مضامین کی فہرست


جنوری ۲۰۰۸

ترجمہ: محمد ظہیرالدین بھٹی

شیخ محمد فرغلی شہیدؒ کا شمار اخوان المسلمون مصر کے اولین قائدین میں ہوتا ہے۔ آپ عالم و مجاہد اور ایک مثالی داعی تھے۔ آپ کی پوری زندگی جہدِمسلسل کا مظہر تھی اور شہادت پاکر حیاتِ جاوداں پائی۔ آپ اخوان کے ان اولیں چھے شہدا میں سے ہیں جنھیں جمال عبدالناصر کے ابتدائی دور میں شہید کیا گیا۔ آپ کی زندگی میں ایسے پہلو بھی ملتے ہیں جن میں کارِ انبیاؑاور تحریک اسلامی کے مشن کو آگے بڑھانے والے داعیانِ اسلام کے لیے تزکیہ و تربیت اور رہنمائی کا سامان ہے۔ فرغلی شہیدؒ  عمر بھر ان اصولوں کی پاس داری کرتے رہے حتیٰ کہ راہِ خدا میں اپنا خون دے کر صبرواستقامت اور عزیمت کی ایک عظیم تاریخ رقم کی۔

  • اسلام کے لیے پھل: جامعہ ازہر میں دورانِ تعلیم ہی‘ آپ تک غلبہ دین اور  احیاے اسلام کی جدوجہد کی دعوت پہنچی۔ آپ نے کسی بھی رکاوٹ اور دشواری کو خاطر میں لائے بغیر اس دعوت پر لبیک کہا اور اس راہ میں ہمیشہ پیش پیش رہے۔ وہ اس اصول کا عملی نمونہ تھے کہ اسلام کی دعوت کو آگے بڑھ کر صرف قبول ہی نہ کیا جائے بلکہ آگے بڑھ کر کام کیا جائے۔ وہ پہلے پہل قاہرہ کی جمعیۃ الحضارۃ الاسلامیۃ کے رکن تھے۔ اِس تنظیم کو جب یہ یقین ہوگیا کہ الگ الگ کام کرنے سے بہتر یہ ہے کہ یک جا ہوکر کام کیا جائے تو بالآخر یہ اخوان المسلمون میں شامل ہوگئی۔ فرغلی شہیدؒ اس ابتدائی دور میں تحریک کے نمایاں داعیوں میں شمار ہوتے تھے۔
  • نرم دمِ گفتگو ،گرم دمِ جستجو:آپ نے احیاے اسلام کے لیے متعین و منظم جدوجہد اور یکسوئی پر بہت سے مضامین لکھے ۔ اپنے ایک مختصر مضمون میں وہ لکھتے ہیں:ہم ہمیشہ کام کرنا پسند کرتے ہیں‘ ہمیں عمل کی دعوت دینا بھی مرغوب ہے‘ اس لیے کہ عمل ہی مقصد تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے‘ عمل سے ہی ہماری تمام آرزوئیں پوری ہوسکتی ہیں۔ اچھا عمل ہی مکمل خیر ہے‘ خواہ تھوڑا ہو یا بہت۔ گفتگو جتنی کم ہو اتنی ہی مفید ہے۔ لمبی گفتگو کو سامعین یاد نہیں رکھ سکتے‘ جب کہ متکلم بھی یکسو نہیں رہتا۔ لہٰذا میں اخوان کے وعظ و ارشاد اور خطاب کرنے والے حضرات سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنی تقریروں اور خطبوں کو مختصر رکھا کریں۔ سامعین اگر تھوڑا سنیں‘ اسے سمجھ کر عمل کریں تو یہ بہتر ہے۔ مقرر کا اپنی تقریر پر فخرکرنا یا جو کچھ بھی دل میں ہو‘اُسے بیان کر دینا مفید نہیں ہے کیونکہ سامعین سب کچھ یاد نہیں رکھ سکتے۔ لہٰذا طویل بیان حکمتِ تبلیغ کے منافی ہے۔
  • عزتِ نفس اور جرأت: الاستاذ حسن البناؒ اپنی یادداشتوں میں بیان کرتے ہیں: ’’الجباسات البلاح کمپنی کے ذمہ دار حضرات نے اسماعیلیہ کی الاخوان سے درخواست کی کہ وہ اپنی جماعت کا کوئی عالمِ دین متعین کریں جو کمپنی کی مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض سرانجام دے۔ چنانچہ استاذ فرغلیؒ کو یہ ذمہ داری سونپ دی گئی۔ ان کی امامت و خطابت اور دروسِ قرآن نے کمپنی کے کارکنوں کو بہت زیادہ متاثر کیا۔ چند ہی ہفتوں بعد کمپنی کے ملازمین میں واضح تبدیلی محسوس کی جانے لگی اور ان کا سماجی شعور بہت بلند ہوگیا۔ مگر کمپنی مالکان کو یہ بات پسند نہ آئی۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ اگر یہی حال رہا تو یہ مولانا صاحب کمپنی پر حاوی ہوجائیں گے۔ اس کے بعد کسی کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ ان کی جدوجہد کو روک سکے‘ نہ ہی کمپنی ملازمین کو کنٹرول کرنا ہمارے بس میں رہے گا۔ کمپنی کے سرکردہ لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس طاقت ور عالم دین کو    مسجد کے فرائض سے سبک دوش کر دیا جائے۔ شیخ فرغلیؒ کو ایک اعلیٰ افسر نے بلا کر کہا کہ: ’’مجھے ڈائرکٹر صاحب نے ہدایت کی ہے کہ ہماری کمپنی کو آپ کی خدمات کی مزید ضرورت نہیں اور کمپنی ہی کے کسی ملازم کو آپ کی جگہ پر متعین کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ڈائرکٹر صاحب کے حکم کے مطابق    یہ ہیں آپ کے اب تک کے بقایا جات‘‘۔

