سوال: حال ہی میں مجھے مولانا مودودی مرحوم کی چند کتابوں کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا۔ تفہیم القرآن کا مطالعہ بھی عرصے سے جاری ہے۔ میرے ناپختہ ذہن نے آج کل کے حالات کا تجزیہ کیا تو محسوس ہوا کہ جو تعلیمات مولانا نے پیش کی تھیں، جماعت ان پر عمل پیرا نہیں۔ اس حوالے سے چند استفسارات درج ذیل ہیں:
۱- تفہیم القرآن میں سورئہ احزاب کی آیت ۳۳ میں (عورتوں کے لیے جب) حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو، تو اس کی تفسیر میں مولانا محترم رقم طراز ہیں: ’’قرآن مجید کے اس صاف اور صریح حکم کی موجودگی میں اس بات کی آخر کیا گنجایش ہے کہ مسلمان عورتیں کونسلوں اور پارلیمنٹوں کی ممبر بنیں، بیرونِ خانہ کی سوشل سرگرمیوں میں دوڑتی پھریں، سرکاری دفتروں میں مردوں کے ساتھ کام کریں، کالجوں میں لڑکوں کے ساتھ تعلیم پائیں‘‘۔ (تفہیم القرآن، ج۴،ص ۹۰)
آج حلقۂ خواتین جماعت اسلامی کی طرف سے جو خواتین سیاسی سرگرمیاں کرتی ہیں اور ممبر قومی اسمبلی بنتی ہیں وہ کس ضمن میں آتی ہیں؟
۲- حال ہی میں ڈاکٹر انیس احمد نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک نوجوان لڑکا، لڑکی اگر تعلیم کی غرض سے ملیں تو درست ہے (ترجمان القرآن،ستمبر ۲۰۰۸ئ)۔ حدیث کے مفہوم کے مطابق: ’’اگر کوئی نامحرم لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے خلوت میں ملیں تو تیسرا شیطان ہوتا ہے‘‘۔ پھر ان کا یہ کہنا کس حکم کی بنیاد پر ہے؟
۳- جماعت اسلامی کے ایک معتبر (مرحوم) رکن کے بیٹے ایک بڑا تعلیمی ادارہ چلا رہے ہیں۔ میں اس یونی ورسٹی میں زیر تعلیم ہوں۔ اس میں بہت سی قباحتوں کو نوٹ کیا۔ ایک کا ذکر کرتا ہوں۔ سالانہ امتحانات کے دنوں میں کئی مرتبہ نوٹ کیا ہے کہ اگر نمازِ ظہر کی جماعت کا وقت ہے تو عین اسی وقت پرچے کے شروع ہونے کا بھی وقت ہے۔ کیا یہ خدا کی نافرمانی نہیں؟
۴- لاہور جماعت کے ذمہ دار رکن ایک اشتہاری ایجنسی چلا رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں (قریباً وسط اگست ۲۰۰۸ئ) میں اس کمپنی کا بنا ایک اشتہار جو مندرجہ بالا ذکر کی گئی یونی ورسٹی میں داخلے کا تھا، اخبارات میں چھپا۔ ایک عورت اور دو نوجوان لڑکوں کو دکھایا گیا ہے۔ پورے اشتہار سے (بشمول اشکال) مغربیت ٹپکتی ہے۔
سوال ۳ اور ۴ کے حوالے سے میرا سوال یہ ہے کہ جماعت اپنے ایسے ارکان کے خلاف کیا کارروائی کرتی ہے؟ یا جو اراکین طاغوت کا ساتھ دیتے ہوں ان کے لیے کیا قواعد و ضوابط ہیں؟ اخراج، جواب دہی، یا احتساب؟
جواب: آپ کے سوالات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ کے فضل سے ہمارے نوجوان عمر میں ناپختہ ہونے کے باوجود فکری اور شعوری لحاظ سے بالغ اور مقصدِحیات کے حوالے سے راست فکر ہیں۔ اس پر اللہ کا جتنا شکر ادا کیا جائے وہ کم ہے۔
آپ نے بہت صحیح بات کہی ہے کہ مولانا مودودی مرحوم نے سورۂ احزاب کی آیت۳۳ کی وضاحت کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ گھر سے نکلنے کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہیے کہ خواتین اپنی ذمہ داریوں اور گھر کے دائرۂ کار کو نظرانداز کرکے بلاضرورت دفاتر، اسمبلیوں اور سوشل ورک کے کاموں میں مصروفِ عمل ہوجائیں۔ میرے خیال میں ہرمعقول شخص اس بات سے اتفاق کرے گا لیکن اصل مسئلہ جس پر اظہارِ خیال کیا گیا تھا وہ بلاضرورت خواتین کا بیرونِ خانہ سرگرمیوں کا نہیں تھا بلکہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے بنیادی فریضے کی ادایگی کے لیے مردوں اور عورتوں کی ذمہ داری اور کردار کا تھا۔
قرآنِ کریم نے اُمت ِمسلمہ کے ہر مومن مرد اور عورت پر یہ فریضہ عاید کردیا ہے اور اس کی ادایگی کے لیے مناسب طریق کار اور حکمت عملی کی تفصیلات کو دینی فہم رکھنے والے افراد پر چھوڑ دیا ہے۔ گو اصولی طور پر یہ بات طے کردی گئی ہے کہ خواتین میں دعوت دینے کے لیے بہترین دُعاۃ خواتین ہی ہوسکتی ہیں لیکن ایسی جامعات میں جہاں مخلوط تعلیم ہو ایسے مواقع بھی پیش آسکتے ہیں بلکہ پیش آتے ہیں جب بطور ایک مجبوری اور ضرورت ایک طالب علم اور طالبہ کوکسی دعوتی معاملے میں بات کرنی پڑے جس کے لیے قرآن نے یہ طے کردیا ہے کہ بات اس انداز سے ہو جس میں کوئی لوچ اور لچک نہ پائی جائے۔ صرف ضرورت کی حد تک سوال و جواب کو اختیار کیا جائے۔
ایک اور بات جو آپ نے اٹھائی ہے وہ یہ کہ آج اسمبلیوں میں جماعت اسلامی سے وابستہ خواتین بطور ممبرپارلیمنٹ یا سینیٹ جو کام کر رہی ہیں، وہ آپ کے خیال میں مولانا مودودی کی فکر سے انحراف ہے۔
