شیخ محمد فرغلی شہیدؒ کا شمار اخوان المسلمون مصر کے اولین قائدین میں ہوتا ہے۔ آپ عالم و مجاہد اور ایک مثالی داعی تھے۔ آپ کی پوری زندگی جہدِمسلسل کا مظہر تھی اور شہادت پاکر حیاتِ جاوداں پائی۔ آپ اخوان کے ان اولیں چھے شہدا میں سے ہیں جنھیں جمال عبدالناصر کے ابتدائی دور میں شہید کیا گیا۔ آپ کی زندگی میں ایسے پہلو بھی ملتے ہیں جن میں کارِ انبیاؑاور تحریک اسلامی کے مشن کو آگے بڑھانے والے داعیانِ اسلام کے لیے تزکیہ و تربیت اور رہنمائی کا سامان ہے۔ فرغلی شہیدؒ عمر بھر ان اصولوں کی پاس داری کرتے رہے حتیٰ کہ راہِ خدا میں اپنا خون دے کر صبرواستقامت اور عزیمت کی ایک عظیم تاریخ رقم کی۔
یہ سن کر شیخ فرغلیؒ نے بڑے سکون سے جواب دیا: ’’موسیو فرانسو! میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میں الجباسات البلاح کمپنی کا ملازم ہوں۔ اگر میں نے ایسا سمجھا ہوتا تو میں کبھی اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اسماعیلیہ کی اخوان المسلمون کا ملازم ہوں۔ میں آپ کے بجاے ان سے تنخواہ کا مطالبہ کروں گا۔ مجھے اگر یہ کام چھوڑنا ہوا تو ان سے بات کرکے چھوڑ دوں گا۔ یہ معاملہ چونکہ آپ سے غیرمتعلق ہے لہٰذا میں آپ سے تنخواہ قبول کرتا ہوں نہ بقایا جات لیتا ہوں۔ نہ ہی میں مسجد میں اپنی خدمت کو ترک کروں گا خواہ آپ اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کریں۔ ہاں جس جماعت نے مجھے یہاں بھیجا ہے اگر اس کا سربراہ مجھے حکم دے تو میں یہاں سے چلا جائوں گا۔ وہ صاحب اسماعیلیہ میں موجود ہیں۔ آپ ان سے بات کرلیں۔
کمپنی کے لوگ بڑے حیران اور پریشان ہوئے۔ انھوں نے چند روز تک صبر کیا کہ شاید‘ شیخ فرغلیؒ ان سے تنخواہ مانگیں گے۔ مگر شیخ نے اسماعیلیہ میں راقم الحروف سے رابطہ کیا۔ ہم نے انھیں کہا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ شیخ فرغلیؒ کا موقف درست تھا‘ اس لیے وہ کمپنی کے ملازم تھے، نہ ان سے تنخواہ لیتے تھے۔ مجبور ہوکر اس کمپنی کی انتظامیہ نے پولیس سے مدد مانگی۔ کمپنی کے ڈائرکٹر ’موسیوماینو‘ نے کینال کے منتظم اعلیٰ سے رابطہ کیا‘ اُس نے اسماعیلیہ کے اعلیٰ پولیس افسر کو حکم دیا کہ وہ اس مہم سے عہدہ برآ ہونے کے لیے طاقت کا استعمال کرے‘ چنانچہ اعلیٰ پولیس افسر‘ پولیس کی نفری سمیت فیکٹری کے ڈائرکٹر کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں سے اُس نے شیخ فرغلیؒ کو طلب کیا۔ آپ مسجد میں تھے۔ آپ نے قاصد کو کہا: مجھے نہ تو پولیس افسر سے ملنے کی ضرورت ہے نہ ڈائرکٹر سے۔ میرا کام تو مسجد میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے ملنا چاہتا ہے تو وہ میرے پاس آجائے‘‘۔ یہ جواب سن کر پولیس افسر آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہنے لگا کہ آپ ڈائرکٹر کی بات مان لیجیے اور یہاں کا کام چھوڑ کر واپس اسماعیلیہ چلے جایئے۔ شیخ فرغلیؒ نے وہی جواب دیا جو وہ ڈائرکٹر کو اِس سے پہلے دے چکے تھے۔