یہ سن کر شیخ فرغلیؒ نے بڑے سکون سے جواب دیا: ’’موسیو فرانسو! میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ میں الجباسات البلاح کمپنی کا ملازم ہوں۔ اگر میں نے ایسا سمجھا ہوتا تو میں کبھی     اس کے ساتھ کام کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوتا۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ میں اسماعیلیہ کی اخوان المسلمون کا ملازم ہوں۔ میں آپ کے بجاے ان سے تنخواہ کا مطالبہ کروں گا۔ مجھے اگر یہ کام چھوڑنا ہوا تو ان سے بات کرکے چھوڑ دوں گا۔ یہ معاملہ چونکہ آپ سے غیرمتعلق ہے لہٰذا میں آپ سے تنخواہ قبول کرتا ہوں نہ بقایا جات لیتا ہوں۔ نہ ہی میں مسجد میں اپنی خدمت کو ترک کروں گا  خواہ آپ اس کے لیے طاقت ہی کیوں نہ استعمال کریں۔ ہاں جس جماعت نے مجھے یہاں بھیجا ہے اگر اس کا سربراہ مجھے حکم دے تو میں یہاں سے چلا جائوں گا۔ وہ صاحب اسماعیلیہ میں موجود ہیں۔ آپ ان سے بات کرلیں۔

کمپنی کے لوگ بڑے حیران اور پریشان ہوئے۔ انھوں نے چند روز تک صبر کیا کہ شاید‘ شیخ فرغلیؒ ان سے تنخواہ مانگیں گے۔ مگر شیخ نے اسماعیلیہ میں راقم الحروف سے رابطہ کیا۔ ہم نے انھیں کہا کہ وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہیں اور کسی بھی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں۔ شیخ فرغلیؒ کا موقف درست تھا‘ اس لیے وہ کمپنی کے ملازم تھے، نہ ان سے تنخواہ لیتے تھے۔ مجبور ہوکر اس کمپنی کی انتظامیہ نے پولیس سے مدد مانگی۔ کمپنی کے ڈائرکٹر ’موسیوماینو‘ نے کینال کے منتظم اعلیٰ سے رابطہ کیا‘ اُس نے اسماعیلیہ کے اعلیٰ پولیس افسر کو حکم دیا کہ وہ اس مہم سے عہدہ برآ ہونے کے لیے طاقت کا استعمال کرے‘ چنانچہ اعلیٰ پولیس افسر‘ پولیس کی نفری سمیت فیکٹری کے ڈائرکٹر کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں سے اُس نے شیخ فرغلیؒ کو طلب کیا۔ آپ مسجد میں تھے۔ آپ نے قاصد کو کہا: مجھے نہ تو پولیس افسر سے ملنے کی ضرورت ہے نہ ڈائرکٹر سے۔ میرا کام تو مسجد میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی مجھ سے     ملنا چاہتا ہے تو وہ میرے پاس آجائے‘‘۔ یہ جواب سن کر پولیس افسر آپ کے پاس آیا اور آپ سے کہنے لگا کہ آپ ڈائرکٹر کی بات مان لیجیے اور یہاں کا کام چھوڑ کر واپس اسماعیلیہ چلے جایئے۔ شیخ فرغلیؒ نے وہی جواب دیا جو وہ ڈائرکٹر کو اِس سے پہلے دے چکے تھے۔

جب یہ خبر کمپنی کے کارکنوں تک پہنچی کہ شیخ فرغلیؒ کو مسجد کی امامت و خطابت سے معزول کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو انھوں نے ایک لمحے کی تاخیر کیے بغیر ہڑتال کر دی۔ انھوں نے جلوس نکالا اور جوش و جذبے سے معمور ہوکر شیخ کے حق میںنعرے لگائے۔ پولیس افسر نے جب یہ محسوس کیا کہ طاقت کا استعمال خطرناک ہوگا تو وہ فوراً وہاں سے اسماعیلیہ چلا گیا۔ یہاں اُس نے مجھ سے رابطہ کیا تاکہ اس مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔ بعد میں‘ میں نے کمپنی کے ڈائرکٹر سے ملاقات کی اور پوچھا کہ وہ کیوں شیخ کو ہٹانا چاہتے ہیں تو اُس کے پاس اِس کے سوا کوئی جواب نہ تھا کہ وہ کوئی   ایسا فرد چاہتے ہیں جو ان کی بات مانے۔ اس ڈائرکٹر کی ایک بات مجھے اب تک یاد ہے:’’بہت سے مسلمان قائدین کے ساتھ میری دوستی ہے۔ میں نے الجزائر میں ۲۰سال گزارے ہیں‘ مگر مجھے  شیخ فرغلی ؒجیسا شخص کبھی نہیں ملا۔ یہ شیخ تو یہاں ہم پر اس طرح حکم چلاتا ہے جیسے یہ کوئی فوجی جرنیل ہو‘‘۔

