موجودہ زمانے میں عورت کے حقوق اور مر دوں کے ساتھ اس کی ’کامل مساوات‘ کے متعلق جوبحث چل رہی ہے،اس بحث میں حقوق نسواں کے سر گرم حا میوں میں سے وہ مرد اور عورتیں خاص طور سے قابل ذکر ہیں جو اسلام کے نام پر بعض انتہائی احمقانہ با تیں کہہ اور لکھ رہے ہیں ۔ان میں سے بعض تو محض بطورِ شرارت یہ کہتے ہیں کہ ’’اسلام نے ہر لحاظ سے مر دوں اور عورتوں میں کا مل مساوات ملحوظ رکھی ہے‘‘ ، اور بعض اپنی جہالت یا کم فہمی کے باعث یہ دعویٰ کر تے ہیںکہ ’’اسلام عورت کا دشمن ہے ، کیونکہ اسلامی قانون میں حالات کے تقاضوں کے مطابق ڈھل جانے کی گنجایش ہونے کے باوجود عورت کی اس بے مہار آزادی کا اسلام میں کوئی تصور نہیں جس کا اظہار آج مغرب کے معاشروں میں ہورہا ہے‘‘۔
درحقیقت اسلام، عورت کو ایک اوسط درجے کے طرزِ عمل کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کر تا ہے اور اس سے نہ فرشتہ بن جانے کا تقاضا کر تا ہے اور نہ شیطان کی راہ اختیار کرنے کوقبول کرتا ہے ۔چنا نچہ دوسری تہذیبوں یا نظاموں میں عورت کے مقام اور حیثیت کا موازنہ کرتے وقت تمام حقائق کو، جو اس موضوع سے متعلق ہیں انھیں پیش نظر رکھنا چاہیے۔ لہٰذا، اسلام اخلاقیات کے بعض پہلوئوں کے حوالوں سے دیگر دوسرے نظاموں کے مقا بلے میں بے لچک ہے۔
اسلام کی بنیادی خصو صیت یہ ہے کہ وہ عورت کو بھی انسا نیت کا ویسا ہی اہم جزو قرار دیتا ہے، جیسا کہ ایک مرد کو،اور اس میں بالکل ویسی ہی روح کا وجود مانتا ہے، جیسی کہ مرد میں پائی جاتی ہے :
يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا كَثِيْرًا وَّنِسَاۗءً۰ۚ (النساء۴: ۱) اے لوگو! اپنے اس ربّ سے ڈرو، جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا، اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا، اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔
چنا نچہ یہ آیت اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو اپنے نقطۂ آغازسے ایک دوسرے کے ہم پلّہ بنایا ہے ،اور وہ یکساں اور مساوی حقوق کے حق دار ہیں ۔اسلام نے عورت کو مردوں کی طرح جان ،آبرو اور مال وجائیداد کے حقوق دیئے ہیں۔ اس نے اس کی ذات کو محترم قرار دیا ہے اور کسی کے لیے یہ بات جائز نہیں رکھی کہ وہ اس میں عیب نکالے یا اس کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی بیان کرے ،اور نہ کسی کو یہ حق ہی دیا کہ وہ اس کی ٹوہ میں رہے اور اس کو اپنے نسوانی فرائض کی بجاآوری کی وجہ سے حقیر جانے ۔لہٰذا،یہ سب حقوق عورت کو اسی طرح حاصل ہیں، جس طرح مرد کو حاصل ہیں ۔ان میں مرد و عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں ،بلکہ اس سلسلے میں موجود قوانین کا اطلاق دونوں پر مساوی ہوتا ہے ۔جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُوْنُوْا خَيْرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَاۗءٌ مِّنْ نِّسَاۗءٍ عَسٰٓى اَنْ يَّكُنَّ خَيْرًا مِّنْہُنَّ۰ۚ وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ۰ۭ …… وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا۰ۭ (الحجرات ۴۹: ۱۱، ۱۲) اے ایمان والونہ مرد وں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان سے (خدا کے نزدیک)بہتر ہوں۔اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چا ہیے کیا عجب ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور نہ ایک دوسرے کو بُرے لقب سےپکارو … اور تجسس نہ کیا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔
اسی طرح آخرت میں بھی اجر کے لحاظ سے اسلام نے مرد و عورت دونوں کو مساوی قرار دیا ہے۔
فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ اَنِّىْ لَآ اُضِيْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى۰ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ۰ۚ (ا ٰلِ عمرٰن ۳:۱۹۵) جواب میں اُن کے ربّ نے فرمایا: ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنےوالا نہیں ہوں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو‘‘۔
بہرحال، جہاں تک مال وجائیداد کے حق کا تعلق ہے ،اس معاملے میں بھی اسلام نے عورتوں اور مردوں میں مساوات کو ملحوظ رکھا ہے ۔چاہے وہ مرد ہو یا عورت اپنی جائیداد کی خرید و فروخت اور اس کا انتظام کرنے میں بالکل آزاد ہوتی ہے ۔وہ چاہے اسے رہن رکھے ،یا کسی کو ورثے میں دے،پٹہ پر دے ،یا فروخت کرے یا اس کو مزید زمین خریدنے کا ذریعہ بنائے یا اس کو اپنی ضرورتیں پوری کرنے میں استعمال کرے،غرض یہ کہ ان تمام معاملات میں عورت کو مرد کے برابر حقوق حاصل ہیں۔جس کے با رے میں قرآن میں فرمایا گیا ہے:
لِلرِّجَالِ نَصِيْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ ۰۠ وَلِلنِّسَاۗءِ نَصِیْبٌ مِّـمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (النساء۴: ۷) مردوں کے لیے اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی اُس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو۔
چنا نچہ جہاں تک عورت کے مال میں حق اور اس کوآزادانہ استعمال کا تعلق ہے، اس کے لیے دو باتیں ہمارے پیش نظر رہنی چا ہییں:ایک تو یہ ہے کہ یورپ کے قا نونی نظام میں زمانہ حال تک عورت کو ان میں سے کوئی ایک حق بھی حاصل نہیں تھا ۔قانونی طورپر وہ اپنے ان حقوق کو براہِ راست استعمال کرنے کی بھی مجاز نہیں تھی ،بلکہ ان کا استعمال بالواسطہ طور پر کسی نہ کسی مرد، اپنے خاوند، باپ،یا سر پرست کی وساطت سے کرتی تھی ۔