جب یہ خبر کمپنی کے کارکنوں تک پہنچی کہ شیخ فرغلیؒ کو مسجد کی امامت و خطابت سے معزول کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو انھوں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر ہڑتال کر دی۔ انھوں نے جلوس نکالا اور جوش و جذبے سے معمور ہوکر شیخ کے حق میںنعرے لگائے۔ پولیس افسر نے جب یہ محسوس کیا کہ طاقت کا استعمال خطرناک ہوگا تو وہ فوراً وہاں سے اسماعیلیہ چلا گیا۔ یہاں اُس نے مجھ سے رابطہ کیا تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔ بعد میں‘ میں نے کمپنی کے ڈائرکٹر سے ملاقات کی اور پوچھا کہ وہ کیوں شیخ کو ہٹانا چاہتے ہیں تو اُس کے پاس اِس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ وہ کوئی ایسا فرد چاہتے ہیں جو ان کی بات مانے۔ اس ڈائرکٹر کی ایک بات مجھے اب تک یاد ہے:’’بہت سے مسلمان قائدین کے ساتھ میری دوستی ہے۔ میں نے الجزائر میں ۲۰سال گزارے ہیں‘ مگر مجھے شیخ فرغلی ؒجیسا شخص کبھی نہیں ملا۔ یہ شیخ تو یہاں ہم پر اس طرح حکم چلاتا ہے جیسے یہ کوئی فوجی جرنیل ہو‘‘۔
رحمت عالم خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمام صفات و کمالات کی جامع اور انسانیت کی معراجِ کمال ہے ع آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نگاری ایک ایسا پاکیزہ موضوع ہے جس پر ہر مکتبِ فکر کے اہلِ قلم گذشتہ چودہ صدیوں میں نہایت وقیع اور قابلِ قدر تصانیف پیش کرچکے ہیں۔ زیرنظر کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ مدینہ منورہ کے ایک فاضل محقق ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کی کاوشِ فکر وتحقیق کا نتیجہ ہے۔ اصل کتاب السیرۃ النبویہ الصحیحۃ کے نام سے عربی زبان میں ہے۔ اسے محترم خدابخش کلیار نے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ کتاب چار فصلوں پر مشتمل ہے جن کے عنوانات یہ ہیں: رسولؐ اللہ مکہ میں، رسولؐ اللہ مدینہ میں، مشرکین کے خلاف جہاد، رسالت اور رسولؐ۔
فاضل مصنف نے جہاں یہ خیال رکھا ہے کہ موضوع اور ضعیف روایتیں کتاب میں نہ آنے پائیں، وہاں بعض مشہور لیکن مشتبہ روایتوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ انھوں نے حیاتِ نبوی کے مکی اور مدنی دونوں ادوار کے اہم واقعات اختصار مگر جامعیت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ وہ ان واقعات کے صرف ناقل ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ تفکروتعمق سے کام لے کر قارئین کو بھی سوچنے اور غور کرنے کی دعوت دی ہے، ساتھ ہی سیرتِ نبویؐ سے فکرانگیز نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔ اس کتاب میں فاضل مصنف کی ایک اور تصنیف المجتمع فی عھد النبوۃ کا ایک نظرثانی حصہ بھی شامل ہے۔ اس کے انگریزی ترجمے کا اُردو ترجمہ محترمہ عذرا نسیم فاروقی (م:۲۰۰۴ئ) نے کیا تھا۔ اس سے یقینا کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بلاشبہہ زیرتبصرہ کتاب کتبِ سیرت میں گراں قدر اضافہ ہے۔ البتہ یہ کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ مختلف مقامات، غزوات و سرایا اورافراد کے اسما پر اعراب اور اضافت کی علامات لگانے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ قارئین کو غلط تلفظ سے بچانے کے لیے ایسا اہتمام کرنا بہت ضروری ہے۔ (طالب الہاشمی)
زیرنظر کتاب میں قیامِ پاکستان کا مقصد، اسلام اور مغرب، قوموں کا عروج و زوال، تجدید واحیاے دین اور احیاے خلافت جیسے اہم موضوعات کو زیربحث لایا گیا ہے۔
