قرآن فہمی اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کے عظیم احسانات میں سے ایک احسان ہے۔ یہ سعادت بزورِ بازو حاصل نہیں کی جاسکتی۔ وہ جس پر اپنی عنایت کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے سینے کو کشادہ کردیتا ہے اور قرآن کریم کی برکات سے نواز دیتا ہے۔ زیرنظر کتاب اس یقین میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ یہ خرم مرادؒ کے ۱۹۸۰ء میں برطانیہ میں دورانِ قیام قرآن کریم پر محاضرات میں سے ایک محاضرہ ہے، جسے ان کے تحریر کردہ نوٹس کی مدد سے عبدالرشید صدیقی صاحب نے قیمتی اضافوں سے مدون کیا ہے۔
مقدمے میں عبدالرشید صدیقی صاحب نے اختصار سے وہ اصولِ تفسیر بھی بیان کردیے ہیں جو اس مقالے میں اختیار کیے گئے ہیں، مثلاً: ۱- تعبیر و تشریح کرتے وقت اسلام کے عمومی اُصول اور سنت رسولؐ کی روح، مزاج اور اسلامی قوانین کو سامنے رکھا جائے اور ان کے دائرے میں رہتے ہوئے قرآن کی تعبیر کی جائے۔ ۲- وہ قرآنی آیات جو کسی خاص مضمون سے تعلق رکھتی ہوں انھیں اسی مضمون سے وابستہ رکھا جائے اور ایسا کرتے وقت قرآن کریم میں تذکیر، تلاوت، تزکیہ اور تحکیم کے فرق کو سامنے رکھا جائے۔ ۳-تعبیر میں محض ندرت و جدت کے شوق میں بلاوجہ مفہوم کو کھینچا تانا نہ جائے۔ ۴- کسی بھی لفظ سے معانی کو اس کے متن اور تاریخی حوالے سے الگ نہ کیا جائے۔ ۵-زبان چونکہ ایک اہم ذریعہ ابلاغ ہے اور اس کے معانی میں تبدیلی بھی واقع ہوتی ہے، اس لیے نئے سیاق و سباق میں بھی اصل معانی کو بنیاد بنایا جائے۔ ۶- نئے سیاق و سباق کے تعلق سے غور کرنے سے قبل تاریخی تناظر میں آیت کے اصل مفہوم کو سمجھ لیا جائے۔ ۷- اگر ضرورت کے پیشِ نظر کسی نئی اصطلاح کا استعمال مفید ہو تو یہ یقین کرلیا جائے کہ اصل معانی سے کوئی انحراف واقع نہ ہو۔ ۸-خصوصی احکامات سے عموم اخذ کیا جائے تاکہ تبدیلیِ زمانہ کے باوجود احکام کو نافذ کیا جاسکے۔
ان عمومی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے خرم مراد مرحوم نے سورئہ کہف کے حوالے سے جو مقالہ تحریر کیا، اس کے مصادر کی تخریج کے ساتھ جن مقامات پر اضافے کی ضرورت تھی، برادرم عبدالرشید صدیقی نے انتہائی محنت سے تحقیق کے ساتھ انھیں مدون کیا ہے۔ اس حوالے سے دجّال سے متعلق احادیث کو ضمیمے میں یک جا کردیا گیا ہے، تاکہ اصل مضمون سے توجہ ہٹ کر اس طرف مبذول نہ ہوجائے۔ پہلے باب میں ایک اضافہ ہے۔ ایسے ہی دوسرے باب میں پانچویں حصے سے آٹھویں حصے تک، اور تیسرے اور چوتھے باب بھی اضافے ہیں، لیکن تحریر کو اس طرح پُرو دیا گیا ہے کہ کسی مقام پر بھی کوئی تشنگی یا خلا محسوس نہیں ہوتا۔
