۷اکتوبر کو اسرائیل پر ’حماس‘ کے حملے کے بعد، انڈین میڈیا اور صہیونیوں کی رائے عامہ نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی زبردست حمایت کی تھی۔ اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تل ابیب اور نئی دہلی دونوں فلسطینی اور کشمیری علاقوں پر قبضے اور الحاق کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ ۲۰۱۴ء سے انڈین وزیراعظم نریندر مودی، مقبوضہ کشمیر میں جن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے، وہ مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کی اختیار کردہ پالیسیوں سے مختلف نہیں ہیں۔ قابلِ اعتماد ذرائع کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ انڈیا، غزہ پر اسرائیل کی جنگ کی حمایت کے ساتھ ساتھ غیر قانونی طور پر ہتھیار فراہم کر رہا ہے۔ اسی طرح غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی حمایت میں انڈین ہاتھ ملوث ہے، خاص طور پر ہندوتوا حامیوں کے ذریعے۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ مودی حکومت کے دور میں انڈیا، فلسطین کے مسئلے پر اپنے قدیم اور روایتی موقف سے پیچھے ہٹ گیا ہے، بلکہ انڈیا نے اسرائیل کے ساتھ گہرے مشترکہ تعلقات استوار کرلیے ہیں، خاص طور پر غزہ میں جاری تنازعے کے تناظر میں۔ حالیہ رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا، اسرائیل کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے اور وہ غزہ میں فوجی آپریشن میں شریک ہے۔ ۱۵ مئی کو ہسپانوی ساحل پر کارگو بحری جہاز ’بورکم‘ (Borkum) سے متعلق کیس اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انڈین ہتھیاروں کی کھیپ اسرائیل کو بھیجی گئی تھی۔ فلسطینی قبضے کے خلاف سولیڈیریٹی نیٹ ورک کی جانب سے کی گئی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ ’بورکم‘ میں ۲۰ٹن راکٹ انجن، ۱۲ء۵ ٹن دھماکا خیز مواد، ۳۳۰۰پاؤنڈ دھماکا خیز مادہ اور توپوں کے لیے، ۱۶۳۰پونڈ چارجر اور توپ کے گولوں کے لیے دھماکا خیز مواد تھا۔ پھر ۶ جون کو اسرائیل نے غزہ میں اقوام متحدہ کے پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی۔ ’قدس نیوز نیٹ ورک‘ نے اسرائیلی جنگی طیاروں کی طرف سے گرائے گئے میزائل کی باقیات کی ویڈیو جاری کی ہیں، جن کے مطابق ایک لیبل پر واضح طور پر لکھا تھا:’میڈ اِن انڈیا‘۔
اس کے علاوہ، کچھ تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ سیکڑوں انڈین فوجی یا شہری، اسرائیل میں فلسطینی عوام کے قتل عام کے حق میں مظاہرے میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسرائیل کے لیے انڈیا کی غیرمنصفانہ حمایت سے پیداشدہ لعن طعن کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے، نئی دہلی نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) کے ذریعے غزہ کو علامتی امداد کی ترسیل بھی کی ہے۔ اگرچہ مودی کی حکومت اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا اسرائیل کی طرف اسٹرے ٹیجک جھکاؤ ساری دُنیا پر واضح ہے۔ انڈین وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے:’’انڈیا وہی کرے گا، جو اس کے مفاد میں ہوگا‘‘۔
انڈین ملٹری انٹیلی جنس اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات کے ساتھ ساتھ اسرائیلی نسل کشی کی کارروائیوں کی حمایت بھی کررہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد جس میں ’غزہ میں فوری اور پائیدار جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا، انڈیا نے حمایت نہیں کی۔ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت اس سال فلسطینی مزدوروں کی جگہ ۸۰ ہزار غیر ملکی ملازمین کو مستقل طور پر بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن کی اکثریت انڈیا سے آئے گی۔ ’امریکا،بھارت،اسرائیل گٹھ جوڑ‘ اقوام متحدہ کے نقطۂ نظر کو مسترد کرتا ہے، جو غزہ کی جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ کے نازک حالات میں انسانی ہمدردی، ترقی اور امن کی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد اور مالی تعاون پر مبنی ہے۔
