مضامین کی فہرست


۲۰۲۲ فروری

 اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے تحت زندگی دیتا اور اپنے طے شدہ قانون کے مطابق اس فانی زندگی کو واپس لے لیتا ہے۔ لیکن امر واقعہ ہے کہ کچھ سعید روحوں کی موت واقعی زندگی کو بے رنگ بناتی اور رنج وغم کی گہرائیوں میں دھکیل دیتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کی زندگیاں صرف اللہ کی راہ میں اور اللہ سے اپنے عہدو فا کو نبھانے میں گزرتی ہیں ۔ایسی ہی ایک نہایت پیاری شخصیت حاشربھائی بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۲۰۲۲ءکو ۹۲برس کی عمر میں ربّ کے حضور پیش ہو گئے ،انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

میرے شفیق بھائی حاشر فاروقی کا انتقال، جہاں مسلم اُمہ کے لیے ایسا بڑا نقصان ہے کہ جس کا عام لوگوں کو ادراک نہیں، وہیں میرے لیے ذاتی طور پر شدید صدمہ ہے کہ تقریباً ۷۰ برس پر پھیلے تحریکی زندگی اور ذاتی تعلقات کا ایک روشن باب ختم ہو گیا۔ وہ میرے بڑے بھائی کی طرح تھے۔ایک ہم دم دیرینہ تھے، علمی کاموں میں مدد کرنے والے شفیق مدد گار تھے، اور سب سے بڑھ کر اللہ کی راہ میں اللہ کے لیے محبت کرنے اور دعائیں دینے والے فرد تھے۔

زندگی کے اتنے طویل سفر میں میں نے حاشر فاروقی بھائی کو اسلام کا انسانِ مطلوب، امت کا درد مندفرد اور ایک سچا پاکستانی پایا۔ وہ اپنی نوعیت کے ایک عظیم صحافی ہی نہیں تھے بلکہ ایک مفکر، علمی منصوبہ ساز ،حوصلہ بڑھانے والے دست گیر اور راہیں سُجھانے والے ہمدرد رہنما بھی تھے۔ اسلام کی صحیح ترجمانی کسی خوف اور مصلحت کے بغیر ان کی زندگی کا مقصد تھا۔ انھوں نے اسلام کو اس رنگ میں پیش کیا جس میں قرآن، سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور علمائے سلف نے پیش کیا ہے اور لبرل طبقے کے انحرافات اور مغربی فکر کے تحت کیے جانے والے سمجھوتوں (Compromises) کا پردہ چاک کیا ۔ پھر اُمت مسلمہ کاہردُکھ اور اس کا ہر مسئلہ ان کا اپنا مسئلہ تھا اور وہ اس کے بے باک ترجمان تھے۔ ان کا عالم یہ تھا کہ دنیا کے کسی حصے میں بھی مسلمانوں پر کوئی ظلم ہوتا تووہ تڑپ اُٹھتے تھے اور ان کا قلم مظلوم کی دادرسی کے لیے تلوار کی کاٹ ثابت ہوتا تھا۔ امیرمینائی کے بقول:

خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

میں گواہی دیتا ہوں اور ایک خلق اس پر گواہ ہے کہ دینِ اسلام سے ان کی وابستگی بدن میں دوڑنے والے خون کی مانند تھی۔ اسلامی نظریۂ حیات کی توضیح و تبلیغ اورمسلمانوں کے مقدمے کی پیش کاری کی خاطر وہ زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے، اور اسی راستے پر چلتے ہوئے آخری سانس لیا:

مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَيْہِ۝۰ۚ فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ۝۰ۡۖ وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِيْلًا۝۲۳ۙ  (الاحزاب ۳۳:۲۳) ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔انھوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

اسلام پر ہونے والے حملوں اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر وہ محض تڑپنے کی حد تک نہیں رہتے تھے، بلکہ اپنی اس تڑپ کو عمل اور تحریر میں ڈھال دیتے تھے۔ گویا کہ دیکھتے ،سنتے، دوا کرتے اور دعا دیتے ہوئے اپنا عملی حصہ ادا کرتے تھے۔ اور یہ سب کام نہایت قلیل مادی ومعاشی وسائل کے باوجود انجام دیتے تھے ۔ وہ اس انتظار میں نہیں رہتے تھے کہ کون کیا کرتا ہے، بلکہ اس بارے میں فکر مند ہوتے تھے کہ وہ اپنی قوت اورصلاحیت کس حد تک اس مقصد کے لیے نچوڑ دینے کے لیے کتنا وقت صرف کرسکتے ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ صدی کے اواخر میں سلمان رشدی کی شیطانی ہزلیات کا جس تحقیقی ،علمی، تحریکی، تنظیمی ،اور ابلاغی سطح پر حاشر بھائی نے تعاقب کیا، اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک امڈتی ہوئی مغربی گستاخانہ لہر سے آگاہ کیا، اس کے ہم گواہ ہیں۔ یہ کوشش ان کے لیے صدقۂ جاریہ کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

حاشر بھائی زمانہ طالب علمی ہی سے مسلم کاز سے وابستہ تھے۔ علامہ اقبال ،حسن البنا شہید، قائد اعظم اور مولانا مودودی رحمہم اللہ کے افکار سے گہرے ربط وتعلق نے انھیں روحِ عصر سے جوڑدیا تھا۔اس فکر ی تعلق نے انھیں دین وملت سے مربوط کیا، اور غیرت وعمل سے سینچا۔ برطانیہ کے امپیریل کالج میں وہ علم الحشرات(Entomology) میں ڈاکٹریٹ کے لیے گئے، لیکن مسلمانوں کی حالتِ زار نے انھیں اپنا کیرئیر قربان کرنے اور اسلام اور مسلمانوں کی خدمت ہی کو اصل کیریئر بنانے پر دل کی گہرائیوں سے مجبور کردیا۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے خاموش سپہ سالار بننے کی راہوں پر چلنے کے لیے یکسو ہوگئے۔ ابتداء میں برطانیہ آنے والے مسلمان طالب علموں سے ربط وتعلق بڑھایا اور انھیں علمی مہارت کے ساتھ ،امت اور اسلام سے وابستگی پر ابھارنے کے لیے تدابیر سوچنا شروع کیں۔ الحمد للہ ،اس ضمن میں ان کی کوششوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت عطا کی۔ انھوں نے فیڈریشن آف اسٹوڈنٹس اسلامک سوسائٹی (FOSIS)، یوکے اسلامک مشن (UKIM)، مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ (MET)،مسلم ایڈ، دی اسلامک فائونڈیشن ،مسلم کونسل آف بریٹن (MCB) وغیرہ کی تنظیم وتوسیع کے لیے بہ یک وقت کارکن اور رہنما کا کردار ادا کیا۔

گذشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے میں اُمت مسلمہ پر دُنیا بھر کے اشتراکی،صہیونی، برہمن اور ملحدیلغار کرنے لگے تو فاروقی صاحب نے اُمت کے دفاع کے لیے سوچا کہ اُمتِ مسلمہ کے ان تمام مسائل کو، ایک جسد واحد کی طرح دیکھا اور پیش کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے اپنے تخلیقی ذہن، خوب صورت اسلوب تحریر، مستقبل بین نظر اور تحقیقی ذوق سے کام لیتے ہوئے  لندن سے ایک رسالہ نکالنے کا منصوبہ بنایا۔ مجھے یہ سعادت حاصل ہے کہ اس میدان میں  حاشربھائی کی غیرمعمولی فکر مندی اور عمل پسندی کا گواہ بھی ہوں اور ان کامعاون اور ساتھی بھی۔  مالی وسائل ،تحریر وتحقیق اور کتب ورسائل کی فراہمی کے لیے ہاتھ بٹا نے کا اللہ تعالیٰ نے مقدور بھر موقع دیا اور اس سلسلے میں خود مولانا مودودیؒ اور چودھری غلام محمدمرحوم کی تائید اور رہنمائی حاصل تھی۔ اس کے نتیجے میں ایک خواب مئی ۱۹۷۱ء میں پندرہ روزہ Impact International کے نام سے شرمندۂ تعبیر ہوا، اور بہت جلد، دنیا کے تقریباً اسّی ممالک میں متعارف ہوکر اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا۔ مگر وائے افسوس کہ ۳۵ برس تک جدوجہد کرنے کے بعدمالی مشکلات کے سبب یہ رسالہ بند ہو گیا۔

امپـیکٹ کسی حکومت یا جماعت کا ترجمان نہیں صرف اور صرف اسلام اور مسلم اُمت کا ترجمان تھا۔ اس کا اصل ہدف جہاں اسلام کو اس کی اصل شکل میں مغربی اور خصوصیت سے انگریزی دان دنیا کے سامنے پیش کرنا تھا، وہیں مسلمانوں کے افکار و مسائل اور اُن پر کیے جانے والے مظالم کی بے باک ترجمانی تھا۔ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ امپـیکٹ نے ’مسلم ویو پوائنٹ‘ کے مقابلے میں ہمیشہ ’مسلم ویو پوائنٹس‘ (Muslim View Points) کی اصطلاح استعمال کی، جو آزادیِ رائے اور افکار میں نظریاتی حدود کے اندر تنوع کی غمّاض تھی۔ یہ صحافت میں ایک بڑی روشن مثال تھی کہ صداقت و دیانت کے ساتھ حقیقی تنوع کا اظہار ہی زندگی کے ہمہ پہلوئوں کو اُجاگر کرسکتا ہے۔

