مضامین کی فہرست


۲۰۰۸ فروری

دنیا واقعی ایک عالمی گائوں کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ دنیا کے کسی بھی خطے میں کوئی اہم واقعہ یا حادثہ رونما ہوجائے، ہر شہر اور قصبے بلکہ گائوں اور گوٹھ میں ذرائع ابلاغ پوری تفصیلات و تصاویر بروقت پہنچا دیتے ہیں۔ اس وقت عالمی خبروں میں ایک نمایاں ترین خبر مشرقی افریقہ کے ملک کینیا کے صدارتی انتخابات اور ان کے مابعد کے حالات و واقعات ہیں۔ موجودہ صورت حال کو سمجھنے  کے لیے کینیا کے سیاسی و معاشرتی پس منظر کا مختصر مطالعہ مفید رہے گا۔

کینیا، براعظم افریقہ کا اہم اور مرکزی کردار کا حامل ملک ہے جہاں انتخابات باقاعدگی سے ہوتے رہے ہیں اور فوج کبھی ایوانِ اقتدار پر قابض نہیں ہوسکی۔ اس ملک نے انگریزی استعمار سے سخت جدوجہد اور گوریلا جنگ کے بعد ۱۲دسمبر ۱۹۶۳ء کو آزادی حاصل کی تھی۔ اس وقت کینیا کی آبادی ساڑھے تین کروڑ سے متجاوز ہے۔ خوب صورت ساحلوں، قابلِ دید جزائر اور انتہائی دل فریب پہاڑی مقامات کے علاوہ گھنے جنگلوں اور ہر طرح کے جنگلی جانوروں (wild life)کی وجہ سے یہ ملک دنیا بھر کے سیاحوں کا بھی مرکز ہے۔ پھر موسم اتنا پُرکشش کہ ۱۲ مہینے نہ شدت کی گرمی نہ یخ بستہ سردی، یہاں کے دن اور رات تقریباً سال بھر برابر رہتے ہیں۔

ملک کی آزادی کے بعد پہلا سربراہِ مملکت باباے قوم، مزے جوموکنیاٹا(Mzee Jomo Kenyatta) منتخب ہوا، جسے پوری قوم کا اعتماد اور قابلِ رشک مقبولیت حاصل تھی جو اس کے آخری لمحے تک برقرار رہی۔ وہ اپنی وفات (۱۹۷۸ئ) تک بلاشرکت غیرے ملک کا سربراہ رہا۔ دستور کے مطابق ہر پانچ سال بعد صدارتی اور پارلیمانی انتخاب ہوتے رہے لیکن ملک میں کثیرالجماعتی سیاست ممنوع تھی۔ ایک ہی پارٹی کینیا افریقن نیشنل یونین (KANU) حکمران رہی۔ صدر کنیاٹا کے مقابلے پر کبھی کسی نے کاغذات نامزدگی داخل ہی نہیں کیے تھے، البتہ پارلیمان میں کانو کے ارکان آپس میں مقابلہ کرتے اور تقریباً آزادانہ و منصفانہ انتخابات کے ذریعے پارلیمان میں پہنچتے تھے۔

آزادی کے بعد ملک کا پہلا نائب صدر، موجودہ اپوزیشن لیڈر رائیلا اوڈنگہ (Raila Odinga) کا باپ اوڈنگہ اوگِنگہ (Oginga) تھا۔ آزادی کے کچھ ہی عرصے بعد صدر اور نائب صدر کے درمیان تنازعات شروع ہوگئے، جس کے نتیجے میں اوڈنگہ کو پس دیوارِ زنداں بھیج دیا گیا۔ کنیاٹا نے زندگی کے آخری برسوں میں اپنے حریف کو جیل سے رہا کردیا مگر وہ مؤثر شخصیت ہونے کے باوجود بدلے ہوئے حالات میں سیاسی میدان میں کوئی خاص مقام حاصل نہ کرسکا۔ کنیاٹا کی اچانک وفات (۱۹۷۸ئ) کے بعد نائب صدر ڈینیل ارپ موئی (Daniel Arapmoi) دستور کے مطابق قائم مقام صدر بن گیا، جو کنیاٹا کے زمانے میں محض ایک نمایشی نائب صدر کے طور پر پہچانا جاتا تھا۔ موئی نے آہستہ آہستہ اپنی گرفت اتنی مضبوط کرلی کہ نہ صرف حکمران سیاسی پارٹی کانو بلکہ تمام حکومتی اور نیم حکومتی اداروں پر بھی اپنے قبیلے اور من پسند لوگوں کو مسلط کردیا۔ کرپشن اس قدر بڑھی کہ لوگ بلبلا اُٹھے۔ صدر موئی کے خلاف ۱۹۸۲ء میں جونیر افسروں کی طرف سے ناکام فوجی بغاوت ہوئی، جسے اس وقت کے مسلمان آرمی چیف جنرل محمود محمد کی طرف سے کچل دیا گیا تھا۔ اس سے موئی کے حوصلے اور من مانی مزید بڑھ گئی۔

۱۹۹۳ء میں صدر موئی کے چوتھی بار منتخب ہونے کے بعد ملک کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی بالآخر ناقابلِ برداشت ہوگئی۔ لوگوں نے کثیرالجماعتی سیاست کے لیے مظاہرے شروع کردیے۔ ان مظاہروں کو سختی سے کچلنے کی حکومتی کوشش کے باوجود، ان میں مسلسل شدت آتی چلی گئی اور ملک کا بڑا قبیلہ (کیکویو(Kikuyu)، پہلے صدر کنیاٹا اور موجودہ صدر کیباکی (Kibaki) کا قبیلہ)   پوری طرح حکومت کے خلاف منظم ہوگیا۔ موجودہ صدر شروع میں موئی کے ساتھ نائب صدر کے فرائض ادا کرتا رہا تھا۔ موئی نے اسے برخاست کردیا اور نسبتاً چھوٹے قبائل کو اپنے ساتھ ملاکر حکومت بچانے کی پالیسی اختیار کی۔ ۱۹۹۹ء میں احتجاجی تحریک کامیاب ہوگئی اور کثیرالجماعتی سیاست کا آغاز ہوا، مگر انتخابات میں دھاندلی کے ذریعے حکمران پارٹی ہی برسرِاقتدار رہی۔