پہلی بات تو یہ کہ کسی بھی تحریک کے لیے جو چیز واجب العمل ہے وہ اس کے سربراہ، بانی یا امیر کی ہر وہ بات ہے جو قرآن وسنت کے مطابق ہو لیکن اجتہادی معاملات میں اس بات کا امکان رہتا ہے کہ قرآن وسنت کو ماخذ مانتے ہوئے ان کی ایک سے زیادہ تعبیرات پر عمل کیا جاسکے جیساکہ پانچ معروف فقہی مذاہب (حنفی، جعفری، مالکی، شافعی اور حنبلی) میں نظر آتا ہے۔ خود مولانا مرحوم اس اصول کے قائل تھے اور تمام زندگی اسی پر عامل رہے۔ چنانچہ فقہ حنفی کی معروف راے کے باوجود کہ ایک خاتون ایک اسلامی مملکت کی سربراہ نہیں ہوسکتی، جب ملک سے فوجی آمریت کو دُور کرنے کا سوال اٹھا اور متحدہ حزبِ اختلاف نے ایک سابقہ فوجی جرنیل کو ایوب خان کے مقابلے میں اپنا نمایندہ بنایا تو ایوب خان نے اسے گھر میں نظربند کردیا، آخرکار متحدہ حزبِ اختلاف نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے بار بار کے انکار کے باوجود اس شرط پر راضی کرلیا کہ اگر وہ صدر منتخب ہوجائیں تو پہلی فرصت میں نئے اور آزادانہ انتخاب کروا کے خود صدارت سے الگ ہوجائیں گی۔ اس قسم کی صورت حال کو فقہ کی اصطلاح میں ’ضرورت‘ کہا جاتا ہے۔ چنانچہ صاحب معارف القرآن حضرت مولانا مفتی محمد شفیع مرحوم نے تحریری طور پر اس معاملے میں محترمہ فاطمہ جناح کے حق میں فتویٰ دیا اور مولانا مرحوم نے جو اس وقت جیل میں نظربند تھے، رہائی کے فوراً بعد ملک گیر پیمانے پر سفر کر کے اس فتوے کی حمایت اور توثیق کی۔
بالکل اسی طرح اگر پارلیمنٹ میں خواتین کے لیے مخصوص نشستوں پر ایسی خواتین کے منتخب ہوکر آنے کا امکان ہو جو پاکستان کو ایک سیکولر ریاست، اباحیّت پسند معاشرہ اور مادہ پرست ملک بنانا چاہتی ہوں تو ایسے میں شریعت کی نگاہ میں ان خواتین کا گھر ہی بیٹھے رہنا جو ملک کو اس لعنت سے بچاسکتی ہوں، دین کی مصلحت کے خلاف ہوگا اور اصولِ ضرورت کی بنا پر ان کا پارلیمنٹ اور سینیٹ میں آکر دین کا دفاع کرنا عین مقصودِ دین ہوگا۔ یہی وہ دعوت ہے جو جماعت اسلامی نے آغاز سے دی اور ایک صالح جماعت کے قیام کی ضرورت پر اُمت ِمسلمہ کو متوجہ کیا۔
اس عمل کے دوران اگر ایسی خواتین اپنی دیگر ذمہ داریوں سے رُوگردانی کر رہی ہوں اور ان فرائض کو ادا نہ کریں جو ان پر ایک اسلامی معاشرے میں بطور فریضہ عاید ہوتے ہیں تو ایسی حالت میں معاشرتی ذمہ داریوں کو اولیت حاصل ہوگی اور معاشرتی فلاح کے کاموں کی حیثیت ثانوی ہوگی۔ دین میںترجیحات کی غیرمعمولی اہمیت ہے اور ان کا صحیح تعین کیے بغیر ہم دین پر صحیح طور پر عمل نہیں کرسکتے۔ فرضِ عین اور فرضِ کفایہ ہو یا فرائض وسنن و نوافل ہوں، ترجیحات کے بغیر ان پر عمل کرنا دین کا مقصود نہیں ہے۔
جہاں تک سوال ’دینی ضرورت‘ کے تحت ایک خاتون یا طالبہ کا ایک مرد طالب علم یا استاد سے بات کرنے کا ہے تو جب تک قرآن وسنت کے مقرر کردہ طریقِ خطاب و گفتگو کو اختیار کیا جائے گا، یہ عمل غیراخلاقی اور غیراسلامی نہیں ہوگا۔ جس حدیث کا حوالہ آپ نے دیا ہے وہ حدیث صحیح ہے لیکن کاش اسے آپ غورسے پڑھ لیتے تو اشکال نہ ہوتا۔ حدیث کا تعلق ’خلوت‘ سے ہے، یعنی تنہائی میں ملنا۔ جب ایک مرد اور عورت تنہا ہوں توتیسرا شیطان ہوتا ہے جو بہرصورت حرام ہے۔ لیکن اگر ایک کیمپس کے کسی بندکمرے میں نہیں بلکہ کھلے ماحول میں ایک ’ضرورت‘ کے تحت بات کی جارہی ہو تو اس کی اجازت تو قرآن کریم نے بھی دی ہے کہ جب اُمہات المومنینؓ سے کوئی سوال کیا جائے تو وہ اس کا جواب دیں لیکن ایسے انداز سے جس سے کسی کے دل میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہو۔ یاد رکھیے دین نہ تو غلو اور شدت کا نام ہے اور نہ فکری بے راہ روی اور آزادی کا کہ ہر چیز کو حالاتِ زمانہ کی بنا پر مباح کردیا جائے۔
جہاں تک سوال کسی رکن جماعت کے صاحبزادے کا تعلیمی ادارہ چلانے کا ہے، چاہے وہ خود بھی رکن جماعت ہوں اور آپ خود اس ادارے میں طالب علم بھی ہوں تو آسان طریقہ یہ ہے کہ بجاے ترجمان القرآن میں اس مسئلے کو اٹھانے کے ان صاحبزادے سے خود مل کر اپنی راے ان تک پہنچایئے اور اپنی تشفی کرلیجیے۔ اصولاً جو بات آپ نے لکھی ہے اس سے نہ تو جماعت اسلامی کا اور نہ کسی کے رکن ہونے کا تعلق ہے۔ ایک غیررکن جماعت بھی اگر ایک ادارے کاسربراہ ہو اور وہاں پر نماز باجماعت کے مقررہ وقت کے دوران امتحان لیا جا رہا ہو تو یہ نامناسب اور غیراسلامی طرزِعمل ہے۔ اس کی اصلاح ہونی چاہیے اور امتحان کے اوقات ایسے ہونے چاہییں کہ یا تو وہ نماز سے پہلے مکمل ہوجائے یا نماز کے بعد شروع ہو۔
