فتنۂ انکار حدیث کا منظر و پس منظر میں فکر انکار حدیث کا اجمالی تعارف اور برصغیر میں اس کے محرکِ اوّل سرسیداحمدخان کے مجلے تہذیب الاخلاق اور غلام احمد پرویز کے طلوع اسلامکی فکر اور مساعی کا ایک تحقیقی‘ مربوط اور فاضلانہ مربوط محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔ مؤلف کے نزدیک خلافت علی منہاج النبوۃ اس فتنے کا اولین محرک ہے اور علماے سُو ء نے اس فتنے کو نشوونما دی اور اس کی آبیاری کی۔ ان علما کی یہ ’کاوشیں‘ اگرچہ شخصی حکمرانی کو جواز اور استحکام بخشنے کے لیے تھیں لیکن اس طرح کتاب اللہ اور سنت رسولؐ اللہ کو پس پشت ڈالا جا رہا تھا۔ اس روش اور طرزِفکر نے جب حدود سے تجاوز کیا تو قرآنِ مجید ہی میں تشکیک کی جسارتیں ہونے لگیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعین کردہ قرآن کے مفاہیم اور معانی کو نظرانداز کرکے خالص عقلی توجیہات کی گئیں جن کا نتیجہ انکارِ حدیث کی صورت میں ظاہر ہوا۔ برصغیر میں سرسیداحمدخان اس فکر کی اولین چنگاری تھے تو غلام احمد پرویز کی فکر کو اس کے عروج کے طور پر پیش کیا گیاہے۔
منکرینِحدیث کی اس فہرست میں مذکورہ دو اصحاب کے علاوہ ان کے فکری نمایندوں اور اس فکر سے وابستہ اہلِ قلم کی تحقیق کے نام سے تحریف دین کا محاکمہ پیش نظر رہا ہے۔ مؤلف کا انداز رواں اور خطیبانہ ہے لیکن تحقیقی اسلوب بھی نمایاں ہے۔
کتاب کی پہلی جلد انکارِ حدیث کے پس منظر پر مشتمل ہے۔ دوسری جلد میں طلوع اسلام کے ان افکار کا محاکمہ ہے جو سیدمودودیؒ اور جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے غلام احمد پرویز اور دیگر کے قلم سے سامنے آئے۔ تیسری جلد میں مذکورہ پرچے کی عمومی فکر کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔
کتاب کے مطالعے سے منکرینِحدیث کی علمی و تحقیقی خیانت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔ اس فکر کے نمایندوں کی حدیث اور دیگر عربی عبارتوں میں قطع و برید کے ذریعے اپنے موقف کو حق ثابت کرنے کی تحقیقی مساعی کا پول مؤلف نے اصل مآخذ سے تقابل کر کے کھول دیا ہے۔ ان اصحاب کی تحریروں کے بین السطور جو مفہوم قاری کے ذہن میں پختہ کرنا مقصود تھا‘ مصنف نے اس سے بھی پردہ اٹھایا ہے۔
انکارِ حدیث کی نفسیات کو سمجھنے اور موجودہ دور میں ایسی فکر کے تجزیے اور محاکمے کے لیے اس کتاب سے استفادہ بہت مفید ہوگا۔ کتاب کی کمپوزکاری اور پروف خوانی میں سقم رہ گیا ہے۔ بعض حواشی متن کے اندر ہی دے دیے گئے ہیں جس سے عبارت کی روانی میں خلل آگیا ہے۔ اس اہم کتاب کو پوری احتیاط کے ساتھ پیش کیا جانا چاہیے۔ (ارشاد الرحمٰن)
اسلامک ریسرچ اکیڈیمی نے پاکستان میں مولانا جلال الدین عمری کی کتب کی اشاعت شروع کی ہے۔ اس سلسلے میں یہ ایک تازہ اور اہم کتاب ہے جس میں آج کے اہم ترین مسئلے‘ یعنی عورت کے حوالے سے تقریباً تمام ہی مباحث پر اختصار سے گفتگو کی گئی ہے اور اسلامی نقطۂ نظر کو اجتہادی شان سے پیش کیا گیا ہے۔