صدر موئی کا تعلق کالن جین (Kalenjin) قبیلے سے تھا، جو آبادی کا ۱۲ فی صد ہے۔ کینیا میں ۵۰ سے زائد قبائلی اور لسانی گروپ ہیں لیکن تقریباً ۷۵ فی صد آبادی پانچ بڑے قبائل پر مشتمل ہے۔ باقی چھوٹے چھوٹے گروپ مل کر ۲۵ فی صدبنتے ہیں۔ سب سے بڑا قبیلہ موجودہ صدر موائی (Mwai) کیباکی کا ہے (

۲۲ فی صد)، دوسرے نمبر پر لوہیا (Luhya)، ( ۱۴ فی صد)، تیسرے نمبر پر اپوزیشن لیڈر رائیلا اوڈنگہ کا قبیلہ لوئو (Luo) ( ۱۳ فی صد)، چوتھے نمبر پر کالن جین (۱۲ فی صد) اور پانچویں نمبر پر کامبا (Kamba) ( ۱۱ فی صد) ہے۔ موائی کیباکی  ۲۰۰۲ء کے انتخابات میں حکمران کانو پارٹی کے صدارتی امیداوار اوصرو کنیاٹا (باباے قوم کا بیٹا) کے مقابلے پر رائیلہ اوڈنگہ اور دیگر گروپوں کی مدد سے جیتا تھا۔ اس نے اپنے مختصر دورِ حکومت میں اپنے پیش رو سے بھی زیادہ کرپشن کی مگر اسے امریکا کی اشیرباد حاصل رہی۔ اس نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور کانو کو بھی اپنا حلیف بنا لیا۔ مگر اس کے قریبی ساتھی اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ انھوں نے اس کے خلاف نئی پارٹی، اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ بناکر تحریک شروع کردی۔

۲۷ دسمبر ۲۰۰۷ء کے انتخابات میں تین امیدوار حصہ لے رہے تھے جن میں نمایاں دو ہی تھے یعنی موائی کیباکی (حکمران نیشنل یونٹی پارٹی) رائیلا اوڈنگہ (اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ) ملک کی سابقہ حکمران پارٹی کانو، موائی کیباکی کی حلیف ہے لیکن وہ اب بے اثر ہوچکی ہے۔ انتخابات میں واضح طور پر اوڈنگہ جیت رہا تھا۔ تمام سروے رپورٹس اور مبصرین کے مطابق اس کی جیت یقینی تھی مگر انتخابات میں بے پناہ دھاندلی اور جھرلو استعمال کیا گیا۔ الیکشن اتھارٹی نے خود بھی نتائج کو مشکوک بنا دیا ہے۔ چیف الیکشن کمیشن صحافیوں کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔ وہ سارے سوالات کے جواب ہی نہ دے سکے۔ اپوزیشن نے نتائج مسترد کرکے احتجاجی تحریک شروع کر دی۔

انتخابات کے بعد فوری طور پر امریکا نے کینیا کے معاملات میں مداخلت شروع کر دی اور امریکا کی نمایندہ جنڈائی فریزر (Jenday Frazer) حکومت اور اپوزیشن میں مصالحت کرانے کے لیے نیروبی پہنچ گئی اور اب تک اس کام میں سرگرمِ عمل ہے۔ اسی طرح سے آرگنائزیشن آف افریقن یونٹی (OAU) کے سربراہ اور گھانا کے صدر جان کفور (John Kufour) بھی مصالحت کنندہ کے طور پر نیروبی پہنچے۔ نیلسن منڈیلا اور بشپ ڈسمنڈ ٹوٹو جنوبی افریقہ سے نیروبی وارد ہوئے۔ ان سب لوگوں نے حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کی کوشش کی مگر تاحال کوئی کامیابی نہیں ہوسکی۔ صدر کیباکی کے خلاف عوامی لہر اتنی مضبوط ہے کہ امریکی دبائواور دیگر سفارت کاروں کی کوششوں کے باوجود حزبِ اختلاف اور عوام دھاندلی سے جیتنے والے صدر کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔صدر کیباکی نے متنازعہ انتخابات کے بعد اپنی صدارت برقرار رکھنے کے لیے قومی حکومت کے قیام کا بھی اعلان کردیا، کابینہ میں دیگر پارٹیوں کو نمایندگی دینے کا وعدہ بھی۔ انھوں نے ایک کابینہ کا تقرر بھی کردیا مگر ان کے مدّمقابل رائیلا اوڈنگہ نے اسے جعلی صدر کی جعلی کابینہ کہہ کر مسترد کردیا۔ اپوزیشن کا موقف واضح، دوٹوک، یک نکاتی اورحتمی ہے کہ غاصب اور انتخابی نتائج کے چور سے کسی قسم کے مذاکرات کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ملک کے حالات دگرگوں ہیں اور تمام افریقی ممالک کے لوگ ان کا تجسس سے مطالعہ کررہے ہیں۔ محتاط اندازوں کے مطابق اب تک ایک ہزار سے زائد لوگ ہنگاموں کے دوران پولیس کی گولیوں سے، یا عوامی بلووں کے نتیجے میں مارے جاچکے ہیں، جب کہ کینیا کے وزیرخزانہ ایموس کیمونیا (Amos Kimunya) کے بقول مالی نقصان کا تخمینہ ایک بلین ڈالر ہے اور اربوں شلنگ کی جایدادیں نذرِ آتش ہوچکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے اداروں کے تازہ ترین سروے میں تین لاکھ لوگ گھروں سے بے گھر بتائے گئے ہیں اور ابھی تک بڑے شہروں میں زندگی معمول پر نہیں آئی۔ رائیلا اوڈنگہ انقلابی ذہن رکھنے والا ہنگامہ پرور لیڈر ہے، جب کہ موائی کیباکی، امریکا کا منظور نظر۔ ارپ موئی کے خلاف کیباکی کا بڑا حامی رائیلا ہی تھا۔ کیباکی نے گذشتہ پانچ سالوں میں امریکی اشاروں پر جنرل پرویز مشرف کی طرح نام نہاد دہشت گردی کے خلاف ملک میں کئی کریک ڈائون کیے ہیں۔

ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تمام چھوٹے قبائل بالخصوص سواحلی اور شمال مشرقی علاقوں میں بسنے والے مسلمان پوری طرح اپوزیشن کے ساتھ ہیں۔ مسلمانوں کی حقیقی آبادی کو ہمیشہ گھٹاکر بیان کیا گیا ہے۔ عملاً اس ملک میں مسلمان ۲۵ سے ۳۰ فی صد ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کیباکی امریکی کٹھ پتلی ہے۔ یہ حقیقت تو بالکل عیاں ہے کہ دنیا بھر میں بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں امریکا کے خلاف شدید عوامی نفرت پائی جاتی ہے۔ مسلم اُمہ میں جو عمومی بیداری نظر آتی ہے، افریقی ممالک میں بھی اس کی ایک نمایاں لہر محسوس کی جارہی ہے۔ نوجوان اسلام کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور اپنے اپنے ملکوں میں بحیثیت مسلم کمیونٹی فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

حزبِ اختلاف کی پارٹی اورنج ڈیموکریٹک موومنٹ میں ساحلی علاقوں سے ایک اُبھرتا ہوا نوجوان نجیب بلالہ بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ وہ اپوزیشن لیڈر اوڈنگہ کے قریب ترین ساتھیوں میں شمار ہوتا ہے اور بعض سیاسی مبصرین کی راے میں اگر اوڈنگہ منتخب ہوجاتا ہے تو نجیب بلالہ یا کسی دوسرے مسلمان لیڈر کے نائب صدر یا کم از کم اہم وزارتوں میں سے کسی وزارت پر آنے کے امکانات خاصے روشن ہیں۔ کینیا کی اپوزیشن اس لحاظ سے قابلِ تحسین ہے کہ مقامی طور پر حکومت کی پُرتشدد کارروائیوں اور بیرونی طور پر سفارتی دبائو کے باوجود وہ کسی ناروا ڈیل یا دبائو کے ذریعے اپنے حق سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ نعرہ اب کینیا میں ہر بچے بوڑھے کی زبان پر ہے کہ غاصب حکومت نامنظور، غاصب سے مذاکرات نامنظور۔ اس نعرے میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے لیے بھی پیغام پنہاں ہے۔

اسلامی ریاست اور مسلم طرزِ حکومت، محمد اسد، مترجم: محمد شبیرقمر۔ ناشر: بیت الحکمت، لاہور۔ ملنے کا پتا: ۱-کتاب سراے، الحمدمارکیٹ، غزنی سٹریٹ ،اُردو بازار، لاہور۔ ۲-فضلی بک ، سپرمارکیٹ، اُردو بازار، کراچی۔ صفحات: ۱۸۳۔ قیمت: ۱۱۰ روپے۔

قیامِ پاکستان کے بعد اہم ترین مسئلہ یہ تھا کہ اس ملک میں آئین و قانون کیا ہونا چاہیے۔ معروف نومسلم محمداسد اُس زمانے میں یہاں موجود تھے، اُنھوں نے متعدد مضامین کے ذریعے واضح کیا کہ اسلامی مملکت میں شورائیت کا کیا مقام ہے، عوام کو کیا حقوق حاصل ہیں اور عوام و حکومت  مل کر اسلامی فلاحی مملکت کس طرح تشکیل دے سکتے ہیں۔ ان مضامین کو کتابی شکل دی گئی جو   The Principles of State and Government in Islam کے نام سے شائع ہوئی۔ متعدد زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے۔ اُردو ترجمہ محمدشبیرقمر نے کیا ہے۔

محمد اسد کے نزدیک اسلام میں دین اور نظامِ سیاست متصادم نہیں ہیں، نیز یہ کہ معاشی آزادی، کمیونزم، نیشنل سوشلزم اور عمرانی جمہوریت جیسے مغربی طرزِ فکر، اُس منزل تک نہیں پہنچ سکے ہیں کہ جسے ’نظام‘ کہتے ہیں (ص ۲۹)۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہم تیزی سے تغیر آشنا اس دنیا کے مکین ہیں اور ہمارا معاشرہ بھی اس سنگ دل قانون کی زد میں ہے (ص ۳۰)۔ کہتے ہیں کہ معیشت، آرٹ، سماجی بہبود جیسے مسائل پر قانونی بیان دینے کے بجاے اس کے عملی اطلاقات کو زیربحث لانا چاہیے تاکہ قرآن و سنت، اِجماع و قیاس پر مبنی نظامِ حکومت عملی زندگی میں بھی کارگر نظر آئے۔

عوامی راے پر مبنی طرزِ حکمرانی اور مجلس شوریٰ میں وہ برملا اظہار کرتے ہیں کہ معقول افراد پر مشتمل ایک مجلس جب کسی مسئلے کو زیربحث لاتی ہے تو ان کی اکثریت جس فیصلے پر پہنچے گی وہ غالباً درست ہوگا (ص ۸۷)۔ مابعد حصے میں ’حاکمہ اور مقننہ‘ کے مابین ربط و ضبط اور ان کے فرائض اور حقوق کی حدود بیان کی گئی ہیں۔ آخری باب ’حاصلاتِ فکر‘ میں وہ تحریر کرتے ہیں کہ ’’اگر اسلام کے حقیقی خدوخال کو دیکھنے کی تمنا ہے تو پوری ملتِ اسلامیہ کو اپنی زندگیاں اسلام کے معاشرتی اور معاشی اصولوں سے ہم آہنگ کرلینی چاہیے۔ اس ضمن میں حکومتِ پاکستان کو ’محکمہ احیاے ملت اسلامیہ‘ کے قیام کے ذریعے کوشش کرناچاہیے کہ ہمارے کالج اور اسکول اس نئی زندگی کا پورا پورا نمونہ بن سکیں جو اَب ملت کے سامنے ہے۔

محمد شبیر قمر نے انگریزی زبان سے اس کتاب کو اُردو میں منتقل کیا ہے، تاہم کئی مقامات پر بعض اصطلاحات پیچیدہ محسوس ہوتی ہیں۔ اگر عام فہم زبان استعمال کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ اسلامی نظامِ حکومت کے قیام کے متمنی اور سرگرم داعیانِ دین کے لیے اور خصوصاً علمِ سیاسیات کے طلبہ کے لیے یہ کتاب ایک تحفہ ہے۔ (محمد ایوب منیر)


کرۂ ارض کے آخری ایام، محمد ابومتوکل،مترجم: رضی الدین سید۔ ناشر: دارالاشاعت،    ایم اے جناح روڈ، اُردوبازار، کراچی۔ صفحات: ۲۹۶۔ قیمت: درج نہیں۔