دوسرے الفاظ میں حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی طرف سے عورت کو یہ حقوق مل چکنے کے بعدبھی گیارہ صدیوں سے زائد عرصے تک یورپ کی عورت اپنے ان حقوق سے محروم رہی ،جن کے حصول کی خاطر اس کوشدید کش مکش سے دوچار ہونا پڑاتھا۔اس پورے عرصے کے دوران میں نہ اس کی نسائیت اور عفت محفوظ رہی اور نہ اس کی شخصی عزّت ووقار سلامت رہا۔اس کو نہ صرف ان سب چیزوں کی قربانی دینا پڑی بلکہ شدائد و مصائب،قتل، محرومیوں اور بدبختی کے ایک اندوہناک عمل میں سے بھی گزرنا پڑا۔ اس کے باوجود اس کو ان حقوق کا ایک حقیر سا حصہ ہی ملا ،جو اس سے بہت پہلے اسلام عورتوں کو دے چکا تھا۔مگر اسلام کا یہ دینا معاشی حالات کے دبائو یا کسی مظاہرے اور مہم کا نتیجہ نہ تھا اور نہ اس کی پشت پر کوئی طبقاتی کش مکش کارفرماتھی ،بلکہ اس کی اصل وجہ اسلام کی یہ خواہش تھی کہ دنیا میں انسانی زندگی کی دو بنیادی حقیقتیں، صدق اور عدل،عملی صورت میں جلوہ گر ہوں اور یہ محض خوابوں کی دنیا تک محدود نہ رہیں ۔ (اسلام اور جدید ذہن کے شبہات، پروفیسر محمدقطب ، ترجمہ محمد سلیم کیانی ، ص۱۷۸-۱۷۹)
مغرب کا خاص طور پر یہ نقطۂ نظر ہے کہ انسانی زندگی دراصل انسان کی معاشی حالت ہی کا دوسرا نام ہے۔ اس لیے ان کے نظریے کی رو سے جب تک عورت کو مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنی جائیداد اور ملکیت میں آزادانہ تصرف کی مجاز نہیں تھی ،تو وہ قطعاً آزاد حیثیت کی مالک نہیں تھی ۔اس کوآزاد انسانی حیثیت اس وقت حاصل ہوئی جب وہ معاشی لحاظ سے آزاد ہوئی اور اس قابل ہوئی کہ اپنی ملکیت میں کسی مرد کی مداخلت کے بغیر براہِ راست پوری آزادی سے تصرف کرسکے۔
اسلام سے قبل عرب معاشرے میں عورتوں کو مردوں کے مقابلے میں بہت کم تر حیثیت حاصل تھی، یہاں تک کہ اگر مرد قصور وار ہوتا اور عورت اس کے ظلم کا نشانہ بنتی، تو قصاص واجب نہیں ہو تا تھا، مگر اسلام نے یہ امتیاز ختم کر دیا،اور جان و مال اور عزت کے حوالے سے جرائم پر کا رروائی مرد اور عورت کے لیے یکساں کر دی بلکہ بعض معاملات میں عورتوں کے حقوق مردوں سے بھی بڑھ کر ہیں۔
چنانچہ مال اور جائیداد کے معاملات میں عورت کی مکمل خود مختار حیثیت اور انفرادی تشخص بالکل واضح ہے۔اسلامی قانون کی رو سے عورت کواپنے مال و جائیداد پر مکمل تصرف حاصل ہے۔ اگر وہ بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے تو اسے اپنی جائیداد اپنی مر ضی سے خرید و فروخت کا مکمل اختیار دیا گیا ہے، جس میں کسی مرد کی مداخلت ضروری نہیں ہے،چاہے وہ اس کا باپ ہو ،شوہر ،بیٹا ،بھائی یا کوئی اور ہو۔
اس معاملے کے پیش نظر اسلام کی نظر میں عورت اور مرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے ۔کسی عورت کے شوہر یا باپ کے قر ضے کے عوض اس کی جائیداد کو چھوا بھی نہیں جا سکتا ۔اسی طرح مقروض عورت کے قرضوں کی ادائیگی اس کے مذکورہ رشتہ داروں پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ مرد کی طرح عورت کو بھی جائیداد رکھنے کی مکمل آزادی ہے، چاہے اسے ورثے میں ملے یا کہیں سے تحفہ ملے اور چاہے اس نے اپنی محنت سے مال کمایا ہو۔ وہ مکمل طور پر اس کی اپنی ملکیت ہے۔ وہ اس کو بیچنے یا کسی کو تحفہ میں دے دینے یا قانونی طور پر اسے خرچ کرنے میں خود مختار ہوتی ہے۔ یہ تمام حقوق عورت کو ہمیشہ کے لیے دے دئیے گئے ہیں۔
بعثت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل عرب میں عورتوں کو وراثت کا حق حاصل نہیں تھا ، نہ باپ کے ورثے سے کچھ اسے ملتا تھا اور نہ شوہر ہی سے۔ روایات کے مطابق ہجرت کے تین سال بعد مدینہ کے ایک رئیس ’اوس بن ثابت‘ انتقال کر گئے اور پسماندگان میں ایک بیوہ اور چار نوعمر صاحبزادیوں کو چھوڑا۔مدنی رواج کے مطابق ورثاء میں سے صرف بالغ مرد جو جنگ میں حصہ لینے کے قابل تھے، وراثت کے حق دار تھے۔یہاں تک کہ کمسن بیٹے کو متوفی باپ کی وراثت سے کچھ نہیں ملتا تھا۔چنا نچہ اوس کے چچا زاد بھائیوں نے پوری جائیداد قبضے میں لے لی، جب کہ اوس کی بیوی اور بیٹیاں راتوں رات امیر سے فقیر ہو گئیں۔اس مو قعے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآنی آیات نازل ہو ئیں اور وراثت کے اسلامی احکام آگئے اور یہی اسلامی قانون وراثت ہے جس پر آج تک عمل کیا جاتا ہے۔ (اسلام کیا ہے؟ ڈاکٹر محمد حمیداللہ ؍ مترجم ،سید خالد جاوید مشہدی ، ص۲۲۳)
اسلا می قانون کے مطا بق مردوں کی وراثت سے بیوی ،بیٹی ،ماں ،بہن اور دوسری رشتہ دار عورتوں کو حق دیا گیا ۔اسلام نے وراثت میں منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد میں بھی کوئی امتیاز نہیں رکھا، بلکہ حکم دیا ہے کہ وراثتی جائیداد کی ہر چیز قانونی وارثوں میں تقسیم کردی جائے۔ایسی وصیت کو بھی اسلام نے ناجا ئز قرار دیا ہے، جس میں مالک نے اپنی جائیداد اجنبیوں کو دے کر جائز وارثوں کو محروم کر دیا ہو ۔بلکہ قانونی ورثا کے لیے وصیت کی ضرورت ہی نہیں ،انھیں خود بخود وراثت کا حق حاصل ہوجاتا ہے۔ اس لیے کسی بھی وصیت کے ذریعے ورثا کے مقرر حصے میں ردوبدل نہیں کیا جاسکتا ۔
وصیت صرف ان رشتہ داروں کے حق میں کی جا سکتی ہے، جنھیں قانونی طریقے سے وراثت سے حصہ نہ مل سکتا ہو، اور پھر اس کی بھی اسلام نے حد مقرر کردی ہے کہ اس سے زیادہ کی وصیت نہیں کی جا سکتی اور یہ حد سا ری جائیداد کا ایک تہا ئی ہے ،باقی دو تہائی جائیداد بہر صورت وراثت ہے جو اس کے جا ئز حق دار وں میں تقسیم ہوگی۔ایک تہائی سے زیادہ جائیداد کی وصیت صرف اس صورت میں قابلِ عمل ہے، جب ورثہ متفقہ طور پر بلاجبرو اِکراہ اس پررضا مندی ظاہر کردیں ۔