۱۹۷۱ء میں مشرقی پاکستان پر بھارتی یلغار نے انھیں مضطرب کیا، اور جب دسمبر میں پاکستان کا مشرقی بازو ٹوٹا تو اس کی ٹوٹ پھوٹ کو انھوں نے اپنی ذات میں اسی طرح محسوس کیا، جس طرح محسوس کرنے کا حق ہے۔ لیکن فاروقی بھائی نے اس مسئلے کے مابعد اثرات سے پاکستان کو نکالنے کے لیے اپنی ذمہ داری بھی ادا کی، اور مغربی دنیا کے مرکزی اخبار ات، ریڈیو سروسز کے ساتھ ساتھ یورپ اور بڑے ممالک کے پالیسی سازوں کے سامنے پاکستان کا کیس پیش کیا۔ یہ کام اداروں کے کرنے کا تھا، مگر فاروقی بھائی نے مختلف اوقات میں اپنے رفقا برادرم سلیم صدیقی، غزالی خاں، عبدالواحد حامداور اوصاف فاروقی وغیرہ کی مدد سے یہ کارنامہ انجام دیا۔ اس طرح دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی سچی تصویریں مضبوط دلائل وبراہین کے ساتھ پیش کیں۔

حاشر فاروقی بھائی ایک ایثار پیشہ ،قناعت پسند اور سچے صحافی تھے ۔مقصد کی لگن کا دوسرانام حاشر فاروقی تھا۔ ذاتی مفاد کی قربانی دینے کی ایک اعلیٰ مثال تھے، اور عملاً مغربی دنیا میں مسلم صحافت کے حدی خواں تھے۔ انھوں نے اس مقصد کے لیے جو راہیں دکھائیں اورجو نقشۂ کار پیش کیا ، آنے والی نوجوان نسل کا فرض ہے کہ وہ ان راستوں کو روشن کریں۔ ہم نے ایک حاشرفاروقی بھائی کی جدائی دیکھی ہے۔ اللہ کے کرم سے اگر درجن بھر حاشر فاروقی اس محاذ کو سنبھالنے کے لیے آمادۂ کار ہوجائیں تو ان شا ءاللہ ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے مسائل پوری قوت سے دنیا کے سامنے نہ صرف نمایاں ہونے لگیں گے بلکہ امت میں یکجہتی بھی پیدا ہوگی ۔ 

انسانی رشتوں کے حقوق کی ادائیگی اور اس کی پاس داری میں ہی زندگی کی اصل خوب صورتی ہے۔ رشتوں میں پائے داری کے لیے بے لوث محبت اور پُرخلوص خدمت ازحد ضروری ہیں۔ خداوند کریم نے جہاں ان رشتوں کی پاسبانی کی ہدایت کی ہے، وہیں ان کی اہمیت اور مرتبہ بھی واضح کر دیا ہے۔ بنی آدم کو ربِّ کائنات نے بنیادی طور پر دو طرح کے حقوق دیئے ہیں: پہلاحقوق اللہ اور دوسرا حقوق العباد۔ حقوق العباد کی حفاظت، ان کی ادائیگی اور تکمیل کا راستہ، قرآن و حدیث کی اطاعت و پیروی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

  • والدین کے حقوق: قرآنِ مبین میں کئی مقامات پر والدین کے حقوق پر احکام آئے ہیں۔ والدین وہ عظیم ہستیاں ہے، جن سے ہماری جنّت اور جہنّم وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ نرمی اور حُسنِ سلوک کی تاکید کی ہے۔ حقوق اللہ کے بعد بندوں کے حقوق میں سرفہرست اطاعت و فرماں برداری والدین کی ہے۔ ان کے مقام و مرتبہ اور فضیلت کا تذکرہ کئی جگہوں پر کیا گیا ہے۔

حدیث پاک ہے:’’ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسولؐ! میرے حُسنِ سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے کہا: پھر کون؟ تو آپؐ نے فرمایا: پھر تیرا باپ، پھر درجہ بدرجہ جو تیرے قریب لوگ ہیں‘‘۔(ابن ماجہ، کتاب الادب، باب برالوالدین، حدیث: ۳۶۵۶)

اس حدیث پاک سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ماں کے ساتھ حُسنِ سلوک کا درجہ باپ سے بڑا ہے۔ اس لیے کہ ولادت کے دوران عورت ایک قسم کے تخلیقی مراحل سے گزرتی ہے۔ اس کا یہ مطلب بالکل بھی نہیں ہے کہ والد کی اہمیت کم ہے۔ والد جنّت کے دروازوں میں ایک دروازہ ہے۔ ان کی عظمت کا بیان کون کرسکتا ہے کہ جن کی طرف محبت بھری نظروں سے دیکھنا بھی باعث اجروثواب ہے۔ والدین کی اہمیت اس حدیث سے بالکل واضح ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو۔پوچھا گیا: کس کی ناک یارسولؐ اللہ؟ سرکارؐ نے فرمایا: جس نے بڑھاپے میں اپنے والدین کو یا دونوں میں سے کسی ایک کو پایا اور پھر جنّت کا حق دار نہ بنا‘‘۔ (مسلم، کتاب البّر والصلۃ والآداب، باب رغم انفہ من ادرک ابویہ، حدیث:۴۷۳۴)

  • حقوقِ زوجین : اللہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں حقوقِ زوجین کو بھی بیان کیا ہے (سورئہ نساء، سورئہ روم:۲۱ اور سورئہ بقرہ:۱۸۷)۔ اس بیان کا مقصد ہی یہی ہے کہ کسی کی حق تلفی اور دل آزاری نہ ہو۔ اس رشتے کا آغاز ہی اعتماد کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ دونوں کے باہمی تعاون سے ہی گھر کا سکون بحال رہ سکتا ہے۔ ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے میں دونوں فریقین کا ایک دوسرے پر اعتماد بے حد ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ نے شوہر کو قوّام اور بیوی کو محکوم کا درجہ عطا کیا۔ قرآن میں ان دونوں کو ایک دوسرے کا ’لباس‘ کہا گیا ہے۔ ’لباس‘ سےمراد ایک دوسرے کی اچھائیوں کو سمجھنا اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنا ہے۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ دونوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔ اس رشتے میں ذہنی ہم آہنگی کا ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لیے اپنے شوہر کا احترام لازم کیا، تو اس کا یہ مطلب ہرگز بھی نہیں کہ خاوند صرف اس بنیاد پر اندھی حاکمیت چلانے لگ جائے بلکہ شوہر کے جو اوصاف اسلام میں بتائے گئے ہیں، اسے ملحوظ رکھیں۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں کامل ایمان والے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں اور تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں‘‘۔ (ترمذی ، ابواب الجنائز،ابواب الرضاع،باب ماجاء فی حق المرأۃ علی زوجھا، حدیث: ۱۱۱۸)

اسی طرح قرآن کریم میں متعدد مقامات پر انھیں ان کے حقوق کی یاد دہانی کرائی گئی ہے، اور بعض مقامات پر تنبیہ بھی کی ہے۔ اسی بنیاد پر انھیں ’راعی‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا گیا ہے۔

حدیث پاکؐ ہے: ’’کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سی عورت سب سے اچھی ہے؟ آپؐ نے فرمایا: وہ کہ جب خاوند اس کی طرف دیکھے تو خوش ہوجائے، وہ حکم دے تو اس کی تعمیل کرے، اور اپنی جان و مال کے معاملے میں ایسی کوئی بات نہ کرے جو شوہر کو ناپسند ہو‘‘۔(سنن   نسائی، کتاب النکاح، باب أیّ النساء خیر، حدیث: ۵۱۹۹)

دوسری حدیث میں بیان ہے: ’’حضرت اُمِ سلمہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اس حال میں فوت ہوئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش تھا تو وہ جنّت میں داخل ہوگی‘‘۔ (ابن ماجہ ، کتاب النکاح، باب حق الزّوج علی المرأۃ، حدیث:۱۸۵۰)

  • اولاد کا حق :والدین کا فرض ہے کہ اپنے بچوں کو اپنی استطاعت کے مطابق کھانا کھلائیں، پہنائیں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ اللہ نے خصوصی طور پر والدین کو مخاطب کیا ہے کہ تم اپنے ماتحت کو رزقِ حلال کھلائو۔ بیٹا اور بیٹی کا فرق بالکل نہ کرو۔ رزق کی تنگی کے ڈر سے نہ انھیں قتل کرو اور نہ ان کے ساتھ بدسلوکی کرو۔ اصل میں والدین صرف ایک ذریعہ ہیں۔ حقیقی کفالت کرنے والا تو خدائے رحمٰن ہے، جو صاف صاف کہتا ہے کہ رزق دینےوالا مَیں ہوں۔

’’حضرت ثوبانؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اجروثواب کے اعتبار سے وہ دینار بہتر ہے جو تم اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے ہو‘‘۔(مسلم ، کتاب الزکوٰۃ، باب فضل النفقۃ علی العیال والمملوک، حدیث: ۱۷۲۲)