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ جہان فانی ہے اور ایک دن اپنے انجام کو پہنچنے والا ہے، مگر انجام کیا ہے اور اس سے پہلے کرئہ ارض پر کیا حالات و واقعات رونما ہوں گے؟ اس بارے میں حدیث جبریل ؑ میں تفصیلات موجود ہیں۔ مصنف نے یہی تفصیل اس کتاب میں بیان کی ہے۔ وہ پیشے کے اعتبار سے انجینیر ہیں اور انگریزی زبان کے ممتاز اسلامی اسکالر ہیں۔ دراصل یہ ان کی انگریزی کتاب Milestone to Eternity کا جزوی ترجمہ ہے۔

کتاب میں عالمی سرکش اور باغی قوتوں کی مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیوں اور ہتھکنڈوں کا ذکر کرتے ہوئے قیامت کی بہت سی نشانیوں پر بحث کی ہے، مثلاً زمین سے ٹڈیوں کا خاتمہ،  قتل و خون ریزی کا حد سے بڑھنا، خودکشی کے رجحانات، امانت و دیانت کا خاتمہ، زنا کی کثرت، شراب نوشی، زلزلے، وقت کا مختصر ہونا، جھوٹے انبیا، دخان، دجال، امام مہدی کا دور، ملحۃ الکبریٰ، دابۃ الارض، زمین کے تین دھنسائو، صلیبی جنگیں، سورج کا مغرب سے طلوع وغیرہ شامل ہیں۔ کتاب میں پندونصائح بھی ہیں اور اپنی حالت سدھارنے کا عزم و ہمت اور حوصلہ پیدا کرنے کا سامان بھی۔ (عمران ظہورغازی)


The Reluctant Fundamentalist [مخمصے کا شکار بنیاد پرست]، محسن حامد۔ ناشر: اوکسفرڈ یونی ورسٹی پریس‘ نمبر ۳۸‘ سیکٹر۱۵‘ کورنگی انڈسٹریل ایریا‘ پی او بکس ۸۲۱۴‘ کراچی۔ صفحات: ۱۱۱۔ قیمت: ۱۹۵ روپے۔

ستمبر ۲۰۰۱ء کے بعد امریکا نے دہشت گردی کے نام پر اپنے مذموم مقاصد کے پیش نظر جس جنگ کا آغاز کیا‘ اس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ مذہب پسند طبقے نے اس کی مخالفت کی۔ زیرنظر ناول میں‘ ناول نگار اس معاشرتی تاثر کو سامنے لایا ہے کہ وہ طبقہ جسے مغرب پرست اور آزاد خیال کہا جاتا ہے، وہ بھی امریکا مخالفت میں اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ محسن حامد ایک پاکستانی ہیں جنھوں نے پرنسٹن یونی ورسٹی اور ہارورڈ لا اسکول سے تعلیم حاصل کی اور نیویارک ہی میں ملازمت اختیار کی۔

اس ناول میں ایک ایسے نوجوان کی کہانی پیش کی گئی ہے جو دہشت گردی کے نام پر جنگ میں امریکی رویے سے دل برداشتہ ہوکر امریکا سے پاکستان لوٹ آتا ہے‘ اور یہاں ایک امریکی کو اپنی کہانی سنا کر پیغام دینے کی کوشش کرتا ہے۔

افغانستان پر امریکا کی شدید بم باری سے اسے پہلی بار اپنے مسلمان بھائیوں کے دکھ درد اور بے چارگی کا احساس ہوتا ہے ۔ایک تجارتی سفر کے موقع پر اسے احساس ہوتا ہے کہ جیسے وہ امریکا کا زرخرید غلام ہے، جسے امریکا اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے‘ افغانستان میں اس کے مسلم بھائیوں کا خون کر رہا ہے‘ اور خود اس کا ملک حالتِ جنگ میں ہے۔ شدتِ احساس سے وہ اسی وقت اپنی ملازمت ختم کرنے اور پاکستان واپس آنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ اگرچہ ایک لمحے کے لیے وہ اپنے مستقبل اور کیریر کے بارے میں بھی سوچتا ہے، مگر پھر اس خیال کو جھٹک دیتا ہے۔ اس ناول کے مرکزی کردار کا نام چنگیز ہے، جو وطن واپسی پر بطور لیکچرار ملازمت اختیار کرلیتا ہے۔ مگر اب وہ نوجوانوں کو امریکا کے سامراجی عزائم سے آگاہ کرتا ہے۔

یہ ناول ایک طرف مغرب کی جانب سے اسلام کی توہین پر مبنی سوچ کا ردعمل ہے اور دوسری طرف مغرب بالخصوص امریکا کو دعوتِ فکر دیتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ چنگیز جیسے نوجوان بھی نہ صرف امریکا مخالف ہوجاتے ہیں، بلکہ اُنھی کی اصطلاح میں ’بنیاد پرست‘ بن جاتے ہیں۔ (امجد عباسی)


اقتصادی غارت گر ، (Confessions of An Economics Hit Man) جان پرکنز، مترجم: صفوت علی قدوائی۔ ناشر: اسلامک ریسرچ اکیڈیمی، کراچی۔ تقسیم کنندہ: مکتبہ معارف اسلامی ، ڈی-۳۵، بلاک ۵، فیڈرل بی ایریا ، کراچی-۷۵۹۵۰۔صفحات: ۲۳۲۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔

مغربی تہذیب ایک سیکولر تہذیب ہے جس کی بنیاد دین سے ماورا، خودساختہ نظریات پر ہے۔ یہ ایک سفاک تہذیب ہے جوانسانیت کا ہر طرح سے خون چوسنے کو روا قرار دیتی ہے۔ زیرنظر کتاب میں ایک اکنامک ہٹ مین (اقتصادی دہشت گرد) نے عالمی اقتصادی لوٹ کھسوٹ کے ایک گوشے کو بے نقاب کیا ہے۔ اکنامک ہٹ مین (ای ایچ ایم) خطیر معاوضے پر خدمات انجام دینے والے وہ پیشہ ور افراد ہیں جن کا کام ہی دنیا بھر میں ملکوں کو دھوکا دے کر کھربوں ڈالر سے محروم کرنا ہے۔ یہ لوگ عالمی بنک، امریکا کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (یو ایس ایڈ) اور دیگر غیرملکی امدادی اداروں سے ملنے والی رقوم بڑی بڑی کارپوریشنوں کے خزانے اور اس کرئہ ارض کے قدرتی وسائل پر قابض چند دولت مند خاندانوں کی جیبوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ یہ ایک سچی کہانی ہے جو طلسم ہوش ربا کی طرح دل چسپ اور رونگٹے کھڑے کردینے والی ہے۔ اس کتاب کا یہ شگفتہ ترجمہ پہلے روزنامہ جسارت کراچی میں قسط وار چھپتا رہا اور یہ سلسلہ بہت مقبول ہوا۔ ادارہ معارف نے اسے کتابی شکل میں شائع کردیا ہے۔ تمام سیاسی کارکنوں اور اقتصادیات سے تعلق رکھنے والوں کو ضرور پڑھنی چاہیے۔(ملک نواز احمد اعوان)