مزید برآں، ’ہندوتوا، صہیونی اتحاد‘ کی گھن گرج کو دیکھنا ہو تو انڈیا کی فوجی حمایت زیادہ تر غزہ میں جنگ کے دوران انڈین نیوز چینلوں پر نشر ہونے والے تبصروں سے ظاہر ہوتی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر انڈیا اسرائیل ٹرینڈ شروع کیا گیا اور صہیونی حکومت کے ساتھ اپنی غیرمعذرت خواہانہ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت کرنے والوں کے لیے بازاری اور گھٹیا زبان استعمال کی گئی۔ پھر کمال ڈھٹائی سے جعلی ویڈیوز اور مسخ شدہ تصاویر اور پرانی خبریں تک جاری کی گئیں۔ اس طرح انڈیا، جعل سازی اور غلط معلومات کا مرکز بن گیا، جس نے اسرائیل کو غزہ کی جنگ کا اصل ہدف قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ اسی طرح چند انڈین شہروں میں اسرائیل کی حمایت میں جلوس بھی نکالے گئے جہاں ’اسرائیل زندہ باد‘ کے ساتھ ساتھ ’جے شری رام‘ جیسے ’ہندوتوا‘ جیسے قوم پرست نعرے بھی لگائے گئے۔
اسرائیل کے بارے میں انڈیا کی اختیار کردہ پالیسی، دُہرے انڈین کردار کے بارے میں سوالات اُٹھاتی ہے: ایک طرف علامتی امداد فراہم کرنے اور دوسری طرف غزہ میں اسرائیل کے ساتھ نسل کشی میں بامعنی شریک کار کے طور پر۔ اس کے ساتھ حیرت کی بات ہے کہ مرکزی دھارے کا بھارتی میڈیا غزہ تنازعہ میں انڈین کردار کے بارے میں واضح طور پر خاموش ہے۔ تاہم، انڈین میڈیا کھلے عام ایسے کلپس نشر کرتا آرہا ہے جو غزہ میں جاری ’صہیونی،بھارتی،امریکی گٹھ جوڑ‘ کے بارے میں تاثر پیدا کرتا ہے۔ لیکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کی رٹ کے خلاف یہ مکروہ گٹھ جوڑ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برطانیہ کی طرف سے اسرائیل کو غیر قانونی ہتھیاروں کی فراہمی کے ردعمل کے طور پر، برطانوی دفتر خارجہ کے ایک سفارت کار نے یہ مانتے ہوئے استعفا دے دیا ہے کہ ’اس طرح برطانوی حکومت جنگی جرائم میں ملوث ہوسکتی ہے‘۔
چوتھے جنیوا کنونشن کے مطابق مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر اسرائیلی قبضہ کسی بھی قانونی حیثیت سے درست نہیں ہے۔ اسی طرح طاقت کے زور پر یا انڈین قانون سازی کے ذریعے جموں و کشمیر پر بھارت کا قبضہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔ اس لحاظ سے، تل ابیب اور نئی دہلی دونوں نے ’بین الاقوامی انسانی قانون‘ (IHL) کی سنگین خلاف ورزیاں کی ہیں۔ فلسطین کے بارے میں انڈیا کی پالیسی میں واضح تبدیلی اور غزہ کی جنگ میں اسرائیل کی بے جا حمایت، اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل کے غزہ جنگی شراکت دار کے طور پر، انڈیا کا مقصد کشمیر پر یک طرفہ طور پر قبضے کو مضبوط بنانا ہے۔ یوں اپنے اسٹرے ٹیجک مفادات کے لیے نئی دہلی جنگی جرائم میں ملوث چلی آرہی ہے۔
۱۹۹۵ء میں جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات منعقد کروانے کے لیے بھارت کو شدید عالمی دباؤ کا سامنا تھا۔وزیر اعظم نرسمہا راؤ کی حکومت، کانگریس کی ہم نوا ’نیشنل کانفرنس‘ کی معاونت کے لیے تیار نہیں تھی۔ نئی دہلی میں اس بات پر بھی غصہ تھا کہ ۱۹۸۹ میں فاروق عبداللہ نے وزارت اعلیٰ کے منصب سے استعفا دیا اور بھارت مخالف قوتوں کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرنے کے بجائے لندن جا کر بس گئے تھے۔
ان انتخابات کو معتبر بنانے کے لیے معروف کشمیری رہنما شبیر احمد شاہ پر ڈورے ڈالے جارہے تھے۔ وہ ابھی حُریت کانفرنس میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ نئی دہلی میں خفیہ ایجنسیوں کا ایک اور دھڑا، جس کی قیادت اس وقت کے سیکرٹری داخلہ ایس پدمانا بھیا کر رہے تھے، انھوں نے حکومت نواز بندوق برداروں پر مشتمل ایک پارٹی ’عوامی لیگ‘ کے نام سے میدان میں اتاردی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ خود ساختہ منتخب حکومت کی باگ ڈور، وہ تائب بندوق برداروں کے کمانڈر محمدیوسف المعروف ککہ پرے کے حوالے کردیں گے۔ اس گروپ نے ان دنوں چند برسوں میں ظلم و ستم کے جو پہاڑ توڑے تھے، لوگ کسی طرح ان سے چھٹکارا پانا چاہ رہے تھے۔