دوسری حدیث اس طرح ہے، حضرت انسؓ راوی ہیں: ’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ جوان ہوگئیں تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ مَیں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ آپؐ نے اپنی دونوں انگلیوں کو ملایا‘‘۔ (مسلم، کتاب البّروالصلۃ والآداب، باب فضل الاحسان الی البنات، حدیث: ۴۸۷۲)

اسی رشتے کی ایک اہم کڑی بھائی بہن کا تعلق ہے، جو نہایت مقدس اور پاکیزہ ہے۔ اس رشتے کی بھی عظمت کھلی ہوئی ہے۔ بھائی کو بہن کے لیے اس کا مان ہونا چاہیے، اسی طرح بہن کو بھی بھائی کے لیے اس کا فخر بننا چاہیے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے نمونہ بنیں۔ مگر بدقسمتی سے آج ہمارے معاشروں کے موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں۔

  • پڑوسیوں کا حق:اللہ کے نبی ؐ نے ہمیشہ اپنے گھروالوں اور صحابہ کرامؓ کو پڑوسیوں کے حقوق کے سلسلے میں عمدہ نصیحتیں کی ہیں۔ ان کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آنے کی ترغیب دی ہے۔ یہی بات اُمت مسلمہ پر بھی لازم آتی ہے۔ اس لیے کہ چھوٹی بڑی پریشانی میں پہلے پڑوسی شامل ہوتے ہیں، بعد میں رشتہ دار آتے ہیں۔ دو بھائیوں سے پہلے دو پڑوسیوں کا حساب لیا جائے گا۔ ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ خود پیٹ بھر کر کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا سوجائے۔

 ’’حضرت عائشہ ؓ اور حضرت عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبریلؑ ہمیشہ مجھے ہمسایہ کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ وہ عنقریب اسے وارث بنادیں گے‘‘۔(بخاری،کتاب الآدب، باب الوصاۃ بالجار، حدیث: ۵۶۷۶)

  • رشتہ داروں کے حقوق: حقوق العباد کی ایک اہم کڑی رشتہ داروں سے حُسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہے۔ ان کے ساتھ ادب اور تمیز سے بات کرنا ہے۔ ان کے ساتھ نرمی اور صلہ رحمی کا معاملہ کرنا ہے، تاکہ رشتوں میں حُسن اور محبت قائم رہے۔ اس میں مضبوطی اور پائیداری رہے۔ اس طرح سے پیش آنے کے باوجود کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اگلا شخص بدظن ہو۔ اچھائی کا جواب بُرائی سےدے۔ ان حالات میں صبرکرتے ہوئے حُسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے دگنا اجر ہے۔ ان رشتوں کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے:حضرت ابن عمرؓ راوی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ سچا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے، جو بدلے میں صلہ رحمی کرے۔ اصل صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے کہ رشتہ دار اس سے کٹیں توو ہ ان سے جڑے‘‘۔ (صحیح بخاری،کتاب الآدب، باب لیس الواصل بالمکا فِیٔ ، حدیث:۵۶۵۲)

ایک اور حدیث نے تو اس رشتے کو بڑے جامع انداز میں بیان کیا ہے: ’’ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ! میرے کچھ رشتہ دار ہیں جن کے حقوق مَیں ادا کرتا ہوں لیکن وہ میرے حقوق ادا نہیں کرتے۔ میں اُن کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں لیکن وہ مجھ سے بُرا سلوک کرتے ہیں۔ میں ان کے ساتھ حلم و بُردباری سے پیش آتا ہوں لیکن وہ میرے ساتھ جہالت برتتےہیں۔

آپؐ نےفرمایا: اگر تو ایسا ہی ہے جیسا کہ تُو کہتا ہے تو گویا تو ان کے چہروں پر سیاہی پھیر رہا ہے اور اللہ ان کے مقابلے میں ہمیشہ تیرا مددگار رہے گا، جب تک تو اس حالت پر قائم رہے گا‘‘۔(مسلم، کتاب البّر والصلۃ والآداب، باب صلۃ الرحم، حدیث: ۴۷۴۶)

  • خادم کے حقوق : عرب میں عام رواج تھا کہ غلاموں سے کام لیا جاتا تھا۔ ان غلاموں کے ساتھ بعض لوگ نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے اوربعض افراد بے جا سختی کرتے تھے۔ غلاموں کی اپنی کوئی زندگی نہیں تھی۔ ان کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خادموں اور غلاموں کے ساتھ شفقت اور محبت کا رویہ اختیارکرنے کی تلقین کی۔ یہاں تک کہ آپؐ نے موت سے قبل جو الفاظ بیان کیےان میں لفظ ’غلام‘ بھی تھا۔

حدیث پاک کا حصہ ہے کہ ’’غلاموں کو وہی کھلائے جو خود کھاتا ہے اور اسے وہی پہنائےجو وہ خود پہنتا ہے، اور اس پر کام کا اتنا بوجھ ڈالے، جو اس کی طاقت سے باہر نہ ہو، اور اگر اس پر ایسے کام کا بوجھ ڈالے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اور وہ اسے نہ کرپارہا ہو تو اس کام میں اس کی مدد کرے۔(صحیح بخاری،کتاب الایمان، باب المعاصی من أمر الجاھلیۃ، حدیث: ۳۰)

  • بیوہ و یتیم کے حقوق: اسلام واحد مذہب ہے جس نے حقوقِ نسواں کو زمین پر نافذ کیا۔ اس کی پوری حفاظت کی۔ معاشرے میں خواتین کو ان کا جائز مقام ملا۔ جس نے بُرائیوں کو پھیلنے کا موقع کم کردیا۔ اسی طرح یتیم بچوں کی کفالت کا بھی بہترین انتظام کیا۔

اس حکیمانہ نظام نے ایک ساتھ بیوہ اور یتیم دونوں کی کفالت کا مسئلہ حل کیا۔ یتیم کی کفالت یا سرپرستی کرنے والے کو اللہ پسند کرتا ہے۔ اس کے ولی کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس کے بالغ ہونے تک ا س کے جان و مال کی حفاظت کرے، اسے ستائے نہیں بلکہ رحم دلی سے پیش آئے۔ اسی میں دونوں کی خیروبھلائی کا عنصر پوشیدہ ہے۔

حضرت سہل بن سعدؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مَیں اور یتیم کا سرپرست، ہم دونوں جنّت میں اس طرح ہوں گے۔ یہ کہہ کر آپؐ نے بیچ کی انگلی اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا اور ان دونوں انگلیوں کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھا‘‘۔(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللّعان، حدیث: ۵۰۰۲)

  • مسکین و محتاج کا حق:یہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے جسے عموماً ’غریب‘ کہا جاتا ہے، جن کے پاس زندگی گزارنے کے وسائل نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے پاس پیٹ بھر کھانا اور سرپر سایہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ بھی خاص نہیں بلکہ عام ہے کہ انھوں نے محنت کرنی چھوڑ دی اور ہاتھ پھیلانا شروع کر دیا۔ اب ان کی پہچان بہت مشکل ہوگئی ہے کہ واقعی ان میں کون ضرورت مند ہے اور کون غیرضرورت مند۔ بے شک یہ کام اجروثواب کا ہے لیکن یہ دیکھ لینا چاہیے کہ کہیں حق دار کا حق تو نہیں مارا جارہاہے۔ اس سلسلے میں ایک حدیث پاک دیکھتے چلیں:

’’حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ فرمانِ رسولؐ ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا: اے میرے بندے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا لیکن تُو نے مجھے نہیں کھلایا۔ وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں تجھے کیوں کر کھلاتا، جب کہ تو سب لوگوں کی پرورش کرنے والا ہے؟ اللہ کہے گا کہ کیا تجھے خبر نہیں کہ تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا لیکن تُو نے اسے نہیں کھلایا؟ کیا تجھے خبر نہیں کہ تو اس کو کھلاتا تو اپنے کھلائے ہوئے کھانے کو میرے یہاں پاتا؟ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تُو نے مجھے نہیں پلایا۔ تو وہ کہے گا: اے میرے ربّ! میں تجھے کیسے پلاتا، جب کہ تو خود ربّ العالمین ہے؟ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا لیکن تُو نے اسے پانی نہیں دیا۔ اگر تو اس کو پانی پلاتاتو وہ پانی میرے یہاں پاتا۔ (مسلم، کتاب البّر والصلۃ والآداب، باب فضل عیادۃ المریض، حدیث: ۴۷۶۷)

دراصل یہ کھانا کھلانا، پانی پلانا،روپے پیسے یا دوسری چیزوں سے مدد کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو ان کا حق ہے، جو اللہ ہمارے ذریعہ ادا کراتا ہے۔ اللہ کو وہ ہاتھ بہت پسند ہے جو دینے والا ہو، لینے والا نہیں، یعنی اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔

  • مسافر کا حق:جو شخص کسی قافلہ یا سفر میں ہو، اسے چاہیے کہ اپنے ساتھ جو مسافر ہیں ان کا خیال رکھے۔ ضرورت کی چیز مانگنے پر منع نہ کرے۔ اپنے اخلاقانہ اثرات اس پر چھوڑے کہ مسلمان ہرجگہ اللہ کا بندہ ہوتا ہے۔ جگہ بدلنے سے اس کی حیثیت نہیں بدلتی ہے۔حدیث سے ثابت ہےکہ:’’قوم کا سردار اُن کا خادم ہوتا ہے ، تو جو شخص لوگوں کی خدمت کرنے میں سبقت لے جائے تو لوگ اس سے کسی عمل کی بدولت نہیں بڑھ سکتے، بجز شہادت کے‘‘۔ (البیہقی،شعب الایمان، التاسع والثلاثون من شعب الایمان، فصل فی ترک الغضب، حدیث: ۸۱۵۰)
  • مسلمان کا مسلمان پر حق: ایک مسلم دوسرے مسلم بھائی کے لیے ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ایک کسی پریشانی و مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو دوسرا اسے حوصلہ دیتا ہے۔ اسے صبرکی تلقین کرتا ہے۔ اس کی خوشی اور اس کے غم میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ ایک مومن طعنہ دینے والا نہیں ہوسکتا، حفاظت کرنے والا ہوتاہے۔ وہ ہلاکت کو دفع کرنےوالا ہوتا ہے۔

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے۔ نہ اس پر ظلم کرے، نہ اس کو ذلیل کرے، نہ اس کی تحقیر کرے۔ تقویٰ یہاں ہے۔آپؐ نے اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ آدمی کے بُرا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہرمسلمان کا دوسرے مسلمان پر خون، مال اور آبرو حرام ہے‘‘۔(مسلم، کتاب البّر والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم، حدیث: ۴۷۵۶)

  • مہمان  اور مریض  کا حق :مہمان نوازی مسلمانوں کی قدیم روایت کا حصہ ہے۔ یہ باہمی تعلقات کو مضبوط کرتی ہے۔ مہمان کو چاہیے کہ وہ تین دن تک ہی مہمان نوازی کرائے ورنہ میزبان کو تکلیف ہوسکتی ہے۔ کوئی رشتہ دار یا مسلمان بیمار ہو تو اس کی عیادت بھی ضروری ہے۔ بیمار کی عیادت کرنے والے کے لیے سمندر کی مچھلیاں اورستّرہزار فرشتے دُعا کرتے ہیں۔

حدیث پاک کے مطابق: ’’مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو اس کے وہاں سے واپس آنے تک وہ جنّت کے باغ میں سیرکرتا ہے‘‘۔ (مسلم، کتاب البّر والصلۃ والآداب، باب فضل عیادۃ المریض، حدیث: ۴۵۶۷)

حقوق العباد کی ادائیگی مرد و زن پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ کے یہاں فیصلہ انسان کے اوصاف کی بنیاد پر ہوگا۔ جوانسان کسی ظلم کا بارِ گناہ اُٹھائے ہوئے آئے گا ، خواہ اس نے حق تلفی اپنے خدا کے حقوق پر کی ہو،یا خلقِ خداپر، یا پھر اپنے نفس پر، اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ عدل و انصاف اور محبت و اخوت کا ساتھ دینےوالوں کو ہی کامیابی حاصل ہوگی۔ بہتر اور صالح معاشرے کا وجود اسی احترام کا متقاضی ہے۔ [تخریج: سمیع الحق شیرپائو، لاہور]

'اسلام اور مسلمانوں کی برطانیہ میں میڈیا کوریج کے حوالے سے ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’برطانیہ میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق شائع ہونے والے زیادہ تر مضامین متعصبانہ تاثرات اور پیغام پر مبنی ہوتے ہیں‘‘۔ ’مسلم کونسل آف بریٹن‘ (MCB) [تاسیس ۲۳نومبر ۱۹۹۷ء] کے ’سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ‘  (Centre for Media Monitoring) نے اپنی رپورٹ میں ۲۰۱۸ء اور ۲۰۱۹ء کے درمیانی عرصے میں اسلام پر شائع ہونے والے مواد سے متعلق، ۳۴نشریاتی اداروں کے ۴۸ ہزار سے زائد ’آن لائن‘ مضامین اور ۵ہزار ۵سو ویڈیو کلپس کا تجزیہ کیا ہے۔ برطانیہ کی مسلم کونسل کی طرف سے کی گئی تحقیق میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ ان میں تقریباً ۶۰ فی صد مضامین میں اسلام کو منفی انداز سے پیش کیا گیا ہے اور ہر پانچ میں سے ایک مضمون میں اسلام اور مذہب کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑا گیا ہے‘‘۔

۱۶۲صفحات پر مشتمل اس معروضی تحقیق کو برطانیہ کے معروف اخبارات The Mirror اورThe Sunday Times سمیت کئی رسائل و جرائد نے شائع کیا ہے۔ ان اشاعتی اداروں کے متعلقین نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ خبررساں اداروں کا یہ فرض ہے کہ سامعین اور ناظرین تک بغیر کسی تعصب کے تمام حقائق اورسچائی پہنچائیں۔ اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ۵۹فی صد میڈیا آرگنائزیشنوں نے بڑے تسلسل کے ساتھ اسلام اورمسلمانوں کو اپنے متعصبانہ رویوں کے ساتھ پیش کرنے کا کام کیا۔ دائیں بازو کی طرف جھکائو رکھنے والے زیادہ تر اخبارات اور جرائد میں ایسا کرنے کے زیادہ آثار پائے جاتے ہیں۔

اس تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ۴۷ فی صد نشریاتی کلپس کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں اسلام اور مسلمانوں کو بڑے منفی انداز سے پیش کیا گیا۔ ہر دس میں سے ایک مضمون میں اسلامی عقائد کی بالکل غلط تشریح کی گئی۔ اس تحقیق میں جو دیگر اہم نتائج اخذ کیے گئے، ان کے مطابق ۷ فی صد مضامین میں چند انتہاپسندوں کے رویوں کو عمومی رنگ دے کر پوری مسلم اُمہ پر تھوپا گیا۔ ۲۵ فی صد مضامین میں اسلام کو ’دہشت گردی‘ اور ’انتہاپسندی‘ سے جوڑا گیا اور ۱۸ فی صد میں اسلام کو سیاسی و عسکری مذہب دکھایا گیا اور ۱۷ فی صد میں اسلام کو محض مشرق وسطیٰ کے مذہب کے طورپر پیش کیا گیا۔

اس تحقیق کی اشاعت کے بعد روزنامہ The Mirror [اجراء:۱۹۰۳ء]کے ایڈیٹر ایلیسن فلپس نے کہا:’’ سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ کی یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی رپورٹنگ کے سلسلے میں بطور صحافی ہم جو کام کر رہے ہیں، وہ کسی طور مناسب نہیں ہے اور ہمیں اپنے ضمیر سے خود سوال کرنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ میڈیا میں کام کرنے والے ہر فرد کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے، وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ جو مواد بھی لکھےوہ منصفانہ اور ذمہ دارانہ ہو۔ یہ ذمہ داری ان لوگوں کے لیے اور بھی زیادہ اہم ہوجاتی ہے جو خبروں کی رپورٹنگ کا کام کرتے ہیں اور قومی اُمور پر ہونے والی بحث پر رائے دیتے ہیں۔ مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ رپورٹیں اور تجزیے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ میڈیا پر نشر ہونے والی زیادہ خبروں میں غلط بیانی اور تعصب پایا جاتا ہے‘‘۔

روزنامہ دی سنڈےٹائمز [اجراء: ۱۸۲۱ء]کی ایڈیٹر ایما ٹکر نے کہا: ’’میں اس تحقیق اور رپورٹ کا خیر مقدم کرتی ہوں، کیونکہ اس میں پریس اور میڈیا پر تنقید کے حوالے سے پوری ذمہ داری سے کام لیا گیا ہے۔ ہمارےپاس اب بھی غیرجانب داری اپنانے کا راستہ موجود ہے، لیکن خبرپیش کرنے والے کمروں میں فیصلے کرنے والے زیادہ تر لوگ وہی کچھ پیش کرتے ہیں جو عوام سننا، دیکھنا اور پڑھنا چاہتے ہیں‘‘۔

برطانوی مسلمانوں کی نمایندگی کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ’مسلم کونسل آف بریٹن‘ (MCB) کے سینٹر فار میڈیا مانیٹرنگ کی ڈائرکٹر رضوانہ حامد کا کہنا ہے کہ ’’ یہ تازہ ترین تحقیق اور رپورٹ کسی اخبار،نشریاتی ادارے ،صحافی یا رپورٹر پر الزام نہیں لگاتی، تاہم میڈیا انڈسٹری کے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنے کا وقت ہے کہ جب بھی مسلمانوں اور اسلام کے حوالے سے کوئی بات سامنے آتی ہے، تو عام طورپر اس کی رپورٹنگ صحیح انداز سے نہیں ہوتی اور اس میں کچھ نہ کچھ متعصبانہ رنگ کی ضرور ملاوٹ پائی جاتی ہے۔ میڈیا کے پیشہ ور افراد کو چاہیے کہ وہ کھلے دل سے اس تحقیق کا خیرمقدم کرتے ہوئے معاملات کی جانچ پڑتال کریں اور اپنے صحافتی معیار کو بہتر بنانے کے لیے اس تحقیق کی سفارشات کو عملی جامہ پہنائیں‘‘۔