آغاز میں قیامِ پاکستان کے مقاصد، تحریکِ پاکستان میں مختلف لوگوں کے کردار اور نفاذ اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کی تقاریر سے اقتباسات پیش کر کے ان لوگوں کا موقف غلط ثابت کیا گیا ہے جن کو یہ وہم ہوگیا ہے کہ قائداعظم پاکستان کوسیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں مؤلف نے قیادت کے بحران، دینی قوتوں کے انتشار اور نوآبادیاتی ورثے کو نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں قرار دیا ہے۔
اسلام اور مغرب کے تعلقات کے تحت ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اب تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے جس میں صلیبی جنگوں، مغربی استعماریت، نوآبادیاتی نظام اور موجودہ صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا ہے۔مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مغرب اپنے ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دنیا بھر میں اسلام کے تیزی سے پھیلتے ہوئے اثرات سے خوف زدہ ہے۔ (ص ۱۳۴)
قوموں کے عروج و زوال کے دائمی اور معروضی اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ تجدید و احیاے دین کے زیرعنوان تشکیل معاشرہ کے اصول، اجتہاد کی ضرورت، مجدد کے مقام، تجدید کی ضرورت اور روح پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ ۱۹ویں صدی کے عظیم مجدد عثمان فودیو (۱۷۵۴ئ-۱۸۱۷ئ) کی جدوجہد اور اس کے نتیجے میں سکوٹو (جمہوریہ نائیجیریا) میں خلافت کے قیام کا شان دار تذکرہ بھی سامنے آتا ہے۔ کتاب مسلمانوں کو اقامت دین کی جدوجہد پر اُبھارتی ہے۔(حمیداللّٰہ خٹک)
سائنس وہ علم ہے کہ جس کی بنیاد خیال، مشاہدے اور بالآخر تجربے سے منسوب ہے۔ یہ علم، اللہ کی نشانیوں کو پرکھنے کی انسانی کوشش اور ان کوششوں کے ثمر سے انسانوں کو ثمربار کرنے کا وہ علم ہے جس نے حیرتوں کے باب کھولے اور سہولتوں کے خزانوں کا انبار لگا دیا ہے۔
سائنس کا علم انسانیت کی مشترکہ میراث ہے کہ اس اہرام کی تعمیر میں مختلف اوقات میں معروف اور گم نام اہلِ دانش نے اپنے اپنے حصے کا پتھر نصب کیا۔ بلاشبہہ ان سائنسی ایجادات کے پس منظر میں مسلمان سائنس دانوں کی کاوشوں، تحقیقات اور تجربات کا بھی حصہ ہے لیکن آخرکار جس ایجاد یا جس سائنسی کلیے کو حل کرنے کا اعزاز جن مغربی سائنس دانوں کو حاصل ہوا، یہ کتاب ان میں سے ۲۵ محسنوں کے احوال پر مشتمل ہے۔
اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کتنی محنت کی۔ کس قدر بڑے سماجی، معاشی، مذہبی چیلنجوں کا سامنا کیا۔ آج ہم جن آسایشوں کو یوں برت رہے ہیں کہ شاید یہ آفرینش آدم کے عہد سے جوں کی توں میسر تھیں تو واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ اس کے لیے دنیاے علم کو بڑی مشکلات کو عبور کرنا پڑا ہے۔ فاضل مصنف نے عام فہم انداز میں ان سائنس دانوں کی داستانِ حیات اور کارنامۂ علم کو پیش کیا ہے۔ ان رجال میں: راجر بیکن، گوٹن برگ، ٹرے ویژن، کوپرنیکس، پیراسیل، ٹامیکوبراہے، گلیلیو، جان کیپلر، ولیم ہاروے، رابرٹ یو ایل، جوشم باشر، لیون ہک، آئزک نیوٹن اور دیگر ۱۲ سائنس دان شامل ہیں۔ اس سے قبل مجلسِ ترقیِ ادب نام ور مسلم سائنس دان بھی شائع کرچکی ہے۔ (سلیم منصور خالد)