اب تو یہ کہنے والے بھی ہیں کہ خاندان کی ضرورت ہی نہیں ہے‘ فاضل مصنف نے اس کا مبسوط و مدلل جواب دیا ہے اور اسلامی خاندان کے خدوخال بیان کیے ہیں۔صحیح جنسی رویے کے باب میں رہبانیت‘ اباحیت اور نکاح کے رویوں کو زیربحث لایا گیا ہے‘ اور شوہر اور بیوی کے حقوق و ذمہ داریاں‘ باہمی اختلافات حل کرنے کی تدابیر‘ چار نکاح کی اجازت کاعدل سے مشروط ہونا اور عورت کی ظلم سے حفاظت‘ طلاق کا طریقہ وغیرہ بیان کیے گئے ہیں۔
’دورحاضر میں مسلمان عورت کے مسائل‘ کتاب کا اہم باب ہے۔ ’عورت اور معیشت‘ کے عنوان کے تحت فاضل مصنف نے آئی پی ایس اسلام آباد میں ۲۵مارچ ۲۰۰۵ء کے ایک سیمی نار کے اپنے مقالے اور شرکا کے سوالات کے حوالے سے عورت کا ملازمت کے ساتھ نان و نفقہ‘ نان ونفقہ کی نوعیت‘جائز ملازمتیں‘ ناجائز ملازمت کی مجبوری‘ عورت کی ملازمت کے لیے نئے قواعد کی ضرورت‘ چادر اورچاردیواری‘ مرد کی قوامیت‘ طلاق کے بعد نفقہ‘ مطلقہ کا تاحیات نفقہ‘ عورت کے لیے ہی حجاب کی پابندی کیوں؟‘ اختلاطِ مردوزن‘ مساجد میں خواتین کی حاضری‘ مملکت کی سربراہی‘ عورت اور منصب قضا اور خواتین کے لیے کوٹا سسٹم جیسے جدید مسائل پر اسلامی موقف واضح کیا ہے۔ ’بعض فقہی احکام کے تحت‘ مسجد میں عورت کی نماز باجماعت میں شرکت‘ اسلامی ریاست میں عورت کی قیادت‘ نکاح میں ولی کی شرط اور اس کا اختیار‘ غیرمسلم عورت سے نکاح‘ محرم کے بغیر سفرِحج‘ زمانۂ عدت میں ملازمت اور کاروبار میں اولاد کی شرکت جیسے سوالات کے جوابات بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔
خاندان جیسے قدیم ترین سماجی ادارے کو آج جس درجہ خطرات لاحق ہیں اور مسلم معاشروں کو بھی اسی لپیٹ میں لانے کی جو کاوشیں ہو رہی ہیں‘ ان کے نقصانات کو سمجھنے اور اپنی ذمہ داریاں بحیثیت مسلمان ادا کرنے میں یہ کتاب نہایت مفید اور مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ تحقیقی کتاب جدید اُردو اسلامی کتب میں ایک خوب صورت اضافہ ہے۔ یوں یہ مختصر ہونے کے باوجود ایک بہت وسیع موضوع کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔ (محمد الیاس انصاری)
گذشتہ دو اڑھائی برسوں کے دوران میں مسلم دنیا پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے ایک اہم فرد شیخ محمد بن عبدالوہابؒ (م: ۲۲ جون ۱۷۹۲ء) ہیں۔ نجد کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولنے والی اس شخصیت نے عقیدۂ توحید کی آبیاری کے ساتھ اوہام پرستی‘قبر پرستی اور بدعات کی بیخ کنی کے لیے پختہ کار ساتھیوں کی جمعیت تیار کی‘ جس نے آل سعود سے مل کر سرزمین حجاز پر آخرکار کنٹرول سنبھالا۔
زیرمطالعہ کتاب کی مصنفہ نے ان حالات کو وضاحت سے بیان کیا ہے‘ جن سے شیخ محمدبن عبدالوہابؒ نے کار دعوت و اصلاح کا آغاز کیا‘ اور یہ بتایا ہے کہ کس طرح عزیمت کے مختلف مرحلوں سے گزرتے ہوئے وہ اس تحریک کو سیاست و ریاست کے ایوانوں تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ (تاہم یہ سوال بحث طلب ہے کہ وجود پذیر ہونے والی حکومت اسلام کی مطلوب حکومت کے معیار پر کس حد تک پوری اترتی ہے)۔