اس تحقیق میں میڈیا کی اشاعتوں کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کی گئی ہیں اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جب تک جرم ، دہشت گردی یا انتہا پسندی کے حوالے سے کوئی واضح معلومات، حقائق اور معقول جواز موجود نہ ہو، اس وقت تک مسلمانوں کو اس سے جوڑنے، اور اس طرح مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ نیوز رومز میں لگے بندھے طریق کار پر عمل کرنے کے بجائے تنوع اور کشادہ دلی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ نامہ نگاروں کو ممکنہ تعصبات سے آگاہ کیا جائے اور ان کی رہنمائی کی جائے۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کے مصنف ،صحافی فیصل حنیف کے مطابق: ’’اگرچہ تنقید کرنا میڈیا کا حق ہے اور صرف مسلمانوں یا ان کے کسی رویے کو تنقید سے بچانا ہمارا مقصد نہیں ہے، لیکن اس سلسلے میں جانب داری سے کام نہیں لیا جانا چاہیے۔ ہم اس بات کی توقع رکھتے ہیں کہ اس طرح کی تنقید میں خصوصی احتیاط برتتے ہوئے صرف حقائق کو پیش کیا جائے اور اسلام کے بارے میں کوئی عمومی رائے زنی نہ کی جائے۔یہ تحقیق تعلیم و تحقیق سے وابستگان،نیوز رومز اور صحافی برادری کے لیے یکساں طورپر مفید ہے اور آنے والے برسوں میں یہ انھیں اسلام اور مسلمانوں کے عقائد کی رپورٹنگ کی کوریج کو بہتر بنانے کی طرف رہنمائی کرے گی‘‘۔(The Independent ،لندن، ۱۵جنوری ۲۰۲۲ء)۔(تجزیہ نگار، لندن، انگریزی سے ترجمہ: ادارہ)

تجزیہ نگار، انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی اسٹڈیز ، واشنگٹن۔ مصنف: The Rich Don't Always Win۔بعض خیالات میں ابہام کے باوجود، تجزیہ نگار نے بڑی جامعیت سے دولت کے ارتکاز، ریاستوں کی بے بسی، سیاست کاری کی فسطائیت اور انسانیت کی تذلیل کا کھیل بے نقاب کیا ہے، ترجمہ: س م خ

امریکا میں پائی جانے والی روایتی سیاسی سوچ___ معاشی عدل و مساوات کے ہر آئیڈیل تصور کو دیوانے کا خواب،جاہلانہ اصلاح کاری اوربائیں بازو کی انقلابی تحریکیت کا نام دیتی رہی ہے۔ ان کے خیال میں ’’ان لوگوں کو اس بات کا کوئی علم ہی نہیں کہ حقیقی دنیا کے معاملات کیسے چلتے ہیں؟‘‘۔ لیکن آج کے دور میں ایسے خیالوں اور خوابوں کی دُنیا میں رہنے والوں کا تعلق صرف بائیں بازو سے نہیں، بلکہ دائیں بازو کی سیاسی و معاشی ماہر ایبی انیس (Abby Innes) کے خیالات بھی جھنجوڑتے ہیں۔ جن کے نزدیک ’’منڈی کی معیشت ہی انسانیت کی حقیقی آزادی کا واحد دائرہ ہے، جب کہ معیشت میں حکومت کا عمل دخل اس آزادی کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ ہے‘‘۔ اس نقطۂ نظر کو '’نیو لبرل ازم‘ (Neoliberalism) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

’نیولبرل‘ کا یہ لیبل امریکیوں کے لیے سمجھنا کچھ زیادہ مشکل نہیں ہے۔اس لبرل ازم کا بیسویں صدی کے وسط کے ’نیو ڈیل‘ (New Deal) اور ’عظیم سوسائٹی‘ (Great Society) کے علَم برداروں کی سوچ سے کوئی واسطہ نہیں ہے، جو یہ سمجھتے تھے کہ ’’معیشت میں حکومت کا ایک لازمی کردار ہوتا ہے۔ محنت کی اجرت، اوقات کار کے تعین سے لے کر کاروباری اشتہارات اور کاروباری اداروں کے انضمام تک ہر معاملے میں عوامی مفادات کی نگرانی اور تحفظ کی ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے‘‘۔ مگر یہاں پر ہم دیکھتے ہیں کہ نیولبرلز کے خیالات ان حدود کے بالکل برعکس ہیں۔  ان کی نظر صرف اپنی صنعتی اور کاروباری کارپوریشنوں کی وسعت، بڑے پیمانے پر گاہکوں کی تلاش اور ہرجگہ پر رسائی تک ہوتی ہے۔ یہ نیولبرلز ’لندن اسکول آف اکنامکس کی تجزیہ کار ڈاکٹرایبی انیس کو قومی دولت بنانے والی ایک معزز دانش ور سمجھتے ہیں، جن کا ’آزادانہ ضابطہ بندی کا تصور‘ ہمیشہ ریاستی عمل سے برتر مانا جا رہا ہے۔

نیولبرلز کا دعویٰ ہے کہ’ ’معاشی کشاکش میں ریاستی عمل کو کم سے کم کرنے کے نتیجے میں  معاشرے، بغیر کسی رکاوٹ (frictionless) کے طلب و رسد میں کامل ہم آہنگی حاصل کر تے ہوئے اعلیٰ کارکردگی کے معیارات حاصل کر سکتے ہیں‘‘۔ ’بغیر کسی رکاوٹ کی دُنیا‘ اور اس کامل ہم آہنگی کے ماحول میں سرمایہ دار اور شیئر ہولڈرز (حصہ دار/ساجھی)اپنے منافع کو خودکار طریقے سے سرمایہ کاری اور منافع پانے کے لیے باربار دُہراتے چلے جائیں گے، جس سے عوام الناس کو بہت فائدہ ہوگا‘‘۔

مادر پدر آزاد ’منڈی کی معیشت‘ (Market Economy) کے اس خوش کن نعرے کی جڑیں انیسویں صدی کے اوائل تک پھیلی ہوئی ہیں، جو بیسویں صدی کے وسط تک کافی حد تک کمزور ہوگئی تھیں۔ ۱۹۴۴ء میں ایک معروف ہنگری نژاد معاشی مؤرخ کارل پولانی (Karl Polanyi، م:۱۹۶۴ء) نے مارکیٹ کے دیوتا کی اس پوجا کو ’کھلی فریب کاری‘ قرار دیا تھا۔ لیکن بیسویں صدی کے آخر میں کھلی معاشی فریب کاری کا یہ نظریہ ایک بار پھر بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب زیادہ قوت، زیادہ وسعت اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ واپس آگیا۔

۱۹۷۹ء میں برطانیہ میں مارگریٹ تھیچر کی بطوروزیراعظم کامیابی اور ۱۹۸۰ء کے امریکا میں رونلڈ ریگن کی بطورِ صدر کامیابی کے ساتھ ہی نیولبرل ازم کے بنیادی اصول ایک ’معیاری گیم پلان‘ [یعنی سوچی سمجھی حکمت عملی اور ہدف حاصل کرنے کا لائحہ عمل] کا حصہ بن گئے۔ اس کے بعد امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے یکے بعد صدور نے اسی ’گیم پلان‘ کی اشاعت میں حصہ ادا کیا اور اس پر عمل درآمد جاری رکھا ۔آج چار عشرے گزرنے کے بعد ہم سب اس کے دردناک نتائج اور تکلیف دہ اثرات کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔

آج کا امریکا وہ سب کچھ بن چکا ہے، جسے ڈاکٹر ایبی انیس ’’مادیت پسند یوٹوپیا کا آخری مرحلہ‘‘ قرار دیتی ہیں۔ یہ مرحلہ، بگٹٹ کاروباری اشرافیہ کے لیے ایسی ’چراگاہ‘ کا منظر پیش کرتا ہے، جو دنیابھر کی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ لوگ قومی سیاست کو بدعنوانی کے ذریعے قابو کرتے ہیں۔ انھوں نے غیرمنصفانہ ہتھکنڈوں، استحصالی چالوں اور غیر مساوی معیشت کے ذریعے کروڑوں گھرانوں کو بے معنی مسابقت کی ایک ایسی جہنم میں دھکیل دیا ہے، جہاں وہ نام نہاد مڈل کلاس جیسا معیارِ زندگی پانے اور کھوکھلی نمود و نمائش برقرار رکھنے کے لیے دن رات جدوجہد کر رہے ہیں۔

’سرمایہ پرستوں کی جنّت‘ [یوٹوپیا] کے اس آخری مرحلے میں دنیا بھر کی معیشت پر صرف چند امیروں اور بڑی کارپوریشنوں کا قبضہ ہے۔ انھیں حکومتی اور ریاستی کردار کو ختم کرنے یا محدود کرنے کی بھی ضرورت نہیں رہی ہے۔ انھوں نے حکومتی کردار کو کم کرنے کے بجائے خود حکومتی فیصلہ سازی کے ان اداروں پر قبضہ کرکے اپنے اختیار کو مزید وسعت دے دی ہے۔ ان لوگوں کا قبضہ اب صرف حکومتوں پر ہی نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں پر بھی ہے۔ یہ اپنے ذاتی اہداف اورفائدے کے لیے خود براہِ راست انتخابی سیاست میں حصہ بھی لیتے ہیں۔ جب یہ مادیت پسند اور مفاد پرست عناصر ان پارٹیوں کی سربراہی حاصل کر لیتی ہیں، تو سیاسی جماعتوں کی حیثیت کاروباری دلالوں (Corporate brokers) سے زیادہ نہیں رہ جاتی۔ پھر ان جماعتوں کا کام صرف عوامی محصولات کی بندربانٹ اورپوری معیشت کی نجی ہاتھوں کے ذریعے نگرانی کروانا رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایبی انیس کے مطابق: ’’یہ مقبولِ عام آمرانہ سیاست (populist authoritarian politics) کا ایسامرحلہ ہے، جو پوری کاروباری دُنیا کو گھیرنے کا ایک مؤثر نظام بن جاتا ہے‘‘۔