سورئہ کہف کی اہمیت احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور جمعہ کے دن اس کا پڑھنا انتہائی اجر کا باعث ہے۔ احادیث میں اس طرف بھی واضح اشارہ ملتا ہے کہ جو اس سورہ کی ابتدائی ۱۰ آیات کو پڑھے گا وہ دجّال کے اثرات سے محفوظ رہے گا۔ ایسے ہی بعض آیات میں اس کی آخری ۱۰ آیات کے بارے میں اور بعض میں محض ۱۰ آیات کے حوالے سے اہمیت بیان کی گئی ہے۔ اس سورہ کی برکات میں دجّال سے محفوظ رکھنے کی خاصیت تو پائی جاتی ہے لیکن اس سے زیادہ دجّال کے آنے سے قبل عام حالات میں اس کی اہمیت غیرمعمولی ہے اور اسی بنا پر خرم مراد مرحوم نے اسے غور کرنے کے لیے منتخب کیا۔ سورہ کے مضامین کا خلاصہ پہلے باب میں بیان کردینے کے ساتھ اس سورہ کا دیگر سورتوں کے ساتھ تعلق اور خصوصاً سورۂ بنی اسرائیل اور اس میں جو مماثلت پائی جاتی ہے اس پر علمی جائزہ پہلے باب کی خصوصیت ہے۔
سورئہ کہف کا آغاز جن کلمات سے ہو رہا ہے اور سورہ بنی اسرائیل کا آغاز جن کلمات سے ہوتا ہے ان میں ایک گہری معنوی مماثلت پائی جاتی ہے، خصوصاً توحید، ہدایتِ ربانی اور رسول کریمؐ اور انبیا کے حوالے سے ان کا اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کا عبد ہونا قبل اسلام کے ان تمام تصورات کی تردید کردیتا ہے جن میں انبیا یا بعض دینی شخصیات کو اُلوہیت میں شریک بنا لیا جاتا تھا۔ خود ہدایت الٰہی کے حوالے سے اس پہلو کو سمجھایا گیا ہے کہ کتابِ ہدایت کا اصل مصنف اور بھیجنے والا اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ ہے۔
اصحابِ کہف کے واقعے سے آج کے حوالے سے جو پیغام ملتا ہے وہ ماحول کی آلودگی اور ظلم و طاغوت کی کثرت کو دیکھتے ہوئے دل چھوڑ کر کہیں گوشہ نشین ہوجانا نہیں ہے، بلکہ پوری استقامت اور صبر کے ساتھ مالکِ حقیقی کی طرف رجوع کرتے ہوئے کلمۂ حق ادا کرنا ہے۔ ساتھ ہی یہ پیغام بھی ہے کہ کیا واقعی ہمارے یہ اندازے کہ پانی سر سے اُوپر گزر چکا، اب اصلاح کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی، اس لیے زمین کا پیٹ یا کسی غار کے مکین بن جانے میں نجات ہے درست کہے جاسکتے ہیں، یا اللہ کی مدد سے جس کے بارے بڑے صالح افراد یہ پکار اُٹھے تھے کہ متٰی نصراللّٰہ، ہم مایوس ہوکر ظلم و طاغوت کو من مانی کرنے کے لیے آزاد چھوڑ دیں، اور اصلاح کی قوتیں اپنے آپ کو ذاتی تحفظ کے نظریے کی روشنی میں میدانِ عمل سے نکال کر گوشہ نشینی اختیار کرلیں۔
یہ مکّی سورہ یہ پیغام دیتی ہے کہ مکہ میں ہونے والے وہ تمام مظالم اور آزمایشیں جن سے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم اور اصحابِ رسولؐ گزر رہے تھے، ان تمام آزمایشوں نے نہ انھیں دل برداشتہ کیا نہ وہ تنہائی کی طرف راغب ہوئے بلکہ اس امتحان نے دین کی دعوت دینے اور اس کے لیے اذیت برداشت کرنے کی لذت میں کچھ اضافہ ہی کر دیا۔
اصحابِ کہف کے قصے سے ایک بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ سبحانہٗ وتعالیٰ کس طرح قوانینِ فطرت کو اپنی مرضی کے مطابق عموم دیتا ہے اور کس طرح بعض حالات میں استثناء کی شکل پیدا ہوجاتی ہے۔ ۳۰۰ سال تک سونے کے بعد جاگنا ایک ایسا استثنا ہے، جو مالکِ کائنات کی قدرت، قوت اور حاکمیت کی ایک دلیل اور اس بنا پر ایک آیت کی حیثیت رکھتا ہے۔