  • بلا تاخیر جھاد بالمال: ۱۹۳۸ء میں الدعوہ حصص پروجیکٹ تجویز ہوا۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اخوان میں سے جو چاہے رضاکارانہ طور پر اپنا کچھ مال___ جو اس کے کل مال کے دسویں حصے سے کم نہ ہو___ پیش کرے‘ تاکہ اس جمع شدہ مال کو دعوتی کاموں پر خرچ کیا جاسکے۔ اخوان نے اس مالی جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پورے مصر میں اسماعیلیہ کے اخوان نے اس معاملے میں پہل کی۔ ان میں سرفہرست شیخ محمد فرغلیؒ تھے۔
  • ثابت قدمی اور غیرمعمولی صبر: برادر عبداللہ عبدالمطلب مأزنی نے رسالہ النذیر (اشاعت یکم اگست ۱۹۳۸ئ) میں لکھا: ’’پورٹ سعید میں منعقدہ محفل کے دوران ایک اخوانی نے شیخ فرغلیؒ کو ایک ٹیلی گرام دیا۔ شیخ نے اسے پورے اطمینان سے پڑھا‘ اور جیب میں ڈال لیا۔ چند لمحوں بعد انھیں خطاب کرنے کی دعوت دی گئی۔ ان کی تقریر کا موضوع تھا: ’’دعوت اور اس کی پاکیزگی‘‘۔ تقریر موزوں و برمحل تھی۔ اگلے روز المرشد نے ہمیں دورانِ سفر بتایا کہ اس ٹیلی گرام میں شیخ فرغلیؒ کے اکلوتے بیٹے کی وفات کی خبر تھی۔کیا ایمان ہے اور کتنا مضبوط و صابر ہے یہ دل‘‘۔
  • سنجیدگی اور احساسِ ذمہ داری: الاستاذ حسن البنا ۱۹۴۸ء میں اسماعیلیہ میں تشریف لائے۔ وہاں آپ نے رات کو کچھ دیر کے لیے شیخ فرغلی ؒسے ملاقات کی۔ شیخ فرغلیؒ فلسطین کے میدانِ جنگ کی طرف جانے کے لیے بالکل تیار تھے۔ امام البنا نے ان سے کہا: آپ فجر کے بعد سفر کیجیے اور یہ رات ہمارے ساتھ رہیے‘‘۔ مگر شیخ فرغلیؒ راتوں رات ہی جہاد کے لیے فلسطین کے سفر پر روانہ ہوگئے۔ صبح جب امام البنا کو بتایا گیا تو وہ خوش ہوکر فرماتے تھے۔ ’’ذمہ دار مسلمان ایسے ہی ہوتے ہیں‘‘۔
  • ادب و تواضع: اخوان بتاتے ہیں کہ ایک روز شیخ فرغلیؒ کو‘ استاد البنا کی موجودگی میں تقریر کرنے کی دعوت دی گئی۔ امام البنا نے بھی بہت اصرار کیا کہ وہ تقریر کریں۔ اصرار کے بعد انکار تو نہ کرسکے اور کھڑے ہوگئے مگر چپ چاپ۔ اپنے ہونٹ بالکل نہ کھولے‘ حالانکہ وعظ و خطاب میں وہ بے مثال تھے۔ وہ امام البنا کے سامنے تقریر کرنے سے شرماتے تھے۔ دراصل یہ ان کا   ادب و تواضع تھا۔
  • دعوت کے ساتھ کامل وفاداری اور احترامِ قیادت: استاد کامل الشریف بیان کرتے ہیں: ’’جب حسن الہضیبی نئے مرشدعام مقرر ہوئے تو مجھے یاد ہے کہ شیخ فرغلیؒ ابتدائی دنوں میں ان کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ نہ تھے۔ ۱۹۵۲ء میں فوجی انقلاب کی کامیابی‘      یعنی محمدنجیب کی پہلی وزارت کی تشکیل کے بعد‘ جمال عبدالناصر کے دفتر میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ شیخ فرغلیؒ اور راقم اس اجلاس میں اخوان کی نمایندگی کر رہے تھے۔ انقلابی حکومت اور اخوان کے مابین کچھ غلط فہمیاں پیدا ہوگئی تھیں۔ اس اجلاس میں شرکت کا مقصد‘ ان غلط فہمیوں کو دُور کرنا تھا۔ انقلابی حکومت‘ مرشدِعام اور شیخ فرغلیؒ کے مابین اختلاف ڈالنا چاہتی تھی۔ چنانچہ اجلاس کے دوران انقلابیوں نے شیخ کی تعریف شروع کر دی اور فلسطین میں ان کے کارناموں کو بیان کرنے کے بعد‘ مرشدعام پر تنقید کرنے لگے تو شیخ نے فوراً ان کی بات کاٹ دی اور غضب ناک ہو کر کہا: آپ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جس شخص کے بارے میں آپ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں وہ ہمارا لیڈر ہے اور ہماری جماعت کا سربراہ ہے۔ میں آپ کی ان باتوں کو پوری جماعت کی توہین سمجھتا ہوں اور خاص طور پر اپنی اہانت گردانتا ہوں۔ اگر اختلافات دُور کرنے کا آپ کا یہی طریقہ ہے تو پھر آپ اختلافات بڑھائیں گے‘ کم نہیں کرسکیں گے۔ شیخ کی یہ بات انقلابی فوجی افسروں کو یہ باور کرانے کے لیے کافی تھی کہ ان کے سامنے ایک پُرعزم جواں بیٹھا ہے۔ چنانچہ انھوں نے بات کا رخ دوسری طرف پھیر دیا‘‘۔
  • اللّٰہ پر یقین و اعتماد: شیخ فرغلیؒ کی زندگی توکل علی اللہ اور خدا کی ذات پر کامل بھروسے کی آئینہ دار تھی۔ اس کی ایک عظیم مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب وہ دسمبر ۱۹۵۴ء کو پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھے تو اللہ پر یقین و اعتماد اُن کے پُرسکون اور پُروقار چہرے سے عیاں تھا۔ عالمی صحافت نے اس وقت کی ان کی حالت کو ان لفظوں میں بیان کیا: ’’انتہائی سکون‘ یقین و اعتماد کی حالت میں‘‘۔ ان کی زبان پر صرف یہی کلمات جاری تھے: ’’میں موت کے لیے تیار ہوں۔ اللہ سے ملاقات کو خوش آمدید‘‘۔
  • حقیقی زھد و ورع: شیخ فرغلی شہیدؒ کے زہد و تقویٰ اور دنیا سے بے نیازی کے متعلق محمد عبداللہ الخطیب بیان کرتے ہیں:شہید فرغلیؒ کی سزاے موت کے تین دن بعد کی بات ہے کہ اخبار الاھرام نے اپنے پہلے صفحے پر ایک بہت بڑی عمارت کی تصویر شائع کی۔ اس کے سامنے ایک مرسڈیز کار کھڑی تھی۔ نیچے یہ عبارت لکھی: یہ فرغلی کا گھر ہے‘ یہ اس کی کار ہے۔ یہ سب کچھ اس نے فلسطین کے لیے دیے جانے والے چندے سے بنایا‘‘۔ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ حکومت اور اخبار کی انتظامیہ اتنی گھٹیا حرکت بھی کرسکتی ہے۔ میں الحلمیہ میں رہتا ہوں۔ میں نے اخبار لیا اور اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔ دکھ اور غم سے میں نڈھال تھا۔ میرے ساتھ الاسیوط کا ایک بھائی رہتا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ فرغلی شہیدؒ کا بھائی ابراہیم ہمیں ملنے آرہا ہے‘ کیونکہ یہ لوگ یہاں شیخ کی وصیت اور ان کے کپڑے لینے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ میں شہید کے بھائی اور دیگر اعزا کی آمد کا انتظار کرنے لگا۔ جب وہ حضرات پہنچ گئے تو میں نے شہید کے بھائی ابراہیم سے وصیت نامہ لے کر پڑھا تو اس میں یہ بات بھی لکھی تھی:ابراہیم! یاد رکھیے کہ مومن کے لیے قیدخانہ‘ خلوت اور اسے ملک یا شہربدر کرنا اس کی سیاحت اور اس کا قتل‘ شہادت ہے۔ اے ابراہیم! میں نے آپ لوگوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا ‘ اگر مال کی ضرورت پڑے تو الشیخ الباقوری کے پاس چلے جانا۔ وہ میرے دوست ہیں۔ وہ آپ کی حاجت کو پورا کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں--- جس شخص کی یہ وصیت ہو‘اس کے بارے میں حکومت کا پروپیگنڈا ایک اوچھی حرکت کے سوا کچھ نہیں۔ (المجتمع‘ شمارہ ۱۶۳۲)