اسی طرح اگر ایک رکن جماعت ایسی ایجنسی چلا رہے ہوں جس میں خواتین کو اشتہارات میں استعمال کیا جارہا ہو تو ان کا رکن ہونا اس عمل کو جائز نہیں بناسکتا۔ یہ ایک غلط طرزِعمل ہے اور انھیں اپنی پالیسی کی اصلاح کرنی چاہیے۔ تحریکِ اسلامی کی فکر یہ مطالبہ کرتی ہے کہ صرف وہ کاروبار کیے جائیں جو اخلاقی اور فقہی طور پر مباح ہوں۔ صرف وہ اشتہارات جن میں خدوخال واضح نہ ہوں اور جن میں فحاشی کا عنصر نہ پایا جائے طبع کیے جاسکتے ہیں لیکن جن اشتہارات میں خواتین کو بطور ایک حربہ کے استعمال کیا جائے انھیں اسلامی نقطۂ نظر سے جائز نہیں کہا جاسکتا۔
جماعت اسلامی کا دستور اور اس کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اس جماعت میں مستقل احتساب کا نظام موجود ہے اور نہ صرف ایک رکن بلکہ امیرجماعت ہو یا ارکانِ شوریٰ، ہر ایک کا احتساب کیا جاتا ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جو مصدقہ معلومات آپ کے پاس ہوں انھیں جماعت کے متعلقہ ذمہ دار تک تحریری طور پر پہنچائیں تاکہ وہ اس پر مناسب کارروائی کرسکیں۔ آپ کا کسی بھی مسلمان کے حوالے سے تحقیق کرنے سے قبل کوئی راے قائم کرلینا اور اسے غلطی کا مرتکب قرار دینا کچھ قبل از وقت نظر آتا ہے۔ اس لیے جومعلومات آپ کے پاس مصدقہ طور پر ہوں انھیں متعلقہ ذمہ دارکے علم میں ضرور لایئے تاکہ احتساب کیا جاسکے۔ اگر احتساب کے بعد کسی کام کی نوعیت اتنی شدید ہوتی ہے کہ اخراج ہی کرنا ہو، تو ایسا کرنے میں کوئی تامل نہیں کیا جاتا۔ لیکن یہ روزمرہ کا معمول نہیں ہے۔ بہت مخصوص حالات میں ایسا کیا جاتا ہے۔ عموماً احتساب کے بعد غلطی کی اصلاح ہوجاتی ہے۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔ (ڈاکٹر انیس احمد)
س: آج کل اکثر مساجد میں معذور افراد کے نماز پڑھنے کے لیے کرسیاں رکھی گئی ہیں جن کے آگے سجدہ کرنے کے لیے تختہ نصب ہوتا ہے۔ ایک روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک بیمار شخص نماز پڑھ رہا تھا اور سجدہ کرنے کے لیے آگے ایک لکڑی رکھی ہوئی تھی۔ آپؐ نے وہ لکڑی ہٹا دی۔ اس شخص نے پھر لکڑی پکڑ کر آگے رکھ لی۔ اس پر آپؐ نے وہ لکڑی پھینک کر فرمایا کہ سجدہ صرف زمین پر ہوتا ہے۔ اگر زمین پر کرنے کی سکت نہ ہو تو پھر اشارہ کرے۔ اور یہ کہ قعود توقیام کا بدل ہوسکتا ہے کہ جب دورانِ نماز کھڑے ہونے کی سکت آجائے تو انسان کھڑا بھی ہوسکتا ہے، مگر سجدے کا کوئی بدل نہیں۔ سجدہ صرف زمین ہی پر کیا جاسکتا ہے۔
براہ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں اس بات کی وضاحت کردیجیے کہ آیا ان کرسیوں کے تختے پر سجدہ کرنے سے نماز مکمل ہوجاتی ہے، نیز اس واقعے کی صحت اور سیاق و سباق بھی بیان کردیجیے تو مناسب ہوگا۔
ج: آپ نے جس واقعے کا حوالہ دیا ہے وہ اس طرح کا واقعہ نہیں ہے جس کی رُو سے مساجد میں رکھی گئی کرسیاں اور ان کے سامنے بنے ہوئے تختے ناجائز ہوجائیں۔ واقعے کا تعلق اسی صورت سے ہے کہ ایک آدمی سجدہ کرنے کے بجاے یا جھکنے کے بجاے کوئی چیز اپنے سر کے برابر رکھ لیتا ہے کہ اس پر سر کو ملا دے بغیر اس کے کہ سر کو جھکائے۔ اگر کافی دیر تک بغیر سہارے کے اپنے آپ کو جھکائے رکھنے کے بجاے، سامنے تختے پر جس تک پہنچنے کے لیے جھکنا پڑتا ہے، سر اور ہاتھ رکھ دیے جاتے ہیں، سر جھکایا جاتا ہے تو یہ صحیح ہے اور اس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے۔
آپ نے جس حدیث کا حوالہ دیا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ یہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا واقعہ ہے کہ وہ ایک مریض کی عیادت کے لیے گئے تو اسے نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ سجدے کے وقت ایک لکڑی اس کے لیے اٹھائی جاتی جس پر وہ سجدہ کرتا تو انھوں نے وہ لکڑی اس آدمی کے ہاتھ سے چھین لی اور اسے پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ چیز تمھیں شیطان نے پیش کی ہے۔ سجدے کے لیے اپنے سر سے اشارہ کرو۔ (حاشیۃ الرافعی، علی ردالمحتار، ج۲، ص ۶۸۵)
صاحب رد المحتار علامہ شامی نے فرمایا: ’’اس کا تعلق اس صورت سے ہے جب چہرے کی طرف کوئی چیز اٹھائی جائے جس پر سجدہ کرے، بخلاف ایسی صورت کے، جب کوئی چیز زمین پر رکھی ہوئی ہو تو اس پر سجدہ کرنا مکروہ نہیں ہے‘‘۔ (ایضاً)
پس مسجدوں میں جو کرسیاں رکھی ہوئی ہیں اور ان کے سامنے میز نما تختے لگے ہوئے ہیں کہ ان پر اشارے کے ساتھ رکوع کرنے کے بعد سجدہ کرتے ہیں، جائز ہیں۔ ان میں رکوع میں گردن اور پیٹھ کو بھی جھکایا جاتا ہے اور اس کے بعد سر، گردن اور پیٹھ کو جھکاکر سجدہ بھی کیا جاتا ہے۔ اس کی تردید احادیث سے ثابت نہیں بلکہ اس طریق کار کو مستحسن قرار دیا گیا ہے ( ایضاً، ص ۶۸۶)۔ اس لیے آپ کسی قسم کا تردّد نہ کریں۔ واللّٰہ اعلم! (مولانا عبدالمالک)