آگے چل کر حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے کا تفصیلی تجزیہ ہے جس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اللہ کے انبیا بھی تعلیمی سفر سے گزرتے رہے ہیں اور بعض اوقات بے صبری کا مظاہرہ بھی کربیٹھتے ہیں۔ ایک عظیم رسول اور قائد کو جس طرح حضرت خضر ؑنے اسرار سے آگاہ کیا اور جس تجسس و تحقیق کے جذبے کا اظہار حضرت موسٰی ؑکے طرزِعمل کے سامنے آتا ہے اس میں اہلِ علم کے لیے بہت سے سبق ہیں۔
پھر ذوالقرنین کے واقعے کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ ایک ایسا فرماں روا جس کی مملکت مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک پھیلی ہوئی ہو اور اس کی فتوحات کے سامنے کسی کی مزاحمت کامیاب نہ ہوسکے، اس کا طرزِعمل فخروامتیاز کا ہو یا حلم و خاکساری کا، وہ خادم ہو یا بادشاہ بن کر بیٹھ جائے۔ اگر اس کے پاس دولت کی کثرت ہو تو کیا وہ اسے سینت سینت کر رکھے یا اسے اللہ کی راہ میں اللہ کے بندوں کی حاجتیں پوری کرنے میں لگا دے۔
آخری حصے میں ایک بہت اہم علمی اور تجزیاتی بحث اس موضوع پر ہے کہ کیا سائنسی ترقی اور مادیت کے دور میں اس دور کے لحاظ سے زندگی گزرنے کے اصول وضع کیے جائیں یا الہامی ہدایت کی روشنی میں قرآن و سنت کے ازلی اور ابدی اصول عمل میں لائے جائیں۔ کس طرح اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور توحید کی روشنی میں معاشرہ، معیشت اور سیاست کی تشکیلِ نو کی جاسکتی ہے اور آج کی دنیا کو جو مادیت، انفرادیت پرستی اور ٹکنالوجی کی برتری کی غلام نظر آتی ہے، اس فکری قید سے نکال کر اسلام کے روشن اور ابدی اصولوں کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جایا جاسکتا ہے۔
یہ مختصر کلمات کسی لحاظ سے بھی اس کتاب کا خلاصہ نہیں کہے جاسکتے۔ جس قلبی حرارت کے ساتھ اس تحریر کو لکھا گیا ہے اس کی حدت کو نہ صرف محسوس کرنے بلکہ اسے عمل کی بنیاد بنانے کی ضرورت ہے تاکہ نظامِ کفروطاغوت کی جگہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی ہدایات کو نافذ کرنے کے لیے انسانی وسائل کی تعمیر و تشکیل کی جاسکے۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
زیرتبصرہ کتاب میں علم کی اہمیت، ضرورت اور دینی نقطۂ نظر سے اس کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر کاوشوں کی ضرورت پر بحث کی گئی ہے۔ مصنف کو اس حقیقت کا شدت سے احساس ہے کہ مروجہ نظامِ تعلیم مسلمانوں کو غلام بنانے کی منظم کوشش ہے جو پوری کامیابی کے ساتھ مسلمانوں کو جکڑے ہوئے ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد اس غلام ساز نظامِ تعلیم کواسلامی اور قومی تقاضوں کے مطابق تشکیل نہیں دیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ قوم فکری اور عملی انتشار کا شکار ہے۔
