مضامین کی فہرست


جولائی ۲۰۱۰

عبداللّٰہ ،لاہور

’فتح بیت المقدس کا جشن‘ (جون ۲۰۱۰ئ) میں حضرت عمرؓ کے معاہدے کی تحریر پڑھ کر مسلمانوں کی عظمت اور اس تاریخ ساز لمحے کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوگئی۔ آج کے ’مہذب‘ مغرب کے لیے اس معاہدے میں بڑا سبق ہے۔ اس تاریخ ساز دن کو ہرسال منایا جائے۔ اس تقریب کا انعقاد اُمت مسلمہ کے لیے ایک نئے  عزم اور ولولۂ تازہ کا باعث ہوگا۔ ایک غلطی کی تصحیح بھی کرلیں کہ بحرمُردار ’جاے عبادت‘ (ص ۷۷) نہیں بلکہ جاے عبرت ہے۔ ’بنگلہ دیش: عوامی لیگ کی اسلام دشمنی‘ بھی مفید تحریر ہے اور اہم معلومات سامنے آئیں۔ ان دگرگوں حالات میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی جدوجہد یقینا ایمان و استقامت اور عزم و حوصلے کا ثبوت ہے۔


ڈاکٹر محمد اسحاق منصوری ،کراچی

’علوم کو اسلامیانے کے نام پر‘ (جون ۲۰۱۰ئ) ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کا ایک اچھا ناقدانہ مضمون ہے، تاہم اس کا اسلوب جارحانہ ہے۔ اگر انداز ناصحانہ ہوتا تو شاید اس سے بھی بہتر تاثیر ہوتی۔


محمد طارق فاروق بھٹی ، وہاڑی

’سیرتِ رسولؐ پر اعتراضات کا جائزہ‘ (مئی ۲۰۱۰ئ) بروقت اور اہم تحقیقی مقالہ ہے۔ نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے توہین آمیز خاکے بنانے کا اصل محرک سامنے آتا ہے۔ ’بھارت اور عالمِ اسلام‘ سے بھارت کے بڑھتے ہوئے اثرات کا اندازہ ہوا جو باعث ِ تشویش ہے۔ امیرجماعت کا مضمون ’رجوع الی اللہ___ وقت کی اہم ترین ضرورت‘ سوزاور تڑپ لیے ہوئے ہے۔


شفیق الرحمٰن انجم ، قصور

’سیرتِ رسولؐ پر اعتراضات کا جائزہ‘ (مئی ۲۰۱۰ئ) گستاخانِ نبوت کی مذموم حرکتوں کا بہترین احاطہ کرتا ہے۔ لیکن اصل میں یہ ہمارا امتحان ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ سنتِ نبویؐ پر عمل پیرا ہوکر اہلِ مغرب کو   اپنی فیس بُک پر حضور کا پیغام پیش کریں۔

تصحیح: میرے مضمون: ’علامہ اقبال اور مسئلہ فلسطین‘ (جون ۲۰۱۰ئ) میں یہودی لیڈر کا نام ’تھیوڈور ہرزل‘ چھپاہے۔ اس کا صحیح تلفظ اور املا ’تیوڈور ہرسل‘ ہے، براہِ کرم تصحیح فرما لیں۔(رفیع الدین ہاشمی)


حافظ محمد ایوب ، اسلام آباد

مولانا معین الدین خٹک سے ایک بار پوچھا کہ تحریک کے ابتدائی کارکنان کے بارے میں کچھ بتائیں۔ کچھ سوچ کر بولے۔ ۱۹۵۲ء کراچی میں جماعت ِ اسلامی کا اجتماعِ عام منعقد ہوا۔ رفقا کے قافلے بسوں اور ٹرینوں کے ذریعے جوق در جوق کراچی کی طرف چل پڑے۔ موضع شیخ سلطان ٹانک (سرحد) کے تین ساتھیوں نے جو بے انتہا غریب تھے، اجتماع میں شرکت کا ارادہ کرلیا۔ کسی دوسرے ساتھی سے نہ مالی تعاون لیا اور نہ جماعت کے بیت المال ہی پر بوجھ بنے۔ یہ مذکورہ تینوں ساتھی کراچی کی جانب پیدل چل پڑے۔ ایک آنہ کی دو روٹیاں اور جی ٹی روڈ پر ایسے ہوٹل بھی ہوا کرتے تھے جہاں آنہ روٹی دال مفت بھی مل جایا کرتی تھی۔ دن بھر سفر کرتے، رات کسی مسجد میں نمازِ عشاء کے بعد آرام کرتے اور نماز فجر پڑھ کر سفر جاری رکھتے۔ استقبالیہ کیمپ سہراب گوٹھ لبِ سڑک تھا۔ ناظم استقبالیہ نے آمدہ قافلہ سے دریافت کیا کہ جناب آپ کہاں سے اور کیسے پہنچے؟ جواب سن کر کیمپ میں موجود کارکنان حیران رہ گئے۔ اجتماع گاہ میں قائد تحریک سیدمودودیؒ کو اطلاع  دی گئی۔ مولانا استقبالیہ میں تشریف لائے اور اس قافلے کا خود استقبال کیا۔ اِس قافلے کو قافلۂ سخت جان کا نام سیدصاحب نے دیا۔ ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھ گئے۔ سب کی آنکھوں سے موتی چھلک پڑے: ’’یااللہ! یہ تیرے بندے صرف تیری رضا اور تیرے دین کی بقا کے لیے جوتکالیف اُٹھا رہے ہیں ان کی قربانیوں کو قبول فرما، آمین!