اگلے سال یعنی ۱۹۹۶ء میں لوک سبھا کے انتخابات ہوئے، تو نیشنل کانفرنس نے ان کا بائیکاٹ کیا ہوا تھا۔ ان انتخابات میں کانگریس کی زیر قیادت نرسہما راؤ کی حکومت کا تختہ اُلٹ گیا اور جنتا دل حکومت وزیر اعظم دیو گوڑا کی قیادت میں برسر اقتدار آگئی۔ انھوں نے خفیہ ایجنسیوں کی ایما پر اپنے دست ِراست سی ایم ابراہیم کو لندن بھیج کر فاروق عبداللہ کو اسمبلی انتخابات میں شرکت پر آمادہ کروالیا۔ ان کو یقین دہانی کروائی گئی، کہ اسمبلی میں ان کو واضح اکثریت حاصل کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی، اور وہ زیادہ خود مختاری کی قراردار منظور کرواکے نئی دہلی بھیج دیں، جس کو پارلیمنٹ سے پاس کروایا جائے گا۔ سی ایم ابراہیم اکثر غیر رسمی گفتگو میں ان انتخابات کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے فاروق عبداللہ کو بتایا تھا کہ اگروہ انتخابات میں شرکت نہیں کرتے، تو ان کے پاس متبادل موجود ہیں۔ اس طرح ان کی پارٹی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔
ان انتخابات میں گو کہ زیادہ عوامی شرکت نہیں تھی۔ کئی جگہوں سے لوگوں کو فوج اور نیم فوجی دستوں نے زبردستی ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنے پر مجبور کردیا۔ مگر جو بھی پولنگ بوتھ تک گیا، اس کی اولین ترجیح یہی تھی کہ ککہ پرے کی عوامی لیگ یا اس کے بندوق برداروں کے دستوں کو ہروا کر کسی ایسی انتظامیہ کو بر سرِ اقتدار لایا جائے، جس کے زیر سایہ وہ چند سانسیں لے سکیں۔
نیشنل کانفرنس نے ان انتخابات میں ۸۷ رکنی ایوان میں ۵۷ نشستیں جیت کرکے قطعی اکثریت حاصل کرلی۔ انتخابات کے بعد فاروق عبداللہ کو بتایا گیا کہ اسمبلی میں ۱۹۵۳ء سے قبل کی سیاسی پوزیشن بحال کرنے کی قرارداد یا بل پیش کرنے سے قبل ایک کمیٹی بنائی جائے، جو اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ مگر جب تک کمیٹی کی رپورٹ آتی، تب تک جنتا دل حکومت کا تختہ اُلٹ چکا تھا اور اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں بی جے پی اقتدار میں آچکی تھی ، جس نے جولائی ۲۰۰۰ء میں جموں و کشمیر اسمبلی میں واضح اکثریت سے پاس کی ہوئی قرار داد کو مسترد کردیا۔
فاروق عبداللہ جنھوں نے انتخابات میں شرکت اور بھارت کو عالمی دباؤ سے بچانے کے لیے اس شرط پر آلہ کار بننے پر رضامندی ظاہر کی تھی، کہ نئی دہلی ۱۹۵۳ء کی پہلے والی پوزیشن بحال کرے گی، یہ تلخ گھونٹ پی لیا اور اقتدار میں رہنے کو ترجیح دی۔ عمر عبداللہ واجپائی کی وزارتی کونسل میں جونئیر وزیر بن گئے اور انھوں نے بھی وزارت سے استعفا دینا گوارا نہیں کیا۔
لگتا ہے کہ کشمیر میں تاریخ کا پہیہ گھوم پھر کر وہیں پہنچ جاتا ہے۔ اُس وقت سرکاری بندوق برداروں کے بجائے لیفٹنٹ گورنر کی انتظامیہ، سرکاری ایجنسیوں اور ہندو قوم پرستوں نے عوام کا ناطقہ بند کررکھا تھا۔ پچھلے پانچ برسوں سے کشمیر میں گھٹن کا ماحول تھا۔ اس لیے حالیہ اسمبلی انتخابات میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے، تاکہ عوامی نمائندوں پر مبنی ایک حکومت بن سکے اور سانس لینے کا موقع فراہم ہو۔
ان انتخابات میں ۱۹۹۶ء ہی کی طرح نیشنل کانفرنس کو برتری حاصل ہوئی۔ ۹۰سیٹوں میں سے ۴۲ پر نیشنل کانفرنس نے جیت درج کی اور اس کی اتحادی کانگریس کو چھ سیٹوں پر سبقت حاصل ہوئی۔ وادیٔ کشمیر کی ۴۷ میں سے نیشنل کانفرنس کو ۳۵ سیٹیں حاصل ہوئیں اور جموں کی ۴۳سیٹوں میں سات سیٹوں پر کامیابی ملی۔ ہندو اکثریتی جموں میں بی جے پی نے ۲۹نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ جیری مینڈرنگ کے ذریعے اس علاقے میں ہندو سیٹوں کی تعداد ۲۴ سے بڑھاکر ۳۱ کردی گئی تھی۔ اس طرح مسلم سیٹوں کو ۱۲ سے گھٹا کر ۹ کر دیا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ کانگریس، ہندو بیلٹ میں بی جے پی کو ٹکر دے گی۔ مگر اس نے انتہائی حد تک مایوس کن کارکردگی کا مظاہر ہ کیا۔ کانگریس کی چھ سیٹیں بھی مسلم بیلٹ سے ہی آئی ہیں۔ ان میں پانچ وادیٔ کشمیر سے اور ایک جموں کے راجوری خطے سے ہے۔ راہول گاندھی نے وادیٔ کشمیر کے سوپور قصبہ میں جاکر وہاں نیشنل کانفرنس کے خلاف مہم چلائی، اور جس کانگریسی اُمیدوار کے حق میں مہم چلائی، وہ تیسرے نمبر پر آیا۔