کتاب کے آٹھ ابواب میں مصنف نے نظامِ معاشرہ اور تہذیبی تصورات، علم کی ضرورت، جدید تعلیمی فکر کی بنیادوں، اسلامی تصورِ تہذیب، عملِ تعلیم کی نمو، پاکستان میں علم سے بیگانہ معاشرے کی صورتِ حال، اور تعلیم کے مقاصد پر بحث کرتے ہوئے نہایت حکیمانہ انداز میں دنیا کی مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، نظام ہاے زندگی، اور افکار و نظریات پر تنقید کر کے، اسلامی نظامِ حیات اور دینی عقائد و افکار کو واضح کیا ہے۔ پوری کتاب میں مختلف مباحث میں یہی جذبہ کارفرما ہے کہ صحیح علم اور صحیح تعلیم و تربیت کا مؤثر نظامِ تعلیم کس طرح تشکیل پاتا ہے اور اس کی خصوصیات کیا ہوتی ہیں، نیز ان خصوصیات کو کس طرح حاصل کی جاسکتا ہے۔ علمی اسلوبِ بیان نے موضوع کی مناسبت سے بعض مقامات پر بعض مباحث میں اسے فلسفۂ تعلیم کی کتاب بنا دیا ہے، تاہم مصنف کی نفسِ مضمون پر عالمانہ گرفت نے اس میں سلاست و روانی بھی پیدا کی ہے۔ ضرورت ہے کہ تعلیم و تعلم سے شغف رکھنے والے اصحابِ علم کے علاوہ، ایسی کتابیں، اُن پیشہ ورانہ تدریسی اداروں اور ان ارباب اقتدار تک پہنچائی جائیں جو نظامِ تعلیم اور مقاصد تعلیم کا تعیین کرکے تعلیمی منصوبے بناتے اور انھیں ملک بھر میں نافذ کرنے کے ذمے دار ہیں۔ (ظفرحجازی)
کتاب کے سرورق پرضمنی عنوان ہے: ’’مذہبی، ثقافتی محرکات: کل اور آج‘‘۔ بقول مصنف: ’’کتاب کا مقصدِ تحریر صرف یہ ہے کہ مسلمانانِ پاکستان کو بالعموم اور نسلِ نو کو بالخصوص یہ باور کرایا جائے کہ ربِ کریم نے اسلام کے نفاذ کے لیے ہمیں جو تجربہ گاہ پاکستان کی شکل میں عطا کی، اس کی قدروقیمت اور اہمیت کو پہچانیں‘‘۔(ص۱۳)
تحریکِ پاکستان کے تاریخی پس منظر کے تحت تحریکِ مجاہدین ’فرائضی تحریک، شمالی علاقوں میں مُلاپاوِندہ اور فقیرایپی کی جہادی اور انگریز مخالف سرگرمیوں، برطانوی استعمار کی چال بازیوں، انگریزوں کے تعلیمی نظام کے تباہ کن اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اسی طرح ہندوئوں کی مسلم دشمنی اور ان کے مقابلے میں ملّتِ اسلامیہ کے زعما (علامہ اقبال، قائداعظم اور سیدابولاعلیٰ مودودی) کی کاوشوں کا ذکر تفصیل سے کیا گیا ہے۔
مصنف نے کھلے دل سے اعتراف کیا ہے کہ اس کتاب کے حصہ اوّل (ص ۲۵ تا ۱۵۲) میں شامل بیش تر معلومات پروفیسر سیدمحمدسلیم (م: ۲۷؍اکتوبر ۲۰۰۰ئ) کی کتاب تاریخ نظریہ پاکستان سے اخذ کی گئی ہیں، تاہم مصنف نے دیگر مآخذ سے بھی بخوبی استفادہ کیا ہے اور آخر میں کتابیات کی مفصل فہرست بھی دی ہے۔ دیباچہ نگار ڈاکٹر محمد وسیم اکبر شیخ کے خیال میں: مصنف ایک محب ِ وطن اور دردمند دل رکھنے والے انسان ہیں اور حصولِ پاکستان کے دوران دی جانے والی جانی و مالی قربانیوں کے عینی شاہد بھی ہیں۔ انھوں نے نہایت محنت اور خلوص سے یہ یاد دلایا ہے کہ علاقائی تعصبات اور علیحدگی پسندی اور قومیت پرستی کے رجحانات جیسے سو سال پہلے خطرناک تھے، آج بھی اسی طرح تشویش ناک اور زہرناک ہیں۔ (ص ۲۱، ۲۲)
