنیاد قرار دیتا ہوں، جس کے نتیجے میں اس بات کا امکان ہے کہ نگران حکومت اس کی آڑ میں اپنی مدت کو توسیع دے کر انتخابات کو التوا میں ڈالے۔ اس وقت ملک میں جمہوریت بہت مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ میری درخواست ہوگی کہ اس شق کو نکالیں اور آیندہ انتخابات کو متنازع نہ بنائیں اور نگران حکومتوں کو وہ اختیارات نہ دیں جو ان کو دستور میں نہیں دیئے گئے ہیں۔
سوال : موجودہ قانون میں کورٹ میں اپیل کے بعد بھی اگر قاتل کو پھانسی کی سزا تجویز ہوجائے تو پھر صدر حکومت یا گورنر جنرل کے سامنے رحم کی اپیل ہوتی ہے، جس میں سزا کے تغیر کا امکان رہتا ہے۔ اسلامی نقطۂ نظر سے یہ صورت کس حد تک جائز ہے؟
جواب :یہ بات اسلامی تصورِ عدل کے خلاف ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد کسی کو سزا کے معاف کرنے یا بدلنے کا اختیار حاصل ہو۔ عدالت اگر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غلطی کرے، تو امیر یا صدرِ حکومت کی مدد کے لیے پریوی کونسل کی طرز کی ایک آخری عدالت مرافعہ قائم کی جاسکتی ہے، جس کے مشورے سے وہ ان بے انصافیوں کا تدارک کرسکے، جو نیچے کی عدالتوں کے فیصلوں میں پائی جاتی ہوں۔ مگر مجرد ’رحم‘کی بناپر عدالت کے فیصلوں میں رد و بدل کرنا اسلامی نقطۂ نظر سے بالکل غلط ہے۔ یہ ان بادشاہوں کی نقالی ہے جو اپنے اندر کچھ شانِ خدائی رکھنے کے مدعی تھے یا دوسروں پر اس کا مظاہرہ کرنا چاہتے تھے۔(ترجمان القرآن، جون و جولائی ۱۹۵۲ء)
سوال : پاکستان کے بقا و استحکام کے لیے اسلامی نظامِ تعلیم کی ضرورت و اہمیت کیا ہے؟
جواب : پاکستان کے بقا و استحکام کے لیے اسلامی نظامِ تعلیم کی ضرورت و اہمیت کا اندازہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرلینے سے ہوسکتا ہے کہ ملک و قوم کی قیادت ہمیشہ تعلیم یافتہ طبقے ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اَن پڑھ یا نیم خواندہ طبقے اپنے قائدین ہی کے پیچھے چلتے ہیں۔ تعلیم یافتہ طبقے کے بنائو اور بگاڑ میں نظامِ تعلیم کو جو مقام حاصل ہے، وہ محتاجِ بیان نہیں ہے۔(ترجمان القرآن، جولائی ۱۹۷۷ء)
امام [ابوحنیفہؒ] کے نزدیک مسلم معاشرے اور اسلامی ریاست میں قضا [عدالت]کی آزادی کے ساتھ آزادیٔ اظہار رائے کی بھی بہت بڑی اہمیت تھی، جس کے لیے قرآن و سنت میں ’امربالمعروف ونہی عن المنکر‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔
محض ’اظہارِ رائے‘ تو نہایت ناروا بھی ہوسکتا ہے، فتنہ انگیز بھی ہوسکتا ہے، اخلاق اور دیانت اور انسانیت کے خلاف بھی ہوسکتا ہے، جسے کوئی قانون برداشت نہیں کرسکتا۔ لیکن بُرائیوں سے روکنا اور بھلائی کے لیے کہنا، ایک صحیح اظہاررائے ہے اور اسلام یہ اصطلاح اختیار کرکے اظہارِرائے کی تمام صورتوں میں سے اسی کو مخصوص طور پر عوام کا نہ صرف حق قرار دیتا ہے بلکہ اسے ان کا فرض بھی ٹھیراتا ہے۔
امام ابوحنیفہؒ کو اس حق اور اس فرض کی اہمیت کا سخت احساس تھا کیونکہ ان کے زمانے کے سیاسی نظام میں مسلمانوں کا یہ حق سلب کرلیا گیا تھا اور اس کی فرضیت کے معاملے میں بھی لوگ مذبذب ہوگئے تھے۔ اُس زمانے میں ایک طرف مُرحِبَہ اپنے عقائد کی تبلیغ سے لوگوں کو گناہ پر جرأت دلا رہے تھے، دوسری طرف حَشْویہ اس بات کے قائل تھے کہ ’حکومت کے مقابلے میں امربالمعروف ونہی عن المنکر ایک فتنہ ہے‘، اور تیسری طرف بنی اُمیہ و بنی عباس کی حکومتیں طاقت سے، مسلمانوں کی اِس روح کو کچل رہی تھیں کہ وہ امراء کے فسق و فجور اور ظلم و جور کے خلاف آواز اُٹھائیں۔
اس لیے امام ابوحنیفہؒ نے اپنے قول اور عمل دونوں سے اس روح کو زندہ کرنے کی اور اس کے حدود واضح کرنے کی کوشش کی۔الجصاص کا بیان ہے کہ ابراہیم الصائغ(خراسان کے مشہور و بااثر فقیہ) کے سوال پر امامؒ نے فرمایا کہ ’امربالمعروف ونہی عن المنکر فرض ہے‘۔ اور عِکرمہ عن ابن عباس کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا کہ ’’افضل الشہداء ایک تو حمزہؓ بن عبدالمطلب ہیں، دوسرے وہ شخص جو ظالم امام کے سامنے اُٹھ کر اسے نیک بات کہے اور بدی سے روکے اور اِس قصور میں مارا جائے‘‘۔ابراہیمؒ پر امامؒ کی اس تلقین کا اتنا زبردست اثر پڑا کہ وہ جب خراسان واپس گئے تو انھوں نے عباسی سلطنت کے بانی ابومسلم خراسانی (م:۱۳۶ھ/ ۷۵۴ء) کو اس کے ظلم و ستم اور ناحق کی خوں ریزی پر برملا ٹوکا اور باربار ٹوکا، یہاں تک کہ آخرکار اس نے انھیں قتل کردیا۔ (خلافت کے مسئلہ میں امام ابوحنیفہؒ کا مسلک، سیّدابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۶۰، عدد۶، ستمبر ۱۹۶۳ء، ص ۲۳-۲۴)