شیخ محمد بن عبدالوہاب مرحوم پر مختلف اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے مصنفہ نے لکھا ہے: ’’اگر ان [شیخ] کے متبعین میں سے کسی نے ناحق کسی کو قتل کیاہے‘ اور زیادتی کی ہے‘ تو اس سے شیخ الاسلام کے دامن پر چھینٹے اڑانا اور ان کی تحریک کی مذمت کرنا ہرگز تقاضاے انصاف نہیں‘ اور تقریباً ہر تحریک میں ایسے شوریدہ سر لوگ ضرورداخل ہوجاتے ہیں‘ جن کی حماقتوں سے تحریک کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے‘‘ (ص ۱۱۹)۔ ’’شیخ الاسلام نے نہ صرف قبروں پر بنے ہوئے مقبرے اور قبے ڈھا دیے‘ بلکہ جو درخت شرک کے اڈے بن چکے تھے‘ انھیں بھی کٹوا دیا‘‘ (ص ۱۲۱)۔ آگے چل کر لکھا ہے: ’’وہابیت کوئی نیا مذہب نہیں‘ اہل سنت والجماعت ہی کا دوسرا نام ہے‘‘۔ (ص ۱۲۰)
اس تحریک کو وہابی تحریک یا وہابیت کہنا کوئی اعزاز یا انصاف کی بات نہیں ہے‘ بلکہ یہ یورپی سامراج کی جانب سے ایک گھناؤنے پروپیگنڈے اور کسی ’نئے اسلام‘ سے منسوب ایک اصطلاح ہے‘ جسے انھوں نے افریقہ‘ وسطی ایشیا‘ قفقاز‘ جنوبی ایشیا اور مشرق بعید کے منطقوں میں ہر اس تحریک پر چسپاں کیا‘ جس نے مسلمانوں میں اصلاح عقائد کے ساتھ ساتھ سامراجی آقاؤں کا راستہ روکنے کے لیے بامعنی کوشش کی۔ آج بھی وہابیت‘ جہادی‘ بنیاد پرستی‘ سیاسی اسلام اور دہشت گرد اسلام کی اصطلاحیں کم و بیش اسی تعصبانہ مفہوم میں برتی اور تھوپی جارہی ہیں۔ شیخ کی تحریک کو یا معاصر اسلامی تحریکات کو ’وہابی‘ کہہ کر پکارنا نام بگاڑنے اور ایک پھبتی بنا دینے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے اس اصطلاح سے اتفاق ممکن نہیں۔ بہرحال یہ کتاب مذکورہ موضوع پر مفید معلومات کا ذخیرہ پیش کرتی ہے۔ (سلیم منصور خالد)
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تورات‘ زبور اور انجیل میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ویدوں کی گرنتھوں میں خصوصاً رگ وید‘ اتھروید‘ کانڈوید‘ بھوشیہ یوران‘ سنگران یوران وغیرہ میں آج بھی یہ پیش گوئیاں موجود ہیں۔
مصنف نے اناجیل اربعہ کا گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا ہے۔ اس سے ایک عام غیرمسیحی قاری کو عیسائیت کے بارے میں معلومات ملتی ہیں اور ان میں تناقض بھی سامنے آتا ہے۔ فاضل مصنف نے حضرت عیسٰی ؑ، حضرت موسٰی ؑ اور حضرت محمدؐ کی شخصیت اور شریعت کا تقابل جدولی انداز میں کیا ہے (ص ۱۰۶ تا ۱۰۸)۔ اس کتاب کی ایک اور خصوصیت‘ ہر باب کے آخر میں خلاصۂ کلام ہے۔ ابواب کے عنوان ہیں: ۱-عہد کا رسول ۲- تورات اور محمد رسولؐ اللہ ۳- زبور اورمحمد رسولؐ اللہ ۴-انجیل اور محمد رسولؐ اللہ ۵- انجیل بربناس اور محمد رسولؐ اللہ۔
مکالمۂ ادیان بالخصوص مکالمۂ عیسائیت میں دل چسپی رکھنے والے مسلمانوں کے لیے یہ کتاب معلومات کے ایک خزانے سے کم نہیں۔ (م - ا- ا)