کتاب کا موضوع بہت عمدہ ہے۔ مصنف نے محنت بھی کی ہے مگر زبان و بیان کمزور ہے، اشعار میں خاص طور پر غلطیاں نظر آتی ہیں: (صفحات: ۱۱، ۱۷، ۲۵، ۲۶، ۳۶، ۳۸، ۳۹، ۴۵، ۶۲، ۶۳، ۱۳۷، ۱۵۲، ۲۶۲، ۳۳۱ اور انتساب کا صفحہ وغیرہ)۔ کتاب کی تدوین بھی ناقص ہے۔ ص ۱۰۱ کے حاشیے کی باتیں،ص ۲۲۵ پر مکرّر لکھ دی گئی ہیں وغیرہ (تھوڑی سی مشاورت یا نظرثانی سے یہ خامیاں دُور ہوسکتی تھیں) مگر بعض کمزور پہلوئوں کے باوجود مصنف کی دردمندی، راست فکری اور پُرخلوص جذبات میں کلام نہیں۔
مصنف نے ایک حاشیے میں نام لیے بغیر علامہ اقبال کے ’بعض مداحوں اور محققوں‘ سے شکوہ کیا ہے کہ انھوں نے علامہ اقبال اور سید مودودی کے باہمی روابط سے صرفِ نظر کرکے تاریخی حقائق سے گریز کیا ہے۔ فاضل مصنف کا یہ شکوہ اس لیے درست نہیں ہے کہ بعض نام نہاد سیکولر دانش وروں، قادیانیوں اور پرویزی مصنفین کے علاوہ کوئی بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ علامہ اقبال نے مولانا مودودی کو دکن سے ہجرت کر کے پنجاب آنے کی دعوت دی تھی اور مولانا بھی علامہ سے دو تین ملاقاتیں کر کے مطمئن ہوکر مارچ ۱۹۳۸ء میں پٹھان کوٹ پہنچے تھے، مگر اس سے پہلے کہ مولانا لاہور آکر علامہ سے تجدیدِ ملاقات کرتے اور مستقبل کے علمی منصوبوں پر کچھ بات کرتے ۲۱؍اپریل کو باری تعالیٰ نے علامہ کو اپنے پاس بلالیا۔ اقبال اور مودودی کے روابط پر اقبال کے آخری زمانے کے بعض ہم نشین رفقا اور خود ان کے فرزندِ ارجمند ڈاکٹر جاویداقبال کی شہادتیں موجود ہیں۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
معیشت و تجارت کا شعبہ انسان کی زندگی کا ایک اہم شعبہ ہے۔ مادیت پر مبنی سوچ اور فکر نے پرانی قارونی فکر کی بنیاد پر اس معیشت و تجارت کو یوں اہمیت دی ہے کہ انسان کو معاشی حیوان کے درجہ پر فائز کر دیا ہے۔ حالانکہ انسان کی تخلیق خلیفۃ اللّٰہ فی الارض یعنی زمین پر اللہ کے نائب کی حیثیت سے کی گئی تھی اور معیشت و تجارت کو حسب ضرورت اختیار کرنے اور فروغ دینے کی اجازت دی تھی۔ اسلامی تعلیمات میں جہاں تمام شعبہ ہاے زندگی کے متعلق اصول و ضوابط متعین کیے گئے وہاں معاشی و تجارتی معاملات کے بارے میں بھی قوانین اور ضوابط عطا کیے گئے۔
زیرتبصرہ کتاب میں معیشت کی اہمیت اسلام کی نگاہ میں، بیع، اس کی اقسام، بیع و سود کا تقابل اور خرید و فروخت کے اسلامی اصولوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح جو اشیا فروخت کر دی جائیں ان سے متعلق کیا احکام ہیں؟ اشیا کی قیمتوں کے تعین، نقد و اُدھار قیمتوں کے حوالے سے اشکالات کا جواب دیا گیا ہے۔ کاروباری معاملات میں فریقین کو خیار (option) کا تصور اسلام نے دیا۔ خیار کی مختلف صورتیں اور خیارات کی تنسیخ جیسے مسائل پر بحث کی گئی ہے۔