… سورج کو ذرا دیکھ، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی۔ ناشر: کتاب سراے، غزنی سٹریٹ، اُردوبازار، لاہور۔ صفحات: ۲۷۸۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔

زیرنظر سفرنامہ چڑھتے سورج کی سرزمین، جاپان میں گزرے ہوئے چار ہفتوں کی داستان ہے۔ اس کے مصنف مارچ ۲۰۰۲ء میں دائتوبنکا یونی ورسٹی جاپان کی دعوت پر بطور وزٹنگ اسکالر جاپان گئے تھے۔

سفرنامہ عام فہم، سادہ اور سلیس زبان میں قلم بند کیا گیا ہے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کا دوسرا سفرنامہ ہے۔ اس سے پہلے وہ پوشیدہ تری خاک میں …(سفرنامۂ اندلس) بھی شائع کرچکے ہیں جسے نقوش اوارڈ کا اعزاز ملا تھا۔

… سورج کو ذرا دیکھ میں ’جدید‘ سفرنامے کی طرح مہمات سر کرنے کی فرضی کہانیاں بیان نہیں کی گئیں، بلکہ حقائق اور مشاہدات پر توجہ رہی ہے۔ مصنف نے جاپانیوں کے رسوم و روایات، تہذیب و تمدن، رہن سہن اور وہاں کی سیاسی و معاشی حالت، اسی طرح ان کی عادات و خصائل اور وضع داری کا عمدہ نقشہ کھینچا ہے۔ مناظرِ فطرت کا بیان بھی عمدہ اسلوب میں کیا گیا ہے۔ فطرت کے ساتھ انسان کا قلبی لگائو تو ہوتا ہی ہے لیکن اس سفرنامے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ مصنف فطری مناظر سے غیرمعمولی دل چسپی رکھتے ہیں۔ خاص طور پر ’فوجی سان‘ اور ساکورا کا ذکر تو والہانہ انداز میں کیا گیا ہے۔

یہ سفرنامہ مشاہدے اور تحقیق کا ایک امتزاج ہے جس میں جاپانی مساجد، مندروں، پگوڈوں، پارکوں، پہاڑوں اور اہم تاریخی جگہوں کا تاریخی پس منظر اور تعارف اختصار اور جامعیت سے کرایا گیا ہے۔ مصنف نے جاپانیوں کے بعض مسائل، مثلاً زمین (land) کی قلت، شرحِ پیدایش میں کمی، افرادی قوت میں کمی اور امریکا کے دست نگر ہونے پر بصیرت افروز تبصرے کیے ہیں۔ اسی طرح ہیروشیما پر امریکا کی وحشیانہ دہشت گردی اور اس کے دُور رس اثرات کا ذکر بھی کیا ہے۔ کتاب میں تصاویر اور بعض جاپانی اُردو دانوں کی تحریروں کے عکس بھی شامل ہیں۔ آخر میں اشاریہ بھی دیا گیا ہے جو سفرنامے کی روایت میں اختراع اور ایک خوش گوار اضافہ ہے۔

سفرنامہ پڑھتے ہوئے قاری اپنے آپ کو جاپان کی فضائوں میں سیر کرتا ہوا محسوس کرتا ہے، بلکہ جاپان جانے کا شوق بھی پیدا ہوتا ہے۔ اگر آپ جاپان جانے سے پہلے یہ سفرنامہ پڑھ لیں تو وہاں آپ کو کسی طرح کی اجنبیت محسوس نہیں ہوگی۔ (قاسم محمود احمد)


۱- سفر انقلاب، ۲-قاضی حسین احمد، ۳- اے دخترانِ اسلام، ۴- قاضی اور غازی،  مرتبہ: سمیحہ راحیل قاضی۔ناشر: مکتبہ خواتین میگزین بالمقابل منصورہ، ملتان روڈ، لاہور۔ صفحات: (۱) ۲۰۸، (۲) ۸۰ (۳) ۸۰، (۴) ۱۰۴۔ قیمت (علی الترتیب): ۱۶۰، ۶۰ روپے فی کتاب۔

ان چار کتابوں میں سمیحہ راحیل قاضی نے محترم قاضی حسین احمد کی شخصیت، کردار اور   افکار و خدمات کو مختلف زاویوں سے تاریخ کے ریکارڈ کے لیے محفوظ کردیا ہے۔ ملکی اور عالمی حالات کے پس منظر سے اس دور کی تاریخ کا ایک مطالعہ بھی سامنے آجاتا ہے۔ پہلی کتاب میں جماعت اسلامی پاکستان کے مختلف اجتماعات کی روداد پیش کی گئی ہے۔ دوسری کتاب میں امارت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد کی پانچوں تقاریر کو یکجا کردیا گیا ہے۔ تیسری کتاب میں وہ تقاریر پیش کی گئیں، جو خواتین کو مخاطب کر کے کی گئی ہیں۔ آخری کتاب میں قومی سیاست میں قاضی صاحب کے کردار پر اہلِ قلم کی تحریروں کو جمع کیا گیا ہے۔(ا- ع)


سوے حرم ،خصوصی اشاعت نورالقرآن، مرتب: محمد صدیق بخاری۔ پتا: ۵۳- وسیم بلاک، حسن ٹائون، ملتان روڈ، لاہور۔ صفحات: ۳۱۹۔ تحفتاً دستیاب بعوض ۱۰ روپے ڈاک ٹکٹ۔

اُردو زبان میں تفسیر قرآن پر جتنا کام ہوا ہے، عربی زبان کے بعد شاید ہی کسی زبان میں اتنا وقیع اور معتبر کام ہوا ہو۔ ماہنامہ سوے حرم کی اس خصوصی اشاعت میںاُردو مترجمین و مفسرین کے تراجم اور تفسیری آرا کو یک جا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