ایک غلط فہمی

پانچ دن کم بیس مہنے کی جبری غیرحاضری کے بعد میں اور میرے دونوں رفیق ۲۸؍مئی ۱۹۵۰ء کو پھر اُسی زندگی کی طرف واپس آگئے جس سے ۴؍اکتوبر ۴۸ء کو ہمیں خارج کیا گیا تھا۔ اس مدت میں جن وجوہ سے ہم قید رکھے گئے…ترجمان القرآن کے ناظرین اس کے محتاج نہیں ہیں کہ انھیں اس معاملے کا کچھ بتایا جائے، کیونکہ اس ملک میں ان سے زیادہ میرے ’جرم‘ کا جاننے والا اور کوئی نہیں ہے۔ ان کو خوب معلوم ہے کہ پچھلے ۱۷، ۱۸ سال سے میں کیا کچھ کرتا رہا ہوں۔ اسی طرح مولانا امین احسن اصلاحی صاحب اور میاں طفیل محمد صاحب کے ’جرائم‘ بھی سب سے بڑھ کر انھی کے مشاہدے میں آتے رہے ہیں۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ انھوں نے ہماری گرفتاری کی خبر پاتے ہی سارا معاملہ خود سمجھ لیا ہوگا۔ شاید ان میں سے کسی کو بھی پہلی مرتبہ یہ سن کر حیرت نہ ہوئی ہوگی کہ ہم پکڑے گئے، بلکہ اگر وہ کبھی حیران ہوئے ہوں گے تو اس بات پر کہ آخر شیطان اتنی مدت تک ہم جیسے ’قصورواروں‘ کو برداشت کیسے کرتا رہا....

ممکن ہے اس کارروائی کا فیصلہ کرتے وقت یہ مقصد بھی پیش نظر رہا ہو کہ اِس طرح اُس کام کو روکا جائے جو میں اور میرے ساتھی کر رہے تھے۔ اگر میرا یہ قیاس درست ہے تو میں کہوں گا کہ اس مقصد کے لیے ہماری گرفتاری کا فیصلہ کرنے والے خود ایک غلط فہمی میں گرفتار تھے اور مجھے امید ہے کہ اب ان کی غلط فہمی دُور ہوگئی ہوگی۔ انھوں نے شاید یہ سمجھا تھا کہ جماعت اسلامی چند مٹھی بھر سرپھروں کی ایک جماعت ہے، جو اتفاقاً جمع ہوگئی ہے اور اس کا سارا کام بس دو تین آدمیوں کے بل پر چل رہا ہے، اُن کو میدان سے ہٹا دیا جائے گا تو جماعت ختم اور اس کی دعوت نسیاً منسیاً ہوجائے گی۔ اس غلط گمان کی بنا پر انھوں نے ایک غلط قدم اُٹھا دیا اور ٹھوکر کھائی۔ اب اگر انھوں نے خود اپنے اقدام کے نتائج کا جائزہ لے کر دیکھا ہوگا تو ان پر منکشف ہوچکا ہوگا کہ اس حرکت سے جو فوائد     وہ اُٹھانا چاہتے تھے ان میں سے کوئی فائدہ بھی انھیں حاصل نہیں ہوسکا ہے، اور جن نقصانات سے وہ بچنا چاہتے تھے وہ سب مع شیٔ زائدٍ اُن کو پہنچ گئے ہیں۔ اگرچہ میں اِن حضرات کی عقل و دانش کے بارے میں کچھ بہت زیادہ خوش گمان نہیں ہوں، تاہم میں توقع رکھتا ہوں کہ اس تجربے کے بعد وہ جماعت اسلامی اور اس کی تحریک کو، اور اُن بنیادوں کو جن پر یہ تحریک قائم ہے اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں گے اور آیندہ کوئی قدم ناکافی معلومات اور سرسری اندازوں کی بنا پر نہ اُٹھائیں گے۔(’اشارات‘، سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ، ترجمان القرآن، جلد۳۴، عدد۲، شعبان ۱۳۶۹ھ، جولائی۱۹۵۰ئ، ص ۲-۴)