یہودی، عیسائی اور مسلمان، تینوں براہیمی مذاہب کے ماننے والے یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ، اللہ تعالیٰ کے ایک اشارے پر اپنے پیارے بیٹے کو قربان کرنے پر تیار ہوگئے تھے۔ اختلاف اس میں ہے کہ کون قربانی کے لیے پیش کیے گئے: اسماعیل یا اسحاق؟ بائبل کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ کے ’واحد فرزند‘ اسحق تھے جنھیں سوختنی (جلائی جانے والی) قربانی کے طور پر پیش کیا گیا، جب کہ قرآن مجید واضح طور پر حضرت اسماعیل ؑکی قربانی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (الصافات ۳۷: ۱۰۲، ۱۰۳)
مصنفین نے اس اختلافی مسئلے کے ضمن میں بڑی کاوش اور عرق ریزی سے تحقیق کی ہے اور نہ صرف عہدنامۂ قدیم و جدید، بلکہ عیسائی لٹریچر اور متعدد حوالہ جاتی کتب سے متعلقہ مواد اخذ و پیش کیا ہے اور قطعیت کے ساتھ ثابت کردیا ہے کہ ’ذبیح‘ فی الواقع حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے۔ بائبل کے بیانات میں زور اس بات پر ہے کہ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم ؑنے اپنے ’واحد فرزند‘ کو قربانی کے لیے پیش کیا، جب کہ وہاں یہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے کہ حضرت اسماعیل ؑکی پیدائش کے وقت حضرت ابراہیم ؑکی عمر ۸۶سال تھی اور حضرت اسحاقؑ کی پیدایش کے وقت وہ ۱۰۰سال کے تھے۔ گویا ۱۴ سال تک حضرت ابراہیم ؑ کے ’واحد فرزند‘ حضرت اسماعیل ؑ ہی تھے اور پھر حضرت اسحاقؑ کی پیدایش کے بعد کسے ’واحد فرزند‘ کا خطاب دیا جاسکتا ہے؟
اس سب کے باوجود بائبل کی کہانی میں یہ بیان کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے بیٹے اسحاقؑ کو قربانی کے لیے لے گئے، اور جب اکیلے واپس ہوئے تو اسحاقؑ کی والدہ سارہ صدمے سے انتقال کر گئیں، حیرت انگیز ہے۔
بہت سے یہودی اور عیسائی اور بدقسمتی سے بعض مسلمان بھی (الطبری) حضرت اسحاقؑ کو ذبیح قرار دے کر گویا حضرت اسماعیل ؑ کو حضرت ابراہیم ؑ کی حقیقی اولاد ہی تسلیم نہیں کرتے، کیوں کہ ان کے خیال میں والدۂ اسحاقؑ ، سارہ ہی حضرت ابراہیم ؑ کی حقیقی بیوی تھیں، اور والدۂ اسماعیل ؑ (حضرت ہاجرہ ـ ؑ) تو محض ایک کنیز تھیں، جن کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد حقیقتاً ’فرزند‘ نہیں کہی جاسکتی۔ اگرچہ حضرت ہاجرہ ؑکا محض کنیز ہونا بھی محلِّ نظر ہے، اور اس کے لیے کوئی قابلِ قبول شہادت نہیں کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کی زوجۂ محترمہ نہ تھیں، لیکن اس سے قطع نظر خود انجیل بتاتی ہے کہ کنیز خاتون (slave woman) کا ولد بھی تمھارا بیٹا ہے، اور میں [اللہ] اس کی اولاد کو ایک عظیم قوم بنائوںگا‘‘ (پیدایش ۲۱:۱۳)۔ (ص ۳۶)
مصنفین نے عہدنامۂ قدیم اور عہدنامۂ جدید کی تاریخی حیثیت پر جو سیرحاصل گفتگو کی ہے اور ضمناً فلسطین کے تاریخی مقامات کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں، وہ ایک وسیع لوازمے کو ایک جگہ مرتب کردینے کی نہایت کامیاب کوشش ہے۔ یہ کتاب ہمارے عیسائی اور یہودی بھائیوں کو تحفے میں دینے کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اُردودان طبقے کے لیے بھی اگر اس کا ترجمہ کردیا جائے تو اچھا ہوگا۔ جاویداحمد غامدی نے ’پیش لفظ‘ میں اس کوشش کو اپنے ادارے کے لیے باعثِ فخر قرار دیا ہے۔ (پروفیسر عبدالقدیرسلیم)
ڈاکٹر شیرمحمد زمان چشتی (ایس ایم زمان) عربی زبان و ادب کے بلندپایہ اسکالر ہیں۔ عمربھر درس وتدریس سے وابستہ رہے۔ متعدد جامعات کے شیخ الجامعہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ (۱۹۹۷ئ-۲۰۰۳ئ) کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ زیرنظر کتاب ان کے علمی مقالات، صدارتی خطبات اور کتب ِسیرت پر لکھے جانے والے مقدمات یا تعارفی و انتقادی مضامین پر مشتمل ہے، جنھیں محمدمیاں صدیقی نے نہایت محنت سے ترتیب دیا ہے۔ مرتب نے بعض مقامات پر اضافہ اور بعض جگہ پر نظرثانی کی ہے اور بعض حواشی کو زیادہ بامعنی بنانے کی کوشش بھی کی ہے، جس سے کتاب کا علمی معیار بلند تر ہوگیا ہے۔
کتاب میں کُل ۹ مقالات ہیں جنھیں موضوعات کی بنیاد پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بعض عنوانات اس طرح ہیں: ’عزم و ثبات کا کوہِ گراں‘، ’محمدرسولؐ اللہ: نبی رحمت و عزیمت‘، ’اطاعتِ رسولؐ: فوزوفلاح کا ذریعہ‘ اور ’اسلامی فلاحی ریاست:اسوئہ حسنہ کی روشنی میں‘۔ خطباتِ رسولؐ (از محمدمیاں صدیقی) ثناے خواجہؐ (بریگیڈیر گلزاراحمد) کا مختصر مطالعہ اور عزیزملک کی کتاب تذکارنبیؐ کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کے آخری حصے میں ’اُردو میں سیرت پر چندحالیہ تصانیف: محمدطفیل کی زیرادارت نقوش کے رسولؐ نمبر، محمد رفیق ڈوگر کی الامین اور ظفر علی قریشی کی ازواجِ مطہراتؓ اور مستشرقین پر ڈاکٹر صاحب نے تنقیدی نظر ڈالی ہے۔