اسلامی بنکاری میں اجارے کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اور اس کی عملی طور پر موجود شکلیں کیا اسلام کے اصولوں کے مطابق ہیں؟ سکوک کا کیا تصور ہے اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اسلام میں زر کیا تصور ہے اور کاغذی زر (کرنسی نوٹ) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کرنسی نوٹ پر زکوٰۃ کے کیا احکام ہیں؟ قرضوں کی اشاریہ بندی کی کیا شرعی حیثیت ہے؟___ یہ وہ چند عنوانات ہیں جن پر فاضل مصنف نے قرآن و سنت کی روشنی اور فقہاے کرام کی آرا کو پیش نظر رکھ کر اپنی راے پیش کی ہے۔ علماے کرام، مدارس کے طلبہ، اسلامی معاشیات سے دل چسپی رکھنے والے حضرات اور معاشی، تجارتی اداروں میں کام کرنے والے افراد کے لیے یہ کتاب ایک گائیڈ کا کام دے سکتی ہے۔ (میاں محمد اکرم)
علامہ عنایت اللہ گجراتیؒ، ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ (نومبر ۲۰۱۰ئ) صاحبانِ علم و فضل کا تذکرہ نظر سے گزرا۔ بلاشبہہ یہ علم و تقویٰ، حسنِ اخلاق، صبر واستقامت کا پیکر اور اُمت مسلمہ کا عظیم سرمایہ تھے۔ ان کے دنیا سے رخصت ہوجانے سے مذہبی، علمی و ادبی حلقوں میں جو خلا پیدا ہوا ہے شاید یہ کبھی پُر نہ ہو۔
’مغرب میں مطالعہ اسلام‘ (نومبر ۲۰۱۰ئ) پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ فاضل مصنفہ نجیبہ عارف زیرتبصرہ کتاب کے مصنف کارل ارنسٹ کے اس دعوے سے اختلاف کا اظہار کرتی ہیں کہ ’’قرونِ وسطیٰ میں عیسائیوں کی نسبت یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان زیادہ قریبی تعلقات رہے ہیں‘‘ (ص ۶۴)۔ گذشتہ دنوں جامعہ دارالاسلام، خوشاب کے دو طلبہ ترک حکومت کے اسکالرشپ پر ترکی کے شہر ازمیر پہنچے تو ازمیر کی تاریخ کے مطالعے کا موقع ملا۔ یہ ترکی کا تیسرا بڑا شہر ہے اور استنبول کے بعد ملک کی دوسری بڑی بندرگاہ یہاں ہے۔ اس شہر کی ایک وجۂ شہرت ۱۴۹۲ء میں سقوطِ غرناطہ کے بعد مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودیوں کا بھی بڑی تعداد میں جلاوطن ہوکر ازمیر میں آبسنا ہے۔ اس تاریخی حقیقت سے ارنسٹ کے نقطۂ نظر کو اس حد تک تقویت ملتی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ ذمی رعایا خصوصاً یہود کے حقوق کا احسن انداز میں خیال رکھا اور رواداری برتی۔ تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ اہلِ یہود نے جب بھی موقع ملا فائدہ اٹھایا اور اٹھارھویں صدی کے انگریز، اطالوی، فرانسیسی، ولندیزی استعمار کے دست و بازو بنے اور فلسطین کا نہ صرف مطالبہ کیا بلکہ اس پر قابض ہوکر بیٹھ گئے۔ بلاشبہہ اس مضمون سے غوروفکر کے نئے دریچے وا ہوتے ہیں۔