جدید تہذیب کے اثرات کے سبب ہر جگہ مسلمان نوجوان مردوں اور خواتین اور خاندانوں کو جو متنوع مسائل درپیش ہیں‘ زیرنظر کتاب میں‘ ان کے جوابات کتاب و سنت کی روشنی میں عرب علما خصوصاً شیخ محمد بن صالح المنجد‘ شیخ عبداللہ بن باز‘ شیخ ابن عثیمین کی جانب سے تفصیل سے دیے گئے ہیں۔ اسے صنفی امور کے لیے ایک دینی راہنما کتاب قرار دیا جاسکتا ہے۔ حافظ عمران ایوب نے عربی رسائل و جرائد اور انٹرنیٹ سے یہ فتاویٰ جمع کرکے انھیں ترتیب دیاہے اور ان کی تخریج کا فریضہ انجام دیا ہے۔ تحقیق و تعلیق ناصرالدین البانی کی ہے۔ یہ کتاب علماے کرام اور مفتیان عظام کے ساتھ ساتھ ہرخاص و عام کے لیے مفید ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت خاندانی نظام کے کیا مسائل ہیں اور وقت کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تدبر فی القرآن اور تفقہ فی الحدیث کی کتنی ضرورت ہے‘ اور علماے اُمت کا حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا کتنا ضروری ہے۔ تاہم یہ شدت کہ شوہر نماز نہ پڑھتا ہو تو نکاح قائم نہ رہے‘ فی زمانہ قابلِ عمل نہیں۔ (فاروق احمد)
جنرل محمد اکبرخاں (۱۸۹۵ء-۱۹۸۴ء) کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں متعدد امتیازات حاصل ہوئے۔ وہ برطانوی ہند کی فوج میں پہلے کمیشنڈ افسر بنے۔ انھیں افواجِ پاکستان کے سب سے سینیرافسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ بھی ان کاایک امتیاز ہے کہ ۱۹۴۹ء کے آخر میں جب افواجِ پاکستان کے انگریز سالاراعلیٰ جنرل گریسی اپنی مدتِ ملازمت کے اختتام پر سبک دوش ہونے والے تھے تو اپنے استحقاق کے باوجود‘ جنرل اکبرخاں نے فوج کا سب سے بڑا منصب قبول کرنے سے معذرت کرلی۔ (جنرل موصوف اور مابعد جرنیلوں کے ذہن‘ سوچ ‘ خواہشات اور طرزعمل میں کس قدر تفاوت ہے۔ تعجب انگیز اور عبرت خیز! پاکستان کن کن المیوں سے دوچار ہوا!)۔
جنرل اکبر کی زیرنظر آپ بیتی فقط پاکستان کے اوّلین جنرل کے شخصی حالات اور اس کی سپاہیانہ زندگی کی تفصیل ہی پیش نہیں کرتی بلکہ اس میں قیامِ پاکستان کے لیے اسلامیانِ ہند کی تاریخی جدوجہد‘ قائداعظم کی پُرخلوص کاوشوں‘ کانگریس اور انگریزوں کے غیرمنصفانہ طرزعمل (زیادہ صحیح الفاظ میں‘ دونوں کے معاندانہ رویوں‘ سازشوں اور مسلم دشمنی کے گوناگوں حربوں) کااندازہ ہوتا ہے۔ پتا چلتا ہے کہ برطانیہ اور بھارت نے پاکستان کی کیا کیا حق تلفیاں کیں۔ جنرل اکبرخاں جو ایک قلم کار بھی ہیں اور حربی فنون و موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ‘ آپ بیتی میں ایک صاف گو اور سیدھے ذہن کے فوجی نظر آتے ہیں‘ تاہم وہ ہندو ذہنیت اور برطانوی ذہن کا بخوبی اِدراک رکھتے تھے۔ طویل فوجی ملازمت میں طرح طرح کی آزمایشوں سے دوچار رہے مگر صبر اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے سازشوں کی زد سے بچ نکلتے رہے۔ تقسیمِ ہند کے موقعے پر نہ صرف گاندھی اور نہرو بلکہ پٹیل نے بھی انھیں بھارت ہی میں ٹھیرنے کی دعوت دی مگر انھوں نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ پھر یہاں ہر مخلص اور خیرخواہِ پاکستان پر جو کچھ بیتی‘ وہ ایک دل خراش داستان ہے۔ جنرل اکبر نے قائداعظم کے پہلے اے ڈی سی کے طور پر انھیں قریب سے دیکھا۔ وہ ان کی تعریف میں ایک عقیدت مند کی طرح رطبُ اللسان ہیں مگرباقی بیش تر سیاست دانوں اور نوابوں کے بارے میں ان کا تجربہ ومشاہدہ افسوس ناک ہے (اسی کے نتائج اہلِ پاکستان بھگت رہے ہیں)۔