یہ مضامین روایتی انداز میں نہیں لکھے گئے بلکہ ان میں عہدِحاضر کے بنیادی مسائل کا حل سیرت کی روشنی میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ عہدِحاضر میں مغربی تہذیب کے زیراثر بعض ناپسندیدہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے دعوتی سرگرمیوں کو باقاعدگی دینے اور دعوتی عمل میں نبی کریمؐ کے ضبط و تحمل اور مستقل مزاجی سے ہدایت ورہنمائی حاصل کرنے کی طرف واضح اشارے دیے ہیں۔ مصنف نے واقعات کی تاریخی حیثیت سے زیادہ ان کے عملی اور سبق آموز پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھا ہے۔
ڈاکٹر خالدعلوی نے مصنف کی استنادی پختگی، زبان و بیان کی لطافت کے ساتھ ایمان اور ادبِ نبوت کی چاشنی، جاں نثارانِ مصطفی کی تصویر کشی اور راست فکری کو سراہا ہے (ص ۱۵)۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کے بقول: ڈاکٹر صاحب کا اسلوبِ بیان راست اور نقطۂ نظر دوٹوک اور ابہام سے پاک ہوتا ہے۔ وہ جابجا ایک ایک جملے میں ایک قولِ فیصل سموتے چلے جاتے ہیں، جو نظر کی وسعت، فکر کی گیرائی، عقیدے کی مضبوطی اور چشمِ بصیرت کو کھلا رکھنے کی طویل ریاضت کا ثمرہ ہے (ص۲۳)۔ پروفیسر عبدالجبار شاکر کے خیال میں ڈاکٹرصاحب نے سیرت شناسی میں ایک ایسا اسلوب وضع کیا ہے، جو ادبی جلال و جمال کی تمام تر دل فریبیوں اور شوکت کے باوجود حقائق آشنا رہتا ہے۔ (ص ۳۵)
ڈاکٹر محمد میاں صدیقی نے مصنف کے کوائف، اشاریے اور فنی تدوین کے ذریعے کتاب کے علمی وقار میں خاطرخواہ اضافہ کردیا ہے۔ (ڈاکٹر خالد ندیم)
علامہ اقبال کے فرزند ِ ارجمند جسٹس (ر) جاویداقبال، ماہر قانون ہونے کے ساتھ ماہرِاقبالیات بھی ہیں اور اقبالیاتی ادب میں ان کی تصانیف خصوصاً اقبال کی سوانح عمری زندہ رود سند کا درجہ رکھتی ہیں۔
زیرنظر کتاب ان کے مصاحبوں (انٹرویوز) کا مجموعہ ہے، جس میں ڈاکٹر اخترالنساء نے متنوع موضوعات پر اخبارات و رسائل میں مطبوعہ ڈاکٹر جاویداقبال صاحب کے ۱۹ مصاحبے جمع کردیے ہیں۔ انٹرویو لینے والوں میں متین فکری، ظفراعوان، طارق نیازی، ایس ایم ناز، محمدجاوید اقبال، رحمت علی رازی، تنویرظہور، صہیب مرغوب، سہیل وڑائچ، اسداللہ غالب اور ڈاکٹر راشد حمید شامل ہیں۔
ان مکالمات کا زمانہ کم و بیش ۴۰ برسوں پر پھیلا ہوا ہے اور سوال جواب میں خاصا تنوع ہے، مثلاً اقبال کا تصورِ پاکستان، نظریۂ جمہوریت،فاشزم، ایرانی انقلاب، اجتہاد، ڈاکٹر ٹامسن کی تضاد بیانی، اقبال اور مودودیؒ وغیرہ ___ اسی طرح علامہ اقبال کی شخصیت کے بعض پہلو اور خود جاویداقبال کے سوانح کی کچھ تفصیلات اور چودھری محمد حسین کی شخصیت وغیرہ۔ الغرض کتاب اپنے موضوعات کے حوالے سے نہایت اہم ہے۔ ڈاکٹر اخترالنساء نے اہم انٹرویو منتخب کرکے انھیں سلیقے سے مرتب کیا ہے۔ دیباچے میں ڈاکٹر جاویداقبال کے مختصر سوانح، تصانیف کی فہرست اور کارناموں کا ذکر شامل ہے۔ کتاب کی دو ایک کمزوریوں کی طرف توجہ مبذول کرانا نامناسب نہ ہوگا۔ فہرست میں ’پیش لفظ‘ نگار (ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی) اور دیباچہ نگار (خود مؤلفہ) کا نام نہیں ہے۔ فہرست میں مصاحبوں کی تاریخیں اور انٹرویو لینے والے کا نام بھی دینا چاہیے تھا۔ بعض الفاظ کا املا دوقسم کا نظر آتا ہے۔ ص ۹۱،۹۲ کی جڑائی غلط ہے اور پروف کی کچھ اغلاط بھی رہ گئی ہیں وغیرہ، مگر ان کوتاہیوں کے باوجود کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ یہ کتاب سیاسیات، پاکستان، تاریخ اور اقبالیات کے طلبہ ہی نہیں، عام قارئین کے لیے بھی نہایت مفید اور دل چسپ ہے۔ (قاسم محمود احمد)
سفربالعموم خانگی، معاشی و تجارتی، سیاسی اورسماجی ضرورتوں کے لیے ہوتا ہے یا سیروتفریح اور ثقافتی دل چسپیوں کے لیے۔ لیکن سفر کی ایک قسم اور بڑی اہم قسم وہ بھی ہے جسے علمی، ادبی اور دعوتی مقاصد کے لیے انجام دیا جاتا ہے۔ وہ سفرنامے جو اس نوعیت کے اسفار کے تجربات اور احساسات پر مبنی ہوں غیرمعمولی افادیت رکھتے ہیں۔ ایسے سفرنامے دنیا کے مختلف ممالک، اقوام اور ثقافت و تمدن کے حالات و ظروف کا مرقع اور بڑے قیمتی انسانی تجربات کا گلدستہ بن جاتے ہیں اور ایک طرح دوسروں کی تعلیم کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کی تاریخ میں اس نوعیت کے سفرنامے ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور ڈاکٹر صہیب حسن نے مشرق و مغرب کے ۱۰،۱۲ممالک میں اپنے دعوتی اور ملّی اسفار کے احوال و تجربات میں دوسروں کو شریک کرکے بڑی مفید خدمت انجام دی ہے۔ بیت المقدس، بوسنیا، قاہرہ، فیجی، ناروے، بحرین اور سعودی عرب کے اسفار کا تذکرہ تاریخی معلومات، اسلامی تنظیموں اور شخصیات کی سرگرمیوں، اور بڑے سبق آموز انسانی تجربات سے پُر ہے۔ تحریر شگفتہ اور تبصرے معلومات آفریں اور دینی حمیت کے مظہر ہیں۔ آج کے دور میں مسلمان جن مسائل اورمشکلات سے دو چار ہیں اور اچھی اسلامی زندگی کے فروغ کے جو امکانات ہیں، زیرنظر پُراز معلومات سفرنامے میں ان سب کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ذاتی تعلقات اور تجربات کی اس داستان کو دل چسپ اور سبق آموز رہنا چاہیے۔ امریکا میں امیگریشن کے عملے کے ہاتھوں ایک معروف عالمِ دین اور معزز شخصیت پر جو گزری، وہ مہذب دنیا کے دہرے معیارات اور گہرے تعصبات کا منہ بولتا ثبوت ہے لیکن جس شرافت اور عزیمت سے ڈاکٹر صہیب حسن نے اس آزمایش کو بھگتا، وہ ان کی بصیرت اور بُردباری کا آئینہ ہے۔
ڈاکٹر صہیب حسن جس جس جگہ گئے ہیںاس سفرنامے میں ان مقامات کے بارے میں اتنی معلومات محفوظ کردی ہیں کہ اس سفرنامے کا جو قاری بھی اُن دیارو امصار میں جائے گا وہ اپنے کو وہاں اجنبی محسوس نہیں کرے گا۔
اس سفرنامے پر پروفیسر عبدالجبار شاکر نے حرفِ اول کا اضافہ کیا ہے جو اس پہلو سے بڑی مفید تحریر ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کے سفرناموں کی بڑی دل چسپ داستان آگئی ہے اور اس پس منظر میں ڈاکٹر صہیب حسن کا سفرنامہ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک تازہ کڑی معلوم ہوتا ہے۔ ابن بطوطہ ہوا کرے کوئی اُردو کے سفری ادب میں ایک قیمتی اضافہ ہے، خاص طور پر مسلمانوں کی نئی نسلوں کے لیے ایک ایسا تحفہ ہے جس کے توسط سے وہ گھر بیٹھے مشرق و مغرب کے دسیوں ممالک کی سیر کرسکتے ہیں اور صرف سیر ہی نہیں، دوسروں کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ بھی سکتے ہیں۔( مسلم سجاد)
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ احیاے اسلام کی تحریکوں نے اپنے دور اور اپنے معاشرے کے بہترین افراد کو اپنی طرف کھینچا اور وہ انھیں دنیا کے سامنے مثالی انسانوں اور کارکنوں کی حیثیت سے پیش کیا۔ تمام اسلامی تحریکوں میں آپ کو ایسے لوگ مل جائیں گے جنھیں مثالی کہا جاسکتا ہے۔ خان محمد باقر خان (۱۹۱۶ئ-۲۰ جنوری ۱۹۶۳ئ) ایک نڈر، دبنگ، مستعد، باذوق شخص تھے جنھوں نے ایک شیعہ خاندان میں آنکھیں کھولیں۔ اوائلِ عمر میں کچھ عرصہ خاکسار تحریک اور مجلسِ احرار سے بھی وابستہ رہے۔ بعدازاں ابوالاعلیٰ مودودی کی تحریروں سے متاثر ہوکر مسلکِ حنفی اختیار کیا اور جماعت اسلامی سے تعلقِ خاطر دیگر تمام وابستگیوں سے فائق اور بالاتر ثابت ہوا حتیٰ کہ انھوں نے اچھی خاصی سرکاری ملازمت بھی چھوڑ دی۔
زیرنظر کتاب میں ان کے دوستوں، احباب اور بیٹے بیٹیوں کے مضامین جمع کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب ۴۸سال کی عمر میں داغِ مفارقت دے جانے والے ایک خوش لباس، خوش گفتار، خوش اطوار انسان کی دل نواز شخصیت کی بعض جھلکیاں پیش کرتی ہے۔
مضمون نگاروں میں ماہرالقادری، سیداقبال شاہ، احسان زبیری، سیداسعد گیلانی، محمد افضل بدر، ڈاکٹر کرامت علی، میاں نصیراحمد، ڈاکٹر عبدالغنی فاروق، ڈاکٹر راشدہ تبسم، ڈاکٹر ریاض باقر، اعزاز باقر، اعجاز باقر اور مرحوم کی اہلیہ محترمہ شامل ہیں۔ سیداسعد گیلانی کا مضمون خاصا مفصل ہے اور اس میں باقرخان مرحوم کی اس ڈائری کے کچھ اوراق بھی شامل ہیں جو انھوں نے جماعت اسلامی کے ایک وفد کے رکن کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کے دورے کے دوران میں لکھی تھی۔ اس کے بعض حصے چشم کشا ہیں، مثلاً لکھتے ہیں: ’’معلوم ہوا کہ یہاں پنجابی افسروں نے اپنے حاکمانہ رعب سے بنگالیوں میں کافی برہمی پیدا کی ہوئی ہے اور پنجابی افسروں کے خلاف یہاں شدید نفرت کا جذبہ پایا جاتا ہے‘‘ (ص ۴۶)۔ مہاجر اور مقامی میں بہت نفرت ہے اور اس نفرت کی خلیج روز بروز وسیع ہورہی ہے (ص ۵۰) وغیرہ۔
چودھری علی احمد خان کے بعد تحریکِ اسلامی میں وہ دوسرے آدمی تھے جو ہرقسم کے چیلنجوں کا جواب دینے اور تحریک کے مہماتی کاموں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا سلیقہ اور ذوق رکھتے تھے۔ بقول سید اسعد گیلانی: مرحوم کے خیال میں وہ تحریک اسلامی کا ایسا بیش قیمت اثاثہ تھے جن کی زندگی کا مطالعہ تحریکِ اسلامی کے وابستگان کے لیے آج بھی دلیلِ راہ بن سکتا ہے۔ (رفیع الدین ہاشمی)