چنانچہ وراثت کے معاملے میں حالات کے مطابق مختلف ورثا کے حصوں میں کمی زیادتی ہوجا تی ہے ۔مثلاً: اکلوتی بیٹی یا ایک بیٹے کی موجودگی میں، صرف والدہ یا والد کی موجودگی میں، بچوں کے ساتھ یا بچوں کے بغیر ،اکلوتی بہن یا بھائی کی موجودگی میں، متوفی کا والد یا بچے ،ان تمام صورتوں میں ورثا کے حصے کی نوعیت الگ ہو جا تی ہے۔ لہٰذا، یہاں پر اس مضمون میں اس کی تفصیلات کی گنجایش نہیں،لیکن خواتین کے حصے کا تذکرہ بیان کر نا ضروری ہے جو کہ مو ضوعِ بحث ہے۔
متوفی کا اگر بچہ بھی ہوتو بیوی کو شوہر کی جائیداد سے آٹھواں حصہ ملتا ہے ،بچہ نہ ہونے کی صورت میں وہ چو تھے حصے کی حق دار ہوتی ہے ۔اکلوتی بیٹی کو متوفی باپ کی نصف جائیداد ملتی ہے اور اگر بیٹیاں زیادہ ہوں تو دو تہائی جائیداد ان میں برابر کے حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے ،یعنی اگر ان کا بھائی نہ ہوتو۔ لیکن اگر متوفی کا بیٹا بھی موجود ہو تو پھر بیٹی کو بیٹے کی نسبت نصف وراثت ملتی ہے۔ اگر متوفی کی والدہ زندہ ہو تو اسے بیٹے کے ورثے کا ایک تہائی ملتا ہے، جب کہ باپ ،بچے یا بھائی اور بیٹوں کی موجودگی کی صورت میں ماں چھٹے حصے کی حق دار ہوتی ہے۔متوفی کا وارث بیٹا موجود ہو تو بہن کو حصہ نہیں ملتا ،البتہ بیٹا نہ ہو تو بہن نصف ترکے کی وارث ہو تی ہے، اور دو یا زیادہ بہنوں کی صورت میں دوتہائی تر کہ ان میں برابر تقسیم ہوتا ہے ۔اکلوتی بیٹی کے ساتھ بہن کو چھٹا حصہ اور اگر ایک بھائی بھی ہو تو اسے بھائی سے نصف تر کہ ملے گا ۔اسی طرح حقیقی بہنوں ،ایک باپ اور والدہ مختلف ہونے کی صورت میں بہنوں کے حصے مختلف ہوں گے۔(النساء ۴: ۱۷۶)
جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ عورت اپنی جائیداد اور ملکیت کی خود مختا ر ہوتی ہے۔اس میں باپ، شوہر یا کسی اور رشتہ دار کا کوئی حق نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ عورت نان و نفقہ کی الگ سے حق دار ہوتی ہے، یعنی شادی سے پہلے عورت کا خرچ اس کے باپ اور شادی کے بعد شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور عدالت باپ ،شوہر یا بیٹے کوعورت کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکم دیتی ہے۔ اس کے بعد عورت شادی کے موقعے پر شوہر سے مہر کی صورت میں بھی رقم کی حق دار ہوتی ہے، جوکہ اسلام سے پہلے عورت کے والد کو ملتا تھا ،مگر اسلام نے اسے عورت کے لیے لازمی قرار دیا۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ’مہر‘ اور ’جہیز‘ میں فرق ہے۔’مہر‘ شادی کے لیے ضروری ہے، لیکن ’جہیز‘ ضروری نہیں۔
عورت کی مالی ذمہ داریاں مرد کی نسبت کم ہیں کیونکہ اس کے اخراجات مرد کے ذمے ہیں۔ اس لحاظ سے مرد کی مالی ذمہ داریاں عورت کی نسبت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ترکے میں سے زیادہ حصے کا حق دار ہوتا ہے ،جب کہ عورت کی تمام ضروریات کی ذمہ داری اس کے کفیل کے اوپر ہے، اس کے با وجود بھی اسلام نے اسے مزید نوازنے کے لیے وراثت میں بھی حصہ دار بنایا ہے۔
علم انسانی زندگی کا وہ جوہر ہے، جس کے بغیر نہ فرد کا کردار بن سکتا ہے، اور نہ صحت مند معاشرے کی تعمیر ممکن ہے۔ علم دلوں کی زندگی ، آنکھوں کا نور اور جسموں کی طاقت ہے۔ اسی علم کی بدولت دنیا اور آخرت کے بلند وبالا درجات تک رسائی ممکن ہے۔
معلمِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم و تدریس کا مقدس سلسلہ سر زمینِ مکہ ہی سے شروع فرما دیا تھا،اور ’دارِارقم‘ پہلی درس گاہ قرار پائی ، جہاں نہ صرف اخلاقی ومذہبی تعلیم دی جاتی تھی، بلکہ عملی تربیت پر بھی اچھا خاصا زور تھا۔ نیز آپ ؐ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے تین درس گاہیں (مسجد بنی زریق ، مسجد قبا والی جگہ، اور نقیع الخصمات نامی علاقے میں ) قائم ہو چکی تھیں، جن میں مختلف صحابۂ کرام ؓ تعلیم دینے پر مامور تھے۔
معلمِ اعظم جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر شعبوں کی طرح حصول علم کے معاملے میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی تفریق نہیں کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدِ نبوی ؐ میں بھی تعلیم یافتہ خواتین کا ذکر ملتا ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما علمِ حدیث کے اسرار ورموز میں اس قدر مہارت رکھتی تھیں کہ ان کا کوئی مدِ مقابل نہ تھا۔ بہت سے تابعین نے ان سے اکتساب علم کیا۔ سیّدہ اُم الدرداء ؓ کا علوم ومعارف میں بہت بلند مقام تھا، ان سے بھی ایک کثیر تعداد فیض یاب ہوئی۔ نیز شفا بنت عبداللہ عدویہؓ ، حفصہ بنت عمرؓ، اُم کلثوم بنت عقبہؓ، عائشہ بنت سعدؓ اور کریمہ بنت مقداد ؓ زیور ِ علم سے آراستہ وپیراستہ تھیں۔
اسلام تعلیم نسواں کی نہ صرف اجازت دیتا ہے، بلکہ اسے ضروری بھی سمجھتا ہے، لیکن تعلیم اور اس کی غایت کیا ہونی چاہیے ؟ اس کا فیصلہ ضروری ہے۔ خواتین کو دین کی بنیادی تعلیم سب سے پہلے دی جائے، تا کہ وہ اپنے واجبات وفرائض اور دین کے احکام ومسائل کو اپنی ضرورت کی حد تک سمجھ سکیں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم،صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے اکیلے معلم تھے، لیکن آپ ؐ نے ازواجِ مطہراتؓ کے ذریعے صحابیات کو، اور ان کے واسطے سے تمام مسلم خواتین کو نومعلمات دیں۔