زیرنظر اشاعت میں سورئہ فاتحہ مکمل اور سورئہ بقرہ آیت ۱ تا ۱۴۱ سے متعلق آرا کو ترتیب سے جمع کیا گیا ہے۔ دو تین آیات کا عربی متن لکھنے کے بعد پانچ چھے مترجمین کے تراجم الگ الگ رقم کردیے ہیں۔ پھر ہر آیت کے اہم مضامین اور اہم الفاظ کی وضاحت میں مختلف تفسیری آرا اس ترتیب سے بیان کی ہیں کہ اہم لفظ یامضمون کی پہلے ایک سرخی قائم کی ہے اورپھر اس سے متعلقہ تفسیری آرا بیان کردی ہیں۔ ہر تفسیر کی عبارت کی تکمیل پر اس کا پورا حوالہ بین السطور بریکٹ میں درج ہے۔ مرتب نے برعظیم کے تمام مسالک کی نمایندگی، ان کے دلائل کے ساتھ جمع کر دی ہے جس سے فہمِ قرآن کے طالب علموں کے لیے قرآنی مطالب تک رسائی میں سہولت پیدا ہوسکتی ہے۔ (اخترحسین عزمی)


یدِ بیضا، ترجمہ و تحقیق: عبدالستار گریوال۔ ناشر: دارالکتاب، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۶۷۲۔ قیمت: ۴۰۰ روپے۔

زیرنظر کتاب یدِبیضا ۲۹ مضامین و مقالات پر مشتمل ہے جنھیں مسلم و غیرمسلم دانش وروں نے انگریزی میں تحریر کیا۔ مقالات کی اہمیت کے پیش نظر عبدالستار گریوال نے انھیں اُردو کا روپ دیا ہے۔ یہ مضامین خالصتاً علمی نوعیت کے ہیں۔ بعض مضامین کے مباحث صوفیانہ اور فلسفیانہ ہیں اس لیے عام قاری کے لیے قدرے ثقیل معلوم ہوتے ہیں۔ البتہ بعض مضامین عمومی دل چسپی کے بھی ہیں، مثلاً اسلامی سیاست کے محرکات، اسلام اور مغرب، آج اور کل، دنیاے مغرب اور اس کا اسلام کو چیلنج اور یورپ کا بھولا بسرا ورثہ وغیرہ۔

بعض مضامین میں تحاریک اور اشخاص کو موضوعِ سخن بنایا گیا ہے جیسے صوفی ازم، وہابی تحریک، مولانا مودودی، سید قطب، احمد وبیلو اور علی شریعتی وغیرہ، اور ایک مضمون دارالعلوم دیوبند پر بھی ہے۔ ان مضامین میں سے چند ایک کو ذیلی سرخیاں دے کر زیربحث لایا گیا ہے۔ ترجمہ رواں ہے اور مترجم نے محنت سے کام لیا ہے۔ مقالہ نگاروں کا مختصر تعارف ہر مقالے کے شروع میں دے دیا جاتا تومناسب تھا۔ (عبداللّٰہ شاہ ہاشمی)


قصص النسائ، احمد جاد، ترجمہ: ابوضیا محمود احمدغضنفر۔ ناشر: دارالابلاغ پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز، الفضل مارکیٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات:۴۲۹۔قیمت: ۲۵۰ روپے۔

قصے، کہانیوں سے دل چسپی انسان کی فطرت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انسان کی اس فطرت کو پیش نظر رکھا ہے۔ ہمیں قرآن پاک میں جابجا توحید و رسالت، عقائد ومعاملات اور دیگر امور سمجھنے کے لیے قرآنی قصص سے واسطہ پڑتا ہے جس میں اخلاقی و روحانی پہلو خاص طور پر نظر آتا ہے۔ مصنف نے احادیث مبارکہ شامل کرکے کتاب کی افادیت کو دوچند کردیا ہے۔

کتاب میں مختلف موضوعات کے تحت مختلف صفات سے مزین خواتین کے قصے دل نشین پیرایے میں بیان کیے گئے ہیں اور ان کے پسندیدہ، دل کش اور دل آویز پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ یہ قصے بامقصد ،سبق آموز، عبرت ناک اور ایمان افروز ہیں۔ عبارت سلیس اور عام فہم ہے۔ واقعات کو مربوط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ قاری کی راہ نمائی صراطِ مستقیم کی طرف کرتا ہے۔ خصوصاً خواتین ان مومن اور پاک باز بیبیوں کی سیرت کے مطالعے سے اپنے سیرت و کردار سنوارنے کے لیے راہ نما اصول منتخب کرسکتی ہیں، اور کافر عورتوں کی سوانح عمریاں پڑھ کربرائی اور بدی سے بچنے کا اہتمام کرسکتی ہیں۔ (ربیعہ رحمٰن)