جس طرح سے کانگریس نے جموں خطے میں بی جے پی کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا تھا، اس سے لگتا تھا کہ شاید ان میں کوئی ملی بھگت ہے۔ انتخابی مہم کے دوران خود عمر عبداللہ کو کہنا پڑا کہ کانگریس جموں کی ہندو بیلٹ پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے وادیٔ کشمیر اور جموں کی مسلم بیلٹ میں ووٹوں کو تقسیم کرنے کا کام کررہی ہے۔
وادیٔ کشمیر میں ووٹروں نے یقینی بنایا کہ آزاد اُمیدواروں کی بہتات کی وجہ سے ووٹ تقسیم نہ ہوں۔ اس لیے انجینئر رشید ( عوامی اتحاد پارٹی) اور جماعت اسلامی فیکٹر کا بھی نتائج پر بہت کم اثر ہوا ۔ انجینئر رشید نے پارلیمانی انتخابات میں جو جلوہ دکھایا، وہ اسمبلی انتخابات میں مفقود تھا۔ اس کی بڑی وجہ تھی کہ اس نے انتہائی نالائق اُمیدواروں کو میدان میں اتارا۔ شاید ضمانت پر رہائی کے بعد ان کو اُمیدواروں کے انتخاب کے لیے نہایت کم وقت ملا۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جس نے ۲۰۱۵ء میں بی جے پی کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی تھی، وادیٔ کشمیر میں شکست کھا گئی ہے، اور تین نشستوں تک محدود ہوگئی۔جس پارٹی کے اُمیدوار پر تھوڑا بھی شک گزرا کہ اس کے تعلقات نئی دہلی یا بی جے پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، کو شکست ہوئی۔
بی جے پی نے تین سیٹیں یعنی بھدروا، ڈوڈاویسٹ اور کشتواڑ وادیٔ چناب سے جیتیں۔ اس علاقے میں کانگریس اور نیشنل کانفرنس دونوں نے اُمیدوار کھڑے کر دیئے تھےاور ووٹوں کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ملا۔ بی جے پی کو سب سے بڑا جھٹکا راجوری-پونچھ کی پیر پنجال پٹی میں لگا۔ جہاں اس نے آٹھ میں سے ایک ہی سیٹ جیتی ہے۔ یہ سیٹ بھی اس لیے ممکن ہوسکی کہ جیری مینڈرنگ کے ذریعے انتخابات سے قبل کالاکوٹ کو سندر بنی سے ملاکر بی جے پی کے لیے اس سیٹ کو ہموار کرادیا گیا تھا۔ پیر پنجال کے دیگر حصوں یعنی نوشہرہ، راجوری، درہال، تھانا منڈی، پونچھ،حویلی، مینڈھر اور سورنکوٹ میں بی جے پی کی دال گل نہ سکی۔ اس خطے میں پہاڑی نسل کے لوگوں کو شیڈولڈ ٹرائب کا درجہ دینے کی وجہ سے ان کے لیڈروں کو لگتا تھا کہ یہ خطہ اب ان کی جیب میں ہے۔ وزیر داخلہ امیت شا نے اس خطے کے کئی دورے کیے۔ تاہم، کوئی بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کر سکتا کہ بی جے پی نے کچھ ایسے حلقوں میں اپنی موجودگی ثابت کی ہے جہاں وہ دوسرے نمبر پر رہی ہے یا ۱۰۰۰ سے زیادہ ووٹ حاصل کر چکی ہے۔
گریز میں اس کی کارکردگی قابل ذکر ہے، جہاں اس کے اُمیدوار فقیر محمد نے ۷۲۴۶ ووٹ حاصل کیے،جب کہ نیشنل کانفرنس کے نذیر احمد خان نے ۸۳۷۸ ووٹ حاصل کیے۔بی جے پی سرینگر کے حبہ کدل میں بھی دوسرے نمبر پر رہی لیکن بڑے فرق سے ہار گئی۔
۱۹۹۶ء میں نیشنل کانفرنس نے زیادہ سے زیادہ خود مختاری کے نام پر اور چند سانسیں لینے کے عوض بھاری اکثریت حاصل کی تھی۔ اس بار بھی عوام کو امید ہے کہ شاید آکسیجن کی بحالی ہو۔ فرق یہ ہے کہ اس بار نیشنل کانفرنس خود مختاری کے بجائے ریاستی درجہ کی بحالی کے وعدے کو لے کر میدان میں اُتری ہے اور اس میں کس قدر اس کو کامیابی حاصل ہوتی ہے، وقت ہی بتائے گا۔ ویسے نیشنل کانفرنس کا جیتنا دونوں یعنی کشمیری عوام اور نئی دہلی کےلیے ایک طرح سے فائدے والی صورت حال ہے۔ کشمیری عوام آبادیاتی ساخت کی تبدیلی کے حوالے سے اور نچلی سطح پر غیرریاستی افسران کی آمد سے پریشان تھے۔ یہ مسئلہ حل ہونے کا امکان ہے۔ اگر نیشنل کانفرنس کا کوئی کارنامہ ہے، تو یہی ہے۔ ۱۹۷۵ء میں شیخ عبداللہ کے اقتدار میں آنے کے بعد کسی حد تک انتظامیہ میں کشمیریوں کا عمل دخل بڑھا کر ان کو اقتدار کی راہداریوں تک رسائی فراہم کرا دی گئی تھی، جو اَب معدوم ہو چکی ہے۔
نئی دہلی کو اطمینان ہے کہ نیشنل کانفرنس ریڈ لائنز کراس کرنے کی روادار نہیں ہوگی۔ اس کے لیڈران بس ایک حد تک ہی نئی دہلی کو چیلنج کرتے ہیں۔ جو لیڈران اپنی اسمبلی کی خود مختاری کی قرارداد کو مرکزی کابینہ کے ذریعے مسترد ہونے پر بھی خون کے گھونٹ پی سکتے ہیں، تو وہ اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کچھ بھی برداشت کر سکتے ہیں۔