ایک مسلمان مرد یا عورت سے اولین مطالبہ دین کا علم ہے، تا کہ وہ اسلامی زندگی بسر کرسکے، پھر دوسرے علوم کا درجہ آتا ہے۔ اسلام ‘لڑکیوں کی عصری تعلیم کا مخالف نہیں ہے، البتہ مخلوط تعلیم کا سخت مخالف ہے۔
اس وقت بہت ساری مسلم لڑکیاں عصری تعلیم حاصل کر کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں بے پردہ کام کر رہی ہیں۔ مغربی تہذیب کی اندھی تقلید نے ان کو گھر کی چار دیواری سے نکال کر بازاروں ، دکانوں ، ہوٹلوں، محفلوں اور عشرت کدوں کی زینت بنا دیا ہے۔ نیز یہ کہ ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ مخلوط نظام تعلیم نے عورتوں کو غیر شریفانہ زندگی گزارنے پر مجبورکر دیا ہے، اور یہ چیز ان کے لیے خطرناک ہے۔ بقول علامہ اقبال ؒ ؎
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اُسی علم کو اربابِ نظر موت
ایک عورت کے ساتھ اس سے بڑا ظلم کیا ہو گا کہ اسے کلرک ، ٹائپسٹ اور ائیر ہوسٹس بننے پر مجبور کیا جائے۔
گھریلو زندگی میں عورت کی الگ الگ حیثیت ہوتی ہے، جیسے بیٹی ،بیوی، بہو وغیرہ، اور ہر حیثیت سے اس کی ذمہ داریاں بھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ لیکن ماں کی حیثیت سے اس کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان ذمہ داریوں کی دو قسمیں ہیں : پہلی قسم کا تعلق بچے کی جسمانی نشو ونما سے ہے، مثلاً بچے کو صحیح وقت پہ صحیح خوراک دینا، مناسب لباس کا انتظام کرنا، اس کو گرمی اور سردی سے بچانا، بیماری سے حفاظت کرنا، اور بیمار ہونے پر تیمار داری کرنا وغیرہ۔
دوسری قسم کا تعلق ذہنی نشوونما سے ہے، مثلاً اسے بولنا سکھانا، جب کچھ بولنے اور سمجھنے کے قابل ہو جائے تو اس سے باتیں کرنا، اور بتدریج اچھی اچھی باتیں بتانا، بلاوجہ ڈانٹ پھٹکار ، اور ہراس چیز سے احتراز کرنا جس سے بچے میں خوف یا احساس کمتری پیدا ہو۔ پہلی قسم سے تعلق رکھنے والی ذمہ داریوں کو ایک عام عورت بھی انجام دے سکتی ہے، لیکن پہلی قسم سمیت دوسری قسم کی ذمہ داریوں کو صحیح ڈھنگ سے نبھانا غیر تعلیم یافتہ عورت کے بس میں نہیں، ان کو صرف اور صرف ایک تعلیم یافتہ عورت ہی بخوبی انجام دے سکتی ہے۔
ایک بچے کی پیدایش کے بعد سے لے کر بڑے ہونے تک اس کی پرورش وپرداخت اور اس کی دیکھ بھال اور تربیت میں سب سے اہم اور بنیادی کردار ماں کا ہوتا ہے۔ پرورش کے ان مراحل میں بچے کی ضروریات بے شمار ہوتی ہیں، جن میں سے بیش تر کو ماں پورا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسروں کی بہ نسبت بچے کا میلان اپنی ماں کی طرف زیادہ ہوتا ہے۔ پرورش کے اس دورانیے میں بچہ اپنی ماں سے بہت کچھ سیکھتا ہے اور یہ سیکھی ہوئی چیزیں اس کی طبیعت کا حصہ بن جاتی ہیں۔
ایسے میں ماں اگر تعلیم یافتہ ہو تو وہ اپنے بچے کی پرورش بہترین خطوط پر کرتی ہے، تا کہ اس کا لاڈلا جسمانی اور ذہنی دونوں اعتبار سے صحت مند اور توانا رہے۔ اس کے بر عکس اگر ماں تعلیم یافتہ نہیں ہے تو بچے کی پرورش صحیح ڈھنگ سے نہیں ہو پاتی ۔ لہٰذا آج وقت کا تقاضا ہے کہ عورتیں بھی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں، اور ایک بیٹی ، ایک بیوی اور خصوصاً ایک ماں کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بہ حُسن وخوبی نبھا سکیں، اور بچوں کی تربیت بہتر انداز سے کر سکیں۔ یاد رکھیں کہ ماں کی گود کو بچے کی پہلی درس گاہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بچہ یہیں سے اپنی زندگی کی ابتدائی تعلیم حاصل کرتا ہے اور یہی ابتدائی تعلیم بچے کی آنے والی زندگی کو سنوارنے اور بگاڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مسلم خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ دینی تعلیم حاصل کریں، تا کہ وہ اپنے دین کے تئیں حساس ہوں ، اور بلند کرداری کے ساتھ ایسی زندگی گزاریں جس میں اطاعت وعبدیت کی شان پائی جاتی ہو۔ اسلام کی عظمت سے دل معمور ہوں ، نیز کھانے پینے میں، اٹھنے بیٹھنے میں، رہن سہن میں، پہننے اوڑھنے میں اور رفتار وگفتار میں اسلامی شعائر کا مکمل پاس ولحاظ ہو۔ بچوں کی اسلامی تربیت اسی وقت ممکن ہے، جب ماں خود دین دار، صالحہ اور پاک طینت ہو۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ ہر کامیاب شخص کے پیچھے کسی عورت کا ہاتھ ضرور ہوتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کی سچائی کی وجہ سے ڈاکوئوں کا گروہ اپنے جرم سے تائب ہو جاتا ہے۔ اس کے پیچھے ایک ماں کا ہی ہاتھ تھا کہ اس نے اپنے بیٹے کو سچائی کی تعلیم دی تھی ، اور جھوٹ بولنے سے منع فرمایا تھا۔
مسلم خواتین اولاد کی تربیت میں اس بات کا مکمل اہتمام کریں کہ انھیں توحید کی تعلیم سب سے پہلے دیں۔ ان کا عقیدئہ توحید زندگی کے کسی بھی موڑ پر ڈگمگانے نہ پائے، نیز اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرماں برداری کا درس اس انداز میں دیں کہ ان کے دل ودماغ میں آپ ؐ کی سچی محبت راسخ ہو جائے۔ ان کو دیو مالائی کہانیوں کے بجاے انبیائے کرامؑ ، صحابہؓ ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور سلف صالحین کے سبق آموز واقعات سنائیں۔ علوم اسلامیہ کی اہمیت وعظمت دلوں میں اتاری جائے۔ فکر ومزاج ، تصورو خیالات،معاملات وعادات کو اسلامی وایمانی رنگ میں ڈھالا جائے۔ ساتھ ہی ساتھ انھیں اخلاص وللّٰہیت ، تقویٰ وپرہیز گاری ، اخلاق وکردار ، شرم وحیا، اور عفت وعصمت کی تعلیم دی جائے۔ ان کو اخوت و بھائی چارے ، ایثار وقربانی ، عفوودرگزر ، جرأت و بہادری اور حقوق کی پاسبانی کی اہمیت وفضیلت سے روشناس کرایا جائے، اور معاشرتی آداب سے بھی ان کو آگاہ کیا جائے، تا کہ جب یہ جوان ہوں تو ان کے پاس اسلام کی اتنی روشنی ضرور ہو، جس سے وہ صحیح وغلط، سچ وجھوٹ، حلال وحرام اور حق وباطل کو آسانی سے پہچان لیں، اور زندگی کی راہ پر کامیابی کے ساتھ محو سفر رہیں۔