دولت مندوں اور سرمایہ پرستوں کی اس ’جنت‘ میں پبلک سیکٹر (سرکاری شعبہ) پہلے سے زیادہ بدعنوان اور پرائیویٹ سیکٹر (نجی شعبہ)پہلے سے زیادہ بدمعاش بن جاتا ہے ۔ معاشی اعتبار سے کچلے، سسکتے، پسے ہوئوں اور معمولی آمدنی رکھنے والوں کو ہرموقعے پر خوب نچوڑا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے منافع کو ’سرمایہ کاری‘ یا ’ری انوسٹمنٹ‘ کے نام پر شیئر ہولڈروں کی چاندی اور ایگزیکٹو نشستوں پر اُٹھلانے والوں کو بھاری ادائیگیوں کی صورت میں خرچ کیا جاتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ’’کیا ہم آج اس سفاک اور رنج و کرب سے بھری ’مادیت پسندانہ جنّت‘ کی تباہ کاری سے بچ سکتے ہیں؟‘‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ’’یقینی طورپر ایسا ممکن ہے، لیکن یہ صرف اس صورت میں کہ جب ہم اپنی سیاسی توانائیوں اور جدوجہد کو دولت اور طاقت کا ارتکاز  کم کرنے پر مرکوز کریں۔ وہ سیاست کاری اور حکومتی و انتظامی کھیل، جو ہمارے مفلوج عصری سیاسی نظام، سرطان زدہ معیشت اور نفرت انگیز ثقافتی تماشے کو دبوچے ہوئے ہے ۔

دولت کے ارتکاز اور سیاسی طاقت کے اس اژدھا کو ہم گذشتہ چار عشروں سے بھگت رہے ہیں۔ ’بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس‘ (Bloomberg Billionaires Index)کے مطابق ۲۰۲۱ء کے سال کا اختتام دس امریکی ’گہری تجوریوں‘ (deep pockets)، کے ۱۰۰؍ارب ڈالر سے زائد ذاتی اثاثوں پر ہوا،جب کہ ۱۹۸۲ء میں فوربز کے بقول: امریکا کے ۴۰۰؍ امیر ترین افراد کی سالانہ فہرست میں ان کے پاس محض ۲؍ارب ڈالر کی دولت تھی۔ اس فہرست میں صرف ۱۳؍امریکی ارب پتی شامل تھے، جن میں سے زیادہ تر پٹرولیم کے کاروبار سے منسلک تھے۔ پچھلے سال امریکا نے ۷۴۵؍ارب پتیوں کی فہرست بڑے فخر سے شائع کی، جن کے مجموعی اثاثے ۵ ٹریلین ڈالر سے زائد تھے۔[دُنیا کے پہلے ۱۰ کھرب پتیوں کے پاس ایک ہزار ۴ سو ۲۸ ؍ارب اعشاریہ ۵ لاکھ ڈالر ہیں۔ ان دس میں صرف ایک فرانسیسی اور باقی ۹؍امریکی ہیں۔حوالہ بالا، ۲۰ جنوری ۲۰۲۲ء]

اس طرح دل دہلا دینے والا یہ سوال آج انسانیت کے سامنے کھڑا ہے کہ ’’کیا یہ فانی انسان، دولت کے اس بے پناہ ارتکاز کو کبھی چیلنج کر سکے گا؟‘‘ اس کا جواب ہے: ’’جی ہاں ضرور‘‘۔

 معمولی ذرائع آمدن رکھنے والے عام امریکیوں نے ایسے نظام کو پہلے بھی چیلنج کیا اور نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ امریکی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو انیسویں صدی کے اختتام تک یہاں کے انتہائی امیر لوگ بالکل اسی طرح پوری قوم پر چھائے ہوئے تھے، جس طرح آج کے دور کے امیرکبیر پوری دنیا پر مسلط۔ مگر پھر عوامی جدوجہد کے سنہری دور میں انھیں شکست ہوئی اور ۱۹۵۰ء کے عشرے میں امریکا نے ایک ایسے عجیب معاشرے کو جنم دیا، جو اس سے پہلے دنیا میں کہیں نہیں دیکھا گیا اور یہ تھا بہت بڑے پیمانے پر مڈل کلاس کا معاشرہ۔ اگر آج بھی مالیاتی ارتکاز کے جال کو توڑنے کے لیے ہم اُٹھ کھڑے ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ۲۰۲۱ء آج کے امیر ترین لوگوں کے عروج کا آخری سال ثابت ہو، اور مستقبل کے مؤرخین یہ لکھیں کہ ’’ ۲۰۲۲ء سے ان کے زوال کا دورشروع ہوا اور عوامی جدوجہد نے متوسط طبقے کو دوبارہ وسعت دی‘‘۔(کاؤنٹر پنچ، ۱۰جنوری ۲۰۲۲ء)

سماجی زندگی میں لوگوں کی بڑی تعداد معاشی اعتبار سے کاروبار سے منسلک ہوتی ہے۔ مگر پیسہ کمانے کے باوجود اطمینان کی دولت سے خالی رہتی ہے۔ پیسہ ایک ہاتھ سے آتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے خرچ ہو جاتا ہے یا پھر بنکوں اور تجوریوں میں دفن رہتا ہے۔ یہاں پر کاروبار کی ان مختلف پہلوئوں میں ناکامی اور کامیابی کے عناصر پر نکات کی صورت میں روشنی ڈالی گئی ہے:

کل کے غریب آج کے مالدار (پہلا دور)

  • عمومی طور پر معاشی اعتبار سے غریب لوگ ،لگن اور جستجو سے آگے بڑھتے ہیں۔
  • ان کی ایک تعداد غربت سے نکلتی ہے اور امارت اور عمارت کی مکین ہو جاتی ہے۔
  • یہ لوگ اکثر اکیلے ہی خاندان کی کشتی کو چلا کر دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
  • یہ لوگ خوددار ہوتے ہیں اور ان کی عزت نفس بہت بلند ہوتی ہے۔
  • یہ لوگ اپنی اولاد کو چھاؤں پہنچانے کے لیے اپنی زندگی دھوپ میں گزارتے ہیں۔
  • یہ لوگ محنت اور مشقت کو اپنی بقا سمجھتے ہیں۔ دن رات کی محنت ان کو تخلیقی ذہن کا حامل بنا دیتی ہے۔
  • کم تعلیم، کم تجربہ، مگر بے پناہ لگن اور جہد مسلسل ان کی ترقی کا باعث ہوتی ہے۔
  • یہ لوگ اپنے آیندہ کل کو بہتر بنانے کے لیے اپنے آج کو خلوصِ نیت اور محنت سے خرچ کرتے ہیں۔
  • یہ لوگ اپنی عزتِ نفس کی بقا کے لیے نقل مکانی کے متلاشی ہوتے ہیں اور اس راہ میں بہت سی قربانیاں بھی دیتے ہیں۔
  • وہ ہر چھوٹی سی چیز کو موقع اور امکانات کی دُنیا سمجھ کر استعمال میں لاتے ہیں۔
  • محدود تصور کے ساتھ اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں۔
  • کسی کے ساتھ شرکت تو کرتے ہیں مگر معاہد ہ نہیں کرتے۔ ’دیکھ لیں گے‘، ’ہو جائے گا‘ کا لہجہ اختیار کرتے ہیں۔
  • بعض لوگوں پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔
  • کسی سے پیسہ لیا، لیکن اس کی نوعیت متعین نہیں کی کہ یہ قرض ہے یا سرمایہ کاری۔ بعد میں اس رقم کی واپسی کے وقت جھگڑے کورٹ کچہری تک لے جاتے ہیں۔
  • بے نامی ریکارڈ رکھا جاتا ہے، کام بڑھ جائے تو اپنی ملکیت اور جائیداد دوسروں کے نام کردی جاتی ہے ۔
  • اسے تحریر ی صورت نہیں دی جاتی کہ یہ امانت ہے یا ہبہ ہے۔
  • اپنے اثاثوں کی فہرست اپنی ذات کی حد تک چھپاکر رکھتے ہیں۔
  • عموماً یہ لوگ ٹیکس کو بوجھ سمجھتے ہیں اور کچھ خیرات کرکے سمجھتے ہیں کہ ہم نے حق ادا کردیا۔
  • ٹیکس ریاست کا حق ہے ،ہمیں اپنا فرض پورا کرنا ہے اور ہم خیرات کرکے ریاست کے فرض سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔

ترقی اور عروج کا دور (دوسرا دور)