سیرتِ رحمت عالمa ، ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری۔ مترجم: خدابخش کلیار۔ ناشر: نشریات، الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۸۵۶۔ قیمت: ۴۵۰ روپے۔

رحمت عالم خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی تمام صفات و کمالات کی جامع اور انسانیت کی معراجِ کمال ہے  ع  آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہاداری۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت نگاری ایک ایسا پاکیزہ موضوع ہے جس پر ہر مکتبِ فکر کے اہلِ قلم گذشتہ چودہ صدیوں میں نہایت وقیع اور قابلِ قدر تصانیف پیش کرچکے ہیں۔ زیرنظر کتاب اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ مدینہ منورہ کے ایک فاضل محقق ڈاکٹر اکرم ضیاء العمری کی کاوشِ فکر وتحقیق کا نتیجہ ہے۔ اصل کتاب السیرۃ النبویہ الصحیحۃ کے نام سے عربی زبان میں ہے۔ اسے محترم خدابخش کلیار نے اُردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ کتاب چار فصلوں پر مشتمل ہے جن کے عنوانات یہ ہیں: رسولؐ اللہ مکہ میں، رسولؐ اللہ مدینہ میں، مشرکین کے خلاف جہاد، رسالت اور رسولؐ۔

فاضل مصنف نے جہاں یہ خیال رکھا ہے کہ موضوع اور ضعیف روایتیں کتاب میں نہ آنے پائیں، وہاں بعض مشہور لیکن مشتبہ روایتوں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ انھوں نے حیاتِ نبوی کے مکی اور مدنی دونوں ادوار کے اہم واقعات اختصار مگر جامعیت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ وہ ان واقعات کے صرف ناقل ہی نہیں بلکہ جگہ جگہ تفکروتعمق سے کام لے کر قارئین کو بھی سوچنے اور    غور کرنے کی دعوت دی ہے، ساتھ ہی سیرتِ نبویؐ سے فکرانگیز نتائج بھی اخذ کیے ہیں۔ اس کتاب میں فاضل مصنف کی ایک اور تصنیف المجتمع فی عھد النبوۃ کا ایک نظرثانی حصہ بھی   شامل ہے۔ اس کے انگریزی ترجمے کا اُردو ترجمہ محترمہ عذرا نسیم فاروقی (م:۲۰۰۴ئ) نے کیا تھا۔ اس سے یقینا کتاب کی افادیت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بلاشبہہ زیرتبصرہ کتاب کتبِ سیرت میں گراں قدر اضافہ ہے۔ البتہ یہ کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ مختلف مقامات، غزوات و سرایا اورافراد کے اسما پر اعراب اور اضافت کی علامات لگانے کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ قارئین کو غلط تلفظ سے بچانے کے لیے ایسا اہتمام کرنا بہت ضروری ہے۔ (طالب الہاشمی)


احیاے دین کا مقدمہ، سردارعالم خان۔ ناشر: الفیصل، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۲۳۹۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔

زیرنظر کتاب میں قیامِ پاکستان کا مقصد، اسلام اور مغرب، قوموں کا عروج و زوال،  تجدید واحیاے دین اور احیاے خلافت جیسے اہم موضوعات کو زیربحث لایا گیا ہے۔

آغاز میں قیامِ پاکستان کے مقاصد، تحریکِ پاکستان میں مختلف لوگوں کے کردار اور    نفاذ اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ قائداعظم اور لیاقت علی خان کی تقاریر سے اقتباسات پیش کر کے ان لوگوں کا موقف غلط ثابت کیا گیا ہے جن کو یہ وہم ہوگیا ہے کہ قائداعظم پاکستان کوسیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں مؤلف نے قیادت کے بحران، دینی قوتوں کے انتشار اور نوآبادیاتی ورثے کو نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹیں قرار دیا ہے۔

اسلام اور مغرب کے تعلقات کے تحت ساتویں صدی عیسوی سے لے کر اب تک کی تاریخ بیان کی گئی ہے جس میں صلیبی جنگوں، مغربی استعماریت، نوآبادیاتی نظام اور موجودہ صورت حال کا تفصیل سے جائزہ لیاگیا ہے۔مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مغرب اپنے ممالک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دنیا بھر میں اسلام کے تیزی سے پھیلتے ہوئے اثرات سے خوف زدہ ہے۔ (ص ۱۳۴)

قوموں کے عروج و زوال کے دائمی اور معروضی اصول بیان کرنے کے ساتھ ساتھ  تجدید و احیاے دین کے زیرعنوان تشکیل معاشرہ کے اصول، اجتہاد کی ضرورت، مجدد کے مقام، تجدید کی ضرورت اور روح پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔ ۱۹ویں صدی کے عظیم مجدد عثمان فودیو (۱۷۵۴ئ-۱۸۱۷ئ) کی جدوجہد اور اس کے نتیجے میں سکوٹو (جمہوریہ نائیجیریا) میں خلافت کے قیام کا شان دار تذکرہ بھی سامنے آتا ہے۔ کتاب مسلمانوں کو اقامت دین کی جدوجہد پر اُبھارتی ہے۔(حمیداللّٰہ خٹک)


نام ور مغربی سائنس دان ، حمید عسکری۔ ناشر: مجلس ترقی ادب، کلب روڈ، لاہور۔ صفحات: مجلد: ۳۶۰۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

سائنس وہ علم ہے کہ جس کی بنیاد خیال، مشاہدے اور بالآخر تجربے سے منسوب ہے۔ یہ علم، اللہ کی نشانیوں کو پرکھنے کی انسانی کوشش اور ان کوششوں کے ثمر سے انسانوں کو ثمربار کرنے کا وہ علم ہے جس نے حیرتوں کے باب کھولے اور سہولتوں کے خزانوں کا انبار لگا دیا ہے۔

سائنس کا علم انسانیت کی مشترکہ میراث ہے کہ اس اہرام کی تعمیر میں مختلف اوقات میں معروف اور گم نام اہلِ دانش نے اپنے اپنے حصے کا پتھر نصب کیا۔ بلاشبہہ ان سائنسی ایجادات کے پس منظر میں مسلمان سائنس دانوں کی کاوشوں، تحقیقات اور تجربات کا بھی حصہ ہے لیکن آخرکار جس ایجاد یا جس سائنسی کلیے کو حل کرنے کا اعزاز جن مغربی سائنس دانوں کو حاصل ہوا، یہ کتاب ان میں سے ۲۵ محسنوں کے احوال پر مشتمل ہے۔