اسی طرح عمر عبداللہ کے پاس سیاسی قیدیوں کی رہائی اور سابقہ حکومتوں کے دوران نافذ کیے گئے جابرانہ قوانین کی منسوخی کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا نادر موقع ہے۔ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے حصول کے لیے پاکستان اور کشمیری عوام کے ساتھ بات چیت کی وکالت کے لیے بھی وہ ایک سازگار فضا اور دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
اس حکومت پر لیفٹنٹ گورنر کی خاصی گرفت ہوگی، وہ کس طرح اس سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں، وہ ان کی سنجیدگی ظاہر کرے گی۔ تمام متعلقہ فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دیرپا امن اور انصاف کے حصول کے لیے کشمیری عوام کی آواز کو سنا جائے اور اس کا احترام کیا جائے۔ یہ عمر عبداللہ کا اصل امتحان ہوگا۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں، اور تاریخ کے اس نازک موڑ پر عوام کی رہنمائی کرتے ہیں، تو یہ کارنامہ تصور ہوگا، ورنہ اس پارٹی کے گناہ اس قدر ہیں، جو شاید ہی ووٹوں سے دُھل سکیں۔
دینِ اسلام اپنے بندوں کے اندر جو مزاج پیدا کرتا ہے، اس میں مصنوعی پن یا تصنع نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ اس مزاج کے تحت ایک بندہ جب بھی کہتا ہے، یا لکھتا ہے، تو حق کی ہی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کی ہر بات قولِ سدید ہوتی ہے۔ لیکن جو چیز آج ہمارے گردوپیش میں پیدا ہوگئی ہے، اس میں ایک بڑی اخلاقی خرابی خوشامد اور چاپلوسی ہے۔ سوشل میڈیا کے جہاں بہت سے فوائد ہیں، وہیں اس کے ذریعے بہت سی اخلاقی خرابیاں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ ایسا مزاج پیدا ہوگیا ہے کہ حقیر مقاصد کے لیے ایک دوسرے کی خوشامد کرنا ضروری سمجھا جارہا ہے۔ واٹس ایپ گروپ میں جہاں لیڈر یا آفیسرز بھی ہوتے ہیں، ان کی خوشامد کرنا عام رویہ بن چکا ہے، جس سے بندے کا نہ صرف مزاج بگڑ جاتا ہے بلکہ جس کی خوشامد کی جائے اس پر بھی اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں۔
یہ مشاہدے کی بات ہے، کام سے زیادہ چاپلوسی کرنے والوں کے کام آسان ہوجاتے ہیں۔ جو کوئی اپنے سینئر کی جس قدر تعریف کرتا ہے اس قدر اس کو فائدہ ملتا ہے۔ اس سے اخلاقی اور پیشہ ورانہ خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں اور میرٹ کا کلچر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہر شخص اپنی تعریف و مدح سرائی سے خوش ہوتا ہے اور تنقید اور اصلاح سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
خوشامد کرنے یا اس پر عمل کے پیچھے بھی ایک بڑا سبب یہی نفسیاتی پہلو ہے کہ کس طرح لوگوں کو متاثر (impress)کیا جا سکے۔ اس طرح سے لوگوں کو متاثر کر کے کوئی شخص فوری طور پر یا دیرپا تعلقات اور معاملات میں فوائد حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ خوشامد سے سرشار ہونے والا فرد، خوشامد کرنے والے یا خوشامد کار کے لیے عموماً نرم گوشہ خود میں پیدا کرتا ہے اور اس کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
خوشامَد یا چاپلوسی ایک عمل ہے جس کے تحت کچھ لوگ حد سے زیادہ دوسرے لوگوں کی تعریف کرتے ہیں۔ اپنے سے بلند رُتبہ شخصیت یا صاحب ِمنصب کے سامنے محض مفاد حاصل کرنےکے لیےعجز وانکسارکا مظاہرہ کرنا یا اپنے آپ کو نیچا دکھانا تملق یعنی چاپلوسی کہلاتا ہے۔اس عمل میں ایسی خوش نما صفات، عادات، محاسن، معاملات، فعالیت، گفتگو کی خوبیاں، دُور اندیشی، وغیرہ منسوب کی جاتی ہیں جو یا تو کسی شخص میں فی الواقع موجود نہیں ہوتی، اگر ان میں سے کچھ حصہ پایا بھی جاتا ہو، تو وہ اس درجہ خوبی اور خوش نمائی کو نہیں پہنچتا، جس طرح کہ بیان کیا جاتا ہے۔
خوشامد عام طور سے کسی ذی حیثیت یا کسی ایسے شخص کی جاتی ہے، جس سے کسی شخص کو فوری کام پڑ رہا ہو یا پڑ سکتا ہو۔ اسلام میں چاپلوسی یا خوشامد سے روکا گیا ہے۔ اللہ ربّ العزت نے قرآن کریم میں فرمایا ہے : ’’تم اُن لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انھیں حاصل ہو جو فی الواقع انھوں نے نہیں کیے ہیں۔ حقیقت میں ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے‘‘۔(اٰلِ عمٰرن۳ :۱۸۸)