خلاصۂ تحریر یہ ہے کہ عورتیں حدود وقیود میں رہتے ہوئے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم سے بھی لیس ہوں، نیز امور خانہ داری وغیرہ سے بھی واقف ہوں۔ ایک تعلیم یافتہ اور ہنر مند عورت ہر جگہ باعزّت طور پر زندگی گزار سکتی ہے، اپنے بچوں کے مستقبل کو سنوار سکتی ہے، اور اگر معاشی مسائل درپیش ہوں تو اس پر کافی حد تک قابو پا سکتی ہے۔ اس لیے ہماری تمام مائیں اور بہنیں علم دین ضرور حاصل کریں اور جدید تعلیم سے بھی آراستہ ہوں۔
اُمہات المومنینؓ ، صحابیاتؓ اور دیگر عظیم مسلم خواتین کے کردار کو اپنے سامنے رکھیں، اور ان کی زندگیوں کو اپنا آئیڈیل بنائیں۔ اس لیے کہ اگر آپ دینی تعلیم سے آراستہ ہوں گی تو پورے گھر کو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکتی ہیں۔
ہزاروں لوگوں نے ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرز میں مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ ’’عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) سے قرض پر نظرثانی کے معاہدے پر دستخط نہ کرے‘‘۔ مظاہرین کا ازدحام بیونس آئرز میں اُمڈا چلا آرہا تھا۔ انھوں نے پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے، جن پر درج تھا: ’’آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات بند کرو‘‘ اور ملک کی سماجی تنظیموں کے رنگ برنگے بینر چلچلاتی دھوپ میں لہرا رہے تھے، جب کہ آئی ایم ایف کے خلاف لاؤڈ اسپیکر پر نعرے بلند ہورہے تھے۔ ’آرگنائزیشن لبرس ڈل پیوبولو‘ ایک اتحاد ہے، جس نے یہ احتجاجی ریلی منعقد کی تھی، اس کے رہنما کارلوس ازنیریز نے کہا: ’’لوگ بہت سی چیزوں سے باخبر نہیں ہیں، لیکن وہ اس بات سے ضرور باخبر ہیں کہ آئی ایم ایف نے اس ملک میں ہمارے لیے ہمیشہ تکالیف میں اضافہ اور دوسروں پر انحصارمیں اضافہ ہی کیا ہے۔ ہم لوگ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے اس معاہدے پر دستخط کیے تو پھر ہمیں تباہی کے لیے تیار رہنا چاہیے‘‘۔
ارجنٹائن کی حکومت، آئی ایم ایف کے ساتھ ۴۴؍ارب ڈالر کے معاہدے پر نظرثانی کے لیے مذاکرات کررہی ہے۔ ۲۰۱۸ء میں یہ قرض لیا گیا تھا، جب مارسیو میکری صدر تھے اور انھوں نے ۵۷؍ارب ڈالر کے قرض کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو آئی ایم ایف کی تاریخ میں سب سے بڑا قرض تھا۔ ۴۴؍ارب ڈالر کی ادائیگی کردی گئی ہے، لیکن صدر البرٹو فریننڈس، جنھوں نے ۲۰۲۰ء میں صدارت سنبھالی، مزید ادائیگی سے انکار کر دیا اور قرض کی ادائیگی کے لیے اَزسرنو معاہدہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حالیہ معاہدے کے تحت ۱۹؍ارب ڈالر اگلے دوبرس ۲۰۲۲ء اور ۲۰۲۳ء میں ادا کرنا ہوں گے۔ لیکن جب بڑھتی ہوئی کساد بازاری ہو، افراطِ زر آسمان سے باتیں کر رہا ہو اور غربت میں اضافہ ہورہا ہو، تو حکومت کے لیے اس قرض کی ادائیگی ممکن نہیں ہوگی۔
احتجاج کرتی سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’’اس قرض کی ادائیگی کے لیے حکومت کو سخت اقدامات اُٹھانا ہوں گے، جس کے نتیجے میں ارجنٹائن کے ایک عام شہری کی زندگی محال ہوجائے گی‘‘۔ انھیں خدشہ ہے کہ ’’اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوجائے گا، شرح سود بڑھ جائے گی، عوامی خدمات کے منصوبوں میں کمی واقع ہوجائے گی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی اور پنشن اور دیگر سماجی خدمات میں کمی ہوجائے گی‘‘۔
ایسے اقدامات کا ارجنٹائن کے عوام پہلے بھی سامنا کرچکے ہیں، جب ۲۰۱۸ء میں حکومت نے قرض کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کا تجویز کردہ منصوبہ نافذ کرتے ہوئے عوامی خدمات کے پروگراموں پر کٹوتی کی تھی۔
یہ وہ کردار ہے جو آئی ایم ایف نے ۲۰۰۱ء کی معاشی سردبازاری کے دوران نمایاں طور پر ادا کیا اور جس نے ارجنٹائن کے عوام کے اشتعال میں اضافہ کیا۔اس زمانے میں حکومت نے کرنسی کی قدر میں کمی کردی تھی، اور ۹۳؍ارب ڈالر قرض کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ڈیفالٹ ہونے پر بنکوں سے ادائیگی پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافے اور غربت کا آسمان کو چھونے کی بنا پر بڑے پیمانے پر سماجی بے اطمینانی پھیل گئی تھی۔
البرٹو فریننڈس جس نے گذشتہ ماہ مڈٹرم انتخابات میں سیاسی حمایت کھو دی تھی، ایک طرف بلندبانگ دعوے کر رہا ہے کہ ’’ارجنٹائن، آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے گا‘‘، اور دوسری طرف قرض اُتارنے کا وعدہ بھی کر رہا ہے۔ اس کی جماعت کے ایک مؤثر گروپ نے طاقت وَر نائب صدر کرسٹینا فریننڈس کی سرکردگی میں عوامی خدمات کے منصوبوں کی کٹوتی کی مخالفت کی۔ یومِ جمہوریت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کرسٹینا فریننڈس نے صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک پر پابندیاں عائد کرنے کی باتیں ہورہی ہیں اور ملک کے پاس ڈالروں کی بھی کمی ہے۔ درحقیقت ملک میں ڈالروں کی کمی نہیں ہے، بلکہ وہ زیادہ ڈالروں کے حصول کے لیے بیرونِ ملک منتقل کیے گئے ہیں۔ یہ وعدہ کرو کہ ہر وہ ڈالر جو ٹیکس ادا کیے بغیر باہر لے جایا گیا ہے واپس لیا جائے گا۔اسے مذاکرات کی بنیاد بنایا جائے‘‘۔ صدر البرٹو نے کرسٹینا فریننڈس سے کہا کہ ’’اطمینان رکھیں ہم کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے، جس سے ارجنٹائن کی ترقی متاثر ہو‘‘۔