نئی نسل بالخصوص اسکول کے طلبہ کو یہ آگہی دینا کہ پاکستان کا قیام مسلمانوں کی صدیوں کی جدوجہد اور عالمِ اسلام کی بیداری کا عنوان ہے، سببِ تالیف ہے۔ ابتدا میں ۱۰۶ تصاویر کی روشنی میں محمد بن قاسم سے لے کر قائداعظم کے جنازے تک مختصراً انگریزی اور اُردو میں تحریکِ پاکستان کی جدوجہد اور مراحل کو پیش کیا گیا ہے۔ ایک باب میں مختلف مسلم ادوار میں ترقی، غیرمسلموں سے مسلمانوں کا سلوک اور مسلم حکمرانوں کے قابلِ تحسین کردار کا تذکرہ ہے۔ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بعد مسلمانوں پر ہندوؤں اور سکھوں کے مظالم، خوں ریزی اور مسلمان عورتوں کی بے حُرمتی کی پُرآشوب داستان مختصراً پیش کی گئی ہے کہ نئی نسل کو پاکستان کی صحیح معنوں میں قدر ہوسکے۔ ۲۲کالم نگاروں کے منتخب کالموں کے ذریعے پاکستان کو درپیش مسائل کا تذکرہ ہے۔ علامہ اقبال اور قائداعظم کی شخصیت، افکار اور جدوجہد کے ساتھ ساتھ قائداعظم کی شخصیت اور نظریۂ پاکستان کو مسخ کرنے کی مذموم کوششوں کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔ توجہ دلائی گئی ہے کہ مسلمانوں کی نجات اور ترقی صرف اللہ تعالیٰ کی اتباع اور اسلام پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ مختلف ضمیموں میں منتخب حمدیہ و نعتیہ کلام، حضوؐر کی حیاتِ طیبہ ایک نظر میں، مقاماتِ مقدسہ کی تصاویر، علامہ اقبال کی سیاسی جدوجہد کی مختلف تصاویر، اور آخر میں تعلیم کا مقصد، تربیت کے رہنما اصول اور امتحانات میں کامیابی کے طریقے بتائے گئے ہیں۔ گویا سمندر کو کوزے میں سمونے کی کوشش ہے۔ اس کتاب کو تعلیمی اداروں کی لائبریریوں میں لازماً ہونا چاہیے۔ (امجد عباسی)
’رسموں کی بیڑیاں‘ (اکتوبر ۲۰۰۸ئ) کے عنوان سے مولانا مودودیؒ کی تحریر تقریبات میں اِسراف، معاشرت میں تعیش پسندی، رسوم کے بندھنوں سے گلوخلاصی اور جرأت سے سادہ زندگی اپنا کر معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کے لیے خاصے کی چیز ہے۔ اس تحریر میں معاشرتِ اسلامی کی روح سے منافی رسموں کو فی زمانہ صرف تحریک سے غیروابستہ عام تعلق داروں کے حق میں احتجاج کے ساتھ کرہاً قبول کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ تحریک سے وابستہ افراد سے تو یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر لدے ہوئے رواجوں کے بوجھ کو پٹخ دینے میں پہل کریں، اور اس کام کو تحریک سے وابستہ افراد کا فرض گردانا گیا ہے۔ مقامِ افسوس ہے کہ آج کل نہ صرف تحریک سے وابستہ عام صاحب ِ ثروت افراد بلکہ بعض رہنمایانِ تحریک بھی اسی رنگ ڈھنگ میں اپنی تقریبات رچاتے ہیں، جسے دوسروں کے حق میں بالکراہت قبول کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔ نہ صرف تقریبات بلکہ ذاتی زندگی کے دوسرے مظاہر بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہوتے ہیں، اور ہم معاشرے کی اصلاح کی خاطر نکّو بن کر رہنے کی ہدایت کے برعکس خود معاشرے میں اپنی ناک اُونچی رکھنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔
’زرداری صدارت ___ چیلنج اور توقعات‘ (اکتوبر ۲۰۰۸ئ) زرداری کی ’شخصیت‘ کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ اب زرداری صاحب کو چاہیے کہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے اور کرپشن کی تلافی کے لیے اپنے ہی مقروض ملک پاکستان پر رحم کھاتے ہوئے ۶۰ملین ڈالر قومی خزانے میں واپس جمع کروا دیں تاکہ کچھ نہ کچھ کفارہ ادا ہوسکے۔
اس موقع پر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے اے پی ڈیم ایم کے موقف کے مضمرات و اثرات کا جائزہ لینا بھی مفید تھا۔ سیاسی بصیرت اور خود احتسابی کے لیے سیاسی جماعتوں کو اپنی پالیسیوں کا تنقیدی نظر سے جائزہ بھی لینا چاہیے کیونکہ یہ اہم پارٹیاں اب کافی حد تک پارلیمانی سیاست سے باہر ہیں۔ شفاف انتخابات کی وجہ سے ہی زرداری صاحب قوم پر مسلّط ہوگئے ہیں، جب کہ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کوسوں دُور ہے۔ ملک و قوم مہنگائی اور دہشت گردی کے خوفناک بحران میں مبتلا ہیں جس سے نکلنے کی اہلیت و صلاحیت موجودہ حکمرانوں میں نظر نہیں آتی۔
’حاجی صاحب تُرنگ زئی‘ (اکتوبر ۲۰۰۸ئ) کا لازوال کردار غلبۂ دین اور سامراجی عزائم کے خلاف جدوجہد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آج بھی قبائلی علاقوں کے لوگ اسی عزم اور ولولے سے امریکی جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ امریکا کو عراق اور افغانستان کے بعد ایک نیا محاذ کھولنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے، بالآخر اسے پسپائی پر مجبور ہونا ہوگا۔
’زرداری صدارت ___ چیلنج اور توقعات‘ (اکتوبر ۲۰۰۸ئ) میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے اور جو تجاویز پیش کی گئی ہیں، وہ صدر صاحب کے لیے بھی خوش آیند ہیں اور اہلِ پاکستان کے لیے بھی حوصلہ افزا ہیں۔ اگر صدرصاحب اور موجودہ حکومت خلوصِ دل سے ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرے تو اس کا انجام بہتر ہوگا۔ انحراف کے نتیجے میں فوجی آمریت سے نجات اور حقیقی جمہوریت کی بحالی کا عوام کا بنیادی مطالبہ جو کہ خود عوامی حکومت کا دعویٰ بھی ہے شرمندئہ تعبیر نہ ہوسکے گا اور مایوسی کا باعث ہوگا۔