’رسائل و مسائل‘ (نومبر ۲۰۱۰ئ) میں ’’حقوق العباد اور عبادات میں ترجیح‘‘ کا موضوع بہت اہم اور روزمرہ زندگی سے متعلق ہے۔ جنگ کی حالت میں بھی نماز اپنے وقت پر پڑھنے کا طریقہ قرآن نے بیان کیا ہے۔ اس سے حالت ِ جنگ تک میں جماعت کی اہمیت واضح ہورہی ہے۔ افسوس کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد نماز سے غفلت برتتی اور دنیوی امور کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر سب مسلمان نماز باجماعت ادا کریں تو مسجدوں میں نمازکے لیے جگہ نہ ملے۔ تحریکی حلقوں میں بھی اجتماعات اور مصروفیات کی وجہ سے مسجد میں نمازِ باجماعت کی طرف سے لاپروائی برتی جاتی ہے اور پروگرام کے بعد نماز کی ادایگی کا اعلان ہوتا ہے جس میں کم تعداد شرکت کرتی ہے۔ پھر یہ کہ تکبیر اولیٰ کے ساتھ کتنے شرکت کرتے ہیں___ اس طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔
’مجالسِ حرم‘ (اکتوبر ۲۰۱۰ئ) سے ترکی کے حالات سے آگہی ہوئی۔ یہ امرخوش آیند ہے کہ اسلامی تحریک کے حامی لوگوں کے دورِ اقتدار میں ملک نے مروجہ پیمانوں پر ترقی کا سفر بھی جاری رکھا ہے (ص ۸۲)، اور ریفرنڈم میں ۵۸ فی صد ووٹوں کا حصول بھی جمہوری انقلاب کی بڑی واضح مثال ہے۔ مقصد کے حصول کے لیے جو جدوجہد ۱۹۷۰ء میں شروع ہوئی، آج ۲۰۱۰ء میں کئی ناموں اور قائدین کی تبدیلی اور مختلف مراحل سے گزرتی ہوئی اہم اہداف کے حصول پر منتج ہوئی ہے۔ اس تناظر میں ہمارے ملک کی اسلامی تحریک کے لیے بھی سبق ہے۔ کیا ہم بھی اپنے آپ کو عوام کے اعتماد کا حق دار ٹھیرا چکے ہیں، یا کسی مرحلے پر عوام میں ہم بھی زیربحث ہیں کہ اس ملک میں ترقی اور تبدیلی کا سفر اسلامی تحریکوں کے ساتھ چل کر ہی طے ہوسکتا ہے؟
سیلاب زدگان کے کیمپوں میں کام کرتے ہوئے چشم کشا حقائق سامنے آئے کہ لوگ دینی و دنیاوی ہر طرح کی تعلیم سے محروم ہیں (یا رکھے گئے ہیں)۔ ان کی سوچ بس ضروریات کے حصول اور پیٹ بھرنے تک ہی محدود ہے۔ دین کا فہم نہ ہونے کے باعث اخلاقی خرابیاں بھی بدرجہ اتم موجود ہیں، بالخصوص حیا کا فقدان اور صفائی کا شعور نہ ہونا۔ بچوں کو سلام کرنا اور سلام کا جواب تک دینا نہ آتا تھا۔ قاسم آباد (حیدرآباد) کے ایک گنجان کیمپ میں معلوم ہوا کہ صرف ایک بچی کو قرآن پڑھنا آتا ہے۔ میں نے بچی سے استفسار کیا کہ اسے کس نے سکھایا؟ اس نے کہا: ساتھ والے گھر میں استانی رہتی ہیں۔ جب ان سے درخواست کی کہ کیمپ کی عورتوں کو نماز اور قرآن کی ابتدائی تعلیمات آپ دیں، تو انھوں نے یہ روح فرسا انکشاف کیا کہ اس کیمپ میں مرد عورتوں کو ہمارے حوالے نہیں کرتے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کو دین کی تعلیمات کا پتا چلے۔ یہ خود اپنی عورتوں کو جاہل رکھتے ہیں، اس لیے کہ یہ خود بھی جاہل ہیں۔ اگر یہ خود جاہل نہ ہوتے تو وڈیروں اور جاگیرداروں کی غلامی کیوں قبول کرتے___اس خاتون کا یہ دردمندانہ تجزیہ ہمیں بھی کچھ سوچنے اور آیندہ کا لائحہ عمل بنانے پر مجبور کرتا ہے۔