اسی روز آئی ایم ایف نے واشنگٹن میں مذاکرات کے آخری دور کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا کہ ’’مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، مزید مذاکرات کی ضرورت ہے‘‘۔بیان کے مطابق: ’’معاشی پروگرام کی کامیابی کے لیے اندرونِ ملک اور عالمی تائید کی ضرورت ہے۔ لیکن ارجنٹائن سے اس تائید کا حصول مشکل ہے جو کئی مرتبہ بیرونی قرض کی ادائیگی کے لیے ڈیفالٹ کرچکا ہے اور آئی ایم ایف سے مدد کا طلب گار ہے‘‘۔
ایک ماہر اقتصادیات مارٹن کولس نے بتایا کہ ’’عوام کی ایک بڑی تعداد کو آئی ایم ایف پر بھروسانہیں ہے۔ ارجنٹائن کی پالیسیوں پر آئی ایم ایف کا دبائو بہت دفعہ واضح ہوچکا ہے۔ ۲۰۰۱ء میں مالی بحران کے موقعے پر جس طرح سے واضح طور پر آئی ایم ایف نے معاشی پروگرام دیا تھا، اس بنا پر آئی ایم ایف اور حکومتی اہل کاروں نے اعتراف کیا ہے کہ ’’ارجنٹائن، آئی ایم ایف کا بہترین شاگرد ہے‘‘۔ ایک حقیقت شناس دانش وَر نے کہا ہے: ’’یہ پالیسیاں بحران میں کبھی کمی اور بہتری کا باعث نہیں بنیں بلکہ اکثر اوقات یہ معاونت کے بجائے مزید بحران میں مبتلا کرنے کا باعث بنی ہیں‘‘۔
مارٹن کولس نے کہا کہ ’’آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں مالی بحران سے نکلنے کے لیے ارجنٹائن کو جس مالی امداد کی ضرورت ہے اس کے حصول کے لیے بے یقینی کی کیفیت پیدا ہوگی۔ مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف نہ تو اس غرض کے لیے بنایا گیا ہے اور نہ وہ اس میں دلچسپی رکھتا ہے کہ ارجنٹائن کے نہ ختم ہونے والے مالی بحران کے بنیادی اسباب کا جائزہ لے۔ درحقیقت مسئلہ مالیات کا نہیں ہے بلکہ ملکی معیشت میں بڑے پیمانے پر پیداواری شعبے میں کمی کا ہے۔ ارجنٹائن کو پیداوار میں اضافے کے لیے نئے پیداواری یونٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اسی سے وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کرسکے گا‘‘۔
بیونس آئرز میں احتجاج کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ’’اس بات کا فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ کیا حکومت کو آئی ایم ایف کو قرض واپس کرنا چاہیے؟‘‘ ان کا مطالبہ ہے کہ یہ مسئلہ ریفرنڈم کی صورت میں عوام کے سامنے رکھا جائے۔ حکومت کو قرض کی ادائیگی فوری طور پر روک دینی چاہیے تاکہ وہ عوام کی مدد کرسکے جن کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو بمشکل ماہانہ اخراجات پورے کرپاتے ہیں جنھیں اپنے خاندان کے لیے محض سوپ کی تیاری تک کے لیے بھی لوگوں سے مدد حاصل کرنا پڑتی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ’’قیمتیں گذشتہ ایک سال میں ۵۲ فی صد بڑھ چکی ہیں۔ آبادی کا ۴۰ فی صد سے زائد حصہ ِ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہا ہے اور لوگوں کے پاس کھانے کے لیے خوراک نہیں ہے‘‘۔ ریلی سے ملحق پارک میں پاؤلا اویلس نے کہا کہ ’’ہم اپنی آمدن سے بہ مشکل گزر بسر کر رہے ہیں۔ اسی طرح حکومت کی طرف سے سماجی معاونت کے کام اور سہولیات آئی ایم ایف سے معاہدے کے نتیجے میں خطرے میں پڑسکتی ہیں‘‘۔
آئی ایم ایف کے پروگرام سے وابستگی اختیار کرکے ترقی کا راستہ اختیار کرنا اور اپنے عوام کو معاشی غلامی سے رہائی دلانا، ایک موہوم خواب ہے!
سوال : غیرمسلموں کے برتنوں میں کھانا اور پینا درست ہے یا نہیں؟
جواب :ان کے صاف دھلے ہوئے برتنوں میں آپ کھانا کھاسکتے ہیں، اگر آپ کو اطمینان ہو کہ وہ کسی حرام چیز سے ملوث نہیں ہیں۔ اطمینان نہ ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ آپ دعوت وصول ہوتے ہی، اپنی اوّلین فرصت میں داعی کو اپنے اصول اور مسلک سے آگاہ فرما دیں، اور ان کو لکھ بھیجیں کہ آپ کے ساتھ دعوت میں ان اصولوں کو ملحوظ رکھا جائے۔(اپریل ۱۹۶۰ء)
سوال : غذائوں اور دوائوں کی حلت و حُرمت کے بارے میں شرعی احکام کیا ہیں؟
جواب :دوائوں اور غذائوں میں کیا چیزیں پاک ہیں اور کیا ناپاک؟ اس کو جاننے کے لیے آپ کو کچھ نہ کچھ حدیث اور فقہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ جہاں تک احکامِ قرآنی کا تعلق ہے، اس سلسلے میں آپ کو تفہیم القرآن سے کافی مدد مل جائے گی۔ مگر پھر بھی حدیث اور فقہ کے مطالعے کی ضرورت باقی رہتی ہے ، تاکہ آپ اصولی احکام سے بھی واقف ہوجائیں اور جزوی مسائل سے بھی۔ افسوس ہے کہ ہمارے ہاں اب تک میڈیکل کالج کی تعلیم میں شرعی احکام کی تعلیم شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے۔ آخر ہم کیسے اُس چیز کی ضرورت محسوس کرلیں، جسے ہمارے ’استاد‘ (انگریز) نے غیر ضروری سمجھا تھا۔(جون ۱۹۵۳ء)
سوال : کسی مریض کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون داخل کرنا بعض علما کے نزدیک ناجائز ہے۔ آپ کی رائے اس بارے میں کیا ہے؟
جواب :آدمی کی جان بچانے کے لیے اس کے جسم میں خون داخل کرنا میرے نزدیک تو جائز ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ اس کو حرام کہنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ غالباً اسے خون پینے اور کھانے پر قیاس کرکے کسی صاحب نے حرام کہا ہوگا۔ لیکن میرے نزدیک ان دونوں چیزوں میں فرق ہے۔ غذا کے طور پر خون پینا اور کھانا بلاشبہہ حرام ہے، مگر جان بچانے کے لیے مریض یا زخمی آدمی کے جسم میں خون داخل کرنا اسی طرح جائز ہے، جس طرح حالت ِ اضطرار میں مُردار یا خنزیر کھانا۔(جون ۱۹۵۳ء)