اس کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے کتنی محنت کی۔ کس قدر بڑے سماجی، معاشی، مذہبی چیلنجوں کا سامنا کیا۔ آج ہم جن آسایشوں کو یوں برت رہے ہیں کہ    شاید یہ آفرینش آدم کے عہد سے جوں کی توں میسر تھیں تو واقعہ یہ ہے کہ ایسا نہیں تھا۔ اس کے لیے دنیاے علم کو بڑی مشکلات کو عبور کرنا پڑا ہے۔ فاضل مصنف نے عام فہم انداز میں ان       سائنس دانوں کی داستانِ حیات اور کارنامۂ علم کو پیش کیا ہے۔ ان رجال میں: راجر بیکن، گوٹن برگ، ٹرے ویژن، کوپرنیکس، پیراسیل، ٹامیکوبراہے، گلیلیو، جان کیپلر، ولیم ہاروے، رابرٹ یو ایل،  جوشم باشر، لیون ہک، آئزک نیوٹن اور دیگر ۱۲ سائنس دان شامل ہیں۔ اس سے قبل مجلسِ ترقیِ ادب نام ور مسلم سائنس دان بھی شائع کرچکی ہے۔ (سلیم منصور خالد)


تعارف کتب

  • قرآن کے بکھرے موتی، مولانا محمد اصغر کرنالوی۔ زم زم پبلشرز، شاہ زیب سنٹر نزد مقدس مسجد، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۲۷۲۵۶۷۳-۰۲۱۔ صفحات: ۵۷۳۔ قیمت (مجلد): ۲۰۰ روپے۔[ قرآن کے عجائب، خزینوں، جواہر اور موتیوں کو جاننے کی سعی اور مطالعہ قرآن کا ذوق بڑھانے کی ایک کوشش۔ ۷۳ تفاسیر اور ۶۵ہزار صفحات کا نچوڑ، بقول مصنف برسوں کے مطالعے کا نتیجہ ۔ عقائد، معاملات، عبادات، جنت، دوزخ، دعوت اور جہاد کے علاوہ فقہ، قانون، سیاست اور تصوف سے متعلق واقعاتی اسلوب میں دل چسپ معلومات۔ ابواب بندی اور موضوعات کا تعین کیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا۔]
  • عبادات، فضائل و مسائل ، سراج الدین ندوی۔ ناشر: ملت اکیڈیمی‘ دہلی۔ ملنے کا پتا: مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز، ڈی-۳۰۷، دعوت نگر ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، نئی دہلی-۱۱۰۰۰۶،بھارت۔ صفحات: ۴۲۶۔قیمت:  درج نہیں۔ [نماز‘ روزہ‘ زکوٰۃ اور حج کے بارے میں اہمیت و فضیلت کے مختصر ذکر کے بعد‘ ضروری فقہی مسائل کا عام فہم اور جامع بیان۔ حنفی مسلک کے ساتھ دوسرے مسلکوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔]
  • لکھاری کیسے بنتا ہے؟ امجد جاوید۔ ناشر: علم و عرفان پبلشرز‘ ۳۴- اُردو بازار‘ لاہور۔ فون: ۷۲۳۲۳۳۶۔ صفحات: ۱۲۰۔ قیمت: ۱۲۰ روپے۔ [ابلاغ، تحریر، فنِ تحریر کے لوازم، طریقے، اصنافِ نظم و نثر اور آخر میں جمیل جالبی، عابد علی عابد اور سید مودودی کے چند نصائح۔ کتاب کے مصنف نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ آپ کیسے لکھاری    بن سکتے ہیں (ہمارے خیال میں لفظ لکھاری کے بجاے ’اہلِ قلم‘ یا ’قلم کار‘ بہتر معلوم ہوتا ہے)۔ سو باتوں کی ایک بات، قلم کار بننے کا سب سے مؤثر، بہتر اور کامیاب طریقہ ’می نویس و می نویس و می نویس‘ لکھتے رہیے، لکھتے رہیے،  قلم گھستے رہیے ،ایک سہانی صبح آپ کا شمار اہلِ قلم میں ہوگا۔ صرف اصول اور ضابطے پڑھنے سے لکھاری نہیں بنتا۔ بہرحال لکھاری بننے کے شائقین کے لیے ایک مفید معاون۔]
  • کامیاب طالب علم، روح اللہ نقش بندی۔ناشر: دارالہدیٰ دفتر نمبر۸‘ پہلی منزل‘ شاہ زیب ٹیرس نزد زم زم پبلشرز‘ اُردو بازار‘ کراچی۔ صفحات: ۱۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔ [ایک طالب علم کن صفات کو اپنا کر علم میں پختگی‘ عمل میں مضبوطی اور اخلاق میں درستی پیدا کرسکتا ہے۔ طالب علم کے لیے ضروری آداب تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں‘ نیز علم کے متعلق اکابر کے واقعات نے کتاب کو دل چسپ بنادیا ہے۔]
  • رہنماے خوش خطی ،محمد اسلم زاہد۔ ناشر: مکہ کتاب گھر‘ الکریم مارکیٹ‘ حق سٹریٹ‘ اُردو بازار‘ لاہور۔ فون: ۷۱۲۴۸۸۲۔ صفحات: ۲۴۸۔ قیمت: ۱۴۰ روپے۔ [نسخ اور نستعلیق سیکھنے سکھانے کے لیے ایک عمدہ کتاب۔ خوش خطی کے اصول اور طریقے‘ مشق کے لیے نمونے کے الفاظ اور تین تین‘ چار چار خالی سطریں مشق کے لیے۔ مصنف‘ سیدنفیس رقم کے تربیت یافتہ خوش نویس ہیں مگر تعجب ہے کہ انھوں نے اِملا کی صحت کو نظرانداز کیا ہے۔ اُردو میں لفظ ’اِملا‘ میں    ہمزہ (ئ) نہیں ہے۔ طلبا کے بجاے’طلبہ‘ ، لئے اور لیجئے کے بجاے ’لیے‘ اور ’لیجیے‘ صحیح ہے۔’پڑھیئے‘ تو قطعی غلط ہے۔]
  • تیرتی قبر ؟ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر۔ ناشر: دارالسلام، ۳۶- لوئر مال، سیکرٹریٹ اسٹاپ، لاہور۔ صفحات: ۵۶۔ قیمت: ۶۵ روپے۔ [چار دوستوں کے مچھلی کے شکار سے شروع ہونے والی کہانی در کہانی میں مچھلیوں کے مشہور قصے، سائنسی معلومات اور قرآن میں ذکر، سب دل نشین انداز سے آگیا ہے۔ ۸ تا۱۲ سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے ہے۔ تیرتی قبر سے مراد حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ میں ہونا ہے۔]