ایک واقعہ بہت عبرت انگیز ہے۔ نواب جوناگڑھ کی درخواست پر انھیں اور ان کی قیمتی اشیا اور زروجواہر لانے کے لیے حکومت نے دو ہوائی جہاز کراچی سے جوناگڑھ بھیجے۔ جہازوں کی واپس کراچی آمد پر ان سے نواب کے شکاری اور پالتو کتے اور ملازمین برآمد ہوئے۔ دو کتوں پر کم خواب کی جھولیں پڑی ہوئی تھیں۔ نگران ملازم نے فخریہ کہا: اس کتے اور کتیا کی حال ہی میں شادی رچائی گئی اسی لیے وہ اپنے شادی کے جوڑے پہنے ہوئے ہیں۔ دوسرے پھیرے میں نواب صاحب اپنی تین بیگمات اور ان کے زیورات اور سازوسامان کے ساتھ تشریف لائے۔ قیمتی سامان اور زروجواہر جو حکومت کے لیے کچھ نہ کچھ مالی کشادگی کا ذریعہ ثابت ہوتے‘ وہیں رہ گئے۔ (ص ۱۳۹)
میری آخری منزل ایک دل چسپ اور معلومات افزا آپ بیتی ہے اور جدوجہدِ آزادی‘ قیامِ پاکستان اور نظمِ حکومت کی ایک عبرت خیز تاریخ بھی۔ جنرل اکبر نے یہ داستان سادہ بیانیے میں لکھی ہے‘ تاہم علامہ اقبال‘ غالب‘ حالی‘ اکبرالٰہ آبادی‘ اسد ملتانی اور جوش جیسے نام وَر شعرا کے (اور خود اپنے) اُردو اور فارسی اشعار کا برمحل استعمال ان کے عمدہ ذوقِ شعر کی دلیل ہے۔ یہ وضاحت ضروری ہے کہ راول پنڈی سازش والے جنرل اکبر‘ ایک دوسرے شخص تھے۔
اس کتاب کا سب سے تکلیف دہ پہلو املا‘کمپوزنگ‘ پروف اور متن اشعار کی بلامبالغہ وہ ہزاروں اغلاط ہیں جن سے کتاب کا ہر صفحہ بری طرح داغ دار ہے___ پروف خوانی‘ غالباً بالکل نہیں کی گئی۔ کتاب کی تقطیع کم اور کتابت قدرے خفی ہوتی تو بہتر تھا۔(رفیع الدین ہاشمی)
’ٹیلی وژن یا پنڈورا باکس‘ (فروری ۲۰۰۷ء) اپنے موضوع پر بہت متاثرکن تحریر تھی۔ شاہ نواز فاروقی نے بجاطور پر توجہ دلائی ہے کہ میڈیا کے خلاف معاشرے میں انفرادی ردعمل تو موجود ہے لیکن اجتماعی سطح پر ردعمل نہیں پایا جاتا‘ اگر ہے تو مؤثر نہیں۔
’روشن خیالی‘ اور ’اعتدال پسندی‘ ہمیں کہاں لے جائے گی___ ! اب تو بھارت پاکستان مشترکہ تعلیمی کمیشن بن گیا‘ اس کا دہلی میں اجلاس بھی ہوگیا اور ہم نے یہ خبر بھی پڑھ لی کہ پرائمری سطح پر ہمارے بچوں کو ہندو مذہب کی تفصیلات پڑھائی جائیں گی۔ اس پس منظر میں دیکھیں کہ اسلامی تعلیمات کو درسی کتب سے نکالا جارہا ہے۔
’عزیمت و استقامت کی ایمان افروز داستان‘ (فروری ۲۰۰۷ء) نے دورِصحابہ ؓ کی یاد تازہ کردی۔