’ووٹ کی شرعی حیثیت‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) ایک اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو کارِلاحاصل اور مغربی طریقہ سمجھتے ہیں۔ راے عامہ ہموار کیے بغیر بزورِ طاقت شریعت نافذ کرنے کی سوچ کبھی ’لال مسجد تحریک‘ اور کبھی ’تحریکِ نفاذِ شریعت محمدی‘ کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ’مغربی دانش وروں کا احساسِ شکست‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) میں خوش کُن اور اُمید افزا پہلو سامنے آیا ہے لیکن ناول نگاروں کا مقصد یورپ و امریکا میں خوف و ہراس پھیلانا معلوم ہوتا ہے اور راے عامہ کو اِس بات پر آمادہ کرنا کہ اسلامی انقلاب کی تحریک کو ابھی سے کچل ڈالو۔ اِس قسم کی تحریریں اورفلمیں کس قسم کے اثرات مرتب کر رہی ہیں اور اسلام کے بارے میں کیا کیا منفی تاثرات پھیلا رہی ہیں ان کا مطالعہ و تجزیہ بھی آنا چاہیے۔
’ووٹ کی شرعی حیثیت ‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) کے مسئلے پر تاحال اس چیز کی ضرورت ہے کہ تفصیل سے بحث کی جائے۔ اس موضوع پر اجتہادی آرا میں اختلاف ایک فطری امر ہے۔ بایں ہمہ ووٹ کے کلچر یا جمہوری عمل کے موجودہ چلن کی مخالفت کرنے والوں کو گمراہ کن قرار دینا بھی سوچ کا نمایندہ حریت فکر کے منافی ہے۔
’اقبال اور جوانانِ ملّت‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) میں راہِ عمل متعین کرنے کے لیے رہنمائی ہے۔ اس مضمون میں علامہ اقبال کے اکبر الٰہ آبادی کے نام ایک خط کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ کوئی قابل نوجوان جو ذوقِ خداداد کے ساتھ قوتِ عمل بھی رکھتا ہو مل جائے جس کے دل میں اپنا اضطراب منتقل کر دوں۔ معروف مسلم لیگی رہنما اور کالم نگار م-ش نے ایک موقع پر یہی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا تھا: ’’اور وہ نوجوان انھیں مولانا مودودی کی صورت میں مل گیا، جسے انھوں نے لاہور آنے کی دعوت دی‘‘۔
’اقبال اور جوانانِ ملت‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) کے مطالعے سے اقبال کی نوجوانوں سے توقعات اور ان کے لیے پیغام توسامنے آتا ہے مگر تشنگی باقی رہتی ہے۔ ضرورت ہے کہ عصرِحاضر میں اقبال کے افکار، شاعری اور نثر سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کے لیے انتخاب پر مبنی ایک جامع، مؤثر اور مختصر کتاب تیار کی جائے۔
’انسانی وسائل کی ترقی، اسلامی نقطۂ نظر‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) کے حوالے سے عرض ہے کہ اساتذہ کرام دورانِ تدریس سیرت سازی کو پیش نظر رکھیں تو نئی نسل کی تربیت کے لیے مزید راہیں کھل سکتی ہیں۔
’جدیدیت، سائنس اور الہامی دانش‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) میں بہت سے مشکل الفاظ تھے۔ تحریر عام فہم ہونی چاہیے۔ کوشش کیجیے کہ تحریریں عام فہم ہوں اور آسان الفاظ استعمال کیے جائیں۔
’کتاب اللہ کا نفاذ: اہمیت و ضرورت‘ (نومبر ۲۰۰۷ئ) میں اُمت مسلمہ کے اہم ترین مقصدِحیات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ درحقیقت موجودہ دور میں کتاب اللہ کے نفاذ کی راہ میں دو بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اوّلاً، جن لوگوں پر کتاب اللہ کے نفاذ کا فریضہ عائد ہوتا ہے وہ محوِ غفلت ہیں اور دو رنگی کا شکار ہیں۔ ثانیاً، عالمی طاقتیں مسلم ممالک کو لادین اور سیکولر بنانے کے عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور ان ممالک کے حکمران اُن کے دستِ راست بنے ہوئے ہیں۔