ان آیات کی شانِ نزول کا اگر چہ خاص پس منظر ہے جس میں یہودیوں اور منافقوں کے ایک مخصوص گروہ کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور اُن کے بد انجام کی انھیں خبر دی گئی ہے، لیکن ان آیات کے عموم میں اُن تمام لوگوں کو مراد لیا گیا ہے، جو اپنے بارے میں کسی کے منہ سے خوشامد و چاپلوسی اور جھوٹی تعریف سن کر خودپسندی کا شکار ہوکر تکبر و شیخی اور غرور وناز میں مبتلا ہوجائیں۔ اپنے کیے ہوئے کاموں پر اِترانے لگیں اور نہ کیے ہوئے کاموں پر ایک مدح و تعریف چاہنے لگیں۔ یہ سب ایسے گناہ ہیں جن کی سزا اور عذاب سے بغیر توبہ و استغفار کے بچنا انسان کے لیے بڑا مشکل ہے۔
احادیث میں بھی رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بیماری سے بچنے کی تاکید فرمائی ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے ہوئے سنا تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’تم نے اِس کو برباد کردیا‘‘۔ (صحیح بخاری ۲۶۶۳)۔ اسی طرح ایک اور موقعے پر ایک شخص نے دوسرے کی حد سے زیادہ تعریف کی تو آپؐ نے فرمایا کہ ’’تم نے اپنے ساتھی کی گردن ماردی۔ اگر تمھیں کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو کہ میں یہ گمان کرتا ہوں، بشرطیکہ اُس کے علم میں وہ واقعی ایسا ہی ہو‘‘۔ (بخاری ۲۶۶۲، مسلم۵۰۲، ابوداؤد۴۸۰۵)۔ صحابہ کرامؓ کا مزاج اس سلسلے میں بالکل واضح اور صاف تھا۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے حضرت عثمان بن عفانؓ کے منہ پر اُن کی تعریف بیان کی تو حضرت مقدادؓ نے اُس کے منہ میں خاک جھونک دی اور فرمایا کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’خوشامد کرنے والوں سے ملو تو اُن کے منہ میں خاک جھونک دیا کرو‘‘۔ (مسلم :۷۵۰۵)
بدقسمتی سے ہمارے ہاں یہ مرض پروان چڑھتا جا رہا ہے۔ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ چاپلوس مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ چاپلوسی کرنے والا شخص خود تین بڑے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے:
کسی انسان کے سامنے اس کی تعریفوں کے پُل باندھنا کہ جس کی وجہ سے وہ بندہ ہلاکت کے قریب پہنچ جاتا ہے، انسان کے اندر تکبر کا بیج بو دینا ہے اور جس انسان میں تکبر آگیا تو سمجھ لیجیے کہ اس کی آخرت تباہ ہو گئی۔ ابلیس بھی تکبر کی وجہ سے ملعون ٹھیرا تھا۔ تکبر اللہ کو بہت ناپسند ہے۔ اس لیے اسلام نے تکبر کو ایک انسان کے اندر آنے کے راستے بند کرنے کی طرف توجہ دی ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ’’ایک دوسرے کی خوشامد اور بے جا تعریف سے بہت بچو کیونکہ یہ تو ذبح کرنے کے مترادف ہے‘‘۔ (سنن ابن ماجہ)
چاپلوسی یا خوشامد سے بچنے کی تلقین جن حضرات کو کرنی چاہیے تھی، بدقسمتی سے اب ان کے ہاں بھی یہ مرض دیکھنے کو ملتا ہے۔ مذہبی طبقے کے پوسٹرز اور اطلاعاتی برقی پوسٹوں میں کسی مبلغ یا عالم کے لیے ایسے الفاظ و القابات کی بھرمار اسی خوشامد کی علامت ہے۔ مثال کے طور پر اتنا لکھ دینا کافی تھا کہ 'مولانا ' یا 'شیخ ' یا اگر پی ایچ ڈی کیا ہو تو 'ڈاکٹر۔ ' لیکن ہم طرح طرح کے القابات سے سطور بھردیتے ہیں، جیسے: شیخ المشائح، رہبر ملت، امام المناظرین، مجدد دین و ملت، پیر طریقت، فاتح شرک اور قاتلِ بدعت وغیرہ ۔ بدقسمتی سے مبلغ حضرات بھی پروگرام کے آرگنائزر کو یہ لکھنے یا بولنے سے نہیں روکتے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں چاپلوسی یا خوشامد ہمارے مذہبی طبقوں میں جگہ بنا چکی ہے۔ اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ لوگوں کو کسی کی تعریف ہی نہیں کرنی چاہیے۔ تعریف اور خوشامد الگ الگ چیزیں ہیں۔ حوصلہ افزائی اور خوشامد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ حوصلہ افزائی میں حق گوئی ہوتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ سننے والے میں خود اعتمادی اور اُمید پیدا کی جائے۔ اس کے بر عکس خوشامد کذب و ریا اور بہروپیا پن سے لتھڑی ہوتی ہے۔ اس میں خود غرضی کا یہ پہلو بھی شامل ہوتا ہے کہ مخاطب کو خوشامدی کے پوشیدہ مقصد کا شکار بنایا جائے۔ ربّ العزت ہمیں بنیادی اقدار عطا فرمائے تاکہ ہم معاشرے کے لیے خیر بن جائیں۔ ہم سے جو معاشرہ تعمیر ہو اس میں حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین پروان چڑھے۔