امریکی سامراج کی اُمت مسلمہ کے خلاف سازشوں کے مختلف حربوں میں سے ایک حربہ فرقہ واریت کو ہوا دینا اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ صوفیاے کرام کے مزاروں پر حملے اسی سازش کا شاخسانہ ہیں۔ امریکا کی اس سازش کو قومی یک جہتی سے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ملک کی قیادت چند بنیادی نکات پر اتفاق راے اور ملّی یک جہتی کا مظاہرہ کرے۔
دراصل فطرت کے نظام میں اور انسانی تاریخ کے بازار میں اصل کامیابی حق اور نیکی ہی کے لیے مقدر ہے، یہی وجہ ہے کہ باطل اور برائی کے سوداگر جب بھی اپنا مال لاتے ہیں تو اس کو حق اور نیکی کے رنگ میں رنگ کر لاتے ہیں۔ وہ جھوٹ کو لاتے ہیں لیکن سچائی کے لیبل کے ساتھ، وہ ذلت کو لاتے ہیں لیکن عزت کے سائن بورڈ کے ساتھ، وہ شر کو لاتے ہیں لیکن خیر کے ٹریڈمارک کے ساتھ، وہ مفاد پرستی کو لاتے ہیں لیکن خدمت کا عنوان دے کر، وہ مضرت کو لاتے ہیں لیکن افادیت کا رنگ روغن چڑھا کر!
نیکی اپنے نام کے ساتھ آتی ہے، بدی کے نام کے ساتھ نہیں آتی، لیکن دوسری طرف بدی کبھی اپنے نام کے ساتھ نہیں آتی، نیکی کے نام کے ساتھ آتی ہے۔ خیر ٹھیک ٹھیک اپنے روپ میں آتا ہے، شر کے روپ میںنہیں آتا، لیکن شر اپنے روپ میں نہیں آتا بلکہ خیر کے روپ میں آتا ہے۔ حق پوری طرح بے نقاب ہوکر نمودار ہوتا ہے، اپنے چہرے پر باطل کی نقاب نہیں ڈالتا، لیکن باطل میں بے نقاب ہوکر آنے کی جرأت نہیں، وہ مجبور ہے کہ حق کی نقاب اوڑھ کر آئے۔
اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حق اور نیکی ہی کے لیے اصل کامیابی ہے۔ وہ خود تو کجا ان کا نام بھی اتنا کامیاب ہے کہ باطل اور بدی بھی اسی نام کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس نام کا سہارا لیے بغیر وہ یکسر ناکام ہیں۔ باطل اور بدی کا حق اور نیکی کے نام یا روپ کو استعمال کرنا خود اس بات کی شہادت ہے کہ بازارِ حیات میں سارا فروغ حق اور نیکی کے لیے ہے۔
رہی یہ بات کہ حق کے روپ میں جو باطل لایا گیا ہو اس سے کتنے گاہک دھوکا کھا گئے یا نیکی کے لیبل سے جو بدی پیش کی گئی تھی اس سے کتنے خریداروں کی نظربندی ہوگئی، اس سے حق کی قدروقیمت اور نیکی کی کامیابی اور مقبولیت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ اگر کسی بازارِ صرافہ میں ہزاروں گاہک بھی روزانہ ملمع کی انگوٹھیاں سونے کے بھائو خرید لے جائیں تو اس سے سونے کی کامیابی، ناکامی سے اور پیتل کی کم قدری، قیمت کی گرانی سے نہیں بدل جاتی۔ کامیابی اور ناکامی تو ساری خریداروں کی ہوگی کہ وہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز کرنے میں چابک دستی دکھاتے ہیں یا کوتاہی! (’حق اور باطل‘ ، نعیم صدیقی، ترجمان القرآن، جلد۳۵، عدد۲، صفر ۱۳۷۰ھ، دسمبر ۱۹۵۰ئ، ص۱۸-۱۹)