  • ان کی ترقی بغیر منصوبہ بندی کے ہوتی ہے۔
  • بعض اوقات افزائش اپنی صلاحیت سے باہر ہوجاتی ہے اور معاملات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں۔
  •  غربت اور مشکل حالات بہت کچھ سکھا دیتے ہیں، جس کے باعث وہ بہت محتاط رویہ رکھتے ہیں۔
  • اپنی فاضل آمدنی کو پلاٹس میں لگا لیتے ہیں، اور ان سے چند سالوں کے بعد کثیر فائدہ ملتا ہے۔
  • بچّے ہوتے ہیں، تعلیم بھی دلواتے ہیں، لیکن نہ تو وقت دے سکتے ہیں اور نہ تربیت کرسکتے ہیں۔
  • بچوں کی کیریر پلاننگ نہیں ہوتی۔
  • بڑے مکانات پر بڑا سرمایہ لگ جاتا ہے ، لیکن اولاد کی کاروبار کے تسلسل کے حوالے سے تربیت نہیں ہوتی۔
  • اپنی دولت کے اظہار یا عزّت کے نام پر بچوں کی شادیوں پر بڑی رقم خرچ کرتے ہیں۔
  • انھیں یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ غیر معمولی فرا وانی، ناانصافی اور حق تلفی کے بغیر نہیں آسکتی۔ اور یہ نا انصافی غلط بیانی، دھوکا دہی، حق تلفی، چوری اور ٹیکس کی ادائیگی میں ہوشیاری اور وراثت کی تقسیم میں کوتاہی کے باعث ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ دولت اور فراوانی نہ تو ان کو راس آتی ہے اور نہ اولاد ہی کو فائدہ دیتی ہے۔

 خطر ناک حالات اور زوال کا دور (تیسرا دور)

  • چونکہ منصوبہ بندی اور متبادل وسائل کی کمی ہوتی ہے، لہٰذا کوئی ایک جھٹکا کاروبار بٹھا دیتا ہے۔
  • بعض اوقات بیماری یا موت کے باعث پورا خاندانی وقار زمین بوس ہوجاتا ہے۔
  • بعض اوقات کسی رشوت خور سرکاری ملازم کی خواہش پوری نہ کرنے پر کمزور بنیادوں پر کھڑا  پورا بزنس بیٹھ جاتا ہے۔
  • بعض اوقات مقابل لوگوں، اور قریبی رشتہ داروں کا حسد بھی تباہی کی جانب لے جاتا ہے۔
  • چونکہ کاروبار کی قانونی ملکیت تحریری طور پر نہیں ہوتی اور ٹیکس میں خیانت ہوتی ہے، نیز صحیح آمدنی اور اثاثہ جات کے اعتراف کی کمی ہوتی ہے ، اس لیے کاروبار کا تسلسل خطرے میں رہتا ہے۔ ہر کام کو کرنے اور کرانے کے لیے کرپشن کے پل کو پار کرنا ہوتا ہے۔
  • اس قسم کے لوگ عام طور پر پولیس اور درمیانے درجے کے سرکاری لوگوں سے تعلق رکھتے ہیں، جس سے خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ کشتی میں ایک سوراخ ہی ڈوبنے کے لیے کافی ہے۔

ناکامی کی ذاتی وجوہ اور رویہ

  • کاروبار کا مقصد اور اس کی سمجھ نہ ہونا۔ کیا، کیوں، کیسے، کب، کہاں اور کون کی سمجھ نہ ہونا۔
  • بغیر تجربے کے کوئی کام شروع کرنا، مگر کام کرنے کی اہلیت تو ضروری ہے۔
  • بغیر تربیت کے کام کرنا جسے آپ جانتے نہیں ہیں۔
  • وہ لوگ جو زندگی بھر ملازمت کرتے رہے ہیں، ریٹائرمنٹ کے بعد کاروبار شروع کرتے ہیں تو عموماً ناکام ہوجاتے ہیں۔
  • دوسروں کے کندھے پر بغیر کسی تحریری اور معقول معاہدے کے سرمایہ کاری کرنا۔
  • ہر کام خود کرنا اور دوسروں پر اعتماد نہ کرنا۔
  • بچت محفوظ نہ رکھنا،ذاتی اور کاروباری دولت کا خلط ملط ہوجانا۔
  • صحت کا خیال نہ رکھنا، شدید بیماری یا گھر کے کسی اہم رکن کی موت انسان کو توڑ دیتی ہے۔
  • خود غرض طرزِعمل انسان کو غیر معروف بنادیتا ہے۔
  • کاروبار میں کبھی جھوٹ بولا گیا ہو تو زندگی بھر کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے۔
  • احساسِ ذمہ داری کا نہ ہونا اور سنجیدگی کا فقدان ۔
  • نیٹ ورک اور تعلقات عامہ کا نہ ہونا۔
  • مشورے کو ماننے کے بجائے محض بحث کرنا اور لوگوں سے اُلجھنا اور اپنے راز افشاںکردینا۔
  • اچانک کسی بڑے پراجیکٹ میں ہاتھ ڈالنا اور پروفیشنل لوگوں سے حقائق جانے بغیر بڑی ذمہ داری لے کر کاروبار کا ڈوب جانا۔

ذاتی وجوہ جن کا تعلق شخصیت  سے ہـے

  • اس بات کا علم نہ ہونا کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟
  • معاملات میں حُسن نیت کا نہ ہونا اور حقوق العباد(جن میں ملازمین بھی شامل ہیں) کی ادائیگی میں کوتاہی کرنا۔
  • خود سری اور لوگوں کی بات اور مشوروں کو نہ سننا۔
  • تکبر اور ترش روئی اپنانا، تلخ باتیں کرنا، کھری کھری سنا دینا اور خوش مزاجی کا نہ ہونا۔
  • اپنے معاملات کا منظم اور مربوط نہ ہونا۔
  • ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے دوسروں کو ذمہ دار ٹھیرانا۔
  • سستی، کاہلی اور تساہل اور کام سے جی چرانا اہم معاملات سے لا پروا ہونا۔
  • ہر وقت حالت خوف میں رہنا اور مستقل مزاجی نہ رکھنا۔
  • صحیح لوگوں سے رابطہ نہ ہونا۔
  • جوکھم اور رسک کا نہ لینا، محض سوچتے رہنا۔
  • کساد بازاری کے وقت اپنے قیمتی اثاثہ جات بیچنا۔
  • بری عادات میں ملوث ہونا۔
  • عقل، ہوشیاری،مفاہمت اور مفاہمانہ رویہ کی کمی۔
  • رائے کی قربانی کے جذبہ کی کمی۔
  • معمولی منافع کی اہمیت کو نظرانداز کرکے بڑے منافع ہی پر نظر رکھنا۔

بڑی تصویر کا نہ ہونا اورتحریری معاملات میں کمی

  • بھائیوں، اولاد، والدین، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کا کاروبار میں بغیر کسی تحریر اور ضابطے کے داخل ہونا اور نفع میں سے رقم لینا۔
  • باہم مزاجوں کا اختلاف، اور اس میں ضد کرنا۔
  • کاروباری معاملات ضبط تحریر میں نہ لانا اور صرف زبانی کلامی پر گزارا کرنا۔
  • امانت داری اور سچائی اور انصاف سے ہٹ کر کاروباری معاملات چلانا اور ذاتی اور غیرضروری اخراجات کاروبار کی مد میں ڈالنا۔
  • شریک کاروبار لوگوں کا کاروبار پر قبضے کی کوشش کرنا اور دیگر افراد کو بے وقوف بناکر، دھوکا دے کر یا غلط بیانی کرکے نکالنا۔
  • والدین کی وراثت کی تقسیم میں ناانصافی، حیلے اور حجت کے ذریعے انصاف کے تقاضوں کا پورا نہ کرنا۔’جس پر جس کا قبضہ ہے، وہی اس کا ہے‘ کے اصول پر وراثت کا بٹوارہ ہونا۔
  • تسلسل کی منصوبہ بندی کا نہ ہونا۔ میرے بعد کاروبار کس انداز سے چلے گا، نہ غور اور نہ ہی فکر۔

 قانونی معاملات

  • قانون اور کاروباری روایت کا علم نہ ہونا۔
  • مارکیٹ کلچر سے عدم واقفیت اور مارکیٹ کے ضابطوں کو نہ سمجھنا۔
  • کاروبار کی باضابطہ شکل نہ ہونا۔انفرادی کاروبار ہے، شراکت ہے یا کمپنی ہے؟
  • ٹیکس دینے کے معاملے میں کوتاہی کرنا اور پھر کسی وقت پھنس جانا۔
  • کرپشن کے ذریعے قانونی معاملات سے بچ کر نکلنے کی کوشش۔
  • متعلقہ قوانین کے معاملے میں مشاورت اور فہم کی کمی۔
  • تحریری معاہدہ کا نہ ہونا اور جن کے ساتھ معاملات ہیں، وہ طاقتور اور پریشان کن بھی ہیں۔
  • ٹریڈ مارک یا پیٹنٹ رجسٹر نہ کروانا۔