پاکستان کے ساتھ بدقسمتی کا کھیل مسلسل کھیلا جارہا ہے، اور اس میں سفاکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کھیل کھیلنے والے اپنے مفاد کے اسیر بن کر اصول، اداروں اور قوم کا مذاق بناتے ہیں۔کبھی یہ کھیل سیاست دان کھیلتے ہیں، پھر چند مقتدر جرنیل اس کا کنٹرول سنبھالتے ہیں اور بیورو کریسی اپنی پیشہ ورانہ ’نیازمندی‘ میں اسے انتہا تک پہنچانے کے راستے سُجھاتی اور گُر سکھاتی ہے۔
پاکستان میں رائج جمہوریت کا تصور برطانوی پارلیمانی جمہوریت سے اخذ کیا گیا ہے۔ وہ برطانیہ ، کہ جس کی پارلیمنٹ کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے: ’’پارلیمنٹ کچھ بھی، یا سب کچھ کرسکتی ہے، سوائے اس کے کہ مرد کو عورت یا عورت کو مرد بناد ے، یا سوائے اس کے کہ جسے فطری طور پر کرنا ممکن نہ ہو‘‘۔ قانون سازی کے اس مادرپدر آزاد تصوّر کے، تلخ تجربوں سے سبق سیکھ کر یکم جنوری ۱۹۷۳ء کو مغربی دُنیا ایک قدم پیچھے ہٹنا شروع ہوئی، اور یہ تسلیم کیا کہ ’’بہرحال قانون سازی کی کچھ حدود ہیں، جنھیں عدالت ہی واضح کرسکتی ہے‘‘۔
اس مغربی تجربے سے بہت پہلے، پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ۱۲مارچ ۱۹۴۹ء کو ’قرارداد مقاصد‘ منظور کرکے، پارلیمنٹ کی مطلق العنانیت کو یہ کہہ کر ایک حد میں رکھا کہ مقننہ، پارلیمنٹ اور حکومت کے پاس قانون سازی کے جو اختیارات ہیں، وہ ایک مقدس امانت ہیں، کوئی بے لگام اختیار نہیں، اور یہ اختیارات حدودِ الٰہی کے پابند ہیں۔ ’قرارداد مقاصد‘ ملک کے تمام دساتیر کا حصہ چلی آرہی ہے، لیکن افسوس کہ اس کی روح کو ہرحکومت نے کچلنے اور ہرپارلیمنٹ یا قومی اسمبلی نے نظرانداز کرنے کی پے درپے کوشش جاری رکھی ہے۔
حکومت اور پارلیمنٹ کے ایسے قانونی و دستوری تجاوزات کو نمایاں کرکے حد کا پابند بنانے کا واحد اداراتی ذریعہ عدالت ہی ہوسکتی ہے۔ جب کہ ہماری سیاسی اور فوجی حکومتوں نے اکثر عدالت کے اس اختیار کو نہ صرف چیلنج کیا، بلکہ اس سے آگے بڑھ کر مداخلت کرنے اور اپنی مرضی کے افراد کے تقرر کے ذریعے عدل کی راہ میں کانٹے بچھائے جاتے رہے ہیں۔ ۲۱؍اکتوبر ۲۰۲۴ء کو دستور میں کی جانے والی ۲۶ویں ترمیم اسی منفی اور غیرعادلانہ سوچ کی ایک بدنُما مثال ہے۔ جبر، دھونس اور شاطرانہ ڈرامے کے ذریعے رُوبہ عمل آنے والی یہ ترمیم ایک رجعت پسندانہ قدم ہے اور کھلا فائول پلے۔ جس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ دستوری عمل میں اور اعلیٰ عدالتی مناصب یعنی چیف جسٹسوں (سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں) کے تقرر کا معاملہ سیاسی اور انتظامی انگوٹھے تلے دبائے رکھا جائے۔
سیاسی مداخلت کی اسی روش کو ۴۹ برس تک برداشت کرنے کے بعد ۲۰مارچ ۱۹۹۶ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی سربراہی میں بنچ نے فیصلہ دیتے ہوئے، حکومت کی آمریت اور قانون شکنی اور عدلیہ میں مداخلت کا دروازہ بند کیا اور طے کیا کہ آیندہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سینیارٹی کی بنیاد پر مقرر ہوں گے۔اس فیصلے پر تب وزیراعظم بے نظیر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ حکومتی کیمپ سے وابستہ صحافیوں نے انتہائی گھٹیا اور رکیک لب و لہجے کے علاوہ غیرمعیاری الفاظ میں سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس زمانے کے اخبارات دیکھیں تو یہ جارحیت صاف طور پر نظر آتی ہے۔
وزیراعظم بے نظیر بے جا طور پر ایک ہیجانی ردعمل کا شکار ہوگئی تھیں۔ دراصل وہ یہ سمجھتی تھیں کہ اگر عدلیہ نے حکومت کے غیرمنصفانہ فیصلوں کو انصاف کی میزان پر جانچنا شروع کر دیا تو پھر حکومت کو اُوپر سے لے کر نیچے تک قانون کی پابندی پہ مجبور ہونا پڑے گا۔ اس لیے کبھی تو انھوں نے پہلے صدر فاروق لغاری صاحب سے فرمایا کہ ’’چیف جسٹس کو برطرف کرنے کے لیے کچھ کریں‘‘۔ پھر فرمایا کہ ’’۲۰مارچ کا فیصلہ آرڈی ننس کے ذریعے کالعدم قرار دے دیں‘‘۔ پھر یہ بھی فرمایا: ’’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حکومت پیپلزپارٹی کی ہو، مگر جج جماعت اسلامی لگائے؟‘‘