محترمہ عائشہ احمد نے ’او لیول کی اسلامیات میں فرقہ واریت‘ (جولائی ۲۰۰۸ئ) پر گرفت کی ہے (اکتوبر ۲۰۰۸ئ)۔ میرے نزدیک مضمون نگار نے نہ توکسی انتہاپسندی کا مظاہرہ کیاہے اور نہ بہت شدید ردعمل دکھایاہے بلکہ نپے تُلے اور شائستہ انداز سے ایک سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اولیول کے بچوں کو خلافت، امامت، دورِصحابہ اور خصوصاً تدوینِحدیث کے اختلافات بتانے کی ضرورت کیوں پیش آگئی، جب کہ موصوفہ اس کا اوقاتِ سحروافطار سے موازنہ کر رہی ہیں۔ یہ حسّاس موضوعات شاید علما کو بھی کسی تخصیص کے مرحلے میں پڑھائے جاتے ہوں جو یہاں ۱۵سال کے ناپختہ ذہن کے بچے کو پڑھائے جارہے ہیں___ چہ معنی دارد؟ لکھا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت طالب علموں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہوسکتی ہے تو یہ اُن کی ذاتی راے ہوسکتی ہے، جو میری راے میں بڑی حد تک مرعوب ذہنی کیفیت کی آئینہ دار ہے۔
کچھ مفتیوں نے فتویٰ دیا ہے کہ خودکشی اور خودکُش حملے حرام اور ناجائز ہیں۔ کیا ہی اچھا اور حق گوئی کا کمال ہوتا کہ یہ مفتیانِ کرام افواجِ پاکستان اور حکمرانوں پر بھی فتوے لگاتے کہ ان کی کیا پوزیشن ہے جو امریکا اور اس کی دولت و خشیت کے لیے طالبان کشی میں مصروف ہیں اور کافروں کے لیے مسلمانوں کا خون بہانے میں لگے ہوئے ہیں۔ کیا یہ مسلمان ہیں؟ فتویٰ لگائیں اور یہ بھی بتائیں کہ وہ لوگ کیوں کر بے گناہ ٹھیرے جنھوں نے امریکی پٹھوؤں کو ووٹ دیے جو طالبان سے یوں جنگ کر رہے ہیں جیسے دشمنوں کے خلاف لڑا جاتا ہے؟ کیا طالبان ہتھیار ڈال کر امریکی قبضہ مان لیں اور ملک و قوم ان کے حوالے کردیں اور انگریزوں والا بے حیائی کا کلچر قبول کرلیں!
آپ کے جو دوست یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ اگر جماعت اسلامی ہی صحیح راستہ پر ہے تو مجھے اسی کے مطابق چلاوے۔ ان سے کہیے کہ کسی معاملے میں حق معلوم کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی شریعت کے اصولوں کے سامنے رکھ کر ان پر پوری طرح غور کرے، اگر غور کرنے سے اس کا دل کسی ایک طرف مطمئن اور یک سو ہوجائے تو اس طریق کو اختیار کرلے اور اگر تردد باقی رہے تو شرح صدر کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے اور تلاش و تحقیق میں پوری سرگرمی سے مصروف بھی رہے۔ مجرد دعا پر بھروسہ کرلینا اور اپنے فکروعقل سے کام نہ لینا صحیح شرعی طریق نہیں ہے۔ یہ کوئی معقول حرکت نہیں ہے کہ تحقیق حق کے لیے اللہ تعالیٰ نے علم و عقل اور قوتِ استدلال کے جو ذرائع بخشے ہیں اور اپنی آیاتِ ہدایت اور اسوۂ انبیا کی جو نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، ان سب سے قطع نظر کرکے آدمی محض اللہ سے ہدایت و راستی کی آرزو کرکے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونا چاہے۔ جس شخص نے خدا کے دیے ہوئے چراغ کو گُل رکھا اور روشنی کی دعا کی، یا خدا کی دی ہوئی آنکھ موندے رکھی اور راستہ دیکھنے کی التجا کرتارہا، اس نے اللہ کی بخششوں کا کفران کیا۔ اسے کب حق پہنچتا ہے کہ اللہ اس پر مزید بخششیں فرمائے۔
ایسا رویہ دین سے بے پروائی اور عدم دل چسپی کی دلیل ہے اور اس میں کسی سنجیدگی کا شائبہ تک نہیں ہے۔ خود یہ حضرات دنیا کے کسی چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں فکروعقل کو معطل کر کے محض دعا پر بھروسا نہیں کرسکتے لیکن اسے فریبِ نفس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ دین جیسے نازک معاملے میں عقل کی آنکھیں بند کرکے محض اندھی دعائوں سے مقصد حاصل کرنے کی فکر کی جاتی ہے۔ وہ حق جس پر پوری زندگی کی درستی اور نادرستی اور آخرت کے ابدی راحت و الم کا دارومدار ہے، اس کی تلاش میں، چراغ گل کرکے، آنکھیں موند کر، کان بند کرکے، ذہن کے دروازوں پر قفل لگاکر آدمی نکلے اور مجرد دعا کی لاٹھی سے راستہ ٹٹولنا چاہے، حددرجہ مضحکہ انگیز حرکت ہے۔عقل و فکر اور چشم و گوش کا اولین فطری مصرف یہی ہے کہ ان کی مدد سے حق کو اور دین کی سیدھی راہ کو پہچانا جائے، اور اگر یہ اعلیٰ درجے کے قویٰ اسی پاکیزہ مصرف پر صرف نہ ہوئے تو پھر کیا ان کو نظامِ کفر کی پہچان اور اس کی اطاعت کے لیے صرف ہونا ہے؟ سوچتی ہوئی عقل اور کھلی ہوئی آنکھوں کے ساتھ طلب ِ ہدایت کی دعا کیجیے تو وہ ان شاء اللہ نشانہ پر بیٹھے گی۔ (’رسائل و مسائل‘، مولانا امین احسن اصلاحی، ترجمان القرآن، ج ۲۹، عدد ۶،ذی الحجہ ۱۳۶۵ھ، نومبر ۱۹۴۶ئ، ص۶۳)