تعارف کتب

  • ڈاکٹر جمیل جالبی: شخصیت اور فن، ڈاکٹر عبدالعزیز ساحر۔ ناشر: اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد۔ صفحات: ۱۲۰۔ قیمت: ۱۵۰ روپے۔[معروف ادبی محقق،نقاد، ادیب، مترجم اور کراچی یونی ورسٹی کے سابق  وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی خدمات کا ایک تعارف۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے سلسلے ’پاکستانی ادب کے معمار‘ کی ایک تازہ پیش کش، جس میں جالبی صاب کے سوانح، شخصیت اور فن کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ بڑے توازن اور عمدہ تنقیدی صلاحیت کے ساتھ کیا گیاہے۔ تصانیف اور تحریروں کی مکمل فہرست اور سوانحی خاکہ بھی شامل ہے۔]
  • یہ ہے مغربی تہذیب ، ڈاکٹر عبدالغنی فاروق۔ناشر: بیت الحکمت، لاہور۔ ملنے کا پتا: کتاب سراے،   غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور۔ صفحات: ۳۳۳۔ قیمت: ۱۸۰ روپے۔ [۱۹۸۵ء سے ۲۰۰۶ء تک (۲۰ سال) کے اخبارات کے تراشے جن سے مغربی تہذیب کا اصل چہرہ (خاندانی زندگی کی تباہی، عورتوں اور بچوں کی حالت زار، اخلاقی اور دیگر ہر طرح کے جرائم کی کثرت وغیرہ) بے نقاب ہے۔ یہ احساس ہوتا ہے کہ تمام تر خرابیوں کے باوجود ہم خوش قسمت ہیں کہ مغربی تہذیب کے رنگ میں ابھی پوری طرح رنگے نہیں گئے۔]
  • پاکستان کے نعت گو شعرا (تذکرہ)، دوم، سید محمد قاسم۔ ناشر: حرا فائونڈیشن پاکستان (رجسٹرڈ) کراچی۔  تقسیم کار: فضلی سنز، اُردو بازار، کراچی۔ فون: ۲۲۱۲۹۹۱۔ صفحات: ۴۱۶۔ قیمت: ۲۰۰ روپے۔ [ہر شاعر کا ایک یا پون صفحے کا سوانحی تعارف اور ایک ایک نمونے کی نعت۔ ڈاکٹر حسرت کاس گنجوی، طاہر سلطانی اور ڈاکٹر عزیز احمد نے تحسین کی ہے۔ ریسرچ اسکالر شہزاد احمد نے نعتیہ تذکرہ نگاری کی روایت بیان کی ہے۔]
  • ۳۶۵ کہانیاں حصہ دوم، محمد ناصر درویش۔ناشر: مکتبہ بیت العلم، ST-9E بلاک ۸، گلشن اقبال ، کراچی۔ صفحات: ۲۱۸۔قیمت: ۱۵۰ روپے۔[قرآن، حدیث، تفسیر، تاریخ، سیرت و سوانح اور اُردو ادب سے جمع کیے گئے دل چسپ اور سبق آموز واقعات اور کہانیاں۔بچوں کی ذہن سازی اوراسلامی خطوط پر تعلیم و تربیت کے پیش نظر کہانیوں کے سلسلے کا یہ دوسرا حصہ ہے۔ دین کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ ساتھ گھر، مدرسے اور اسکول میں ایک اچھی زندگی گزارنے کے لیے آداب کو ملحوظ رکھ کر کہانیاں ترتیب دی گئی ہیں۔ قدیم و جدید علمی ورثے کو منتقل کرنے کی ایک کاوش۔]

عمران ظہور غازی ‘لاہور

’انتخابی تماشا: شرکت یا بائیکاٹ‘ (جنوری ۲۰۰۸ئ) کارکنان تحریک کے لیے، بائیکاٹ کے سلسلے میں قدیم و جدید اور تاریخی لوازمے پر مبنی ہیں جس میں الیکشن بائیکاٹ کا مدلل تجزیہ پیش کیا گیا ہے جو اطمینان اور شرح صدر میں اضافے کا باعث بنے گا۔ ’آزادی راے اور تضحیکِ مذہب‘، ’نظریۂ ضرورت: قانون اور انصاف کا خون‘ وقت کا اہم تقاضا ہیں۔ یہ زندہ موضوعات اچھے لگے۔ نیا سرورق بہت خوب ہے۔


عبداللّٰہ ‘کراچی

’امریکی دھمکیاں اور ملکی سلامتی‘ (جنوری ۲۰۰۸ئ) بروقت ہے اور اسی نقشے پر عمل ہوتا نظر آرہا ہے۔ اس چیلنج کا بھرپور جواب دینے کی ضرورت ہے۔ ’ڈی این اے، تخلیق الٰہی کا کرشمہ‘ اپنے موضوع پر عمدہ تحریر ہے۔ ’سائنس اور مشاہدۂ فطرت پر مبنی مزید تحریریں دینا مفید ہوگا۔ شیخ فرغلی شہیدؒ کے تذکرے سے ماضی کی یادیں تازہ ہوئیں اور تحریکی کردار بھی اُجاگر ہوکر سامنے آیا، تاہم ان کے عہد کا حوالہ ضروری تھا۔


ڈاکٹر راشد محمود ‘لاہور

سیدمودودی کی تحریر: ’جب انتخابات کے ذریعے تبدیلی ناممکن بنا دی جائے‘ (جنوری ۲۰۰۸ئ) سے   نہ صرف برموقع رہنمائی میسر آئی، بلکہ انتخاب یا انقلاب کی بحث کے حوالے سے ایک اہم پہلو بھی سامنے آیا۔ درحقیقت تبدیلی کے لیے فیصلہ کن عامل راے عامہ کی تائید ہے۔ اس حوالے سے غوروفکر کی ضرورت ہے کہ راے عامہ کی ہمواری کے لیے کس حد تک عوامی شعور کو اُجاگر کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ انتخاب یا انقلاب تو ان مساعی کا حتمی نتیجہ ہے۔

’کامیاب زندگی: چند عملی پہلو‘ میں مفید رہنمائی دی گئی ہے، البتہ عبادات کے ساتھ ساتھ ایفاے عہد اور ہمسایے کو اذیت سے محفوظ رکھنا جیسے عملی پہلو اس لحاظ سے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں کہ ان سے غفلت کے نتیجے میں ایمان تک ضائع ہوسکتا ہے۔ اس پہلو پر توجہ کی ضرورت ہے۔


عبدالرؤف‘منچن آباد، بہاول نگر

’اشارات‘ میں بائیکاٹ کے جماعتی فیصلے اور ملکی صورت حال پر تجزیہ اہلِ وطن کے لیے چشم کشا ہے۔ ’حکمت مودودیؒ ،میں واضح اشارہ موجود ہے کہ کوئی چیز بھی جبراً لوگوں پر ٹھونسی نہیں جاسکتی، جب تک عقائد و افکار نہ بدلے جائیں۔ نیز لوگوں کے دلوں میں اخلاص، قربانی اور جذبۂ ایمانی کے بغیر یہ جدوجہد اپنے نتائج حاصل نہیں کرسکتی۔ انھی چیزوں پر بنیادی توجہ مرکوز کر کے ۱۰ سالہ مؤثر لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔


حکیم محمد یحیٰی عزیز ڈاہروی‘قصور

’انتخابی تماشا، شرکت یا بائیکاٹ‘، ’آزادیِ راے اور تضحیکِ مذہب‘ اور ’ڈی این اے، تخلیق الٰہی کا کرشمہ، خاصے کی چیزیں ہیں۔ بالخصوص ڈی این اے کی معلومات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر پختگی اور  صاحب ِ بصیرت انسانوں کے لیے رہنمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات اور اس میں جو مخفی خزانے رکھے ہیں انھیں نہ تو مکمل طور پر کسی دور میں دریافت کیا گیا، نہ ہوسکتا ہے بلکہ یہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔


لیفٹیننٹ کرنل (ر) محمد اکبر خاں ‘راولپنڈی

’نظریۂ ضرورت، قانون اور انصاف کا خون‘ (جنوری ۲۰۰۸ئ) میں جسٹس سردار محمد رضا کے   اختلافی نوٹ کا ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ مجھے جج کے اختلافی نوٹ پر کوئی اعتراض نہیں یہ اُن کا قانونی حق ہے۔ مجھے صرف اُن کے قرآنی آیات سے نظریۂ ضرورت کی نفی کا پہلو نکالنے اور قرآنی آیات سے اپنے مطلب کے معنی نکالنے پر اختلاف ہے۔ قرآن پاک سے جو چند حوالے دیے گئے ہیں ان میں سے کسی حوالے سے بھی نظریۂ ضرورت کی نفی ہرگز نہیں ہوتی۔ متعدد آیات سے نظریۂ ضرورت کا اثبات ہوتا ہے۔ حالت ِ اضطرار میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو حرام کے استعمال کی محدود اجازت دی ہے (بحوالہ البقرہ ۲:۱۷۳، المائدہ ۵:۳)، تو پھر اپنے ملک کے نظام اور اسلامی شناخت کو بچانے کے لیے انسان کے بنائے ہوئے قانون اور آئین سے انحراف کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ اسی مجبوری کا نام نظریۂ ضرورت ہے۔


ڈاکٹر سید ظاہر شاہ ‘پشاور

’انسانی وسائل کی ترقی، اسلامی نقطۂ نظر، (دسمبر ۲۰۰۷ئ) ایک اہم موضوع پر قیمتی کاوش ہے۔ شاید پہلی مرتبہ اس مسئلے کو اسلامی نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا ہے۔ تعلیم و تربیت ہی دراصل ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ (ایچ آر ڈی) ہے جو اسلامی نظامِ زندگی کا جزوِلاینفک ہے۔ اس اہم کام سے مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں  مسلم معاشرے اخلاقی بحران کا شکار ہیں۔ مغرب کے پیشِ نظر صرف دنیاوی مفاد ہے، اس لیے نصابِ تعلیم سے دینی عنصر کو خارج کردیا گیا ہے۔ مصنف نے اصل مرض کی نشان دہی بھی کی ہے کہ ہمارے ملک میں صلاحیت اور مہارت کا فقدان نہیں، بلکہ اصل اور بنیادی مسئلہ بددیانتی (کرپشن)، بے ایمانی، خیانت اور   دھوکا دہی ہے جو سرطان کی طرح افراد، اداروں اور پورے معاشرے میں سرایت کرچکا ہے۔ مرض کی تشخیص کے ساتھ علاج بھی بتا دیا گیا ہے کہ ’’مہارتوں کو اعلیٰ اقدار کے تابع ہونا چاہیے‘‘۔ مصنف نے صحیح کہا ہے کہ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ کا اصل مطلوب وہ متوازن شخصیت ہے جو دنیا میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت و استعداد بھی رکھتی ہو اور ساتھ ہی آخرت میں جواب دہی کی فکر بھی۔ اس موضوع پر مزید کام اور بحث کی ضرورت ہے۔

 

اخلاقی گراوٹ

ہم میں کتنے فی صدی آدمی ایسے پائے جاتے ہیں جو کسی کا حق تلف کرنے میں، کوئی ناجائز فائدہ اٹھانے میں، کوئی ’مفید‘ جھوٹ بولنے اور کوئی ’نفع بخش‘ بے ایمانی کرنے میں صرف اس بنا پر تامل کرتے ہوں کہ ایسا کرنا اخلاقاً بُرا ہے؟ جہاں قانون گرفت نہ کرتا ہو، یا جہاں قانون کی گرفت سے بچ نکلنے کی اُمید ہو وہاں کتنے فی صدی اشخاص محض اپنے اخلاقی احساس کی بنا پر، کسی جرم اور کسی برائی کا ارتکاب کرنے سے باز رہ جاتے ہیں؟ جہاں اپنے کسی ذاتی فائدے کی توقع نہ ہو وہاں کتنے آدمی دوسروں کے ساتھ بھلائی، ہمدردی، ایثار، حق رسانی اور حسنِ سلوک کا برتائو کرتے ہیں؟ ہمارے تجارت پیشہ لوگوں میں ایسے تاجروں کا اوسط کیا ہے جو دھوکے اور فریب اور جھوٹ اور ناجائز نفع اندوزی سے پرہیز کرتے ہوں؟ ہمارے صنعت پیشہ لوگوں میں ایسے افراد کا تناسب کیا ہے جو اپنے فائدے کے ساتھ کچھ اپنے خریداروں کے مفاد اور اپنی قوم اور اپنے ملک کی مصلحت کا بھی  خیال رکھتے ہوں؟ ہمارے زمین داروں میں کتنے ہیں جو غلّہ روکتے ہوئے اور بے حد گراں قیمتوں پر بیچتے ہوئے یہ سوچتے ہوں کہ اپنی اس نفع اندوزی سے وہ کتنے لاکھ بلکہ کتنے کروڑ انسانوں کو فاقہ کشی کا عذاب دے رہے ہیں؟ ہمارے مال داروں میں کتنے ہیں جن کی دولت مندی میں کسی ظلم، کسی حق تلفی اور کسی بددیانتی کا دخل نہیں ہے؟ ہمارے محنت پیشہ لوگوں میں کتنے ہیں جو فرض شناسی کے ساتھ    اپنی اُجرت اور اپنی تنخواہ کا حق ادا کرتے ہیں؟ ہمارے سرکاری ملازموں میں کتنے ہیں جو رشوت    اور خیانت سے، ظلم اور مردم آزاری سے، کام چوری اور حرام خوری سے، اور اپنے اختیارات کے ناجائز استعمال سے بچے ہوئے ہیں؟ ہمارے وکیلوں میں، ہمارے ڈاکٹروں اور حکیموں میں، ہمارے اخبار نویسوں میں،ہمارے ناشرین و مصنفین میں، اور ہمارے قومی ’خدمت گزاروں‘ میں کتنے ہیں جو اپنے فائدے کی خاطر ناپاک سے ناپاک طریقے اختیار کرنے اور خلقِ خدا کو ذہنی، اخلاقی، مالی اور جسمانی نقصان پہنچانے میں کچھ بھی شرم محسوس کرتے ہوں؟ (’بنائو اور بگاڑ‘، ابوالاعلیٰ مودودی، جلد ۳۱، عدد۵، ذی القعدہ ۱۳۶۷ھ، ستمبر ۱۹۴۸ئ، ص ۳۱۵-۳۱۶)