سوال : ڈاکٹر کے لیے فیس کا تعین یا اس کا مطالبہ جائز ہے یا اسے مریض کی مرضی پر چھوڑ دینا چاہیے؟
جواب :ڈاکٹر کی فیس اُصولاً تو جائز ہے ، مگر ڈاکٹروں نے بالعموم فیس کے معاملے میں ایسے طریقے اختیار کرنے شروع کر دیے ہیں، جو گناہ اور ظلم، اور سخت قساوت کی حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ اسی بنا پر ہماری یہ رائے ہے کہ تمام ڈاکٹروں کو حکومت کی طرف سے کافی وظیفے ملنے چاہییں، اور انھیں مریضوں کا مفت علاج کرنا چاہیے۔(جون ۱۹۵۳ء)
سوال : نفس (mind) دماغ (brain) اور جسم کے باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ یہ تو ظاہر ہے کہ دماغ اور جسم مادے سے مرکب ہیں اور نفس یا ذہن ایک غیرمادی چیز ہے؟
جواب :’دماغ‘ ذہن کا محل اور اس کا وہ مادی آلہ ہے، جس کے ذریعے سے ’ذہن‘ اپنا کام کرتا ہے، اور ’جسم‘ وہ مشین ہے جو اُن احکام کی تعمیل کرتی ہے، جو دماغ کے ذریعے سے ذہن اس کو دیتا ہے۔ اس کو ایک بھدی (crude) مثال کے ذریعے سے یوں سمجھیے کہ انسان کی ذات گویا مجموعہ ہے ڈرائیور اور موٹرکار کا۔ ڈرائیور ’ذہن‘ ہے ۔ انجن اور اسٹیرنگ ویل میں لگے ہوئے آلات بحیثیت مجموعی ’دماغ‘ ہیں۔ وہ قوت و توانائی جو انجن کے اندر کام کرتی ہے، روح اور موٹرکار کی باڈی ’جسم‘ ہے۔ (مارچ ۱۹۶۷ء)
مرحوم ومغفور ڈاکٹر محمود احمد غازی کا نام اور شخصیت محتاجِ تعارف نہیں۔ وہ ایک عالمِ دین تھے اور محقّق اور مفکّر بھی۔ ماہنامہ تعمیر افکار نے غازی صاحب پر ۲۰۰۳ء میں ایک خصوصی اشاعت شائع کی تھی۔ پیشِ نظر جلد دوم میں بھی غازی صاحب کی متنّوع خدمات کا جائزہ شامل ہے۔ اس میں آپ کے محاضرات سمیت، تصانیف کا تعارف اور آپ کی خدمات کے مختلف پہلوئوں پر اہلِ علم کی نگارشات دی گئی ہیں۔ مختلف اداروں سے آپ کا جو تعلق رہا ،ان کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر محمود احمد غازی نے سترہ برس کی عمر میں درسِ نظامی سے فارغ ہو کر مولانا عبدالجبار غازی کے مدرسۂ عربیہ ملّیہ ،راولپنڈی میں تدریس شروع کر دی تھی۔ ۱۹۶۹ء میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی سے بحیثیت محقّق منسلک ہو گئے ۔بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی کے قیام میں ان کی کاوشوں کا بھی دخل ہے ۔وہ اس کے سربراہ بھی رہے۔اسّی کی دہائی میں جنوبی افریقہ میں قادیانی ،خود کو مسلمان ظاہر کرکے ،قادیانیت پھیلا رہے تھے ۔وہاں کے مسلمانوں نے سپریم کورٹ میں درخواست گزاری کہ انھیں غیر مسلم قرار دیا جائے۔ انھوں نے حکومت ِ پاکستان سے چند قدیم علوم کے علما اور جدید قوانین کے ماہر بھیجنے کی درخواست کی۔ حکومت نے جو وفد بھیجا، اس میں غازی صاحب بھی شامل تھے، جن کے دلائل سے عدالت کو فیصلہ کرنے میں بہت مدد ملی۔
غازی صاحب فیصل مسجد میں خطیب ،شریعہ اکیڈمی کے ناظم اعلیٰ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔ بحیثیت وزیرمذہبی اُمور گراں قدر خدمات کے علاوہ انھوں نے وفاقی شرعی عدالت میں بطور جج بھی کام کیا۔ وہ نہایت ذہین اور ایک غیر معمولی شخصیت تھے۔(رفیع الدین ہاشمی)
دُنیا بھر میں جدیدیت کی تیز لہر نے گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں کے دوران جس تہذیبی قلعے پر شدید ترین حملہ کیا ہے، اس قلعے کا نام ’خاندان‘ ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ عالمی سامراجیت کے زیراثر تعلیم، معاشرت، عائلی قوانین میں ریاستی مداخلتوں اور فکرونظر کی تبدیلی نے بڑی تیزی سے ، مسلم دُنیا کے خاندانی نظام کی بنیادوں کو بھی ہلاکر رکھ دیا ہے۔جس کے نتیجے میں عائلی یا خاندانی مسائل کا ایک طوفان ہے، جو مسلم معاشروں کو گھیرے ہوئے ہے۔
ڈاکٹر عبدالحی ابڑو(سابق ڈائرکٹر جنرل، شریعہ اکیڈمی) نے ایک محقق اور استاد کی حیثیت سے بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی میں طویل عرصے تک خدمات انجام دی ہیں۔ زیرنظر کتاب میں انھوں نے اسلام کے خاندانی نظام کے جملہ اُمور پورے شرح و بسط کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ عقدِنکاح، احکامِ مہر، احکامِ نفقہ،احکامِ طلاق، عدالتی تفریق، احکامِ خلع، احکام نسب و حضانت اور احکامِ عدت کی مناسبت سے پیش آمدہ مسائل کی کیفیت اور اس ضمن میں اسلامی تعلیمات کے تحت رہنمائی، نہایت عام فہم انداز سے پیش فرمائی ہے۔
اس موضوع پر متعدد کتب اُردو میں موجود ہیں، لیکن یہ کتاب ان سب کی جامع ہے۔ علما، اساتذہ اور بالخصوص وکلا کو زیرمطالعہ لانا چاہیے۔(س م خ)
زوال وانحطاط نے ہماری زندگی کے مختلف شعبوں کی طرح تعلیم وتعلّم اور تحقیق وتدوین کو بھی متأثّر کیا ہے، چنانچہ قریبی زمانے میں لکھے جانے والے جامعات کے تحقیقی مقالے سرسری پن کی وجہ سے مطلوبہ معیار سے بہت فروتر ہیں۔ کبھی کبھار کوئی اِستثنائی نمونہ نظر سے گزرتا ہے۔ زیر نظر مقالہ فی الواقع تحقیق کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ اس مقالے پر ۲۰۰۷ء میں پنجاب یونی ورسٹی نے محموداحمد کاوش کو پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی تھی۔