سپریم کورٹ کی بے بسی اپنی جگہ قابلِ رحم ہوتی ہے کیونکہ سوائے قلم کی طاقت کے، نہ اُس کے پاس فوج ہوتی ہے نہ پولیس، نہ دھونس جمانے کے لیے سوشل میڈیا، اور نہ وہ صحافی، جو قلم کی حُرمت کو بیچنے کے لیے ہردم تیار ہوتے ہیں۔ اس بے بسی کا مشاہدہ ۲۰۲۲ء میں اُس وقت باربار کیا گیا، جب پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے الیکشن کرانے کے واضح دستوری حکم اور عدالتی فیصلے کو پامال کیا گیا، اور الیکشن کمیشن، فوج اور بیوروکریسی ماننے سے مسلسل انکار کرتے رہے۔
چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے فیصلے نے ۱۹۹۷ء سے ۲۰۲۳ء کے دوران چیف جسٹس کے تقرر کی بحث کا خاتمہ کر دیا تھا، کہ اس میں ’’میرا بندہ چیف بنے گا، اُس کا بندہ چیف نہیں بنے گا‘‘ اور یہ کہ وہ ’’بندہ ہمیں تنگ کرسکتا ہے، اس لیے اس کا راستہ روکنا ہمارا حق ہے‘‘۔ ۲۶ویں ترمیم ہونے کے دوسرے روز سے حکومت کے ذمہ داران نے تسلیم کیا ہے کہ ’’ہم نے یہ ترمیم جسٹس منصور علی شاہ کا راستہ روکنے کے لیے کی ہے‘‘۔ درحقیقت یہ ترمیم صرف ایک آدمی کا راستہ روکنے کی دھاندلی نہیں بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے سینئر ججوں کو خوف اور دبائو کا شکار کرکے، اپنے من پسند ججوں کے تقرر کا اختیار لینے کا شیطانی کھیل بھی ہے۔ ۴۹برس کے دوران دھکے کھانے کے بعد عدالت اور قوم نے جو سُکھ کا سانس لیا تھا، اسے ’معزز‘ ارکان نے سیاہ دھبہ بنا کر دستور اور عدلیہ کے چہرے پر تھوپ دیا ہے۔
اس عرصے میں چند غیرمعمولی چیزیں مشاہدے میں آئی ہیں:
اس سب کے باوجود دہائی یہ دی گئی: ’’ہم نے دستور لکھنے کی عدالتی مداخلت کا خاتمہ کیا ہے‘‘۔ حالانکہ عدلیہ کی جانب سے اِکا دُکا ناپسندیدہ اقدامات اور فیصلوں کے باوجود، مجموعی طور پر قانون اور ضابطے کے تحت ہی عدالتی عمل چلتا رہا ہے۔
معاملہ درحقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ مادر پدر آزاد ہے اور نہ ہوسکتی ہے، اسے دستور کو قتل کرنے کا کوئی حق اور اختیارنہیں۔ مثال کے طور پر بنیادی انسانی حقوق کو سلب کرنے کا کوئی پارلیمنٹ اختیار نہیں رکھتی اور اگر ایسا کرے گی تو عدالت ہی اسے چیک کرے گی۔ اس ایک مثال سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عدالت بہرحال بنیادی اخلاقی، تہذیبی اور آفاقی اصولوں کے تابع ہے۔
ذرا ۱۹۷۴ء کا انڈیا دیکھیے، وزیراعظم اندرا گاندھی نے دوتہائی اکثریت سے ترمیم کرکے کچھ بنیادی حقوق حذف کر دیئے، جس پر انڈین سپریم کورٹ نے وہ پوری دستوری ترمیم ہی کالعدم قرار دیتے ہوئے لکھا: ’’یہ حقوق، دستور کی بنیادیں ہیں، جن میں ترمیم نہیں کی جاسکتی‘‘۔
ممتاز برطانوی قانون دان سر ولیم ویڈ نے لکھا: ’’ایک قانون ایسا ضرور ہے، جو پارلیمنٹ سے بھی بالاتر ہے، اور اس قانون کی حفاظت عدالت ہی کے ذمے ہوتی ہے، جسے پارلیمنٹ کا کوئی قانون نہیں چھین سکتا‘‘ (کرنٹ لا جنرل، ۱۹۵۵ء، ص ۱۷۲، بحوالہ خرم مراد، پاکستان کے قومی مسائل، ص ۱۷۹)۔ اور جسٹس سرجان لاز کے بقول: ’’جمہوریت کی بقا کا تقاضا ہے کہ جو سیاسی جمہوری اختیارات استعمال کرتے ہیں، وہ اپنی حدود سے تجاوز نہ کریں… ہرآمرِ مطلق حکمران یہ کہتا ہے کہ میرا ہر لفظ قانون ہے، اور پھر اگر ایک منتخب ادارہ پارلیمنٹ بھی یہ دعویٰ کرنے لگے تو وہ کیوں آمرِمطلق نہیں کہلائے گی؟ اس لیے لازم ہے کہ دستور کی بنیادیں حکومت کی تحویل میں نہ ہوں، اور کوئی حکومت اپنی اکثریت سے ان کو تباہ نہ کرسکے، اور وہ عدالت کی تحویل میں ہوں۔ قانون کی حکمرانی کے لیے یہ ناگزیر ہے‘‘۔ (پبلک لا جنرل، ۱۹۹۵ء، ص۸۱-۸۵، بحوالہ ایضاً)
جب ہم ۲۶ویں ترمیم کو دیکھتے ہیں تو یہی نظر آتا ہے کہ اقتدار اور اختیار کی ہوس میں اندھے حکمران، عدل و انصاف کو بالکل اسی طرح اپنا تابع فرمان دیکھنا چاہتے ہیں، جس طرح عام ملازمینِ ریاست کے بارے میں وہ سوچتے ہیں۔ ولیم بلیک سٹون نے کمنٹریز آن لاز آف انگلینڈ (شکاگو یونی ورسٹی) میں برلیگ کا قول درج کیا ہے: ’’انگلستان کسی کے ہاتھوں برباد نہیں ہوسکتا، مگر پارلیمنٹ کے ذریعے‘‘۔ کیا واقعی ہماری پارلیمنٹ قوم، تہذیب اور عمرانی معاہدہ تباہ کرنے پر تُلی ہوئی ہے؟ حالانکہ خود اس اسمبلی کی انتخابی شفافیت حدد رجہ مشکوک ہے!