محمد شکیل ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ

’ووٹ کی شرعی حیثیت‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) ایک اہم مسئلہ ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ووٹ کے ذریعے تبدیلی کو کارِلاحاصل اور مغربی طریقہ سمجھتے ہیں۔ راے عامہ ہموار کیے بغیر بزورِ طاقت شریعت نافذ کرنے کی سوچ کبھی ’لال مسجد تحریک‘ اور کبھی ’تحریکِ نفاذِ شریعت محمدی‘ کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ نتائج سب کے سامنے ہیں۔ ’مغربی دانش وروں کا احساسِ شکست‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) میں خوش کُن اور اُمید افزا پہلو سامنے آیا ہے لیکن ناول نگاروں کا مقصد یورپ و امریکا میں خوف و ہراس پھیلانا معلوم ہوتا ہے اور راے عامہ کو اِس بات پر آمادہ کرنا کہ اسلامی انقلاب کی تحریک کو ابھی سے کچل ڈالو۔ اِس قسم کی تحریریں اورفلمیں کس قسم کے اثرات مرتب کر رہی ہیں اور اسلام کے بارے میں کیا کیا منفی تاثرات پھیلا رہی ہیں ان کا مطالعہ و تجزیہ بھی آنا چاہیے۔


ڈاکٹر اختر حسین عزمی ‘پتوکی

’ووٹ کی شرعی حیثیت ‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) کے مسئلے پر تاحال اس چیز کی ضرورت ہے کہ تفصیل سے بحث کی جائے۔ اس موضوع پر اجتہادی آرا میں اختلاف ایک فطری امر ہے۔ بایں ہمہ ووٹ کے کلچر یا جمہوری عمل کے موجودہ چلن کی مخالفت کرنے والوں کو گمراہ کن قرار دینا بھی سوچ کا نمایندہ حریت فکر کے منافی ہے۔


شفیق الرحمٰن ہاشمی‘قصور

’اقبال اور جوانانِ ملّت‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) میں راہِ عمل متعین کرنے کے لیے رہنمائی ہے۔ اس مضمون میں علامہ اقبال کے اکبر الٰہ آبادی کے نام ایک خط کا ذکر کیا گیا ہے جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ کوئی قابل نوجوان جو ذوقِ خداداد کے ساتھ قوتِ عمل بھی رکھتا ہو مل جائے جس کے دل میں اپنا اضطراب منتقل کر دوں۔ معروف مسلم لیگی رہنما اور کالم نگار م-ش نے ایک موقع پر یہی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا تھا: ’’اور وہ نوجوان انھیں مولانا مودودی کی صورت میں مل گیا، جسے انھوں نے لاہور آنے کی دعوت دی‘‘۔


حسین بخش جاکھرانی ‘ حیدر آباد

’اقبال اور جوانانِ ملت‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) کے مطالعے سے اقبال کی نوجوانوں سے توقعات اور ان کے لیے پیغام توسامنے آتا ہے مگر تشنگی باقی رہتی ہے۔ ضرورت ہے کہ عصرِحاضر میں اقبال کے افکار، شاعری اور نثر سے نوجوانوں کو آگاہ کرنے کے لیے انتخاب پر مبنی ایک جامع، مؤثر اور مختصر کتاب تیار کی جائے۔


فراز احمد سلیم ‘ گوجرانوالہ

’انسانی وسائل کی ترقی، اسلامی نقطۂ نظر‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) کے حوالے سے عرض ہے کہ اساتذہ کرام دورانِ تدریس سیرت سازی کو پیش نظر رکھیں تو نئی نسل کی تربیت کے لیے مزید راہیں کھل سکتی ہیں۔


صابر حسین ‘ہری پور

’جدیدیت، سائنس اور الہامی دانش‘ (دسمبر ۲۰۰۷ئ) میں بہت سے مشکل الفاظ تھے۔ تحریر عام فہم ہونی چاہیے۔ کوشش کیجیے کہ تحریریں عام فہم ہوں اور آسان الفاظ استعمال کیے جائیں۔