’ایفاے عہد اور مومنانہ صفت‘ (نومبر ۲۰۰۷ئ) اخلاقی اور عملی پہلو کے حوالے سے اچھی تذکیر ہے۔ ’ازواجِ مطہراتؓ کے اسلوبِ دعوت‘ سے جذبۂ دعوت و تحریک کو مہمیز ملی اور اک ولولۂ تازہ ملا۔
نومبر کا شمارہ اول تا آخر پسند آیا خصوصاً ’ازواجِ مطہراتؓ کا اسلوبِ دعوت‘ (نومبر ۲۰۰۷ئ) کو اپنے لیے مشعلِ راہ بنالیا۔
ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی ‘علی گڑھ‘ بھارت
ترجمان القرآنمسلسل باصرہ نواز ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو تاقیامت جاری رکھے۔ بعض مضامین تو بے حد چشم کشا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مسلمانوں کو مکمل استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔
[نظام بدلنے کی] یہ کوشش ہمیں صرف اسی لیے نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا کی خیرخواہی ہم سے اس کا مطالبہ کرتی ہے۔ نہیں، ہم خود اپنے بھی سخت بدخواہ ہوں گے اگر اس سعی و جہد میں اپنی جان نہ لڑائیں۔ کیونکہ جب اجتماعی زندگی کا سارا نظام فاسد اصولوں پر چل رہا ہو، جب باطل نظریات و افکار ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہوں، جب خیالات کو ڈھالنے اور اخلاق و سیرت کو بنانے کی عالم گیر طاقتوں پر فاسد نظامِ تعلیم، گمراہ کن ادبیات، فتنہ انگیز صحافت اور شیطنت سے لبریز ریڈیو اور سنیما [ٹی وی چینلز اور کیبل] کا تسلط ہو، جب رزق کے تمام وسائل پر ایک ایسے معاشی نظام کا قبضہ ہو جو حرام و حلال کی قیود سے ناآشنا ہے، جب تمدن کی صورت گری کرنے اور اس کو ایک خاص راہ پر لے چلنے کی ساری طاقت ایسے قوانین اور ایسی قانون ساز مشینری کے ہاتھ میں ہو جو اخلاق و تمدن کے سراسر مادہ پرستانہ تصورات پر مبنی ہیں، اور جب قوموں کی امامت اور انتظام دنیا کی پوری زمامِ کار اُن لیڈروں اور حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو جو خدا کے خوف سے خالی اور اس کی رضا سے بے نیاز ہیں اور اپنے کسی معاملے میں بھی یہ دریافت کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ ان کے خالق کی ہدایت اس معاملے میں کیا ہے، تو ایسے نظام کی ہمہ گیر گرفت میں رہتے ہوئے ہم خود اپنے آپ کو ہی اس کے بُرے اثرات اور بدتر نتائج سے کب بچا سکتے ہیں۔
یہ نظام جس جہنم کی طرف جا رہا ہے اسی طرف وہ دنیا کے ساتھ ہمیں بھی گھسیٹے لیے جا رہا ہے۔ اگر ہم اس کی مزاحمت نہ کریں اور اس کو بدلنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور نہ لگائیں تو یہ ہماری اور ہماری آیندہ نسلوں کی دنیا خراب اور عاقبت خراب تر کر کے چھوڑے گا۔ لہٰذا محض دنیا کی اصلاح ہی کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بچائو کے لیے بھی یہ فرض ہم پر عائد ہوتا ہے___ اور یہ سب فرضوں سے بڑا فرض ہے کہ ہم جس نظامِ زندگی کو پوری بصیرت کے ساتھ فاسد و مہلک جانتے ہیں اُسے بدلنے کی سعی کریں اور جس نظام کے برحق اور واحد ذریعۂ فلاح و نجات ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اُسے عملاً قائم کرنے کی جدوجہد کریں۔ (’جماعت اسلامی کی دعوت‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد ۳۱، عدد۵، ذی القعدہ ۱۳۶۷ھ، ستمبر ۱۹۴۸ئ، ص ۱۷-۱۸)