مشفق خواجہ بنیادی طور پر محقق تھے۔ ان کے جملہ قلمی آثار میں، حتیٰ کہ طنزومزاحیہ تحریروں میں بھی تحقیقی رنگ موجود ہے، لیکن ان کی کثیرالجہات شخصیت کا اظہار ان کی شاعری، ان کے کالموں، ہزارہا خطوط اور تراجم میں ملتا ہے۔ وہ ادبی مجلات کے ایڈیٹر بھی رہے۔کاوش صاحب کی زیرنظر کاوش میں مشفق خواجہ کی مختلف حیثیات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ تحقیقی اور تدوینی خدمات میں ان کی ۱۳ کتابوں، ایک ہزار سے زائد خطوط اور متفرقات (دیباچہ ،تبصرہ،خاکہ،ترجمہ، ادارت) کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ آخری باب میں خواجہ صاحب کے ادبی مقام ومرتبے کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مقالہ نگار لکھتے ہیں:’’ مشفق خواجہ ایک ایسے ادیب تھے جن کی ذات میں بیک وقت تخلیق اور تحقیق دونوں کی اعلیٰ پائے کی صلاحیتیں موجود تھیں۔ تحقیق کی سنگلاخ وادیوں میں گھومتے گھومتے جب وہ تھک جاتے تو تھوڑی دیر کے لیے تبدیلیِ آب وہوا کے لیے تخلیق کی وادیِ گل رنگ میں آنکلتے۔ ‘‘ چنانچہ کاوش صاحب نے بجا طو ر پر انھیں ’خواجۂ تخلیق وتحقیق ‘ قرار دیا ہے۔
ہماری آج کے تحقیق کا ر چاہیں تو اس مقالے کو راہ نما بنا سکتے ہیں۔ اشاعتی معیار اطمینان بخش ہے۔(رفیع الدین ہاشمی )
مسلم دُنیا میں، اسلامی بنکاری کے نام پر خدمت بھی کی جارہی ہے اور ایک کھیل بھی کھیلا جارہا ہے۔ جناب اشتیاق احمد فاروق نے اس بڑے اور پھیلے ہوئے موضوع پر، پاکستان میں ہونے والی پیش رفت کواختصار اور گہرائی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ انھوں نے پاکستان میں ریاستی سطح اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں مسئلے کو دیکھا ہے اور بتایا ہے کہ درست طرزِ عمل کون سا ہے، جس سے اسلامی بنکاری کو تشکیل دیا جانا چاہیے۔(س م خ)
کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ حصہ اوّل میں پانچ مضامین ہیں، ایک بانی ِجماعت سیّدمودودی پر، اور چار امرائے جماعت (میاں طفیل محمد،قاضی حسین احمد، سیّد منور حسن ، سراج الحق) پر۔ حصہ دوم میں جماعت اسلامی کی تنظیم، قیادت، دستور، شورائی نظام، مالیاتی نظام، تربیتی پروگرام، کارکنانِ جماعت کے اوصاف اور تفہیم القرآن کا تعارف کرایا گیا ہے۔ حصہ سوم میں ایسی تحریریں اور مصنف کے کالم یکجا ہیں، جن سے جماعت اسلامی کی عملی سرگرمیاں، اتحادی سیاست، سندھ میں جماعت اسلامی، کرپشن کے خلاف جماعت کی مہم اور جماعت کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا پتا چلتا ہے۔
میرافسر امان ایک سینئر کالم نگار، دانش ور، تجزیہ نگار ہیں۔ انھوں نے جماعت اسلامی کی دعوت پھیلانے کے لیے اسلام آبادمیں قلم کارواں اور ’اقبال، قائد اور سیّد مودودی فکری فورم‘ بنا رکھا ہے۔(رفیع الدین ہاشمی)
پروفیسر محمد اسلم (سابق صدر شعبۂ تاریخ، پنجاب یونی ورسٹی لاہور) نے ایک زمانے میں (بشمول خفتگانِ خاکِ لاہور اور خفتگانِ کراچی) وفیات کے سلسلے میں کئی کتابیں شائع کیں۔ ڈاکٹر محمدمنیر سلیچ نے بھی سلسلۂ وفیات میں متعدد کتابیں شائع کی ہیں۔ اسی انداز میں یہ کتاب تیار کی ہے، جس میں ضلع گوجرانوالا میںمدفون اور ضلع گوجرانوالا کے مشاہیر مگر ضلع گوجرانوالا سے باہر مدفون مرد و زن کے مختصر حالات اور بہت سوں کی قبروں کے کتبے نقل کیے ہیں۔ مؤلف کی زیرنظر کتاب سے مستقبل کے مرتبّینِ تاریخ گوجرانوالا کو بہت سہولت ملے گی۔(رفیع الدین ہاشمی)
آنکھوں میں نمی رکھنا ،ڈاکٹر محمد اورنگ زیب رہبر۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈمی، ڈی۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا، کراچی-۷۵۹۵۰۔ فون: ۳۶۳۴۹۸۴۰- ۳۶۸۰۹۲۰۱- ۰۲۱۔ صفحات:۱۳۳۔ قیمت: ۳۰۰ روپے۔ [رہبر بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں مگر مجموعے میں خاصی مقدار میں نظمیں (شیخ احمد یاسین شہید، صاحبِ تفہیم مودودی، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، الحرا اسکول کے لیے، میری جمعیت، اہلِ کشمیر کا عزم، سیّد منور حسن، عنایت علی خاں، کراچی خوب صورت ہے) شامل ہیں۔ دو حمدیں، چار نعتیں اور چند متفرق اشعار بھی۔ شاعر کی اسلام دوستی ایک ایک شعر سے عیاں ہے۔]
انتظامی اُمور اور مملکتی نظام(Civil Administration) میں فوج کا داخل ہونا، فوج کے لیے بھی اور ملک کے لیے بھی سخت تباہ کن ہے۔
فوج، بیرونی دشمنوں سے ملک کی حفاظت کرنے کے لیے منظم کی جاتی ہے، ملک پر حکومت کرنے کے لیے منظم نہیں کی جاتی۔
اس کو تربیت دشمنوں سے لڑنے کی دی جاتی ہے۔ اس تربیت سے پیدا ہونے والے اوصاف، خود اپنے ملک کے باشندوں سے معاملہ کرنے کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔
علاوہ بریں ملکی معاملات کو جو لوگ بھی چلائیں، خواہ وہ سیاست کار ہوں یا ملکی نظم و نسق کے منتظم(Civil Administrators)، ان کے کام کی نوعیت ہی ایسی ہوتی ہے کہ ملک میں بہت سے لوگ ان سے خوش بھی ہوتے ہیں اور ناراض بھی۔
فوج کا اس میدان میں اُترنا لامحالہ فوج کو غیر ہردلعزیز بنانے کا موجب ہوتا ہے۔ حالانکہ فوج کے لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ سارے ملک کے باشندے اس کی پشت پر ہوں اور جنگ کے موقعے پر ملک کا ہرفرد اس کی مدد کرنے کے لیے تیار ہو۔
دُنیا میں زمانۂ حال کے فوجی انقلابات نے ملکی نظام میں فوج کی شمولیت کومفید ثابت نہیں کیا ہے، بلکہ درحقیقت تجربے نے اس کے بُرے نتائج ظاہر کر دیئے ہیں۔(’رسائل و مسائل‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ماہ نامہ ترجمان القرآن، جلد۵۷،عدد ۴، جنوری ۱۹۶۲ء، ص۵۰-۵۱)