 مالیاتی ا مور اور فنانس

  • بغیر تجربہ، معلومات اور فیزیبیلیٹی کے کام شروع کرنا، اور ابتدا ہی میں غیرضروری اخراجات کرلینا۔
  • سرمایہ کی کمی اور تسلسل کے ساتھ کیش کی موجودگی کا نہ ہونا،اور ادھار ہی پر معاملات کو چلانا۔
  • صرف بک کیپنگ کروانا مگر اکائونٹنٹ کا نہ ہونا۔
  •  سود کے معاملات میں ملوث ہونا،اپنی اہم اور قیمتی پراپرٹیز کو گروی رکھوالینا۔
  • سفید پیسوں کا الگ اور سیاہ پیسوں کا الگ الگ بنک اکاؤنٹ ہونا۔ پھر اسی سیاہ کو سفید کرنے کے لیے وہ طریقہ اختیار کرنا جس کے باعث کاروبار میں اعتبار کی کمی ہوجائے۔
  • اپنے اخراجات پر کنٹرول نہ ہونا۔
  •  مشترکہ کاروبار میں، جس میں ’محنت، سرمایہ اور تقسیم‘ کا فارمولا مختلف ہو، اپنے ذاتی اثاثہ جات کی زکوٰۃ کو کاروبار میں ’چیریٹی‘ (خیرات) کے نام سے چارج کرنا۔
  • دکھاوے کی خاطر زیادہ کرایہ کا بڑا دفتر اور مکا ن لے لینا اور اَنا کی خاطر بڑے اخراجات کرنا۔
  • قسم کھاکر اپنی لاگت زیادہ ظاہر کرنا اور کہنا کہ اتنے میں تو گھر کی خرید ہے۔
  • افسوس کہ اکثر صورت میں ہمارا دینی طبقہ بھی اس معاملے میں ملوث ہے۔ ٹیکس کی ادائیگی میں ان کا جو تصور اور رویہ ہے، علمائے کرام کو اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بہت سے دین دار لوگوں کی جانب سے ٹیکس ڈاکومنٹ پر جو دستخط کیے جاتے ہیں اس میں سچائی کافی فاصلے پر ہوتی ہے۔

 مارکیٹنگ کے حوالے سے

  • مارکیٹ اور گاہکوں کو سمجھنے میں غلطی اور گاہکوں کو متوجہ کرنے کا پلان نہ ہونا۔
  • گاہکوں کے ساتھ تکلیف دہ رویہ اور گاہکوں کے ذہن اور نفسیات کے علم کی کمی۔
  • کوالٹی مال کا فراہم نہ ہونا۔
  • معاشرے کے مزاج سے ہٹ کر اشتہار بازی کرنا۔
  • بغیر طلب کے سپلائی کرنا اور گاہکوں کی ضروریات کا اندازہ نہ ہونا۔

کاروباری حکمت عملی کے حوالے سے

  • صورت حال کی نوعیت پر توجہ نہ دینا اور فیصلہ نہ کرنا۔
  • حالات سے بے خبری اور صرف ردِعمل کا شکار رہنا۔
  • کاروباری معاملات کو استطاعت سے زیادہ پھیلانا۔
  • ایسا کاروبار شروع کردینا جس میں مقابلہ سخت ہو اور نفع کی گنجائش نہ ہو۔
  • کاروبار اور اسے چلانے کے طریقوں کا دور جدید کے تقاضوں کے مطابق نہ ہونا۔
  • صر ف ایک ہی گاہک یا چند گاہکوں پر تکیہ کرتے رہنا۔
  • اپنے حریفوں کو کمزور سمجھنااور اپنے حلیفوں پر اندھا بھروسا کرنا۔
  • ناکامیوں سے سبق لینے کی کمی۔

 انتظامی حوالے سے وسائل کا درست استعمال نہ کرنا

  • کمزور انتظامی معاملات اور صلاحیتیں اور متفرق انتظامیہ۔
  • چیک پر خود دستخط نہ کرنا۔
  • لوگوں پر ان کی صلاحیت سے زیادہ کام ڈالنا۔
  • کب ’نہ‘ کہنا، کب ’چپ‘ رہنا کا شعور نہ ہونا۔
  • مناسب ٹیم کا تیار نہ کرنا، اہل اور نااہل سے ایک ہی طرح سے معاملہ کرنا۔
  • باصلاحیت اور محنت کرنے والے کاریگروں کی کمی اور جاسوس ملازمین پر انحصار۔
  • ملازمین کی جاب ڈسکرپشن نہ ہونا اور ان کا با اختیار نہ ہونا۔

 چند خاموش اور ناقابل بیان وجوہات

  • اپنے مال کی زکوٰۃ نہ نکالنا۔زکٰوۃ سے بچنے کے لیے طریقے نکالنا۔زکوٰۃ کے لاگو ہونے کی تاریخوں سے کھیلنا۔
  • اپنے مال کی زکوٰۃ تو نکالنا مگر اپنے نفع میں سے صدقات اور خیرات نہ نکالنا۔ بنو ہاشم کا اپنے نفع سے خیال رکھنا کیونکہ ان پر زکوٰۃ خرچ نہیں کی جاسکتی۔
  • اپنے قریبی رشتہ داروں کا خیال نہ رکھنا، قطع تعلق ہونا اورلاپروا ہونا۔
  • سود اور دیگر قسم کے ممنوعہ معاملات کرنا۔سٹہ کھیلنا اور وقتی فائدہ اٹھا لینا۔
  • لوگوں کی حق تلفی کرنا، جھوٹ بولنا، غلط بیانی کرکے دوسروں کا نقصان کرکے اپنا فائدہ کرنا۔افواہ یا غلط خبر پھیلاکر لوگوں کو مجبور کرنا کہ وہ اپنا حق چھوڑ دیں۔
  • لوگوں کے جائز حقوق سلب کرنا اور انھیں اپنی شرائط منوانے کے لیے مجبور کرنا۔
  • فون کی خفیہ ریکارڈنگ کرنا اور لوگوں کو بلیک میل کرنا۔خفیہ کیمرے رکھ کر وڈیوز بنانا۔
  • لاگت کے معاملہ میں غلط بیانی کرنا اور جھوٹ بولنا۔
  • جو اخراجات آپ کے اپنے ہیں، انھیں اپنے گاہکوں پر ڈالنا۔
  • ریکارڈ صحیح نہ رکھنا اور نفع میں شریک کو اس کا حق نہ دینا۔
  • مشترکہ پراجیکٹ کی لاگت زیادہ بتانا اور پھر زائد رقم سے اپنا مفاد حاصل کرنا۔
  • اپنے نفع میں سے ملازمین کی غیر معمولی کاوش کا حق نہ دینا۔کام کرنے والے اور اپنے آپ کو مصروف دکھانے والے کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا۔

خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم!

قرآنِ مجید سے پتا چلتا ہے کہ صرف چار حالتیں ایسی ہیں، جن میں انبیا ؑ مبعوث ہوئے ہیں:

  • اوّل یہ کہ کسی خاص قوم میں نبی بھیجنے کی ضرورت اس لیے ہو کہ اس میں پہلے کبھی کوئی نبی نہ آیا تھا اورکسی دوسری قوم میں آئے ہوئے نبی کا پیغام بھی اُس تک نہ پہنچ سکتا تھا۔
  • دوم یہ کہ نبی بھیجنے کی ضرورت اِس وجہ سے ہو کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کی تعلیم بھلا دی گئی ہو، یا اس میں تحریف ہوگئی ہو، اور اس کے نقش قدم کی پیروی کرنا ممکن نہ رہا ہو۔
  • سوم یہ کہ پہلے گزرے ہوئے نبی کے ذریعے مکمل تعلیم و ہدایت لوگوں کو نہ ملی ہو اور تکمیل دین کےلیے مزید انبیاؑ کی ضرورت ہو۔
  • چہارم یہ کہ ایک نبی کے ساتھ اس کی مدد کے لیے ایک اورنبی کی حاجت ہو۔

اب یہ ظاہر ہے کہ قرآن خود کہہ رہا ہے کہ آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام دُنیا کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا گیا ہے،اور دُنیا کی تمدنی تاریخ بتارہی ہے کہ آپؐ کی بعثت کے وقت سے مسلسل ایسے حالات موجود رہے ہیں کہ آپؐ کی دعوت سب قوموں کو پہنچ سکتی تھی اور ہروقت پہنچ سکتی ہے۔

قرآن اس پر گواہ ہے، اور اس کے ساتھ حدیث و سیرت کا پورا ذخیرہ اِس امر کی شہادت دے رہا ہے کہ آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم بالکل اپنی صحیح صورت میں محفوظ ہے۔ اس میں مسخ و تحریف کا کوئی عمل نہیں ہوا۔ جو کتاب آپؐ لائے تھے، اس میں ایک لفظ کی بھی کمی بیشی آج تک نہیں ہوئی، نہ قیامت تک ہوسکتی ہے۔ جو ہدایت آپؐ نے اپنے قول و عمل سے دی، اس کے تمام آثار آج بھی اس طرح ہمیں مل جاتے ہیں کہ گویا ہم آپؐ کے زمانے میں موجود ہیں۔ پھر قرآنِ مجید یہ بات بھی صاف صاف کہتا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دین کی تکمیل کردی گئی ہے ،لہٰذا تکمیل دین کے لیے بھی اب کوئی نبی درکار نہیں رہا۔(’تفہیم القرآن ‘، سیّدابوالاعلیٰ مودودی، ماہ نامہ  ترجمان القرآن، جلد۵۷،عدد ۵، فروری ۱۹۶۲ء، ص۵۰-۵۱)