شفیق الرحمٰن شاکر ‘ قصور

’کتاب اللہ کا نفاذ: اہمیت و ضرورت‘ (نومبر ۲۰۰۷ئ) میں اُمت مسلمہ کے اہم ترین مقصدِحیات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ درحقیقت موجودہ دور میں کتاب اللہ کے نفاذ کی راہ میں دو بڑی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اوّلاً، جن لوگوں پر کتاب اللہ کے نفاذ کا فریضہ عائد ہوتا ہے وہ محوِ غفلت ہیں اور دو رنگی کا شکار ہیں۔ ثانیاً،    عالمی طاقتیں مسلم ممالک کو لادین اور سیکولر بنانے کے عالمی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں اور ان ممالک کے حکمران اُن کے دستِ راست بنے ہوئے ہیں۔


سیمیں نذیر‘کراچی

’ایفاے عہد اور مومنانہ صفت‘ (نومبر ۲۰۰۷ئ) اخلاقی اور عملی پہلو کے حوالے سے اچھی تذکیر ہے۔ ’ازواجِ مطہراتؓ کے اسلوبِ دعوت‘ سے جذبۂ دعوت و تحریک کو مہمیز ملی اور اک ولولۂ تازہ ملا۔


بشریٰ کنول ‘کراچی

نومبر کا شمارہ اول تا آخر پسند آیا خصوصاً ’ازواجِ مطہراتؓ کا اسلوبِ دعوت‘ (نومبر ۲۰۰۷ئ) کو   اپنے لیے مشعلِ راہ بنالیا۔

ڈاکٹر رئیس احمد نعمانی ‘علی گڑھ‘ بھارت

ترجمان القرآنمسلسل باصرہ نواز ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو تاقیامت جاری رکھے۔ بعض مضامین تو بے حد چشم کشا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مسلمانوں کو مکمل استفادے کی توفیق عطا فرمائے۔

چہرے نہیں، نظام بدلیں

[نظام بدلنے کی] یہ کوشش ہمیں صرف اسی لیے نہیں کرنی چاہیے کہ دنیا کی خیرخواہی ہم سے اس کا مطالبہ کرتی ہے۔ نہیں، ہم خود اپنے بھی سخت بدخواہ ہوں گے اگر اس سعی و جہد میں اپنی جان نہ لڑائیں۔ کیونکہ جب اجتماعی زندگی کا سارا نظام فاسد اصولوں پر چل رہا ہو، جب باطل نظریات و افکار ساری دنیا پر چھائے ہوئے ہوں، جب خیالات کو ڈھالنے اور اخلاق و سیرت کو بنانے کی عالم گیر طاقتوں پر فاسد نظامِ تعلیم، گمراہ کن ادبیات، فتنہ انگیز صحافت اور شیطنت سے لبریز ریڈیو اور سنیما     [ٹی وی چینلز اور کیبل] کا تسلط ہو، جب رزق کے تمام وسائل پر ایک ایسے معاشی نظام کا قبضہ ہو جو   حرام و حلال کی قیود سے ناآشنا ہے، جب تمدن کی صورت گری کرنے اور اس کو ایک خاص راہ پر لے چلنے کی ساری طاقت ایسے قوانین اور ایسی قانون ساز مشینری کے ہاتھ میں ہو جو اخلاق و تمدن کے سراسر مادہ پرستانہ تصورات پر مبنی ہیں، اور جب قوموں کی امامت اور انتظام دنیا کی پوری زمامِ کار اُن لیڈروں اور حکمرانوں کے ہاتھ میں ہو جو خدا کے خوف سے خالی اور اس کی رضا سے بے نیاز ہیں اور اپنے کسی معاملے میں بھی یہ دریافت کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے کہ ان کے خالق کی ہدایت اس معاملے میں کیا ہے، تو ایسے نظام کی ہمہ گیر گرفت میں رہتے ہوئے ہم خود اپنے آپ کو ہی اس کے بُرے اثرات اور بدتر نتائج سے کب بچا سکتے ہیں۔

یہ نظام جس جہنم کی طرف جا رہا ہے اسی طرف وہ دنیا کے ساتھ ہمیں بھی گھسیٹے لیے جا رہا ہے۔ اگر ہم اس کی مزاحمت نہ کریں اور اس کو بدلنے کی کوشش میں ایڑی چوٹی کا زور نہ لگائیں تو یہ ہماری اور ہماری آیندہ نسلوں کی دنیا خراب اور عاقبت خراب تر کر کے چھوڑے گا۔ لہٰذا محض دنیا کی اصلاح ہی  کے لیے نہیں بلکہ خود اپنے بچائو کے لیے بھی یہ فرض ہم پر عائد ہوتا ہے___ اور یہ سب فرضوں سے   بڑا فرض ہے کہ ہم جس نظامِ زندگی کو پوری بصیرت کے ساتھ فاسد و مہلک جانتے ہیں اُسے بدلنے کی سعی کریں اور جس نظام کے برحق اور واحد ذریعۂ فلاح و نجات ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اُسے عملاً   قائم کرنے کی جدوجہد کریں۔ (’جماعت اسلامی کی دعوت‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی، ترجمان القرآن، جلد ۳۱، عدد۵، ذی القعدہ ۱۳۶۷ھ، ستمبر ۱۹۴۸ئ، ص ۱۷-۱۸)