ایک خبر قارئین کے لیے: ٹونی بلیر حکومت میں خواتین کے امور کی وزیر رتھ کیلی نے کہا ہے کہ برطانیہ میں مسلم خواتین کو حجاب کی آزادی حاصل رہنی چاہیے۔ یہ بات انھوں نے ۷ اکتوبر ۲۰۰۶ء کو لندن میں کابینہ کی میٹنگ میں اپنے ساتھی وزیر جیک سٹرا کے اس موقف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہی کہ برطانیہ میں آباد مسلم خواتین کو نقاب استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ وزیرخارجہ جیک سٹرا کے اس موقف پر کابینہ کے دوسرے ممبروں نے بھی تنقید کی۔ رتھ کیلی نے کہا:’’ پہلے میں بھی اسلامی حجاب کی مخالف تھی لیکن برطانیہ کی چند اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین سے گفتگو کے بعد میری راے بدل گئی ہے‘ خواتین اپنی مرضی سے حجاب کرتی ہیں۔ کمیونٹی کی طرف سے ان پر کوئی زورزبردستی نہیں۔برطانیہ میں مسلم خواتین کا حجاب سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں‘‘۔ (دی آبزرور‘ ۸ اکتوبر ۲۰۰۶ء‘ بحوالہ سہ روزہ دعوت، دہلی)
میرے والد ’نومسلم کی سرگذشت‘ (جولائی ۲۰۰۶ء) کے راوی حسن علی گذشتہ دنوں (۱۰ محرم ۱۴۲۸ھ/ ۳۰جنوری ۲۰۰۷ء کو) قضاے الٰہی سے انتقال کرگئے۔ انا للّٰہ وانا الیہ رٰجعون۔ ان کی سرگذشت نے بہت سوں کو متاثر کیا۔اللہ ان کے درجات بلند کرے‘لغزشوں سے درگزر فرمائے۔آمین!
ہم صرف اصل اسلام اور بے کم و کاست پورے اسلام کو لے کر اُٹھے ہیں اور مسلمانوں کو ہماری دعوت اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ آئو ہم سب مل کر اس کو عملاً قائم کریں اور دنیا کے سامنے اس کی شہادت دیں۔
اجتماع کی بنیاد ہم نے پورے دین کو قرار دیا ہے‘ نہ کہ اس کے کسی ایک مسئلے یا چند مسائل کو۔ اجتہادی مسائل میں ہم تمام ان مذاہب و مسالک کو برحق تسلیم کرتے ہیں جن کے لیے قواعد شریعت میں گنجایش ہے‘ ہر ایک کا یہ حق تسلیم کرتے ہیں کہ ان مذاہب و مسالک میں سے‘ جس کا جس پر اطمینان ہو وہ اپنی حد تک اس پر عمل کرے‘ اور کسی خاص اجتہادی مسلک کی بنیاد پر گروہ بندی کو ہم جائز نہیں رکھتے۔
اپنی جماعت کے بارے میں بھی ہم نے کوئی غلو نہیںکیا ہے۔ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ حق صرف ہماری جماعت میں دائرو منحصرہے۔ ہم کو اپنے فرض کا احساس ہوا اور ہم اُٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ کو آپ کا فرض یاد دلا رہے ہیں۔ اب یہ آپ کی خوشی ہے کہ آپ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں‘ یا خود اُٹھیں اور اپنا فرض ادا کریں‘ یا جو بھی آپ کو یہ فرض ادا کرتا نظر آئے اس کے ساتھ مل جائیں۔
امارت کے باب میں بھی ہم کسی غلو کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں۔ ہماری یہ تحریک کسی شخصیت کے بل پر نہیں اٹھی ہے جس کے لیے کسی خاص منصب کا دعویٰ کیا گیا ہو‘ جس کی کرامتوں اور الہامات اور تقدس کی داستانوں کا اشتہار دیا جاتا ہو‘ جس کی ذاتی عقیدت پر جماعت کی بنیاد رکھی گئی ہو‘ اور جس کی طرف لوگوں کو دعوت دی جاتی ہو۔ دعووں اور خوابوں اور کشوف و کرامات اور شخصی تقدس کے تذکروں سے ہماری تحریک بالکل پاک ہے۔ یہاں دعوت کسی شخص کی طرف نہیں ہے بلکہ اُس مقصد کی طرف ہے جو قرآن کی رو سے ہر مسلمان کا مقصد زندگی ہے اور ان اصولوں کی طرف ہے جن کے مجموعے کانام اسلام ہے۔ (’شہادتِ حق‘، سیدابوالاعلیٰ مودودی‘ ترجمان القرآن‘ جلد ۳۰‘ عدد ۴‘ ربیع الثانی ۱۳۶۶ھ‘ مارچ ۱۹۴۷ء‘ ص ۲۲۵-۲۲۶)